باب: آیت کی تفسیر ”اور جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہیں پکارتے اور جس (انسان) کی جان کو اللہ نے حرام قرار دیا ہے اسے وہ قتل نہیں کرتے، مگر ہاں حق پر اور نہ زنا کرتے ہیں اور جو کوئی ایسا کرے گا اسے سزا بھگتنی ہی پڑے گی“ «أثاما» کے معنی عقوبت و سزا ہے۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ أَخْبَرَهُمْ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الْقَاسِمُ بْنُ أَبِي بَزَّةَ: أَنَّهُ سَأَلَ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، هَلْ لِمَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا مِنْ تَوْبَةٍ ؟ فَقَرَأْتُ عَلَيْهِ وَلا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلا بِالْحَقِّ سورة الفرقان آية 68، فَقَالَ سَعِيدٌ: قَرَأْتُهَا عَلَىابْنِ عَبَّاسٍ كَمَا قَرَأْتَهَا عَلَيَّ، فَقَالَ: هَذِهِ مَكِّيَّةٌ نَسَخَتْهَا آيَةٌ مَدَنِيَّةٌ الَّتِي فِي سُورَةِ النِّسَاءِ.
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشام بن یوسف نے خبر دی، انہیں ابن جریج نے خبر دی، کہا کہ مجھے قاسم بن ابی بزہ نے خبر دی، انہوں نے سعید بن جبیر سے پوچھا کہ اگر کوئی شخص کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کر دے تو کیا اس کی اس گناہ سے توبہ قبول ہوسکتی ہے؟ انہوں نے کہا کہ نہیں۔ (ابن ابی بزہ نے بیان کیا کہ) میں نے اس پر یہ آیت پڑھی ولا يقتلون النفس التي حرم الله إلا بالحق کہ اور جس جان کو اللہ نے حرام قرار دیا ہے اسے قتل نہ کرتے، مگر ہاں حق کے ساتھ۔ سعید بن جبیر نے کہا کہ میں نے بھی یہ آیت ابن عباس ؓ کے سامنے پڑھی تھی تو انہوں نے کہا تھا کہ مکی آیت اور مدنی آیت جو اس سلسلہ میں سورة نساء میں ہے اس سے اس کا حکم منسوخ ہوگیا ہے۔
Narrated Al-Qasim bin Abi Bazza (RA) :
That he asked Said bin Jubair (RA) , "Is there any repentance of the one who has murdered a believer intentionally?" Then I recited to him:--
"Nor kill such life as Allah has forbidden except for a just cause." Said said, "I recited this very Verse before Ibn Abbas (RA) as you have recited it before me. Ibn Abbas (RA) said, This Verse was revealed in Makkah and it has been abrogated by a Verse in Surat-An-Nisa which was later revealed in Medina."
باب: آیت کی تفسیر ”اور جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہیں پکارتے اور جس (انسان) کی جان کو اللہ نے حرام قرار دیا ہے اسے وہ قتل نہیں کرتے، مگر ہاں حق پر اور نہ زنا کرتے ہیں اور جو کوئی ایسا کرے گا اسے سزا بھگتنی ہی پڑے گی“ «أثاما» کے معنی عقوبت و سزا ہے۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ النُّعْمَانِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: اخْتَلَفَ أَهْلُ الْكُوفَةِ فِي قَتْلِ الْمُؤْمِنِ، فَرَحَلْتُ فِيهِ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: نَزَلَتْ فِي آخِرِ مَا نَزَلَ وَلَمْ يَنْسَخْهَا شَيْءٌ.
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے، ان سے مغیرہ بن نعمان نے، ان سے سعید بن جبیر نے بیان کیا کہ اہل کوفہ کا مومن کے قتل کے مسئلے میں اختلاف ہوا (کہ اس کے قاتل کی توبہ قبول ہوسکتی ہے یا نہیں) تو میں سفر کر کے ابن عباس ؓ کی خدمت میں پہنچا تو انہوں نے کہا کہ (سورۃ نساء کی آیت جس میں یہ ذکر ہے کہ جس نے کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کیا اس کی جہنم ہے۔ ) اس سلسلہ میں سب سے آخر میں نازل ہوئی ہے اور کسی دوسری سے منسوخ نہیں ہوئی۔
Narrated Said bin Jubair (RA) :
The people of Kufa differed as regards the killing of a believer so I entered upon Ibn Abbas (RA) (and asked him) about that. Ibn Abbas (RA) said, "The Verse (in Surat-An-Nisa, 4:93) was the last thing revealed in this respect and nothing cancelled its validity."
باب: آیت کی تفسیر ”اور جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہیں پکارتے اور جس (انسان) کی جان کو اللہ نے حرام قرار دیا ہے اسے وہ قتل نہیں کرتے، مگر ہاں حق پر اور نہ زنا کرتے ہیں اور جو کوئی ایسا کرے گا اسے سزا بھگتنی ہی پڑے گی“ «أثاما» کے معنی عقوبت و سزا ہے۔
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنْ قَوْلِهِ تَعَالَى: فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ سورة النساء آية 93، قَالَ: لَا تَوْبَةَ لَهُ، وَعَنْ قَوْلِهِ جَلَّ ذِكْرُهُ: لا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ سورة الفرقان آية 68، قَالَ: كَانَتْ هَذِهِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ.
ہم سے آدم نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے منصور نے بیان کیا، ان سے سعید بن جبیر نے بیان کیا کہ میں نے ابن عباس ؓ سے فجزاؤه جهنم کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ اس کی توبہ قبول نہیں ہوگی اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد لا يدعون مع الله إلها آخر کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ یہ ان لوگوں کے متعلق ہے جنہوں نے زمانہ جاہلیت میں قتل کیا ہو۔
Narrated Said bin Jubair (RA) :
I asked Ibn Abbas (RA) about Allahs saying:--
.. this reward is Hell Fire. (4.93) He said, "No repentance is accepted from him (i.e. the murderer of a believer)." I asked him regarding the saying of Allah:
Those who invoke not with Allah any other god. ...(25.68)
He said, "This Verse was revealed concerning the pagans of the pre-lslamic period."
باب: آیت کی تفسیر ”قیامت کے دن اس کا عذاب کئی گنا بڑھتا ہی جائے گا اور وہ اس میں ہمیشہ کے لیے ذلیل ہو کر پڑا رہے گا“۔
حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ أَبْزَى، سَلْ ابْنَ عَبَّاسٍ، عَنْ قَوْلِهِ تَعَالَى: وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا سورة النساء آية 93، وَقَوْلِهِ: وَلا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلا بِالْحَقِّ سورة الفرقان آية 68 حَتَّى بَلَغَ إِلا مَنْ تَابَ سورة الفرقان آية 68 - 69، فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ، قَالَ أَهْلُ مَكَّةَ: فَقَدْ عَدَلْنَا بِاللَّهِ، وَقَدْ قَتَلْنَا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ، وَأَتَيْنَا الْفَوَاحِشَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ: إِلا مَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلا صَالِحًا إِلَى قَوْلِهِ غَفُورًا رَحِيمًا سورة الفرقان آية 70.
