باب: عشاء کی پہلی دو رکعات لمبی اور آخری دو رکعات مختصر کرنی چاہئیں۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ، قَالَ: قَالَ عُمَر لِسَعْدٍ : لَقَدْ شَكَوْكَ فِي كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى الصَّلَاةِ، قَالَ: أَمَّا أَنَا فَأَمُدُّ فِي الْأُولَيَيْنِ وَأَحْذِفُ فِي الْأُخْرَيَيْنِ، وَلَا آلُو مَا اقْتَدَيْتُ بِهِ مِنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: صَدَقْتَ ذَاكَ الظَّنُّ بِكَ أَوْ ظَنِّي بِكَ.
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے ابوعون محمد بن عبداللہ ثقفی سے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے جابر بن سمرہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ امیرالمؤمنین عمر ؓ نے سعد بن ابی وقاص ؓ سے کہا کہ آپ کی شکایت کوفہ والوں نے تمام ہی باتوں میں کی ہے، یہاں تک کہ نماز میں بھی۔ انہوں نے کہا کہ میرا عمل تو یہ ہے کہ پہلی دو رکعات میں قرآت لمبی کرتا ہوں اور دوسری دو میں مختصر جس طرح میں نے نبی کریم ﷺ کے پیچھے نماز پڑھی تھی اس میں کسی قسم کی کمی نہیں کرتا۔ عمر ؓ نے فرمایا کہ سچ کہتے ہو۔ تم سے امید بھی اسی کی ہے۔
Narrated Jabir bin Samura (RA): Umar said to Sad, "The people complained against you in everything, even in prayer." Sad replied, "Really I used to prolong the first two Rakat and shorten the last two and I will never shorten the prayer in which I follow Allahs Apostle." Umar said, "You are telling the truth and that is what I think a tout you."
باب: نماز فجر میں قرآن شریف پڑھنا۔
حَدَّثَنَا آدَمُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَيَّارُ بْنُ سَلَامَةَ ، قَال: دَخَلْتُ أَنَا وَأَبِي عَلَى أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ ، فَسَأَلْنَاهُ عَنْ وَقْتِ الصَّلَوَاتِ، فَقَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الظُّهْرَ حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ وَالْعَصْرَ، وَيَرْجِعُ الرَّجُلُ إِلَى أَقْصَى الْمَدِينَةِ وَالشَّمْسُ حَيَّةٌ وَنَسِيتُ مَا قَالَ فِي الْمَغْرِبِ، وَلَا يُبَالِي بِتَأْخِيرِ الْعِشَاءِ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ، وَلَا يُحِبُّ النَّوْمَ قَبْلَهَا وَلَا الْحَدِيثَ بَعْدَهَا، وَيُصَلِّي الصُّبْحَ فَيَنْصَرِفُ الرَّجُلُ فَيَعْرِفُ جَلِيسَهُ، وَكَانَ يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ أَوْ إِحْدَاهُمَا مَا بَيْنَ السِّتِّينَ إِلَى الْمِائَةِ.
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سیار ابن سلامہ نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا کہ میں اپنے باپ کے ساتھ ابوبرزہ اسلمی صحابی ؓ کے پاس گیا۔ ہم نے آپ سے نماز کے وقتوں کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ ظہر کی نماز سورج ڈھلنے پر پڑھتے تھے۔ عصر جب پڑھتے تو مدینہ کے انتہائی کنارہ تک ایک شخص چلا جاتا۔ لیکن سورج اب بھی باقی رہتا۔ مغرب کے متعلق جو کچھ آپ نے کہا وہ مجھے یاد نہیں رہا اور عشاء کے لیے تہائی رات تک دیر کرنے میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتے تھے اور آپ اس سے پہلے سونے کو اور اس کے بعد بات چیت کرنے کو ناپسند کرتے تھے۔ جب نماز صبح سے فارغ ہوتے تو ہر شخص اپنے قریب بیٹھے ہوئے کو پہچان سکتا تھا۔ آپ دونوں رکعات میں یا ایک میں ساٹھ سے لے کر سو تک آیتیں پڑھتے۔
Narrated Saiyar bin Salama (RA): My father and I went to Abu Barza-al-Aslami to ask him about the stated times for the prayers. He replied, "The Prophet ﷺ used to offer the Zuhr prayer when the sun just declined from its highest position at noon; the Asr at a time when if a man went to the farthest place in Madinah (after praying) he would find the sun still hot (bright). (The sub narrator said: I have forgotten what Abu Barza said about the Maghrib prayer). The Prophet ﷺ never found any harm in delaying the Isha prayer to the first third of the night and he never liked to sleep before it and to talk after it. He used to offer the morning prayer at a time when after finishing it one could recognize the person sitting beside him and used to recite between 6O to 10O verses in one or both the Rakat."
