احکام کا بیان

Sahih Bukhari · Chapter 77 · 82 hadiths · Page 3 of 5

7180Sahih Bukhari

غائب شخص پر حکم لگانے کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ هِنْدًا، قَالَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ شَحِيحٌ فَأَحْتَاجُ أَنْ آخُذَ مِنْ مَالِهِ، قَالَ: خُذِي مَا يَكْفِيكِ وَوَلَدَكِ بِالْمَعْرُوفِ.

ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان نے خبر دی، انہیں ہشام نے، انہیں ان کے والد نے اور ان سے عائشہ ؓ نے کہ ہند نے نبی کریم ﷺ سے کہا کہ (ان کے شوہر) ابوسفیان بخیل ہیں اور مجھے ان کے مال میں سے لینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ دستور کے مطابق اتنا لے لیا کرو جو تمہارے اور تمہارے بچوں کے لیے کافی ہو۔

Narrated Aisha (RA) : Hind (bint Utba) said to the Prophet ﷺ " Abu Sufyan (RA) is a miserly man and I need to take some money of his wealth." The Prophet ﷺ said, "Take reasonably what is sufficient for you and your children "

7181Sahih Bukhari

جس شخص کے لئے اس کے بھائی کے حق میں سے جو فیصلہ کیا جائے تو وہ اس کو نہ لے اس لئے کہ حاکم کا فیصلہ حلال کو حرام اور حرام کو حلال نہیں کرتا۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَال: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَخْبَرَتْهَا، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُسَمِعَ خُصُومَةً بِبَابِ حُجْرَتِهِ فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ، فَقَالَ: إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ وَإِنَّهُ يَأْتِينِي الْخَصْمُ، فَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَنْ يَكُونَ أَبْلَغَ مِنْ بَعْضٍ، فَأَحْسِبُ أَنَّهُ صَادِقٌ فَأَقْضِي لَهُ بِذَلِكَ، فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ بِحَقِّ مُسْلِمٍ، فَإِنَّمَا هِيَ قِطْعَةٌ مِنَ النَّارِ فَلْيَأْخُذْهَا، أَوْ لِيَتْرُكْهَا.

ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے صالح نے، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، انہیں عروہ بن زبیر نے خبر دی، انہیں زینب بنت ابی سلمہ نے خبر دی اور انہیں نبی کریم ﷺ کی زوجہ ام سلمہ ؓ نے خبر دی۔ آپ نے اپنے حجرہ کے دروازے پر جھگڑے کی آواز سنی تو باہر ان کی طرف نکلے۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں بھی ایک انسان ہوں اور میرے پاس لوگ مقدمے لے کر آتے ہیں۔ ممکن ہے ان میں سے ایک فریق دوسرے فریق سے بولنے میں زیادہ عمدہ ہو اور میں یقین کرلوں کی وہی سچا ہے اور اس طرح اس کے موافق فیصلہ کر دوں۔ پس جس شخص کے لیے بھی میں کسی مسلمان کا حق دلا دوں تو وہ جہنم کا ایک ٹکڑا ہے وہ چاہے اسے لے یا چھوڑ دے، میں اس کو درحقیقت دوزخ کا ایک ٹکڑا دلا رہا ہوں۔

Narrated Um Salama (RA) : (the wife of the Prophet) Allahs Apostle ﷺ heard some people quarreling at the door of his dwelling, so he went out to them and said, "I am only a human being, and litigants with cases of dispute come to me, and someone of you may happen to be more eloquent (in presenting his case) than the other, whereby I may consider that he is truthful and pass a judgment in his favor. If ever I pass a judgment in favor of somebody whereby he takes a Muslims right unjustly, then whatever he takes is nothing but a piece of Fire, and it is up to him to take or leave."

7182Sahih Bukhari

جس شخص کے لئے اس کے بھائی کے حق میں سے جو فیصلہ کیا جائے تو وہ اس کو نہ لے اس لئے کہ حاکم کا فیصلہ حلال کو حرام اور حرام کو حلال نہیں کرتا۔

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَ عُتْبَةُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ عَهِدَ إِلَى أَخِيهِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَنَّ ابْنَ وَلِيدَةِ زَمْعَةَ مِنِّي فَاقْبِضْهُ إِلَيْكَ، فَلَمَّا كَانَ عَامُ الْفَتْحِ أَخَذَهُ سَعْدٌ، فَقَالَ ابْنُ أَخِي: قَدْ كَانَ عَهِدَ إِلَيَّ فِيهِ فَقَامَ إِلَيْهِ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ، فَقَالَ: أَخِي وَابْنُ وَلِيدَةِ أَبِي وُلِدَ عَلَى فِرَاشِهِ، فَتَسَاوَقَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ سَعْدٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ابْنُ أَخِي كَانَ عَهِدَ إِلَيَّ فِيهِ، وَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ: أَخِي وَابْنُ وَلِيدَةِ أَبِي وُلِدَ عَلَى فِرَاشِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هُوَ لَكَ يَا عَبْدُ بْنَ زَمْعَةَ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ، ثُمَّ قَالَ لِسَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ: احْتَجِبِي مِنْهُ لِمَا رَأَى مِنْ شَبَهِهِ بِعُتْبَةَ، فَمَا رَآهَا حَتَّى لَقِيَ اللَّهَ تَعَالَى.

ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عروہ بن زبیر نے اور ان سے نبی کریم ﷺ کی زوجہ مطہرہ عائشہ ؓ نے بیان کیا کہ عتبہ بن ابی وقاص نے اپنے بھائی سعد بن ابی وقاص ؓ کو یہ وصیت کی تھی کہ زمعہ کی لونڈی (کا لڑکا) میرا ہے۔ تم اسے اپنی پرورش میں لے لینا۔ چناچہ فتح مکہ کے دن سعد ؓ نے اسے لے لیا اور کہا کہ یہ میرے بھائی کا لڑکا ہے اور مجھے اس کے بارے میں انہوں نے وصیت کی تھی، پھر عبد بن زمعہ کھڑے ہوئے اور کہا کہ یہ میرا بھائی، میرے والد کی لونڈی کا لڑکا ہے اور انہیں کے فراش پر پیدا ہوا۔ چناچہ یہ دونوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے۔ سعد ؓ نے کہا کہ یا رسول اللہ! میرے بھائی کا لڑکا ہے، انہوں نے مجھے اس کی وصیت کی تھی اور عبد بن زمعہ نے کہا کہ میرا بھائی ہے، میرے والد کی لونڈی کا لڑکا ہے اور انہیں کے فراش پر پیدا ہوا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ عبد بن زمعہ! یہ تمہارا ہے، پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ بچہ فراش کا ہوتا ہے اور زانی کے لیے پتھر ہے۔ پھر آپ نے سودہ بنت زمعہ ؓ سے کہا کہ اس لڑکے سے پردہ کیا کرو کیونکہ آپ ﷺ نے لڑکے کی عتبہ سے مشابہت دیکھ لی تھی۔ چناچہ اس نے سودہ ؓ کو موت تک نہیں دیکھا۔

Narrated Aisha (RA) : (the wife of the Prophet) Utba bin Abi Waqqas said to his brother Sad bin Abi Waqqas (RA), "The son of the slave girl of Zama is from me, so take him into your custody." So in the year of Conquest of Makkah, Sad took him and said. (This is) my brothers son whom my brother has asked me to take into my custody." Abd bin Zama got up before him and said, (He is) my brother and the son of the slave girl of my father, and was born on my fathers bed." So they both submitted their case before Allahs Apostle. Sad said, "O Allahs Apostle ﷺ ! This boy is the son of my brother and he entrusted him to me." Abd bin Zama said, "This boy is my brother and the son of the slave girl of my father, and was born on the bed of my father." Allahs Apostle ﷺ said, "The boy is for you, O Abd bin Zama!" Then Allahs Apostle ﷺ further said, "The child is for the owner of the bed, and the stone is for the adulterer," He then said to Sauda bint Zama, "Veil (screen) yourself before him," when he saw the childs resemblance to Utba. The boy did not see her again till he met Allah.

