مسلم بن حارث تمیمی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے چپکے سے ان سے کہا: جب تم مغرب سے فارغ ہوجاؤ تو سات مرتبہ کہو اللهم أجرني من النار اے اللہ مجھے جہنم سے بچا لے اگر تم نے یہ دعا پڑھ لی اور اسی رات میں تمہارا انتقال ہوگیا، تو تمہارے لیے جہنم سے پناہ لکھ دی جائے گی، اور جب تم فجر پڑھ کر فارغ ہو اور ایسے ہی (یعنی سات مرتبہ اللهم أجرني من النار ) کہو اور پھر اسی دن میں تمہارا انتقال ہوجائے تو تمہارے لیے جہنم سے پناہ لکھ دی جائے گی۔ محمد بن شعیب کہتے ہیں کہ مجھے ابوسعید نے بتایا وہ حارث سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ بات مجھے چپکے سے بتائی ہے، اس لیے ہم اسے اپنے خاص بھائیوں ہی سے بیان کرتے ہیں (ہر شخص سے نہیں کہتے، یا ہم اس دعا کو اپنے خاندان والوں کے لیے خاص سمجھتے ہیں) ۔
Al-Harith bin Muslim al-Tamimi quoted his father Muslim bin al-Harith al-Tamimi as saying that the Messenger of Allah ﷺ told him secretly: When you finish the sunset prayer, say: O Allah, protect me from Hell seven times; for if you say that and die that night, protection from it would be recorded for you; and when you finish the dawn prayer, say it in a similar way, for if you die that day, protection from it would be recorded for you. Abu Saeed told me that al-Harith said: The Messenger of Allah ﷺ said this to us secretly, so we confine it to our brethren.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٣٢٨١) (ضعیف) (الحارث بن مسلم (صحابی کے لڑکے) مجہول ہیں )
Narrated Anas ibn Malik: The Prophet ﷺ said: If anyone says in the morning: O Allah! in the morning we call Thee, the bearers of Thy Throne, Thy angels, and all Thy creatures to witness that Thou art Allah than Whom there is no god, Thou being alone and without a partner, and that Muhammad is Thy servant and Thy Messenger, Allah will forgive him any sins that he commits that day; and if he repeats them in the evening. Allah will forgive him any sins he commits that night.
عبداللہ بن خبیب ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کو بارش کی ایک سخت اندھیری رات میں نماز پڑھانے کے لیے تلاش کرنے نکلے، تو ہم نے آپ کو پا لیا، آپ نے فرمایا: کیا تم لوگوں نے نماز پڑھ لی؟ ہم نے کوئی جواب نہیں دیا، آپ نے فرمایا: کچھ کہو اس پر بھی ہم نے کچھ نہیں کہا، آپ نے پھر فرمایا: کچھ کہو (پھر بھی) ہم نے کچھ نہیں کہا، پھر آپ نے فرمایا: کچھ تو کہو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا کہوں؟ آپ نے فرمایا: قل هو الله أحد اور معوذتین تین مرتبہ صبح کے وقت، اور تین مرتبہ شام کے وقت کہہ لیا کرو تو یہ تمہیں (ہر طرح کی پریشانیوں سے بچاؤ کے لیے) کافی ہوں گی۔
Narrated Abdullah ibn Khubayb: We went out one rainy and intensely dark night to look for the Messenger of Allah ﷺ to lead us in prayer, and when we found him, he asked: Have you prayed?, but I did not say anything. So he said: Say, but I did not say anything. He again said: Say, but I did not say anything. He then said: Say. So I said: What am I to say? He said: Say: Say, He is Allah, One, and al-Muawwadhatan thirty three times in the morning and evening; they will serve you for every purpose.
