Sahih Bukhari

All 7,282 hadiths in order · Page 208 of 365

4460Sahih Bukhari

باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا بیان۔

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، عَنْ طَلْحَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَوْصَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَ: لَا، فَقُلْتُ: كَيْفَ كُتِبَ عَلَى النَّاسِ الْوَصِيَّةُ أَوْ أُمِرُوا بِهَا ؟ قَالَ: أَوْصَى بِكِتَابِ اللَّهِ.

ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے مالک بن مغول نے بیان کیا، ان سے طلحہ بن مصرف نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن ابی اوفی ؓ سے پوچھا، کیا رسول اللہ ﷺ نے کسی کو وصی بنایا تھا۔ انہوں نے کہا کہ نہیں۔ میں نے پوچھا کہ لوگوں پر وصیت کرنا کیسے فرض ہے یا وصیت کرنے کا کیسے حکم ہے؟ انہوں نے بتایا کہ آپ نے کتاب اللہ کے مطابق عمل کرتے رہنے کی وصیت کی تھی۔

Narrated Talha (RA) : I asked Abdullah bin Abu Aufa "Did the Prophet ﷺ make a will? He replied, "No." I further asked, "How comes it that the making of a will was enjoined on the people or that they were ordered to make it? " He said, "The Prophet ﷺ made a will concerning Allahs Book."

4461Sahih Bukhari

باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا بیان۔

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِينَارًا، وَلَا دِرْهَمًا، وَلَا عَبْدًا، وَلَا أَمَةً إِلَّا بَغْلَتَهُ الْبَيْضَاءَ الَّتِي كَانَ يَرْكَبُهَا، وَسِلَاحَهُ وَأَرْضًا جَعَلَهَا لِابْنِ السَّبِيلِ صَدَقَةً.

ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوالاحوص (سلام بن حکیم) نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے، ان سے عمرو بن حارث ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے نہ درہم چھوڑے تھے، نہ دینار، نہ کوئی غلام نہ باندی، سوا اپنے سفید خچر کے جس پر آپ ﷺ سوار ہوا کرتے تھے اور آپ کا ہتھیار اور کچھ وہ زمین جو آپ ﷺ نے اپنی زندگی میں مجاہدوں اور مسافروں کے لیے وقف کر رکھی تھی۔

Narrated Amir bin Al-Harith (RA) : Allahs Apostle ﷺ did not leave a Dinar or a Dirham or a male or a female slave. He left only his white mule on which he used to ride, and his weapons, and a piece of land which he gave in charity for the needy travelers.

4462Sahih Bukhari

باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا بیان۔

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: لَمَّا ثَقُلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَعَلَ يَتَغَشَّاهُ، فَقَالَتْ فَاطِمَةُ عَلَيْهَا السَّلَام: وَاكَرْبَ أَبَاهُ، فَقَالَ لَهَا: لَيْسَ عَلَى أَبِيكِ كَرْبٌ بَعْدَ الْيَوْمِ، فَلَمَّا مَاتَ، قَالَتْ: يَا أَبَتَاهُ أَجَابَ رَبًّا دَعَاهُ يَا أَبَتَاهْ مَنْ جَنَّةُ الْفِرْدَوْسِ مَأْوَاهْ يَا أَبَتَاهْ إِلَى جِبْرِيلَ نَنْعَاهْ، فَلَمَّا دُفِنَ قَالَتْ فَاطِمَةُ عَلَيْهَا السَّلَام: يَا أَنَسُ أَطَابَتْ أَنْفُسُكُمْ أَنْ تَحْثُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التُّرَابَ ؟.

ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ثابت بنانی نے اور ان سے انس بن مالک ؓ نے کہ شدت مرض کے زمانے میں نبی کریم ﷺ کی بےچینی بہت بڑھ گئی تھی۔ فاطمۃ الزہراء ؓ نے کہا: آہ، ابا جان کو کتنی بےچینی ہے۔ آپ ﷺ نے اس پر فرمایا کہ آج کے بعد تمہارے ابا جان کی یہ بےچینی نہیں رہے گی۔ پھر جب نبی کریم ﷺ کی وفات ہوگئی تو فاطمہ ؓ کہتی تھیں، ہائے ابا جان! آپ اپنے رب کے بلاوے پر چلے گئے، ہائے ابا جان! آپ جنت الفردوس میں اپنے مقام پر چلے گئے۔ ہم جبرائیل (علیہ السلام) کو آپ کی وفات کی خبر سناتے ہیں۔ پھر جب نبی کریم ﷺ دفن کر دئیے گئے تو آپ ؓ نے انس ؓ سے کہا انس! تمہارے دل رسول اللہ ﷺ کی نعش پر مٹی ڈالنے کے لیے کس طرح آمادہ ہوگئے تھے۔

Narrated Anas (RA) : When the ailment of the Prophet ﷺ got aggravated, he became unconscious whereupon Fatima said, "Oh, how distressed my father is!" He said, "Your father will have no more distress after today." When he expired, she said, "O Father! Who has responded to the call of the Lord Who has invited him! O Father, whose dwelling place is the Garden of Paradise (i.e. Al-Firdaus)! O Father! We convey this news (of your death) to Gabriel (علیہ السلام)." When he was buried, Fatima said, "O Anas! Do you feel pleased to throw earth over Allahs Apostle?"

4463Sahih Bukhari

باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری کلمہ جو زبان مبارک سے نکلا۔

حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ يُونُسُ: قَالَ الزُّهْرِيُّ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، فِي رِجَالٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ، أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَهُوَ صَحِيحٌ: إِنَّهُ لَمْ يُقْبَضْ نَبِيٌّ حَتَّى يَرَى مَقْعَدَهُ مِنَ الْجَنَّةِ ثُمَّ يُخَيَّرَ، فَلَمَّا نَزَلَ بِهِ وَرَأْسُهُ عَلَى فَخِذِي غُشِيَ عَلَيْهِ، ثُمَّ أَفَاقَ، فَأَشْخَصَ بَصَرَهُ إِلَى سَقْفِ الْبَيْتِ، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ الرَّفِيقَ الْأَعْلَىفَقُلْتُ: إِذًا لَا يَخْتَارُنَا وَعَرَفْتُ أَنَّهُ الْحَدِيثُ الَّذِي كَانَ يُحَدِّثُنَا وَهُوَ صَحِيحٌ، قَالَتْ: فَكَانَتْ آخِرَ كَلِمَةٍ تَكَلَّمَ بِهَا: اللَّهُمَّ الرَّفِيقَ الْأَعْلَى.

