باب: صفیں برابر کرتے وقت امام کا لوگوں کی طرف منہ کرنا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ ابْنُ أَبِي رَجَاءٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ ، قَالَ: أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَأَقْبَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَجْهِهِ، فَقَالَ: أَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ وَتَرَاصُّوا فَإِنِّي أَرَاكُمْ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِي.
ہم سے احمد بن ابی رجاء نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے معاویہ بن عمرو نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے زائدہ بن قدامہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حمید طویل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے انس بن مالک ؓ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ نماز کے لیے تکبیر کہی گئی تو رسول اللہ ﷺ نے اپنا منہ ہماری طرف کیا اور فرمایا کہ اپنی صفیں برابر کرلو اور مل کر کھڑے ہوجاؤ۔ میں تم کو اپنی پیٹھ کے پیچھے سے بھی دیکھتا رہتا ہوں۔
Narrated Anas bin Malik (RA): Once the Iqama was pronounced and Allahs Apostle ﷺ faced us and said, "straighten your rows and stand closer together, for I see you from behind my back.
باب: صف اول (کے ثواب کے بیان)۔
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الشُّهَدَاءُ الْغَرِقُ وَالْمَطْعُونُ وَالْمَبْطُونُ وَالْهَدِمُ.
وَقَالَ: وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي التَّهْجِيرِ لَاسْتَبَقُوا، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي الْعَتَمَةِ وَالصُّبْحِ لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي الصَّفِّ الْمُقَدَّمِ لَاسْتَهَمُوا.
ہم سے ابوعاصم ضحاک بن مخلد نے امام مالک کے واسطہ سے بیان کیا، انہوں نے سمی سے، انہوں نے ابوصالح ذکوان سے، انہوں نے ابوہریرہ ؓ سے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ڈوبنے والے، پیٹ کی بیماری میں مرنے والے، طاعون میں مرنے والے اور دب کر مرنے والے شہید ہیں۔
فرمایا کہ اگر لوگ جان لیں جو ثواب نماز کے لیے جلدی آنے میں ہے تو ایک دوسرے سے آگے بڑھیں اور اگر عشاء اور صبح کی نماز کے ثواب کو جان لیں تو اس کے لیے ضرور آئیں۔ خواہ سرین کے بل آنا پڑے اور اگر پہلی صف کے ثواب کو جان لیں تو اس کے لیے قرعہ اندازی کریں۔
Narrated Abu Hurairah (RA): The Prophet ﷺ said, "Martyrs are those who die because of drowning, plague, an abdominal disease, or of being buried alive by a falling building." And then he added, "If the people knew the Reward for the Zuhr prayer in its early time, they would race for it. If they knew the reward for the Isha and the Fajr prayers in congregation, they would join them even if they had to crawl. If they knew the reward for the first row, they would draw lots for it."
باب: صف برابر کرنا نماز کا پورا کرنا ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَلَا تَخْتَلِفُوا عَلَيْهِ، فَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا: رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا، وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا أَجْمَعُونَ، وَأَقِيمُوا الصَّفَّ فِي الصَّلَاةِ فَإِنَّ إِقَامَةَ الصَّفِّ مِنْ حُسْنِ الصَّلَاةِ.
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو عبدالرزاق نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ ہمیں معمر نے ہمام بن منبہ کے واسطہ سے خبر دی، انہوں نے ابوہریرہ ؓ سے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ امام اس لیے ہوتا ہے تاکہ اس کی پیروی کی جائے، اس لیے تم اس سے اختلاف نہ کرو۔ جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو اور جب وہ سمع الله لمن حمده کہے تو تم ربنا لک الحمد کہو اور جب وہ سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو۔ اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم سب بھی بیٹھ کر پڑھو اور نماز میں صفیں برابر رکھو، کیونکہ نماز کا حسن صفوں کے برابر رکھنے میں ہے۔
Narrated Abu Hurairah (RA): The Prophet ﷺ said, "The Imam is (appointed) to be followed. So do not differ from him, bow when he bows, and say, "Rabbana-lakal hamd" if he says "Samia-l-lahu Liman hamida"; and if he prostrates, prostrate (after him), and if he prays sitting, pray sitting all together, and straighten the rows for the prayer, as the straightening of the rows is amongst those things which make your prayer a correct and perfect one. (See Hadith No. 657).
