باب: عورت کے لیے استحاضہ کی حالت میں اعتکاف۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ بَعْضَ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ اعْتَكَفَتْ وَهِيَ مُسْتَحَاضَةٌ.
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے معتمر بن سلیمان نے خالد کے واسطہ سے بیان کیا، وہ عکرمہ سے وہ عائشہ ؓ سے کہ بعض امہات المؤمنین نے اعتکاف کیا حالانکہ وہ مستحاضہ تھیں۔ (اوپر والی روایت میں ان ہی کا ذکر ہے) ۔
Narrated Aisha (RA): One of the mothers of the faithful believers (i.e. the wives of the Prophet ﷺ) did ltikaf while she was having bleeding in between her periods.
باب: کیا عورت اسی کپڑے میں نماز پڑھ سکتی ہے جس میں اسے حیض آیا ہو؟
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ مَا كَانَ لِإِحْدَانَا إِلَّا ثَوْبٌ وَاحِدٌ تَحِيضُ فِيهِ، فَإِذَا أَصَابَهُ شَيْءٌ مِنْ دَمٍ، قَالَتْ: بِرِيقِهَا فَقَصَعَتْهُ بِظُفْرِهَا.
ہم سے ابونعیم فضل بن دکین نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابراہیم بن نافع نے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ ابن ابی نجیح سے، انہوں نے مجاہد سے کہ عائشہ ؓ نے فرمایا کہ ہمارے پاس صرف ایک کپڑا ہوتا تھا، جسے ہم حیض کے وقت پہنتے تھے۔ جب اس میں خون لگ جاتا تو اس پر تھوک ڈال لیتے اور پھر اسے ناخنوں سے مسل دیتے۔
Narrated Aisha (RA): None of us had more than a single garment and we used to have our menses while wearing it. Whenever it got soiled with blood of menses we used to apply saliva to the blood spot and rub off the blood with our nails.
باب: عورت حیض کے غسل میں خوشبو استعمال کرے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ حَفْصَةَ ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: أَوْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ ، عَنْ حَفْصَةَ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ ، قَالَتْ: كُنَّا نُنْهَى أَنْ نُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ، إِلَّا عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا، وَلَا نَكْتَحِلَ وَلَا نَتَطَيَّبَ وَلَا نَلْبَسَ ثَوْبًا مَصْبُوغًا إِلَّا ثَوْبَ عَصْبٍ، وَقَدْ رُخِّصَ لَنَا عِنْدَ الطُّهْرِ إِذَا اغْتَسَلَتْ إِحْدَانَا مِنْ مَحِيضِهَا فِي نُبْذَةٍ مِنْ كُسْتِ أَظْفَارٍ، وَكُنَّا نُنْهَى عَنِ اتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ، قَالَ: رَوَاهُ هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْحَفْصَةَ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حماد بن زید نے ایوب سختیانی سے، انہوں نے حفصہ سے، وہ ام عطیہ سے، آپ نے فرمایا کہ ہمیں کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرنے سے منع کیا جاتا تھا۔ لیکن شوہر کی موت پر چار مہینے دس دن کے سوگ کا حکم تھا۔ ان دنوں میں ہم نہ سرمہ لگاتیں نہ خوشبو اور عصب (یمن کی بنی ہوئی ایک چادر جو رنگین بھی ہوتی تھی) کے علاوہ کوئی رنگین کپڑا ہم استعمال نہیں کرتی تھیں اور ہمیں (عدت کے دنوں میں) حیض کے غسل کے بعد کست اظفار استعمال کرنے کی اجازت تھی اور ہمیں جنازہ کے پیچھے چلنے سے منع کیا جاتا تھا۔ اس حدیث کو ہشام بن حسان نے حفصہ سے، انہوں نے ام عطیہ سے، انہوں نے نبی کریم ﷺ سے روایت کیا ہے۔
Narrated Um-Atiya (RA): We were forbidden to mourn for a dead person for more than three days except in the case of a husband for whom mourning was allowed for four months and ten days. (During that time) we were not allowed to put ko,hl (Antimony eye power) in our eyes or to use perfumes or to put on colored clothes except a dress made of Asb (a kind of Yemen cloth, very coarse and rough). We were allowed very light perfumes at the time of taking a bath after menses and also we were forbidden to go with the funeral procession.
باب: اس بارے میں کہ حیض سے پاک ہونے کے بعد عورت کو اپنے بدن کو نہاتے وقت ملنا چاہیے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ مَنْصُورِ ابْنِ صَفِيَّةَ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ امْرَأَةً سَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ غُسْلِهَا مِنَ الْمَحِيضِ ؟ فَأَمَرَهَا كَيْفَ تَغْتَسِلُ، قَالَ: خُذِي فِرْصَةً مِنْ مَسْكٍ فَتَطَهَّرِي بِهَا، قَالَتْ: كَيْفَ أَتَطَهَّرُ ؟ قَالَ: تَطَهَّرِي بِهَا، قَالَتْ: كَيْفَ ؟ قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ تَطَهَّرِي، فَاجْتَبَذْتُهَا إِلَيَّ، فَقُلْتُ: تَتَبَّعِي بِهَا أَثَرَ الدَّمِ.