7183Sahih Bukhari(7184)

کنوئیں وغیرہ کے متعلق فیصلہ کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، وَالْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، قَالَ: قَالَعَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَحْلِفُ عَلَى يَمِينِ صَبْرٍ يَقْتَطِعُ مَالًا وَهُوَ فِيهَا فَاجِرٌ إِلَّا لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ: إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلا سورة آل عمران آية 77. فَجَاءَ الْأَشْعَثُ، وَعَبْدُ اللَّهِ يُحَدِّثُهُمْ، فَقَالَ: فِيَّ نَزَلَتْ وَفِي رَجُلٍ خَاصَمْتُهُ فِي بِئْرٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَكَ بَيِّنَةٌ، قُلْتُ: لَا، قَالَ: فَلْيَحْلِفْ، قُلْتُ: إِذًا يَحْلِفُ، فَنَزَلَتْ: إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ سورة آل عمران آية 77.

ہم سے اسحاق بن نفر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان نے خبر دی،، انہیں منصور اور اعمش نے، ان سے ابو وائل نے بیان کیا کہ عبداللہ بن مسعود ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص ایسی قسم کھائے جو جھوٹی ہو جس کے ذریعہ وہ کسی دوسرے کا مال مار لے تو اللہ سے وہ اس حال میں ملے کا کہ وہ اس پر غضبناک ہوگا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت (اس کی تصدیق میں) نازل فرمائی إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم ثمنا قليلا بلاشبہ جو لوگ اللہ کے عہد اور اس کی قسموں کو تھوڑی پونجی کے بدلے خریدتے ہیں الآية.۔ اتنے میں اشعث ؓ بھی آگئے۔ ابھی عبداللہ بن مسعود ؓ ان سے حدیث بیان کر ہی رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ میرے ہی بارے میں یہ آیت نازل ہوئی تھی اور ایک شخص کے بارے میں میرا ان سے کنویں کے بارے میں جھگڑا ہوا تو نبی کریم ﷺ نے (مجھ سے) کہا کہ تمہارے پاس کوئی گواہی ہے؟ میں نے کہا کہ نہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ پھر فریق مقابل کی قسم پر فیصلہ ہوگا۔ میں نے کہا کہ پھر تو یہ (جھوٹی) قسم کھالے گا۔ چناچہ آیت إن الذين يشترون بعهد الله بلاشبہ جو لوگ اللہ کے عہد کو الخ نازل ہوئی۔

Narrated Abdullah (RA) : The Prophet ﷺ said, "If somebody on the demand of a judge takes an oath to grab (a Muslims) property and he is liar in it, he will meet Allah Who will be angry with him". So Allah revealed,:-- Verily! those who purchase a small gain at the cost of Allahs Covenant and their oaths.. (3.77) Al-Ashath came while Abdullah was narrating (this) to the people. Al-Ashath said, "This verse was revealed regarding me and another man with whom I had a quarrel about a well. The Prophet ﷺ said (to me), "Do you have any evidence? I replied, No. He said, Let your opponent take an oath. I said: I am sure he would take a (false) oath." Thereupon it was revealed: Verily! those who purchase a small gain at the cost of Allahs Covenant.... (3.77) (See Hadith No. 72, Vol 6).

7185Sahih Bukhari

تھوڑے اور زیادہ مال میں فیصلہ کرنے کا بیان اور ابن عیینہ نے ابن شبرمہ سے نقل کیا ہے کہ تھوڑے اور زیادہ مال میں فیصلہ کرنا برابر ہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ ، أَخْبَرَتْهُ، عَنْ أُمِّهَا أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَلَبَةَ خِصَامٍ عِنْدَ بَابِهِ، فَخَرَجَ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ: إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ وَإِنَّهُ يَأْتِينِي الْخَصْمُ، فَلَعَلَّ بَعْضًا أَنْ يَكُونَ أَبْلَغَ مِنْ بَعْضٍ أَقْضِي لَهُ بِذَلِكَ وَأَحْسِبُ أَنَّهُ صَادِقٌ، فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ بِحَقِّ مُسْلِمٍ فَإِنَّمَا هِيَ قِطْعَةٌ مِنَ النَّارِ فَلْيَأْخُذْهَا، أَوْ لِيَدَعْهَا.

ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں عروہ بن زبیر نے، انہیں زینب بنت ابی سلمہ ؓ نے خبر دی، ان سے ان کی والدہ ام سلمہ ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے اپنے دروازے پر جھگڑا کرنے والوں کی آواز سنی اور ان کی طرف نکلے۔ پھر ان سے فرمایا کہ میں تمہارے ہی جیسا انسان ہوں، میرے پاس لوگ مقدمہ لے کر آتے ہیں، ممکن ہے ایک فریق دوسرے سے زیادہ عمدہ بولنے والا ہو اور میں اس کے لیے اس حق کا فیصلہ کر دوں اور یہ سمجھوں کہ میں نے فیصلہ صحیح کیا ہے (حالانکہ وہ صحیح نہ ہو) تو جس کے لیے میں کسی مسلمان کے حق کا فیصلہ کر دوں تو بلاشبہ یہ فیصلہ جہنم کا ایک ٹکڑا ہے۔

Narrated Um Salama (RA) : The Prophet ﷺ heard the voices of some people quarreling near his gate, so he went to them and said, "I am only a human being and litigants with cases of disputes come to me, and maybe one of them presents his case eloquently in a more convincing and impressive way than the other, and I give my verdict in his favor thinking he is truthful. So if I give a Muslims right to another (by mistake), then that (property) is a piece of Fire, which is up to him to take it or leave it." (See Hadith No. 281 )

7186Sahih Bukhari

لوگوں کے مال اور جائیداد کو امام کے فروخت کرنے کا بیان۔ اور آنحضرت ﷺ نے نعیم بن نحام کی طرف سے بیع کی ہے۔

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: بَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِهِ أَعْتَقَ غُلَامًا لَهُ عَنْ دُبُرٍ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرَهُ، فَبَاعَهُ بِثَمَانِ مِائَةِ دِرْهَمٍ، ثُمَّ أَرْسَلَ بِثَمَنِهِ إِلَيْهِ.

ہم سے ابن نمیر نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن بشر نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے سلمہ بن کہیل نے بیان کیا، ان سے عطاء نے اور ان سے جابر بن عبداللہ ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ کو معلوم ہوا کہ آپ کے صحابہ میں سے ایک نے اپنے غلام کو مدبر بنادیا ہے (کہ ان کی موت کے بعد وہ آزاد ہوجائے گا) چونکہ ان کے پاس اس کے سوا اور کوئی مال نہیں تھا اس لیے نبی کریم ﷺ نے اس غلام کو آٹھ سو درہم میں بیچ دیا اور اس کی قیمت انہیں بھیج دی۔

Narrated Jabir (RA) : The Prophet ﷺ came to know that one of his companions had given the promise of freeing his slave after his death, but as he had no other property than that slave, the Prophet ﷺ sold that slave for 80O dirhams and sent the price to him.

7187Sahih Bukhari

اس شخص کا بیان جس نے اس کو طعن شمار نہیں کیا کہ کوئی شخص امراء کے متعلق کوئی ایسی بات کہے جو وہ نہیں جانتا۔

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْثًا، وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ، فَطُعِنَ فِي إِمَارَتِهِ، وَقَالَ: إِنْ تَطْعَنُوا فِي إِمَارَتِهِ فَقَدْ كُنْتُمْ تَطْعَنُونَ فِي إِمَارَةِ أَبِيهِ مِنْ قَبْلِهِ، وَايْمُ اللَّهِ إِنْ كَانَ لَخَلِيقًا لِلْإِمْرَةِ، وَإِنْ كَانَ لَمِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ، وَإِنَّ هَذَا لَمِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ بَعْدَه.

ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالعزیز بن مسلم نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن دینار نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے عبداللہ بن عمر ؓ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے ایک لشکر بھیجا اور اس کا امیر اسامہ بن زید ؓ کو بنایا لیکن ان کی سرداری پر طعن کیا گیا۔ نبی کریم ﷺ نے اس پر فرمایا کہ اگر آج تم ان کی امارت کو مطعون قرار دیتے ہو تو تم نے اس سے پہلے اس کے والد (زید ؓ) کی امارت کو بھی مطعون قرار دیا تھا اور اللہ کی قسم! وہ امارت کے لیے سزاوار تھے اور وہ مجھے تمام لوگوں میں سب سے زیادہ عزیز تھے اور یہ (اسامہ ؓ) ان کے بعد سب سے زیادہ مجھے عزیز ہے۔

Narrated Ibn Umar (RA) : Allahs Apostle ﷺ sent an army unit headed by Usama bin Zaid and the people criticized his leadership. The Prophet ﷺ said (to the people), "If you are criticizing his leadership now, then you used to criticize his fathers leadership before. By Allah, he (Usamas father) deserved the leadership and used to be one of the most beloved persons to me, and now his son (Usama) is one of the most beloved persons to me after him. " (See Hadith No. 745, Vol. 5)

7188Sahih Bukhari

الدالخصام یعنی اس شخص کا بیان جو ہمیشہ جھگڑا کرے۔ لداعوجا (یعنی ٹیڑھے لوگ) کے معنی میں ہے۔

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ ، يُحَدِّثُ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَبْغَضُ الرِّجَالِ إِلَى اللَّهِ الْأَلَدُّ الْخَصِمُ.

ہم سے مسدد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے بیان کیا، انہوں نے ابن ابی ملیکہ سے سنا، وہ عائشہ ؓ سے بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ کے نزدیک سب سے مبغوض وہ شخص ہے جو سخت جھگڑالو ہو۔

Narrated Aisha (RA) : Allahs Apostle ﷺ said, "The most hated person in the sight of Allah, is the most quarrelsome person."

7189Sahih Bukhari

جب حاکم ظلم سے یا اہل علم کے خلاف فیصلہ کرے تو وہ مردود ہے

حَدَّثَنَا مَحْمُودٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَالِدًا. ح، وحَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْسَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ إِلَى بَنِي جَذِيمَةَ، فَلَمْ يُحْسِنُوا أَنْ يَقُولُوا أَسْلَمْنَا، فَقَالُوا: صَبَأْنَا صَبَأْنَا، فَجَعَلَ خَالِدٌ يَقْتُلُ وَيَأْسِرُ، وَدَفَعَ إِلَى كُلِّ رَجُلٍ مِنَّا أَسِيرَهُ، فَأَمَرَ كُلَّ رَجُلٍ مِنَّا أَنْ يَقْتُلَ أَسِيرَهُ، فَقُلْتُ: وَاللَّهِ لَا أَقْتُلُ أَسِيرِي وَلَا يَقْتُلُ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِي أَسِيرَهُ، فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَبْرَأُ إِلَيْكَ مِمَّا صَنَعَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ مَرَّتَيْنِ.

ہم سے محمود نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کہا، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے انہیں سالم نے اور انہیں ابن عمر ؓ نے کہ نبی کریم ﷺ نے خالد ؓ کو بھیجا۔ (دوسری سند) امام بخاری (رح) نے کہا اور مجھ سے نعیم بن حماد نے بیان کیا کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں سالم نے، انہیں ان کے والد نے کہ نبی کریم ﷺ نے خالد بن ولید ؓ کو بنی جذیمہ کی طرف بھیجا (جب انہیں اسلام کی دعوت دی) تو وہ أسلمنا. (ہم اسلام لائے) کہہ کر اچھی طرح اظہار اسلام نہ کرسکے بلکہ کہنے لگے کہ صبأنا صبأنا (ہم اپنے دین سے پھرگئے، ہم اپنے دین سے پھرگئے) اس پر خالد ؓ انہیں قتل اور قید کرنے لگے اور ہم میں سے ہر شخص کو اس کے حصہ کا قیدی دیا اور ہمیں حکم دیا کہ ہر شخص اپنے قیدی کو قتل کر دے۔ اس پر میں نے کہا کہ واللہ! میں اپنے قیدی کو قتل نہیں کروں گا اور نہ میرے ساتھیوں میں کوئی اپنے قیدی کو قتل کرے گا۔ پھر ہم نے اس کا ذکر نبی کریم ﷺ سے کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اے اللہ! میں اس سے برات ظاہر کرتا ہوں جو خالد بن ولید نے کیا، دو مرتبہ۔

Narrated Ibn Umar (RA) : The Prophet ﷺ sent (an army unit under the command of) Khalid bin Al-Walid to fight against the tribe of Bani Jadhima and those people could not express themselves by saying, "Aslamna," but they said, "Sabana! Sabana! " Khalid kept on killing some of them and taking some others as captives, and he gave a captive to everyone of us and ordered everyone of us to kill his captive. I said, "By Allah, I shall not kill my captive and none of my companions shall kill his captive!" Then we mentioned that to the Prophet ﷺ and he said, "O Allah! I am free from what Khalid bin Al-Walid has done," and repeated it twice.

7190Sahih Bukhari

امام کا کسی قوم کے پاس آکر ان کے درمیان صلح کرانے کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ الْمَدَنِيُّ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ، قَالَ: كَانَ قِتَالٌ بَيْنَ بَنِي عَمْرٍو، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ أَتَاهُمْ يُصْلِحُ بَيْنَهُمْ، فَلَمَّا حَضَرَتْ صَلَاةُ الْعَصْرِ، فَأَذَّنَ بِلَالٌ وَأَقَامَ، وَأَمَرَ أَبَا بَكْرٍ فَتَقَدَّمَ، وَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ فِي الصَّلَاةِ، فَشَقَّ النَّاسَ حَتَّى قَامَ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ فَتَقَدَّمَ فِي الصَّفِّ الَّذِي يَلِيهِ، قَالَ: وَصَفَّحَ الْقَوْمُ، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ لَمْ يَلْتَفِتْ حَتَّى يَفْرُغَ، فَلَمَّا رَأَى التَّصْفِيحَ لَا يُمْسَكُ عَلَيْهِ، الْتَفَتَ، فَرَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَهُ، فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ أَنِ امْضِهْ، وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ هَكَذَا، وَلَبِثَ أَبُو بَكْرٍ هُنَيَّةً يَحْمَدُ اللَّهَ عَلَى قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ مَشَى الْقَهْقَرَى، فَلَمَّا رَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ تَقَدَّمَ فَصَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاسِ، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ، قَالَ: يَا أَبَا بَكْرٍ مَا مَنَعَكَ إِذْ أَوْمَأْتُ إِلَيْكَ أَنْ لَا تَكُونَ مَضَيْتَ ؟، قَالَ: لَمْ يَكُنْ لِابْنِ أَبِي قُحَافَةَ أَنْ يَؤُمَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ لِلْقَوْمِ: إِذَا رَابَكُمْ أَمْرٌ فَلْيُسَبِّحِ الرِّجَالُ وَلْيُصَفِّحِ النِّسَاءُ.

ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد نے بیان کیا، ان سے ابوحازم المدینی نے بیان کیا اور ان سے سہل بن سعد الساعدی ؓ نے بیان کیا کہ قبیلہ بنی عمرو بن عوف میں باہم لڑائی ہوگئی۔ جب نبی کریم ﷺ کو اس کی اطلاع ملی تو آپ نے ظہر کی نماز پڑھی اور ان کے یہاں صلح کرانے کے لیے تشریف لائے۔ جب عصر کی نماز کا وقت ہوا (مدینہ میں) تو بلال ؓ نے اذان دی اور اقامت کہی۔ آپ نے ابوبکر ؓ کو نماز پڑھانے کا حکم دیا تھا۔ چناچہ وہ آگے بڑھے، اتنے میں نبی کریم ﷺ تشریف لے آئے ابوبکر ؓ نماز ہی میں تھے، پھر نبی کریم ﷺ لوگوں کی صف کو چیرتے ہوئے آگے بڑھے اور ابوبکر ؓ کے پیچھے کھڑے ہوگئے اور اس صف میں آگئے جو ان سے قریب تھی۔ سہل ؓ نے کہا کہ لوگوں نے نبی کریم ﷺ کی آمد کو بتانے کے لیے ہاتھ مارے۔ ابوبکر ؓ جب نماز شروع کرتے تو ختم کرنے سے پہلے کسی طرف توجہ نہیں کرتے تھے۔ جب انہوں نے دیکھا کہ ہاتھ پر ہاتھ مارنا رکتا ہی نہیں تو آپ متوجہ ہوئے اور نبی کریم ﷺ کو اپنے پیچھے دیکھا لیکن نبی کریم ﷺ نے اشارہ کیا کہ نماز پوری کریں اور آپ نے اس طرح ہاتھ سے اپنی جگہ ٹھہرے رہنے کا اشارہ کیا۔ ابوبکر ؓ تھوڑی دیر نبی کریم ﷺ کے حکم پر اللہ کی حمد کرنے کے لیے ٹھہرے رہے، پھر آپ الٹے پاؤں پیچھے آگئے۔ جب نبی کریم ﷺ نے یہ دیکھا تو آپ آگے بڑھے اور لوگوں کو آپ نے نماز پڑھائی۔ نماز پوری کرنے کے بعد آپ نے فرمایا، ابوبکر! جب میں نے ارشاد کردیا تھا تو آپ کو نماز پوری پڑھانے میں کیا چیز مانع تھی؟ انہوں نے عرض کیا، ابن ابی قحافہ کے لیے مناسب نہیں تھا کہ وہ نبی کریم ﷺ کی امامت کرے اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ (نماز میں) جب کوئی معاملہ پیش آئے تو مردوں کو سبحان اللہ کہنا چاہیے اور عورتوں کو ہاتھ پر ہاتھ مارنا چاہیے۔