ہم سے بشر بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن مبارک نے بیان کیا، ان سے یونس نے بیان کیا، ان سے زہری نے بیان کیا، انہیں سعید بن مسیب نے کئی اہل علم کی موجودگی میں خبر دی اور ان سے عائشہ ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ حالت صحت میں فرمایا کرتے تھے کہ ہر نبی کی روح قبض کرنے سے پہلے انہیں جنت میں ان کی قیام گاہ دکھائی گئی، پھر اختیار دیا گیا۔ پھر جب آپ ﷺ بیمار ہوئے اور آپ کا سر مبارک میری ران پر تھا۔ اس وقت آپ پر غشی طاری ہوگئی۔ جب ہوش میں آئے تو آپ نے اپنی نظر گھر کی چھت کی طرف اٹھا لی اور فرمایا اللهم الرفيق الأعلى اے اللہ! مجھے اپنی بارگاہ میں انبیاء اور صدیقین سے ملا دے۔ میں اسی وقت سمجھ گئی کہ اب آپ ہمیں پسند نہیں کرسکتے اور مجھے وہ حدیث یاد آگئی جو آپ حالت صحت میں ہم سے بیان کیا کرتے تھے۔ عائشہ ؓ نے بیان کیا کہ آخری کلمہ جو زبان مبارک سے نکلا وہ یہی تھا کہ اللهم الرفيق الأعلى۔

Narrated Aisha (RA) : When the Prophet ﷺ was healthy, he used to say, "No soul of a prophet is captured till he is shown his place in Paradise and then he is given the option." When death approached him while his head was on my thigh, he became unconscious and then recovered his consciousness. He then looked at the ceiling of the house and said, "O Allah! (with) the highest companions." I said (to myself), "Hence, he is not going to choose us." Then I realized that what he had said was the application of the narration which he used to mention to us when he was healthy. The last word he spoke was, "O Allah! (with) the highest companion."

4464Sahih Bukhari(4464-4465)

باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا بیان۔

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، وَابْنِ عَبَّاسِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَبِثَ بِمَكَّةَ عَشْرَ سِنِينَ يُنْزَلُ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ وَبِالْمَدِينَةِ عَشْرًا.

ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے شیبان بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے، ان سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے عائشہ اور ابن عباس ؓ نے کہ نبی کریم ﷺ نے (بعثت کے بعد) مکہ میں دس سال تک قیام کیا۔ جس میں آپ ﷺ پر وحی نازل ہوتی رہی اور مدینہ میں بھی دس سال تک آپ کا قیام رہا۔

Narrated Aisha (RA) and Ibn Abbas (RA) (RA) : The Prophet ﷺ stayed for ten years in Makkah with the Quran being revealed to him and he stayed in Madinah for ten years.

4466Sahih Bukhari

باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا بیان۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُوُفِّيَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: وَأَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، مِثْلَهُ.

ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عروہ بن زبیر نے اور ان سے عائشہ ؓ نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی تو آپ کی عمر تریسٹھ سال کی تھی۔ ابن شہاب نے کہا کہ مجھے سعید بن مسیب نے بھی اسی طرح خبر دی تھی۔

Narrated Aisha (RA) : Allah s Apostle ﷺ died when he was sixty-three years of age.

4467Sahih Bukhari

حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: تُوُفِّيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدِرْعُهُ مَرْهُونَةٌ عِنْدَ يَهُودِيٍّ بِثَلَاثِين، يَعْنيِ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ.

ہم سے قبیصہ بن عتبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابراہیم نخعی نے، ان سے اسود بن یزید نے اور ان سے عائشہ ؓ نے بیان کیا کہ جب نبی کریم ﷺ کی وفات ہوئی تو آپ کی زرہ ایک یہودی کے یہاں تیس صاع جَو کے بدلے میں گروی رکھی ہوئی تھی۔

Narrated Aisha (RA) : The Prophet ﷺ died while his armor was mortgaged to a Jew for thirty Sas of barley.

4468Sahih Bukhari

باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو مرض الموت میں ایک مہم پر روانہ کرنا۔

حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، عَنْ الْفُضَيْلِ بْنِ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، اسْتَعْمَل النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُسَامَةَ، فَقَالُوا فِيهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَدْ بَلَغَنِي أَنَّكُمْ قُلْتُمْ فِي أُسَامَةَ وَإِنَّهُ أَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ.

ہم سے ابوعاصم ضحاک بن مخلد نے بیان کیا، کہا ہم سے فضیل بن سلیمان نے بیان کیا، ان سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا، ان سے سالم نے اور ان سے ان کے والد (عبداللہ بن عمر ؓ) نے کہ نبی کریم ﷺ نے اسامہ بن زید ؓ کو ایک لشکر کا امیر بنایا تو بعض صحابہ ؓ نے ان کی امارت پر اعتراض کیا۔ اس پر نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم اسامہ ؓ پر اعتراض کر رہے ہو حالانکہ وہ مجھے سب سے زیادہ عزیز ہے۔

Narrated Salims father (RA) : The Prophet ﷺ appointed Usama as the commander of the troops (to be sent to Syria). The Muslims spoke about Usama (unfavorably ). The Prophet ﷺ said, " I have been informed that you spoke about Usama. (Let it be known that) he is the most beloved of all people to me."

