باب: مسجد میں بلغم کو مٹی کے اندر چھپا دینا ضروری ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ هَمَّامٍ ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَلَا يَبْصُقْ أَمَامَهُ، فَإِنَّمَا يُنَاجِي اللَّهَ مَا دَامَ فِي مُصَلَّاهُ وَلَا عَنْ يَمِينِهِ، فَإِنَّ عَنْ يَمِينِهِ مَلَكًا، وَلْيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ فَيَدْفِنُهَا.
ہم سے اسحاق بن نصر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں عبدالرزاق نے معمر بن راشد سے، انہوں نے ہمام بن منبہ سے، انہوں نے ابوہریرہ ؓ سے سنا وہ نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا جب کوئی شخص نماز کے لیے کھڑا ہو تو سامنے نہ تھوکے کیونکہ وہ جب تک اپنی نماز کی جگہ میں ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ سے سرگوشی کرتا رہتا ہے اور دائیں طرف بھی نہ تھوکے کیونکہ اس طرف فرشتہ ہوتا ہے، ہاں بائیں طرف یا قدم کے نیچے تھوک لے اور اسے مٹی میں چھپا دے۔
Narrated Abu Hurairah (RA): Prophet ﷺ said, "If anyone of you stands for prayer, he should not spit in front of him because in prayer he is speaking in private to Allah and he should not spit on his right as there is an angel, but he can spit either on his left or under his left foot and bury it (i.e. expectoration)."
باب: جب تھوک کا غلبہ ہو تو نمازی اپنے کپڑے کے کنارے میں تھوک لے۔
حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى نُخَامَةً فِي الْقِبْلَةِ فَحَكَّهَا بِيَدِهِ، وَرُئِيَ مِنْهُ كَرَاهِيَةٌ أَوْ رُئِيَ كَرَاهِيَتُهُ لِذَلِكَ، وَشِدَّتُهُ عَلَيْهِ، وَقَالَ: إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا قَامَ فِي صَلَاتِهِ فَإِنَّمَا يُنَاجِي رَبَّهُ أَوْ رَبُّهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ قِبْلَتِهِ، فَلَا يَبْزُقَنَّ فِي قِبْلَتِهِ، وَلَكِنْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ، ثُمَّ أَخَذَ طَرَفَ رِدَائِهِ فَبَزَقَ فِيهِ وَرَدَّ بَعْضَهُ عَلَى بَعْضٍ، قَالَ: أَوْ يَفْعَلُ هَكَذَا.
ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے زہیر بن معاویہ نے، کہا ہم سے حمید نے انس بن مالک سے کہ نبی کریم ﷺ نے قبلہ کی طرف (دیوار پر) بلغم دیکھا تو آپ ﷺ نے خود اسے کھرچ ڈالا اور آپ ﷺ کی ناخوشی کو محسوس کیا گیا یا (راوی نے اس طرح بیان کیا کہ) اس کی وجہ سے آپ ﷺ کی شدید ناگواری کو محسوس کیا گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب کوئی شخص نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو وہ اپنے رب سے سرگوشی کرتا ہے، یا یہ کہ اس کا رب اس کے اور قبلہ کے درمیان ہوتا ہے۔ اس لیے قبلہ کی طرف نہ تھوکا کرو، البتہ بائیں طرف یا قدم کے نیچے تھوک لیا کرو۔ پھر آپ ﷺ نے اپنی چادر کا ایک کونا (کنارہ) لیا، اس میں تھوکا اور چادر کی ایک تہہ کو دوسری تہہ پر پھیرلیا اور فرمایا، یا اس طرح کرلیا کرے۔
Narrated Anas (RA): The Prophet ﷺ saw expectoration (on the wall of the mosque) in the direction of the Qibla and scraped it off with his hand. It seemed that he disliked it and the sign of disgust was apparent from his face. He said, "If anyone of you stands for the prayer, he is speaking in private to his Lord, (or) his Lord is between him and his Qibla, therefore he should not spit towards his Qibla, but he could spit either on his left or under his foot." Then he took the corner of his sheet and spat in it, folded it and said, "Or do like this."
باب: امام لوگوں کو یہ نصیحت کرے کہ نماز پوری طرح پڑھیں اور قبلہ کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: هَلْ تَرَوْنَ قِبْلَتِي هَا هُنَا، فَوَاللَّهِ مَا يَخْفَى عَلَيَّ خُشُوعُكُمْ، وَلَا رُكُوعُكُمْ إِنِّي لَأَرَاكُمْ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِي.
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک نے ابوالزناد سے خبر دی، انہوں نے اعرج سے، انہوں نے ابوہریرہ ؓ سے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تمہارا یہ خیال ہے کہ میرا منہ (نماز میں) قبلہ کی طرف ہے، اللہ کی قسم مجھ سے نہ تمہارا خشوع چھپتا ہے نہ رکوع، میں اپنی پیٹھ کے پیچھے سے تم کو دیکھتا رہتا ہوں۔
Narrated Abu Hurairah (RA): Allahs Apostle ﷺ said, "Do you consider or see that my face is towards the Qibla? By Allah, neither your submissiveness nor your bowing is hidden from me, surely I see you from my back."
باب: امام لوگوں کو یہ نصیحت کرے کہ نماز پوری طرح پڑھیں اور قبلہ کا بیان۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: صَلَّى بِنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةً، ثُمَّ رَقِيَ الْمِنْبَرَ، فَقَالَ فِي الصَّلَاةِ وَفِي الرُّكُوعِ: إِنِّي لَأَرَاكُمْ مِنْ وَرَائِي كَمَا أَرَاكُمْ.