باب: نماز فجر میں قرآن شریف پڑھنا۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: فِي كُلِّ صَلَاةٍ يُقْرَأُ فَمَا أَسْمَعَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْمَعْنَاكُمْ وَمَا أَخْفَى عَنَّا أَخْفَيْنَا عَنْكُمْ، وَإِنْ لَمْ تَزِدْ عَلَى أُمِّ الْقُرْآنِ أَجْزَأَتْ، وَإِنْ زِدْتَ فَهُوَ خَيْرٌ.
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اسماعیل بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں عبدالملک ابن جریج نے خبر دی، کہا کہ مجھے عطاء بن ابی رباح نے خبر دی کہ انہوں نے ابوہریرہ ؓ سے سنا، وہ فرماتے تھے کہ ہر نماز میں قرآن مجید کی تلاوت کی جائے گی۔ جن میں نبی کریم ﷺ نے ہمیں قرآن سنایا تھا ہم بھی تمہیں ان میں سنائیں گے اور جن نمازوں میں آپ ﷺ نے آہستہ قرآت کی ہم بھی ان میں آہستہ ہی قرآت کریں گے اور اگر سورة فاتحہ ہی پڑھو جب بھی کافی ہے، لیکن اگر زیادہ پڑھ لو تو اور بہتر ہے۔
Narrated Abu Hurairah (RA): The Quran is recited in every prayer and in those prayers in which Allahs Apostle ﷺ recited aloud for us, we recite aloud in the same prayers for you; and the prayers in which the Prophet ﷺ recited quietly, we recite quietly. If you recite "Al-Fatiha" only it is sufficient but if you recite something else in addition, it is better.
باب: فجر کی نماز میں بلند آواز سے قرآن مجید پڑھنا۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: انْطَلَقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَائِفَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ عَامِدِينَ إِلَى سُوقِ عُكَاظٍ، وَقَدْ حِيلَ بَيْنَ الشَّيَاطِينِ وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ، وَأُرْسِلَتْ عَلَيْهِمُ الشُّهُبُ فَرَجَعَتِ الشَّيَاطِينُ إِلَى قَوْمِهِمْ، فَقَالُوا: مَا لَكُمْ، فَقَالُوا: حِيلَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ، وَأُرْسِلَتْ عَلَيْنَا الشُّهُبُ، قَالُوا: مَا حَالَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ إِلَّا شَيْءٌ حَدَثَ فَاضْرِبُوا مَشَارِقَ الْأَرْضِ وَمَغَارِبَهَا، فَانْظُرُوا مَا هَذَا الَّذِي حَالَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ، فَانْصَرَفَ أُولَئِكَ الَّذِينَ تَوَجَّهُوا نَحْوَ تِهَامَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِنَخْلَةَ عَامِدِينَ إِلَى سُوقِ عُكَاظٍ وَهُوَ يُصَلِّي بِأَصْحَابِهِ صَلَاةَ الْفَجْرِ، فَلَمَّا سَمِعُوا الْقُرْآنَ اسْتَمَعُوا لَهُ، فَقَالُوا: هَذَا وَاللَّهِ الَّذِي حَالَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ، فَهُنَالِكَ حِينَ رَجَعُوا إِلَى قَوْمِهِمْ وَقَالُوا: يَا قَوْمَنَا إِنَّا سَمِعْنَا قُرْآنًا عَجَبًا يَهْدِي إِلَى الرُّشْدِ فَآمَنَّا بِهِ وَلَنْ نُشْرِكَ بِرَبِّنَا أَحَدًا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْ أُوحِيَ إِلَيَّ سورة الجن آية 1 وَإِنَّمَا أُوحِيَ إِلَيْهِ قَوْلُ الْجِنِّ.