باب: صف برابر کرنا نماز کا پورا کرنا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: سَوُّوا صُفُوفَكُمْ فَإِنَّ تَسْوِيَةَ الصُّفُوفِ مِنْ إِقَامَةِ الصَّلَاةِ.
ہم سے ابوالولید ہشام بن عبدالملک نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو شعبہ نے قتادہ کے واسطہ سے خبر دی، انہوں نے انس ؓ سے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ صفیں برابر رکھو کیونکہ صفوں کا برابر رکھنا نماز کے قائم کرنے میں داخل ہے۔
Narrated Anas bin Malik (RA): The Prophet ﷺ said, "Straighten your rows as the straightening of rows is essential for a perfect and correct prayer.”
باب: اس بارے میں کہ صفیں پوری نہ کرنے والوں کا گناہ۔
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ أَسَدٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّائِيُّ ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ قَدِمَ الْمَدِينَةَ، فَقِيلَ لَهُ: مَا أَنْكَرْتَ مِنَّا مُنْذُ يَوْمِ عَهِدْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَا أَنْكَرْتُ شَيْئًا، إِلَّا أَنَّكُمْ لَا تُقِيمُونَ الصُّفُوفَ، وَقَالَ عُقْبَةُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ قَدِمَ عَلَيْنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ الْمَدِينَةَ بِهَذَا.
ہم سے معاذ بن اسد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے فضل بن موسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سعید بن عبید طائی نے بیان کیا بشیر بن یسار انصاری سے، انہوں نے انس بن مالک ؓ سے کہ جب وہ (بصرہ سے) مدینہ آئے، تو آپ سے پوچھا گیا کہ نبی کریم ﷺ کے عہد مبارک اور ہمارے اس دور میں آپ نے کیا فرق پایا۔ فرمایا کہ اور تو کوئی بات نہیں صرف لوگ صفیں برابر نہیں کرتے۔ اور عقبہ بن عبید نے بشیر بن یسار سے یوں روایت کیا کہ انس ؓ ہمارے پاس مدینہ تشریف لائے۔ پھر یہی حدیث بیان کی۔
Narrated Anas bin Malik (RA): I arrived at Madinah and was asked whether I found any change since the days of Allahs Apostle. I said, "I have not found any change except that you do not stand in alignment in your prayers."
باب: صف میں کندھے سے کندھا اور قدم سے قدم ملا کر کھڑے ہونا۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ فَإِنِّي أَرَاكُمْ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِي، وَكَانَ أَحَدُنَا يُلْزِقُ مَنْكِبَهُ بِمَنْكِبِ صَاحِبِهِ وَقَدَمَهُ بِقَدَمِهِ.
ہم سے عمرو بن خالد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے زہیر بن معاویہ نے حمید سے بیان کیا، انہوں نے انس ؓ سے، انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے کہ آپ ﷺ نے فرمایا، صفیں برابر کرلو۔ میں تمہیں اپنے پیچھے سے بھی دیکھتا رہتا ہوں اور ہم میں سے ہر شخص یہ کرتا کہ (صف میں) اپنا کندھا اپنے ساتھی کے کندھے سے اور اپنا قدم (پاؤں) اس کے قدم (پاؤں) سے ملا دیتا تھا۔
Narrated Anas bin Malik (RA): The Prophet ﷺ said, "Straighten your rows for I see you from behind my back." Anas added, "Every one of us used to put his shoulder with the shoulder of his companion and his foot with the foot of his companion."
