باب: تہائی مال کی وصیت کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: لَوْ غَضَّ النَّاسُ إِلَى الرُّبْعِ لِأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الثُّلُثُ وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ أَوْ كَبِيرٌ.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ‘ ان سے ہشام بن عروہ نے ‘ ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابن عباس ؓ نے بیان کیا کاش! لوگ (وصیت کو) چوتھائی تک کم کردیتے تو بہتر ہوتا کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا تم تہائی (کی وصیت کرسکتے ہو) اور تہائی بھی بہت ہے۔ یا (آپ ﷺ نے یہ فرمایا کہ) یہ بہت زیادہ رقم ہے۔
Narrated Ibn Abbas (RA): I recommend that people reduce the proportion of what they bequeath by will to the fourth (of the whole legacy), for Allahs Apostle ﷺ said, "One-third, yet even one third is too much."