4469Sahih Bukhari

باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو مرض الموت میں ایک مہم پر روانہ کرنا۔

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بَعَثَ بَعْثًا وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ، فَطَعَنَ النَّاسُ فِي إِمَارَتِهِ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنْ تَطْعَنُوا فِي إِمَارَتِهِ فَقَدْ كُنْتُمْ تَطْعَنُونَ فِي إِمَارَةِ أَبِيهِ مِنْ قَبْلُ، وَايْمُ اللَّهِ إِنْ كَانَ لَخَلِيقًا لِلْإِمَارَةِ، وَإِنْ كَانَ لَمِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ، وَإِنَّ هَذَا لَمِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ بَعْدَهُ.

ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن دینار نے اور ان سے عبداللہ بن عمر ؓ نے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک لشکر روانہ فرمایا اور اس کا امیر اسامہ بن زید ؓ کو بنایا۔ بعض لوگوں نے ان کی امارت پر اعتراض کیا۔ اس پر نبی کریم ﷺ نے صحابہ ؓ کو خطاب کیا اور فرمایا کہ اگر آج تم اس کی امارت پر اعتراض کرتے ہو تو تم اس سے پہلے اس کے والد کی امارت پر اسی طرح اعتراض کرچکے ہو اور اللہ کی قسم! اس کے والد (زید ؓ) امارت کے بہت لائق تھے اور مجھے سب سے زیادہ عزیز تھے اور یہ (یعنی اسامہ ؓ) بھی ان کے بعد مجھے سب سے زیادہ عزیز ہے۔

Narrated Abdullah bin Umar (RA) : Allahs Apostle ﷺ sent troops appointed Usama bin Zaid as their commander. The people criticized his leadership. Allahs Apostle ﷺ got up and said, "If you (people) are criticizing his (i.e. Usamas) leadership you used to criticize the leadership of his father before. By Allah, he (i.e. Zaid) deserved the leadership indeed, and he used to be one of the most beloved persons to me, and now this (i.e. his son, Usama) is one of the most beloved persons to me after him."

4470Sahih Bukhari

حَدَّثَنَا أَصْبَغُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ ابْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْالصُّنَابِحِيِّ، أَنَّهُ قَالَ لَهُ: مَتَى هَاجَرْتَ ؟ قَالَ: خَرَجْنَا مِنْ الْيَمَنِ مُهَاجِرِينَ فَقَدِمْنَا الْجُحْفَةَ، فَأَقْبَلَ رَاكِبٌ فَقُلْتُ لَهُ الْخَبَرَ، فَقَالَ: دَفَنَّا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْذُ خَمْسٍ، قُلْتُ: هَلْ سَمِعْتَ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ شَيْئًا ؟ قَالَ: نَعَمْ، أَخْبَرَنِي بِلَالٌ مُؤَذِّنُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ فِي السَّبْعِ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ.

ہم سے اصبغ بن فرج نے بیان کیا، کہا کہ مجھے عبداللہ بن وہب نے خبر دی، کہا کہ مجھے عمرو بن حارث نے خبر دی، انہیں عمرو بن ابی حبیب نے، ان سے ابوالخیر نے عبدالرحمٰن بن عسیلہ صنابحی سے، جناب ابوالخیر نے ان سے پوچھا تھا کہ تم نے کب ہجرت کی تھی؟ انہوں نے بیان کیا کہ ہم ہجرت کے ارادے سے یمن چلے، ابھی ہم مقام جحفہ میں پہنچے تھے کہ ایک سوار سے ہماری ملاقات ہوئی۔ ہم نے ان سے مدینہ کی خبر پوچھی تو انہوں نے بتایا کہ نبی کریم ﷺ کی وفات کو پانچ دن ہوچکے ہیں میں نے پوچھا تم نے لیلۃ القدر کے بارے میں کوئی حدیث سنی ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ ہاں، نبی کریم ﷺ کے مؤذن بلال ؓ نے مجھے خبر دی ہے کہ لیلۃ القدر رمضان کے آخری عشرہ کے سات دنوں میں (ایک طاق رات) ہوتی ہے۔

Narrated Ibn Abu Habib (RA) : Abu Al-Khair said, "As-Sanabih, I asked (me), When did you migrate? I (i.e. Abu Al-Khair) said, We went out from Yemen as emigrants and arrived at Al-Juhfa, and there came a rider whom I asked about the news. The rider said: We buried the Prophet ﷺ five days ago." I asked (As-Sanabihi), Did you hear anything about the night of Qadr? He replied, Bilal (RA) , the Muadhdhin of the Prophet ﷺ informed me that it is on one of the seven nights of the last ten days (of Ramadan)."

4471Sahih Bukhari

باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کل کتنے غزوے کئے؟

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: سَأَلْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، كَمْ غَزَوْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ: سَبْعَ عَشْرَةَ، قُلْتُ: كَمْ غَزَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ: تِسْعَ عَشْرَةَ.

ہم سے عبداللہ بن رجاء نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا ہم سے اسرائیل نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے بیان کیا کہ میں نے زید بن ارقم ؓ سے پوچھا کہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ تم نے کتنے غزوے کئے تھے؟ انہوں نے بتایا کہ سترہ۔ میں نے پوچھا اور نبی کریم ﷺ نے کتنے غزوے کئے تھے؟ فرمایا کہ انیس۔

Narrated Abu Ishaq (RA) : I asked Zaid bin Al-Arqam, "In how many Ghazawat did you take part in the company of Allahs Apostle?" He replied, "Seventeen." I further asked, "How many Ghazawat did the Prophet ﷺ fight?" He replied, "Nineteen."

4472Sahih Bukhari

باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کل کتنے غزوے کئے؟

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا الْبَرَاءُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمْسَ عَشْرَةَ.

ہم سے عبداللہ بن رجاء نے بیان کیا، کہا ہم سے اسرائیل نے بیان کیا، انہوں نے ان سے ابواسحاق نے، کہا ہم سے براء بن عازب ؓ نے کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ پندرہ غزوں میں شریک رہا ہوں۔

Narrated Al-Bara (RA) : I fought fifteen Ghazawat in the company of the Prophet.