ابو مالک ؓ کہتے ہیں کہ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمیں کوئی ایسی (جامع) بات بتائیے، جسے ہم صبح و شام اور لیٹتے وقت کہا کریں، تو آپ نے انہیں حکم دیا کہ وہ یہ کہا کریں: اللهم فاطر السموات والأرض عالم الغيب والشهادة أنت رب کل شىء والملائكة يشهدون أنک لا إله إلا أنت فإنا نعوذ بک من شر أنفسنا ومن شر الشيطان الرجيم وشرکه وأن نقترف سوءا على أنفسنا أو نجره إلى مسلم اے اللہ! آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے، غائب اور حاضر کے جاننے والے، تو ہر چیز کا رب ہے، فرشتے گواہی دیتے ہیں کہ تیرے سوا اور کوئی معبود برحق نہیں ہے، ہم تیری پناہ مانگتے ہیں، اپنے نفسوں کے شر سے، اور دھتکارے ہوئے شیطان کے شر، اور اس کے شرک سے، اور گناہ کی بات خود کرنے سے، یا کسی مسلمان سے گناہ کی بات کرانے سے ۔
Narrated Abu Malik: The people asked: Tell us a word which we repeat in the morning, evening and when we rise. So he commanded us to say: O Allah! Creator of Heavens and Earth; Knower of all that is hidden and open; Thou art the Lord of everything; the angels testify that there is no god but Thee, for we seek refuge in Thee from the evil within ourselves, from the evil of the Devil accused and from the evil of his suggestion about partnership with Allah, and that we earn sin for ourselves or drag it to a Muslim.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٢١٥٦) (ضعیف) (اس کے راوی محمد بن اسماعیل ضعیف ہیں )
ابوداؤد کہتے ہیں کہ اسی اسناد سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی صبح کرے تو یہ کہے أصبحنا وأصبح الملک لله رب العالمين اللهم إني أسألک خير هذا اليوم فتحه ونصره ونوره وبرکته وهداه وأعوذ بک من شر ما فيه وشر ما بعده ہم نے صبح کی اور ملک (پوری کائنات) نے صبح کی جو اللہ رب العالمین کا ہے، اے اللہ! میں تجھ سے اس دن کی بھلائی، اس دن کی فتح و نصرت، نور و برکت اور ہدایت کا طالب ہوں، اور تیری پناہ مانگتا ہوں اس دن کی اور اس کے بعد کے دنوں کی برائی سے اور جب شام کرے تو بھی اسی طرح کہے۔
Abu Dawud said: And through the same chain of transmitters the Messenger of Allah ﷺ said: When one rises in the morning, one should say: We have reached the morning, and in the morning the dominion belongs to Allah, the Lord of the universe. O Allah! I ask Thee for the good this day contains, for conquest, victory, light, blessing and guidance during it; and I seek refuge in Thee from the evil it contains and the evil contained in what comes after it. In the evening he should say the equivalent.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٢١٥٧) (ضعیف) (اس کی سند میں بھی محمد بن اسماعیل ضعیف ہیں )
شریق ہوزنی کہتے ہیں: میں ام المؤمنین عائشہ ؓ کے پاس گیا، اور ان سے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ جب رات میں نیند سے جاگتے تو پہلے کیا کرتے؟ تو انہوں نے کہا: تم نے مجھ سے ایسی بات پوچھی، جو تم سے پہلے کسی نے نہیں پوچھی ہے، آپ جب رات میں نیند سے جاگتے تو دس بار، الله اکبر کہتے، دس بار الحمد الله کہتے، دس بار سبحان الله وبحمده کہتے، دس بار سبحان الملک القدوس کہتے، اور دس بار استغفر الله کہتے، اور دس بار لا إله إلا الله کہتے، پھر دس بار اللهم إني أعوذ بک من ضيق الدنيا وضيق يوم القيامة اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں دنیا کی تنگی سے اور قیامت کے دن کی تنگی سے کہتے، پھر نماز شروع کرتے۔
Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : Shariq al-Hawzani and I came to Aisha (RA) (Allah be pleased with her) and asked her: By which (prayer) the Messenger of Allah ﷺ began when he woke up at night? She replied: You asked me about a thing which no one asked me before. When he woke up at night, he uttered: Allah is Most Great ten times, and uttered Praise be to Allah ten times, and said Glory be to Allah and I begin with His praise ten times, and said: Glory be to the King, the Most Holy ten times, and asked Allahs pardon ten times, and said: There is no god but Allah ten times, and then said: O Allah! I seek refuge in Thee from the strait of the Day of resurrection, ten times. He then began the prayer.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، انظر ما تقدم عند المؤلف برقم: ٧٦٦، (تحفة الأشراف: ١٦١٥٣)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الاقامة ١٨٠ (١٣٥٦)، سنن النسائی/قیام اللیل ٩ (١٦١٦)، عمل الیوم واللیلة ٢٥٤ (٥٥٥٠)، مسند احمد (٦/١٤٣) (حسن صحیح) (متابعات سے تقویت پاکر یہ روایت بھی صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں بقیہ اور عمر بن جعثم ضعیف ہیں )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب سفر میں ہوتے اور سحر میں اٹھتے تو کہتے سمع سامع بحمد الله ونعمته وحسن بلائه علينا اللهم صاحبنا فأفضل علينا عائذا بالله من النار سننے والے نے اللہ کی حمد، اس کی نعمتوں کی شکر گزاری اور اپنے امتحان میں ہماری حسن کارکردگی کو (دیکھ اور) سن لیا، اے اللہ! تو ہمارے ساتھ رہ، اور ہمیں اپنے فضل سے نواز، اور میں جہنم سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں ۔
Abu Hurairah said; When the Messenger of Allah ﷺ was on a journey, he would say at daybreak: Let a hearer hear beginning with praise of Allah and His good favours and blessing to us. Our Lord, accompany us and show favour to us, and I seek refuge in Allah from Hell.
ابوذر ؓ کہتے تھے جو شخص صبح کرتے وقت کہے اللهم ما حلفت من حلف أو قلت من قول أو نذرت من نذر فمشيئتک بين يدى ذلك كله ما شئت کان وما لم تشأ لم يكن اللهم اغفر لي و تجاوز لي عنه اللهم فمن صليت عليه فعليه صلاتي ومن لعنت فعليه لعنتي اے اللہ! میں جو بھی قسم کھاؤں یا جو بھی بات کہوں یا جو بھی نذر مانوں ان تمام میں تیری مشیت ہی میری نظروں میں مقدم ہے، جو تو، چاہے گا ہوگا، جو تو نہیں چاہے گا نہیں ہوگا، اے اللہ! تو مجھے بخش دے، اور مجھ سے درگزر فرما، اے اللہ! جس پر تیری رحمت ہو تو اسے میری دعا بھی شامل حال رہے اور جس پر تو لعنت فرمائے اس پر میری طرف سے بھی لعنت ہو ۔ تو وہ اس دن کے (فتنوں) سے محفوظ و مستثنٰی رہے گا، راوی کو شک ہے يومه ذلك کہا یا ذلک اليوم کہا۔
Narrated Abu Dharr (RA) : If anyone says in the morning: O Allah! whatever oath I take, whatever word I speak, and whatever vow I take, Thine will precedes all that: whatever Thou willeth, occurs, and whatever Thou dost not will, dost not occur. O Allah! pardon me and disregard me for it. O Allah! whomsoever Thou sendest thine blessing, to him my blessing is due, and whomsoever thou cursest, to him my curse is due, exemption from it will be granted to him that day.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود (ضعیف الإسناد) (قاسم بن عبدالرحمن المسعودی کی ابوذر سے روایت میں انقطاع ہے، کیونکہ دونوں میں لقاء و سماع نہیں ہے )