ہم سے یحییٰ بن صالح نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے فلیح بن سلیمان نے ہلال بن علی سے، انہوں نے انس بن مالک ؓ سے، وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ہمیں ایک مرتبہ نماز پڑھائی، پھر آپ ﷺ منبر پر چڑھے، پھر نماز کے باب میں اور رکوع کے باب میں فرمایا میں تمہیں پیچھے سے بھی اسی طرح دیکھتا رہتا ہوں جیسے اب سامنے سے دیکھ رہا ہوں۔
Narrated Anas bin Malik (RA): The Prophet ﷺ led us in a prayer and then got up on the pulpit and said, "In your prayer and bowing, I certainly see you from my back as I see you (while looking at you.)"
باب: اس بارے میں کہ کیا یوں کہا جا سکتا ہے کہ یہ مسجد فلاں خاندان والوں کی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَابَقَ بَيْنَ الْخَيْلِ الَّتِي أُضْمِرَتْ مِنَ الْحَفْيَاءِ وَأَمَدُهَا ثَنِيَّةُ الْوَدَاعِ، وَسَابَقَ بَيْنَ الْخَيْلِ الَّتِي لَمْ تُضْمَرْ مِنَ الثَّنِيَّةِ إِلَى مَسْجِدِ بَنِي زُرَيْقٍ، وَأَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ فِيمَنْ سَابَقَ بِهَا.
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک نے خبر دی، انہوں نے نافع کے واسطہ سے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن عمر ؓ سے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان گھوڑوں کی جنھیں (جہاد کے لیے) تیار کیا گیا تھا مقام حفیاء سے دوڑ کرائی، اس دوڑ کی حد ثنیۃ الوداع تھی اور جو گھوڑے ابھی تیار نہیں ہوئے تھے ان کی دوڑ ثنیۃ الوداع سے مسجد بنی زریق تک کرائی۔ عبداللہ بن عمر ؓ نے بھی اس گھوڑ دوڑ میں شرکت کی تھی۔
Narrated Abdullah bin Umar (RA): Allahs Apostle ﷺ ordered for a horse race; the trained horses were to run from a place called Al-Hafya to Thaniyat Al-Wada and the horses which were not trained were to run from Al-Thaniya to the Masjid (mosque of) Bani Zuraiq. The sub narrator added: Ibn Umar (RA) was one of those who took part in the race.
بَابُ الْقِسْمَةِ وَتَعْلِيقِ الْقِنْوِ فِي الْمَسْجِدِ:
مسجد میں مال تقسیم کرنا اور مسجد میں کھجور کا خوشہ لٹکانا
قَالَ: أَبُو عَبْد اللَّهِ الْقِنْوُ الْعِذْقُ وَالِاثْنَانِ قِنْوَانِ وَالْجَمَاعَةُ أَيْضًا قِنْوَانٌ مِثْلَ صِنْوٍ وَصِنْوَانٍ.
وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ: عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَالٍ مِنَ الْبَحْرَيْنِ، فَقَالَ: انْثُرُوهُ فِي الْمَسْجِدِ، وَكَانَ أَكْثَرَ مَالٍ أُتِيَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الصَّلَاةِ وَلَمْ يَلْتَفِتْ إِلَيْهِ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ جَاءَ فَجَلَسَ إِلَيْهِ، فَمَا كَانَ يَرَى أَحَدًا إِلَّا أَعْطَاهُ، إِذْ جَاءَهُ الْعَبَّاسُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَعْطِنِي فَإِنِّي فَادَيْتُ نَفْسِي وَفَادَيْتُ عَقِيلًا، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خُذْ فَحَثَا فِي ثَوْبِهِ، ثُمَّ ذَهَبَ يُقِلُّهُ، فَلَمْ يَسْتَطِعْ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ اؤْمُرْ بَعْضَهُمْ يَرْفَعْهُ إِلَيَّ، قَالَ: لَا، قَالَ: فَارْفَعْهُ أَنْتَ عَلَيَّ، قَالَ: لَا، فَنَثَرَ مِنْهُ، ثُمَّ ذَهَبَ يُقِلُّهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اؤْمُرْ بَعْضَهُمْ يَرْفَعْهُ عَلَيَّ، قَالَ: لَا، قَالَ: فَارْفَعْهُ أَنْتَ عَلَيَّ، قَالَ: لَا، فَنَثَرَ مِنْهُ، ثُمَّ احْتَمَلَهُ فَأَلْقَاهُ عَلَى كَاهِلِهِ ثُمَّ انْطَلَقَ، فَمَا زَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُتْبِعُهُ بَصَرَهُ حَتَّى خَفِيَ عَلَيْنَا عَجَبًا مِنْ حِرْصِهِ، فَمَا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَثَمَّ مِنْهَا دِرْهَمٌ.