4473Sahih Bukhari

باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کل کتنے غزوے کئے؟

حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ الحَسَنِ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلِ بْنِ هِلالٍ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ كَهْمَسٍ، عَنابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: غَزَا مَعَ رَسُولِ الله صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتَّ عَشْرَةَ غَزْوَةً.

مجھ سے احمد بن حسن نے بیان کیا، کہا ہم سے احمد بن محمد بن حنبل بن ہلال نے بیان کیا، کہا ہم سے معتمر بن سلیمان نے بیان کیا، ان سے کہمس نے، ان سے عبداللہ بن بریدہ نے اور ان سے ان کے والد (بریدہ بن حصیب ؓ) نے بیان کیا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سولہ غزووں میں شریک تھے۔

Narrated Buraida (RA) : That he fought sixteen Ghazawat with Allahs Apostle.

4474Sahih Bukhari

باب: سورۃ الفاتحہ کے بارے میں جو آیا ہے اس کا بیان۔

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي خُبَيْبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدِ بْنِ الْمُعَلَّى، قَالَ: كُنْتُ أُصَلِّي فِي الْمَسْجِدِ، فَدَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ أُجِبْهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي كُنْتُ أُصَلِّي، فَقَالَ: أَلَمْ يَقُلِ اللَّهُ اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ سورة الأنفال آية 24، ثُمَّ قَالَ لِي: لَأُعَلِّمَنَّكَ سُورَةً هِيَ أَعْظَمُ السُّوَرِ فِي الْقُرْآنِ قَبْلَ أَنْ تَخْرُجَ مِنَ الْمَسْجِدِ، ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِي، فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ، قُلْتُ لَهُ: أَلَمْ تَقُلْ لَأُعَلِّمَنَّكَ سُورَةً هِيَ أَعْظَمُ سُورَةٍ فِي الْقُرْآنِ ؟ قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ سورة الفاتحة آية 2 هِيَ السَّبْعُ الْمَثَانِي، وَالْقُرْآنُ الْعَظِيمُ الَّذِي أُوتِيتُهُ.

ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا کہ مجھ سے خبیب بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے حفص بن عاصم نے اور ان سے ابوسعید بن معلی ؓ نے بیان کیا کہ میں مسجد میں نماز پڑھ رہا تھا، رسول اللہ ﷺ نے مجھے اسی حالت میں بلایا، میں نے کوئی جواب نہیں دیا (پھر بعد میں، میں نے حاضر ہو کر) عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نماز پڑھ رہا تھا۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا کہ کیا اللہ تعالیٰ نے تم سے نہیں فرمایا ہے استجيبوا لله وللرسول إذا دعاکم اللہ اور اس کے رسول جب تمہیں بلائیں تو ہاں میں جواب دو۔ پھر آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ آج میں تمہیں مسجد سے نکلنے سے پہلے ایک ایسی سورت کی تعلیم دوں گا جو قرآن کی سب سے بڑی سورت ہے۔ پھر آپ نے میرا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا اور جب آپ باہر نکلنے لگے تو میں نے یاد دلایا کہ آپ نے مجھے قرآن کی سب سے بڑی سورت بتانے کا وعدہ کیا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا الحمد لله رب العالمين یہی وہ سبع مثانی اور قرآن عظیم ہے جو مجھے عطا کیا گیا ہے۔

Narrated Abu Said bin Al-Mualla (RA) : While I was praying in the Mosque, Allahs Apostle ﷺ called me but I did not respond to him. Later I said, "O Allahs Apostle ﷺ ! I was praying." He said, "Didnt Allah say--"Give your response to Allah (by obeying Him) and to His Apostle ﷺ when he calls you." (8.24) He then said to me, "I will teach you a Sura which is the greatest Sura in the Quran, before you leave the Mosque." Then he got hold of my hand, and when he intended to leave (the Mosque), I said to him, "Didnt you say to me, I will teach you a Sura which is the greatest Sura in the Quran? He said, "Al-Hamdu-Lillah Rabbi-l-Alamin (i.e. Praise be to Allah, the Lord of the worlds) which is Al-Saba Al-Mathani (i.e. seven repeatedly recited Verses) and the Grand Quran which has been given to me."

4475Sahih Bukhari

باب: آیت «غير المغضوب عليهم ولا الضالين» کی تفسیر۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا قَالَ الْإِمَامُ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ سورة الفاتحة آية 7، فَقُولُوا: آمِينَ، فَمَنْ وَافَقَ قَوْلُهُ قَوْلَ الْمَلَائِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ.

ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں سمی نے، انہیں ابوصالح نے اور ان سے ابوہریرہ ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب امام غير المغضوب عليهم ولا الضالين کہے تو تم آمين. کہو کیونکہ جس کا یہ کہنا ملائکہ کے کہنے کے ساتھ ہوجائے اس کی تمام پچھلی خطائیں معاف ہوجاتی ہیں۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : Allahs Apostle ﷺ said, "When the Imam says: Ghair-il-Maghdubi Alaihim Walad-Dallin (i.e. not the path of those who earn Your Anger, nor the path of those who went astray (1.7)), then you must say, Ameen, for if ones utterance of Ameen coincides with that of the angels, then his past sins will be forgiven."

