تفاسیر کا بیان

Sahih Bukhari · Chapter 48 · 560 hadiths · Page 11 of 25

4681Sahih Bukhari

باب: آیت کی تفسیر ”خبردار ہو، وہ لوگ جو اپنے سینوں کو دہرا کئے دیتے ہیں، تاکہ اپنی باتیں اللہ سے چھپا سکیں وہ غلطی پر ہیں، اللہ سینے کے بھیدوں سے واقف ہے۔ خبردار رہو! وہ لوگ جس وقت چھپنے کے لیے اپنے کپڑے لپیٹتے ہیں (اس وقت بھی) وہ جانتا ہے جو کچھ وہ چھپاتے ہیں اور جو کچھ وہ ظاہر کرتے ہیں، بیشک وہ (ان کے) دلوں کے اندر (کی باتوں) سے خوب خبردار ہے“۔

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَبَّاحٍ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ، أَنَّهُ سَمِعَابْنَ عَبَّاسٍ يَقْرَأُ: ۔ أَلَا إِنَّهُمْ تَثْنَوْنِي صُدُورُهُمْ 0، قَالَ: سَأَلْتُهُ عَنْهَا، فَقَالَ: أُنَاسٌ كَانُوا يَسْتَحْيُونَ أَنْ يَتَخَلَّوْا، فَيُفْضُوا إِلَى السَّمَاءِ وَأَنْ يُجَامِعُوا نِسَاءَهُمْ، فَيُفْضُوا إِلَى السَّمَاءِ فَنَزَلَ ذَلِكَ فِيهِمْ.

ہم سے حسن بن محمد بن صباح نے بیان کیا، کہا ہم سے حجاج بن محمد اعور نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابن جریج نے بیان کیا، کہا کہ مجھ کو محمد بن عباد بن جعفر نے خبر دی اور انہوں نے ابن عباس ؓ سے سنا کہ آپ آیت کی قرآت اس طرح کرتے تھے ألا إنهم تثنوني صدورهم میں نے ان سے آیت کے متعلق پوچھا۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ اس میں حیاء کرتے تھے کہ کھلی ہوئی جگہ میں حاجت کے لیے بیٹھنے میں، آسمان کی طرف ستر کھولنے میں، اس طرح صحبت کرتے وقت آسمان کی طرف کھولنے میں پروردگار سے شرماتے۔

Narrated Muhammad bin Abbas bin Jafar (RA) : That he heard Ibn Abbas (RA) reciting: "No doubt! They fold up their breasts." (11.5) and asked him about its explanation. He said, "Some people used to hide themselves while answering the call of nature in an open space lest they be exposed to the sky, and also when they had sexual relation with their wives in an open space lest they be exposed to the sky, so the above revelation was sent down regarding them."

4682Sahih Bukhari

باب: آیت کی تفسیر ”خبردار ہو، وہ لوگ جو اپنے سینوں کو دہرا کئے دیتے ہیں، تاکہ اپنی باتیں اللہ سے چھپا سکیں وہ غلطی پر ہیں، اللہ سینے کے بھیدوں سے واقف ہے۔ خبردار رہو! وہ لوگ جس وقت چھپنے کے لیے اپنے کپڑے لپیٹتے ہیں (اس وقت بھی) وہ جانتا ہے جو کچھ وہ چھپاتے ہیں اور جو کچھ وہ ظاہر کرتے ہیں، بیشک وہ (ان کے) دلوں کے اندر (کی باتوں) سے خوب خبردار ہے“۔

حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، وَأَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، قَرَأَ: ۔ أَلَا إِنَّهُمْ تَثْنَوْنِي صُدُورُهُمْ 0، قُلْتُ: يَا أَبَا الْعَبَّاسِ، مَا تَثْنَوْنِي صُدُورُهُمْ ؟ قَالَ: كَانَ الرَّجُلُ يُجَامِعُ امْرَأَتَهُ فَيَسْتَحِي، أَوْ يَتَخَلَّى، فَيَسْتَحِي، فَنَزَلَتْ ۔ أَلَا إِنَّهُمْ تَثْنَوْنِي صُدُورُهُمْ 0.

مجھ سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشام نے خبر دی، انہیں ابن جریج نے، انہیں محمد بن عباد بن جعفر نے خبر دی کہ ابن عباس ؓ اس طرح قرآت کرتے تھے ألا إنهم تثنوني صدورهم محمد بن عباد نے پوچھا: اے ابو العباس! تثنوني صدورهم کا کیا مطلب ہے؟ بتلایا کہ کچھ لوگ اپنی بیوی سے ہمبستری کرنے میں حیاء کرتے اور خلاء کے لیے بیٹھتے ہوئے بھی حیاء کرتے تھے۔ انہیں کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی کہ ألا إنهم تثنوني صدورهم آخر آیت تک۔

Narrated Muhammad bin Abbas bin Jafar (RA) : Ibn Abbas (RA) recited. "No doubt! They fold up their breasts." I said, "O Abu Abbas! What is meant by "They fold up their breasts?" He said, "A man used to feel shy on having sexual relation with his wife or on answering the call of nature (in an open space) so this Verse was revealed:-- "No doubt! They fold up their breasts."

4683Sahih Bukhari

باب: آیت کی تفسیر ”خبردار ہو، وہ لوگ جو اپنے سینوں کو دہرا کئے دیتے ہیں، تاکہ اپنی باتیں اللہ سے چھپا سکیں وہ غلطی پر ہیں، اللہ سینے کے بھیدوں سے واقف ہے۔ خبردار رہو! وہ لوگ جس وقت چھپنے کے لیے اپنے کپڑے لپیٹتے ہیں (اس وقت بھی) وہ جانتا ہے جو کچھ وہ چھپاتے ہیں اور جو کچھ وہ ظاہر کرتے ہیں، بیشک وہ (ان کے) دلوں کے اندر (کی باتوں) سے خوب خبردار ہے“۔

حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا عَمْرٌو، قَالَ: قَرَأَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَلا إِنَّهُمْ يَثْنُونَ صُدُورَهُمْ لِيَسْتَخْفُوا مِنْهُ أَلا حِينَ يَسْتَغْشُونَ ثِيَابَهُمْ سورة هود آية 5. وَقَالَ غَيْرُهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: يَسْتَغْشُونَ يُغَطُّونَ رُءُوسَهُمْ سِيءَ بِهِمْ سَاءَ ظَنُّهُ بِقَوْمِهِ. وَضَاقَ بِهِمْ بِأَضْيَافِهِ بِقِطْعٍ مِنَ اللَّيْلِ بِسَوَادٍ. وَقَالَ مُجَاهِدٌ: أُنِيبُ أَرْجِعُ.

ہم سے عبداللہ بن زبیر حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے، کہا ہم سے عمرو بن دینار نے بیان کیا، کہا کہ ابن عباس ؓ نے آیت کی قرآت اس طرح کی تھی ألا إنهم يثنون صدورهم ليستخفوا منه ألا حين يستغشون ثيابهم اور عمرو بن دینار کے علاوہ اوروں نے بیان کیا ابن عباس ؓ سے کہ يستغشون یعنی اپنے سر چھپالیتے ہیں۔ سيء بهم یعنی اپنی قوم سے وہ بدگمان ہوا۔ وضاق بهم یعنی اپنے مہمانوں کو دیکھ کر وہ بدگمان ہوا کہ ان کی قوم انہیں بھی پریشان کرے گی۔ بقطع من الليل یعنی رات کی سیاہی میں اور مجاہد نے کہا أنيب کے معنی میں رجوع کرتا ہوں (متوجہ ہوتا ہوں) ۔

Narrated Amr (RA) : Ibn Abbas (RA) recited:-- "No doubt! They fold up their breasts in order to hide from Him. Surely! Even when they cover themselves with their garments.." (11.5)

4684Sahih Bukhari

{وَإِلَى مَدْيَنَ أَخَاهُمْ شُعَيْبًا}:

آیت کی تفسیر اور مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کو ( بھیجا )