ہم سے سعد بن حفص نے بیان کیا، کہا ہم سے شیبان نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے سعید بن جبیر نے بیان کیا کہ ان سے عبدالرحمٰن بن ابزیٰ نے بیان کیا کہ ابن عباس ؓ سے آیت ومن يقتل مؤمنا متعمدا فجزاؤه جهنم اور جو کوئی کسی مومن کو جان کر قتل کرے اس کی سزا جہنم ہے۔ اور سورة الفرقان کی آیت لا يقتلون النفس التي حرم الله إلا بالحق اور جس انسان کی جان مارنے کو اللہ نے حرام قرار دیا ہے اسے قتل نہیں کرتے مگر ہاں حق کے ساتھ إلا من تاب تک، میں نے اس آیت کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو اہل مکہ نے کہا کہ پھر تو ہم نے اللہ کے ساتھ شریک بھی ٹھہرایا ہے اور ناحق ایسے قتل بھی کئے ہیں جنہیں اللہ نے حرام قرار دیا تھا اور ہم نے بدکاریوں کا بھی ارتکاب کیا ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی إلا من تاب وآمن وعمل عملا صالحا کہ مگر ہاں جو توبہ کرے اور ایمان لائے اور نیک کام کرتا رہے، اللہ بہت بخشنے والا بڑا ہی مہربان ہے تک۔
Narrated Said bin Jubair (RA) :
Ibn Abza said to me, "Ask Ibn Abbas (RA) regarding the Statement of Allah:
And whoever murders a believer intentionally, his recompense is Hell. (4.69)
And also His Statement: ...nor kill such life as Allah has forbidden, except for a just cause .....except those who repent, believe, and do good deeds. " (25.68-70) So I asked Ibn Abbas (RA) and he said, "When this (25.68-69) was revealed, the people of Makkah said, "We have invoked other gods with Allah, and we have murdered such lives which Allah has made sacred, and we have committed illegal sexual intercourse. So Allah revealed:
Except those who repent, believe, and do good deeds and Allah is Oft-Forgiving, Most Merciful. (25.70)
باب: آیت کی تفسیر ”مگر ہاں جو توبہ کرے اور ایمان لائے اور نیک کام کرتا رہے، سو ان کی بدیوں کو اللہ نیکیوں سے بدل دے گا اور اللہ تو ہے ہی بڑا بخشش کرنے والا بڑا ہی مہربان ہے“۔
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا أَبِي، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: أَمَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبْزَى، أَنْ أَسْأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ هَاتَيْنِ الْآيَتَيْنِ: وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا سورة النساء آية 93، فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: لَمْ يَنْسَخْهَا شَيْءٌ وَعَنْ وَالَّذِينَ لا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ سورة الفرقان آية 68، قَالَ: نَزَلَتْ فِي أَهْلِ الشِّرْكِ.
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا مجھ کو میرے والد نے خبر دی، انہیں شعبہ نے، انہیں منصور نے، ان سے سعید بن جبیر نے بیان کیا کہ مجھے عبدالرحمٰن بن ابزیٰ نے حکم دیا کہ میں ابن عباس ؓ سے دو آیتوں کے بارے میں پوچھوں یعنی ومن يقتل مؤمنا متعمدا اور جس نے کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کیا الخ۔ میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ آیت کسی چیز سے بھی منسوخ نہیں ہوئی ہے۔ (اور دوسری آیت جس کے) بارے میں مجھے انہوں نے پوچھنے کا حکم دیا وہ یہ تھی والذين لا يدعون مع الله إلها آخر اور جو لوگ کسی معبود کو اللہ کے ساتھ نہیں پکارتے آپ نے اس کے متعلق فرمایا کہ یہ مشرکین کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔
Narrated Said bin Jubair (RA) :
Abdur-Rahman bin Abza ordered me to ask Ibn Abbas (RA) regarding the two Verses (the first of which was ):
"And whosoever murders a believer intentionally." (4.93) So I asked him, and he said, "Nothing has abrogated this Verse." About (the other Verse): And those who invoke not with Allah any other god. he said, "It was revealed concerning the pagans,
وَقَالَ مُجَاهِدٌ: تَعْبَثُونَ: تَبْنُونَ، هَضِيمٌ: يَتَفَتَّتُ إِذَا مُسَّ مُسَحَّرِينَ الْمَسْحُورِينَ لَيْكَةُ، وَالْأَيْكَةُ جَمْعُ أَيْكَةٍ وَهِيَ جَمْعُ شَجَرٍ، يَوْمِ الظُّلَّةِ: إِظْلَالُ الْعَذَابِ إِيَّاهُمْ، مَوْزُونٍ: مَعْلُومٍ، كَالطَّوْدِ: كَالْجَبَلِ، وَقَالَ غَيْرُهُ لَشِرْذِمَةٌ: الشِّرْذِمَةُ طَائِفَةٌ قَلِيلَةٌ، فِي السَّاجِدِينَ: الْمُصَلِّينَ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ: كَأَنَّكُمُ الرِّيعُ الْأَيْفَاعُ مِنَ الْأَرْضِ، وَجَمْعُهُ رِيَعَةٌ وَأَرْيَاعٌ وَاحِدُهُ رِيعَةٌ، مَصَانِعَ: كُلُّ بِنَاءٍ فَهُوَ مَصْنَعَةٌ، فَرِهِينَ: مَرِحِينَ فَارِهِينَ بِمَعْنَاهُ، وَيُقَالُ: فَارِهِينَ حَاذِقِينَ، تَعْثَوْا: هُوَ أَشَدُّ الْفَسَادِ عَاثَ يَعِيثُ عَيْثًا الْجِبِلَّةَ الْخَلْقُ جُبِلَ خُلِقَ، وَمِنْهُ جُبُلًا وَجِبِلًا وَجُبْلًا يَعْنِي الْخَلْقَ، قَالَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ.
مجاہد نے کہا لفظ تعبثون کا معنی بناتے ہو۔ هضيم وہ چیز جو چھونے سے ریزہ ریزہ ہوجائے۔ مسحرين کا معنی جادو کئے گئے۔ ليكة اور لأيكة جمع ہے أيكة کی اور لفظ أيكة صحیح ہے۔ شجر یعنی درخت۔ يوم الظلة یعنی وہ دن جس میں عذاب نے ان پر سایہ کیا تھا۔ موزون کا معنی معلوم۔ کالطود یعنی پہاڑ کی طرح۔ الشرذمة یعنی چھوٹا گروہ۔ في الساجدين یعنی نمازیوں میں۔ ابن عباس نے کہا لعلکم تخلدون کا معنی یہ ہے کہ جیسے ہمیشہ دنیا میں رہو گے۔ ريع بلند زمین جیسے ٹیلہ ريع مفرد ہے اس کی جمع ريعة اور أرياع آتی ہے۔ مصانع ہر عمارت کو کہتے ہیں (یا اونچے اونچے محلوں کو) ۔ فرهين کا معنی اتراتے ہوئے خوش و خرم۔ فاتحه فارھین کا بھی یہی معنی ہے۔ بعضوں نے کہا فارهين کا معنی کاریگر ہوشیار تجربہ کار۔ تعثوا جیسے عاث، يعيث ، عيثا، عيث کہتے ہیں سخت فساد کرنے کو (دھند مچانا) ۔ تعثوا کا وہی معنی ہے یعنی سخت فساد نہ کرو۔ خلقت جبل یعنی پیدا کیا گیا ہے۔ اسی سے جبلا اور جبلا اور جبلا نکلا ہے یعنی خلقت۔
English translation not available….
باب: آیت کی تفسیر ”ابراہیم نے یہ بھی دعا کی تھی کہ یا اللہ! مجھے رسوا نہ کرنا اس دن جب حساب کے لیے سب جمع کئے جائیں گے“۔
وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ: عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ يَرَى أَبَاهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَيْهِ الْغَبَرَةُ، وَالْقَتَرَةُ الْغَبَرَةُ هِيَ الْقَتَرَةُ.