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابوعوانہ وضاح یشکری نے ابوبشر سے بیان کیا، انہوں نے سعید بن جبیر سے، انہوں نے عبداللہ بن عباس ؓ سے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ ایک مرتبہ چند صحابہ ؓ کے ساتھ عکاظ کے بازار کی طرف گئے۔ ان دنوں شیاطین کو آسمان کی خبریں لینے سے روک دیا گیا تھا اور ان پر انگارے (شہاب ثاقب) پھینکے جانے لگے تھے۔ تو وہ شیاطین اپنی قوم کے پاس آئے اور پوچھا کہ بات کیا ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں آسمان کی خبریں لینے سے روک دیا گیا ہے اور (جب ہم آسمان کی طرف جاتے ہیں تو) ہم پر شہاب ثاقب پھینکے جاتے ہیں۔ شیاطین نے کہا کہ آسمان کی خبریں لینے سے روکنے کی کوئی نئی وجہ ہوئی ہے۔ اس لیے تم مشرق و مغرب میں ہر طرف پھیل جاؤ اور اس سبب کو معلوم کرو جو تمہیں آسمان کی خبریں لینے سے روکنے کا سبب ہوا ہے۔ وجہ معلوم کرنے کے لیے نکلے ہوئے شیاطین تہامہ کی طرف گئے جہاں نبی کریم ﷺ عکاظ کے بازار کو جاتے ہوئے مقام نخلہ میں اپنے اصحاب کے ساتھ نماز فجر پڑھ رہے تھے۔ جب قرآن مجید انہوں نے سنا تو غور سے اس کی طرف کان لگا دئیے۔ پھر کہا، اللہ کی قسم! یہی ہے جو آسمان کی خبریں سننے سے روکنے کا باعث بنا ہے۔ پھر وہ اپنی قوم کی طرف لوٹے اور کہا قوم کے لوگو! ہم نے حیرت انگیز قرآن سنا جو سیدھے راستے کی طرف ہدایت کرتا ہے۔ اس لیے ہم اس پر ایمان لاتے ہیں اور اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے۔ اس پر نبی کریم ﷺ پر یہ آیت نازل ہوئی قل أوحي إلى (آپ کہیئے کہ مجھے وحی کے ذریعہ بتایا گیا ہے) اور آپ پر جنوں کی گفتگو وحی کی گئی تھی۔
Narrated Ibn Abbas (RA): The Prophet ﷺ set out with the intention of going to Suq Ukaz (market of Ukaz) along with some of his companions. At the same time, a barrier was put between the devils and the news of heaven. Fire commenced to be thrown at them. The Devils went to their people, who asked them, "What is wrong with you?" They said, "A barrier has been placed between us and the news of heaven. And fire has been thrown at us." They said, "The thing which has put a barrier between you and the news of heaven must be something which has happened recently. Go eastward and westward and see what has put a barrier between you and the news of heaven." Those who went towards Tuhama came across the Prophet ﷺ at a place called Nakhla and it was on the way to Suq Ukaz and the Prophet ﷺ was offering the Fajr prayer with his companions. When they heard the Quran they listened to it and said, "By Allah, this is the thing which has put a barrier between us and the news of heaven." They went to their people and said, "O our people; verily we have heard a wonderful recital (Quran) which shows the true path; we believed in it and would not ascribe partners to our Lord." Allah revealed the following verses to his Prophet ﷺ (Sura Jinn) (72): "Say: It has been revealed to me." And what was revealed to him was the conversation of the Jinns.
باب: فجر کی نماز میں بلند آواز سے قرآن مجید پڑھنا۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَرَأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا أُمِرَ وَسَكَتَ فِيمَا أُمِرَ، وَمَا كَانَ رَبُّكَ نَسِيًّا لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ.
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اسماعیل بن علیہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ایوب سختیانی نے عکرمہ سے بیان کیا، انہوں نے ابن عباس ؓ سے، آپ نے بتلایا کہ نبی کریم ﷺ کو جن نمازوں میں بلند آواز سے قرآن مجید پڑھنے کا حکم ہوا تھا۔ آپ ﷺ نے ان میں بلند آواز سے پڑھا اور جن میں آہستہ سے پڑھنے کا حکم ہوا تھا ان میں آپ ﷺ نے آہستہ سے پڑھا اور تیرا رب بھولنے والا نہیں اور رسول اللہ ﷺ کی زندگی تمہارے لیے بہترین نمونہ ہے۔
Narrated Ibn Abbas (RA): The Prophet ﷺ recited aloud in the prayers in which he was ordered to do so and quietly in the prayers in which he was ordered to do so. "And your Lord is not forgetful." "Verily there was a good example for you in the ways of the Prophet ﷺ."