عثمان بن عفان ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جو شخص تین بار بسم الله الذي لا يضر مع اسمه شىء في الأرض ولا في السماء وهو السميع العليم اللہ کے نام سے کے ساتھ جس کے نام کے ساتھ زمین و آسمان میں کوئی چیز نقصان نہیں پہنچاتی اور وہی سننے والا اور جاننے والا ہے کہے تو اسے صبح تک اچانک کوئی مصیبت نہ پہنچے گی، اور جو شخص تین مرتبہ صبح کے وقت اسے کہے تو اسے شام تک اچانک کوئی مصیبت نہ پہنچے گی، راوی حدیث ابومودود کہتے ہیں: پھر راوی حدیث ابان بن عثمان پر فالج کا حملہ ہوا تو وہ شخص جس نے ان سے یہ حدیث سنی تھی انہیں دیکھنے لگا، تو ابان نے اس سے کہا: مجھے کیا دیکھتے ہو، قسم اللہ کی! نہ میں نے عثمان ؓ کی طرف جھوٹی بات منسوب کی ہے اور نہ ہی عثمان نے رسول اللہ ﷺ کی طرف، لیکن (بات یہ ہے کہ) جس دن مجھے یہ بیماری لاحق ہوئی اس دن مجھ پر غصہ سوار تھا (اور غصے میں) اس دعا کو پڑھنا بھول گیا تھا۔
Narrated Uthman ibn Affan (RA) : Aban ibn Uthman said: I heard Uthman ibn Affan (his father) say: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: If anyone says three times: In the name of Allah, when Whose name is mentioned nothing on Earth or in Heaven can cause harm, and He is the Hearer, the Knower he will not suffer sudden affliction till the morning, and if anyone says this in the morning, he will not suffer sudden affliction till the evening. Aban was afflicted by some paralysis and when a man who heard the tradition began to look at him, he said to him: Why are you looking at me? I swear by Allah, I did not tell a lie about Uthman, nor did Uthman tell a lie about the Prophet ﷺ , but that day when I was afflicted by it, I became angry and forgot to say them.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الدعوات ١٣ (٣٣٨٨)، سنن ابن ماجہ/الدعاء ١٤ (٣٨٦٩)، (تحفة الأشراف: ٩٧٧٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٦٢، ٧٢) (صحیح )
عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ نے اپنے والد سے کہا ابو جان! میں آپ کو ہر صبح یہ دعا پڑھتے ہوئے سنتا ہوں اللهم عافني في بدني اللهم عافني في سمعي اللهم عافني في بصري لا إله إلا أنت اے اللہ! تو میرے جسم کو عافیت نصیب کر، اے اللہ! تو میرے کان کو عافیت عطا کر، اے اللہ! تو میری نگاہ کو عافیت سے نواز دے، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں آپ اسے تین مرتبہ دہراتے ہیں جب صبح کرتے ہیں اور تین مرتبہ جب شام کرتے ہیں؟، تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہی دعا کرتے ہوئے سنا ہے، اور مجھے پسند ہے کہ میں آپ کا مسنون طریقہ اپناؤں۔ عباس بن عبدالعظیم کی روایت میں اتنا مزید ہے کہ آپ کہتے اللهم إني أعوذ بک من الکفر والفقر اللهم إني أعوذ بک من عذاب القبر لا إله إلا أنت اے اللہ! میں کفر و محتاجی سے تیری پناہ چاہتا ہوں، اے اللہ! میں عذاب قبر سے تیری پناہ چاہتا ہوں، تو ہی معبود برحق ہے تین مرتبہ اسے صبح دہراتے اور تین مرتبہ اسے شام میں، ان کے ذریعہ آپ دعا کرتے تو میں پسند کرتا ہوں کہ آپ کی سنت کا طریقہ اپناؤں، اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مصیبت زدہ و پریشان حال کے لیے یہ دعا ہے اللهم رحمتک أرجو فلا تکلني إلى نفسي طرفة عين وأصلح لي شأني كله لا إله إلا أنت اے اللہ! میں تیری ہی رحمت چاہتا ہوں، تو مجھے ایک لمحہ بھی نظر انداز نہ کر، اور میرے تمام کام درست فرما دے، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے بعض راوی الفاظ میں کچھ اضافہ کرتے ہیں۔