ہم سے یحییٰ بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے منصور بن صفیہ سے، انہوں نے اپنی ماں صفیہ بنت شیبہ سے، وہ عائشہ ؓ سے کہ آپ نے فرمایا کہ ایک انصاریہ عورت نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ میں حیض کا غسل کیسے کروں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ مشک میں بسا ہوا کپڑا لے کر اس سے پاکی حاصل کر۔ اس نے پوچھا۔ اس سے کس طرح پاکی حاصل کروں، آپ ﷺ نے فرمایا، اس سے پاکی حاصل کر۔ اس نے دوبارہ پوچھا کہ کس طرح؟ آپ ﷺ نے فرمایا سبحان اللہ! پاکی حاصل کر۔ پھر میں نے اسے اپنی طرف کھینچ لیا اور کہا کہ اسے خون لگی ہوئی جگہوں پر پھیرلیا کر۔
Narrated Aisha (RA): A woman asked the Prophet ﷺ about the bath which is take after finishing from the menses. The Prophet ﷺ told her what to do and said, "Purify yourself with a piece of cloth scented with musk." The woman asked, "How shall I purify myself with it" He said, "Subhan Allah! Purify yourself (with it)." I pulled her to myself and said, "Rub the place soiled with blood with it."
باب: حیض کا غسل کیونکر ہو؟
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ: حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ، قَالَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَيْفَ أَغْتَسِلُ مِنَ الْمَحِيضِ ؟ قَالَ: خُذِي فِرْصَةً مُمَسَّكَةً فَتَوَضَّئِي ثَلَاثًا، ثُمَّ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَحْيَا فَأَعْرَضَ بِوَجْهِهِ، أَوْ قَالَ: تَوَضَّئِي بِهَا، فَأَخَذْتُهَا فَجَذَبْتُهَا فَأَخْبَرْتُهَا بِمَا يُرِيدُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے وہیب بن خالد نے، کہا ہم سے منصور بن عبدالرحمٰن نے اپنی والدہ صفیہ سے، وہ عائشہ سے کہ انصاریہ عورت نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ میں حیض کا غسل کیسے کروں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ایک مشک میں بسا ہوا کپڑا لے اور پاکی حاصل کر، یہ آپ ﷺ نے تین دفعہ فرمایا۔ پھر نبی کریم ﷺ شرمائے اور آپ ﷺ نے اپنا چہرہ مبارک پھیرلیا، یا فرمایا کہ اس سے پاکی حاصل کر۔ پھر میں نے انہیں پکڑ کر کھینچ لیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو بات کہنی چاہتے تھے وہ میں نے اسے سمجھائی۔
Narrated Aisha (RA): An Ansari woman asked the Prophet ﷺ how to take a bath after finishing from the menses. He replied, "Take a piece a cloth perfumed with musk and clean the private parts with it thrice." The Prophet ﷺ felt shy and turned his face. So pulled her to me and told her what the Prophet ﷺ meant.
باب: عورت کا حیض کے غسل کے بعد کنگھا کرنا جائز ہے۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، أَنَّ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: أَهْلَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَكُنْتُ مِمَّنْ تَمَتَّعَ وَلَمْ يَسُقْ الْهَدْيَ، فَزَعَمَتْ أَنَّهَا حَاضَتْ وَلَمْ تَطْهُرْ حَتَّى دَخَلَتْ لَيْلَةُ عَرَفَةَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذِهِ لَيْلَةُ عَرَفَةَ وَإِنَّمَا كُنْتُ تَمَتَّعْتُ بِعُمْرَةٍ ؟ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: انْقُضِي رَأْسَكِ وَامْتَشِطِي وَأَمْسِكِي عَنْ عُمْرَتِكِ فَفَعَلْتُ، فَلَمَّا قَضَيْتُ الْحَجَّ أَمَرَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ لَيْلَةَ الْحَصْبَةِ فَأَعْمَرَنِي مِنَ التَّنْعِيمِ مَكَانَ عُمْرَتِي الَّتِي نَسَكْتُ.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے، کہا ہم سے ابن شہاب زہری نے عروہ کے واسطہ سے کہ عائشہ ؓ نے بتلایا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ حجۃ الوداع کیا، میں تمتع کرنے والوں میں تھی اور ہدی (یعنی قربانی کا جانور) اپنے ساتھ نہیں لے گئی تھی۔ عائشہ ؓ نے اپنے متعلق بتایا کہ پھر وہ حائضہ ہوگئیں اور عرفہ کی رات آگئی اور ابھی تک وہ پاک نہیں ہوئی تھیں۔ اس لیے انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ یا رسول اللہ! آج عرفہ کی رات ہے اور میں عمرہ کی نیت کرچکی تھی، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اپنے سر کو کھول ڈال اور کنگھا کر اور عمرہ کو چھوڑ دے۔ میں نے ایسا ہی کیا۔ پھر میں نے حج پورا کیا۔ اور لیلۃ الحصبہ میں عبدالرحمٰن بن ابوبکر کو نبی کریم ﷺ نے حکم دیا۔ وہ مجھے اس عمرہ کے بدلہ میں جس کی نیت میں نے کی تھی تنعیم سے (دوسرا) عمرہ کرا لائے۔
Narrated Aisha (RA): In the last Hajj of Allahs Apostle ﷺ I assume the Ihram for Hajj along with Allah Apostle. I was one of those who intended Tamattu (to perform Hajj an Umra) and did not take the Hadi (animal for sacrifice) with me. I got my menses and was not clean till the night of Arafa I said, "O Allahs Apostle ﷺ ! It is the night of the day of Arafat and I intended to perform the Hajj Tamattu with Umra Allahs Apostle ﷺ told me to undo my hair and comb it and to postpone the Umra. I did the same and completed the Hajj. On the night of Al-Hasba (i.e. place outside Makkah where the pilgrims go after finishing all the ceremonies Hajj at Mina) he (the Prophet ﷺ ordered Abdur Rahman (Aishas brother) to take me to At-Tanim to assume the lhram forUmra in lieu of that of Hajj-atTamattu which I had intended to perform.
