Sunan Abu Dawood

All 5,295 hadiths in order · Page 89 of 265

1765Sunan Abu Dawood

اونٹ کو نحر کرنے کا طریقہ

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنَا عِيسَى. ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، أَخْبَرَنَا عِيسَى، وَهَذَا لَفْظُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ ثَوْرٍ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ،عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ لُحَيٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُرْطٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّ أَعْظَمَ الْأَيَّامِ عِنْدَ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَوْمُ النَّحْرِ ثُمَّ يَوْمُ الْقَرِّ، قَالَ عِيسَى: قَالَ ثَوْرٌ: وَهُوَ الْيَوْمُ الثَّانِي، وَقَالَ: وَقُرِّبَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَدَنَاتٌ خَمْسٌ أَوْ سِتٌّ فَطَفِقْنَ يَزْدَلِفْنَ إِلَيْهِ بِأَيَّتِهِنَّ يَبْدَأُ، فَلَمَّا وَجَبَتْ جُنُوبُهَا، قَالَ: فَتَكَلَّمَ بِكَلِمَةٍ خَفِيَّةٍ لَمْ أَفْهَمْهَا، فَقُلْتُ: مَا قَالَ ؟، قَالَ: مَنْ شَاءَ اقْتَطَعَ.

عبداللہ بن قرط ؓ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: اللہ تبارک و تعالیٰ کے نزدیک سب سے عظیم دن یوم النحر ہے پھر یوم القر ہے ١ ؎، اس دن رسول اللہ ﷺ کے سامنے پانچ یا چھ اونٹنیاں لائی گئیں، تو ان میں سے ہر ایک آگے بڑھنے لگی کہ آپ نحر کی ابتداء اس سے کریں جب وہ گرگئیں تو آپ نے آہستہ سے کچھ کہا جو میں نہ سمجھ سکا تو میں نے پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: جو چاہے اس میں سے گوشت کاٹ لے ۔

Narrated Abdullah ibn Qurt (RA) : The Prophet ﷺ said: The greatest day in Allahs sight is the day of sacrifice and next the day of resting which Isa said on the authority of Thawr is the second day. Five or six sacrificial camels were brought to the Messenger of Allah ﷺ and they began to draw near to see which he would sacrifice first. When they fell down dead, he said something in a low voice, which I could not catch. So I asked: What did he say? He was told that he had said: Anyone who wants can cut off a piece.

Notes · وضاحت
١ ؎: عیسیٰ کہتے ہیں: ثور نے کہا: وہ دوسرا دن ہے، یعنی گیارہویں ذی الحجہ کا دن۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ٨٩٧٧)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الکبری/الحج (٤٠٩٨)، مسند احمد (٤/٣٥٠) (صحیح )
1766Sunan Abu Dawood

اونٹ کو نحر کرنے کا طریقہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ حَرْمَلَةَ بْنِ عِمْرَانَ، عَنْعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ الْأَزْدِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ غُرْفَةَ بْنَ الْحَارِثِ الْكِنْدِيِّ، قَالَ: شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَأُتِيَ بِالْبُدْنِ، فَقَالَ: ادْعُوا لِي أَبَا حَسَنٍ، فَدُعِيَ لَهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ لَهُ: خُذْ بِأَسْفَلِ الْحَرْبَةِ، وَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَعْلَاهَا ثُمَّ طَعَنَ بِهَا فِي الْبُدْنِ فَلَمَّا فَرَغَ رَكِبَ بَغْلَتَهُ وَأَرْدَفَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.