اور ہم سے ابراہیم بن طہمان نے کہا کہ ان سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا، ان سے سعید بن ابی سعید مقبری نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابوہریرہ ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ابراہیم علیہ الصلٰوۃ والسلام اپنے والد (آذر) کو قیامت کے دن گرد آلود کالا کلوٹا دیکھیں گے۔ امام بخاری (رح) نے کہا غبرة اور قترة. ہم معنی ہیں۔
Narrated Abu Hurairah (RA) :
The Prophet ﷺ said, "On the Day of Resurrection Abraham will see his father covered with Qatara and Ghabara. (i.e. having a dark face)."
باب: آیت کی تفسیر ”ابراہیم نے یہ بھی دعا کی تھی کہ یا اللہ! مجھے رسوا نہ کرنا اس دن جب حساب کے لیے سب جمع کئے جائیں گے“۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنَا أَخِي، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَلْقَى إِبْرَاهِيمُ أَبَاهُ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، إِنَّكَ وَعَدْتَنِي أَنْ لَا تُخْزِيَنِي يَوْمَ يُبْعَثُونَ، فَيَقُولُ اللَّهُ: إِنِّي حَرَّمْتُ الْجَنَّةَ عَلَى الْكَافِرِينَ.
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا مجھ سے میرے بھائی (عبدالحمید) نے بیان کیا، ان سے ابن ابی ذئب نے، ان سے سعید مقبری نے اور ان سے ابوہریرہ ؓ نے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ابراہیم علیہ الصلٰوۃ والسلام اپنے والد سے (قیامت کے دن) جب ملیں گے تو اللہ تعالیٰ سے عرض کریں گے کہ اے رب! تو نے وعدہ کیا تھا کہ تو مجھے اس دن رسوا نہیں کرے گا جب سب اٹھائے جائیں گے لیکن اللہ تعالیٰ جواب دے گا کہ میں نے جنت کو کافروں پر حرام قرار دے دیا ہے۔
Narrated Abu Hurairah (RA) :
The Prophet ﷺ said, Abraham will meet his father (on the Day of Resurrection) and will say, O my Lords You promised me that You would not let me in disgrace on the Day when people will be resurrected. Allah will say, I have forbidden Paradise to the non-believers."
باب: آیت کی تفسیر «واخفض جناحك» یعنی اپنا بازو نرم رکھے۔
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ: وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ سورة الشعراء آية 214 صَعِدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الصَّفَا، فَجَعَلَ يُنَادِي يَا بَنِي فِهْرٍ، يَا بَنِي عَدِيٍّ، لِبُطُونِ قُرَيْشٍ حَتَّى اجْتَمَعُوا، فَجَعَلَ الرَّجُلُ إِذَا لَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يَخْرُجَ، أَرْسَلَ رَسُولًا لِيَنْظُرَ مَا هُوَ، فَجَاءَ أَبُو لَهَبٍ وَقُرَيْشٌ، فَقَالَ: أَرَأَيْتَكُمْ لَوْ أَخْبَرْتُكُمْ أَنَّ خَيْلًا بِالْوَادِي تُرِيدُ أَنْ تُغِيرَ عَلَيْكُمْ أَكُنْتُمْ مُصَدِّقِيَّ ؟ قَالُوا: نَعَمْ، مَا جَرَّبْنَا عَلَيْكَ إِلَّا صِدْقًا، قَالَ: فَإِنِّي نَذِيرٌ لَكُمْ بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٍ شَدِيدٍ، فَقَالَ أَبُو لَهَبٍ: تَبًّا لَكَ سَائِرَ الْيَوْمِ أَلِهَذَا جَمَعْتَنَا، فَنَزَلَتْ: تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ 1 مَا أَغْنَى عَنْهُ مَالُهُ وَمَا كَسَبَ 2 سورة المسد آية 1-2.
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا ہم سے میرے والد نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے، کہا کہ مجھ سے عمرو بن مرہ نے بیان کیا، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس ؓ نے بیان کیا کہ جب آیت وأنذر عشيرتک الأقربين اور آپ اپنے خاندانی قرابت داروں کو ڈراتے رہئیے نازل ہوئی تو نبی کریم ﷺ صفا پہاڑی پر چڑھ گئے اور پکارنے لگے۔ اے بنی فہر! اور اے بنی عدی! اور قریش کے دوسرے خاندان والو! اس آواز پر سب جمع ہوگئے اگر کوئی کسی وجہ سے نہ آسکا تو اس نے اپنا کوئی چودھری بھیج دیا، تاکہ معلوم ہو کہ کیا بات ہے۔ ابولہب قریش کے دوسرے لوگوں کے ساتھ مجمع میں تھا۔ نبی کریم ﷺ نے انہیں خطاب کر کے فرمایا کہ تمہارا کیا خیال ہے، اگر میں تم سے کہوں کہ وادی میں (پہاڑی کے پیچھے) ایک لشکر ہے اور وہ تم پر حملہ کرنا چاہتا ہے تو کیا تم میری بات سچ مانو گے؟ سب نے کہا کہ ہاں، ہم آپ کی تصدیق کریں گے ہم نے ہمیشہ آپ کو سچا ہی پایا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ پھر سنو، میں تمہیں اس سخت عذاب سے ڈراتا ہوں جو بالکل سامنے ہے۔ اس پر ابولہب بولا، تجھ پر سارے دن تباہی نازل ہو، کیا تو نے ہمیں اسی لیے اکٹھا کیا تھا۔ اسی واقعہ پر یہ آیت نازل ہوئی تبت يدا أبي لهب وتب * ما أغنى عنه ماله وما کسب ابولہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ گئے اور وہ برباد ہوگیا، نہ اس کا مال اس کے کام آیا اور نہ اس کی کمائی ہی اس کے آڑے آئی۔
Narrated Ibn Abbas (RA) :
When the Verse:--And warn your tribe of near-kindred, was revealed, the Prophet ﷺ ascended the Safa (mountain) and started calling, "O Bani Fihr! O Bani Adi!" addressing various tribes of Quraish till they were assembled. Those who could not come themselves, sent their messengers to see what was there. Abu Lahab and other people from Quraish came and the Prophet ﷺ then said, "Suppose I told you that there is an (enemy) cavalry in the valley intending to attack you, would you believe me?" They said, "Yes, for we have not found you telling anything other than the truth." He then said, "I am a warner to you in face of a terrific punishment." Abu Lahab said (to the Prophet) "May your hands perish all this day. Is it for this purpose you have gathered us?" Then it was revealed: "Perish the hands of Abu Lahab (one of the Prophets uncles), and perish he! His wealth and his children will not profit him...." (111.1-5)
كُلُّ شَيْءٍ هَالِكٌ إِلَّا وَجْهَهُ: إِلَّا مُلْكَهُ، وَيُقَالُ: إِلَّا مَا أُرِيدَ بِهِ وَجْهُ اللَّهِ، وَقَالَ مُجَاهِدٌ: فَعَمِيَتْ عَلَيْهِمُ الْأَنْبَاءُ: الْحُجَجُ.
كل شىء هالك إلا وجهه یعنی ہر شے فنا ہونے والی ہے، سوائے اس کی ذات کے ( إلا وجهه سے مراد ہے) بجز اس کی سلطنت کے بعض لوگوں نے اس سے مراد وہ اعمال لیے ہیں جو اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے کئے گئے ہوں۔ (ثواب کے لحاظ سے وہ بھی فنا نہ ہوں گے) مجاہد نے کہا کہ الأنباء سے دلیلیں مراد ہیں۔
English translation not available….