باب: حیض کے غسل کے وقت عورت کا اپنے بالوں کو کھولنے کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: خَرَجْنَا مُوَافِينَ لِهِلَالِ ذِي الْحِجَّةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَحَبَّ أَنْ يُهِلَّ بِعُمْرَةٍ فَلْيُهْلِلْ، فَإِنِّي لَوْلَا أَنِّي أَهْدَيْتُ لَأَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ، فَأَهَلَّ بَعْضُهُمْ بِعُمْرَةٍ، وَأَهَلَّ بَعْضُهُمْ بِحَجٍّ، وَكُنْتُ أَنَا مِمَّنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ فَأَدْرَكَنِي يَوْمُ عَرَفَةَ وَأَنَا حَائِضٌ، فَشَكَوْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: دَعِي عُمْرَتَكِ وَانْقُضِي رَأْسَكِ وَامْتَشِطِي وَأَهِلِّي بِحَجٍّ، فَفَعَلْتُ حَتَّى إِذَا كَانَ لَيْلَةُ الْحَصْبَةِ أَرْسَلَ مَعِي أَخِي عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ، فَخَرَجْتُ إِلَى التَّنْعِيمِ فَأَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ مَكَانَ عُمْرَتِي، قَالَ هِشَامٌ: وَلَمْ يَكُنْ فِي شَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ هَدْيٌ وَلَا صَوْمٌ وَلَا صَدَقَةٌ.
ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابواسامہ حماد نے ہشام بن عروہ کے واسطے سے بیان کیا، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے عائشہ ؓ سے کہ انہوں نے فرمایا ہم ذی الحجہ کا چاند دیکھتے ہی نکلے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس کا دل چاہے تو اسے عمرہ کا احرام باندھ لینا چاہیے۔ کیونکہ اگر میں ہدی ساتھ نہ لاتا تو میں بھی عمرہ کا احرام باندھتا۔ اس پر بعض صحابہ نے عمرہ کا احرام باندھا اور بعض نے حج کا۔ میں بھی ان لوگوں میں سے تھی جنہوں نے عمرہ کا احرام باندھا تھا۔ مگر عرفہ کا دن آگیا اور میں حیض کی حالت میں تھی۔ میں نے نبی کریم ﷺ سے اس کے متعلق شکایت کی تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ عمرہ چھوڑ اور اپنا سر کھول اور کنگھا کر اور حج کا احرام باندھ لے۔ میں نے ایسا ہی کیا۔ یہاں تک کہ جب حصبہ کی رات آئی تو رسول اللہ ﷺ نے میرے ساتھ میرے بھائی عبدالرحمٰن بن ابی بکر کو بھیجا۔ میں تنعیم میں گئی اور وہاں سے اپنے عمرہ کے بدلے دوسرے عمرہ کا احرام باندھا۔ ہشام نے کہا کہ ان میں سے کسی بات کی وجہ سے بھی نہ ہدی واجب ہوئی اور نہ روزہ اور نہ صدقہ۔ (تنعیم حد حرم سے قریب تین میل دور ایک مقام کا نام ہے) ۔
Narrated Aisha (RA): On the 1st of Dhul-Hijja we set out with the intention of performing Hajj. Allahs Apostle ﷺ said, "Anyone who likes to assume the Ihram for Umra he can do so. Had I not brought the Hadi with me, I would have assumed the Ihram for Umra. "Some of us assumed the Ihram for Umra while the others assumed the Ihram for Hajj. I was one of those who assumed the Ihram for Umra. I got menses and kept on menstruating until the day of Arafat and complained of that to the Prophet ﷺ . He told me to postpone my Umra, undo and comb my hair, and to assure the Ihram of Hajj and I did so. On the right of Hasba, he sent my brother Abdur-Rahman bin Abi Bakr with me to At-Tahim, where I assumed the Ihram forUmra in lieu of the previous one. Hisham said, "For that (Umra) no Hadi, fasting or alms were required.
باب: اللہ عزوجل کے قول «مخلقة وغير مخلقة» (کامل الخلقت اور ناقص الخلقت) کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَكَّلَ بِالرَّحِمِ مَلَكًا يَقُولُ يَا رَبِّ نُطْفَةٌ، يَا رَبِّ عَلَقَةٌ، يَا رَبِّ مُضْغَةٌ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَقْضِيَ خَلْقَهُ، قَالَ: أَذَكَرٌ أَمْ أُنْثَى، شَقِيٌّ أَمْ سَعِيدٌ، فَمَا الرِّزْقُ وَالْأَجَلُ، فَيُكْتَبُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ.