4476Sahih Bukhari

باب: اللہ تعالیٰ کے ارشاد «وعلم آدم الأسماء كلها» کا بیان۔

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وقَالَ لِي خَلِيفَةُ،حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَجْتَمِعُ الْمُؤْمِنُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيَقُولُونَ: لَوِ اسْتَشْفَعْنَا إِلَى رَبِّنَا فَيَأْتُونَ آدَمَ فَيَقُولُونَ: أَنْتَ أَبُو النَّاسِ خَلَقَكَ اللَّهُ بِيَدِهِ وَأَسْجَدَ لَكَ مَلَائِكَتَهُ، وَعَلَّمَكَ أَسْمَاءَ كُلِّ شَيْءٍ، فَاشْفَعْ لَنَا عِنْدَ رَبِّكَ حَتَّى يُرِيحَنَا مِنْ مَكَانِنَا هَذَا، فَيَقُولُ: لَسْتُ هُنَاكُمْ وَيَذْكُرُ ذَنْبَهُ، فَيَسْتَحِي ائْتُوا نُوحًا، فَإِنَّهُ أَوَّلُ رَسُولٍ بَعَثَهُ اللَّهُ إِلَى أَهْلِ الْأَرْضِ، فَيَأْتُونَهُ، فَيَقُولُ: لَسْتُ هُنَاكُمْ وَيَذْكُرُ سُؤَالَهُ رَبَّهُ مَا لَيْسَ لَهُ بِهِ عِلْمٌ فَيَسْتَحِي، فَيَقُولُ: ائْتُوا خَلِيلَ الرَّحْمَنِ، فَيَأْتُونَهُ، فَيَقُولُ: لَسْتُ هُنَاكُمُ ائْتُوا مُوسَى عَبْدًا كَلَّمَهُ اللَّهُ، وَأَعْطَاهُ التَّوْرَاةَ، فَيَأْتُونَهُ، فَيَقُولُ: لَسْتُ هُنَاكُمْ، وَيَذْكُرُ قَتْلَ النَّفْسِ بِغَيْرِ نَفْسٍ فَيَسْتَحِي مِنْ رَبِّهِ، فَيَقُولُ: ائْتُوا عِيسَى عَبْدَ اللَّهِ وَرَسُولَهُ، وَكَلِمَةَ اللَّهِ وَرُوحَهُ، فَيَقُولُ: لَسْتُ هُنَاكُمُ ائْتُوا مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدًا غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ، فَيَأْتُونِي، فَأَنْطَلِقُ حَتَّى أَسْتَأْذِنَ عَلَى رَبِّي، فَيُؤْذَنَ لِي، فَإِذَا رَأَيْتُ رَبِّي وَقَعْتُ سَاجِدًا، فَيَدَعُنِي مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ يُقَالُ: ارْفَعْ رَأْسَكَ وَسَلْ تُعْطَهْ، وَقُلْ يُسْمَعْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، فَأَرْفَعُ رَأْسِي فَأَحْمَدُهُ بِتَحْمِيدٍ يُعَلِّمُنِيهِ، ثُمَّ أَشْفَعُ فَيَحُدُّ لِي حَدًّا، فَأُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ، ثُمَّ أَعُودُ إِلَيْهِ فَإِذَا رَأَيْتُ رَبِّي مِثْلَهُ، ثُمَّ أَشْفَعُ فَيَحُدُّ لِي حَدًّا، فَأُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ، ثُمَّ أَعُودُ الرَّابِعَةَ، فَأَقُولُ: مَا بَقِيَ فِي النَّارِ إِلَّا مَنْ حَبَسَهُ الْقُرْآنُ وَوَجَبَ عَلَيْهِ الْخُلُودُ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: إِلَّا مَنْ حَبَسَهُ الْقُرْآنُ يَعْنِي قَوْلَ اللَّهِ تَعَالَى خَالِدِينَ فِيهَا سورة البقرة آية 162.

ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام دستوائی نے بیان کیا، کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا، ان سے انس بن مالک ؓ نے نبی کریم ﷺ سے (دوسری سند) اور مجھ سے خلیفہ بن خیاط نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس ؓ نے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا مومنین قیامت کے دن پریشان ہو کر جمع ہوں گے اور (آپس میں) کہیں گے، بہتر یہ تھا کہ اپنے رب کے حضور میں آج کسی کو ہم اپنا سفارشی بناتے۔ چناچہ سب لوگ آدم (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہونگے اور عرض کریں گے کہ آپ انسانوں کے باپ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے ہاتھ سے بنایا۔ آپ کے لیے فرشتوں کو سجدہ کا حکم دیا اور آپ کو ہر چیز کے نام سکھائے۔ آپ ہمارے لیے اپنے رب کے حضور میں سفارش کردیں تاکہ آج کی مصیبت سے ہمیں نجات ملے۔ آدم (علیہ السلام) کہیں گے، میں اس کے لائق نہیں ہوں، وہ اپنی لغزش کو یاد کریں گے اور ان کو پروردگار کے حضور میں جانے سے شرم آئے گی۔ کہیں گے کہ تم لوگ نوح (علیہ السلام) کے پاس جاؤ۔ وہ سب سے پہلے نبی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے (میرے بعد) زمین والوں کی طرف مبعوث کیا تھا۔ سب لوگ نوح (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہوں گے۔ وہ بھی کہیں گے کہ میں اس قابل نہیں اور وہ اپنے رب سے اپنے سوال کو یاد کریں گے جس کے متعلق انہیں کوئی علم نہیں تھا۔ ان کو بھی شرم آئے گی اور کہیں گے کہ اللہ کے خلیل (علیہ السلام) کے پاس جاؤ۔ لوگ ان کی خدمت میں حاضر ہوں گے لیکن وہ بھی یہی کہیں گے کہ میں اس قابل نہیں، موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس جاؤ، ان سے اللہ تعالیٰ نے کلام فرمایا تھا اور تورات دی تھی۔ لوگ ان کے پاس آئیں گے لیکن وہ بھی عذر کردیں گے کہ مجھ میں اس کی جرات نہیں۔ ان کو بغیر کسی حق کے ایک شخص کو قتل کرنا یاد آجائے گا اور اپنے رب کے حضور میں جاتے ہوئے شرم دامن گیر ہوگی۔ کہیں گے تم عیسیٰ (علیہ السلام) کے پاس جاؤ، وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول، اس کا کلمہ اور اس کی روح ہیں لیکن عیسیٰ (علیہ السلام) بھی یہی کہیں گے کہ مجھ میں اس کی ہمت نہیں، تم محمد ﷺ کے پاس جاؤ، وہ اللہ کے مقبول بندے ہیں اور اللہ نے ان کے تمام اگلے اور پچھلے گناہ معاف کر دئیے ہیں۔ چناچہ لوگ میرے پاس آئیں گے، میں ان کے ساتھ جاؤں گا اور اپنے رب سے اجازت چاہوں گا۔ مجھے اجازت مل جائے گی، پھر میں اپنے رب کو دیکھتے ہی سجدہ میں گر پڑوں گا اور جب تک اللہ چاہے گا میں سجدہ میں رہوں گا، پھر مجھ سے کہا جائے گا کہ اپنا سر اٹھاؤ اور جو چاہو مانگو، تمہیں دیا جائے گا، جو چاہو کہو تمہاری بات سنی جائے گی۔ شفاعت کرو، تمہاری شفاعت قبول کی جائے گی۔ میں اپنا سر اٹھاؤں گا اور اللہ کی وہ حمد بیان کروں گا جو مجھے اس کی طرف سے سکھائی گئی ہوگی۔ اس کے بعد شفاعت کروں گا اور میرے لیے ایک حد مقرر کردی جائے گی۔ میں انہیں جنت میں داخل کراؤں گا چوتھی مرتبہ جب میں واپس آؤں گا تو عرض کروں گا کہ جہنم میں ان لوگوں کے سوا اور کوئی اب باقی نہیں رہا جنہیں قرآن نے ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہنا ضروری قرار دے دیا ہے۔ ابوعبداللہ امام بخاری (رح) نے کہا کہ قرآن کی رو سے دوزخ میں قید رہنے سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے لیے خالدين فيها کہا گیا ہے۔ کہ وہ ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے۔