باب: ایک رکعت میں دو سورتیں ایک ساتھ پڑھنا۔
حَدَّثَنَا آدَمُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ مَسْعُودٍ ، فَقَالَ: قَرَأْتُ الْمُفَصَّلَ اللَّيْلَةَ فِي رَكْعَةٍ، فَقَالَ: هَذًّا كَهَذِّ الشِّعْرِ، لَقَدْ عَرَفْتُ النَّظَائِرَ الَّتِي كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرُنُ بَيْنَهُنَّ، فَذَكَرَ عِشْرِينَ سُورَةً مِنْ الْمُفَصَّلِ سورتيِن في كُلِّ رَكْعَةٍ.
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عمرو بن مرہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے ابو وائل شقیق بن مسلم سے سنا کہ ایک شخص عبداللہ بن مسعود ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ میں نے رات ایک رکعت میں مفصل کی سورة پڑھی۔ آپ نے فرمایا کہ کیا اسی طرح (جلدی جلدی) پڑھی جیسے شعر پڑھے جاتے ہیں۔ میں ان ہم معنی سورتوں کو جانتا ہوں جنہیں نبی کریم ﷺ ایک ساتھ ملا کر پڑھتے تھے۔ آپ نے مفصل کی بیس سورتوں کا ذکر کیا۔ ہر رکعت کے لیے دو دو سورتیں۔
Narrated Abu Wail (RA): A man came to Ibn Masud (RA) and said, "I recited the Mufassal (Suras) at night in one Raka." Ibn Masud (RA) said, "This recitation is (too quick) like the recitation of poetry. I know the identical Suras which the Prophet ﷺ used to recite in pairs." Ibn Masud (RA) then mentioned 2O Mufassal Suras including two Suras from the family of (i.e. those verses which begin with) AL, HA, MIM (which the Prophet ﷺ used to recite) in each Raka.
باب: پچھلی دو رکعات میں صرف سورۃ فاتحہ پڑھنا۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ فِي الْأُولَيَيْنِ بِأُمِّ الْكِتَابِ وَسُورَتَيْنِ، وَفِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُخْرَيَيْنِ بِأُمِّ الْكِتَابِ وَيُسْمِعُنَا الْآيَةَ وَيُطَوِّلُ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى مَا لَا يُطَوِّلُ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ، وَهَكَذَا فِي الْعَصْرِ، وَهَكَذَا فِي الصُّبْحِ.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ہمام بن یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے یحییٰ بن ابی کثیر کے واسطے سے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن ابی قتادہ سے، انہوں نے اپنے باپ ابوقتادہ ؓ سے کہ نبی کریم ﷺ ظہر کی دو پہلی رکعتوں میں سورة فاتحہ اور دو سورتیں پڑھتے تھے اور آخری دو رکعات میں صرف سورة فاتحہ پڑھتے۔ کبھی کبھی ہمیں ایک آیت سنا بھی دیا کرتے تھے اور پہلی رکعت میں قرآت دوسری رکعت سے زیادہ کرتے تھے۔ عصر اور صبح کی نماز میں بھی آپ کا یہی معمول تھا۔
Narrated Abdullah bin Abi Qatada (RA): My father said, "The Prophet ﷺ uses to recite Al-Fatiha followed by another Sura in the first two Rakat of the prayer and used to recite only Al-Fatiha in the last two Rakat of the Zuhr prayer. Sometimes a verse or so was audible and he used to prolong the first Raka more than the second and used to do the same in the Asr and Fajr prayers."
باب: جس نے ظہر اور عصر میں آہستہ سے قرآت کی۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ ، قُلْتُ لِخَبَّابٍ : أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ ؟ قَالَ: نَعَمْ، قُلْنَا: مِنْ أَيْنَ عَلِمْتَ ؟ قَالَ: بِاضْطِرَابِ لِحْيَتِهِ.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے جریر بن عبدالحمید نے اعمش سے بیان کیا، وہ عمارہ بن عمیر سے، وہ ابومعمر عبداللہ بن مخبرہ سے، انہوں نے بیان کیا کہ ہم نے خباب بن ارت ؓ سے کہا کہ کیا رسول اللہ ﷺ ظہر اور عصر میں قرآن مجید پڑھتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہاں! ہم نے پوچھا کہ آپ کو معلوم کس طرح ہوتا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ آپ ﷺ کی ریش مبارک کے ہلنے سے۔
Narrated Abu Mamar (RA): We said to Khabbab "Did Allahs Apostle ﷺ used to recite in Zuhr and Asr prayers?" He replied in the affirmative. We said, "How did you come to know about it?" He said, "By the movement of his beard."