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: أَنْفِقْ، أُنْفِقْ عَلَيْكَ، وَقَالَ: يَدُ اللَّهِ مَلْأَى لَا تَغِيضُهَا نَفَقَةٌ سَحَّاءُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ، وَقَالَ: أَرَأَيْتُمْ مَا أَنْفَقَ مُنْذُ خَلَقَ السَّمَاءَ وَالْأَرْضَ، فَإِنَّهُ لَمْ يَغِضْ مَا فِي يَدِهِ، وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ، وَبِيَدِهِ الْمِيزَانُ، يَخْفِضُ، وَيَرْفَعُ. اعْتَرَاكَ افْتَعَلْتَ مِنْ عَرَوْتُهُ أَيْ أَصَبْتُهُ، وَمِنْهُ يَعْرُوهُ وَاعْتَرَانِي آخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا أَيْ فِي مِلْكِهِ وَسُلْطَانِهِ. عَنِيدٌ وَعَنُودٌ وَعَانِدٌ وَاحِدٌ، هُوَ تَأْكِيدُ التَّجَبُّرِ، اسْتَعْمَرَكُمْ جَعَلَكُمْ عُمَّارًا، أَعْمَرْتُهُ الدَّارَ فَهْيَ عُمْرَى جَعَلْتُهَا لَهُ. نَكِرَهُمْ وَأَنْكَرَهُمْ وَاسْتَنْكَرَهُمْ وَاحِدٌ حَمِيدٌ مَجِيدٌ كَأَنَّهُ فَعِيلٌ مِنْ مَاجِدٍ. مَحْمُودٌ مِنْ حَمِدَ. سِجِّيلٌ الشَّدِيدُ الْكَبِيرُ. سِجِّيلٌ وَسِجِّينٌ وَاللاَّمُ وَالنُّونُ أُخْتَانِ، وَقَالَ تَمِيمُ بْنُ مُقْبِلٍ: وَرَجْلَةٍ يَضْرِبُونَ الْبَيْضَ ضَاحِيَةً ** ضَرْبًا تَوَاصَى بِهِ الأَبْطَالُ سِجِّينَا. إِلَى أَهْلِ مَدْيَنَ لأَنَّ مَدْيَنَ بَلَدٌ، وَمِثْلُهُ: وَاسْأَلِ الْقَرْيَةَ وَاسْأَلِ الْعِيرَ يَعْنِي أَهْلَ الْقَرْيَةِ وَأَصْحَابَ الْعِيرِ وَرَاءَكُمْ ظِهْرِيًّا يَقُولُ لَمْ تَلْتَفِتُوا إِلَيْهِ، وَيُقَالُ إِذَا لَمْ يَقْضِ الرَّجُلُ حَاجَتَهُ ظَهَرْتَ بِحَاجَتِي وَجَعَلْتَنِي ظِهْرِيًّا، وَالظِّهْرِيُّ هَاهُنَا أَنْ تَأْخُذَ مَعَكَ دَابَّةً أَوْ وِعَاءً تَسْتَظْهِرُ بِهِ. أَرَاذِلُنَا سُقَاطُنَا. إِجْرَامِي هُوَ مَصْدَرٌ مِنْ أَجْرَمْتُ وَبَعْضُهُمْ يَقُولُ جَرَمْتُ. الْفُلْكُ وَالْفَلَكُ وَاحِدٌ وَهْيَ السَّفِينَةُ وَالسُّفُنُ. مُجْرَاهَا مَدْفَعُهَا وَهْوَ مَصْدَرُ أَجْرَيْتُ، وَأَرْسَيْتُ حَبَسْتُ وَيُقْرَأُ: مَرْسَاهَا مِنْ رَسَتْ هِيَ، وَمَجْرَاهَا مِنْ جَرَتْ هِيَ وَمُجْرِيهَا وَمُرْسِيهَا مِنْ فُعِلَ بِهَا، الرَّاسِيَاتُ ثَابِتَاتٌ.

ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، کہا ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ ؓ نے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ بندو! (میری راہ میں) خرچ کرو تو میں بھی تم پر خرچ کروں گا اور فرمایا، اللہ کا ہاتھ بھرا ہوا ہے۔ رات اور دن مسلسل کے خرچ سے بھی اس میں کم نہیں ہوتا اور فرمایا تم نے دیکھا نہیں جب سے اللہ نے آسمان و زمین کو پیدا کیا ہے، مسلسل خرچ کئے جا رہا ہے لیکن اس کے ہاتھ میں کوئی کمی نہیں ہوئی، اس کا عرش پانی پر تھا اور اس کے ہاتھ میں میزان عدل ہے جسے وہ جھکاتا اور اٹھاتا رہتا ہے۔ اعتراک باب افتعال سے ہے عروته سے یعنی میں نے اس کو پکڑ پایا اسی سے ہے۔ يعروه مضارع کا صیغہ اور اعتراني آخذ بناصيتها یعنی اس کی حکومت اور قبضہ قدرت میں ہیں۔ عنيد، عنود اور عاند سب کے معنی ایک ہی ہیں یعنی سرکش مخالف اور یہ جبار کی تاکید ہے۔ استعمرکم تم کو بسایا، آباد کیا۔ عرب لوگ کہتے ہیں أعمرته الدار فهى عمرى یعنی یہ گھر میں نے اس کو عمر بھر کے لیے دے ڈالا۔ نكرهم،أنكرهم اور استنکرهم سب کے ایک ہی معنی ہیں۔ یعنی ان کو پردیسی سمجھا۔ حميد، فعيل کے وزن پر ہے بہ معنی محمود میں سراہا گیا اور مجيد، ماجد. کے معنی میں ہے (یعنی کرم کرنے والا) ۔ سجيل اور سجين دونوں کے معنی سخت اور بڑا کے ہیں۔ لام اور نون بہنیں ہیں (ایک دوسرے سے بدلی جاتی ہیں) ۔ تمیم بن مقبل شاعر کہتا ہے۔ بعضے پیدل دن دھاڑے خود پر ضرب لگاتے ہیں ایسی ضرب جس کی سختی کے لیے بڑے بڑے پہلوان اپنے شاگردوں کو وصیت کیا کرتے ہیں۔ وإلى مدين یعنی مدین والوں کی طرف کیونکہ مدین ایک شہر کا نام ہے جسے دوسری جگہ فرمایا واسأل القرية یعنی گاؤں والوں سے پوچھ۔ واسأل العير یعنی قافلہ والوں سے پوچھ۔ وراء کم ظهريا یعنی پس پشت ڈال دیا اس کی طرف التفات نہ کیا۔ جب کوئی کسی کا مقصد پورا نہ کرے تو عرب لوگ کہتے ہیں ظهرت بحاجتي اور جعلتني ظهريا اس جگہ ظهري کا معنی وہ جانور یا برتن ہے جس کو تو اپنے کام کے لیے ساتھ رکھے۔ أراذلنا ہمارے میں سے کمینے لوگ۔ إجرام، أجرمت کا مصدر ہے یا جرمت ثلاثى مجرد۔ فلك اور فلك جمع اور مفرد دونوں کے لیے آتا ہے۔ ایک کشتی اور کئی کشتیوں کو بھی کہتے ہیں۔ مجراها کشتی کا چلنا یہ أجريت کا مصدر ہے۔ اسی طرح مرساها، أرسيت کا مصدر ہے یعنی میں نے کشتی تھما لی (لنگر کردیا) بعضوں نے مرساها بفتح میم پڑھا ہے رست سے۔ اسی طرح مجراها بھی جرت سے ہے۔ بعضوں نے مجريها، مرسيها یعنی اللہ اس کو چلانے والا ہے اور وہی اس کا تھمانے والا ہے یہ معنوں میں مفعول کے ہیں۔ راسيات کے معنی جمی ہوئی کے ہیں۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : Allahs Apostle ﷺ said, "Allah said, Spend (O man), and I shall spend on you." He also said, "Allahs Hand is full, and (its fullness) is not affected by the continuous spending night and day." He also said, "Do you see what He has spent since He created the Heavens and the Earth? Nevertheless, what is in His Hand is not decreased, and His Throne was over the water; and in His Hand there is the balance (of justice) whereby He raises and lowers (people)."

4685Sahih Bukhari

باب: آیت کی تفسیر ”اور گواہ کہیں گے کہ یہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار پر جھوٹ باندھا تھا، خبردار رہو کہ اللہ کی لعنت ہے ظالموں پر“۔

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، وَهِشَامٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ، قَالَ: بَيْنَا ابْنُ عُمَرَ يَطُوفُ، إِذْ عَرَضَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَوْ قَالَ: يَا ابْنَ عُمَرَ، سَمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّجْوَى، فَقَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: يُدْنَى الْمُؤْمِنُ مِنْ رَبِّهِ، وَقَالَ هِشَامٌ: يَدْنُو الْمُؤْمِنُ حَتَّى يَضَعَ عَلَيْهِ كَنَفَهُ، فَيُقَرِّرُهُ بِذُنُوبِهِ، تَعْرِفُ ذَنْبَ كَذَا، يَقُولُ: أَعْرِفُ، يَقُولُ: رَبِّ أَعْرِفُ، مَرَّتَيْنِ، فَيَقُولُ: سَتَرْتُهَا فِي الدُّنْيَا، وَأَغْفِرُهَا لَكَ الْيَوْمَ، ثُمَّ تُطْوَى صَحِيفَةُ حَسَنَاتِهِ، وَأَمَّا الْآخَرُونَ أَوِ الْكُفَّارُ، فَيُنَادَى عَلَى رُءُوسِ الْأَشْهَادِ، هَؤُلَاءِ الَّذِينَ كَذَبُوا عَلَى رَبِّهِمْ، أَلا لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ سورة هود آية 18، وَقَالَ شَيْبَانُ: عَنْ قَتَادَةَ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ.

ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید بن ابی عروبہ اور ہشام بن ابی عبداللہ دستوائی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے قتادہ نے بیان کیا اور ان سے صفوان بن محرز نے کہ ابن عمر ؓ طواف کر رہے تھے کہ ایک شخص نام نامعلوم آپ کے سامنے آیا اور پوچھا: اے ابوعبدالرحمٰن! یا یہ کہا کہ اے ابن عمر! کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ سے سرگوشی کے متعلق کچھ سنا ہے (جو اللہ تعالیٰ مؤمنین سے قیامت کے دن کرے گا) ۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا، آپ ﷺ فرما رہے تھے کہ مومن اپنے رب کے قریب لایا جائے گا۔ اور ہشام نے يدنو المؤمن (بجائے يدنى المؤمن کہا) مطلب ایک ہی ہے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا ایک جانب اس پر رکھے گا اور اس کے گناہوں کا اقرار کرائے گا کہ فلاں گناہ تجھے یاد ہے؟ بندہ عرض کرے گا، یاد ہے، میرے رب! مجھے یاد ہے، دو مرتبہ اقرار کرے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں نے دنیا میں تمہارے گناہوں کو چھپائے رکھا اور آج بھی تمہاری مغفرت کروں گا۔ پھر اس کی نیکیوں کا دفتر لپیٹ دیا جائے گا۔ لیکن دوسرے لوگ یا (یہ کہا کہ) کفار تو ان کے متعلق محشر میں اعلان کیا جائے گا کہ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا تھا۔ اور شیبان نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے کہ ہم سے صفوان نے بیان کیا۔

Narrated Safwan bin Muhriz (RA) : While Ibn Umar (RA) was performing the Tawaf (around the Ka’bah), a man came up to him and said, "O Abu AbdurRahman!" or said, "O Ibn Umar (RA) ! Did you hear anything from the Prophet ﷺ about An-Najwa?" Ibn Umar (RA) said, "I heard the Prophet ﷺ saying, The Believer will be brought near his Lord." (Hisham, a sub-narrator said, reporting the Prophets words), "The believer will come near (his Lord) till his Lord covers him with His screen and makes him confess his sins. (Allah will ask him), Do you know (that you did) such-and-such sin?" He will say twice, Yes, I do. Then Allah will say, I concealed it in the world and I forgive it for you today. Then the record of his good deeds will be folded up. As for the others, or the disbelievers, it will be announced publicly before the witnesses: These are ones who lied against their Lord."

4686Sahih Bukhari

باب: آیت کی تفسیر ”اور تیرے پروردگار کی پکڑ اسی طرح ہے جب وہ بستی والوں کو پکڑتا ہے جو (اپنے اوپر) ظلم کرتے رہتے ہیں، بیشک اس کی پکڑ بڑی دکھ دینے والی اور بڑی ہی سخت ہے“۔

حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا بُرَيْدُ بْنُ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ لَيُمْلِي لِلظَّالِمِ حَتَّى إِذَا أَخَذَهُ لَمْ يُفْلِتْهُ، قَالَ: ثُمَّ قَرَأَ وَكَذَلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَى وَهِيَ ظَالِمَةٌ إِنَّ أَخْذَهُ أَلِيمٌ شَدِيدٌ سورة هود آية 102.

ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا، کہا ہم کو ابومعاویہ نے خبر دی، ان سے برید بن ابی بردہ نے بیان کیا، ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ظالم کو چند روز دنیا میں مہلت دیتا رہتا ہے لیکن جب پکڑتا ہے تو پھر نہیں چھوڑتا۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر آپ ﷺ نے اس آیت کی تلاوت کی وكذلك أخذ ربک إذا أخذ القرى وهى ظالمة إن أخذه أليم شديد اور تیرے پروردگار کی پکڑ اسی طرح ہے، جب وہ بستی والوں کو پکڑتا ہے۔ جو (اپنے اوپر) ظلم کرتے رہتے ہیں، بیشک اس کی پکڑ بڑی تکلیف دینے والی اور بڑی ہی سخت ہے۔

Narrated Abu Musa (RA) : Allahs Apostle ﷺ said, "Allah gives respite to the oppressor, but when He takes him over, He never releases him." Then he recited:-- "Such is the seizure of your Lord when He seizes (population of) towns in the midst of their wrong: Painful indeed, and severe is His seizure. (11.102)

4687Sahih Bukhari

12- سورة يُوسُفَ:

باب: سورة یوسف کی تفسیر

وَقَالَ فُضَيْلٌ: عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، مُتَّكَأً: الْأُتْرُجُّ، قَالَ فُضَيْلٌ: الْأُتْرُجُّ بِالْحَبَشِيَّةِ مُتْكًا، وَقَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ: عَنْ رَجُلٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، مُتْكًا، قَالَ: كُلُّ شَيْءٍ قُطِعَ بِالسِّكِّينِ، وَقَالَ قَتَادَةُ: لَذُو عِلْمٍ: لِمَا عَلَّمْنَاهُ عَامِلٌ بِمَا عَلِمَ، وَقَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ، صُوَاعَ الْمَلِكِ مَكُّوكُ الْفَارِسِيِّ: الَّذِي يَلْتَقِي طَرَفَاهُ كَانَتْ تَشْرَبُ بِهِ الْأَعَاجِمُ، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: تُفَنِّدُونِ: تُجَهِّلُونِ، وَقَالَ غَيْرُهُ: غَيَابَةٌ كُلُّ شَيْءٍ غَيَّبَ عَنْكَ شَيْئًا فَهُوَ غَيَابَةٌ، وَالْجُبُّ الرَّكِيَّةُ الَّتِي لَمْ تُطْوَ، بِمُؤْمِنٍ لَنَا: بِمُصَدِّقٍ، أَشُدَّهُ: قَبْلَ أَنْ يَأْخُذَ فِي النُّقْصَانِ، يُقَالُ: بَلَغَ أَشُدَّهُ، وَبَلَغُوا أَشُدَّهُمْ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: وَاحِدُهَا شَدٌّ، وَالْمُتَّكَأُ مَا اتَّكَأْتَ عَلَيْهِ لِشَرَابٍ، أَوْ لِحَدِيثٍ، أَوْ لِطَعَامٍ، وَأَبْطَلَ الَّذِي، قَالَ: الْأُتْرُجُّ وَلَيْسَ فِي كَلَامِ الْعَرَبِ الْأُتْرُجُّ، فَلَمَّا احْتُجَّ عَلَيْهِمْ بِأَنَّهُ الْمُتَّكَأُ مِنْ نَمَارِقَ فَرُّوا إِلَى شَرٍّ مِنْهُ، فَقَالُوا: إِنَّمَا هُوَ الْمُتْكُ سَاكِنَةَ التَّاءِ، وَإِنَّمَا الْمُتْكُ طَرَفُ الْبَظْرِ، وَمِنْ ذَلِكَ قِيلَ لَهَا: مَتْكَاءُ وَابْنُ الْمَتْكَاءِ، فَإِنْ كَانَ ثَمَّ أُتْرُجٌّ، فَإِنَّهُ بَعْدَ الْمُتَّكَإِ، شَغَفَهَا، يُقَالُ: بَلَغَ شِغَافَهَا، وَهُوَ غِلَافُ قَلْبِهَا، وَأَمَّا شَعَفَهَا فَمِنَ الْمَشْعُوفِ، أَصْبُ: أَمِيلُ صَبَا مَالَ، أَضْغَاثُ أَحْلَامٍ: مَا لَا تَأْوِيلَ لَهُ، وَالضِّغْثُ مِلْءُ الْيَدِ مِنْ حَشِيشٍ وَمَا أَشْبَهَهُ وَمِنْهُ، وَخُذْ بِيَدِكَ ضِغْثًا لَا مِنْ قَوْلِهِ أَضْغَاثُ أَحْلَامٍ وَاحِدُهَا ضِغْثٌ، نَمِيرُ: مِنَ الْمِيرَةِ، وَنَزْدَادُ كَيْلَ بَعِيرٍ: مَا يَحْمِلُ بَعِيرٌ، أَوَى إِلَيْهِ: ضَمَّ إِلَيْهِ السِّقَايَةُ مِكْيَالٌ، تَفْتَأُ: لَا تَزَالُ، حَرَضًا: مُحْرَضًا يُذِيبُكَ الْهَمُّ، تَحَسَّسُوا: تَخَبَّرُوا، مُزْجَاةٍ: قَلِيلَةٍ، غَاشِيَةٌ مِنْ عَذَابِ اللَّهِ: عَامَّةٌ مُجَلِّلَةٌ.