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے عبیداللہ بن ابی بکر کے واسطے سے، وہ انس بن مالک ؓ سے، وہ نبی کریم ﷺ سے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ رحم مادر میں اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتہ مقرر کیا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اے رب! اب یہ نطفة ہے، اے رب! اب یہ علقة ہوگیا ہے، اے رب! اب یہ مضغة ہوگیا ہے۔ پھر جب اللہ چاہتا ہے کہ اس کی خلقت پوری کرے تو کہتا ہے کہ مذکر یا مونث، بدبخت ہے یا نیک بخت، روزی کتنی مقدر ہے اور عمر کتنی۔ پس ماں کے پیٹ ہی میں یہ تمام باتیں فرشتہ لکھ دیتا ہے۔
Narrated Anas bin Malik (RA): The Prophet ﷺ said, "At every womb Allah appoints an angel who says, O Lord! A drop of semen, O Lord! A clot. O Lord! A little lump of flesh." Then if Allah wishes (to complete) its creation, the angel asks, (O Lord!) Will it be a male or female, a wretched or a blessed, and how much will his provision be? And what will his age be? So all that is written while the child is still in the mothers womb."
باب: اس بارے میں کہ حائضہ عورت حج اور عمرہ کا احرام کس طرح باندھے؟
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ، فَقَدِمْنَا مَكَّةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَحْرَمَ بِعُمْرَةٍ وَلَمْ يُهْدِ فَلْيُحْلِلْ، وَمَنْ أَحْرَمَ بِعُمْرَةٍ وَأَهْدَى فَلَا يَحِلُّ حَتَّى يَحِلَّ بِنَحْرِ هَدْيِهِ، وَمَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ فَلْيُتِمَّ حَجَّهُ، قَالَتْ: فَحِضْتُ فَلَمْ أَزَلْ حَائِضًا حَتَّى كَانَ يَوْمُ عَرَفَةَ وَلَمْ أُهْلِلْ إِلَّا بِعُمْرَةٍ، فَأَمَرَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَنْقُضَ رَأْسِي وَأَمْتَشِطَ وَأُهِلَّ بِحَجٍّ وَأَتْرُكَ الْعُمْرَةَ، فَفَعَلْتُ ذَلِكَ حَتَّى قَضَيْتُ حَجِّي، فَبَعَثَ مَعِي عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ، وَأَمَرَنِي أَنْ أَعْتَمِرَ مَكَانَ عُمْرَتِي مِنَ التَّنْعِيمِ.
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، انہوں نے عقیل بن خالد سے، انہوں نے ابن شہاب سے، انہوں نے عروہ بن زبیر سے، انہوں نے عائشہ ؓ سے، انہوں نے کہا ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ حجۃ الوداع کے سفر میں نکلے، ہم میں سے بعض نے عمرہ کا احرام باندھا اور بعض نے حج کا، پھر ہم مکہ آئے اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جس نے عمرہ کا احرام باندھا ہو اور ہدی ساتھ نہ لایا ہو تو وہ حلال ہوجائے اور جس نے عمرہ کا احرام باندھا ہو اور وہ ہدی بھی ساتھ لایا ہو تو وہ ہدی کی قربانی سے پہلے حلال نہ ہوگا۔ اور جس نے حج کا احرام باندھا ہو تو اسے حج پورا کرنا چاہیے۔ عائشہ ؓ نے کہا کہ میں حائضہ ہوگئی اور عرفہ کا دن آگیا۔ میں نے صرف عمرہ کا احرام باندھا تھا مجھے نبی کریم ﷺ نے حکم دیا کہ میں اپنا سر کھول لوں، کنگھا کرلوں اور حج کا احرام باندھ لوں اور عمرہ چھوڑ دوں، میں نے ایسا ہی کیا اور اپنا حج پورا کرلیا۔ پھر میرے ساتھ نبی کریم ﷺ نے عبدالرحمٰن بن ابی بکر کو بھیجا اور مجھ سے فرمایا کہ میں اپنے چھوٹے ہوئے عمرہ کے عوض تنعیم سے دوسرا عمرہ کروں۔
Narrated Urwa (RA): Aisha (RA) said, "We set out with the Prophet ﷺ in his last Hajj. Some of us intended to perform Umra while others Hajj. When we reached Makkah, Allahs Apostle ﷺ said, Those who had assumed the lhram forUmra and had not brought the Hadi should finish his lhram and whoever had assumed the Ihram for Umra and brought the Hadi should not finish the Ihram till he has slaughtered his Hadi and whoever had assumed the lhram for Hajj should complete his Hajj." Aisha (RA) further said, "I got my periods (menses) and kept on menstruating till the day of Arafat, and I had assumed the Ihram for Umra only (Tamattu). The Prophet ﷺ ordered me to undo and comb my head hair and assume the lhram for Hajj only and leave the Umra. I did the same till I completed the Hajj. Then the Prophet ﷺ sent Abdur Rahman bin Abi Bakr with me and ordered me to perform Umra from At-Tanim in lieu of the missed Umra."