باب: اگر امام سری نماز میں کوئی آیت پکار کر پڑھ دے کہ مقتدی سن لیں، تو کوئی قباحت نہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ بِأُمِّ الْكِتَابِ وَسُورَةٍ مَعَهَا فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ مِنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ وَصَلَاةِ الْعَصْرِ وَيُسْمِعُنَا الْآيَةَ أَحْيَانًا، وَكَانَ يُطِيلُ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى.
ہم سے محمد بن یوسف فریابی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے امام عبدالرحمٰن اوزاعی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن ابی قتادہ نے بیان کیا، وہ اپنے والد ابوقتادہ ؓ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر کی دو پہلی رکعتوں میں سورة فاتحہ اور کوئی اور سورة پڑھتے تھے۔ کبھی کبھی آپ ﷺ کوئی آیت ہمیں سنا بھی دیا کرتے تھے۔ پہلی رکعت میں قرآت زیادہ طویل کرتے تھے۔
Narrated Abdullah bin Abi Qatada (RA): My father said, "The Prophet ﷺ used to recite Al-Fatiha along with another Sura in the first two Rakat of the Zuhr and Asr prayers. A verse or so was audible at times and he used to prolong the first Raka."
باب: پہلی رکعت (میں قرآت) طویل ہونی چاہئے۔
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُطَوِّلُ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى مِنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ وَيُقَصِّرُ فِي الثَّانِيَةِ، وَيَفْعَلُ ذَلِكَ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ.
ہم سے ابونعیم فضل بن دکین نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ہشام دستوائی نے بیان کیا، انہوں نے یحییٰ بن ابی کثیر سے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن ابی قتادہ سے، انہوں نے اپنے والد ابوقتادہ ؓ سے کہ نبی کریم ﷺ ظہر کی پہلی رکعت میں (قرآت) طویل کرتے تھے اور دوسری رکعت میں مختصر۔ صبح کی نماز میں بھی آپ ﷺ اسی طرح کرتے تھے۔
Narrated Abdullah bin Abi Qatada (RA): My father said, "The Prophet ﷺ used to prolong the first Raka of the Zuhr prayer and shorten the second one and used to do the same in the Fajr prayer."
باب: (جہری نمازوں میں) امام کا بلند آواز سے آمین کہنا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، وأبي سلمة بن عبد الرحمن أنهما أخبراه عن أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا أَمَّنَ الْإِمَامُ فَأَمِّنُوا، فَإِنَّهُ مَنْ وَافَقَ تَأْمِينُهُ تَأْمِينَ الْمَلَائِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ، وَقَالَ ابْنُ شِهَابٍ : وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: آمِينَ.
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک نے خبر دی انہوں نے ابن شہاب سے، انہوں نے سعید بن مسیب اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن کے واسطے سے، انہوں نے ابوہریرہ ؓ سے خبر دی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب امام آمين کہے تو تم بھی آمين کہو۔ کیونکہ جس کی آمين ملائکہ کے آمین کے ساتھ ہوگئی اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کر دئیے جائیں گے۔ ابن شہاب نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ آمين کہتے تھے۔
Narrated Abu Hurairah (RA): The Prophet ﷺ said, "Say Amin" when the Imam says it and if the Amin of any one of you coincides with that of the angels then all his past sins will be forgiven." Ibn Shihab (RA) said, "Allahs Apostle ﷺ used to Say "Amin."
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا قَالَ أَحَدُكُمْ آمِينَ، وَقَالَتْ: الْمَلَائِكَةُ فِي السَّمَاءِ آمِينَ فَوَافَقَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ.
ہم سے عبداللہ بن یوسف تینسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک نے ابوالزناد سے خبر دی، انہوں نے اعرج سے، انہوں نے ابوہریرہ ؓ سے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب کوئی تم میں سے آمين کہے اور فرشتوں نے بھی اسی وقت آسمان پر آمين کہی۔ اس طرح ایک کی آمين دوسرے کے آمين کے ساتھ مل گئی تو اس کے پچھلے تمام گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔
Narrated Abu Hurairah (RA): Allahs Apostle ﷺ said, "If any one of you says, "Amin" and the angels in the heavens say "Amin" and the former coincides with the latter, all his past sins will be forgiven."