باب: آیت کی تفسیر ”جس کو تم چاہو ہدایت نہیں کر سکتے، البتہ اللہ ہدایت دیتا ہے اسے جس کے لیے وہ ہدایت چاہتا ہے“۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: لَمَّا حَضَرَتْ أَبَا طَالِبٍ الْوَفَاةُ جَاءَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَ عِنْدَهُ أَبَا جَهْلٍ وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أُمَيَّةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، فَقَالَ: أَيْ عَمِّ قُلْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ كَلِمَةً أُحَاجُّ لَكَ بِهَا عِنْدَ اللَّهِ، فَقَالَ أَبُو جَهْلٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ: أَتَرْغَبُ عَنْ مِلَّةِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَلَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْرِضُهَا عَلَيْهِ وَيُعِيدَانِهِ بِتِلْكَ الْمَقَالَةِ حَتَّى، قَالَ أَبُو طَالِبٍ: آخِرَ مَا كَلَّمَهُمْ عَلَى مِلَّةِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَأَبَى أَنْ، يَقُولَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَاللَّهِ لَأَسْتَغْفِرَنَّ لَكَ مَا لَمْ أُنْهَ عَنْكَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ: مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ سورة التوبة آية 113 وَأَنْزَلَ اللَّهُ فِي أَبِي طَالِبٍ، فَقَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّكَ لا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ سورة القصص آية 56 قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أُولِي الْقُوَّةِ: لَا يَرْفَعُهَا الْعُصْبَةُ مِنَ الرِّجَالِ، لَتَنُوءُ: لَتُثْقِلُ، فَارِغًا: إِلَّا مِنْ ذِكْرِ مُوسَى، الْفَرِحِينَ: الْمَرِحِينَ، قُصِّيهِ: اتَّبِعِي أَثَرَهُ، وَقَدْ يَكُونُ أَنْ يَقُصَّ الْكَلَامَ نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ، عَنْ جُنُبٍ: عَنْ بُعْدٍ، عَنْ جَنَابَةٍ وَاحِدٌ، وَعَنِ اجْتِنَابٍ أَيْضًا يَبْطِشُ وَيَبْطُشُ، يَأْتَمِرُونَ: يَتَشَاوَرُونَ الْعُدْوَانُ وَالْعَدَاءُ وَالتَّعَدِّي، وَاحِدٌ، آنَسَ: أَبْصَرَ الْجِذْوَةُ قِطْعَةٌ غَلِيظَةٌ مِنَ الْخَشَبِ لَيْسَ فِيهَا لَهَبٌ وَالشِّهَابُ فِيهِ لَهَبٌ، وَالْحَيَّاتُ أَجْنَاسٌ الْجَانُّ وَالْأَفَاعِي وَالْأَسَاوِدُ، رِدْءًا: مُعِينًا، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: يُصَدِّقُنِي، وَقَالَ غَيْرُهُ: سَنَشُدُّ: سَنُعِينُكَ كُلَّمَا عَزَّزْتَ شَيْئًا فَقَدْ جَعَلْتَ لَهُ عَضُدًا مَقْبُوحِينَ مُهْلَكِينَ، وَصَّلْنَا: بَيَّنَّاهُ وَأَتْمَمْنَاهُ، يُجْبَى: يُجْلَبُ، بَطِرَتْ: أَشِرَتْ، فِي أُمِّهَا رَسُولًا: أُمُّ الْقُرَى مَكَّةُ وَمَا حَوْلَهَا، تُكِنُّ: تُخْفِي أَكْنَنْتُ الشَّيْءَ أَخْفَيْتُهُ وَكَنَنْتُهُ أَخْفَيْتُهُ وَأَظْهَرْتُهُ، وَيْكَأَنَّ اللَّهَ: مِثْلُ أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ، يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَشَاءُ وَيَقْدِرُ: يُوَسِّعُ عَلَيْهِ وَيُضَيِّقُ عَلَيْهِ.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا۔ انہیں سعید بن مسیب نے خبر دی اور ان سے ان کے والد (مسیب بن حزن) نے بیان کیا کہ جب ابوطالب کی وفات کا وقت قریب ہوا تو رسول اللہ ﷺ ان کے پاس آئے، ابوجہل اور عبداللہ بن ابی امیہ بن مغیرہ وہاں پہلے ہی سے موجود تھے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ چچا! آپ صرف کلمہ لا إله إلا الله پڑھ دیجئیے تاکہ اس کلمہ کے ذریعہ اللہ کی بارگاہ میں آپ کی شفاعت کروں۔ اس پر ابوجہل اور عبداللہ بن ابی امیہ بولے کیا تم عبدالمطلب کے مذہب سے پھر جاؤ گے؟ نبی کریم ﷺ باربار ان سے یہی کہتے رہے (کہ آپ صرف ایک کلمہ پڑھ لیں) اور یہ دونوں بھی اپنی بات ان کے سامنے باربار دہراتے رہے (کہ کیا تم عبدالمطلب کے مذہب سے پھر جاؤ گے؟ ) آخر ابوطالب کی زبان سے جو آخری کلمہ نکلا وہ یہی تھا کہ وہ عبدالمطلب کے مذہب پر ہی قائم ہیں۔ انہوں نے لا إله إلا الله پڑھنے سے انکار کردیا۔ راوی نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کی قسم! میں آپ کے لیے طلب مغفرت کرتا رہوں گا تاآنکہ مجھے اس سے روک نہ دیا جائے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی ما کان للنبي والذين آمنوا أن يستغفروا للمشرکين نبی اور ایمان والوں کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ مشرکین کے لیے دعائے مغفرت کریں۔ اور خاص ابوطالب کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی نبی کریم ﷺ سے کہا گیا إنک لا تهدي من أحببت ولکن الله يهدي من يشاء کہ جس کو تم چاہو ہدایت نہیں کرسکتے، البتہ اللہ ہدایت دیتا ہے اسے جس کے لیے وہ ہدایت چاہتا ہے۔ ابن عباس ؓ نے کہا أولي القوة سے یہ مراد ہے کہ کئی زور دار آدمی مل کر بھی اس کی کنجیاں نہیں اٹھا سکتے تھے۔ لتنوء کا مطلب ڈھوئی جاتی تھیں۔ فارغا کا معنی یہ ہے کہ موسیٰ کی ماں کے دل میں موسیٰ کے سوا اور کوئی خاص نہیں رہا تھا۔ الفرحين کا معنی خوشی سے اتراتے ہوئے۔ قصيه یعنی اس کے پیچھے پیچھے چلی جا۔ قصص کے معنی بیان کرنے کے ہوتے ہیں جیسے سورة یوسف میں فرمایا نحن نقص عليك، عن جنب یعنی دور سے عن جنابة کا بھی یہی معنی ہے اور عن اجتناب کا بھی یہی ہے۔ يبطش بہ کسرہ طاء اور يبطش. بہ ضمہ طاء دونوں قرآت ہیں۔ يأتمرون مشورہ کر رہے ہیں۔ عدوان اور عدو اور تعدي سب کا ایک ہی مفہوم ہے یعنی حد سے بڑھ جانا ظلم کرنا۔ آنس کا معنی دیکھنا۔ جذوة لکڑی کا موٹا ٹکڑا جس کے سرے پر آگ لگی ہو مگر اس میں شعلہ نہ ہو اور شهاب جو آیت اواتیکم بشهاب قبس میں ہے اس سے مراد ایسی جلتی ہوئی لکڑی جس میں شعلہ ہو۔ حيات یعنی سانپوں کی مختلف قسمیں (جیسے) جان، افعی، اسود وغیرہ ردء ا یعنی مددگار، پشت پناہ۔ ابن عباس ؓ نے يصدقني بہ ضمہ قاف پڑھا ہے۔ اوروں نے کہا سنشد کا معنی یہ ہے کہ ہم تیری مدد کریں گے عرب لوگ کا محاورہ ہے جب کسی کو قوت دیتے ہیں تو کہتے ہیں جعلت له عضدا.۔ مقبوحين کا معنی ہلاک کئے گئے۔ وصلنا ہم نے اس کو بیان کیا اور پورا کیا۔ يجبى کچھے آتے ہیں۔ بطرت شرارت کی۔ في أمها رسولا، أم القرى مکہ اور اس کے اطراف کو کہتے ہیں۔ تكن کا معنی چھپاتی ہیں۔ عرب لوگ کہتے ہیں أکننت یعنی میں نے اس کو چھپالیا۔ کننته کا بھی یہی معنی ہے۔ ويكأن الله کا معنی ألم تر أن الله کے یعنی کیا تو نے نہیں دیکھا۔ يبسط الرزق لمن يشاء ويقدر یعنی اللہ جس کو چاہتا ہے فراغت سے روزی دیتا ہے جسے چاہتا ہے تنگی سے دیتا ہے۔