باب: اگر کوئی شخص امام کے بائیں طرف کھڑا ہو اور امام اپنے پیچھے سے اسے دائیں طرف کر دے تو نماز ہو جائے گی۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَأْسِي مِنْ وَرَائِي فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ فَصَلَّى وَرَقَدَ، فَجَاءَهُ الْمُؤَذِّنُ فَقَامَ وَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے داؤد بن عبدالرحمٰن نے عمرو بن دینار سے بیان کیا، انہوں نے ابن عباس ؓ کے غلام کریب سے انہوں نے عبداللہ بن عباس ؓ سے،، آپ نے بتلایا کہ ایک رات میں نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ (آپ کے گھر میں تہجد کی) نماز پڑھی۔ میں آپ کے بائیں طرف کھڑا ہوگیا۔ اس لیے آپ ﷺ نے پیچھے سے میرا سر پکڑ کر مجھے اپنے دائیں طرف کردیا۔ پھر نماز پڑھی اور آپ ﷺ سو گئے جب مؤذن (نماز کی اطلاع دینے) آیا تو آپ ﷺ نماز پڑھانے کے لیے کھڑے ہوئے اور وضو نہیں کیا۔
Narrated Ibn Abbas (RA): I prayed with the Prophet ﷺ one night and stood on his left side. Allahs Apostle ﷺ caught hold of my head from behind and drew me to his right and then offered the prayer and slept. Later the Muadh-dhin came and the Prophet ﷺ stood up for prayer without performing ablution.
باب: اس بارے میں کہ عورت اکیلی ایک صف کا حکم رکھتی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ إِسْحَاقَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: صَلَّيْتُ أَنَا وَيَتِيمٌ فِي بَيْتِنَا خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأُمِّي أُمُّ سُلَيْمٍ خَلْفَنَا.
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، ان سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، وہ اسحٰق بن عبداللہ بن ابی طلحہ سے وہ انس بن مالک ؓ سے انہوں نے بتلایا کہ میں نے اور ایک یتیم لڑکے (ضمیرہ بن ابی ضمیرہ) نے جو ہمارے گھر میں موجود تھا، نبی کریم ﷺ کے پیچھے نماز پڑھی اور میری والدہ ام سلیم ہمارے پیچھے تھیں۔
Narrated Anas bin Malik (RA): One night an orphan and I offered the prayers behind the Prophet ﷺ in my house and my mother (Um Sulaim) was standing behind us (by herself forming a row).
باب: مسجد اور امام کی داہنی جانب کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قُمْتُ لَيْلَةً أُصَلِّي عَنْ يَسَارِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخَذَ بِيَدِي أَوْ بِعَضُدِي حَتَّى أَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ، وَقَالَ: بِيَدِهِ مِنْ وَرَائِي.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ثابت بن یزید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عاصم احول نے عامر شعبی سے بیان کیا، انہوں نے ابن عباس ؓ سے، آپ نے بتلایا کہ میں ایک رات نبی کریم ﷺ کے بائیں طرف (آپ ﷺ کے گھر میں) نماز (تہجد) پڑھنے کے لیے کھڑا ہوگیا۔ اس لیے آپ ﷺ نے میرا سر یا بازو پکڑ کر مجھ کو اپنی دائیں طرف کھڑا کردیا۔ آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا تھا کہ پیچھے سے گھوم آؤ۔
Narrated Ibn Abbas (RA): One night I stood to the left of the Prophet ﷺ in the prayer but he caught hold of me by the hand or by the shoulder (arm) till he made me stand on his right and beckoned with his hand (for me) to go from behind (him). (Al-Kashmaihani-Fateh al-Bari).