Narrated Sahl bin Sad As-Saidi (RA) : There was some quarrel (sighting) among Bani Amr, and when this news reached the Prophet, he offered the Zuhr prayer and went to establish peace among them. In the meantime the time of Asr prayer was due, Bilal (RA) pronounced the Adhan and then the Iqama for the prayer and requested Abu Bakr (RA) (to lead the prayer) and Abu Bakr (RA) went forward. The Prophet ﷺ arrived while Abu Bakr (RA) was still praying. He entered the rows of praying people till he stood behind Abu Bakr (RA) in the (first) row. The people started clapping, and it was the habit of Abu Bakr (RA) that whenever he stood for prayer, he never glanced side-ways till he had finished it, but when Abu Bakr (RA) observed that the clapping was not coming to an end, he looked and saw the Prophet ﷺ standing behind him. The Prophet ﷺ beckoned him to carry on by waving his hand. Abu Bakr (RA) stood there for a while, thanking Allah for the saying of the Prophet ﷺ and then he retreated, taking his steps backwards. When the Prophet ﷺ saw that, he went ahead and led the people in prayer. When he finished the prayer, he said, "O Abu Bakr! What prevented you from carrying on with the prayer after I beckoned you to do so?" Abu Bakr (RA) replied, "It does not befit the son of Abi Quhafa to lead the Prophet ﷺ in prayer." Then the Prophet ﷺ said to the people, "If some problem arises during prayers, then the men should say, Subhan Allah!; and the women should clap." (See Hadith No. 652, Vol. 1)

7191Sahih Bukhari

کاتب کے لئے مستحب ہے کہ وہ امانتدار اور عاقل ہو۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ أَبوُ ثَابِتٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ: بَعَثَ إِلَيَّ أَبُو بَكْرٍ لِمَقْتَلِ أَهْلِ الْيَمَامَةِ وَعِنْدَهُ عُمَرُ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: إِنَّ عُمَرَ أَتَانِي، فَقَالَ: إِنَّ الْقَتْلَ قَدِ اسْتَحَرَّ يَوْمَ الْيَمَامَةِ بِقُرَّاءِ الْقُرْآنِ، وَإِنِّي أَخْشَى أَنْ يَسْتَحِرَّ الْقَتْلُ بِقُرَّاءِ الْقُرْآنِ فِي الْمَوَاطِنِ كُلِّهَا فَيَذْهَبَ قُرْآنٌ كَثِيرٌ، وَإِنِّي أَرَى أَنْ تَأْمُرَ بِجَمْعِ الْقُرْآنِ، قُلْتُ: كَيْفَ أَفْعَلُ شَيْئًا لَمْ يَفْعَلْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟، فَقَالَ عُمَرُ: هُوَ وَاللَّهِ خَيْرٌ، فَلَمْ يَزَلْ عُمَرُ يُرَاجِعُنِي فِي ذَلِكَ حَتَّى شَرَحَ اللَّهُ صَدْرِي لِلَّذِي شَرَحَ لَهُ صَدْرَ عُمَرَ، وَرَأَيْتُ فِي ذَلِكَ الَّذِي رَأَى عُمَرُ، قَالَ زَيْدٌ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَإِنَّكَ رَجُلٌ شَابٌّ عَاقِلٌ، لَا نَتَّهِمُكَ، قَدْ كُنْتَ تَكْتُبُ الْوَحْيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَتَبَّعِ الْقُرْآنَ، فَاجْمَعْهُ، قَالَ زَيْدٌ: فَوَاللَّهِ لَوْ كَلَّفَنِي نَقْلَ جَبَلٍ مِنَ الْجِبَالِ مَا كَانَ بِأَثْقَلَ عَلَيَّ مِمَّا كَلَّفَنِي مِنْ جَمْعِ الْقُرْآنِ، قُلْتُ: كَيْفَ تَفْعَلَانِ شَيْئًا لَمْ يَفْعَلْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هُوَ وَاللَّهِ خَيْرٌ فَلَمْ يَزَلْ يَحُثُّ مُرَاجَعَتِي حَتَّى شَرَحَ اللَّهُ صَدْرِي لِلَّذِي شَرَحَ اللَّهُ لَهُ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ وعُمَرَ، وَرَأَيْتُ فِي ذَلِكَ الَّذِي رَأَيَا فَتَتَبَّعْتُ الْقُرْآنَ أَجْمَعُهُ مِنَ الْعُسُبِ، وَالرِّقَاعِ، وَاللِّخَافِ، وَصُدُورِ الرِّجَالِ، فَوَجَدْتُ فِي آخِرِ سُورَةِ التَّوْبَةِ: لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ سورة التوبة آية 128إِلَى آخِرِهَا مَعَ خُزَيْمَةَ، أَوْ أَبِي خُزَيْمَةَ، فَأَلْحَقْتُهَا فِي سُورَتِهَا، وَكَانَتِ الصُّحُفُ عِنْدَ أَبِي بَكْرٍ حَيَاتَهُ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، ثُمَّ عِنْدَ عُمَرَ حَيَاتَهُ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ، ثُمَّ عِنْدَ حَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ: اللِّخَافُ يَعْنِي: الْخَزَفَ.

ہم سے محمد بن عبداللہ ابوثابت نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عبید بن سابق نے اور ان سے زید بن ثابت ؓ نے کہ جنگ یمامہ میں بکثرت (قاری صحابہ کی) شہادت کی وجہ سے ابوبکر ؓ نے مجھے بلا بھیجا۔ ان کے پاس عمر ؓ بھی تھے۔ ابوبکر ؓ نے مجھ سے کہا کہ عمر میرے پاس آئے اور کہا کہ جنگ یمامہ میں قرآن کے قاریوں کا قتل بہت ہوا ہے اور میرا خیال ہے کہ دوسری جنگوں میں بھی اسی طرح وہ شہید کئے جائیں گے اور قرآن اکثر ضائع ہوجائے گا۔ میں سمجھتا ہوں کہ آپ قرآن مجید کو (کتابی صورت میں) جمع کرنے کا حکم دیں۔ اس پر میں نے عمر ؓ سے کہا کہ میں کوئی ایسا کام کیسے کرسکتا ہوں جسے رسول اللہ ﷺ نے نہیں کیا۔ عمر ؓ نے کہا واللہ! یہ تو کار خیر ہے۔ عمر ؓ اس معاملہ میں برابر مجھ سے کہتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اسی طرح اس معاملے میں میرا بھی سینہ کھول دیا جس طرح عمر ؓ کا تھا اور میں بھی وہی مناسب سمجھنے لگا جسے عمر ؓ مناسب سمجھتے تھے۔ زید ؓ نے بیان کیا کہ مجھ سے ابوبکر ؓ نے کہا کہ تم جوان ہو، عقلمند ہو اور ہم تمہیں کسی بارے میں متہم بھی نہیں سمجھتے تم نبی کریم ﷺ کی وحی بھی لکھتے تھے، پس تم اس قرآن مجید (کی آیات) کو تلاش کرو اور ایک جگہ جمع کر دو۔ زید ؓ نے بیان کیا کہ واللہ! اگر ابوبکر ؓ مجھے کسی پہاڑ کو اٹھا کر دوسری جگہ رکھنے کا مکلف کرتے تو اس کا بوجھ بھی میں اتنا نہ محسوس کرتا جتنا کہ مجھے قرآن مجید کو جمع کرنے کے حکم سے محسوس ہوا۔ میں نے ان لوگوں سے کہا کہ آپ کس طرح ایسا کام کرتے ہیں جو رسول اللہ ﷺ نے نہیں کیا۔ ابوبکر نے کہا کہ واللہ! یہ خیر ہے۔ چناچہ مجھے آمادہ کرنے کی کوشش کرتے رہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس کام کے لیے میرا بھی سینہ کھول دیا جس کے لیے ابوبکر و عمر ؓ کا سینہ کھولا تھا اور میں بھی وہی مناسب خیال کرنے لگا جسے وہ لوگ مناسب خیال کر رہے تھے۔ چناچہ میں نے قرآن مجید کی تلاش شروع کی۔ اسے میں کھجور کی چھال، چمڑے وغیرہ کے ٹکڑوں، پتلے پتھر کے ٹکڑوں اور لوگوں کے سینوں سے جمع کرنے لگا۔ میں نے سورة التوبہ کی آخری آیت لقد جاء کم رسول من أنفسکم آخر تک خزیمہ یا ابوخزیمہ ؓ کے پاس پائی اور اس کو سورت میں شامل کرلیا۔ (قرآن مجید کے یہ مرتب) صحیفے ابوبکر ؓ کے پاس رہے جب تک وہ زندہ ہے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں وفات دی پھر وہ عمر ؓ کے پاس آگئے اور آخر وقت تک ان کے پاس رہے۔ جب آپ کو بھی اللہ تعالیٰ نے وفات دی تو وہ حفصہ بنت عمر ؓ کے پاس محفوظ رہے۔ محمد بن عبیداللہ نے کہا کہ اللخاف کے لفظ سے ٹھیکری مراد ہے جسے خزف. کہتے ہیں۔