اور فضیل بن عیاض (زاہد مشہور) نے حصین بن عبدالرحمٰن سے روایت کیا، انہوں نے مجاہد سے انہوں نے کہا متكأ کا معنی لأترج اور خود فضیل نے بھی کہا کہ متكأ حبشی زبان میں لأترج کو کہتے ہیں۔ اور سفیان بن عیینہ نے ایک شخص (نام نامعلوم) سے روایت کی اس نے مجاہد سے انہوں نے کہا۔ متكأ وہ چیز جو چھری سے کاٹی جائے (میوہ ہو یا ترکاری) ۔ اور قتادہ نے کہا ذو علم کا معنی اپنے علم پر عمل کرنے والا۔ اور سعید بن جبیر نے کہا صواع ایک ماپ ہے جس کو مكوک الفارسي بھی کہتے ہیں یہ ایک گلاس کی طرح کا ہوتا ہے جس کے دونوں کنارے مل جاتے ہیں۔ عجم کے لوگ اس میں پانی پیا کرتے ہیں۔ اور ابن عباس نے کہا لو لا ان تفندون اگر تم مجھ کو جاہل نہ کہو۔ دوسرے لوگوں نے کہا غيابة وہ چیز جو دوسری چیز کو چھپاوے غائب کر دے اور جب کچا کنواں جس کی بندش نہ ہوئی ہو۔ وما انت بمؤمن لنا یعنی تو ہماری بات سچ ماننے والا نہیں۔ أشده وہ عمر جو زمانہ انحطاط سے پہلے ہو (تیس سے چالیس برس تک) عرب بولا کرتے ہیں۔ بلغ أشده وبلغوا أشدهم یعنی اپنی جوانی کی عمر کو پہنچا یا پہنچے۔ بعضوں نے کہا اشد، شد کی جمع ہے۔ متكأ مسند، تکیہ جس پر تو پینے کھانے یا باتیں کرنے کے لیے ٹیکا دے۔ اور جس نے یہ کہا کہ متكأ، لأترج کو کہتے ہیں اس نے غلط کہا۔ عربی زبان میں متكأ کے معنی لأترج کے بالکل نہیں آئے ہیں جب اس شخص سے جو متكأ کے معنی لأترج کہتا ہے اصل بیان کی گئی کہ متكأ مسند یا تکیہ کو کہتے ہیں تو وہ اس سے بھی بدتر ایک بات کہنے لگا کہ یہ لفظ المتک ساکنة التاء ہے۔ حالانکہ متك عربی زبان میں عورت کی شرمگاہ کو کہتے ہیں۔ جہاں عورت کو ختنہ کرتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ عورت کو عربی زبان میں متكأ ( متك والی) کہتے ہیں اور آدمی کو متكأ کا پیٹ کہتے ہیں۔ اگر بالفرض زلیخا نے لأترج بھی منگوا کر عورتوں کو دیا ہوگا تو مسند تکیہ کے بعد دیا ہوگا۔ شعفها یعنی اس کے دل کے شغاف (غلاف) میں اس کی محبت سما گئی ہے۔ بعضوں نے شعفها عین مہملہ سے پڑھا ہے وہ مشعوف سے نکلا ہے۔ أصب کا معنی مائل ہوجاؤں گا جھک پڑوں گا۔ أضغاث أحلام پریشان خواب جس کی کچھ تعبیر نہ دی جاسکے۔ اصل میں أضغاث، ضغث کی جمع ہے یعنی ایک مٹھی بھر گھاس تنکے وغیرہ اس سے ہے (سورۃ ص میں) خذ بيدک ضغثا یعنی اپنے ہاتھ میں سینکوں کا ایک مٹھا لے۔ اور أضغاث أحلام میں ضغث کے یہ معنی مراد نہیں ہیں۔ بلکہ پریشان خواب مراد ہے۔ نمير، ميرة سے نکلا ہے اس کے معنی کھانے کے ہیں۔ ونزداد كيل بعير یعنی ایک اونٹ کا بوجھ اور زیادہ لائیں گے۔ أوى إليه اپنے سے ملا لیا۔ اپنے پاس بیٹھا لیا۔ سقاية ایک ماپ تھا (جس سے غلہ ماپتے تھے) ۔ تفتأ ہمیشہ رہو گے۔ فلما استياسوا جب ناامید ہوگئے۔ ولا تياسوا من روح الله اللہ سے امید رکھو اس کی رحمت سے ناامید نہ ہو۔ خلصوا نجيا الگ جا کر مشورہ کرنے لگے۔ نجي کا معنی مشورہ کرنے والا۔ اس کی جمع انجية بھی آئی ہے اس سے بنا ہے يتنا جون یعنی مشورہ کر رہے ہیں۔ نجي مفرد کا صیغہ ہے اور تثنیہ اور جمع میں نجي اور انجية دونوں مستعمل ہیں۔ حرضا یعنی رنج و غم تجھ کو گلا ڈالے گا۔ تحسسوا یعنی خبر لو، لو لگاؤ، تلاش کرو۔ مزجاة تھوڑی پونجی۔ غاشية من عذاب الله اللہ کا عام عذاب جو سب کو گھیر لے۔

Narrated Ibn Masud: A man kissed a woman and then came to Allah's Messenger and told him of that, so this Divine Inspiration was revealed to the Prophet 'And offer Prayers perfectly at the two ends of the day, and in some hours of the night; (i.e. (five) compulsory prayers). Verily, the good deeds remove the evil deeds (small sins) That is a reminder for the mindful.' (11.114) The man said, Is this instruction for me only?' The Prophet said, It is for all those of my followers who encounter a similar situation.

4688Sahih Bukhari

باب: آیت کی تفسیر ”اور اپنا انعام تمہارے اوپر اور اولاد یعقوب پر پورا کرے گا جیسا کہ وہ اسے اس سے پہلے پورا کر چکا ہے، تمہارے باپ دادا ابراہیم اور اسحاق پر“۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْكَرِيمُ ابْنُ الْكَرِيمِ ابْنِ الْكَرِيمِ ابْنِ الْكَرِيمِ، يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ.

ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالصمد نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن دینار نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عبداللہ بن عمر ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ کریم بن کریم بن کریم بن کریم یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم تھے۔ (علیہم الصلٰوۃ والسلام) ۔

Narrated Abdullah bin Umar (RA) : The Prophet ﷺ said, "The honorable, the son of the honorable the son of the honorable, i.e. Joseph, the son of Jacob, the son of Isaac, the son of Abraham."

4689Sahih Bukhari

باب: آیت «لقد كان في يوسف وإخوته آيات للسائلين» کی تفسیر۔

حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَيُّ النَّاسِ أَكْرَمُ ؟ قَالَ: أَكْرَمُهُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاهُمْ، قَالُوا: لَيْسَ عَنْ هَذَا نَسْأَلُكَ، قَالَ: فَأَكْرَمُ النَّاسِ يُوسُفُ نَبِيُّ اللَّهِ، ابْنُ نَبِيِّ اللَّهِ، ابْنِ نَبِيِّ اللَّهِ، ابْنِ خَلِيلِ اللَّهِ، قَالُوا: لَيْسَ عَنْ هَذَا نَسْأَلُكَ، قَالَ: فَعَنْ مَعَادِنِ الْعَرَبِ تَسْأَلُونِي ؟قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: فَخِيَارُكُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، خِيَارُكُمْ فِي الْإِسْلَامِ إِذَا فَقِهُوا. تَابَعَهُ أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ.