باب: مقتدی کا آمین بلند آواز سے کہنا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا قَالَ: الْإِمَامُ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ سورة الفاتحة آية 7 فَقُولُوا: آمِينَ، فَإِنَّهُ مَنْ وَافَقَ قَوْلُهُ قَوْلَ الْمَلَائِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ، تَابَعَهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنُعَيْمٌ الْمُجْمِرُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا، انہوں نے امام مالک (رح) سے، انہوں نے ابوبکر بن عبدالرحمٰن کے غلام سمی سے، انہوں نے ابوصالح سمان سے، انہوں نے ابوہریرہ ؓ سے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب غير المغضوب عليهم ولا الضالين کہے تو تم بھی آمين کہو کیونکہ جس نے فرشتوں کے ساتھ آمين کہی اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں۔ سمی کے ساتھ اس حدیث کو محمد بن عمرو نے ابوسلمہ سے، انہوں نے ابوہریرہ ؓ سے، انہوں نے نبی کریم ﷺ سے روایت کیا۔ اور نعیم مجمر نے بھی ابوہریرہ ؓ سے، انہوں نے نبی کریم ﷺ سے۔
Narrated Abu Hurairah (RA): Allahs Apostle ﷺ said, "Say Amen when the Imam says "Ghair-il-maghdubi alaihim wala-ddal-lin; not the path of those who earn Your Anger (such as Jews) nor of those who go astray (such as Christians); all the past sins of the person whose saying (of Amin) coincides with that of the angels, will be forgiven.
باب: جب صف تک پہنچنے سے پہلے ہی کسی نے رکوع کر لیا (تو اس کے لیے کیا حکم ہے؟)۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ الْأَعْلَمِ وَهُوَ زِيَادٌ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، أَنَّهُ انْتَهَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ رَاكِعٌ، فَرَكَعَ قَبْلَ أَنْ يَصِلَ إِلَى الصَّفِّ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: زَادَكَ اللَّهُ حِرْصًا وَلَا تَعُدْ.
ہم سے موسیٰ بن اسمعیل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ہمام بن یحییٰ نے زیادہ بن حسان اعلم سے بیان کیا، انہوں نے حسن (رح) سے، انہوں نے ابوبکرہ ؓ سے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی طرف (نماز پڑھنے کے لیے) گئے۔ آپ ﷺ اس وقت رکوع میں تھے۔ اس لیے صف تک پہنچنے سے پہلے ہی انہوں نے رکوع کرلیا، پھر اس کا ذکر نبی کریم ﷺ سے کیا تو آپ نے فرمایا کہ اللہ تمہارا شوق اور زیادہ کرے لیکن دوبارہ ایسا نہ کرنا۔
Narrated Abu Bakra (RA): I reached the Prophet ﷺ in the mosque while he was bowing in prayer and I too bowed before joining the row mentioned it to the Prophet ﷺ and he said to me, "May Allah increases your love for the good. But do not repeat it again (bowing in that way)."
باب: رکوع کرنے کے وقت بھی تکبیر کہنا۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الْوَاسِطِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: صَلَّى مَعَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِالْبَصْرَةِ، فَقَالَ: ذَكَّرَنَا هَذَا الرَّجُلُ صَلَاةً كُنَّا نُصَلِّيهَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ أَنَّهُ كَانَ يُكَبِّرُ كُلَّمَا رَفَعَ وَكُلَّمَا وَضَعَ.
ہم سے اسحاق بن شاہین واسطی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے خالد بن عبداللہ طحان نے سعید بن ایاس جریری سے بیان کیا، انہوں نے ابوالعلاء یزید بن عبداللہ سے، انہوں نے مطرف بن عبداللہ سے، انہوں نے عمران بن حصین سے کہ انہوں نے علی ؓ کے ساتھ بصرہ میں ایک مرتبہ نماز پڑھی۔ پھر کہا کہ ہمیں انہوں نے وہ نماز یاد دلا دی جو کہ ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ پڑھا کرتے تھے۔ پھر کہا کہ علی ؓ جب سر اٹھاتے اور جب سر جھکاتے اس وقت تکبیر کہتے۔
Narrated Imran bin Husain (RA): I offered the prayer with Ali in Basra and he made us remember the prayer which we used to pray with Allahs Apostle. Ali said Takbir on each rising and bowing.
