Sahih Bukhari 1817

عمرہ کا بیان

1817Sahih Bukhari(1818)

باب: قرآن مجید میں «نسك» سے مراد بکری ہے۔

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شِبْلٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَآهُ، وَأَنَّهُ يَسْقُطُ عَلَى وَجْهِهِ، فَقَالَ: أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّكَ ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَحْلِقَ وَهُوَ بِالْحُدَيْبِيَةِ، وَلَمْ يَتَبَيَّنْ لَهُمْ أَنَّهُمْ يَحِلُّونَ بِهَا وَهُمْ عَلَى طَمَعٍ أَنْ يَدْخُلُوا مَكَّةَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ الْفِدْيَةَ، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنْ يُطْعِمَ فَرَقًا بَيْنَ سِتَّةٍ، أَوْ يُهْدِيَ شَاةً، أَوْ يَصُومَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ. وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، رَآهُ وَقَمْلُهُ يَسْقُطُ عَلَى وَجْهِهِ، مِثْلَهُ.

ہم سے اسحاق نے بیان کیا، کہا ہم سے روح نے بیان کیا، ان سے شبل بن عباد نے بیان کیا، ان سے ابن ابی نجیح نے بیان کیا، ان سے مجاہد نے بیان کیا کہ مجھ سے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے بیان کیا اور ان سے کعب بن عجرہ ؓ نے کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں دیکھا تو جوئیں ان کے چہرے پر گر رہی تھیں، آپ ﷺ نے پوچھا کیا ان جوؤں سے تمہیں تکلیف ہے؟ انہوں نے کہا کہ جی ہاں، آپ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ اپنا سر منڈا لیں۔ وہ اس وقت حدیبیہ میں تھے۔ (صلح حدیبیہ کے سال) اور کسی کو یہ معلوم نہیں تھا کہ وہ حدیبیہ ہی میں رہ جائیں گے بلکہ سب کی خواہش یہ تھی کہ مکہ میں داخل ہوں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فدیہ کا حکم نازل فرمایا اور رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ چھ مسکینوں کو ایک فرق (یعنی تین صاع غلہ) تقسیم کردیا جائے یا ایک بکری کی قربانی کرے یا تین دن کے روزے رکھے۔ اور محمد بن یوسف سے روایت ہے کہ ہم کو ورقاء نے بیان کیا، ان سے ابن ابی نجیح نے بیان کیا، ان سے مجاہد نے بیان کیا، انہیں عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے خبر دی اور انہیں کعب بن عجرہ ؓ نے کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں دیکھا تو جوئیں ان کے چہرہ پر گر رہی تھی، پھر یہی حدیث بیان کی۔

Narrated Abdur-Rahman bin Abu Layla: (Reporting the speech of Kab bin Umra) Allahs Apostle ﷺ saw him (i.e. Kab) while the lice were falling on his face. He asked (him), "Have your lice troubled you?" He replied in the affirmative. So, he ordered him to get his head shaved while he was at Al-Hudaibiya. At that time they were not permitted to finish their Ihram, and were still hoping to enter Makkah. So, Allah revealed the verses of Al-Fidya. Allahs Apostle ﷺ ordered him to feed six poor persons with one Faraq of food or to slaughter one sheep (as a sacrifice) or to fast for three days.