باب: جب امام اور مقتدیوں کے درمیان کوئی دیوار حائل ہو یا پردہ ہو (تو کچھ قباحت نہیں)۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ فِي حُجْرَتِهِ وَجِدَارُ الْحُجْرَةِ قَصِيرٌ، فَرَأَى النَّاسُ شَخْصَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ أُنَاسٌ يُصَلُّونَ بِصَلَاتِهِ فَأَصْبَحُوا فَتَحَدَّثُوا بِذَلِكَ، فَقَامَ اللَّيْلَةَ الثَّانِيَةَ فَقَامَ مَعَهُ أُنَاسٌ يُصَلُّونَ بِصَلَاتِهِ، صَنَعُوا ذَلِكَ لَيْلَتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا حَتَّى إِذَا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَخْرُجْ فَلَمَّا أَصْبَحَ ذَكَرَ ذَلِكَ النَّاسُ فَقَالَ: إِنِّي خَشِيتُ أَنْ تُكْتَبَ عَلَيْكُمْ صَلَاةُ اللَّيْلِ.
ہم سے محمد بن سلام بیکندی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدہ بن سلیمان نے یحییٰ بن سعید انصاری کے واسطہ سے بیان کیا، انہوں نے عمرہ بنت عبدالرحمٰن سے، انہوں نے عائشہ ؓ سے، آپ نے بتلایا کہ رسول اللہ ﷺ رات میں اپنے حجرہ کے اندر (تہجد کی) نماز پڑھتے تھے۔ حجرے کی دیواریں پست تھیں اس لیے لوگوں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھ لیا اور کچھ لوگ آپ ﷺ کی اقتداء میں نماز کے لیے کھڑے ہوگئے۔ صبح کے وقت لوگوں نے اس کا ذکر دوسروں سے کیا۔ پھر جب دوسری رات آپ ﷺ کھڑے ہوئے تو کچھ لوگ آپ ﷺ کی اقتداء میں اس رات بھی کھڑے ہوگئے۔ یہ صورت دو یا تین رات تک رہی۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ بیٹھ رہے اور نماز کے مقام پر تشریف نہیں لائے۔ پھر صبح کے وقت لوگوں نے اس کا ذکر کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں ڈرا کہ کہیں رات کی نماز (تہجد) تم پر فرض نہ ہوجائے۔ (اس خیال سے میں نے یہاں کا آنا ناغہ کردیا) ۔
Narrated Aisha (RA): Allahs Apostle ﷺ used to pray in his room at night. As the wall of the room was LOW, the people saw him and some of them stood up to follow him in the prayer. In the morning they spread the news. The following night the Prophet ﷺ stood for the prayer and the people followed him. This went on for two or three nights. Thereupon Allahs Apostle ﷺ did not stand for the prayer the following night, and did not come out. In the morning, the people asked him about it. He replied, that he was afraid that the night prayer might become compulsory.
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَهُ حَصِيرٌ يَبْسُطُهُ بِالنَّهَارِ وَيَحْتَجِرُهُ بِاللَّيْلِ فَثَابَ إِلَيْهِ نَاسٌ فَصَلَّوْا وَرَاءَهُ.
ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے محمد بن اسماعیل بن ابی فدیک نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے محمد بن عبدالرحمٰن بن ابی ذئب نے بیان کیا، مقبری کے واسطہ سے، انہوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے، انہوں نے عائشہ ؓ سے کہ نبی کریم ﷺ کے پاس ایک چٹائی تھی۔ جسے آپ ﷺ دن میں بچھاتے تھے اور رات میں اس کا پردہ کرلیتے تھے۔ پھر چند لوگ آپ ﷺ کے پاس کھڑے ہوئے یا آپ ﷺ کی طرف جھکے اور آپ ﷺ کے پیچھے نماز پڑھنے لگے۔
Narrated Aisha (RA): The Prophet ﷺ had a mat which he used to spread during the day and use as a curtain at night. So a number of people gathered at night facing it and prayed behind him.
