کیا امام کے لئے جائز ہے کہ مجرموں اور گناہگاروں کو اپنے پاس آنے اور ملنے سے منع کرے؟
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، وَكَانَ قَائِدَ كَعْبٍ مِنْ بَنِيهِ حِينَ عَمِيَ، قَالَ: سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ ، قَال: لَمَّا تَخَلَّفَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، فَذَكَرَ حَدِيثَهُ، وَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُسْلِمِينَ عَنْ كَلَامِنَا، فَلَبِثْنَا عَلَى ذَلِكَ خَمْسِينَ لَيْلَةً، وَآذَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَوْبَةِ اللَّهِ عَلَيْنَا.
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن کعب بن مالک نے کہ عبداللہ بن کعب بن مالک، کعب بن مالک ؓ کے نابینا ہوجانے کے زمانے میں ان کے سب لڑکوں میں یہی راستے میں ان کے ساتھ چلتے تھے، (انہوں) نے بیان کیا کہ میں نے کعب بن مالک ؓ سے سنا، انہوں نے کہا کہ جب وہ غزوہ تبوک میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نہیں جاسکتے تھے، پھر انہوں نے اپنا پورا واقعہ بیان کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو ہم سے گفتگو کرنے سے روک دیا تھا تو ہم پچاس دن اسی حالت میں رہے، پھر نبی کریم ﷺ نے اعلان کیا کہ اللہ نے ہماری توبہ قبول کرلی ہے۔
Narrated Abdullah bin Kab bin Malik (RA) :
Who was Kabs guide from among his sons when Kab became blind: I heard Kab bin Malik saying, "When some people remained behind and did not join Allahs Apostle ﷺ in the battle of Tabuk.." and then he described the whole narration and said, "Allahs Apostle ﷺ forbade the Muslims to speak to us, and so we (I and my companions) stayed fifty nights in that state, and then Allahs Apostle ﷺ announced Allahs acceptance of our repentance."
وَقَالَ خَارِجَةُ بْنُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ أَنْ يَتَعَلَّمَ كِتَابَ الْيَهُودِ حَتَّى كَتَبْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُتُبَهُ وَأَقْرَأْتُهُ كُتُبَهُمْ إِذَا كَتَبُوا إِلَيْهِ، وَقَالَ عُمَرُ وَعِنْدَهُ عَلِيٌّ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ، وَعُثْمَانُ مَاذَا تَقُولُ هَذِهِ، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَاطِبٍ، فَقُلْتُ تُخْبِرُكَ بِصَاحِبِهَا الَّذِي صَنَعَ بِهَا، وَقَالَ أَبُو جَمْرَةَ: كُنْتُ أُتَرْجِمُ بَيْنَ ابْنِ عَبَّاسٍ وَبَيْنَ النَّاسِ، وَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ لَا بُدَّ لِلْحَاكِمِ مِنْ مُتَرْجِمَيْنِ
رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ یہودیوں کی تحریر سیکھیں، یہاں تک کہ میں یہودیوں کے نام نبی کریم ﷺ کے خطوط لکھتا تھا اور جب یہودی آپ کو لکھتے تو ان کے خطوط آپ کو پڑھ کر سناتا تھا۔ عمر ؓ نے عبدالرحمٰن بن حاطب سے پوچھا، اس وقت ان کے پاس علی، عبدالرحمٰن اور عثمان ؓ بھی موجود تھے کہ یہ لونڈی کیا کہتی ہے؟ عبدالرحمٰن بن حاطب نے کہا کہ امیرالمؤمنین یہ آپ کو اس کے متعلق بتاتی ہے جس نے اس کے ساتھ زنا کیا ہے۔ ( جو یرغوس نام کا غلام تھا ) اور ابوجمرہ نے کہا کہ میں ابن عباس ؓ اور لوگوں کے درمیان ترجمانی کرتا تھا اور بعض لوگوں ( امام محمد اور امام شافعی ) نے کہا کہ حاکم کے لیے دو ترجموں کا ہونا ضروری ہے۔
Kharija bin Zaid bin Thabit said that Zaid bin Thabit said, The Prophet (saws) ordered me to learn the writing of the Jews. I even wrote letters for the Prophet (saws) (to the Jews) and also read their letters when they wrote to him. And 'Umar said in the presence of 'Ali, 'Abdur-Rahman, and 'Uthman, What is this woman saying? (the woman was non-Arab) 'Abdur-Rahman bin Hatib said: She is informing you about her companion who has committed illegal sexual intercourse with her. Abu Jamra said, I was an interpreter between Ibn 'Abbas and the people. Some people said, A ruler should have two interpreters.