Narrated Al-Musaiyab: When Abu Talib was on his death bed, Allah's Messenger came to him and found with him, Abu Jahl and `Abdullah bin Abi Umaiya bin Al-Mughira. Allah's Messenger said, O uncle! Say: None has the right to be worshipped except Allah, a sentence with which I will defend you before Allah. On that Abu Jahl and `Abdullah bin Abi Umaiya said to Abu Talib, Will you now leave the religion of `Abdul Muttalib? Allah's Messenger kept on inviting him to say that sentence while the other two kept on repeating their sentence before him till Abu Talib said as the last thing he said to them, I am on the religion of `Abdul Muttalib, and refused to say: None has the right to be worshipped except Allah. On that Allah's Messenger said, By Allah, I will keep on asking Allah's forgiveness for you unless I am forbidden (by Allah) to do so. So Allah revealed:-- 'It is not fitting for the Prophet and those who believe that they should invoke (Allah) for forgiveness for pagans.' (9.113) And then Allah revealed especially about Abu Talib:--'Verily! You (O, Muhammad) guide not whom you like, but Allah guides whom He will.' (28.56)
فَلاَ يَرْبُو مَنْ أَعْطَى يَبْتَغِي أَفْضَلَ فَلاَ أَجْرَ لَهُ فِيهَا. قَالَ مُجَاهِدٌ: يُحْبَرُونَ: يُنَعَّمُونَ، يَمْهَدُونَ: يُسَوُّونَ الْمَضَاجِعَ الْوَدْقُ الْمَطَرُ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: هَلْ لَكُمْ مِمَّا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ: فِي الْآلِهَةِ وَفِيهِ، تَخَافُونَهُمْ: أَنْ يَرِثُوكُمْ كَمَا يَرِثُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا، يَصَّدَّعُونَ: يَتَفَرَّقُونَ، فَاصْدَعْ، وَقَالَ غَيْرُهُ: ضُعْفٌ وَضَعْفٌ لُغَتَانِ، وَقَالَ مُجَاهِدٌ: السُّوأَى: الْإِسَاءَةُ جَزَاءُ الْمُسِيئِينَ.
فلا يربو یعنی جو سود پر قرض دے اس کو کچھ ثواب نہیں ملے گا۔ مجاہد نے کہا يحبرون کا معنی نعمتیں دیئے جائیں گے۔ فلا نفسهم يمهدون یعنی اپنے لیے بسترے، بچھونے بچھاتے ہیں (قبر میں یا بہشت میں) ۔ الودق مینہ کو کہتے ہیں۔ ابن عباس نے کہا کہ یہ آیت هل لکم مما ملکت أيمانکم اللہ پاک اور بتوں کی مثال میں اتری ہے۔ تخافونهم یعنی تم کیا اپنے لونڈی غلاموں سے یہ خوف کرتے ہو کہ وہ تمہارے وارث بن جائیں گے جیسے تم آپس میں ایک دوسرے کے وارث ہوتے ہو۔ يصدعون کے معنی جدا جدا ہوجائیں گے۔ فاصدع کا معنی حق بات کھول کر بیان کر دے اور بعض نے کہا ضعف اور ضعف ضاد کے ضمہ اور فتحہ کے ساتھ دونوں قرآت ہیں۔ مجاہد نے کہا السوأى کا معنی برائی یعنی برائی کرنے والوں کا بدلہ برا ملے گا۔
Narrated Ibn Abbas (RA) :
...will bring you home means to Makkah.
باب: سورۃ الروم کی تفسیر۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ، وَالْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: بَيْنَمَا رَجُلٌ يُحَدِّثُ فِي كِنْدَةَ، فَقَالَ: يَجِيءُ دُخَانٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيَأْخُذُ بِأَسْمَاعِ الْمُنَافِقِينَ، وَأَبْصَارِهِمْ يَأْخُذُ الْمُؤْمِنَ كَهَيْئَةِ الزُّكَامِ، فَفَزِعْنَا، فَأَتَيْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ، وَكَانَ مُتَّكِئًا، فَغَضِبَ فَجَلَسَ، فَقَالَ: مَنْ عَلِمَ فَلْيَقُلْ، وَمَنْ لَمْ يَعْلَمْ فَلْيَقُلِ اللَّهُ أَعْلَمُ، فَإِنَّ مِنَ الْعِلْمِ أَنْ، يَقُولَ: لِمَا لَا يَعْلَمُ لَا أَعْلَمُ، فَإِنَّ اللَّهَ، قَالَ لِنَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَقُلْ مَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ سورة ص آية 86، وَإِنَّ قُرَيْشًا أَبْطَئُوا عَنِ الْإِسْلَامِ، فَدَعَا عَلَيْهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَيْهِمْ بِسَبْعٍ كَسَبْعِ يُوسُفَ، فَأَخَذَتْهُمْ سَنَةٌ حَتَّى هَلَكُوا فِيهَا وَأَكَلُوا الْمَيْتَةَ وَالْعِظَامَ، وَيَرَى الرَّجُلُ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ كَهَيْئَةِ الدُّخَانِ، فَجَاءَهُ أَبُو سُفْيَانَ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ جِئْتَ تَأْمُرُنَا بِصِلَةِ الرَّحِمِ، وَإِنَّ قَوْمَكَ قَدْ هَلَكُوا، فَادْعُ اللَّهَ، فَقَرَأَ: فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ إِلَى قَوْلِهِ عَائِدُونَ سورة الدخان آية 10 - 15، أَفَيُكْشَفُ عَنْهُمْ عَذَابُ الْآخِرَةِ إِذَا جَاءَ ثُمَّ عَادُوا إِلَى كُفْرِهِمْ، فَذَلِكَ قَوْلُهُ تَعَالَى: يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرَى سورة الدخان آية 16 يَوْمَ بَدْرٍ وَلِزَامًا يَوْمَ بَدْرٍ، الم غُلِبَتِ الرُّومُ إِلَى سَيَغْلِبُونَ سورة الروم آية 1 - 3 وَالرُّومُ قَدْ مَضَى.