امام بخاری (رح) کہتے ہیں کہ قنو کے معنی (عربی زبان میں) عذق (خوشہ کھجور) کے ہیں۔ دو کے لیے قنوان آتا ہے اور جمع کے لیے بھی یہی لفظ آتا ہے جیسے صنو اور صنوان۔
ابراہیم بن طہمان نے کہا، عبدالعزیز بن صہیب سے، انہوں نے انس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ کے پاس بحرین سے رقم آئی۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اسے مسجد میں ڈال دو اور یہ رقم اس تمام رقم سے زیادہ تھی جو اب تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آچکی تھی۔ پھر آپ ﷺ نماز کے لیے تشریف لائے اور اس کی طرف کوئی توجہ نہیں فرمائی، جب آپ ﷺ نماز پوری کرچکے تو آ کر مال (رقم) کے پاس بیٹھ گئے اور اسے تقسیم کرنا شروع فرما دیا۔ اس وقت جسے بھی آپ ﷺ دیکھتے اسے عطا فرما دیتے۔ اتنے میں عباس ؓ حاضر ہوئے اور بولے کہ یا رسول اللہ! مجھے بھی عطا کیجیئے کیونکہ میں نے (غزوہ بدر میں) اپنا بھی فدیہ دیا تھا اور عقیل کا بھی (اس لیے میں زیر بار ہوں) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ لے لیجیئے۔ انہوں نے اپنے کپڑے میں روپیہ بھر لیا اور اسے اٹھانے کی کوشش کی لیکن (وزن کی زیادتی کی وجہ سے) وہ نہ اٹھا سکے اور کہنے لگے یا رسول اللہ! کسی کو فرمائیے کہ وہ اٹھانے میں میری مدد کرے۔ آپ ﷺ نے فرمایا نہیں (یہ نہیں ہوسکتا) انہوں نے کہا کہ پھر آپ ہی اٹھوا دیجیئے۔ آپ ﷺ نے اس پر بھی انکار کیا، تب عباس ؓ نے اس میں سے تھوڑا سا گرا دیا اور باقی کو اٹھانے کی کوشش کی، (لیکن اب بھی نہ اٹھا سکے) پھر فرمایا کہ یا رسول اللہ! کسی کو میری مدد کرنے کا حکم دیجیئے۔ آپ ﷺ نے انکار فرمایا تو انہوں نے کہا کہ پھر آپ ہی اٹھوا دیجیئے۔ لیکن آپ ﷺ نے اس سے بھی انکار کیا، تب انہوں نے اس میں سے تھوڑا سا روپیہ گرا دیا اور اسے اٹھا کر اپنے کاندھے پر رکھ لیا اور چلنے لگے، رسول اللہ ﷺ کو ان کی اس حرص پر اتنا تعجب ہوا کہ آپ ﷺ اس وقت تک ان کی طرف دیکھتے رہے جب تک وہ ہماری نظروں سے غائب نہیں ہوگئے اور آپ ﷺ بھی وہاں سے اس وقت تک نہ اٹھے جب تک کہ ایک چونی بھی باقی رہی۔
Narrated Anas: Some goods came to Allahs Messenger ﷺ from Bahrain. The Prophet ﷺ ordered the people to spread them in the mosque --it was the biggest amount of goods Allahs Messenger ﷺ had ever received. He left for prayer and did not even look at it. After finishing the prayer, he sat by those goods and gave from those to everybody he saw. Al-`Abbas came to him and said, "O Allahs Messenger ﷺ! give me (something) too, because I gave ransom for myself and `Aqil". Allahs Messenger ﷺ told him to take. So he stuffed his garment with it and tried to carry it away but he failed to do so. He said, "O Allahs Messenger ﷺ! Order someone to help me in lifting it." The Prophet ﷺ refused. He then said to the Prophet: Will you please help me to lift it?" Allahs Messenger ﷺ refused. Then Al-`Abbas threw some of it and tried to lift it (but failed). He again said, "O Allahs Messenger ﷺ Order someone to help me to lift it." He refused. Al-`Abbas then said to the Prophet: "Will you please help me to lift it?" He again refused. Then Al-`Abbas threw some of it, and lifted it on his shoulders and went away. Allahs Messenger ﷺ kept on watching him till he disappeared from his sight and was astonished at his greediness. Allahs Messenger ﷺ did not get up till the last coin was distributed.
باب: جسے مسجد میں کھانے کے لیے کہا جائے اور وہ اسے قبول کر لے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِك ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، سَمِعَ أَنَسًا ، قَالَ: وَجَدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ مَعَهُ نَاسٌ، فَقُمْتُ، فَقَالَ لِي: أَأَرْسَلَكَ أَبُو طَلْحَةَ ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ: لِطَعَامٍ ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ لِمَنْ حَوْلَهُ: قُومُوا، فَانْطَلَقَ، وَانْطَلَقْتُ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ.
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے مالک نے اسحاق بن عبداللہ سے انہوں نے انس ؓ سے سنا، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو مسجد میں پایا، آپ ﷺ کے پاس اور بھی کئی لوگ تھے۔ میں کھڑا ہوگیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا کہ کیا تجھ کو ابوطلحہ نے بھیجا ہے؟ میں نے کہا جی ہاں آپ ﷺ نے پوچھا کھانے کے لیے؟ (بلایا ہے) میں نے عرض کی کہ جی ہاں! تب آپ ﷺ نے اپنے قریب موجود لوگوں سے فرمایا کہ چلو، سب حضرات چلنے لگے اور میں ان کے آگے آگے چل رہا تھا۔
Narrated Anas (RA): I found the Prophet ﷺ in the mosque along with some people. He said to me, "Did Abu Talha send you?" I said, "Yes". He said, "For a meal?" I said, "Yes." Then he said to his companions, "Get up." They set out and I was ahead of them.
باب: مسجد میں فیصلے کرنا اور مردوں اور عورتوں (خاوند، بیوی) کے درمیان لعان کرانا (جائز ہے)۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، أَنَّ رَجُلًا، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا، أَيَقْتُلُهُ ؟ فَتَلَا عَنَا فِي الْمَسْجِدِ، وَأَنَا شَاهِدٌ.
