ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تمہارے غلاموں اور لونڈیوں میں سے جو تمہارے موافق ہوں تو انہیں وہی کھلاؤ جو تم کھاتے ہو اور وہی پہناؤ جو تم پہنتے ہو، اور جو تمہارے موافق نہ ہوں، انہیں بیچ دو، اللہ کی مخلوق کو ستاؤ نہیں ۔
Narrated Abu Dharr (RA) : The Prophet ﷺ said: Feed those of your slaves who please you from what you eat and clothe them with what you clothe yourselves, but sell those who do not please you and do not punish Allahs creatures.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١١٩٨٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٦٨، ١٧٣) (صحیح )
رافع بن مکیث ؓ سے روایت ہے (یہ ان صحابہ میں سے تھے جو صلح حدیبیہ میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ شریک تھے) وہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: غلام و لونڈی کے ساتھ اچھے ڈھنگ سے پیش آنا برکت ہے اور بدخلقی، نحوست ہے ۔
Narrated Rafi ibn Makith (RA) : The Prophet ﷺ said: Treating those under ones authority will produce prosperity, but an evil nature produces evil fortune.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٣٥٩٩، ١٨٤٨٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٥٠٢) (ضعیف) (اس کے رواة عثمان جھنی اور بعض بنی رافع دونوں مجہول ہیں )
رافع بن مکیث سے روایت ہے، اور رافع قبیلہ جہنیہ سے تعلق رکھتے تھے اور صلح حدیبیہ کے موقع پر رسول اللہ ﷺ کے ساتھ موجود تھے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: غلام و لونڈی کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا برکت اور بدخلقی نحوست ہے ۔
Narrated Rafi ibn Makith (RA) : The Messenger of Allah ﷺ said: Treating those under ones authority well produces prosperity, but an evil nature produces evil fortune.
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ٣٥٩٩، ١٨٤٨٠) (ضعیف) (بقیہ ضعیف، عثمان، محمد اور حارث سب مجہول الحال ہیں )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم خادم کو کتنی بار معاف کریں، آپ (سن کر) چپ رہے، پھر اس نے اپنی بات دھرائی، آپ پھر خاموش رہے، تیسری بار جب اس نے اپنی بات دھرائی تو آپ نے فرمایا: ہر دن ستر بار اسے معاف کرو ۔
Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : A man came to the Prophet ﷺ and asked: Messenger of Allah! how often shall I forgive a servant? He gave no reply, so the man repeated what he had said, but he still kept silence. When he asked a third time, he replied: Forgive him seventy times daily.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٨٨٣٦)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/البر والصلة ٣١ (١٩٤٩) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ مجھ سے نبی توبہ ابوالقاسم ﷺ نے فرمایا: جس نے اپنے غلام یا لونڈی پر زنا کی تہمت لگائی اور وہ اس الزام سے بری ہے، تو قیامت کے دن اس پر حد قذف لگائی جائے گی ۔
Abu Hurairah said: Abu al-Qasim, the Prophet of Atonement ﷺ said to me: If anyone reviles his slave when he is innocent of what he said, he will be beaten on the Day of Resurrection. The transmitter Muammal said: Isa narrated it to us from al-Fudial, that is, Ibn Ghazwan.
ہلال بن یساف کہتے ہیں کہ ہم سوید بن مقرن ؓ کے گھر اترے، ہمارے ساتھ ایک تیز مزاج بوڑھا تھا اور اس کے ساتھ اس کی ایک لونڈی تھی، اس نے اس کے چہرے پر طمانچہ مارا تو میں نے سوید کو جتنا سخت غصہ ہوتے ہوئے دیکھا اتنا کبھی نہیں دیکھا تھا، انہوں نے کہا: تیرے پاس اسے آزاد کردینے کے سوا اور کوئی چارہ نہیں، تو نے ہمیں دیکھا ہے کہ ہم مقرن کے سات بیٹوں میں سے ساتویں ہیں، ہمارے پاس صرف ایک خادم تھا، سب سے چھوٹے بھائی نے (ایک بار) اس کے منہ پر طمانچہ مار دیا تو نبی اکرم ﷺ نے ہمیں اس کے آزاد کردینے کا حکم دیا۔