Narrated Zaid bin Thabit (RA) : Abu Bakr (RA) sent for me owing to the large number of casualties in the battle of Al-Yamama, while Umar was sitting with him. Abu Bakr (RA) said (to me), Umar has come to my and said, A great number of Qaris of the Holy Quran were killed on the day of the battle of Al-Yamama, and I am afraid that the casualties among the Qaris of the Quran may increase on other battle-fields whereby a large part of the Quran may be lost. Therefore I consider it advisable that you (Abu Bakr) should have the Quran collected. I said, How dare I do something which Allahs Apostle ﷺ did not do? Umar said, By Allah, it is something beneficial. Umar kept on pressing me for that till Allah opened my chest for that for which He had opened the chest of Umar and I had in that matter, the same opinion as Umar had." Abu Bakr (RA) then said to me (Zaid), "You are a wise young man and we do not have any suspicion about you, and you used to write the Divine Inspiration for Allahs Apostle. So you should search for the fragmentary scripts of the Quran and collect it (in one Book)." Zaid further said: By Allah, if Abu Bakr (RA) had ordered me to shift a mountain among the mountains from one place to another it would not have been heavier for me than this ordering me to collect the Quran. Then I said (to Umar and Abu Bakr), "How can you do something which Allahs Apostle ﷺ did not do?" Abu Bakr (RA) said, "By Allah, it is something beneficial." Zaid added: So he (Abu Bakr) kept on pressing me for that until Allah opened my chest for that for which He had opened the chests of Abu Bakr (RA) and Umar, and I had in that matter, the same opinion as theirs. So I started compiling the Quran by collecting it from the leafless stalks of the date-palm tree and from the pieces of leather and hides and from the stones, and from the chests of men (who had memorized the Quran). I found the last verses of Sirat-at-Tauba: ("Verily there has come unto you an Apostle ﷺ (Muhammad) from amongst yourselves-- (9.128-129)) from Khuzaima or Abi Khuzaima and I added to it the rest of the Sura. The manuscripts of the Quran remained with Abu Bakr (RA) till Allah took him unto Him. Then it remained with Umar till Allah took him unto Him, and then with Hafsah (RA) bint Umar.

7192Sahih Bukhari

حاکم کا اپنے عاملوں کے پاس اور قاضی کا اپنے امینوں کو خط لکھنے کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي لَيْلَى . ح حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي لَيْلَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْلٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ هُوَ وَرِجَالٌ مِنْ كُبَرَاءِ قَوْمِهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلٍ، وَمُحَيِّصَةَ خَرَجَا إِلَى خَيْبَرَ مِنْ جَهْدٍ أَصَابَهُمْ، فَأُخْبِرَ مُحَيِّصَةُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ قُتِلَ وَطُرِحَ فِي فَقِيرٍ أَوْ عَيْنٍ، فَأَتَى يَهُودَ، فَقَالَ: أَنْتُمْ وَاللَّهِ قَتَلْتُمُوهُ، قَالُوا: مَا قَتَلْنَاهُ وَاللَّهِ، ثُمَّ أَقْبَلَ حَتَّى قَدِمَ عَلَى قَوْمِهِ فَذَكَرَ لَهُمْ، وَأَقْبَلَ هُوَ وَأَخُوهُ حُوَيِّصَةُ، وَهُوَ أَكْبَرُ مِنْهُ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ، فَذَهَبَ لِيَتَكَلَّمَ وَهُوَ الَّذِي كَانَ بِخَيْبَرَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمُحَيِّصَةَ: كَبِّرْ كَبِّرْ، يُرِيدُ السِّنَّ، فَتَكَلَّمَ حُوَيِّصَةُ، ثُمَّ تَكَلَّمَ مُحَيِّصَةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِمَّا أَنْ يَدُوا صَاحِبَكُمْ، وَإِمَّا أَنْ يُؤْذِنُوا بِحَرْبٍ، فَكَتَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِمْ بِهِ، فَكُتِبَ مَا قَتَلْنَاهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحُوَيِّصَةَ، وَمُحَيِّصَةَ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ: أَتَحْلِفُونَ وَتَسْتَحِقُّونَ دَمَ صَاحِبِكُمْ ؟، قَالُوا: لَا، قَالَ: أَفَتَحْلِفُ لَكُمْ يَهُودُ ؟، قَالُوا: لَيْسُوا بِمُسْلِمِينَ، فَوَدَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ مِائَةَ نَاقَةٍ حَتَّى أُدْخِلَتِ الدَّارَ، قَالَ سَهْلٌ: فَرَكَضَتْنِي مِنْهَا نَاقَةٌ.

ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں ابن ابی لیلیٰ نے (دوسری سند) امام بخاری (رح) نے کہا کہ ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ابولیلیٰ بن عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن سہل نے، ان سے سہل بن ابی حثمہ نے، انہیں سہل اور ان کی قوم کے بعض دوسرے ذمہ داروں نے خبر دی کہ عبداللہ، سہل اور محیصہ ؓ خیبر کی طرف (کھجور لینے کے لیے) گئے۔ کیونکہ تنگ دستی میں مبتلا تھے۔ پھر محیصہ کو بتایا گیا کہ عبداللہ کو کسی نے قتل کر کے گڑھے یا کنویں میں ڈال دیا ہے۔ پھر وہ یہودیوں کے پاس گئے اور کہا کہ واللہ! تم نے ہی قتل کیا ہے۔ انہوں نے کہا: واللہ! ہم نے انہیں نہیں قتل کیا۔ پھر وہ واپس آئے اور اپنی قوم کے پاس آئے اور ان سے ذکر کیا۔ اس کے بعد وہ اور ان کے بھائی حویصہ جو ان سے بڑے تھے اور عبدالرحمٰن بن سہل ؓ آئے، پھر محیصہ ؓ نے بات کرنی چاہی کیونکہ آپ ہی خیبر میں موجود تھے لیکن نبی کریم ﷺ نے ان سے کہا کہ بڑے کو آگے کرو، بڑے کو آپ کی مراد عمر کی بڑائی تھی۔ چناچہ حویصہ نے بات کی، پھر محیصہ نے بھی بات کی۔ اس کے بعد نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ یہودی تمہارے ساتھی کی دیت ادا کریں ورنہ لڑائی کے لیے تیار ہوجائیں۔ چناچہ نبی کریم ﷺ نے یہودیوں کو اس مقدمہ میں لکھا۔ انہوں نے جواب میں یہ لکھا کہ ہم نے انہیں نہیں قتل کیا ہے۔ پھر آپ نے حویصہ، محیصہ اور عبدالرحمٰن ؓ سے کہا کہ کیا آپ لوگ قسم کھا کر اپنے شہید ساتھی کے خون کے مستحق ہوسکتے ہیں؟ ان لوگوں نے کہا کہ نہیں (کیونکہ جرم کرتے دیکھا نہیں تھا) پھر آپ نے فرمایا، کیا آپ لوگوں کے بجائے یہودی قسم کھائیں (کہ انہوں نے قتل نہیں کیا ہے) ؟ انہوں نے کہا کہ وہ مسلمان نہیں ہیں اور وہ جھوٹی قسم کھا سکتے ہیں۔ چناچہ نبی کریم ﷺ نے اپنی طرف سے سو اونٹوں کی دیت ادا کی اور وہ اونٹ گھر میں لائے گئے۔ سہل ؓ نے بیان کیا کہ ان میں سے ایک اونٹنی نے مجھے لات ماری۔