ہم سے یحییٰ بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے، کہا ہم کو ابن جریج نے، کہا ہمیں ابن شہاب نے سہل بن سعد ساعدی سے کہ ایک شخص نے کہا، یا رسول اللہ! اس شخص کے بارے میں فرمائیے جو اپنی بیوی کے ساتھ کسی غیر مرد کو (بدفعلی کرتے ہوئے) دیکھتا ہے، کیا اسے مار ڈالے؟ آخر اس مرد نے اپنی بیوی کے ساتھ مسجد میں لعان کیا اور اس وقت میں موجود تھا۔
Narrated Sahl bin Sad (RA): A man said, "O Allahs Apostle ﷺ ! If a man finds another man with his wife, (committing adultery) should the husband kill him?" Later on I saw them (the man and his wife) doing Lian in the mosque.
باب: اس بارے میں کہ جب کوئی کسی کے گھر میں داخل ہو تو کیا جس جگہ وہ چاہے وہاں نماز پڑھ لے یا جہاں اسے نماز پڑھنے کے لیے کہا جائے (وہاں پڑھے) اور فالتو سوال و جواب نہ کرے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ ، عَنْ عِتْبَانَ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُ فِي مَنْزِلِهِ، فَقَالَ: أَيْنَ تُحِبُّ أَنْ أُصَلِّيَ لَكَ مِنْ بَيْتِكَ ؟ قَالَ: فَأَشَرْتُ لَهُ إِلَى مَكَانٍ، فَكَبَّرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَفَفْنَا خَلْفَهُ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے ابن شہاب کے واسطہ سے بیان کیا، انہوں نے محمود بن ربیع سے انہوں نے عتبان بن مالک سے (جو نابینا تھے) کہ نبی کریم ﷺ ان کے گھر تشریف لائے۔ آپ ﷺ نے پوچھا کہ تم اپنے گھر میں کہاں پسند کرتے ہو کہ تمہارے لیے نماز پڑھوں۔ عتبان نے بیان کیا کہ میں نے ایک جگہ کی طرف اشارہ کیا۔ پھر نبی کریم ﷺ نے تکبیر کہی اور ہم نے آپ ﷺ کے پیچھے صف باندھی پھر آپ ﷺ نے دو رکعت نماز (نفل) پڑھائی۔
Narrated Itban bin Malik (RA): The Prophet ﷺ came to my house and said, "Where do you like me to pray?" I pointed to a place. The Prophet ﷺ then said, "Allahu Akbar", and we aligned behind him and he offered a two-Rakat prayer.
باب: اس بیان میں (کہ بوقت ضرورت) گھروں میں جائے نماز (مقرر کر لینا جائز ہے)۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَحْمُودُ بْنُ الرَّبِيعِ الْأَنْصَارِيُّ ، أَنَّ عِتْبَانَ بْنَ مَالِكٍ وَهُوَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا مِنْ الْأَنْصَارِ، أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ أَنْكَرْتُ بَصَرِي وَأَنَا أُصَلِّي لِقَوْمِي، فَإِذَا كَانَتِ الْأَمْطَارُ سَالَ الْوَادِي الَّذِي بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ لَمْ أَسْتَطِعْ أَنْ آتِيَ مَسْجِدَهُمْ فَأُصَلِّيَ بِهِمْ، وَوَدِدْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَّكَ تَأْتِينِي فَتُصَلِّيَ فِي بَيْتِي فَأَتَّخِذَهُ مُصَلًّى، قَالَ: فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: سَأَفْعَلُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، قَالَ عِتْبَانُ: فَغَدَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ حِينَ ارْتَفَعَ النَّهَارُ، فَاسْتَأْذَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَذِنْتُ لَهُ فَلَمْ يَجْلِسْ حَتَّى دَخَلَ الْبَيْتَ، ثُمَّ قَالَ: أَيْنَ تُحِبُّ أَنْ أُصَلِّيَ مِنْ بَيْتِكَ ؟ قَالَ: فَأَشَرْتُ لَهُ إِلَى نَاحِيَةٍ مِنَ الْبَيْتِ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَبَّرَ، فَقُمْنَا فَصَفَّنَا فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ، قَالَ: وَحَبَسْنَاهُ عَلَى خَزِيرَةٍ صَنَعْنَاهَا لَهُ، قَالَ: فَثَابَ فِي الْبَيْتِ رِجَالٌ مِنْ أَهْلِ الدَّارِ ذَوُو عَدَدٍ فَاجْتَمَعُوا، فَقَالَ قَائِلٌ مِنْهُمْ: أَيْنَ مَالِكُ بْنُ الدُّخَيْشِنِ أَوِ ابْنُ الدُّخْشُنِ ؟ فَقَالَ بَعْضُهُمْ: ذَلِكَ مُنَافِقٌ لَا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا، تَقُلْ ذَلِكَ، أَلَا تَرَاهُ قَدْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ يُرِيدُ بِذَلِكَ وَجْهَ اللَّهِ، قَالَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: فَإِنَّا نَرَى وَجْهَهُ وَنَصِيحَتَهُ إِلَى الْمُنَافِقِينَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ حَرَّمَ عَلَى النَّارِ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ يَبْتَغِي بِذَلِكَ وَجْهَ اللَّهِ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: ثُمَّ سَأَلْتُ الْحُصَيْنَ بْنَ مُحَمَّدٍ الْأَنْصَارِيَّ وَهُوَ أَحَدُ بَنِي سَالِمٍ وَهُوَ مِنْ سَرَاتِهِمْ عَنْ حَدِيثِ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ الْأَنْصَارِيِّ فَصَدَّقَهُ بِذَلِكَ.
ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے عقیل نے ابن شہاب کے واسطہ سے بیان کیا کہ مجھے محمود بن ربیع انصاری نے کہ عتبان بن مالک انصاری ؓ رسول اللہ ﷺ کے صحابی اور غزوہ بدر کے حاضر ہونے والوں میں سے تھے، وہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا یا رسول اللہ! میری بینائی میں کچھ فرق آگیا ہے اور میں اپنی قوم کے لوگوں کو نماز پڑھایا کرتا ہوں لیکن جب برسات کا موسم آتا ہے تو میرے اور میری قوم کے درمیان جو وادی ہے وہ بھر جاتی ہے اور بہنے لگ جاتی ہے اور میں انہیں نماز پڑھانے کے لیے مسجد تک نہیں جاسکتا یا رسول اللہ! میری خواہش ہے کہ آپ میرے گھر تشریف لائیں اور (کسی جگہ) نماز پڑھ دیں تاکہ میں اسے نماز پڑھنے کی جگہ بنا لوں۔ راوی نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے عتبان سے فرمایا، انشاء اللہ تعالیٰ میں تمہاری اس خواہش کو پورا کروں گا۔ عتبان نے کہا کہ (دوسرے دن) رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر صدیق ؓ جب دن چڑھا تو دونوں تشریف لے آئے اور رسول اللہ ﷺ نے اندر آنے کی اجازت چاہی، میں نے اجازت دے دی۔ جب آپ گھر میں تشریف لائے تو بیٹھے بھی نہیں اور پوچھا کہ تم اپنے گھر کے کس حصہ میں مجھ سے نماز پڑھنے کی خواہش رکھتے ہو۔ عتبان نے کہا کہ میں نے گھر میں ایک کونے کی طرف اشارہ کیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (اس جگہ) کھڑے ہوئے اور تکبیر کہی ہم بھی آپ کے پیچھے کھڑے ہوگئے اور صف باندھی پس آپ نے دو رکعت (نفل) نماز پڑھائی پھر سلام پھیرا۔ عتبان نے کہا کہ ہم نے آپ کو تھوڑی دیر کے لیے روکا اور آپ کی خدمت میں حلیم پیش کیا جو آپ ہی کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ عتبان نے کہا کہ محلہ والوں کا ایک مجمع گھر میں لگ گیا اور مجمع میں سے ایک شخص بولا کہ مالک بن دخشن یا (یہ کہا) ابن دخشن دکھائی نہیں دیتا۔ اس پر کسی دوسرے نے کہہ دیا کہ وہ تو منافق ہے جسے اللہ اور رسول سے کوئی محبت نہیں رسول اللہ ﷺ نے یہ سن کر فرمایا ایسا مت کہو، کیا تم دیکھتے نہیں کہ اس نے لا إله إلا الله کہا ہے اور اس سے مقصود خالص اللہ کی رضا مندی حاصل کرنا ہے۔ تب منافقت کا الزام لگانے والا بولا کہ اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے ہم تو بظاہر اس کی توجہات اور دوستی منافقوں ہی کے ساتھ دیکھتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے لا إله إلا الله کہنے والے پر اگر اس کا مقصد خالص اللہ کی رضا حاصل کرنا ہو دوزخ کی آگ حرام کردی ہے۔ ابن شہاب نے کہا کہ پھر میں نے محمود سے سن کر حصین بن محمد انصاری سے جو بنوسالم کے شریف لوگوں میں سے ہیں (اس حدیث) کے متعلق پوچھا تو انہوں نے اس کی تصدیق کی اور کہا کہ محمود سچا ہے۔
Narrated Itban bin Malik (RA): Who was one of the companions of Allahs Apostle ﷺ and one of the Ansars who took part in the battle of Badr: I came to Allahs Apostle ﷺ and said, "O Allahs Apostle ﷺ I have weak eyesight and I lead my people in prayers. When it rains the water flows in the valley between me and my people so I cannot go to their mosque to lead them in prayer. O Allahs Apostle ﷺ ! I wish you would come to my house and pray in it so that I could take that place as a Musalla. Allahs Apostle ﷺ said. "Allah willing, I will do so." Next day after the sun rose high, Allahs Apostle ﷺ and Abu Bakr (RA) came and Allahs Apostle ﷺ asked for permission to enter. I gave him permission and he did not sit on entering the house but said to me, "Where do you like me to pray?" I pointed to a place in my house. So Allahs Apostle ﷺ stood there and said, Allahu Akbar, and we all got up and aligned behind him and offered a two-Rakat prayer and ended it with Taslim. We requested him to stay for a meal called "Khazira" which we had prepared for him. Many members of our family gathered in the house and one of them said, "Where is Malik bin Al-Dukhaishin or Ibn Al-Dukhshun?" One of them replied, "He is a hypocrite and does not love Allah and His Apostle." Hearing that, Allahs Apostle ﷺ said, "Do not say so. Havent you seen that he said, None has the right to be worshipped but Allah for Allahs sake only?" He said, "Allah and His Apostle ﷺ know better. We have seen him helping and advising hypocrites."
Allahs Apostle ﷺ said, "Allah has forbidden the (Hell) fire for those who say, None has the right to be worshipped but Allah for Allahs sake only."
باب: مسجد میں داخل ہونے اور دوسرے کاموں میں بھی دائیں طرف سے ابتداء کرنے کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْأَشْعَثِ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ التَّيَمُّنَ مَا اسْتَطَاعَ فِي شَأْنِهِ كُلِّهِ فِي طُهُورِهِ وَتَرَجُّلِهِ وَتَنَعُّلِهِ.
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی اشعث بن سلیم کے واسطہ سے، انہوں نے مسروق سے، انہوں نے عائشہ ؓ سے، آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنے تمام کاموں میں جہاں تک ممکن ہوتا دائیں طرف سے شروع کرنے کو پسند فرماتے تھے۔ طہارت کے وقت بھی، کنگھا کرنے اور جوتا پہننے میں بھی۔
Narrated Aisha (RA): The Prophet ﷺ used to start everything from the right (for good things) whenever it was possible in all his affairs; for example: in washing, combing or wearing shoes.