Hilal bin Yasaf said: We were staying in the house of Suwaid bin Muqarrin. There was among us an old man who was hot-tempered. He had a slave-girl with him. He gave a slap on her face. I never saw Suwaid more angry than on that day. He said: there is no alternative for you except to free her. I was the seventh child in order of Muqarrin and we had only a female servant. The youngest of us gave a slap on her face. The prophet ﷺ commanded us to set her free.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الأیمان ٨ (١٦٥٨)، سنن الترمذی/النذور ١٤ (١٥٤٢)، (تحفة الأشراف: ٤٨١١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٤٨، ٥/٤٤٨) (صحیح )
معاویہ بن سوید بن مقرن کہتے ہیں میں نے اپنے ایک غلام کو طمانچہ مار دیا تو ہمارے والد نے ہم دونوں کو بلایا اور اس سے کہا کہ اس سے قصاص (بدلہ) لو، ہم مقرن کی اولاد نبی اکرم ﷺ کے زمانہ میں سات نفر تھے اور ہمارے پاس صرف ایک خادم تھا، ہم میں سے ایک نے اسے طمانچہ مار دیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسے آزاد کر دو لوگوں نے عرض کیا: اس کے علاوہ ہمارے پاس کوئی خادم نہیں ہے، آپ نے فرمایا: اچھا جب تک یہ لوگ غنی نہ ہوجائیں تم ان کی خدمت کرتے رہو، اور جب یہ لوگ غنی ہوجائیں تو وہ لوگ اسے آزاد کردیں ۔
Narrated Muawiyah ibn Suwayd ibn Muqarrin: I slapped a freed slave of ours. My father called him and me and said: Take retaliation on him. We, the people of Banu Muqarrin, were seven during the time of the Prophet ﷺ , and we had only a female servant. A man of us slapped her. The Messenger of Allah ﷺ said: Set her free. They said: We have no other servant than her. He said: She must serve them till they become well off. When they become well off, they should set her free.
زاذان کہتے ہیں کہ میں ابن عمر ؓ کے پاس آیا، آپ نے اپنا ایک غلام آزاد کیا تھا، آپ نے زمین سے ایک لکڑی یا کوئی (معمولی) چیز لی اور کہا: اس میں مجھے اس لکڑی بھر بھی ثواب نہیں، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص اپنے غلام کو تھپڑ لگائے یا اسے مارے تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ اس کو آزاد کر دے۔
Zadhan said: I came to Ibn Umar when he set his slave free. He took a stick or something else from the earth and said; for me there is no reward even equivalent to this. I heard the Messenger of Allah ﷺ say: If anyone slaps or beats his slave the atonement due from him is to set him free.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الأیمان ٨ (١٦٥٧)، (تحفة الأشراف: ٦٧١٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٥، ٤٥، ٦١) (صحیح )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب غلام اپنے آقا کی خیر خواہی کرے اور اللہ کی عبادت اچھے ڈھنگ سے کرے تو اسے دہرا ثواب ملے گا ۔
Abdullah bin Umar (RA) reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: when a slave acts sincerely towards his master and worship Allah well, he will have a double reward.
انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ کے کسی ایک کمرے سے جھانکا تو آپ تیر کا ایک یا کئی پھل لے کر اس کی طرف بڑھے، گویا میں رسول اللہ ﷺ کو دیکھ رہا ہوں کی آپ اس کی طرف اس طرح بڑھ رہے ہیں کہ وہ جان نہ پائے تاکہ اسے گھونپ دیں۔
Anas bin Malik (RA) said: A man peeped into some of the apartment of the prophet ﷺ . The prophet ﷺ got up taking an arrowhead or arrowheads. He said: I can still picture myself looking at the Messenger of Allah ﷺ when he was exploring to pierce him.