باب: اس بارے میں کہ حیض کا آنا اور اس کا ختم ہونا کیونکر ہے؟
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ كَانَتْ تُسْتَحَاضُ، فَسَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: ذَلِكِ عِرْقٌ وَلَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ، فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَدَعِي الصَّلَاةَ، وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْتَسِلِي وَصَلِّي.
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے ہشام بن عروہ سے، وہ اپنے باپ سے، وہ عائشہ سے کہ فاطمہ بنت ابی حبیش کو استحاضہ کا خون آیا کرتا تھا۔ تو انہوں نے نبی کریم ﷺ سے اس کے متعلق پوچھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ رگ کا خون ہے اور حیض نہیں ہے۔ اس لیے جب حیض کے دن آئیں تو نماز چھوڑ دیا کر اور جب حیض کے دن گزر جائیں تو غسل کر کے نماز پڑھ لیا کر۔
Narrated Aisha (RA): Fatima bint Abi Hubaish used to have bleeding in between the periods, so she asked the Prophet ﷺ about it . He replied, "The bleeding is from a blood vessel and not the menses. So give up the prayers when the (real) menses begin and when it has finished, take a bath and start praying."
باب: اس بارے میں کہ حائضہ عورت نماز قضاء نہ کرے۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي مُعَاذَةُ ، أَنَّ امْرَأَةً قَالَتْ لِعَائِشَةَ : أَتَجْزِي إِحْدَانَا صَلَاتَهَا إِذَا طَهُرَتْ ؟ فَقَالَتْ: أَحَرُورِيَّةٌ أَنْتِ، كُنَّا نَحِيضُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَا يَأْمُرُنَا بِهِ أَوْ قَالَتْ فَلَا نَفْعَلُهُ.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام بن یحییٰ نے، کہا ہم سے قتادہ نے، کہا مجھ سے معاذہ بنت عبداللہ نے کہ ایک عورت نے عائشہ ؓ سے پوچھا کہ جس زمانہ میں ہم پاک رہتے ہیں۔ (حیض سے) کیا ہمارے لیے اسی زمانہ کی نماز کافی ہے۔ اس پر عائشہ ؓ نے فرمایا کہ کیا تم حروریہ ہو؟ ہم نبی کریم ﷺ کے زمانہ میں حائضہ ہوتی تھیں اور آپ ہمیں نماز کا حکم نہیں دیتے تھے۔ یا عائشہ ؓ نے یہ فرمایا کہ ہم نماز نہیں پڑھتی تھیں۔
Narrated Muadha (RA): A woman asked Aisha (RA), "Should I offer the prayers that which I did not offer because of menses" Aisha (RA) said, "Are you from the Huraura (a town in Iraq?) We were with the Prophet ﷺ and used to get our periods but he never ordered us to offer them (the Prayers missed during menses)." Aisha (RA) perhaps said, "We did not offer them."
باب: حائضہ عورت کے ساتھ سونا جب کہ وہ حیض کے کپڑوں میں ہو۔
حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ حَفْصٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ حَدَّثَتْهُ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: حِضْتُ وَأَنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْخَمِيلَةِ، فَانْسَلَلْتُ فَخَرَجْتُ مِنْهَا فَأَخَذْتُ ثِيَابَ حِيضَتِي فَلَبِسْتُهَا، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنُفِسْتِ ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، فَدَعَانِي فَأَدْخَلَنِي مَعَهُ فِي الْخَمِيلَةِ، قَالَتْ: وَحَدَّثَتْنِي أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُقَبِّلُهَا وَهُوَ صَائِمٌ، وَكُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ مِنَ الْجَنَابَةِ.
ہم سے سعد بن حفص نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شیبان نحوی نے بیان کیا، انہوں نے یحییٰ بن ابی کثیر سے، انہوں نے ابوسلمہ سے، انہوں نے زینب بنت ابی سلمہ سے، انہوں نے بیان کیا کہ ام سلمہ ؓ نے فرمایا کہ میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ چادر میں لیٹی ہوئی تھی کہ مجھے حیض آگیا، اس لیے میں چپکے سے نکل آئی اور اپنے حیض کے کپڑے پہن لیے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، کیا تمہیں حیض آگیا ہے؟ میں نے کہا جی ہاں۔ پھر مجھے آپ نے بلا لیا اور اپنے ساتھ چادر میں داخل کرلیا۔ زینب نے کہا کہ مجھ سے ام سلمہ ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ روزے سے ہوتے اور اسی حالت میں ان کا بوسہ لیتے۔ اور میں نے اور نبی کریم ﷺ نے ایک ہی برتن میں جنابت کا غسل کیا۔
Narrated Zainab bint Abi Salama (RA): Um-Salama said, "I got my menses while I was lying with the Prophet ﷺ under a woolen sheet. So I slipped away, took the clothes for menses and put them on. Allahs Apostle ﷺ said, Have you got your menses? I replied, Yes. Then he called me and took me with him under the woolen sheet." Um Salama further said, "The Prophet ﷺ used to kiss me while he was fasting. The Prophet ﷺ and I used to take the bath of Janaba from a single pot."