Narrated Anas (RA) : The Prophet ﷺ said, "On the Day of Resurrection the Believers will assemble and say, Let us ask somebody to intercede for us with our Lord. So they will go to Adam and say, You are the father of all the people, and Allah created you with His Own Hands, and ordered the angels to prostrate to you, and taught you the names of all things; so please intercede for us with your Lord, so that He may relieve us from this place of ours. Adam will say, I am not fit for this (i.e. intercession for you). Then Adam will remember his sin and feel ashamed thereof. He will say, Go to Noah, for he was the first Apostle, Allah sent to the inhabitants of the earth. They will go to him and Noah will say, I am not fit for this undertaking. He will remember his appeal to his Lord to do what he had no knowledge of, then he will feel ashamed thereof and will say, Go to the Khalil--r-Rahman (i.e. Abraham). They will go to him and he will say, I am not fit for this undertaking. Go to Moses (علیہ السلام), the slave to whom Allah spoke (directly) and gave him the Torah . So they will go to him and he will say, I am not fit for this undertaking. and he will mention (his) killing a person who was not a killer, and so he will feel ashamed thereof before his Lord, and he will say, Go to Jesus, Allahs Slave, His Apostle ﷺ and Allahs Word and a Spirit coming from Him. Jesus will say, I am not fit for this undertaking, go to Muhammad the Slave of Allah whose past and future sins were forgiven by Allah. So they will come to me and I will proceed till I will ask my Lords Permission and I will be given permission. When I see my Lord, I will fall down in Prostration and He will let me remain in that state as long as He wishes and then I will be addressed. ( Muhammad ﷺ !) Raise your head. Ask, and your request will be granted; say, and your saying will be listened to; intercede, and your intercession will be accepted. I will raise my head and praise Allah with a saying (i.e. invocation) He will teach me, and then I will intercede. He will fix a limit for me (to intercede for) whom I will admit into Paradise. Then I will come back again to Allah, and when I see my Lord, the same thing will happen to me. And then I will intercede and Allah will fix a limit for me to intercede whom I will let into Paradise, then I will come back for the third time; and then I will come back for the fourth time, and will say, None remains in Hell but those whom the Quran has imprisoned (in Hell) and who have been destined to an eternal stay in Hell. " (The compiler) Abu Abdullah said: But those whom the Quran has imprisoned in Hell, refers to the Statement of Allah: "They will dwell therein forever." (16.29)

4477Sahih Bukhari

اللہ تعالیٰ کا فرمان کہ کسی کو اللہ کا شریک مت بناؤ حالانکہ تم جانتے ہو

حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الذَّنْبِ أَعْظَمُ عِنْدَ اللَّهِ ؟ قَالَ: أَنْ تَجْعَلَ لِلَّهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَكَ، قُلْتُ: إِنَّ ذَلِكَ لَعَظِيمٌ، قُلْتُ: ثُمَّ أَيُّ ؟ قَالَ: وَأَنْ تَقْتُلَ وَلَدَكَ تَخَافُ أَنْ يَطْعَمَ مَعَكَ، قُلْتُ: ثُمَّ أَيُّ ؟ قَالَ: أَنْ تُزَانِيَ حَلِيلَةَ جَارِكَ.

ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے ابو وائل نے، ان سے عمرو بن شرحبیل نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود ؓ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا، اللہ کے نزدیک کون سا گناہ سب سے بڑا ہے؟ فرمایا اور یہ کہ تم اللہ کے ساتھ کسی کو برابر ٹھہراؤ حالانکہ اللہ ہی نے تم کو پیدا کیا ہے۔ میں نے عرض کیا یہ تو واقعی سب سے بڑا گناہ ہے، پھر اس کے بعد کون سا گناہ سب سے بڑا ہے؟ فرمایا یہ کہ تم اپنی اولاد کو اس خوف سے مار ڈالو کہ وہ تمہارے ساتھ کھائیں گے۔ میں نے پوچھا اور اس کے بعد؟ فرمایا یہ کہ تم اپنے پڑوسی کی عورت سے زنا کرو۔

Narrated Abdullah (RA) : I asked the Prophet, "What is the greatest sin in the Sight of Allah?" He said, "That you set up a rival unto Allah though He Alone created you." I said, "That is indeed a great sin." Then asked, "What is next?" He said, "To kill your son lest he should share your food with you." I asked, "What is next?" He said, "To commit illegal sexual intercourse with the wife of your neighbor."