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: جو کسی قوم کے گھر میں ان کی اجازت کے بغیر جھانکے اور وہ لوگ اس کی آنکھ پھوڑ دیں تو اس کی آنکھ رائیگاں گئی ١ ؎۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: If anyone peeps into the house of a people without their permission and he knocks out his eye, no responsibility is incurred for his eye.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اسے کوئی تاوان یا بدل نہیں دینا پڑے گا۔ بعضوں نے کہا ہے کہ یہ اس صورت میں ہے جب اس نے اسے روکا ہو اور وہ نہ رکا ہو اور بعض علماء نے کہا ہے کہ تاوان دینا پڑے گا کیونکہ کسی کے گھر میں جھانکنا اس میں بلا اجازت داخل ہونے سے بڑا گناہ نہیں اور بلا اجازت داخل ہونے سے جب آنکھ نہیں پھوڑی جاسکتی تو صرف جھانکنے سے بدرجہ اولیٰ نہیں پھوڑی جاسکتی ان لوگوں نے حدیث کو مبالغة في الزجر پر محمول کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الآداب ٩ (٢٥٦٣)، سنن النسائی/القسامة ٤١ (٤٨٦٤)، (تحفة الأشراف: ١٢٦٢٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٦٦، ٤١٤، ٥٢٧) (صحیح )
کلدہ بن حنبل سے روایت ہے کہ صفوان بن امیہ ؓ نے انہیں دودھ، ہرن کا بچہ اور چھوٹی چھوٹی ککڑیاں دے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس بھیجا، اس وقت آپ مکہ کے اونچائی والے حصہ میں تھے، میں آپ کے پاس گیا، اور آپ کو سلام نہیں کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: لوٹ کر (باہر) جاؤ اور (پھر سے آ کر) السلام علیکم کہو، یہ واقعہ صفوان بن امیہ کے اسلام قبول کرلینے کے بعد کا ہے۔
Narrated Kaladah ibn Hanbal: Safwan ibn Umayyah sent him with some milk, a young gazelle and some small cucumbers to the Messenger of Allah ﷺ when he was in the upper part of Makkah. I entered but I did not give a salutation. He said: Go back and say: Peace be upon you! This happened after Safwan ibn Umayyah and embraced Islam. Amr said: Ibn Safwan told me all this on the authority of Kaladah ibn Hanbal, and he did not say: I heard it from him. Abu Dawud said: Yahya bin Habib said: Umayyah bin Safwan. He did not say: I heard from Kaladah bin Hanbal. Yahya also said: Amr bin Abdullah bin Safwan told him that Kaladah bin al-Hanbal told him.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الاستئذان ١٨ (٢٧١٠)، (تحفة الأشراف: ١١١٦٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤١٤) (صحیح )
ہزیل کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، (عثمان کی روایت میں ہے کہ وہ سعد بن ابی وقاص تھے) تو وہ نبی اکرم ﷺ کے دروازے پر اجازت طلب کرنے کے لیے رکے اور دروازے پر یا دروازے کی طرف منہ کر کے کھڑے ہوگئے، تو نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا: تمہیں اس طرح کھڑا ہونا چاہیئے یا اس طرح؟ (یعنی دروازہ سے ہٹ کر) کیونکہ اجازت کا مقصود نظر ہی کی اجازت ہے۔
Narrated Huzayl: A man came. Uthmans version has: Saad ibn Abu Waqqas came. He stood at the door. Uthmans version has: (He stood) facing the door. The Prophet ﷺ said to him: Away from it, (stand) this side or that side. Asking permission is meant to escape from the look of an eye. A similar tradition has also been transmitted by Talhah bin Musarrif from a man from Saad from the prophet ﷺ through a different chain of narrators.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٣٩٤٦) (صحیح )
سعد ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح روایت کی ہے۔
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ٣٩٤٦) (صحیح )
ربعی بن حراش کہتے ہیں کہ مجھ سے بیان کیا گیا ہے کہ بنی عامر کے ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ سے اجازت مانگی، پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح ہم سے مسدد نے بیان کیا ہے وہ کہتے ہیں ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا ہے انہوں نے منصور سے اور منصور نے ربعی سے روایت کیا ہے، انہوں نے عن رجل من بني عامر نہیں کہا ہے۔
Ribi bin Hirash said I was told that a man of Banu Amir asked the prophet ﷺ for permission to enter the house. He then mentioned the rest of the tradition to the same effect. Abu Dawud said: Similarly, Musaddad transmitted it to us saying that Abu Awanah related it to us from Mansur. He did not say: a man of Banu Amir.
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ١٥٥٧٢، ١٨٦٣٠) (صحیح )
بنو عامر کے ایک شخص سے روایت ہے کہ اس نے نبی اکرم ﷺ سے اجازت طلب کی، پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی، اس میں ہے: میں نے اسے سن لیا تو میں نے کہا: السلام علیکم کیا میں اندر آسکتا ہوں؟ ۔
Ribi said that a man of Banu Amir told him that he asked permission of the prophet ﷺ to enter the house. He related the tradition to the same effect, saying: I heard it and so I said: Peace be upon you. May I enter?
