Sahih Bukhari 6886

خون بہا کا بیان

6886Sahih Bukhari

مرد عورت کے درمیان زخموں میں قصاص لینے کا بیان اور اہل علم نے کہا اور مرد عورت کے بدلے قتل کیا جائے اور حضرت عمر سے منقول ہے کہ عورت کا قصاص مرد سے ہر قتل عمد یا اس سے کم تر زخمی ہونے کی صورت میں لیا جائے گا عمر بن عبدالعزیز اور ابراہیم اور ابو زناد نے اپنے اصحاب سے یہی نقل کیا ہے اور ربیع کی بہن نے ایک آدمی کو زخمی کر ڈالا آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ قصاص لو۔

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيِّ بْنِ بَحْرٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَبِي عَائِشَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: لَدَدْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ، فَقَالَ: لَا تُلِدُّونِي، فَقُلْنَا: كَرَاهِيَةُ الْمَرِيضِ لِلدَّوَاءِ، فَلَمَّا أَفَاقَ، قَالَ: لَا يَبْقَى أَحَدٌ مِنْكُمْ إِلَّا لُدَّ غَيْرَ الْعَبَّاسِ فَإِنَّهُ لَمْ يَشْهَدْكُمْ.

ہم سے عمر بن علی فلاس نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے موسیٰ بن ابی عائشہ نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ نے اور ان سے عائشہ ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ کے منہ میں (مرض الوفات کے موقع پر) آپ کی مرضی کے خلاف ہم نے دوا ڈالی۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ میرے حلق میں دوا نہ ڈالو لیکن ہم نے سمجھا کہ مریض ہونے کی وجہ سے دوا پینے سے نفرت کر رہے ہیں لیکن جب آپ کو ہوش ہوا تو فرمایا کہ تم جتنے لوگ گھر میں ہو سب کے حلق میں زبردستی دوا ڈالی جائے سوا عباس ؓ کے کہ وہ اس وقت موجود نہیں تھے۔

Narrated Aisha (RA) : We poured medicine into the mouth of the Prophet ﷺ during his ailment. He said, "Dont pour medicine into my mouth." (We thought he said that) out of the aversion a patient usually has for medicines. When he improved and felt better he said, "There is none of you but will be forced to drink medicine, except Al-Abbas, for he did not witness your deed."