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، کہا ہم سے منصور اور اعمش نے بیان کیا، ان سے ابوالضحیٰ نے، ان سے مسروق نے بیان کیا کہ ایک شخص نے قبیلہ کندہ میں وعظ بیان کرتے ہوئے کہا کہ قیامت کے دن ایک دھواں اٹھے گا جس سے منافقوں کے آنکھ کان بالکل بیکار ہوجائیں گے لیکن مومن پر اس کا اثر صرف زکام جیسا ہوگا۔ ہم اس کی بات سے بہت گھبرا گئے۔ پھر میں ابن مسعود ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا (اور انہیں ان صاحب کی یہ بات سنائی) وہ اس وقت ٹیک لگائے بیٹھے تھے، اسے سن کر بہت غصہ ہوئے اور سیدھے بیٹھ گئے۔ پھر فرمایا کہ اگر کسی کو کسی بات کا واقعی علم ہے تو پھر اسے بیان کرنا چاہیے لیکن اگر علم نہیں ہے تو کہہ دینا چاہیے کہ اللہ زیادہ جاننے والا ہے۔ یہ بھی علم ہی ہے کہ آدمی اپنی لاعلمی کا اقرار کرلے اور صاف کہہ دے کہ میں نہیں جانتا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم ﷺ سے فرمایا تھا قل ما أسألكم عليه من أجر وما أنا من المتکلفين آپ کہہ دیجئیے کہ میں اپنی تبلیغ و دعوت پر تم سے کوئی اجر نہیں چاہتا اور نہ میں بناوٹ کرتا ہوں۔ اصل میں واقعہ یہ ہے کہ قریش کسی طرح اسلام نہیں لاتے تھے۔ اس لیے نبی کریم ﷺ نے ان کے حق میں بددعا کی کہ اے اللہ! ان پر یوسف (علیہ السلام) کے زمانے جیسا قحط بھیج کر میری مدد کر پھر ایسا قحط پڑا کہ لوگ تباہ ہوگئے اور مردار اور ہڈیاں کھانے لگے کوئی اگر فضا میں دیکھتا (تو فاقہ کی وجہ سے) اسے دھویں جیسا نظر آتا۔ پھر ابوسفیان آئے اور کہا کہ اے محمد! آپ ہمیں صلہ رحمی کا حکم دیتے ہیں لیکن آپ کی قوم تباہ ہو رہی ہے، اللہ سے دعا کیجئے (کہ ان کی یہ مصیبت دور ہو) ۔ اس پر نبی کریم ﷺ نے یہ آیت پڑھی فارتقب يوم تأتي السماء بدخان مبين سے عائدون تک۔ ابن مسعود ؓ نے بیان کیا کہ قحط کا یہ عذاب تو نبی کریم ﷺ کی دعا کے نتیجہ میں ختم ہوگیا تھا لیکن کیا آخرت کا عذاب بھی ان سے ٹل جائے گا؟ چناچہ قحط ختم ہونے کے بعد پھر وہ کفر سے باز نہ آئے، اس کی طرف اشارہ يوم نبطش البطشة الکبرى میں ہے، یہ بطش کفار پر غزوہ بدر کے موقع پر نازل ہوئی تھی (کہ ان کے بڑے بڑے سردار قتل کردیئے گئے) اور لزاما (قید) سے اشارہ بھی معرکہ بدر ہی کی طرف ہے الم * غلبت الروم سے سيغلبون تک کا واقعہ گزر چکا ہے کہ (کہ روم والوں نے فارس والوں پر فتح پالی تھی) ۔
Narrated Masruq (RA) :
While a man was delivering a speech in the tribe of Kinda, he said, "Smoke will prevail on the Day of Resurrection and will deprive the hypocrites their faculties of hearing and seeing. The believers will be afflicted with something like cold only thereof." That news scared us, so I went to (Abdullah) Ibn Masud (RA) while he was reclining (and told him the story) whereupon he became angry, sat up and said, "He who knows a thing can say, it, but if he does not know, he should say, Allah knows best, for it is an aspect of knowledge to say, I do not know, if you do not know a certain thing. Allah said to His prophet. Say ( O Muhammad ﷺ ): No wage do I ask of you for this (Quran), nor I am one of the pretenders (a person who pretends things which do not exist.) (38.86)
The Quraish delayed in embracing Islam for a period, so the Prophet ﷺ invoked evil on them, saying, O Allah! Help me against them by sending seven years of (famine) like those of Joseph. So they were afflicted with such a severe year of famine that they were destroyed therein and ate dead animals and bones. They started seeing something like smoke between the sky and the earth (because of severe hunger). Abu Sufyan (RA) then came (to the Prophet) and said, " O Muhammad ﷺ ! You came to order us for to keep good relations with kith and kin, and your kinsmen have now perished, so please invoke Allah (to relieve them). Then Ibn Masud (RA) recited:-- Then watch you for the day that the sky will bring forth a kind of smoke plainly visible....but truly you will return! (to disbelief) (44.10-15)
Ibn Masud (RA) added, Then the punishment was stopped, but truly, they reverted to heathenism (their old way). So Allah (threatened them thus): On the day when we shall seize you with a mighty grasp. (44.16) And that was the day of the Battle of Badr. Allahs saying- "Lizama" (the punishment) refers to the day of Badr Allahs Statement:
Alif-Lam-Mim, the Romans have been defeated, and they, after their defeat, will be victorious, (30.1-3) (This verse): Indicates that the defeat of Byzantine has already passed.
باب: آیت کی تفسیر ”اللہ کی بنائی ہوئی فطرت «خلق الله» میں کوئی تبدیلی ممکن نہیں“۔
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا مِنْ مَوْلُودٍ إِلَّا يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ أَوْ يُنَصِّرَانِهِ، أَوْ يُمَجِّسَانِهِ كَمَا تُنْتَجُ الْبَهِيمَةُ بَهِيمَةً جَمْعَاءَ، هَلْ تُحِسُّونَ فِيهَا مِنْ جَدْعَاءَ، ثُمَّ يَقُولُ: فِطْرَةَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ سورة الروم آية 30 ذَلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ.