4478Sahih Bukhari

باب: آیت کی تفسیر ”اور تم پر ہم نے بادل کا سایہ کیا، اور تم پر ہم نے من و سلویٰ اتارا اور کہا کہ کھاؤ ان پاکیزہ چیزوں کو جو ہم نے تمہیں عطا کی ہیں، ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا تھا بلکہ انہوں نے نے خود اپنے نفسوں پر ظلم کیا“۔

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْكَمْأَةُ مِنَ الْمَنِّ وَمَاؤُهَا شِفَاءٌ لِلْعَيْنِ.

ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے سفیان نے بیان کیا، ان سے عبدالملک نے، ان سے عمرو بن حریث نے اور ان سے سعید بن زید ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا كمأة (یعنی کھنبی) بھی من کی قسم ہے اور اس کا پانی آنکھ کی دوا ہے۔

Narrated Said bin Zaid (RA) : Allahs Apostle ﷺ said, "The Kama (i.e. a kind of edible fungus) is like the Manna (in that it is obtained without effort) and its water is a (medicine) cure for eye trouble."

4479Sahih Bukhari

باب: آیت کی تفسیر ”اور جب ہم نے کہا کہ اس بستی میں داخل ہو جاؤ اور پوری کشادگی کے ساتھ جہاں چاہو اپنا رزق کھاؤ اور دروازے سے جھکتے ہوئے داخل ہونا، یوں کہتے ہوئے کہ اے اللہ! ہمارے گناہ معاف کر دے تو ہم تمہارے گناہ معاف کر دیں گے اور خلوص کے ساتھ عمل کرنے والوں کے ثواب میں ہم زیادتی کریں گے“۔

حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قِيلَ لِبَنِي إِسْرَائِيلَ وَادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَقُولُوا حِطَّةٌ سورة البقرة آية 58، فَدَخَلُوا يَزْحَفُونَ عَلَى أَسْتَاهِهِمْ فَبَدَّلُوا، وَقَالُوا حِطَّةٌ حَبَّةٌ فِي شَعَرَةٍ.

مجھ سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالرحمٰن بن مہدی نے، ان سے عبداللہ بن مبارک نے، ان سے معمر نے، ان سے ہمام بن منبہ نے اور ان سے ابوہریرہ ؓ نے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ بنی اسرائیل کو یہ حکم ہوا تھا کہ شہر کے دروازے میں جھکتے ہوئے داخل ہوں اور حطة کہتے ہوئے (یعنی) اے اللہ! ہمارے گناہ معاف کر دے۔ لیکن وہ الٹے چوتڑوں کے بل گھسٹتے ہوئے داخل ہوئے اور کلمہ حطة کو بھی بدل دیا اور کہا کہ حبة في شعرة یعنی دل لگی کے طور پر کہنے لگے کہ دانہ بال کے اندر ہونا چاہیے۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said, "It was said to the children of Israel, Enter the gate (of the town), prostrate (in humility) and say: Hittatun (i.e. repentance) i.e. O Allah! Forgive our sins. But they entered by dragging themselves on their buttocks, so they did something different (from what they had been ordered to do) and said, Hittatun, but added, "A grain in a hair."

4480Sahih Bukhari

باب: اللہ تعالیٰ کے ارشاد «من كان عدوا لجبريل» کی تفسیر۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُنِيرٍ، سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ بَكْرٍ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: سَمِعَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ، بِقُدُوم رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهْوَ فِي أَرْضٍ يَخْتَرِفُ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي سَائِلُكَ عَنْ ثَلَاثٍ لَا يَعْلَمُهُنَّ إِلَّا نَبِيٌّ فَمَا أَوَّلُ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ ؟ وَمَا أَوَّلُ طَعَامِ أَهْلِ الْجَنَّةِ ؟ وَمَا يَنْزِعُ الْوَلَدُ إِلَى أَبِيهِ أَوْ إِلَى أُمِّهِ ؟ قَالَ: أَخْبَرَنِي بِهِنَّ جِبْرِيلُ آنِفًا، قَالَ: جِبْرِيلُ ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: ذَاكَ عَدُوُّ الْيَهُودِ مِنَ الْمَلَائِكَةِ، فَقَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِجِبْرِيلَ فَإِنَّهُ نَزَّلَهُ عَلَى قَلْبِكَ بِإِذْنِ اللَّهِ سورة البقرة آية 97 أَمَّا أَوَّلُ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ، فَنَارٌ تَحْشُرُ النَّاسَ مِنَ الْمَشْرِقِ إِلَى الْمَغْرِبِ، وَأَمَّا أَوَّلُ طَعَامٍ يَأْكُلُهُ أَهْلُ الْجَنَّةِ، فَزِيَادَةُ كَبِدِ حُوتٍ، وَإِذَا سَبَقَ مَاءُ الرَّجُلِ مَاءَ الْمَرْأَةِ نَزَعَ الْوَلَدَ، وَإِذَا سَبَقَ مَاءُ الْمَرْأَةِ نَزَعَتْ، قَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ، يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ الْيَهُودَ قَوْمٌ بُهُتٌ، وَإِنَّهُمْ إِنْ يَعْلَمُوا بِإِسْلَامِي قَبْلَ أَنْ تَسْأَلَهُمْ يَبْهَتُونِي، فَجَاءَتْ الْيَهُودُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ رَجُلٍ عَبْدُ اللَّهِ فِيكُمْ ؟قَالُوا: خَيْرُنَا وَابْنُ خَيْرِنَا، وَسَيِّدُنَا وَابْنُ سَيِّدِنَا، قَالَ: أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَسْلَمَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ ؟فَقَالُوا: أَعَاذَهُ اللَّهُ مِنْ ذَلِكَ، فَخَرَجَ عَبْدُ اللَّهِ، فَقَالَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، فَقَالُوا: شَرُّنَا وَابْنُ شَرِّنَا وَانْتَقَصُوهُ، قَالَ: فَهَذَا الَّذِي كُنْتُ أَخَافُ يَا رَسُولَ اللَّهِ.

