Sahih Bukhari 4854

تفاسیر کا بیان

4854Sahih Bukhari

تفسیر سورت الطور اور قتادہ نے کہا کہ مسطور بمعنی لکھا ہوا اور مجاہد نے کہا کہ طور ایرانی زبان میں پہاڑی کو کہتے ہیں رق منشور کتاب سقف المرفوع آسمان المسجور بھڑکایا ہوا اور حسن نے کہا کہ وہ بھڑکے گا یہاں تک کہ اس کا پانی خشک ہوجائے گا اور اس میں ایک قطرہ بھی باقی نہ رہے گا اور مجاہد نے کہا کہ التناھم ہم نے کم کیا اور دوسروں نے کہا کہ تمور گھومے گا احلامھم ان کی عقلین ابن عباس نے کہا کہ البر بمعنی مہربان کسفا بمعنی ٹکڑے المنون بمعنی موت اور بعض نے کہا کہ یتنازعون سے مراد ہے ایک دوسرے کو دیں گے۔

حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثُونِي عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِالطُّورِ، فَلَمَّا بَلَغَ هَذِهِ الْآيَةَ أَمْ خُلِقُوا مِنْ غَيْرِ شَيْءٍ أَمْ هُمُ الْخَالِقُونَ 35 أَمْ خَلَقُوا السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ بَلْ لا يُوقِنُونَ 36 أَمْ عِنْدَهُمْ خَزَائِنُ رَبِّكَ أَمْ هُمُ الْمُسَيْطِرُونَ 37 سورة الطور آية 35-37، قَالَ: كَادَ قَلْبِي أَنْ يَطِيرَ، قَالَ سُفْيَانُ: فَأَمَّا أَنَا، فَإِنَّمَا سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ يُحَدِّثُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِالطُّورِ، وَلَمْ أَسْمَعْهُ زَادَ الَّذِي قَالُوا لِي.

ہم سے حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے اصحاب نے زہری کے واسطہ سے بیان کیا، ان سے محمد بن جبیر بن مطعم نے اور ان سے ان کے والد جبیر بن مطعم ؓ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا۔ آپ ﷺ مغرب کی نماز میں سورة والطور پڑھ رہے تھے۔ جب آپ سورة والطور اس آیت پر پہنچے أم خلقوا من غير شىء أم هم الخالقون * أم خلقوا السموات والأرض بل لا يوقنون * أم عندهم خزائن ربك أم هم المسيطرون کیا یہ لوگ بغیر کسی کے پیدا کئے پیدا ہوگئے یا یہ خود (اپنے) خالق ہیں؟ یا انہوں نے آسمان اور زمین کو پیدا کرلیا ہے۔ اصل یہ ہے کہ ان میں یقین ہی نہیں۔ کیا ان لوگوں کے پاس آپ کے پروردگار کے خزانے ہیں یا یہ لوگ حاکم ہیں۔ تو میرا دل اڑنے لگا۔ سفیان نے بیان کیا لیکن میں نے زہری سے سنا ہے وہ محمد بن جبیر بن مطعم سے روایت کرتے تھے، ان سے ان کے والد (جبیر بن مطعم ؓ) نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو مغرب میں سورة والطور پڑھتے سنا (سفیان نے کہا کہ) میرے ساتھیوں نے اس کے بعد جو اضافہ کیا ہے وہ میں نے زہری سے نہیں سنا۔

Narrated Jubair bin Mutim (RA) : I heard the Prophet ﷺ reciting Surat At-Tur in the Maghrib prayer, and when he reached the Verse: Were they created by nothing, Or were they themselves the creators, Or did they create the Heavens and the Earth? Nay, but they have no firm belief Or do they own the treasures of Your Lord? Or have they been given the authority to do as they like... (52.35-37) my heart was about to fly (when I realized this firm argument).