باب: کیا دور جاہلیت کے مشرکوں کی قبروں کو کھود ڈالنا اور ان کی جگہ مسجد بنانا درست ہے؟
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ هِشَامٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ، وَأُمَّ سَلَمَةَ ذَكَرَتَا كَنِيسَةً رَأَيْنَهَا بِالْحَبَشَةِ فِيهَا تَصَاوِيرُ، فَذَكَرَتَا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ أُولَئِكَ إِذَا كَانَ فِيهِمُ الرَّجُلُ الصَّالِحُ فَمَاتَ، بَنَوْا عَلَى قَبْرِهِ مَسْجِدًا وَصَوَّرُوا فِيهِ تِلْكَ الصُّوَرَ، فَأُولَئِكَ شِرَارُ الْخَلْقِ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.
ہم سے محمد بن مثنی نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے ہشام بن عروہ کے واسطہ سے بیان کیا، کہا کہ مجھے میرے باپ نے عائشہ ؓ سے یہ خبر پہنچائی کہ ام حبیبہ اور ام سلمہ ؓ دونوں نے ایک کلیسا کا ذکر کیا جسے انہوں نے حبشہ میں دیکھا تو اس میں مورتیں (تصویریں) تھیں۔ انہوں نے اس کا تذکرہ نبی کریم ﷺ سے بھی کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ان کا یہ قاعدہ تھا کہ اگر ان میں کوئی نیکوکار (نیک) شخص مرجاتا تو وہ لوگ اس کی قبر پر مسجد بناتے اور اس میں یہی مورتیں (تصویریں) بنا دیتے پس یہ لوگ اللہ کی درگاہ میں قیامت کے دن تمام مخلوق میں برے ہوں گے۔
Narrated Aisha (RA): Um Habiba and Um Salama mentioned about a church they had seen in Ethiopia in which there were pictures. They told the Prophet ﷺ about it, on which he said, "If any religious man dies amongst those people they would build a place of worship at his grave and make these pictures in it. They will be the worst creature in the sight of Allah on the Day of Resurrection."
باب: کیا دور جاہلیت کے مشرکوں کی قبروں کو کھود ڈالنا اور ان کی جگہ مسجد بنانا درست ہے؟
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، فَنَزَلَ أَعْلَى الْمَدِينَةِ فِي حَيٍّ يُقَالُ لَهُمْ بَنُو عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، فَأَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِمْ أَرْبَعَ عَشْرَةَ لَيْلَةً، ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى بَنِي النَّجَّارِ فَجَاءُوا مُتَقَلِّدِي السُّيُوفِ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَاحِلَتِهِ، وَأَبُو بَكْرٍ رِدْفُهُ وَمَلَأُ بَنِي النَّجَّارِ حَوْلَهُ حَتَّى أَلْقَى بِفِنَاءِ أَبِي أَيُّوبَ، وَكَانَ يُحِبُّ أَنْ يُصَلِّيَ حَيْثُ أَدْرَكَتْهُ الصَّلَاةُ، وَيُصَلِّي فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ، وَأَنَّهُ أَمَرَ بِبِنَاءِ الْمَسْجِدِ، فَأَرْسَلَ إِلَى مَلَإٍ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ، فَقَالَ: يَا بَنِي النَّجَّارِ، ثَامِنُونِي بِحَائِطِكُمْ هَذَا، قَالُوا: لَا، وَاللَّهِ لَا نَطْلُبُ ثَمَنَهُ إِلَّا إِلَى اللَّهِ، فَقَالَ أَنَسٌ: فَكَانَ فِيهِ مَا أَقُولُ لَكُمْ قُبُورُ الْمُشْرِكِينَ وَفِيهِ خَرِبٌ وَفِيهِ نَخْلٌ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقُبُورِ الْمُشْرِكِينَ فَنُبِشَتْ، ثُمَّ بِالْخَرِبِ فَسُوِّيَتْ، وَبِالنَّخْلِ فَقُطِعَ، فَصَفُّوا النَّخْلَ قِبْلَةَ الْمَسْجِدِ وَجَعَلُوا عِضَادَتَيْهِ الْحِجَارَةَ وَجَعَلُوا يَنْقُلُونَ الصَّخْرَ وَهُمْ يَرْتَجِزُونَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُمْ، وَهُوَ يَقُولُ: اللَّهُمَّ لَا خَيْرَ إِلَّا خَيْرُ الْآخِرَهْ، فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَهْ.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، انہوں نے ابوالتیاح کے واسطہ سے بیان کیا، انہوں نے انس بن مالک ؓ سے، انہوں نے کہا کہ جب نبی کریم ﷺ مدینہ تشریف لائے تو یہاں کے بلند حصہ میں بنی عمرو بن عوف کے یہاں آپ اترے اور یہاں چوبیس راتیں قیام فرمایا۔ پھر آپ ﷺ نے بنونجار کو بلا بھیجا، تو وہ لوگ تلواریں لٹکائے ہوئے آئے۔ انس نے کہا، گویا میری نظروں کے سامنے نبی کریم ﷺ اپنی سواری پر تشریف فرما ہیں، جبکہ ابوبکر صدیق ؓ آپ ﷺ کے پیچھے بیٹھے ہوئے ہیں اور بنو نجار کے لوگ آپ ﷺ کے چاروں طرف ہیں۔ یہاں تک کہ آپ ﷺ ابوایوب کے گھر کے سامنے اترے اور آپ ﷺ یہ پسند کرتے تھے کہ جہاں بھی نماز کا وقت آجائے فوراً نماز ادا کرلیں۔ آپ بکریوں کے باڑوں میں بھی نماز پڑھ لیتے تھے، پھر آپ نے یہاں مسجد بنانے کے لیے حکم فرمایا۔ چناچہ بنو نجار کے لوگوں کو آپ ﷺ نے بلوا کر فرمایا کہ اے بنو نجار! تم اپنے اس باغ کی قیمت مجھ سے لے لو۔ انہوں نے جواب دیا نہیں یا رسول اللہ! اس کی قیمت ہم صرف اللہ سے مانگتے ہیں۔ انس ؓ نے بیان کیا کہ میں جیسا کہ تمہیں بتارہا تھا یہاں مشرکین کی قبریں تھیں، اس باغ میں ایک ویران جگہ تھی اور کچھ کھجور کے درخت بھی تھے پس نبی کریم ﷺ نے مشرکین کی قبروں کو اکھڑوا دیا ویرانہ کو صاف اور برابر کرایا اور درختوں کو کٹوا کر ان کی لکڑیوں کو مسجد کے قبلہ کی جانب بچھا دیا اور پتھروں کے ذریعہ انہیں مضبوط بنادیا۔ صحابہ پتھر اٹھاتے ہوئے رجز پڑھتے تھے اور نبی کریم ﷺ بھی ان کے ساتھ تھے اور یہ کہہ رہے تھے کہ اے اللہ! آخرت کے فائدہ کے علاوہ اور کوئی فائدہ نہیں پس انصار و مہاجرین کی مغفرت فرمانا۔
