Sahih Bukhari 6563

دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان

6563Sahih Bukhari

جنت اور دوزخ کی صفت کا بیان، ابوسعید نے کہا آنحضرت ﷺ نے فرمایا جنتی سب سے پہلے کھانا جو کھائیں گے وہ مچھلی کی کلیجی ہوگی۔ عدن کے معنی ہیں ہمیشہ رہنا، عدنت بارض کے معنی ہیں مکین نے اس زمین میں قیام کیا، مقعد صدق میں، معدن اسی سے ماخوذہے، یعنی سچائی پیدا ہونے کی جگہ۔

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ خَيْثَمَةَ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ذَكَرَ النَّارَ، فَأَشَاحَ بِوَجْهِهِ، فَتَعَوَّذَ مِنْهَا، ثُمَّ ذَكَرَ النَّارَ، فَأَشَاحَ بِوَجْهِهِ، فَتَعَوَّذَ مِنْهَا، ثُمَّ قَالَ: اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ، فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَبِكَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ.

ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن مرہ نے، ان سے خیثمہ بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے عدی بن حاتم ؓ نے کہ نبی کریم ﷺ نے جہنم کا ذکر کیا اور روئے مبارک پھیرلیا اور اس سے پناہ مانگی۔ پھر جہنم کا ذکر کیا اور روئے مبارک پھیرلیا اور اس سے پناہ مانگی۔ اس کے بعد فرمایا کہ دوزخ سے بچو صدقہ دے کر خواہ کھجور کے ایک ٹکڑے ہی کے ذریعہ ہو سکے، جسے یہ بھی نہ ملے اسے چاہیے کہ اچھی بات کہہ کر۔

Narrated Adi bin Hatim (RA) : The Prophet ﷺ mentioned the Fire and turned his face aside and asked for Allahs protection from it, and then again he mentioned the Fire and turned his face aside and asked for Allahs protection from it and said, "Protect yourselves from the Hell-Fire, even if with one half of a date, and he who cannot afford that, then (let him do so) by (saying) a good, pleasant word."