باب: رکوع کرنے کے وقت بھی تکبیر کہنا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي بِهِمْ فَيُكَبِّرُ كُلَّمَا خَفَضَ وَرَفَعَ، فَإِذَا انْصَرَفَ، قَالَ: إِنِّي لَأَشْبَهُكُمْ صَلَاةً بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں امام مالک (رح) نے ابن شہاب سے خبر دی، انہوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے، انہوں نے ابوہریرہ ؓ سے کہ آپ لوگوں کو نماز پڑھاتے تھے تو جب بھی وہ جھکتے اور جب بھی وہ اٹھتے تکبیر ضرور کہتے۔ پھر جب فارغ ہوتے تو فرماتے کہ میں نماز پڑھنے میں تم سب لوگوں سے زیادہ رسول اللہ ﷺ کی نماز سے مشابہت رکھنے والا ہوں۔
Narrated Abu Salama (RA): When Abu Hurairah (RA) led us in prayer he used to say Takbir on each bowing and rising. On the completion of the prayer he used to say, "My prayer is more similar to the prayer of Allahs Apostle ﷺ than that of anyone of you."
باب: سجدے کے وقت بھی پورے طور پر تکبیر کہنا۔
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: صَلَّيْتُ خَلْفَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَا وَعِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ ، فَكَانَ إِذَا سَجَدَ كَبَّرَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ كَبَّرَ وَإِذَا نَهَضَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ كَبَّرَ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ أَخَذَ بِيَدِي عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ، فَقَالَ: قَدْ ذَكَّرَنِي هَذَا صَلَاةَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ قَالَ لَقَدْ صَلَّى بِنَا صَلَاةَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے ابوالنعمان محمد بن فضل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، انہوں نے غیلان بن جریر سے بیان کیا، انہوں نے مطرف بن عبداللہ بن شخیر سے، انہوں نے کہا کہ میں نے اور عمران بن حصین نے علی بن ابی طالب ؓ کے پیچھے نماز پڑھی۔ تو وہ جب بھی سجدہ کرتے تو تکبیر کہتے۔ اسی طرح جب سر اٹھاتے تو تکبیر کہتے۔ جب دو رکعات کے بعد اٹھتے تو تکبیر کہتے۔ جب نماز ختم ہوئی تو عمران بن حصین نے میرا ہاتھ پکڑ کر کہا کہ علی ؓ نے آج محمد ﷺ کی نماز یاد دلائی، یا یہ کہا کہ اس شخص نے ہم کو نبی کریم ﷺ کی نماز کی طرح آج نماز پڑھائی۔
Narrated Mutarrif bin Abdullah (RA): Imran bin Husain and I offered the prayer behind Ali Ibn Abi Talib (RA) . When Ali prostrated, he said the Takbir, when he raised his head, he said the Takbir and when he got up for the third Raka he said the Takbir. On completion of the prayer Imran took my hand and said, "This (i.e. Ali) made me remember the prayer of Muhammad" Or he said, "He led us in a prayer like that of Muhammad."
باب: سجدے کے وقت بھی پورے طور پر تکبیر کہنا۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ عِكْرِمَة ، قَالَ: رَأَيْتُ رَجُلًا عِنْدَ الْمَقَامِ يُكَبِّرُ فِي كُلِّ خَفْضٍ وَرَفْعٍ وَإِذَا قَامَ وَإِذَا وَضَعَ، فَأَخْبَرْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَوَلَيْسَ تِلْكَ صَلَاةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا أُمَّ لَكَ.
ہم سے عمرو بن عون نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں ہشیم بن بشیر نے ابوبشر حفص بن ابی وحشیہ سے خبر دی، انہوں نے عکرمہ سے، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے ایک شخص کو مقام ابراہیم میں (نماز پڑھتے ہوئے) دیکھا کہ ہر جھکنے اور اٹھنے پر وہ تکبیر کہتا تھا۔ اسی طرح کھڑے ہوتے وقت اور بیٹھتے وقت بھی۔ میں نے ابن عباس ؓ کو اس کی اطلاع دی۔ آپ نے فرمایا، ارے تیری ماں مرے! کیا یہ رسول اللہ ﷺ کی سی نماز نہیں ہے۔
Narrated Ikrima (RA): I saw a person praying at Muqam-lbrahim (the place of Abraham by the Ka’bah) and he was saying Takbir on every bowing, rising, standing and sitting. I asked Ibn Abbas (RA) (about this prayer). He admonished me saying: "Isnt that the prayer of the Prophet ﷺ?"