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اتَّخَذَ حُجْرَةً، قَالَ: حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ: مِنْ حَصِيرٍ فِي رَمَضَانَ فَصَلَّى فِيهَا لَيَالِيَ فَصَلَّى بِصَلَاتِهِ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَلَمَّا عَلِمَ بِهِمْ جَعَلَ يَقْعُدُ فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ، فَقَالَ: قَدْ عَرَفْتُ الَّذِي رَأَيْتُ مِنْ صَنِيعِكُمْ فَصَلُّوا أَيُّهَا النَّاسُ فِي بُيُوتِكُمْ، فَإِنَّ أَفْضَلَ الصَّلَاةِ صَلَاةُ الْمَرْءِ فِي بَيْتِهِ إِلَّا الْمَكْتُوبَةَ، قَالَ عَفَّانُ : حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا مُوسَى ، سَمِعْتُ أَبَا النَّضْرِ ، عَنْ بُسْرٍ ، عَنْ زَيْدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے عبدالاعلیٰ بن حماد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے وہیب بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا، ابوالنضر سالم سے، انہوں نے بسر بن سعید سے، انہوں نے زید بن ثابت ؓ سے کہ رسول اللہ ﷺ نے رمضان میں ایک حجرہ بنا لیا یا اوٹ (پردہ) بسر بن سعید نے کہا میں سمجھتا ہوں وہ بورئیے کا تھا۔ آپ نے کئی رات اس میں نماز پڑھی۔ صحابہ میں سے بعض حضرات نے ان راتوں میں آپ کی اقتداء کی۔ جب آپ کو اس کا علم ہوا تو آپ نے بیٹھ رہنا شروع کیا (نماز موقوف رکھی) پھر برآمد ہوئے اور فرمایا تم نے جو کیا وہ مجھ کو معلوم ہے، لیکن لوگو! تم اپنے گھروں میں نماز پڑھتے رہو کیونکہ بہتر نماز آدمی کی وہی ہے جو اس کے گھر میں ہو۔ مگر فرض نماز (مسجد میں پڑھنی ضروری ہے) اور عفان بن مسلم نے کہا کہ ہم سے وہیب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ابوالنضر ابن ابی امیہ سے سنا، وہ بسر بن سعید سے روایت کرتے تھے، وہ زید بن ثابت سے، وہ نبی کریم ﷺ سے۔
Narrated Zaid bin Thabit (RA): Allahs Apostle ﷺ made a small room in the month of Ramadan (Said said, "I think that Zaid bin Thabit said that it was made of a mat") and he prayed there for a few nights, and so some of his companions prayed behind him. When he came to know about it, he kept on sitting. In the morning, he went out to them and said, "I have seen and understood what you did. You should pray in your houses, for the best prayer of a person is that which he prays in his house except the compulsory prayers."
باب: تکبیر کا واجب ہونا اور نماز کا شروع کرنا۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيُّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكِبَ فَرَسًا فَجُحِشَ شِقُّهُ الْأَيْمَنُ، قَالَ أَنَسٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: فَصَلَّى لَنَا يَوْمَئِذٍ صَلَاةً مِنَ الصَّلَوَاتِ وَهُوَ قَاعِدٌ فَصَلَّيْنَا وَرَاءَهُ قُعُودًا، ثُمَّ قَالَ لَمَّا سَلَّمَ: إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا، وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا، وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا: رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ.