Narrated Abu Bakrah (RA) : Abdur Rahman ibn Abu Bakrah said that he told his father: O my father! I hear you supplicating every morning: O Allah! Grant me health in my body. O Allah! Grant me good hearing. O Allah! Grant me good eyesight. There is no god but Thou. You repeat them three times in the morning and three times in the evening. He said: I heard the Messenger of Allah ﷺ using these words as a supplication and I like to follow his practice. The transmitter, Abbas, said in this version: And you say: O Allah! I seek refuge in Thee from infidelity and poverty. O Allah! I seek refuge in Thee from punishment in the grave. There is no god but Thee. You repeat them three times in the morning and three times in the evening, and use them as a supplication. I like to follow his practice. He said: The Messenger of Allah ﷺ said: The supplications to be used by one who is distressed are: O Allah! Thy mercy is what I hope for. Do not abandon me to myself for an instant, but put all my affairs in good order for me. There is no god but Thou. Some transmitters added more than others.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١١٦٨٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٤٢) (حسن الإسناد )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص سبحان الله العظيم وبحمده سو مرتبہ صبح پڑھے اور اسی طرح شام کو بھی سو مرتبہ پڑھے تو اس کے برابر مخلوق میں کسی کا درجہ نہیں ہوسکتا۔
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: if anyone says a hundred times in the morning: “Glory be to Allah, the Sublime, and I begin with praise of him”, and says likewise in the evening, no one from the creatures will bring anything like the one which he will bring.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الذکر والدعاء ١٠ (٢٦٩٢)، سنن الترمذی/الدعوات ٥٩ (٣٤٦٩)، (تحفة الأشراف: ١٢٥٦٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٧١) (صحیح )
قتادہ کہتے ہیں کہ انہیں یہ بات پہنچی ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب نیا چاند دیکھتے تو فرماتے: هلال خير ورشد هلال خير ورشد هلال خير ورشد آمنت بالذي خلقک یہ خیر و رشد کا چاند ہے، یہ خیر و رشد کا چاند ہے، یہ خیر و رشد کا چاند ہے، میں ایمان لایا اس پر جس نے تجھے پیدا کیا ہے یہ تین مرتبہ فرماتے، پھر فرماتے: شکر ہے، اس اللہ کا جو فلاں مہینہ لے گیا اور فلاں مہینہ لے آیا۔
Narrated Qatadah (RA) : When the Prophet of Allah ﷺ saw the new moon, he said: a new moon of good and right guidance; a new moon of good and right guidance; a new moon of good and right guidance. I believe in Him Who created you three times. He would then say: Praise be to Allah Who has made such and such a month to pass and has brought such and such a month.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابو داود (ضعیف الإسناد) (سند میں قتادہ تابعی اور نبی اکرم صلی+اللہ+علیہ+وسلم کے درمیان انقطاع ہے، معلوم نہیں کہ تابعی کو ساقط کیا ہے یا صحابی کو، جب کہ قتادہ مدلس بھی ہیں )
قتادہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب نیا چاند دیکھتے تو آپ اس سے اپنا منہ پھیر لیتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: نبی اکرم ﷺ سے اس باب میں کوئی صحیح مسند حدیث نہیں ہے۔
Narrated Qatadah (RA) : When the Messenger of Allah ﷺ saw the new moon, he turned away his face from it. Abu Dawud said: On this subject there is no tradition which has perfect chain and is sound.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود (ضعیف الإسناد) (یہ روایت مرسل ہے، نیز قتادہ مدلس ہیں )
ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب بھی میرے گھر سے نکلتے تو اپنی نگاہ آسمان کی طرف اٹھاتے پھر فرماتے: اللهم إني أعوذ بك أن أضل أو أضل أو أزل أو أزل أو أظلم أو أظلم أو أجهل أو يجهل على اے اللہ! میں پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ میں گمراہ کروں، یا گمراہ کیا جاؤں، میں خود پھسلوں یا پھسلایا جاؤں، میں خود ظلم کروں یا کسی کے ظلم کا شکار بنایا جاؤں، میں خود جہالت کروں، یا مجھ سے جہالت کی جائے۔