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ١٥٥٧٢، ١٨٦٣٠) (صحیح )
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ میں انصار کی مجالس میں سے ایک مجلس میں بیٹھا ہوا تھا اتنے میں ابوموسیٰ ؓ گھبرائے ہوئے آئے، تو ہم نے ان سے کہا: کس چیز نے آپ کو گھبراہٹ میں ڈال دیا ہے؟ انہوں نے کہا: مجھے عمر ؓ نے بلا بھیجا تھا، میں ان کے پاس آیا، اور تین بار ان سے اندر آنے کی اجازت طلب کی، مگر مجھے اجازت نہ ملی تو میں لوٹ گیا (دوبارہ ملاقات پر) انہوں نے کہا: تم میرے پاس کیوں نہیں آئے؟ میں نے کہا: میں تو آپ کے پاس گیا تھا، تین بار اجازت مانگی، پھر مجھے اجازت نہ دی گئی، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ جب تم میں سے کوئی تین بار اندر آنے کی اجازت مانگے اور اسے اجازت نہ ملے تو وہ لوٹ جائے (یہ سن کر) عمر ؓ نے کہا: تم اس بات کے لیے گواہ پیش کرو، اس پر ابوسعید نے کہا: (اس کی گواہی کے لیے تو) تمہارے ساتھ قوم کا ایک معمولی شخص ہی جاسکتا ہے، پھر ابوسعید ہی اٹھ کر ابوموسیٰ کے ساتھ گئے اور گواہی دی۔
Abu Saeed Al-Khudri said: I was sitting in one of the meeting of the Ansar. Abu Musa came terrified. We asked him; what makes you terrified? He replied: Umar sent for me; so I went to him and asked his permission three times, but he did not permit me (to enter), so I came back. He asked; what has prevented you from coming to me? I replied: I came and asked permission three times, but it was not granted to me (so I returned). The Messenger of Allah ﷺ has said: When one of you asks permission three times and it is not granted to him, he should go away. He (Umar’) said; establish the proof of it. So Abu Saeed said: the youngest of the people will accompany you. So Abu Saeed got up with him and testified.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/البیوع ٩ (٢٠٦٢)، الاستئذان ١٣ (٦٢٤٥)، صحیح مسلم/الآداب ٧ (٢١٥٣)، (تحفة الأشراف: ٣٩٧٠)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الاستئذان ٣ (٢٦٩٠)، سنن ابن ماجہ/الأدب ١٧ (٣٧٠٦)، موطا امام مالک/الاستئذان ١ (٣)، مسند احمد (٤/٣٩٨)، دي /الاستئذان ١ (٢٦٧١) (صحیح )
ابوموسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے کہ وہ عمر ؓ کے پاس آئے، اور ان سے اندر آنے کی اجازت تین مرتبہ مانگی: ابوموسیٰ اجازت کا طلب گار ہے، اشعری اجازت مانگ رہا ہے، عبداللہ بن قیس اجازت مانگ رہا ہے ١ ؎ انہیں اجازت نہیں دی گئی، تو وہ لوٹ گئے، تو عمر ؓ نے بلانے کے لیے بھیجا (جب وہ آئے) تو پوچھا: لوٹ کیوں گئے؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: تم میں سے ہر کوئی تین بار اجازت مانگے، اگر اسے اجازت دے دی جائے (تو اندر چلا جائے) اور اگر اجازت نہ ملے تو لوٹ جائے، عمر ؓ نے کہا: اس بات کے لیے گواہ پیش کرو، وہ گئے اور (ابی بن کعب ؓ کو لے کر) واپس آئے اور کہا یہ ابی (گواہ) ہیں ٢ ؎، ابی نے کہا: اے عمر! رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کے لیے باعث عذاب نہ بنو تو عمر نے کہا: میں رسول اللہ ﷺ کے اصحاب کے لیے باعث اذیت نہیں ہوسکتا۔
Abu Musa said that he came to Umar and asked permission three times saying: Abu Musa asks permission, al-Ash’ari ask permission, and Abdullah bin Qais asks permission, but it was not granted to him. So he went away and Umar sent for him saying: what did you return? He replied: The Messenger of Allah ﷺ said: When one of you asks permission three times and it is not granted to him, he should go away. He said: Establish the proof of it. He went, came back, and said; This is Ubayy. Ubayy said: Umar, do not be an agony for the Companions of the Messenger of Allah ﷺ . Umar said: I shall not be an agony for the Companions of the Messenger of Allah ﷺ .
Notes · وضاحت
١ ؎: ابوموسیٰ اشعری کا نام عبداللہ بن قیس ہے، آپ نے نام سے، کنیت سے، قبیلہ کی طرف نسبت سے، تینوں طریقوں سے اجازت مانگی۔ ٢ ؎: اس سے پہلے والی حدیث میں ہے کہ شاہد ابوسعید تھے اور اس میں ہے ابی بن کعب تھے دونوں میں تطبیق اس طرح دی جاتی ہے کہ ابوسعید خدری نے پہلے گواہی دی اس کے بعد ابی بن کعب آئے اور انہوں نے بھی گواہی دی۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/ الآداب ٧ (٢١٥٤)، (تحفة الأشراف: ٩١٠٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٩٨) (حسن الإسناد) (اس کے راوی طلحہ سے غلطی ہوجایا کرتی تھی، ویسے پچھلی سند سے یہ حدیث صحیح ہے )