باب: اس بارے میں کہ جس نے (اپنی عورت کے لیے) حیض کے لیے پاکی میں پہنے جانے والے کپڑوں کے علاوہ کپڑے بنائے۔
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ فَضَالَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: بَيْنَا أَنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُضْطَجِعَةً فِي خَمِيلَةٍ حِضْتُ، فَانْسَلَلْتُ فَأَخَذْتُ ثِيَابَ حِيضَتِي، فَقَالَ: أَنُفِسْتِ ؟ فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَدَعَانِي فَاضْطَجَعْتُ مَعَهُ فِي الْخَمِيلَةِ.
ہم سے معاذ بن فضالہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام دستوائی نے یحییٰ بن ابی کثیر سے، وہ ابوسلمہ سے، وہ زینب بنت ابی سلمہ سے، وہ ام سلمہ سے، انہوں نے بتلایا کہ میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ ایک چادر میں لیٹی ہوئی تھی کہ مجھے حیض آگیا، میں چپکے سے چلی گئی اور حیض کے کپڑے بدل لیے، آپ نے پوچھا کیا تجھ کو حیض آگیا ہے۔ میں نے کہا، جی ہاں! پھر مجھے آپ نے بلا لیا اور میں آپ کے ساتھ چادر میں لیٹ گئی۔
Narrated Um Salama (RA): While I was lying with the Prophet ﷺ under a woolen sheet, I got my menses. I slipped away and put on the clothes for menses. The Prophet ﷺ said, "Have you got your menses?" I replied, "Yes." He called me and I slept with him under the woolen sheet.
باب: عیدین میں اور مسلمانوں کے ساتھ دعا میں حائضہ عورتیں بھی شریک ہوں اور یہ عورتیں نماز کی جگہ سے ایک طرف ہو کر رہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ هُوَ ابْنُ سَلَامٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ حَفْصَةَ ، قَالَتْ: كُنَّا نَمْنَعُ عَوَاتِقَنَا أَنْ يَخْرُجْنَ فِي الْعِيدَيْنِ، فَقَدِمَتِ امْرَأَةٌ فَنَزَلَتْ قَصْرَ بَنِي خَلَفٍ، فَحَدَّثَتْ عَنْ أُخْتِهَا، وَكَانَ زَوْجُ أُخْتِهَا غَزَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثِنْتَيْ عَشَرَةَ غَزْوَةً، وَكَانَتْ أُخْتِي مَعَهُ فِي سِتٍّ، قَالَتْ: كُنَّا نُدَاوِي الْكَلْمَى، وَنَقُومُ عَلَى الْمَرْضَى، فَسَأَلَتْ أُخْتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَعَلَى إِحْدَانَا بَأْسٌ إِذَا لَمْ يَكُنْ لَهَا جِلْبَابٌ أَنْ لَا تَخْرُجَ ؟ قَالَ: لِتُلْبِسْهَا صَاحِبَتُهَا مِنْ جِلْبَابِهَا، وَلْتَشْهَد الْخَيْرَ وَدَعْوَةَ الْمُسْلِمِينَ، فَلَمَّا قَدِمَتْ أُمُّ عَطِيَّةَ سَأَلْتُهَا، أَسَمِعْتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَتْ: بِأَبِي نَعَمْ، وَكَانَتْ لَا تَذْكُرُهُ إِلَّا قَالَتْ: بِأَبِي سَمِعْتُهُ يَقُولُ: يَخْرُجُ الْعَوَاتِقُ وَذَوَاتُ الْخُدُورِ أَوِ الْعَوَاتِقُ ذَوَاتُ الْخُدُورِ، وَالْحُيَّضُ وَلْيَشْهَدْنَ الْخَيْرَ وَدَعْوَةَ الْمُؤْمِنِينَ، وَيَعْتَزِلُ الْحُيَّضُ الْمُصَلَّى، قَالَتْ حَفْصَةُ: فَقُلْتُ: الْحُيَّضُ، فَقَالَتْ: أَلَيْسَ تَشْهَدُ عَرَفَةَ وَكَذَا وَكَذَا.
