ذمیوں کو سلام کا جواب کس طرح دیا جائے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا سَلَّمَ عَلَيْكُمُ الْيَهُودُ فَإِنَّمَا يَقُولُ أَحَدُهُمُ: السَّامُ عَلَيْكَ، فَقُلْ: وَعَلَيْكَ.
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن دینار نے اور ان سے عبداللہ بن عمر ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تمہیں یہودی سلام کریں اور اگر ان میں سے کوئی السام عليك. کہے تو تم اس کے جواب میں صرف وعليك (اور تمہیں بھی) کہہ دیا کرو۔
Narrated Abdullah bin Umar (RA) : Allahs Apostle ﷺ said, "When the Jews greet you, they usually say, As-Samu alaikum (Death be on you), so you should say (in reply to them), Waalaikum (And on you)."