Narrated Umm Salamah, Ummul Muminin (RA) : The Messenger of Allah ﷺ never went out of my house without raising his eye to the sky and saying: O Allah! I seek refuge in Thee lest I stray or be led astray, or slip or made to slip, or cause injustice, or suffer injustice, or do wrong, or have wrong done to me.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الدعوات ٣٥ (٣٤٢٧)، سنن النسائی/الاستعاذة ٢٩ (٥٤٨٨)، ٦٤ (٥٥٤١)، سنن ابن ماجہ/الدعاء ١٨ (٣٨٨٤)، (تحفة الأشراف: ١٨١٦٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٣٠٦، ٣١٨، ٣٢٢) (صحیح) حدیث میں رفع طرفہ إلی السماء (آسمان کی طرف نگاہ اٹھائی) کا جملہ صحیح نہیں ہے، نیز صحیحین وغیرہ میں نماز میں نگاہ اٹھانے کی ممانعت آئی ہے، آسمان کی طرف نماز یا نماز سے باہر دونوں صورتوں میں نگاہ اٹھانا ممنوع ہے ملاحظہ ہو: (الصحیحة ٣١٦٣ وتراجع الالبانی ١٣٦ )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب آدمی اپنے گھر سے نکلے پھر کہے بسم الله توکلت على الله لا حول ولا قوة إلا بالله اللہ کے نام سے نکل رہا ہوں، میرا پورا پورا توکل اللہ ہی پر ہے، تمام طاقت و قوت اللہ ہی کی طرف سے ہے تو آپ نے فرمایا: اس وقت کہا جاتا ہے (یعنی فرشتے کہتے ہیں) : اب تجھے ہدایت دے دی گئی، تیری طرف سے کفایت کردی گئی، اور تو بچا لیا گیا، (یہ سن کر) شیطان اس سے جدا ہوجاتا ہے، تو اس سے دوسرا شیطان کہتا ہے: تیرے ہاتھ سے آدمی کیسے نکل گیا کہ اسے ہدایت دے دی گئی، اس کی جانب سے کفایت کردی گئی اور وہ (تیری گرفت اور تیرے چنگل سے) بچا لیا گیا۔
Narrated Anas ibn Malik: The Prophet ﷺ said: When a man goes out of his house and says: In the name of Allah, I trust in Allah; there is no might and no power but in Allah, the following will be said to him at that time: You are guided, defended and protected. The devils will go far from him and another devil will say: How can you deal with a man who has been guided, defended and protected?
ابو مالک اشعری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب کوئی آدمی اپنے گھر میں داخل ہونے لگے تو کہے اللهم إني أسألک خير المولج وخير المخرج بسم الله ولجنا وبسم الله خرجنا وعلى الله ربنا توکلنا اے اللہ! ہم تجھ سے اندر جانے اور گھر سے باہر آنے کی بہتری مانگتے ہیں، ہم اللہ کا نام لے کر اندر جاتے ہیں اور اللہ ہی کا نام لے کر باہر نکلتے ہیں اور اللہ ہی پر جو ہمارا رب ہے بھروسہ کرتے ہیں پھر اپنے گھر والوں کو سلام کرے۔
Narrated Abu Malik Al-Ashari (RA) : The Prophet ﷺ said: When a man goes into his house, he should say: O Allah! I ask Thee for good both when entering and when going out; in the name of Allah we have entered, and in the name of Allah we have gone out, and in Allah or Lord do we trust. He should then greet his family.
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ریح (ہوا) اللہ کی رحمت میں سے ہے (سلمہ کی روایت میں من روح الله ہے) ، کبھی وہ رحمت لے کر آتی ہے، اور کبھی عذاب لے کر آتی ہے، تو جب تم اسے دیکھو تو اسے برا مت کہو، اللہ سے اس کی بھلائی مانگو، اور اس کے شر سے اللہ کی پناہ چاہو۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : I heard the Messenger of Allah ﷺ say: The wind comes from Allahs mercy. Salamahs version has: It is Allahs mercy; it (sometimes) brings blessing and (sometimes) brings punishment. So when you see it, do not revile it, but ask Allah for some of its good, and seek refuge in Allah from its evil.