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہمیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہیں یونس بن یزید نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، انہیں ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی اور ان سے ابوہریرہ ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ہر پیدا ہونے والا بچہ دین فطرت پر پیدا ہوتا ہے لیکن اس کے ماں باپ اسے یہودی، نصرانی یا مجوسی بنا لیتے ہیں۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسی جانور کا بچہ صحیح سالم پیدا ہوتا ہے کیا تم نے انہیں ناک کان کٹا ہوا کوئی بچہ دیکھا ہے۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے اس آیت کی تلاوت کی فطرة الله التي فطر الناس عليها لا تبديل لخلق الله ذلک الدين القيم اللہ کی اس فطرت کی اتباع کرو جس پر اس نے انسان کو پیدا کیا ہے، اللہ کی بنائی ہوئی فطرت میں کوئی تبدیلی ممکن نہیں، یہی سیدھا دین ہے۔
Narrated Abu- Hurairah (RA) : Allahs Apostle ﷺ said, "No child is born except on Al-Fitra (Islam) and then his parents make him Jewish, Christian or Magian, as an animal produces a perfect young animal: do you see any part of its body amputated?" Then he rec
The religion of pure Islamic Faith (Hanifa),(i.e. to worship none but Allah), The pure Allahs Islamic nature with which He (Allah) has created mankind. Let There be no change in Allahs religion (i.e. to join none in Allahs worship). That is the straight religion; but most of men know not..." (30.30)
باب: آیت کی تفسیر ”اللہ کا شریک نہ ٹھہرا، بیشک شرک کرنا بہت بڑا ظلم ہے“۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ سورة الأنعام آية 82 شَقَّ ذَلِكَ عَلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالُوا: أَيُّنَا لَمْ يَلْبِسْ إِيمَانَهُ بِظُلْمٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّهُ لَيْسَ بِذَاكَ، أَلَا تَسْمَعُ إِلَى قَوْلِ لُقْمَانَ لِابْنِهِ: إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ سورة لقمان آية 13.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابراہیم نے، ان سے علقمہ نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود ؓ نے بیان کیا کہ جب آیت الذين آمنوا ولم يلبسوا إيمانهم بظلم کہ جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان کے ساتھ ظلم کی آمیزش نہیں کی۔ نازل ہوئی تو اصحاب رسول ﷺ بہت گھبرائے اور کہنے لگے کہ ہم میں کون ایسا ہوگا جس نے اپنے ایمان کے ساتھ ظلم کی ملاوٹ نہیں کی ہوگی؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ آیت میں ظلم سے یہ مراد نہیں ہے۔ تم نے لقمان (علیہ السلام) کی وہ نصیحت نہیں سنی جو انہوں نے اپنے بیٹے کو کی تھی إن الشرک لظلم عظيم کہ بیشک شرک کرنا بڑا بھاری ظلم ہے۔
Narrated Abdullah (RA) :
When there was revealed: It is those who believe and confuse not their beliefs with wrong. (6.82) It was very hard for the companions of Allahs Apostle, so they said, "Which of us has not confused his belief with wrong?" Allahs Apostle ﷺ said, "The Verse does not mean this. Dont you hear Luqmans statement to his son: Verily! Joining others in worship, with Allah is a great wrong indeed. (31.13)
باب: آیت کی تفسیر ”قیامت (کے واقع ہونے کی تاریخ) کی خبر صرف اللہ پاک ہی کو ہے“۔
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَوْمًا بَارِزًا لِلنَّاسِ إِذْ أَتَاهُ رَجُلٌ يَمْشِي، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا الْإِيمَانُ ؟ قَالَ: الْإِيمَانُ أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ، وَمَلَائِكَتِهِ، وَكُتُبِهِ، وَرُسُلِهِ، وَلِقَائِهِ، وَتُؤْمِنَ بِالْبَعْثِ الْآخِرِ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا الْإِسْلَامُ ؟ قَالَ: الْإِسْلَامُ أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ، وَلَا تُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا، وَتُقِيمَ الصَّلَاةَ، وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ الْمَفْرُوضَةَ، وَتَصُومَ رَمَضَانَ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا الْإِحْسَانُ ؟ قَالَ: الْإِحْسَانُ أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَتَى السَّاعَةُ ؟ قَالَ: مَا الْمَسْئُولُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ، وَلَكِنْ سَأُحَدِّثُكَ عَنْ أَشْرَاطِهَا: إِذَا وَلَدَتِ الْمَرْأَةُ رَبَّتَهَا فَذَاكَ مِنْ أَشْرَاطِهَا، وَإِذَا كَانَ الْحُفَاةُ الْعُرَاةُ رُءُوسَ النَّاسِ فَذَاكَ مِنْ أَشْرَاطِهَا، فِي خَمْسٍ لَا يَعْلَمُهُنَّ إِلَّا اللَّهُ: إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الأَرْحَامِ سورة لقمان آية 34، ثُمَّ انْصَرَفَ الرَّجُلُ، فَقَالَ: رُدُّوا عَلَيَّ فَأَخَذُوا لِيَرُدُّوا، فَلَمْ يَرَوْا شَيْئًا، فَقَالَ: هَذَا جِبْرِيلُ جَاءَ لِيُعَلِّمَ النَّاسَ دِينَهُمْ.
مجھ سے اسحاق نے بیان کیا، ان سے جریر نے، ان سے ابوحیان نے، ان سے ابوزرعہ نے اور ان سے ابوہریرہ ؓ نے کہ رسول اللہ ﷺ ایک دن لوگوں کے ساتھ تشریف رکھتے تھے کہ ایک نیا آدمی خدمت میں حاضر ہوا اور پوچھا: یا رسول اللہ! ایمان کیا ہے؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ایمان یہ ہے کہ تم اللہ اور اس کے فرشتوں، رسولوں اور اس کی ملاقات پر ایمان لاؤ اور قیامت کے دن پر ایمان لاؤ۔ انہوں نے پوچھا: یا رسول اللہ! اسلام کیا ہے؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اسلام یہ ہے کہ تنہا اللہ کی عبادت کرو اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤ، نماز قائم کرو اور فرض زکوٰۃ ادا کرو اور رمضان کے روزے رکھو۔ انہوں نے پوچھا: یا رسول اللہ! احسان کیا ہے؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ احسان یہ ہے کہ تم اللہ کی اس طرح عبادت کرو گویا کہ تم اسے دیکھ رہے ہو ورنہ یہ عقیدہ لازماً رکھو کہ اگر تم اسے نہیں دیکھتے تو وہ تمہیں ضرور دیکھ رہا ہے۔ انہوں نے پوچھا: یا رسول اللہ! قیامت کب قائم ہوگی؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جس سے پوچھا جا رہا ہے خود وہ سائل سے زیادہ اس کے واقع ہونے کے متعلق نہیں جانتا۔ البتہ میں تمہیں اس کی چند نشانیاں بتاتا ہوں۔ جب عورت ایسی اولاد جنے جو اس کے آقا بن جائیں تو یہ قیامت کی نشانی ہے، جب ننگے پاؤں، ننگے جسم والے لوگ لوگوں پر حاکم ہوجائیں تو یہ قیامت کی نشانی ہے۔ قیامت بھی ان پانچ چیزوں میں سے ہے جسے اللہ کے سوا اور کوئی نہیں جانتا، بیشک اللہ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے۔ وہی مینہ برساتا ہے اور وہی جانتا ہے کہ ماں کے رحم میں کیا ہے (لڑکا یا لڑکی) پھر وہ صاحب اٹھ کر چلے گئے تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ انہیں میرے پاس واپس بلا لاؤ۔ لوگوں نے انہیں تلاش کیا تاکہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں دوبارہ لائیں لیکن ان کا کہیں پتہ نہیں تھا۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ صاحب جبرائیل تھے (انسانی صورت میں) لوگوں کو دین کی باتیں سکھانے آئے تھے۔
Narrated Abu Hurairah (RA) :
One day while Allahs Apostle ﷺ was sitting with the people, a man came to him walking and said, "O Allahs Apostle. What is Belief?" The Prophet ﷺ said, "Belief is to believe in Allah, His Angels, His Books, His Apostles, and the meeting with Him, and to believe in the Resurrection." The man asked, "O Allahs Apostle ﷺ What is Islam?" The Prophet ﷺ replied, "Islam is to worship Allah and not worship anything besides Him, to offer prayers perfectly, to pay the (compulsory) charity i.e. Zakat and to fast the month of Ramadan." The man again asked, "O Allahs Apostle ﷺ What is Ihsan (i.e. perfection or Benevolence)?" The Prophet ﷺ said, "Ihsan is to worship Allah as if you see Him, and if you do not achieve this state of devotion, then (take it for granted that) Allah sees you." The man further asked, "O Allahs Apostle ﷺ When will the Hour be established?"