ہم سے ابوالیمان حکم بن نافع نے یہ بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے شعیب نے زہری کے واسطہ سے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے انس بن مالک انصاری ؓ نے خبر دی کہ رسول اللہ ﷺ ایک گھوڑے پر سوار ہوئے اور (گر جانے کی وجہ سے) آپ ﷺ کے دائیں پہلو میں زخم آگئے۔ انس ؓ نے بتلایا کہ اس دن ہمیں آپ ﷺ نے ایک نماز پڑھائی، چونکہ آپ ﷺ بیٹھے ہوئے تھے، اس لیے ہم نے بھی آپ ﷺ کے پیچھے بیٹھ کر نماز پڑھی۔ پھر سلام کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا کہ امام اس لیے ہے کہ اس کی پیروی کی جائے۔ اس لیے جب وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر پڑھو اور جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو اور جب وہ سر اٹھائے تو تم بھی اٹھاؤ اور جب وہ سجدہ کرے تو تم بھی کرو اور جب وہ سمع الله لمن حمده کہے تو تم ربنا ولک الحمد کہو۔
Narrated Anas bin Malik Al-Ansari (RA): Allahs Apostle ﷺ rode a horse and fell down and the right side of his body was injured. On that day he prayed one of the prayers sitting and we also prayed behind him sitting. When the Prophet ﷺ finished the prayer with Taslim, he said, "The Imam is to be followed and if he prays standing then pray standing, and bow when he bows, and raise your heads when he raises his head; prostrate when he prostrates; and if he says "Samia-l-lahu Liman hamida", you should say, "Rabbana wa-laka-l hamd.:
باب: تکبیر کا واجب ہونا اور نماز کا شروع کرنا۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ قَالَ: خَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ فَرَسٍ فَجُحِشَ فَصَلَّى لَنَا قَاعِدًا فَصَلَّيْنَا مَعَهُ قُعُودًا، ثُمَّ انْصَرَفَ فَقَالَ: إِنَّمَا الْإِمَامُ أَوْ إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا، وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا: رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، انہوں نے ابن شہاب زہری سے بیان کیا، انہوں نے انس بن مالک ؓ سے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ گھوڑے سے گرگئے اور آپ ﷺ زخمی ہوگئے، اس لیے آپ ﷺ نے بیٹھ کر نماز پڑھی اور ہم نے بھی آپ ﷺ کی اقتداء میں بیٹھ کر نماز پڑھی۔ پھر نماز پڑھ کر آپ ﷺ نے فرمایا کہ امام اس لیے ہے کہ اس کی پیروی کی جائے۔ اس لیے جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو۔ جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو۔ جب وہ سر اٹھائے تو تم بھی اٹھاؤ اور جب وہ سمع الله لمن حمده کہے تو تم ربنا لک الحمد اور جب وہ سجدہ کرے تو تم بھی کرو۔
Narrated Anas bin Malik (RA): Allahs Apostle ﷺ fell from a horse and got injured so he led the prayer sitting and we also prayed sitting. When he completed the prayer he said, "The Imam is to be followed; if he says Takbir then say Takbir, bow if he bows; raise your heads when he raises his head, when he says, Sami a-l-lahu Liman hamida say, Rabbana laka-l-hamd, and prostrate when he prostrates."
باب: تکبیر کا واجب ہونا اور نماز کا شروع کرنا۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا، وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا أَجْمَعُونَ.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں شعیب نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ ابوالزناد نے مجھ سے بیان کیا اعرج کے واسطہ سے، انہوں نے ابوہریرہ ؓ سے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، امام اس لیے ہے کہ اس کی پیروی کی جائے، اس لیے جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو۔ جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو اور جب وہ سمع الله لمن حمده کہے تو تم ربنا ولک الحمد اور جب وہ سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم سب بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔
Narrated Abu Hurairah (RA): The Prophet ﷺ said, "The Imam is to be followed. Say the Takbir when he says it; bow if he bows; if he says Sami a-l-lahu Liman hamida, say, Rabbana wa-laka-l-hamd, prostrate if he prostrates and pray sitting altogether if he prays sitting."