مجھ سے محمد نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدہ نے خبر دی، انہیں عبیداللہ نے، انہیں سعید بن ابی سعید نے اور ان سے ابوہریرہ ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے کسی نے سوال کیا کہ انسانوں میں کون سب سے زیادہ شریف ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ سب سے زیادہ شریف وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہو۔ صحابہ نے عرض کیا کہ ہمارے سوال کا مقصد یہ نہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ پھر سب سے زیادہ شریف یوسف (علیہ السلام) ہیں نبي الله ابن نبي الله ابن نبي الله ابن خليل الله۔ صحابہ نے عرض کیا کہ ہمارے سوال کا یہ بھی مقصد نہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اچھا، عرب کے خاندانوں کے متعلق تم معلوم کرنا چاہتے ہو؟ صحابہ نے عرض کیا جی ہاں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جاہلیت میں جو لوگ شریف سمجھے جاتے تھے، اسلام لانے کے بعد بھی وہ شریف ہیں، جبکہ دین کی سمجھ بھی انہیں حاصل ہوجائے۔ اس روایت کی متابعت ابواسامہ نے عبیداللہ سے کی ہے۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : Allahs Apostle ﷺ was asked, "Who are the most honorable of the people?" The Prophet ﷺ said, "The most honorable of them in Allahs Sight are those who keep their duty to Allah and fear Him. They said, "We do not ask you about that." He said, "Then the most honorable of the people is Joseph, Allahs prophet, the son of Allahs prophet, the son of Allahs prophet, the son of Allahs Khalil i.e. Abraham) They said, "We do not ask you about that." The Prophet ﷺ said, Do you ask about (the virtues of the ancestry of the Arabs?" They said, "Yes," He said, "Those who were the best amongst you in the Pre-lslamic Period are the

4690Sahih Bukhari

باب: آیت کی تفسیر ”یعقوب نے کہا، تم نے اپنے دل سے خود ایک جھوٹی بات گھڑ لی ہے“۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ صَالِحٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: . ح، وحَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ النُّمَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ الْأَيْلِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ، سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، وَسَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ، وَعَلْقَمَةَ بْنَ وَقَّاصٍ، وَعُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ حَدِيثِ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حِينَ قَالَ لَهَا أَهْلُ الْإِفْكِ مَا قَالُوا، فَبَرَّأَهَا اللَّهُ، كُلٌّ حَدَّثَنِي طَائِفَةً مِنَ الْحَدِيثِ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنْ كُنْتِ بَرِيئَةً، فَسَيُبَرِّئُكِ اللَّهُ، وَإِنْ كُنْتِ أَلْمَمْتِ بِذَنْبٍ، فَاسْتَغْفِرِي اللَّهَ وَتُوبِي إِلَيْهِ، قُلْتُ: إِنِّي وَاللَّهِ لَا أَجِدُ مَثَلًا إِلَّا أَبَا يُوسُفَ، فَصَبْرٌ جَمِيلٌ وَاللَّهُ الْمُسْتَعَانُ عَلَى مَا تَصِفُونَ سورة يوسف آية 18، وَأَنْزَلَ اللَّهُ إِنَّ الَّذِينَ جَاءُوا بِالإِفْكِ عُصْبَةٌ مِنْكُمْ سورة النور آية 11، الْعَشْرَ الْآيَاتِ.

ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ اویس نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے صالح بن کیسان نے، ان سے ابن شہاب نے (دوسری سند) امام بخاری (رح) نے کہا کہ ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن عمر نمیری نے بیان کیا، ان سے یونس بن یزید ایلی نے بیان کیا کہا کہ میں زہری سے سنا، انہوں نے عروہ بن زبیر، سعید بن مسیب، علقمہ بن وقاص اور عبیداللہ بن عبداللہ سے نبی کریم ﷺ کی زوجہ مطہرہ عائشہ ؓ کے اس واقعہ کے متعلق سنا جس میں تہمت لگانے والوں نے ان پر تہمت لگائی تھی اور پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی پاکی نازل کی۔ ان تمام لوگوں نے مجھ سے اس قصہ کا کچھ کچھ ٹکڑا بیان کیا۔ نبی کریم ﷺ نے (عائشہ ؓ سے) فرمایا کہ اگر تم بَری ہو تو عنقریب اللہ تعالیٰ تمہاری پاکی نازل کر دے گا لیکن اگر تو آلودہ ہوگئی ہے تو اللہ سے مغفرت طلب کر اور اس کے حضور میں توبہ کر (عائشہ ؓ نے بیان کیا کہ) میں نے اس پر کہا: اللہ کی قسم! میری اور آپ کی مثال یوسف (علیہ السلام) کے والد جیسی ہے (اور انہیں کی کہی ہوئی بات میں بھی دہراتی ہوں کہ) فصبر جميل والله المستعان على ما تصفون سو صبر کرنا (ہی) اچھا ہے اور تم جو کچھ بیان کرتے ہو اس پر اللہ ہی مدد کرے گا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے عائشہ ؓ کی پاکی میں سورة النور کی إن الذين جاء وا بالإفك سے آخر تک دس آیات اتاریں۔

Narrated Az-Zuhri (RA) : Urwa bin Az-Zubair, Said bin Al-Musaiyab, Al-Qama bin Waqqas and Ubaidullah bin Abdullah related the narration of Aisha (RA), the wife the Prophet, when the slanderers had said about her what they had said and Allah later declared her innocence. Each of them related a part of the narration (wherein) the Prophet ﷺ said (to Aisha (RA)). "If you are innocent, then Allah will declare your innocence: but if you have committed a sin, then ask for Allahs Forgiveness and repent to him." Aisha (RA) said, "By Allah, I find no example for my case except that of Josephs father (when he said), So (for me) patience is most fitting. " Then Allah revealed the ten Verses:-- "Verily those who spread the slander are a gang amongst you.." (24.11)

4691Sahih Bukhari

باب: آیت کی تفسیر ”یعقوب نے کہا، تم نے اپنے دل سے خود ایک جھوٹی بات گھڑ لی ہے“۔

حَدَّثَنَا مُوسَى، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَسْرُوقُ بْنُ الْأَجْدَعِ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي أُمُّ رُومَانَ وَهْيَ أُمُّ عَائِشَةَ، قَالَتْ: بَيْنَا أَنَا وَعَائِشَةُ أَخَذَتْهَا الْحُمَّى، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَعَلَّ فِي حَدِيثٍ تُحُدِّثَ، قَالَتْ: نَعَمْ، وَقَعَدَتْ عَائِشَةُ، قَالَتْ: مَثَلِي وَمَثَلُكُمْ كَيَعْقُوبَ وَبَنِيهِ، بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنْفُسُكُمْ أَمْرًا فَصَبْرٌ جَمِيلٌ وَاللَّهُ الْمُسْتَعَانُ عَلَى مَا تَصِفُونَ سورة يوسف آية 18.

ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے حصین بن عبدالرحمٰن نے، ان سے ابو وائل شقیق بن سلمہ نے، کہا کہ مجھ سے مسروق بن اجدع نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ام رومان ؓ نے بیان کیا، وہ عائشہ ؓ کی والدہ ہیں، انہوں نے بیان کیا کہ میں اور عائشہ بیٹھے ہوئے تھے کہ عائشہ ؓ کو بخار چڑھ گیا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ غالباً یہ ان باتوں کی وجہ ہوا ہوگا جن کا چرچا ہو رہا ہے۔ ام رومان ؓ نے عرض کیا کہ جی ہاں۔ اس کے بعد عائشہ ؓ بیٹھ گئیں اور کہا کہ میری اور آپ لوگوں کی مثال یعقوب (علیہ السلام) اور ان کے بیٹوں جیسی ہے اور آپ لوگ جو کچھ بیان کرتے ہو اس پر اللہ ہی مدد کرے۔

Narrated Um Ruman (RA) : Who was Aishas mother: While I was with Aisha (RA), Aisha (RA) got fever, whereupon the Prophet ﷺ said, "Probably her fever is caused by the story related by the people (about her)." I said, "Yes." Then Aisha (RA) sat up and said, "My example and your example is similar to that of Jacob and his sons:--Nay, but your minds have made up a tale. So (for me) patience is most fitting. It is Allah (alone) Whose help can be sought against that which you assert. (12.18)

4692Sahih Bukhari

باب: آیت کی تفسیر ”اور جس عورت کے گھر میں وہ تھے وہ اپنا مطلب نکالنے کو انہیں پھسلانے لگی اور دروازے بند کر لیے اور بولی کہ بس آ جا“۔

حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: هَيْتَ لَكَ سورة يوسف آية 23، قَالَ: وَإِنَّمَا نَقْرَؤُهَا كَمَا عُلِّمْنَاهَا مَثْوَاهُ سورة يوسف آية 21، مُقَامُهُ وَأَلْفَيَا سورة يوسف آية 25: وَجَدَا، أَلْفَوْا آبَاءَهُمْ سورة الصافات آية 69: أَلْفَيْنَا، وَعَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، بَلْ عَجِبْتَ وَيَسْخَرُونَ سورة الصافات آية 12.