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الأدب ٢٩ (٣٧٢٧)، (تحفة الأشراف: ١٢٢٣١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٥٠، ٢٦٧، ٤٠٩، ٤٣٦، ٥١٨) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو کبھی کھلکھلا کر ہنستے نہیں دیکھا کہ آپ کے حلق کے کوے کو دیکھ سکوں، آپ تو صرف تبسم فرماتے (ہلکا سا مسکراتے) تھے، آپ جب بدلی یا آندھی دیکھتے تو اس کا اثر آپ کے چہرے پر دیکھا جاتا (آپ تردد اور تشویش میں مبتلا ہوجاتے) تو (ایک بار) میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! لوگ تو جب بدلی دیکھتے ہیں تو خوش ہوتے ہیں کہ بارش ہوگی، اور آپ کو دیکھتی ہوں کہ آپ جب بدلی دیکھتے ہیں تو آپ کے چہرے سے ناگواری (گھبراہٹ اور پریشانی) جھلکتی ہے (اس کی وجہ کیا ہے؟ ) آپ نے فرمایا: اے عائشہ! مجھے یہ ڈر لگا رہتا ہے کہ کہیں اس میں عذاب نہ ہو، کیونکہ ایک قوم (قوم عاد) ہوا کے عذاب سے دو چار ہوچکی ہے، اور ایک قوم نے (بدلی کا) عذاب دیکھا، تو وہ کہنے لگی هذا عارض ممطرنا ١ ؎: یہ بادل تو ہم پر برسے گا (وہ برسا تو لیکن، بارش پتھروں کی ہوئی، سب ہلاک کردیے گئے) ۔
Aishah, wife of the prophet ﷺ , said: I never saw the Messenger of Allah ﷺ laugh fully to such an extent that I could see his uvula. He would only smile, and when he saw clouds or wind, his face showed signs (of fear). I asked him: Messenger of Allah! When the people see the cloud, they rejoice, hoping for that it may contain rain, and I notice that when you see it, (the signs of) abomination on your face. He replied: Aisha (RA) ! What gives me safety from the fact that it might contain punishment? A people were punished by the wind. When those people saw the punishment, they said: this is a cloud which would give us rain.
Notes · وضاحت
١ ؎: قوم ثمود کی طرف اشارہ ہے، مدائن صالح (سعودی عرب) میں اس قوم کے آثار موجود ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/بدء الخلق ٥ (٣٢٠٦)، تفسیر سورة الأحقاف (٤٨٢٩)، الأدب ٦٨ (٦٠٩٣)، صحیح مسلم/الاستسقاء ٣ (٨٩٩)، (تحفة الأشراف: ١٦١٣٦)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/تفسیر القرآن ٤٦ (٤٨٢٨)، سنن ابن ماجہ/الدعاء ٢١ (٦٠٩٢)، مسند احمد (٦/١٩٠) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب آسمان کے گوشے سے بدلی اٹھتے دیکھتے تو کام (دھام) سب چھوڑ دیتے یہاں تک کہ نماز میں ہوتے تو اسے بھی چھوڑ دیتے، اور یوں دعا فرماتے: اللهم إني أعوذ بک من شرها اے اللہ! میں اس کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں پھر اگر بارش ہونے لگتی، تو آپ فرماتے: اللهم صيبا هنيئا اے اللہ! اس بارش کو زوردار اور خوشگوار و بابرکت بنا ۔
Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : When the Prophet ﷺ saw a cloud formation in the sky, he left work, even if he were at prayer, and then would say: O Allah! I seek refuge in Thee from its evil. If it rained, he would say: O Allah! send a beneficial downpour.
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الدعاء ٢١ (٣٨٨٩)، (تحفة الأشراف: ١٦١٤٦)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الاستسقاء ١٥ (١٥٢٢) (صحیح )