Narrated Abu Laila bin Abdullah bin Abdur-Rahman bin Sahl (RA) : Sahl bin Abi Hathma and some great men of his tribe said, Abdullah bin Sahl and Muhaiyisa went out to Khaibar as they were struck with poverty and difficult living conditions. Then Muhaiyisa was informed that Abdullah had been killed and thrown in a pit or a spring. Muhaiyisa went to the Jews and said, "By Allah, you have killed my companion." The Jews said, "By Allah, we have not killed him." Muhaiyisa then came back to his people and told them the story. He, his elder brother Huwaiyisa and Abdur-Rahman bin Sahl came (to the Prophet) and he who had been at Khaibar, proceeded to speak, but the Prophet ﷺ said to Muhaiyisa, "The eldest! The eldest!" meaning, "Let the eldest of you speak." So Huwaiyisa spoke first and then Muhaiyisa. Allahs Apostle ﷺ said, "The Jews should either pay the blood money of your (deceased) companion or be ready for war." After that Allahs Apostle ﷺ wrote a letter to the Jews in that respect, and they wrote that they had not killed him. Then Allahs Apostle ﷺ said to Huwaiyisa, Muhaiyisa and Abdur-Rahman, "Can you take an oath by which you will be entitled to take the blood money?" They said, "No." He said (to them), "Shall we ask the Jews to take an oath before you?" They replied, "But the Jews are not Muslims." So Allahs Apostle ﷺ gave them one-hundred she-camels as blood money from himself. Sahl added: When those she-camels were made to enter the house, one of them kicked me with its leg.

7193Sahih Bukhari(7193-7194)

کیا حاکم کے لئے جائز ہے کہ صرف ایک شخص کو حالات دریافت کرنے کے لئے بھیجے۔

حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَا: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ، فَقَامَ خَصْمُهُ، فَقَالَ: صَدَقَ، فَاقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ، فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ: إِنَّ ابْنِي كَانَ عَسِيفًا عَلَى هَذَا، فَزَنَى بِامْرَأَتِهِ، فَقَالُوا لِي: عَلَى ابْنِكَ الرَّجْمُ، فَفَدَيْتُ ابْنِي مِنْهُ بِمِائَةٍ مِنَ الْغَنَمِ وَوَلِيدَةٍ، ثُمَّ سَأَلْتُ أَهْلَ الْعِلْمِ، فَقَالُوا: إِنَّمَا عَلَى ابْنِكَ جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللَّهِ، أَمَّا الْوَلِيدَةُ وَالْغَنَمُ فَرَدٌّ عَلَيْكَ وَعَلَى ابْنِكَ جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ، وَأَمَّا أَنْتَ يَا أُنَيْسُ لِرَجُلٍ فَاغْدُ عَلَى امْرَأَةِ هَذَا، فَارْجُمْهَا، فَغَدَا عَلَيْهَا أُنَيْسٌ، فَرَجَمَهَا.

ہم سے آدم نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا، کہا ہم سے زہری نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ نے اور ان سے ابوہریرہ اور زید بن خالد جہنی ؓ نے بیان کیا کہ ایک دیہاتی آئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمارا فیصلہ کتاب اللہ کے مطابق کر دیجئیے۔ پھر دوسرے فریق کھڑے ہوئے اور انہوں نے بھی کہا کہ یہ صحیح کہتے ہیں، ہمارا فیصلہ کتاب اللہ سے کر دیجئیے۔ پھر دیہاتی نے کہا میرا لڑکا اس شخص کے یہاں مزدور تھا، پھر اس نے اس کی بیوی کے ساتھ زنا کرلیا تو لوگوں نے مجھ سے کہا کہ تمہارے لڑکے کا حکم اسے رجم کرنا ہے لیکن میں نے اپنے لڑکے کی طرف سے سو بکریوں اور ایک باندی کا فدیہ دے دیا۔ پھر میں نے اہل علم سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ تمہارے لڑکے کو سو کوڑے مارے جائیں گے اور ایک سال کے لیے شہر بدر ہوگا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ میں تمہارے درمیان اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ کروں گا۔ باندی اور بکریاں تو تمہیں واپس ملیں گی اور تیرے لڑکے کی سزا سو کوڑے اور ایک سال کے لیے جلا وطن ہونا ہے اور انیس (جو ایک صحابی تھے) سے فرمایا کہ تم اس کی بیوی کے پاس جاؤ اور اسے رجم کرو۔ چناچہ انیس ؓ اس کے پاس گئے اور اسے رجم کیا۔

Narrated Abu Hurairah (RA) and Zaid bin Khalid Al-Juhani (RA) : A bedouin came and said, "O Allahs Apostle ﷺ ! Judge between us according to Allahs Book (Laws)." His opponent stood up and said, "He has said the truth, so judge between us according to Allahs Laws." The bedouin said, "My son was a laborer for this man and committed illegal sexual intercourse with his wife. The people said to me, Your son is to be stoned to death, so I ransomed my son for one hundred sheep and a slave girl. Then I asked the religious learned men and they said to me, Your son has to receive one hundred lashes plus one year of exile. " The Prophet ﷺ said, "I shall judge between you according to Allahs Book (Laws)! As for the slave girl and the sheep, it shall be returned to you, and your son shall receive one-hundred lashes and be exiled for one year. O you, Unais!" The Prophet ﷺ addressed some man, "Go in the morning to the wife of this man and stone her to death." So Unais went to her the next morning and stoned her to death.

7196Sahih Bukhari

حکام کے ترجمان کا بیان، اور کیا ایک ترجمان کا ہوناجائز ہے اور خارجہ بن زید ثابت نے زید بن ثابت سے نقل کیا کہ نبی ﷺ نے ان کو حکم دیا کہ یہود کی کتابت سیکھیں، یہاں تک کہ میں نبی ﷺ کے کی طرف سے آپ کاخط لکھنے لگا، اور یہود کا خط پڑھ کر آپ کو سنانے لگا جب کہ وہ لوگ خط لکھتے اور حضرت عمر نے جس وقت ان کے پاس علی اور عبدالرحمن اور عثمان بھی تھے کہا کہ یہ عورت کیا کہتی ہے، عبدالرحمن حاطب کا بیان ہے کہ میں نے کہا کہ وہ عورت آپ کو اپنے ساتھی کے متعلق خبردیتی ہے، جس نے اس کے ساتھ زنا کیا ہے اور حمزہ کا بیان ہے کہ میں ابن عباس اور لوگوں کے درمیان ترجمانی کرتا تھا اور بعض لوگوں نے کہا کہ حاکم کے لئے دو ترجمانوں کا ہونا ضروری ہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَا سُفْيَانَ بْنَ حَرْبٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ هِرَقْلَ أَرْسَلَ إِلَيْهِ فِي رَكْبٍ مِنْ قُرَيْشٍ، ثُمّ قَالَ لِتَرْجُمَانِهِ: قُلْ لَهُمْ إِنِّي سَائِلٌ هَذَا فَإِنْ كَذَبَنِي فَكَذِّبُوهُ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، فَقَالَ لِلتُّرْجُمَانِ: قُلْ لَهُ: إِنْ كَانَ مَا تَقُولُ حَقًّا فَسَيَمْلِكُ مَوْضِعَ قَدَمَيَّ هَاتَيْنِ.

ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی انہیں زہری نے، انہیں عبیداللہ بن عبداللہ نے خبر دی اور انہیں عبداللہ بن عباس ؓ نے خبر دی کہ ابوسفیان بن حرب نے انہیں خبر دی کہ ہرقل نے انہیں قریش کی ایک جماعت کے ساتھ بلا بھیجا، پھر اپنے ترجمان سے کہا، ان سے کہو کہ میں ان کے بارے میں پوچھوں گا۔ اگر یہ مجھ سے جھوٹ بات کہے تو اسے جھٹلا دیں۔ پھر پوری حدیث بیان کی اس سے کہو کہ اگر تمہاری باتیں صحیح ہیں تو وہ شخص اس ملک کا بھی ہوجائے گا جو اس وقت میرے قدموں کے نیچے ہے۔

Narrated Abdullah bin Abbas (RA) : That Abu Sufyan (RA) bin Harb told him that Heraclius had called him along with the members of a Quraish caravan and then said to his interpreter, "Tell them that I want to ask this ( Abu Sufyan (RA) ) a question, and if he tries to tell me a lie, they should contradict him." Then Abu Sufyan (RA) mentioned the whole narration and said that Heraclius said to the inter Peter, "Say to him ( Abu Sufyan (RA) ), If what you say is true, then he (the Prophet) will take over the place underneath my two feet. "

7197Sahih Bukhari

امام کا اپنے عمال کا محاسبہ کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَاسْتَعْمَلَ ابْنَ الْأُتَبِيَّةِ عَلَى صَدَقَاتِ بَنِي سُلَيْمٍ، فَلَمَّا جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَاسَبَهُ، قَالَ: هَذَا الَّذِي لَكُمْ وَهَذِهِ هَدِيَّةٌ أُهْدِيَتْ لِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَهَلَّا جَلَسْتَ فِي بَيْتِ أَبِيكَ وَبَيْتِ أُمِّكَ حَتَّى تَأْتِيَكَ هَدِيَّتُكَ إِنْ كُنْتَ صَادِقًا ؟، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَطَبَ النَّاسَ، وَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: أَمَّا بَعْدُ، فَإِنِّي أَسْتَعْمِلُ رِجَالًا مِنْكُمْ عَلَى أُمُورٍ مِمَّا وَلَّانِي اللَّهُ، فَيَأْتِي أَحَدُكُمْ، فَيَقُولُ: هَذَا لَكُمْ وَهَذِهِ هَدِيَّةٌ أُهْدِيَتْ لِي، فَهَلَّا جَلَسَ فِي بَيْتِ أَبِيهِ وَبَيْتِ أُمِّهِ حَتَّى تَأْتِيَهُ هَدِيَّتُهُ إِنْ كَانَ صَادِقًا، فَوَاللَّهِ لَا يَأْخُذُ أَحَدُكُمْ مِنْهَا شَيْئًا، قَالَ هِشَامٌ: بِغَيْرِ حَقِّهِ إِلَّا جَاءَ اللَّهَ يَحْمِلُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، أَلَا فَلَأَعْرِفَنَّ مَا جَاءَ اللَّهَ رَجُلٌ بِبَعِيرٍ لَهُ رُغَاءٌ، أَوْ بِبَقَرَةٍ لَهَا خُوَارٌ، أَوْ شَاةٍ تَيْعَرُ، ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى رَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ.

ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدہ بن سلیمان نے خبر دی، ان سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے، ان سے ابو حمید ساعدی نے کہ نبی کریم ﷺ نے ابن الاتیہ کو بنی سلیم کے صدقہ کی وصول یابی کے لیے عامل بنایا۔ جب وہ نبی کریم ﷺ کے پاس (وصول یابی کر کے) آئے اور نبی کریم ﷺ نے ان سے حساب طلب فرمایا تو انہوں نے کہا یہ تو آپ لوگوں کا ہے اور یہ مجھے ہدیہ دیا گیا ہے۔ اس پر نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ پھر تم اپنے ماں باپ کے گھر کیوں نہ بیٹھے رہے، اگر تم سچے ہو تو وہاں بھی تمہارے پاس ہدیہ آتا۔ پھر آپ کھڑے ہوئے اور لوگوں کو خطبہ دیا۔ آپ نے حمد و ثنا کے بعد فرمایا، امابعد! میں کچھ لوگوں کو بعض ان کاموں کے لیے عامل بناتا ہوں جو اللہ تعالیٰ نے مجھے سونپے ہیں، پھر تم میں سے کوئی ایک آتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ مال تمہارا ہے اور یہ ہدیہ ہے جو مجھے دیا گیا ہے۔ اگر وہ سچا ہے تو پھر کیوں نہ وہ اپنے باپ یا اپنی ماں کے گھر میں بیٹھا رہا تاکہ وہیں اس کا ہدیہ پہنچ جاتا۔ پس اللہ کی قسم! تم میں سے کوئی اگر اس مال میں سے کوئی چیز لے گا۔ ہشام نے آگے کا مضمون اس طرح بیان کیا کہ بلا حق کے تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے اس طرح لائے گا کہ وہ اس کو اٹھائے ہوئے ہوگا۔ آگاہ ہوجاؤ کہ میں اسے پہچان لوں گا جو اللہ کے پاس وہ شخص لے کر آئے گا، اونٹ جو آواز نکال رہا ہوگا یا گائے جو اپنی آواز نکال رہی ہوگی یا بکری جو اپنی آواز نکال رہی ہوگی۔ پھر آپ نے اپنے ہاتھ اٹھائے یہاں تک کہ میں نے آپ کے بغلوں کی سفیدی دیکھی اور فرمایا کیا میں نے پہنچا دیا۔

Narrated Abu Humaid As-Saidi (RA) : The Prophet ﷺ employed Ibn Al-Utbiyya to collect Zakat from Bani Sulaim, and when he returned (with the money) to Allahs Apostle ﷺ the Prophet ﷺ called him to account, and he said, "This (amount) is for you, and this was given to me as a present." Allahs Apostle ﷺ said, "Why dont you stay at your fathers house or your mothers house to see whether you will be given gifts or not, if you are telling the truth?" Then Allahs Apostle ﷺ stood up and addressed the people, and after glorifying and praising Allah, he said: Amma Badu (then after) I employ some men from among you for some job which Allah has placed in my charge, and then one of you comes to me and says, This (amount) is for you and this is a gift given to me. Why doesnt he stay at the house of his father or the house of his mother and see whether he will be given gifts or not if he was telling the truth by Allah, none of you takes anything of it (i.e., Zakat) for himself (Hisham added: unlawfully) but he will meet Allah on the Day of Resurrection carrying it on his neck! I do not want to see any of you carrying a grunting camel or a mooing cow or a bleating sheep on meeting Allah." Then the Prophet ﷺ raised both his hands till I saw the whiteness of his armpits, and said, "(No doubt)! Havent I conveyed Allahs Message!"

7198Sahih Bukhari

امام کے راز دار اور مشیروں کا بیان۔"بطانۃ"سے مراد وہ لوگ ہیں جو دخیل ہیں۔

حَدَّثَنَا أَصْبَغُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَا بَعَثَ اللَّهُ مِنْ نَبِيٍّ، وَلَا اسْتَخْلَفَ مِنْ خَلِيفَةٍ إِلَّا كَانَتْ لَهُ بِطَانَتَانِ: بِطَانَةٌ تَأْمُرُهُ بِالْمَعْرُوفِ وَتَحُضُّهُ عَلَيْهِ، وَبِطَانَةٌ تَأْمُرُهُ بِالشَّرِّ وَتَحُضُّهُ عَلَيْهِ، فَالْمَعْصُومُ مَنْ عَصَمَ اللَّهُ تَعَالَى، وَقَالَ سُلَيْمَانُ ، عَنْيَحْيَى ، أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ بِهَذَا، وَعَنِ ابْنِ أَبِي عَتِيقٍ ، وَمُوسَى ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، مِثْلَهُ، وَقَالَ شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ : حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَوْلَهُ، وَقَالَ الْأَوْزَاعِيُّ ، وَمُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ : حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ ابْنُ أَبِي حُسَيْنٍ ، وَسَعِيدُ بْنُ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَوْلَهُ، وَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنِي صَفْوَانُ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