باب: جب سجدہ کر کے کھڑا ہو تو تکبیر کہے۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، قَالَ: صَلَّيْتُ خَلْفَ شَيْخٍ 0بِمَكَّةَ فَكَبَّرَ ثِنْتَيْنِ وَعِشْرِينَ تَكْبِيرَةً، فَقُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ : إِنَّهُ أَحْمَقُ، فَقَالَ: ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ، سُنَّةُ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ مُوسَى حَدَّثَنَا أَبَانُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ .
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ہمام بن یحییٰ نے قتادہ سے بیان کیا، وہ عکرمہ سے، کہا کہ میں نے مکہ میں ایک بوڑھے کے پیچھے (ظہر کی) نماز پڑھی۔ انہوں نے (تمام نماز میں) بائیس تکبیریں کہیں۔ اس پر میں نے ابن عباس ؓ سے کہا کہ یہ بوڑھا بالکل بےعقل معلوم ہوتا ہے ابن عباس ؓ نے فرمایا تمہاری ماں تمہیں روئے یہ تو ابوالقاسم ﷺ کی سنت ہے۔ اور موسیٰ بن اسماعیل نے یوں بھی بیان کیا کہ ہم سے ابان نے بیان کیا، کہ کہا ہم سے قتادہ نے، انہوں نے کہا کہ ہم سے عکرمہ نے یہ حدیث بیان کی۔
Narrated Ikrima (RA): I prayed behind a Sheikh at Makkah and he said twenty two Takbirs (during the prayer). I told Ibn Abbas (RA) that he (i.e. that Sheikh) was foolish. Ibn Abbas (RA) admonished me and said, "This is the tradition of Abu-l-Qasim."
باب: جب سجدہ کر کے کھڑا ہو تو تکبیر کہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ يُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْكَعُ، ثُمَّ يَقُولُ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ حِينَ يَرْفَعُ صُلْبَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ، ثُمَّ يَقُولُ وَهُوَ قَائِمٌ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ : عَنْ اللَّيْثِ ، وَلَكَ الْحَمْدُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَهْوِي، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَسْجُدُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ، ثُمَّ يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي الصَّلَاةِ كُلِّهَا حَتَّى يَقْضِيَهَا وَيُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ مِنَ الثِّنْتَيْنِ بَعْدَ الْجُلُوسِ.
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے لیث بن سعد نے عقیل بن خالد کے واسطے سے بیان کیا، انہوں نے ابن شہاب سے، انہوں نے کہا کہ مجھے ابوبکر بن عبدالرحمٰن بن حارث نے خبری دی کہ انہوں نے ابوہریرہ ؓ سے سنا، انہوں نے بتلایا کہ نبی کریم ﷺ جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو تکبیر کہتے۔ پھر جب رکوع کرتے تب بھی تکبیر کہتے تھے۔ پھر جب سر اٹھاتے تو سمع الله لمن حمده کہتے اور کھڑے ہی کھڑے ربنا لک الحمد کہتے۔ پھر جب (دوسرے) سجدہ کے لیے جھکتے تب تکبیر کہتے اور جب سجدہ سے سر اٹھاتے تب بھی تکبیر کہتے۔ اسی طرح آپ تمام نماز پوری کرلیتے تھے۔ قعدہ اولیٰ سے اٹھنے پر بھی تکبیر کہتے تھے۔ (اس حدیث میں) عبداللہ بن صالح نے لیث کے واسطے سے (بجائے ربنا لک الحمد کے) ربنا ولک الحمد نقل کیا ہے۔ ( ربنا لک الحمد کہے یا ربنا ولک الحمد واؤ کے ساتھ ہر دو طریقہ درست ہے) ۔
Narrated Abu Hurairah (RA): Whenever Allahs Apostle ﷺ stood for the prayer, he said Takbir on starting the prayer and then on bowing. On rising from bowing he said, "Sami a-l-lahu liman hamida," and then while standing straight he used to say, "Rabbana laka-l hamd" (Al-Laith said, "(The Prophet ﷺ said), Walaka-l-hamd." He used to say Takbir on prostrating and on raising his head from prostration; again he would Say Takbir on prostrating and raising his head. He would then do the same in the whole of the prayer till it was completed. On rising from the second Raka (after sitting for At-Tahiyyat), he used to say Takbir.