Narrated Anas (RA): When the Prophet ﷺ arrived Madinah he dismounted at Awali-i-Medina amongst a tribe called Banu Amr bin Auf. He stayed there for fourteen nights. Then he sent for Bani An-Najjar and they came armed with their swords. As if I am looking (just now) as the Prophet ﷺ was sitting over his Rahila (Mount) with Abu Bakr (RA) riding behind him and all Banu An-Najjar around him till he dismounted at the courtyard of Abu Aiyubs house. The Prophet ﷺ loved to pray wherever the time for the prayer was due even at sheep-folds. Later on he ordered that a mosque should be built and sent for some people of Banu-An-Najjar and said, "O Banu An-Najjar! Suggest to me the price of this (walled) piece of land of yours." They replied, "No! By Allah! We do not demand its price except from Allah." Anas (RA) added: There were graves of pagans in it and some of it was unleveled and there were some date-palm trees in it. The Prophet ﷺ ordered that the graves of the pagans be dug out and the unleveled land be level led and the date-palm trees be cut down . (So all that was done). They aligned these cut date-palm trees towards the Qibla of the mosque (as a wall) and they also built two stone side-walls (of the mosque). His companions brought the stones while reciting some poetic verses. The Prophet ﷺ was with them and he kept on saying, "There is no goodness except that of the Hereafter, O Allah! So please forgive the Ansars and the emigrants. "
باب: بکریوں کے باڑوں میں نماز پڑھنا۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، عَنْ أَنَسِ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ، ثُمَّ سَمِعْتُهُ بَعْدُ يَقُولُ: كَانَ يُصَلِّي فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ قَبْلَ أَنْ يُبْنَى الْمَسْجِدُ.
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے ابوالتیاح کے واسطے سے، انہوں نے انس بن مالک ؓ سے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ بکریوں کے باڑوں میں نماز پڑھتے تھے، ابوالتیاح یا شعبہ نے کہا، پھر میں نے انس کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ نبی کریم ﷺ بکریوں کے باڑہ میں مسجد کی تعمیر سے پہلے نماز پڑھا کرتے تھے۔
Narrated Abu Al-Taiyah (RA): Anas (RA) said, "The Prophet ﷺ prayed in the sheep fold." Later on I heard him saying, "He prayed in the sheep folds before the construction of the, mosque."
باب: اونٹوں کے رہنے کی جگہ میں نماز پڑھنا۔
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ يُصَلِّي إِلَى بَعِيرِهِ، وَقَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ.
ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سلیمان بن حیان نے، کہا ہم سے عبیداللہ نے نافع کے واسطہ سے، انہوں نے کہا کہ میں نے ابن عمر ؓ کو اپنے اونٹ کی طرف نماز پڑھتے دیکھا اور انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو اسی طرح پڑھتے دیکھا تھا۔
Narrated Nafi (RA): "I saw Ibn Umar (RA) praying while taking his camel as a Sutra in front of him and he said, "I saw the Prophet ﷺ doing the same."
باب: اگر کوئی شخص نماز پڑھے اور اس کے آگے تنور، یا آگ، یا اور کوئی چیز ہو جسے مشرک پوجتے ہیں، لیکن اس نمازی کی نیت محض عبادت الہٰی ہو تو نماز درست ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: انْخَسَفَتِ الشَّمْسُ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: أُرِيتُ النَّارَ، فَلَمْ أَرَ مَنْظَرًا كَالْيَوْمِ قَطُّ أَفْظَعَ.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، انہوں نے امام مالک کے واسطہ سے بیان کیا، انہوں نے زید بن اسلم سے، انہوں نے عطاء بن یسار سے، انہوں نے عبداللہ بن عباس ؓ سے، انہوں نے فرمایا کہ سورج گہن ہوا تو نبی کریم ﷺ نے نماز پڑھی اور فرمایا کہ مجھے (آج) دوزخ دکھائی گئی، اس سے زیادہ بھیانک منظر میں نے کبھی نہیں دیکھا۔
Narrated Abdullah bin Abbas (RA): The sun eclipsed and Allahs Apostle ﷺ offered the eclipse prayer and said, "I have been shown the Hellfire (now) and I never saw a worse and horrible sight than the sight I have seen today."