مجھ سے احمد بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے بشر بن عمر نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے سلیمان نے، ان سے ابو وائل نے کہ عبداللہ بن مسعود ؓ نے هيت لك پڑھا اور کہا کہ جس طرح ہمیں یہ لفظ سکھایا گیا ہے۔ اسی طرح ہم پڑھتے ہیں۔ مثواه یعنی اس کا ٹھکانا، درجہ۔ ألفيا یعنی پایا اسی سے ہے۔ ألفوا آباء هم اور ألفينا (دوسری آیتوں میں) اور ابن مسعود سے (سورۃ الصافات) میں بل عجبت ويسخرون منقول ہے۔

Narrated Abu Wail (RA) : Abdullah bin Masud (RA) recited "Haita laka (Come you)," and added, "We recite it as we were taught it."

4693Sahih Bukhari

باب: آیت کی تفسیر ”اور جس عورت کے گھر میں وہ تھے وہ اپنا مطلب نکالنے کو انہیں پھسلانے لگی اور دروازے بند کر لیے اور بولی کہ بس آ جا“۔

حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ قُرَيْشًا لَمَّا أَبْطَئُوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْإِسْلَامِ، قَالَ: اللَّهُمَّ اكْفِنِيهِمْ بِسَبْعٍ كَسَبْعِ يُوسُفَ، فَأَصَابَتْهُمْ سَنَةٌ حَصَّتْ كُلَّ شَيْءٍ، حَتَّى أَكَلُوا الْعِظَامَ، حَتَّى جَعَلَ الرَّجُلُ يَنْظُرُ إِلَى السَّمَاءِ فَيَرَى بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا مِثْلَ الدُّخَانِ، قَالَ اللَّهُ: فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ سورة الدخان آية 10، قَالَ اللَّهُ: إِنَّا كَاشِفُو الْعَذَابِ قَلِيلا إِنَّكُمْ عَائِدُونَ سورة الدخان آية 15، أَفَيُكْشَفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَقَدْ مَضَى الدُّخَانُ، وَمَضَتِ الْبَطْشَةُ ؟.

ہم سے عبداللہ بن زبیر حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے مسلم نے، ان سے مسروق نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود ؓ نے کہ قریش نے جب رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانے میں تاخیر کی تو آپ نے ان کے حق میں بددعا کی کہ اے اللہ! ان پر یوسف (علیہ السلام) کے زمانہ کا سا قحط نازل فرما۔ چناچہ ایسا قحط پڑا کہ کوئی چیز نہیں ملتی تھی اور وہ ہڈیوں کے کھانے پر مجبور ہوگئے تھے۔ لوگوں کی اس وقت یہ کیفیت تھی کہ آسمان کی طرف نظر اٹھا کے دیکھتے تھے تو بھوک و پیاس کی شدت سے دھواں سا نظر آتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا فارتقب يوم تأتي السماء بدخان مبين تو آپ انتظار کیجئے اس روز کا جب آسمان کی طرف ایک نظر آنے والا دھواں پیدا ہو۔ اور فرمایا إنا کاشفو العذاب قليلا إنكم عائدون بیشک ہم اس عذاب کو ہٹا لیں گے اور تم بھی (اپنی پہلی حالت پر) لوٹ آؤ گے۔ ابن مسعود ؓ نے کہا کہ عذاب سے یہی قحط کا عذاب مراد ہے کیونکہ آخرت کا عذاب کافروں سے ٹلنے والا نہیں ہے۔

Narrated Abdullah (bin Masud): When the Prophet ﷺ realized that the Quraish had delayed in embracing Islam, he said, "O Allah! Protect me against their evil by afflicting them with seven (years of famine) like the seven years of (Prophet) Joseph." So they were struck with a year of famine that destroyed everything till they had to eat bones, and till a man would look towards the sky and see something like smoke between him and it. Allah said:-- "Then watch you ( O Muhammad ﷺ ) for the day when the sky will produce a kind of smoke plainly visible." (44.10) And Allah further said:-- "Verily! We shall withdraw the punishment a little, Verily you will return (to disbelief)." (44.15) (Will Allah relieve them from torture on the Day of Resurrection?) (The punishment of) the smoke had passed and Al-Baltsha (the destruction of the pagans in the Badr battle) had passed too.

4696Sahih Bukhari

اللہ تعالیٰ کا قول کہ یہاں تک کہ جب رسول اللہ نا امید ہوگئے۔

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، فَقُلْتُ: لَعَلَّهَا، كُذِبُوا، مُخَفَّفَةً، قَالَتْ: مَعَاذَ اللَّهِ، نَحْوَهُ.

ہم سے ابوالیمان حکم بن نافع نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب بن ابی حمزہ نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، کہا مجھ کو عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ میں نے عائشہ ؓ سے کہا ہوسکتا ہے یہ کذبوا تخفیف ذال کے ساتھ ہو تو انہوں نے فرمایا، معاذاللہ! پھر وہی حدیث بیان کی جو اوپر گزری۔

Narrated Urwa (RA) : "I told her ( Aisha (RA)): (Regarding the above narration), they (Apostles) were betrayed (by Allah)." She said: Allah forbid or said similarly.

4695Sahih Bukhari

باب: آیت کی تفسیر ”یہاں تک کہ جب پیغمبر مایوس ہو گئے کہ افسوس ہم لوگوں کی نگاہوں میں جھوٹے ہوئے“ آخر تک۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ صَالِحٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ لَهُ وَهُوَ يَسْأَلُهَا عَنْ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: حَتَّى إِذَا اسْتَيْأَسَ الرُّسُلُ سورة يوسف آية 110، قَالَ: قُلْتُ: أَكُذِبُوا أَمْ كُذِّبُوا ؟ قَالَتْ عَائِشَةُ: كُذِّبُوا، قُلْتُ: فَقَدِ اسْتَيْقَنُوا أَنَّ قَوْمَهُمْ كَذَّبُوهُمْ، فَمَا هُوَ بِالظَّنِّ ؟ قَالَتْ: أَجَلْ، لَعَمْرِي لَقَدِ اسْتَيْقَنُوا بِذَلِكَ، فَقُلْتُ لَهَا: وَظَنُّوا أَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوا، قَالَتْ: مَعَاذَ اللَّهِ، لَمْ تَكُنْ الرُّسُلُ تَظُنُّ ذَلِكَ بِرَبِّهَا، قُلْتُ: فَمَا هَذِهِ الْآيَةُ ؟ قَالَتْ: هُمْ أَتْبَاعُ الرُّسُلِ الَّذِينَ آمَنُوا بِرَبِّهِمْ وَصَدَّقُوهُمْ، فَطَالَ عَلَيْهِمُ الْبَلَاءُ، وَاسْتَأْخَرَ عَنْهُمُ النَّصْرُ، حَتَّى إِذَا اسْتَيْأَسَ الرُّسُلُ مِمَّنْ كَذَّبَهُمْ مِنْ قَوْمِهِمْ، وَظَنَّتِ الرُّسُلُ أَنَّ أَتْبَاعَهُمْ قَدْ كَذَّبُوهُمْ، جَاءَهُمْ نَصْرُ اللَّهِ عِنْدَ ذَلِكَ .

ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ اویس نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے صالح بن کیسان نے، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، انہیں عروہ بن زبیر نے خبر دی اور ان سے عائشہ ؓ نے بیان کیا عروہ نے ان سے آیت حتى إذا استيأس الرسل کے متعلق پوچھا تھا۔ عروہ نے بیان کیا کہ میں نے پوچھا تھا (آیت میں) کذبوا (تخفیف کے ساتھ) یا کذبوا (تشدید کے ساتھ) اس پر عائشہ ؓ نے کہا کہ کذبوا (تشدید کے ساتھ) اس پر میں نے ان سے کہا کہ انبیاء تو یقین کے ساتھ جانتے تھے کہ ان کی قوم انہیں جھٹلا رہی ہے۔ پھر ظنوا سے کیا مراد ہے، انہوں نے کہا اپنی زندگی کی قسم بیشک پیغمبروں کو اس کا یقین تھا۔ میں نے کہا کذبوا تخفیف ذال کے ساتھ پڑھیں تو کیا قباحت ہے۔ انہوں نے کہا معاذاللہ! کہیں پیغمبر اپنے پروردگار کی نسبت ایسا گمان کرسکتے ہیں۔ میں نے کہا اچھا اس آیت کا مطلب کیا ہے؟ انہوں نے کہا مطلب یہ ہے کہ پیغمبروں کو جن لوگوں نے مانا ان کی تصدیق کی جب ان پر ایک مدت دراز تک آفت اور مصیبت آتی رہی اور اللہ کی مدد آنے میں دیر ہوئی اور پیغمبر ان کے ایمان لانے سے ناامید ہوگئے جنہوں نے ان کو جھٹلایا تھا اور یہ گمان کرنے لگے کہ جو لوگ ایمان لائے ہیں اب وہ بھی ہم کو جھوٹا سمجھنے لگیں گے، اس وقت اللہ کی مدد آن پہنچی۔

