Sahih Bukhari 5992

ادب کا بیان

5992Sahih Bukhari

اس شخص کا بیان جو حالت شرک میں صلہ رحمی کرے پھر وہ مسلمان ہوجائے

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ أُمُورًا كُنْتُ أَتَحَنَّثُ بِهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ مِنْ صِلَةٍ وَعَتَاقَةٍ وَصَدَقَةٍ هَلْ لِي فِيهَا مِنْ أَجْرٍ ؟ قَالَ حَكِيمٌ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَسْلَمْتَ عَلَى مَا سَلَفَ مِنْ خَيْرٍوَيُقَالُ أَيْضًا: عَنْ أَبِي الْيَمَانِ ، أَتَحَنَّثُ وَقَالَ مَعْمَرٌ ، وَصَالِحٌ ، وَابْنُ الْمُسَافِرِ ، أَتَحَنَّثُ، وَقَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ: التَّحَنُّثُ: التَّبَرُّرُ، وَتَابَعَهُمْ هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ .

ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے کہا کہ مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی اور انہیں حکیم بن حزام نے خبر دی، انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! آپ کا ان کاموں کے بارے میں کیا خیال ہے جنہیں میں عبادت سمجھ کر زمانہ جاہلیت میں کرتا تھا مثلاً صلہ رحمی، غلام کی آزادی، صدقہ، کیا مجھے ان پر ثواب ملے گا؟ حکیم ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے تم ان تمام اعمال خیر کے ساتھ اسلام لائے ہو جو پہلے کرچکے ہو۔ اور بعضوں نے ابوالیمان سے بجائے اتحنث کے اتحت (تاء کے ساتھ) روایت کیا ہے اور معمر اور صالح اور ابن مسافر نے بھی اتحت روایت کیا ہے۔ ابن اسحاق نے کہا اتحنث، تحت سے نکلا ہے اس کے معنی مثل اور عبادت کرنا۔ ہشام نے بھی اپنے والد عروہ سے ان لوگوں کی متابعت کی ہے۔

Narrated Hakim bin Hizam (RA) : That he said, "O Allahs Apostle ﷺ ! What do you think about my good deeds which I used to do during the period of ignorance (before embracing Islam) like keeping good relations with my kith and kin, manumitting of slaves and giving alms etc; Shall I receive the reward for that?" Allahs Apostle ﷺ said, "You have embraced Islam with all those good deeds which you did.