ہم سے عبداللہ بن منیر نے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن بکر سے سنا، اس نے کہا کہ مجھ سے حمید نے اور ان سے انس ؓ نے بیان کیا کہ جب عبداللہ بن سلام ؓ (جو یہود کے بڑے عالم تھے) نے رسول اللہ ﷺ کی (مدینہ) تشریف لانے کی خبر سنی تو وہ اپنے باغ میں پھل توڑ رہے تھے۔ وہ اسی وقت نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میں آپ سے ایسی تین چیزوں کے متعلق پوچھتا ہوں، جنہیں نبی کے سوا اور کوئی نہیں جانتا۔ بتلائیے! قیامت کی نشانیوں میں سب سے پہلی نشانی کیا ہے؟ اہل جنت کی دعوت کے لیے سب سے پہلے کیا چیز پیش کی جائے گی؟ بچہ کب اپنے باپ کی صورت میں ہوگا اور کب اپنی ماں کی صورت پر؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ مجھے ابھی جبرائیل نے آ کر ان کے متعلق بتایا ہے۔ عبداللہ بن سلام بولے جبرائیل (علیہ السلام) نے! فرمایا: ہاں، عبداللہ بن سلام نے کہا کہ وہ تو یہودیوں کے دشمن ہیں۔ اس پر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت کی من کان عدوا لجبريل فإنه نزله على قلبک اور ان کے سوالات کے جواب میں فرمایا، قیامت کی سب سے پہلی نشانی ایک آگ ہوگی جو انسانوں کو مشرق سے مغرب کی طرف جمع کر لائے گی۔ اہل جنت کی دعوت میں جو کھانا سب سے پہلے پیش کیا جائے گا وہ مچھلی کے جگر کا بڑھا ہوا حصہ ہوگا اور جب مرد کا پانی عورت کے پانی پر غلبہ کرجاتا ہے تو بچہ باپ کی شکل پر ہوتا ہے اور جب عورت کا پانی مرد کے پانی پر غلبہ کرجاتا ہے تو بچہ ماں کی شکل پر ہوتا ہے۔ عبداللہ بن سلام ؓ بول اٹھے أشهد أن لا إله إلا الله، وأشهد أنک رسول الله. میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ (پھر عرض کیا) یا رسول اللہ! یہودی بڑی بہتان باز قوم ہے، اگر اس سے پہلے کہ آپ میرے متعلق ان سے کچھ پوچھیں، انہیں میرے اسلام کا پتہ چل گیا تو مجھ پر بہتان تراشیاں شروع کردیں گے۔ بعد میں جب یہودی آئے تو نبی کریم ﷺ نے دریافت فرمایا کہ عبداللہ تمہارے یہاں کیسے آدمی سمجھے جاتے ہیں؟ وہ کہنے لگے، ہم میں سب سے بہتر اور ہم میں سب سے بہتر کے بیٹے! ہمارے سردار اور ہمارے سردار کے بیٹے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر وہ اسلام لے آئیں پھر تمہارا کیا خیال ہوگا؟ کہنے لگے، اللہ تعالیٰ اس سے انہیں پناہ میں رکھے۔ اتنے میں عبداللہ بن سلام ؓ نے ظاہر ہو کر کہا أشهد أن لا إله إلا الله، وأن محمدا رسول الله. کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے سچے رسول ہیں۔ اب وہی یہودی ان کے بارے میں کہنے لگے کہ یہ ہم میں سب سے بدتر ہے اور سب سے بدتر شخص کا بیٹا ہے اور ان کی توہین شروع کردی۔ عبداللہ ؓ نے کہا: یا رسول اللہ! یہی وہ چیز تھی جس سے میں ڈرتا تھا۔

Narrated Anas (RA) : Abdullah bin Salam heard the news of the arrival of Allahs Apostle ﷺ (at Medina) while he was on a farm collecting its fruits. So he came to the Prophet ﷺ and said, "I will ask you about three things which nobody knows unless he be a prophet. Firstly, what is the first portent of the Hour? What is the first meal of the people of Paradise? And what makes a baby look like its father or mother?. The Prophet ﷺ said, "Just now Gabriel (علیہ السلام) has informed me about that." Abdullah said, " Gabriel (علیہ السلام)?" The Prophet ﷺ said, "Yes." Abdullah said, "He, among the angels is the enemy of the Jews." On that the Prophet ﷺ recited this Holy Verse:-- "Whoever is an enemy to Gabriel (علیہ السلام) (let him die in his fury!) for he has brought it (i.e. Quran) down to your heart by Allahs permission." (2.97) Then he added, "As for the first portent of the Hour, it will be a fire that will collect the people from the East to West. And as for the first meal of the people of Paradise, it will be the caudite (i.e. extra) lobe of the fish liver. And if a mans discharge proceeded that of the woman, then the child resembles the father, and if the womans discharge proceeded that of the man, then the child resembles the mother." On hearing that, Abdullah said, "I testify that None has the right to be worshipped but Allah, and that you are the Apostle of Allah ﷺ , O, Allahs Apostle; the Jews are liars, and if they should come to know that I have embraced Islam, they would accuse me of being a liar." In the meantime some Jews came (to the Prophet) and he asked them, "What is Abdullahs status amongst you?" They replied, "He is the best amongst us, and he is our chief and the son of our chief." The Prophet ﷺ said, "What would you think if Abdullah bin Salam embraced Islam?" They replied, "May Allah protect him from this!" Then Abdullah came out and said, "I testify that None has the right to be worshipped but Allah and that Muhammad is the Apostle of Allah ﷺ ." The Jews then said, "Abdullah is the worst of us and the son of the worst of us," and disparaged him. On that Abdullah said, "O Allahs Apostle ﷺ ! This is what I was afraid of!"