باب: مقبروں میں نماز پڑھنے کی کراہت کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: اجْعَلُوا فِي بُيُوتِكُمْ مِنْ صَلَاتِكُمْ، وَلَا تَتَّخِذُوهَا قُبُورًا.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے عبیداللہ بن عمر کے واسطہ سے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے نافع نے عبداللہ بن عمر ؓ کے واسطہ سے خبر دی کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اپنے گھروں میں بھی نمازیں پڑھا کرو اور انہیں بالکل مقبرہ نہ بنا لو۔
Narrated Ibn Umar (RA): The Prophet ﷺ had said, "Offer some of your prayers (Nawafil) at home, and do not take your houses as graves."
باب: دھنسی ہوئی جگہوں میں یا جہاں کوئی اور عذاب اترا ہو وہاں نماز (پڑھنا کیسا ہے؟)۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا تَدْخُلُوا عَلَى هَؤُلَاءِ الْمُعَذَّبِينَ إِلَّا أَنْ تَكُونُوا بَاكِينَ، فَإِنْ لَمْ تَكُونُوا بَاكِينَ فَلَا تَدْخُلُوا عَلَيْهِمْ، لَا يُصِيبُكُمْ مَا أَصَابَهُمْ.
ہم سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے امام مالک (رح) نے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن دینار کے واسطہ سے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن عمر ؓ سے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، ان عذاب والوں کے آثار سے اگر تمہارا گزر ہو تو روتے ہوئے گزرو، اگر تم اس موقع پر رو نہ سکو تو ان سے گزرو ہی نہیں۔ ایسا نہ ہو کہ تم پر بھی ان کا سا عذاب آجائے۔
Narrated Abdullah bin Umar (RA): Allahs Apostle ﷺ said, "Do not enter (the places) of these people where Allahs punishment had fallen unless you do so weeping. If you do not weep, do not enter (the places of these people) because Allahs curse and punishment which fell upon them may fall upon you."
باب: گرجا میں نماز پڑھنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَامٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ ذَكَرَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَنِيسَةً رَأَتْهَا بِأَرْضِ الْحَبَشَةِ يُقَالُ لَهَا مَارِيَةُ، فَذَكَرَتْ لَهُ مَا رَأَتْ فِيهَا مِنَ الصُّوَرِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أُولَئِكَ قَوْمٌ إِذَا مَاتَ فِيهِمُ الْعَبْدُ الصَّالِحُ أَوِ الرَّجُلُ الصَّالِحُ بَنَوْا عَلَى قَبْرِهِ مَسْجِدًا وَصَوَّرُوا فِيهِ تِلْكَ الصُّوَرَ، أُولَئِكَ شِرَارُ الْخَلْقِ عِنْدَ اللَّهِ.
ہم سے محمد بن سلام بیکندی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عبدہ بن سلیمان نے خبر دی، انہوں نے ہشام بن عروہ سے، انہوں نے اپنے باپ عروہ بن زبیر سے، انہوں نے عائشہ ؓ سے کہ ام سلمہ ؓ نے نبی کریم ﷺ سے ایک گرجا کا ذکر کیا جس کو انہوں نے حبش کے ملک میں دیکھا اس کا نام ماریہ تھا۔ اس میں جو مورتیں دیکھی تھیں وہ بیان کیں۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ ایسے لوگ تھے کہ اگر ان میں کوئی نیک بندہ (یا یہ فرمایا کہ) نیک آدمی مرجاتا تو اس کی قبر پر مسجد بناتے اور اس میں یہ بت رکھتے۔ یہ لوگ اللہ کے نزدیک ساری مخلوقات سے بدتر ہیں۔
Narrated Aisha (RA): Um Salama told Allahs Apostle ﷺ about a church which she had seen in Ethiopia and which was called Mariya. She told him about the pictures which she had seen in it. Allahs Apostle ﷺ said, "If any righteous pious man dies amongst them, they would build a place of worship at his grave and make these pictures in it; they are the worst creatures in the sight of Allah."
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، أَنَّ عَائِشَةَ ، وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ ، قَالَا: لَمَّا نَزَلَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَفِقَ يَطْرَحُ خَمِيصَةً لَهُ عَلَى وَجْهِهِ، فَإِذَا اغْتَمَّ بِهَا كَشَفَهَا عَنْ وَجْهِهِ، فَقَالَ: وَهُوَ كَذَلِكَ، لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ يُحَذِّرُ مَا صَنَعُوا.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی زہری سے، انہوں نے کہا کہ مجھے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے خبر دی کہ عائشہ اور عبداللہ بن عباس ؓ نے بیان کیا کہ جب نبی کریم ﷺ مرض الوفات میں مبتلا ہوئے تو آپ ﷺ اپنی چادر کو باربار چہرے پر ڈالتے۔ جب کچھ افاقہ ہوتا تو اپنے مبارک چہرے سے چادر ہٹا دیتے۔ آپ ﷺ نے اسی اضطراب و پریشانی کی حالت میں فرمایا، یہود و نصاریٰ پر اللہ کی پھٹکار ہو کہ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مسجد بنا لیا۔ آپ ﷺ یہ فرما کر امت کو ایسے کاموں سے ڈراتے تھے۔
Narrated Aisha (RA) and Abdullah bin Abbas (RA): When the last moment of the life of Allahs Apostle ﷺ came he started putting his Khamisa on his face and when he felt hot and short of breath he took it off his face and said, "May Allah curse the Jews and Christians for they built the places of worship at the graves of their Prophets." The Prophet ﷺ was warning (Muslims) of what those had done.