Narrated Urwa bin Az-Zubair (RA) : That when he asked Aisha (RA) about the statement of Allah "Until when the Apostles gave up hope (of their people)." (12.110) she told him (its meaning), Urwa added, "I said, Did they (Apostles) suspect that they were betrayed (by Allah) or that they were treated as liars by (their people)? Aisha (RA) said, (They suspected) that they were treated as liars by (their people), I said, But they were sure that their people treated them as liars and it was not a matter of suspicion. She said, Yes, upon my life they were sure about it. I said to her. So they (Apostles) suspected that they were betrayed (by Allah). She said, "Allah forbid! The Apostles never suspected their Lord of such a thing. I said, What about this Verse then? She said, It is about the Apostles followers who believed in their Lord and trusted their Apostles, but the period of trials was prolonged and victory was delayed till the Apostles gave up all hope of converting those of the people who disbelieved them and the Apostles thought that their followers treated them as liars; thereupon Allahs help came to them.

4697Sahih Bukhari

باب

قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: هَادٍ: دَاعٍ، وَقَالَ مُجَاهِدٌ: صَدِيدٌ قَيْحٌ وَدَمٌ، وَقَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ: اذْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ: أَيَادِيَ اللَّهِ عِنْدَكُمْ وَأَيَّامَهُ، وَقَالَ مُجَاهِدٌ: مِنْ كُلِّ مَا سَأَلْتُمُوهُ: رَغِبْتُمْ إِلَيْهِ فِيهِ، يَبْغُونَهَا عِوَجًا: يَلْتَمِسُونَ لَهَا عِوَجًا، وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكُمْ، أَعْلَمَكُمْ آذَنَكُمْ: رَدُّوا أَيْدِيَهُمْ فِي أَفْوَاهِهِمْ، هَذَا مَثَلٌ كَفُّوا عَمَّا أُمِرُوا بِهِ، مَقَامِي: حَيْثُ يُقِيمُهُ اللَّهُ بَيْنَ يَدَيْهِ، مِنْ وَرَائِهِ: قُدَّامَهُ جَهَنَّمُ، لَكُمْ تَبَعًا: وَاحِدُهَا تَابِعٌ مِثْلُ غَيَبٍ وَغَائِبٍ، بِمُصْرِخِكُمْ: اسْتَصْرَخَنِي اسْتَغَاثَنِي يَسْتَصْرِخُهُ مِنَ الصُّرَاخِ، وَلَا خِلَالَ: مَصْدَرُ خَالَلْتُهُ خِلَالًا وَيَجُوزُ أَيْضًا جَمْعُ خُلَّةٍ وَخِلَالٍ، اجْتُثَّتْ: اسْتُؤْصِلَتْ.

ابن عباس ؓ نے کہا هاد کا معنی بلانے والا، ہدایت کرنے والا (نبی و رسول مراد ہیں) ۔ اور مجاہد نے کہا صديد کا معنی پیپ اور لہو۔ اور سفیان بن عیینہ نے کہ اذکروا نعمة الله عليكم کا معنی یہ ہے کہ اللہ کی جو نعمتیں تمہارے پاس ہیں ان کو یاد کرو اور جو جو اگلے واقعات اس کی قدرت کے ہوئے ہیں اور مجاہد نے کہا من کل ما سألتموه کا معنی یہ ہے کہ جن جن چیزوں کی تم نے رغبت کی يبغونها عوجا اس میں کجی پیدا کرنے کی تلاش کرتے رہتے ہیں۔ وإذ تأذن ربکم جب تمہارے مالک نے تم کو خبردار کردیا جتلا دیا۔ ردوا أيديهم في أفواههم یہ عرب کی زبان میں ایک مثل ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کا جو حکم ہوا تھا اس سے باز رہے، بجا نہ لائے۔ مقامي وہ جگہ جہاں اللہ پاک اس کو اپنے سامنے کھڑا کرے گا۔ من ورائه سامنے سے۔ لكم تبعا، تبع، تابع کی جمع ہے جیسے غيب، غائب کی۔ بمصرخکم عرب لوگ کہتے ہیں استصرخني یعنی اس نے میری فریاد سن لی۔ يستصرخه اس کی فریاد سنتا ہے دونوں صراخ سے نکلے ہیں ( صراخ کا معنی فریاد) ۔ ولا خلال،خاللته کا مصدر ہے اور خلة کی جمع بھی ہوسکتا ہے (یعنی اس دن دوستی نہ ہوگی یا دوستیاں نہ ہوں گی) اجتثت جڑ سے اکھاڑ لیا گیا۔

Narrated Ibn `Umar: Allah's Messenger said, The keys of Unseen are five which none knows but Allah: None knows what will happen tomorrow but Allah; none knows what is in the wombs (a male child or a female) but Allah; none knows when it will rain but Allah; none knows at what place one will die; none knows when the Hour will be established but Allah. (See The Qur'an 31:34. )

4698Sahih Bukhari

باب: آیت «كشجرة طيبة أصلها ثابت وفرعها في السماء تؤتي أكلها كل حين» کی تفسیر۔

حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: أَخْبِرُونِي بِشَجَرَةٍ تُشْبِهُ، أَوْ كَالرَّجُلِ الْمُسْلِمِ، لَا يَتَحَاتُّ وَرَقُهَا، وَلَا، وَلَا، وَلَا تُؤْتِي أُكْلَهَا كُلَّ حِينٍ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: فَوَقَعَ فِي نَفْسِي أَنَّهَا النَّخْلَةُ، وَرَأَيْتُ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ لَا يَتَكَلَّمَانِ، فَكَرِهْتُ أَنْ أَتَكَلَّمَ، فَلَمَّا لَمْ يَقُولُوا شَيْئًا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هِيَ النَّخْلَةُ، فَلَمَّا قُمْنَا قُلْتُ لِعُمَرَ: يَا أَبَتَاهُ، وَاللَّهِ لَقَدْ كَانَ وَقَعَ فِي نَفْسِي أَنَّهَا النَّخْلَةُ، فَقَالَ: مَا مَنَعَكَ أَنْ تَكَلَّمَ، قَالَ: لَمْ أَرَكُمْ تَكَلَّمُونَ فَكَرِهْتُ أَنْ أَتَكَلَّمَ، أَوْ أَقُولَ شَيْئًا، قَالَ عُمَرُ: لَأَنْ تَكُونَ قُلْتَهَا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ كَذَا، وَكَذَا.

مجھ سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے، ان سے عبیداللہ نے، ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر ؓ نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر تھے، آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: اچھا مجھ کو بتلاؤ تو وہ کون سا درخت ہے جو مسلمان کی مانند ہے جس کے پتے نہیں گرتے، ہر وقت میوہ دے جاتا ہے؟ ابن عمر ؓ کہتے ہیں میرے دل میں آیا وہ کھجور کا درخت ہے مگر میں نے دیکھا کہ ابوبکر اور عمر ؓ بیٹھے ہوئے ہیں انہوں نے جواب نہیں دیا تو مجھ کو ان بزرگوں کے سامنے کلام کرنا اچھا معلوم نہیں ہوا۔ جب ان لوگوں نے کچھ جواب نہیں دیا تو نبی کریم ﷺ نے خود ہی فرمایا وہ کھجور کا درخت ہے۔ جب ہم اس مجلس سے کھڑے ہوئے تو میں نے اپنے والد عمر ؓ سے عرض کیا: بابا جان! اللہ کی قسم! میرے دل میں آیا تھا کہ میں کہہ دوں وہ کھجور کا درخت ہے۔ انہوں نے کہا پھر تو نے کہہ کیوں نہ دیا۔ میں نے کہا آپ لوگوں نے کوئی بات نہیں کی میں نے آگے بڑھ کر بات کرنا مناسب نہ جانا۔ انہوں نے کہا واہ اگر تو اس وقت کہہ دیتا تو مجھ کو اتنے اتنے (لال لال اونٹ کا) مال ملنے سے بھی زیادہ خوشی ہوتی۔

Narrated Ibn Umar (RA) : While we were with Allahs Apostle ﷺ he said, "Tell me of a tree which resembles a Muslim man. Its leaves do not fall and it does not, and does not, and does not, and it gives its fruits every now and then." It came to my mind that such a tree must be the date palm, but seeing Abu Bakr (RA) and Umar saying nothing, I disliked to speak. So when they did not say anything, Allahs Apostle ﷺ said, "It is the date-palm tree." When we got up (from that place), I said to Umar, "O my father! By Allah, it came to my mind that it must be the date palm tree." Umar said, "What prevented you from speaking" I replied, "I did not see you speaking, so I misliked to speak or say anything." Umar then said, "If you had said it, it would have been dearer to me than so-and-so."