ہم سے محمد بن سلام بیکندی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوہاب ثقفی نے ایوب سختیانی سے، وہ حفصہ بنت سیرین سے، انہوں نے فرمایا کہ ہم اپنی کنواری جوان بچیوں کو عیدگاہ جانے سے روکتی تھیں، پھر ایک عورت آئی اور بنی خلف کے محل میں اتریں اور انہوں نے اپنی بہن (ام عطیہ) کے حوالہ سے بیان کیا، جن کے شوہر نبی کریم ﷺ کے ساتھ بارہ لڑائیوں میں شریک ہوئے تھے اور خود ان کی اپنی بہن اپنے شوہر کے ساتھ چھ جنگوں میں گئی تھیں۔ انہوں نے بیان کیا کہ ہم زخمیوں کی مرہم پٹی کیا کرتی تھیں اور مریضوں کی خبرگیری بھی کرتی تھیں۔ میری بہن نے ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ سے پوچھا کہ اگر ہم میں سے کسی کے پاس چادر نہ ہو تو کیا اس کے لیے اس میں کوئی حرج ہے کہ وہ (نماز عید کے لیے) باہر نہ نکلے۔ آپ ﷺ نے فرمایا اس کی ساتھی عورت کو چاہیے کہ اپنی چادر کا کچھ حصہ اسے بھی اڑھا دے، پھر وہ خیر کے مواقع پر اور مسلمانوں کی دعاؤں میں شریک ہوں، (یعنی عیدگاہ جائیں) پھر جب ام عطیہ ؓ آئیں تو میں نے ان سے بھی یہی سوال کیا۔ انہوں نے فرمایا، میرا باپ آپ پر فدا ہو، ہاں آپ ﷺ نے یہ فرمایا تھا۔ اور ام عطیہ ؓ جب بھی نبی کریم ﷺ کا ذکر کرتیں تو یہ ضرور فرماتیں کہ میرا باپ آپ ﷺ پر فدا ہو۔ (انہوں نے کہا) میں نے آپ کو یہ کہتے ہوئے سنا تھا کہ جوان لڑکیاں، پردہ والیاں اور حائضہ عورتیں بھی باہر نکلیں اور مواقع خیر میں اور مسلمانوں کی دعاؤں میں شریک ہوں اور حائضہ عورت جائے نماز سے دور رہے۔ حفصہ کہتی ہیں، میں نے پوچھا کیا حائضہ بھی؟ تو انہوں نے فرمایا کہ وہ عرفات میں اور فلاں فلاں جگہ نہیں جاتی۔ یعنی جب وہ ان جملہ مقدس مقامات میں جاتی ہیں تو پھر عیدگاہ کیوں نہ جائیں۔
Narrated Aiyub (RA): Hafsah (RA) said, We used to forbid our young women to go out for the two Id prayers. A woman came and stayed at the palace of Bani Khalaf and she narrated about her sister whose husband took part in twelve holy battles along with the Prophet ﷺ and her sister was with her husband in six (out of these twelve). She (the womans sister) said, "We used to treat the wounded, look after the patients and once I asked the Prophet, Is there any harm for any of us to stay at home if she doesnt have a veil? He said, She should cover herself with the veil of her companion and should participate in the good deeds and in the religious gathering of the Muslims. When Um Atiya came I asked her whether she had heard it from the Prophet. She replied, "Yes. May my father be sacrificed for him (the Prophet)! (Whenever she mentioned the Prophet ﷺ she used to say, May my father be sacrificed for him) I have heard the Prophet ﷺ saying, The unmarried young virgins and the mature girl who stay often screened or the young unmarried virgins who often stay screened and the menstruating women should come out and participate in the good deeds as well as the religious gathering of the faithful believers but the menstruating women should keep away from the Musalla (praying place). “Hafsah (RA) asked Um Atiya surprisingly, "Do you say the menstruating women?" She replied, "Doesnt a menstruating woman attend Arafat (Hajj) and such and such (other deeds)?"
باب: اس بارے میں کہ اگر کسی عورت کو ایک ہی مہینہ میں تین بار حیض آئے؟ اور حیض و حمل سے متعلق جب کہ حیض آنا ممکن ہو تو عورتوں کے بیان کی تصدیق کی جائے گی۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ ابْنُ أَبِي رَجَاءٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ عُرْوَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ سَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: إِنِّي أُسْتَحَاضُ فَلَا أَطْهُرُ أَفَأَدَعُ الصَّلَاةَ ؟ فَقَالَ: لَا، إِنَّ ذَلِكِ عِرْقٌ، وَلَكِنْ دَعِي الصَّلَاةَ قَدْرَ الْأَيَّامِ الَّتِي كُنْتِ تَحِيضِينَ فِيهَا، ثُمَّ اغْتَسِلِي وَصَلِّي.
ہم سے احمد بن ابی رجاء نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں ابواسامہ نے خبر دی، انہوں نے کہا میں نے ہشام بن عروہ سے سنا، کہا مجھے میرے والد نے عائشہ ؓ کے واسطہ سے خبر دی کہ فاطمہ بنت ابی حبیش ؓ نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا کہ مجھے استحاضہ کا خون آتا ہے اور میں پاک نہیں ہو پاتی، تو کیا میں نماز چھوڑ دیا کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا نہیں۔ یہ تو ایک رگ کا خون ہے، ہاں اتنے دنوں میں نماز ضرور چھوڑ دیا کر جن میں اس بیماری سے پہلے تمہیں حیض آیا کرتا تھا۔ پھر غسل کر کے نماز پڑھا کرو۔
Narrated Aisha (RA): Fatima bint Abi Hubaish asked the Prophet, "I got persistent bleeding (in between the periods) and do not become clean. Shall I give up prayers?" He replied, "No, this is from a blood vessel. Give up the prayers only for the days on which you usually get the menses and then take a bath and offer your prayers."
باب: اس بیان میں کہ زرد اور مٹیالا رنگ حیض کے دنوں کے علاوہ ہو (تو کیا حکم ہے؟)۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ ، قَالَتْ: كُنَّا لَا نَعُدُّ الْكُدْرَةَ وَالصُّفْرَةَ شَيْئًا.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے اسماعیل بن علیہ نے بیان کیا، انہوں نے ایوب سختیانی سے، وہ محمد بن سیرین سے، وہ ام عطیہ سے، آپ نے فرمایا کہ ہم زرد اور مٹیالے رنگ کو کوئی اہمیت نہیں دیتی تھیں۔
Narrated Um Atiya (RA): We never considered yellowish discharge as a thing of importance (as menses).