ہم سے اصبغ نے بیان کیا، کہا ہم کو ابن وہب نے خبر دی، انہیں یونس نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، انہیں ابوسلمہ نے اور انہیں ابو سعید خدری ؓ نے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللہ نے جب بھی کوئی نبی بھیجا یا کسی کو خلیفہ بنایا تو اس کے ساتھ دو رفیق تھے ایک تو انہیں نیکی کے لیے کہتا اور اس پر ابھارتا اور دوسرا انہیں برائی کے لیے کہتا اور اس پر ابھارتا۔ پس معصوم وہ ہے جسے اللہ بچائے رکھے۔ اور سلیمان بن بلال نے اس حدیث کو یحییٰ بن سعید انصاری سے روایت کیا، کہا مجھ کو ابن شہاب نے خبر دی (اس کو اسماعیلی نے وصل کیا) اور ابن ابی عتیق اور موسیٰ بن عقبہ سے بھی، ان دونوں نے ابن شہاب سے یہی حدیث (اس کو بیہقی نے وصل کیا) اور شعیب بن ابی حمزہ نے زہری سے یوں روایت کی، مجھ سے ابوسلمہ نے بیان کیا، انہوں نے ابو سعید خدری ؓ سے ان کا قول (یعنی حدیث کو ث موقوفاً نقل کیا) اور امام اوزاعی اور معاویہ بن سلام نے کہا، مجھ سے زہری نے بیان کیا، کہا مجھ سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے، انہوں نے ابوہریرہ ؓ سے، انہوں نے نبی کریم ﷺ سے اور عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ابی حسین اور سعید بن زیاد نے اس کو ابوسلمہ سے روایت کیا،، انہوں نے ابوسعید خدری ؓ سے موقوفاً (یعنی ابوسعید کا قول) اور عبداللہ بن ابی جعفر نے کہا، مجھ سے صفوان بن سلیم نے بیان کیا، انہوں نے ابوسلمہ سے، انہوں نے ابوایوب سے، کہا میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا۔

Narrated Abu Said Al-Khudri (RA) : The Prophet ﷺ said, "Allah never sends a prophet or gives the Caliphate to a Caliph but that he (the prophet or the Caliph) has two groups of advisors: A group advising him to do good and exhorts him to do it, and the other group advising him to do evil and exhorts him to do it. But the protected person (against such evil advisors) is the one protected by Allah. "

7199Sahih Bukhari(7200)

لوگ امام سے کس طرح بیعت کریں؟

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَادَةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ: بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي الْمَنْشَطِ وَالْمَكْرَهِ. وَأَنْ لَا نُنَازِعَ الْأَمْرَ أَهْلَهُ، وَأَنْ نَقُومَ أَوْ نَقُولَ بِالْحَقِّ حَيْثُمَا كُنَّا، لَا نَخَافُ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ.

ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن سعید نے، انہوں نے کہا کہ مجھ کو عبادہ بن الولید نے خبر دی، انہیں ان کے والد نے خبر دی، ان سے عبادہ بن صامت ؓ نے بیان کیا کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے آپ کی سننے اور اطاعت کرنے کی بیعت کی، خوشی اور ناخوشی دونوں حالتوں میں۔ اور اس شرط پر کہ جو شخص سرداری کے لائق ہوگا (مثلاً قریش میں سے ہو اور شرع پر قائم ہو) اس کی سرداری قبول کرلیں گے اس سے جھگڑا نہ کریں اور یہ کہ ہم حق کو لے کر کھڑے ہوں گے یا حق بات کہیں گے جہاں بھی ہوں اور اللہ کے راستے میں ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہ کریں گے۔

Narrated Ubadah bin As-Samit (RA): We gave the oath of allegiance to Allahs Apostle ﷺ that we would listen to and obey him both at the time when we were active and at the time when we were tired and that we would not fight against the ruler or disobey him, and would stand firm for the truth or say the truth wherever we might be, and in the Way of Allah we would not be afraid of the blame of the blamers. (See Hadith No. 178 and 320)

7201Sahih Bukhari

لوگ امام سے کس طرح بیعت کریں؟

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَدَاةٍ بَارِدَةٍ وَالْمُهَاجِرُونَ، وَالْأَنْصَارُ يَحْفِرُونَ الْخَنْدَقَ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ إِنَّ الْخَيْرَ خَيْرُ الْآخِرَهْ فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَهْ، فَأَجَابُوا نَحْنُ الَّذِينَ بَايَعُوا مُحَمَّدَا عَلَى الْجِهَادِ مَا بَقِينَا أَبَدَا.

ہم سے عمر بن علی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے خالد بن حارث نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حمید نے بیان کیا اور ان سے انس بن مالک ؓ نے کہ نبی کریم ﷺ سردی میں صبح کے وقت باہر نکلے اور مہاجرین اور انصار خندق کھود رہے تھے، پھر نبی کریم ﷺ نے فرمایا اے اللہ! خیر تو آخرت ہی کی خیر ہے۔ پس انصار و مہاجرین کی مغفرت کر دے۔ اس کا جواب لوگوں نے دیا کہ ہم وہ ہیں جنہوں نے محمد ﷺ سے جہاد پر بیعت کی ہے ہمیشہ کے لیے جب تک وہ زندہ ہیں۔

Narrated Anas (RA) : The Prophet ﷺ went out on a cold morning while the Muhajirin (emigrants) and the Ansar were digging the trench. The Prophet ﷺ then said, "O Allah! The real goodness is the goodness of the Here after, so please forgive the Ansar and the Muhajirin." They replied, "We are those who have given the Pledge of allegiance to Muhammad for to observe Jihad as long as we remain alive."

7202Sahih Bukhari

لوگ امام سے کس طرح بیعت کریں؟

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كُنَّا إِذَا بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ، يَقُولُ لَنَا: فِيمَا اسْتَطَعْتُمْ.

ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن دینار نے اور ان سے عبداللہ بن عمر ؓ نے بیان کیا کہ جب ہم رسول اللہ ﷺ سے سننے اور اطاعت کرنے کی بیعت کرتے تو آپ ہم سے فرماتے کہ جتنی تمہیں طاقت ہو۔

Narrated Abdullah bin Umar (RA) : Whenever we gave the Pledge of allegiance to Allahs Apostle ﷺ for to listen to and obey, he used to say to us, for as much as you can"

7203Sahih Bukhari

لوگ امام سے کس طرح بیعت کریں؟

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، قَالَ: شَهِدْتُ ابْنَ عُمَرَ حَيْثُ اجْتَمَعَ النَّاسُ عَلَى عَبْدِ الْمَلِكِ، قَالَ: كَتَبَ أني أُقِرُّ بِالسَّمْعِ وَالطَّاعَةِ لِعَبْدِ اللَّهِ عَبْدِ الْمَلِكِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ علَى سُنَّةِ اللَّهِ وَسُنَّةِ رَسُولِهِ مَا اسْتَطَعْتُ، وَإِنَّ بَنِيَّ قَدْ أَقَرُّوا بِمِثْلِ ذَلِكَ.

ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے سفیان نے، ان سے عبداللہ بن دینار نے بیان کیا کہا کہ میں اس وقت عبداللہ بن عمر ؓ کے پاس موجود تھا جب سب لوگ عبدالملک بن مروان سے بیعت کے لیے جمع ہوگئے۔ بیان کیا کہ انہوں نے عبدالملک کو لکھا کہ میں سننے اور اطاعت کرنے کا اقرار کرتا ہوں عبداللہ عبدالملک امیرالمؤمنین کے لیے اللہ کے دین اور اس کے رسول کی سنت کے مطابق جتنی بھی مجھ میں قوت ہوگی اور یہ کہ میرے لڑکے بھی اس کا اقرار کرتے ہیں۔

Narrated Abdullah bin Dinar (RA) : I witnessed Ibn Umar (RA) when the people gathered around Abdul Malik. Ibn Umar (RA) wrote: I gave the Pledge of allegiance that I will listen to and obey Allahs Slave, Abdul Malik, Chief of the believers according to Allahs Laws and the Traditions of His Apostle ﷺ as much as I can; and my sons too, give the same pledge.