4699Sahih Bukhari

باب: آیت کی تفسیر یعنی ”اللہ ایمان والوں کو اس کی پکی بات کی برکت سے مضبوط رکھتا ہے، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی“۔

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَلْقَمَةُ بْنُ مَرْثَدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ عُبَيْدَةَ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْمُسْلِمُ إِذَا سُئِلَ فِي الْقَبْرِ، يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، فَذَلِكَ قَوْلُهُ: يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الآخِرَةِ سورة إبراهيم آية 27.

ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے علقمہ بن مرثد نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ میں نے سعد بن عبیدہ سے سنا اور انہوں نے براء بن عازب ؓ سے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مسلمان سے جب قبر میں سوال ہوگا تو وہ گواہی دے گا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد اللہ کے رسول ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد يثبت الله الذين آمنوا بالقول الثابت في الحياة الدنيا وفي الآخرة اللہ ایمان والوں کی اس پکی بات (کی برکت) سے مضبوط رکھتا ہے، دنیوی زندگی میں (بھی) اور آخرت میں (بھی) کا یہی مطلب ہے۔

Narrated Al-Bara bin Azib (RA) : Allahs Apostle ﷺ said, "When a Muslim is questioned in his grave, he will testify that none has the right to be worshipped but Allah and that Muhammad ﷺ is Allahs Apostle, and that is what is meant by Allahs Statement:-- "Allah will keep firm those who believe with a Word that stands firm in this world and in the Hereafter." (14.27)

4700Sahih Bukhari

باب

وَقَالَ مُجَاهِدٌ: صِرَاطٌ عَلَيَّ مُسْتَقِيمٌ: الْحَقُّ يَرْجِعُ إِلَى اللَّهِ، وَعَلَيْهِ طَرِيقُهُ لَبِإِمَامٍ مُبِينٍ عَلَى الطَّرِيقِ، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَعَمْرُكَ: لَعَيْشُكَ، قَوْمٌ مُنْكَرُونَ: أَنْكَرَهُمْ لُوطٌ، وَقَالَ غَيْرُهُ: كِتَابٌ مَعْلُومٌ: أَجَلٌ، لَوْ مَا تَأْتِينَا: هَلَّا تَأْتِينَا شِيَعٌ أُمَمٌ وَلِلْأَوْلِيَاءِ أَيْضًا شِيَعٌ، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: يُهْرَعُونَ: مُسْرِعِينَ، لِلْمُتَوَسِّمِينَ: لِلنَّاظِرِينَ، سُكِّرَتْ: غُشِّيَتْ، بُرُوجًا: مَنَازِلَ لِلشَّمْسِ وَالْقَمَرِ، لَوَاقِحَ: مَلَاقِحَ مُلْقَحَةً، حَمَإٍ، جَمَاعَةُ حَمْأَةٍ وَهُوَ الطِّينُ الْمُتَغَيِّرُ وَالْمَسْنُونُ الْمَصْبُوبُ تَوْجَلْ تَخَفْ، دَابِرَ: آخِرَ، لَبِإِمَامٍ مُبِينٍ: الْإِمَامُ كُلُّ مَا ائْتَمَمْتَ وَاهْتَدَيْتَ بِهِ، الصَّيْحَةُ: الْهَلَكَةُ

مجاہد نے کہا صراط على مستقيم کا معنی سچا راستہ جو اللہ تک پہنچتا ہے۔ اللہ کی طرف جاتا ہے لبإمام مبين یعنی کھلے راستے پر۔ اور ابن عباس ؓ نے کہا لعمرک کا معنی یعنی تیری زندگی کی قسم۔ قوم منکرون لوط نے ان کو اجنبی پردیسی سمجھا۔ دوسرے لوگوں نے کہا کتاب معلوم کا معنی معین میعاد۔ لوما تاتينا کیوں ہمارے پاس نہیں لاتا۔ شيع امتیں اور کبھی دوستوں کو بھی شيع کہتے ہیں اور ابن عباس ؓ نے کہا يهرعون کا معنی دوڑتے، جلدی کرتے۔ للمتوسمين دیکھنے والوں کے لیے۔ سكرت ڈھانکی گئیں۔ بروجا، برج یعنی سورج چاند کی منزلیں۔ لواقح، ملاقح کے معنی میں ہے جو ملفحة کی جمع یعنی حاملہ کرنے والی۔ حما، حماة کی جمع ہے بدبودار کیچڑ۔ مسنون قالب میں ڈھالی گئی۔ لا توجل مت ڈر۔ دابر اخر (دم) ۔ لبامام مبين امام، وہ شخص جس کی تو پیروی کرے اس سے راہ پائے۔ الصيحة ہلاکت کے معنی میں ہے۔

Narrated Ata: When Ibn `Abbas heard:-- Have you not seen those who have changed the favor of Allah into disbelief? (14.28) he said, Those were the disbelieving pagans of Mecca.

4701Sahih Bukhari

باب: آیت کی تفسیر ”ہاں مگر کوئی بات چوری چھپے سن بھاگے تو اس کے پیچھے ایک جلتا ہوا انگارہ لگ جاتا ہے“۔

حدیث نمبر: 4701 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا عَمْرٌو، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: إِذَا قَضَى اللَّهُ الْأَمْرَ وَزَادَ وَالْكَاهِنِ، وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، فَقَالَ عَمْرٌو: سَمِعْتُ عِكْرِمَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ: إِذَا قَضَى اللَّهُ الْأَمْرَ، وَقَالَ: عَلَى فَمْ السَّاحِرِ، قُلْتُ لِسُفْيَانَ: آنْتَ سَمِعْتَ عَمْرًا ؟ قَالَ: سَمِعْتُ عِكْرِمَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ لِسُفْيَانَ: إِنَّ إِنْسَانًا رَوَى عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَيَرْفَعُهُ، أَنَّهُ قَرَأَ فُرِّغَ، قَالَ سُفْيَانُ: هَكَذَا قَرَأَ عَمْرٌو، فَلَا أَدْرِي سَمِعَهُ هَكَذَا أَمْ لَا، قَالَ سُفْيَانُ: وَهِيَ قِرَاءَتُنَا.

ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے، کہا ہم سے عمرو بن دینار نے، انہوں نے عکرمہ سے بیان کیا، انہوں نے ابوہریرہ ؓ سے یہی حدیث بیان کی اس میں یوں ہے جب اللہ پاک کوئی حکم دیتا ہے اور ساحر کے بعد اس روایت میں كاهن. کا لفظ زیادہ کیا۔ علی نے کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا کہ عمرو نے کہا میں نے عکرمہ سے سنا، انہوں نے کہا ہم سے ابوہریرہ ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جب اللہ پاک کوئی حکم دیتا ہے اور اس روایت میں على فم الساحر. کا لفظ ہے۔ علی بن عبداللہ نے کہا میں نے سفیان بن عیینہ سے پوچھا کہ تم نے عمرو بن دینار سے خود سنا، وہ کہتے تھے میں نے عکرمہ سے سنا، وہ کہتے تھے میں نے ابوہریرہ ؓ سے سنا، انہوں نے کہا ہاں۔ علی بن عبداللہ نے کہا میں نے سفیان بن عیینہ سے کہا۔ ایک آدمی (نام نامعلوم) نے تو تم سے یوں روایت کی تم نے عمرو سے، انہوں نے عکرمہ سے، انہوں نے ابوہریرہ ؓ سے، انہوں نے اس حدیث کو مرفوع کیا اور کہا کہ نبی کریم ﷺ نے فزع پڑھا۔ سفیان نے کہا میں نے عمرو کو اس طرح پڑھتے سنا اب میں نہیں جانتا انہوں نے عکرمہ سے سنا یا نہیں سنا۔ سفیان نے کہا ہماری بھی قرآت یہی ہے۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : (The same Hadith above, starting: When Allah has ordained some affair...) In this narration the word foreteller is added to the word wizard.