باب: استحاضہ کی رگ کے بارے میں۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْنٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، وَعَنْعَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ اسْتُحِيضَتْ سَبْعَ سِنِينَ، فَسَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَأَمَرَهَا أَنْ تَغْتَسِلَ، فَقَالَ: هَذَا عِرْقٌفَكَانَتْ تَغْتَسِلُ لِكُلِّ صَلَاةٍ.
ہم سے ابراہیم بن المنذر حزامی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے معن بن عیسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے ایوب بن ابی ذئب سے، انہوں نے ابن شہاب سے، انہوں نے عروہ اور عمرہ سے، انہوں نے عائشہ ؓ سے (جو نبی کریم ﷺ کی بیوی ہیں) کہ ام حبیبہ ؓ سات سال تک مستحاضہ رہیں۔ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے اس کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے انہیں غسل کرنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ یہ رگ (کی وجہ سے بیماری) ہے۔ پس ام حبیبہ ؓ ہر نماز کے لیے غسل کرتی تھیں۔
Narrated Aisha (RA): (The wife of the Prophet ﷺ) Um Habiba got bleeding in between the periods for seven years. She asked Allahs Apostle ﷺ about it. He ordered her to take a bath (after the termination of actual periods) and added that it was (from) a blood vessel. So she used to take a bath for every prayer.
باب: جو عورت (حج میں) طواف افاضہ کے بعد حائضہ ہو (اس کے متعلق کیا حکم ہے؟)۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ قَدْ حَاضَتْ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَعَلَّهَا تَحْبِسُنَا أَلَمْ تَكُنْ طَافَتْ مَعَكُنَّ ؟ فَقَالُوا: بَلَى، قَالَ: فَاخْرُجِي.
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں امام مالک نے خبر دی، انہوں نے عبداللہ بن ابی بکر بن عمرو بن حزم سے، انہوں نے اپنے باپ ابوبکر سے، انہوں نے عبدالرحمٰن کی بیٹی عمرہ سے، انہوں نے نبی کریم ﷺ کی زوجہ مطہرہ عائشہ ؓ سے کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ یا رسول اللہ! صفیہ بنت حیی ؓ کو (حج میں) حیض آگیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، شاید کہ وہ ہمیں روکیں گی۔ کیا انہوں نے تمہارے ساتھ طواف (زیارت) نہیں کیا۔ عورتوں نے جواب دیا کہ کرلیا ہے۔ آپ نے اس پر فرمایا کہ پھر نکلو۔
Narrated Aisha (RA): (The wife of the Prophet ﷺ) I told Allahs Apostle ﷺ that Safiya bint Huyai had got her menses. He said, "She will probably delay us. Did she perform Tawaf (Al-Ifada) with you?" We replied, "Yes." On that the Prophet ﷺ told her to depart.
باب: جو عورت (حج میں) طواف افاضہ کے بعد حائضہ ہو (اس کے متعلق کیا حکم ہے؟)۔
حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: رُخِّصَ لِلْحَائِضِ أَنْ تَنْفِرَ إِذَا حَاضَتْ.
وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَقُولُ فِي أَوَّلِ أَمْرِهِ: إِنَّهَا لَا تَنْفِرُ، ثُمَّ سَمِعْتُهُ يَقُولُ: تَنْفِرُ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ لَهُنَّ.
ہم سے معلی بن اسد نے بیان کیا، کہا ہم سے وہیب بن خالد نے عبداللہ بن طاؤس کے حوالہ سے، وہ اپنے باپ طاؤس بن کیسان سے، وہ عبداللہ بن عباس ؓ سے، آپ نے فرمایا کہ حائضہ کے لیے (جب کہ اس نے طواف افاضہ کرلیا ہو) رخصت ہے کہ وہ گھر جائے (اور طواف وداع کے لیے نہ رکی رہے) ۔
ابن عمر ابتداء میں اس مسئلہ میں کہتے تھے کہ اسے (بغیر طواف وداع کے) جانا نہیں چاہیے۔ پھر میں نے انہیں کہتے ہوئے سنا کہ چلی جائے کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے ان کو اس کی رخصت دی ہے۔
Narrated Ibn Abbas (RA): A woman is allowed to leave (go back home) if she gets menses (after Tawaf-AlIfada). Ibn Umar (RA) formerly used to say that she should not leave but later on I heard him saying, "She may leave, since Allahs Apostle ﷺ gave them the permission to leave (after Tawaf-AlIfada."
باب: جب مستحاضہ اپنے جسم میں پاکی دیکھے تو کیا کرے؟
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، عَنْ زُهَيْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَدَعِي الصَّلَاةَ، وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْسِلِي عَنْكِ الدَّمَ وَصَلِّي.
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے زہیر بن معاویہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے عائشہ ؓ سے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جب حیض کا زمانہ آئے تو نماز چھوڑ دے اور جب یہ زمانہ گزر جائے تو خون کو دھو اور نماز پڑھ۔
Narrated Aisha (RA): The Prophet ﷺ said to me, "Give up the prayer when your menses begin and when it has finished, wash the blood off your body (take a bath) and start praying."