باب: تکبیر تحریمہ میں نماز شروع کرتے ہی برابر دونوں ہاتھوں کا (کندھوں یا کانوں تک) اٹھانا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ وَإِذَا كَبَّرَ لِلرُّكُوعِ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ رَفَعَهُمَا، كَذَلِكَ أَيْضًا، وَقَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، وَكَانَ لَا يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي السُّجُودِ.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا، انہوں نے امام مالک سے، انہوں نے ابن شہاب زہری سے، انہوں نے سالم بن عبداللہ سے، انہوں نے اپنے باپ (عبداللہ بن عمر ؓ) سے کہ رسول اللہ ﷺ نماز شروع کرتے وقت اپنے دونوں ہاتھوں کو کندھوں تک اٹھاتے، اسی طرح جب رکوع کے لیے الله اکبر کہتے اور جب اپنا سر رکوع سے اٹھاتے تو دونوں ہاتھ بھی اٹھاتے (رفع یدین کرتے) اور رکوع سے سر مبارک اٹھاتے ہوئے سمع الله لمن حمده، ربنا ولک الحمد کہتے تھے۔ سجدہ میں جاتے وقت رفع یدین نہیں کرتے تھے۔
Narrated Salim bin Abdullah (RA): My father said, "Allahs Apostle ﷺ used to raise both his hands up to the level of his shoulders when opening the prayer; and on saying the Takbir for bowing. And on raising his head from bowing he used to do the same and then say "Sami a-l-lahu Liman hamida, Rabbana walaka-l-hamd." And he did not do that (i.e. raising his hands) in prostrations.
باب: رفع یدین تکبیر تحریمہ کے وقت، رکوع میں جاتے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت کرنا (سنت ہے)۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ فِي الصَّلَاةِ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يَكُونَا حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، وَكَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ حِينَ يُكَبِّرُ لِلرُّكُوعِ، وَيَفْعَلُ ذَلِكَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ وَيَقُولُ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، وَلَا يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي السُّجُودِ.
ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا کہ ہم کو یونس بن یزید ایلی نے زہری سے خبر دی، انہوں نے کہا کہ مجھے سالم بن عبداللہ بن عمر ؓ نے عبداللہ بن عمر ؓ سے خبر دی، انہوں نے بتلایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ جب آپ ﷺ نماز کے لیے کھڑے ہوئے تو تکبیر تحریمہ کے وقت آپ ﷺ نے رفع یدین کیا۔ آپ ﷺ کے دونوں ہاتھ اس وقت مونڈھوں (کندھوں) تک اٹھے اور اسی طرح جب آپ ﷺ رکوع کے لیے تکبیر کہتے اس وقت بھی (رفع یدین) کرتے۔ اس وقت آپ ﷺ کہتے سمع الله لمن حمده البتہ سجدہ میں آپ رفع یدین نہیں کرتے تھے۔
Narrated Abdullah bin Umar (RA): I saw that whenever Allahs Apostle ﷺ stood for the prayer, he used to raise both his hands up to the shoulders, and used to do the same on saying the Takbir for bowing and on raising his head from it and used to say, "Sami a-l-lahu Liman hamida". But he did not do that (i.e. raising his hands) in prostrations.
باب: رفع یدین تکبیر تحریمہ کے وقت، رکوع میں جاتے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت کرنا (سنت ہے)۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الْوَاسِطِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، أَنَّهُ رَأَى مَالِكَ بْنَ الْحُوَيْرِثِإِذَا صَلَّى كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ رَفَعَ يَدَيْهِ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ رَفَعَ يَدَيْهِ، وَحَدَّثَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَنَعَ هَكَذَا.
ہم سے اسحاق بن شاہین واسطی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے خالد بن عبداللہ طحان نے بیان کیا خالد حذاء سے، انہوں نے ابوقلابہ سے کہ انہوں نے مالک بن حویرث صحابی کو دیکھا کہ جب وہ نماز شروع کرتے تو تکبیر تحریمہ کے ساتھ رفع یدین کرتے، پھر جب رکوع میں جاتے اس وقت بھی رفع یدین کرتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تب بھی کرتے اور انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ بھی اسی طرح کیا کرتے تھے۔
Narrated Abu Qilaba (RA): I saw Malik bin Huwairith saying Takbir and raising both his hands (on starting the prayers and raising his hands on bowing and also on raising his head after bowing. Malik bin Huwairith said, "Allahs Apostle ﷺ did the same."