The Prophet ﷺ replied, "The one who is asked about it does not know more than the questioner does, but I will describe to you its portents. When the lady slave gives birth to her mistress, that will be of its portents; when the bare-footed naked people become the chiefs of the people, that will be of its portents. The Hour is one of five things which nobody knows except Allah. Verily, the knowledge of the Hour is with Allah (alone). He sends down the rain, and knows that which is in the wombs." (31.34) Then the man left. The Prophet ﷺ said, "Call him back to me." They went to call him back but could not see him. The Prophet ﷺ said, "That was Gabriel (علیہ السلام) who came to teach the people their religion." (See Hadith No. 47 Vol 1)
وَقَالَ مُجَاهِدٌ: مَهِينٍ: ضَعِيفٍ نُطْفَةُ الرَّجُلِ، ضَلَلْنَا: هَلَكْنَا، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: الْجُرُزُ الَّتِي لَا تُمْطَرُ إِلَّا مَطَرًا لَا يُغْنِي عَنْهَا شَيْئًا، يَهْدِ: يُبَيِّنْ.
مجاہد نے کہا کہ مهين کا معنی ناتواں کمزور (یا حقیر) مراد مرد کا نطفہ ہے۔ ضللنا کے معنی ہم تباہ ہوئے۔ ابن عباس ؓ نے کہا جرز وہ زمین جہاں بالکل کم بارش ہوتی ہے جس سے کچھ فائدہ نہیں ہوتا (یا سخت اور خشک زمیں) يهد کے معنی ہم بیان کرتے ہیں۔
Narrated `Abdullah bin `Umar: The Prophet said, The keys of the Unseen are five. And then he recited: 'Verily, the knowledge of the Hour is with Allah (alone).' (31.34)
باب: آیت کی تفسیر ”کسی مومن کو علم نہیں جو جو سامان (جنت میں) ان کے لیے پوشیدہ کر کے رکھے گئے ہیں جو ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنیں گے“۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: أَعْدَدْتُ لِعِبَادِي الصَّالِحِينَ مَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ، وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ، وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: اقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ: فَلا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ سورة السجدة آية 17، وَحَدَّثَنَا عَلِيٌّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ اللَّهُ مِثْلَهُ، قِيلَ لِسُفْيَانَ رِوَايَةً، قَالَ: فَأَيُّ شَيْءٍ.
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے ابوالزناد نے، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ ؓ نے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ میں نے اپنے صالح اور نیک بندوں کے لیے وہ چیزیں تیار کر رکھی ہیں جنہیں کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی کے گمان و خیال میں وہ آئی ہیں۔ ابوہریرہ ؓ نے کہا کہ اگر چاہو تو اس آیت کو پڑھ لو فلا تعلم نفس ما أخفي لهم من قرة أعين کہ سو کسی کو نہیں معلوم جو جو سامان آنکھوں کی ٹھنڈک کا ان کے لیے جنت میں چھپا کر رکھا گیا ہے۔ علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا کہ ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ ؓ نے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے، پہلی حدیث کی طرح۔ سفیان سے پوچھا گیا کہ یہ آپ نبی کریم ﷺ کی حدیث روایت کر رہے ہیں یا اپنے اجتہاد سے فرما رہے ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ (اگر یہ نبی کریم ﷺ کی حدیث نہیں ہے) تو پھر اور کیا ہے؟ ابومعاویہ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے اور ان سے صالح نے کہ ابوہریرہ ؓ نے (آیت مذکورہ میں) قرآت (صیغہ جمع کے ساتھ) پڑھا ہے۔
Narrated Abu Hurairah (RA):
Allahs Messenger ﷺ said, "Allah said, I have prepared for my pious worshipers such things as no eye has ever seen, no ear has ever heard of, and nobody has ever thought of." Abu Hurairah added: If you wish you can read:-- No soul knows what is kept hidden (in reserve) for them of joy as reward for what they used to do. 32:17
باب: آیت کی تفسیر ”کسی مومن کو علم نہیں جو جو سامان (جنت میں) ان کے لیے پوشیدہ کر کے رکھے گئے ہیں جو ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنیں گے“۔
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: أَعْدَدْتُ لِعِبَادِي الصَّالِحِينَ مَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ، وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ، وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ ذُخْرًا بَلْهَ مَا أُطْلِعْتُمْ عَلَيْهِ، ثُمَّ قَرَأَ: فَلا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ سورة السجدة آية 17، قَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ: عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، قَرَأَ أَبُو هُرَيْرَةَ قُرَّاتِ أَعْيُنٍ.
مجھ سے اسحاق بن نصر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، کہا ہم سے ابوصالح نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ ؓ نے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ میں نے اپنے نیکوکار بندوں کے لیے وہ چیزیں تیار رکھی ہیں جنہیں کسی آنکھ نے نہ دیکھا اور کسی کان نے نہ سنا اور نہ کسی انسان کے دل میں ان کا کبھی گمان و خیال پیدا ہوا۔ اللہ کی ان نعمتوں سے واقفیت اور آگاہی تو الگ رہی (ان کا کسی کو گمان و خیال بھی پیدا نہیں ہوا) ۔ پھر نبی کریم ﷺ نے اس آیت کی تلاوت کی فلا تعلم نفس ما أخفي لهم من قرة أعين جزاء بما کانوا يعملون کہ سو کسی نفس مومن کو معلوم نہیں جو جو سامان آنکھوں کی ٹھنڈک کا (جنت میں) ان کے لیے چھپا کر رکھا گیا ہے، یہ بدلہ ہے ان کے نیک عملوں کا جو دنیا میں کرتے رہے۔
Narrated Abu Hurairah (RA) :
The Prophet, said, "Allah said, I have prepared for My pious worshipers such things as no eye has ever seen, no ear has ever heard of, and nobody has ever thought of. All that is reserved, besides which, all that you have seen, is nothing." Then he recited:--
No soul knows what is kept hidden (in reserve) for them of joy as a reward for what they used to do. (32.17)
باب: آیت کی تفسیر یعنی ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مومنین کے ساتھ خود ان کے نفس سے بھی زیادہ تعلق رکھتے ہیں“۔
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَا مِنْ مُؤْمِنٍ إِلَّا وَأَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، اقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ: النَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ سورة الأحزاب آية 6 فَأَيُّمَا مُؤْمِنٍ تَرَكَ مَالًا فَلْيَرِثْهُ عَصَبَتُهُ مَنْ كَانُوا، فَإِنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيَاعًا فَلْيَأْتِنِي فَأَنَا مَوْلَاهُ.
ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن فلیح نے، کہا مجھ سے میرے والد نے، ان سے ہلال بن علی نے اور ان سے عبدالرحمٰن بن ابی عمرہ نے اور ان سے ابوہریرہ ؓ نے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کوئی مومن ایسا نہیں کہ میں خود اس کے نفس سے بھی زیادہ اس سے اور آخرت میں تعلق نہ رکھتا ہوں، اگر تمہارا جی چاہے تو یہ آیت پڑھ لو النبي أولى بالمؤمنين من أنفسهم کہ نبی مؤمنین کے ساتھ خود ان کے نفس سے بھی زیادہ تعلق رکھتے ہے۔ پس جو مومن بھی (مرنے کے بعد) ترکہ مال و اسباب چھوڑے اور کوئی ان کا ولی وارث نہیں ہے اس کے عزیز و اقارب جو بھی ہوں، اس کے مال کے وارث ہوں گے، لیکن اگر کسی مومن نے کوئی قرض چھوڑا ہے یا اولاد چھوڑی ہے تو وہ میرے پاس آجائیں ان کا ذمہ دار میں ہوں۔
Narrated Abu Hurairah (RA) :
The Prophet ﷺ said, "There is no believer but I, of all the people, I am the closest to him both in this world and in the Hereafter. Recite if you wish: The Prophet ﷺ is closer to the believers than their own selves. (33.6) so if a believer (dies) leaves some property then his relatives will inherit that property; but if he is in debt or he leaves poor children, let those (creditors and children) come to me (that I may pay the debt and provide for the children), for them I am his sponsor (surely).