Sahih Bukhari 6625

قسموں اور نذروں کا بیان

6625Sahih Bukhari

قسموں اور نذروں کا بیان، اللہ تعالیٰ کا قول کہ اللہ تعالیٰ تمہاری لغو قسموں پر تمہارا مواخذہ نہیں کرے گا بلکہ ان قسموں کا مواخذہ کرے گا جو تم قصد کرکے کھاؤ تو اس کا کفارہ دس مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے، اوسط درجہ کا جو تم اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو، یا ان کو کپڑا پہنانا، یا ایک غلام آزاد کرنا ہے جس شخص کو یہ میسر نہ ہو تو تین روزے رکھنا ہے یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے جبکہ تم قسم کھاؤ اور اپنی قسموں کی حفاظت کرو، اسی طرح اللہ تعالیٰ تمہارے لئے اپنی نشانیاں بیان کرتا ہے شاید کہ تم شکرگزار بن جاؤ

وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَاللَّهِ لَأَنْ يَلِجَّ أَحَدُكُمْ بِيَمِينِهِ فِي أَهْلِهِ، آثَمُ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ أَنْ يُعْطِيَ كَفَّارَتَهُ الَّتِي افْتَرَضَ اللَّهُ عَلَيْهِ.

پھر نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ واللہ (بسا اوقات) اپنے گھر والوں کے معاملہ میں تمہارا اپنی قسموں پر اصرار کرتے رہنا اللہ کے نزدیک اس سے زیادہ گناہ کی بات ہوتی ہے کہ (قسم توڑ کر) اس کا وہ کفارہ ادا کردیا جائے جو اللہ تعالیٰ نے اس پر فرض کیا ہے۔

Allahs Apostle ﷺ also said, "By Allah, if anyone of you insists on fulfilling an oath by which he may harm his family, he commits a greater sin in Allahs sight than that of dissolving his oath and making expiation for it."