باب: ہاتھوں کو کہاں تک اٹھانا چاہئے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ افْتَتَحَ التَّكْبِيرَ فِي الصَّلَاةِ، فَرَفَعَ يَدَيْهِ حِينَ يُكَبِّرُ حَتَّى يَجْعَلَهُمَا حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، وَإِذَا كَبَّرَ لِلرُّكُوعِ فَعَلَ مِثْلَهُ، وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَعَلَ مِثْلَهُ وَقَالَ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، وَلَا يَفْعَلُ ذَلِكَ حِينَ يَسْجُدُ وَلَا حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ.
ہم سے ابوالیمان حکم بن نافع نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں شعیب نے زہری سے خبر دی، انہوں نے کہا کہ مجھے سالم بن عبداللہ بن عمر ؓ نے خبر دی کہ عبداللہ بن عمر ؓ نے کہا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ نماز تکبیر تحریمہ سے شروع کرتے اور تکبیر کہتے وقت اپنے دونوں ہاتھوں کو کندھوں تک اٹھا کرلے جاتے اور جب رکوع کے لیے تکبیر کہتے تب بھی اسی طرح کرتے اور جب سمع الله لمن حمده کہتے تب بھی اسی طرح کرتے اور ربنا ولک الحمد کہتے۔ سجدہ کرتے وقت یا سجدے سے سر اٹھاتے وقت اس طرح رفع یدین نہیں کرتے تھے۔
Narrated Abdullah bin Umar (RA): I saw Allahs Apostle ﷺ opening the prayer with the Takbir and raising his hands to the level of his shoulders at the time of saying the Takbir, and on saying the Takbir for bowing he did the same; and when he said, "Sami a-l-lahu Liman hamida ", he did the same and then said, "Rabbana wa laka-l-hamd." But he did not do the same on prostrating and on lifting the head from it."
باب: (چار رکعت نماز میں) قعدہ اولٰی سے اٹھنے کے بعد رفع یدین کرنا۔
حَدَّثَنَا عَيَّاشٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ، وَإِذَا رَكَعَ رَفَعَ يَدَيْهِ، وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَفَعَ يَدَيْهِ، وَإِذَا قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ رَفَعَ يَدَيْهِ، وَرَفَعَ ذَلِكَ ابْنُ عُمَرَ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، رَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَوَاهُ ابْنُ طَهْمَانَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، وَمُوسَى بْنِ عُقْبَةَ مُخْتَصَرًا.
ہم سے عیاش بن ولید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالاعلیٰ بن عبدالاعلی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبیداللہ عمری نے نافع سے بیان کیا کہ عبداللہ بن عمر ؓ جب نماز میں داخل ہوتے تو پہلے تکبیر تحریمہ کہتے اور ساتھ ہی رفع یدین کرتے۔ اسی طرح جب وہ رکوع کرتے تب اور جب سمع الله لمن حمده کہتے تب بھی (رفع یدین کرتے) دونوں ہاتھوں کو اٹھاتے اور جب قعدہ اولیٰ سے اٹھتے تب بھی رفع یدین کرتے۔ آپ نے اس فعل کو نبی کریم ﷺ تک پہنچایا۔ (کہ نبی کریم ﷺ اسی طرح نماز پڑھا کرتے تھے۔ )
Narrated Nafi: Whenever Ibn Umar (RA) started the prayer with Takbir, he used to raise his hands: whenever he bowed, he used to raise his hands (before bowing) and also used to raise his hands on saying, "Sami a-l-lahu Liman hamida", and he used to do the same on rising from the second Raka (for the 3rd Raka). Ibn Umar (RA) said: "The Prophet ﷺ used to do the same."