عرفہ بن حارث کندی ؓ کہتے ہیں میں حجۃ الوداع میں رسول اللہ ﷺ کے پاس تھا، ہدی کے اونٹ لائے گئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ابوالحسن (علی ؓ کی کنیت ہے) کو بلاؤ ، چناچہ آپ کے پاس علی ؓ کو بلا کر لایا گیا تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: تم برچھی کا نچلا سرا پکڑو ، اور رسول اللہ ﷺ نے اوپر کا سرا پکڑا پھر اونٹوں کو نحر کیا جب فارغ ہوگئے تو اپنے خچر پر سوار ہوئے اور علی کو اپنے پیچھے سوار کرلیا۔

Narrated Arfah ibn al-Harith al-Kandi: I was present with the Messenger of Allah ﷺ at the Farewell Pilgrimage. When the sacrificial camels were brought to him, he said: Call AbulHasan (Ali) to me. Ali was then called for and he (the Prophet) said to him: Catch hold of the lower end of the lance, and the Messenger of Allah ﷺ himself caught hold of the upper end. He then pierced the camels with it. When he finished slaughtering, he rode on his mule and mounted Ali behind him.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ١١٠١٩) (ضعیف) (اس کے راوی عبداللہ بن حارث کندی ازدی لین الحدیث ہیں )
1767Sunan Abu Dawood

اونٹ کو نحر کرنے کا طریقہ

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَابِطٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُكَانُوا يَنْحَرُونَ الْبَدَنَةَ مَعْقُولَةَ الْيُسْرَى قَائِمَةً عَلَى مَا بَقِيَ مِنْ قَوَائِمِهَا.

جابر ؓ سے روایت ہے (ابن جریج کہتے ہیں: نیز مجھے عبدالرحمٰن بن سابط نے (مرسلاً ) خبر دی ہے) کہ نبی اکرم ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام اونٹ کا بایاں پاؤں باندھ کر اور باقی پیروں پر کھڑا کر کے اسے نحر کرتے ١ ؎۔

Abd al Rahman bin Thabit said: The Prophet ﷺ and his companions used to sacrifice the camel with its left leg tied and it remained standing on the rest of his legs.

Notes · وضاحت
١ ؎: اونٹ کو سینہ پر مار کر ذبح کرتے ہیں اس لیے نحر کا لفظ استعمال ہوا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ٢٨٦٨) (صحیح )
1768Sunan Abu Dawood

اونٹ کو نحر کرنے کا طریقہ

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، أَخْبَرَنِي زِيَادُ بْنُ جُبَيْرٍ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ بِمِنًى فَمَرَّ بِرَجُلٍ وَهُوَ يَنْحَرُ بَدَنَتَهُ وَهِيَ بَارِكَةٌ، فَقَالَ: ابْعَثْهَا قِيَامًا مُقَيَّدَةً سُنَّةَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

یونس کہتے ہیں مجھے زیاد بن جبیر نے خبر دی ہے، وہ کہتے ہیں میں منیٰ میں ابن عمر ؓ کے ساتھ تھا کہ ان کا گزر ایک شخص کے پاس سے ہوا جو اپنا اونٹ بٹھا کر نحر کر رہا تھا انہوں نے کہا: کھڑا کر کے (بایاں پیر) باندھ کر نحر کرو، یہی محمد ﷺ کا طریقہ تھا۔

Ziyad bin Jubair said: I was present with Ibn Umar at Minah. He passed a man who was sacrificing his camel while it was sitting. He said make it stand and tie its leg ; thus follow the practice (sunnah) of Muhammad ﷺ .

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ١١٨ (١٧١٣)، صحیح مسلم/الحج ٦٣ (١٣٢٠)، سنن النسائی/الکبری/ الحج (٤١٣٤)، ( تحفة الأشراف: ٦٧٢٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣، ٨٦، ١٣٩) سنن الدارمی/المناسک ٧٠ (١٩٥٥) (صحیح )
1769Sunan Abu Dawood

اونٹ کو نحر کرنے کا طریقہ

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ يَعْنِي ابْنَ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَقُومَ عَلَى بُدْنِهِ وَأَقْسِمَ جُلُودَهَا وَجِلَالَهَا، وَأَمَرَنِي أَنْ لَا أُعْطِيَ الْجَزَّارَ مِنْهَا شَيْئًا، وَقَالَ: نَحْنُ نُعْطِيهِ مِنْ عِنْدِنَا.

علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ میں آپ کے ہدی کے اونٹوں کے پاس کھڑا ہو کر ان کی کھالیں اور جھولیں تقسیم کروں اور مجھے حکم دیا کہ اس میں سے قصاب کو کچھ بھی نہ دوں اور فرمایا: اسے ہم اپنے پاس سے (اجرت) دیں گے۔

Ali said: The Messenger of Allah ﷺ commanded me to take charge of (his) sacrificial camels and to distribute the skins and saddle clothes (after sacrifice) as sadaqah. He commanded me not to give anything from it to the butcher. He said we used to give it (the wages) to the butcher ourselves.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ١٢٠ (١٧١٦)، ١٢١(١٧١٧)، صحیح مسلم/الحج ٦١ (١٣١٧)، سنن النسائی/ الکبری/ الحج (٤١٤٦، ٤١٤٧)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٩٧ (٣٠٩٩)، ( تحفة الأشراف: ١٠٢١٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/ ٧٩، ١٢٣، ١٣٢، ١٤٣، ١٥٤، ١٥٩)، سنن الدارمی/المناسک ٨٩ (١٩٨٣) (صحیح )
1770Sunan Abu Dawood

احرام باندھنے کا وقت

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي خُصَيْفُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجَزَرِيُّ،عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ: يَا أَبَا الْعَبَّاسِ، عَجِبْتُ لِاخْتِلَافِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِهْلَالِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَوْجَبَ، فَقَالَ: إِنِّي لَأَعْلَمُ النَّاسِ بِذَلِكَ، إِنَّهَا إِنَّمَا كَانَتْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّةً وَاحِدَةً فَمِنْ هُنَاكَ اخْتَلَفُو اخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجًّا، فَلَمَّا صَلَّى فِي مَسْجِدِهِ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْهِ أَوْجَبَ فِي مَجْلِسِهِ، فَأَهَلَّ بِالْحَجِّ حِينَ فَرَغَ مِنْ رَكْعَتَيْهِ، فَسَمِعَ ذَلِكَ مِنْهُ أَقْوَامٌ فَحَفِظْتُهُ عَنْهُ، ثُمَّ رَكِبَ فَلَمَّا اسْتَقَلَّتْ بِهِ نَاقَتُهُ أَهَلَّ، وَأَدْرَكَ ذَلِكَ مِنْهُ أَقْوَامٌ، وَذَلِكَ أَنَّ النَّاسَ إِنَّمَا كَانُوا يَأْتُونَ أَرْسَالًا فَسَمِعُوهُ حِينَ اسْتَقَلَّتْ بِهِ نَاقَتُهُ يُهِلُّ، فَقَالُوا: إِنَّمَا أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ اسْتَقَلَّتْ بِهِ نَاقَتُهُ، ثُمَّ مَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا عَلَا عَلَى شَرَفِ الْبَيْدَاءِ أَهَلَّ، وَأَدْرَكَ ذَلِكَ مِنْهُ أَقْوَامٌ، فَقَالُوا: إِنَّمَا أَهَلَّ حِينَ عَلَا عَلَى شَرَفِ الْبَيْدَاءِ، وَايْمُ اللَّهِ، لَقَدْ أَوْجَبَ فِي مُصَلَّاهُ وَأَهَلَّ حِينَ اسْتَقَلَّتْ بِهِ نَاقَتُهُ وَأَهَلَّ حِينَ عَلَا عَلَى شَرَفِ الْبَيْدَاءِ. قَالَ سَعِيدٌ: فَمَنْ أَخَذَ بِقَوْلِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَهَلَّ فِي مُصَلَّاهُ إِذَا فَرَغَ مِنْ رَكْعَتَيْهِ.

سعید بن جبیر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عباس ؓ سے کہا: ابوالعباس! مجھے تعجب ہے کہ کے صحابہ کرام ؓ رسول اللہ ﷺ کے احرام باندھنے کے سلسلے میں اختلاف رکھتے ہیں کہ آپ نے احرام کب باندھا؟ تو انہوں نے کہا: اس بات کو لوگوں میں سب سے زیادہ میں جانتا ہوں، چونکہ رسول اللہ ﷺ نے ایک ہی حج کیا تھا اسی وجہ سے لوگوں نے اختلاف کیا ہے، رسول اللہ ﷺ حج کی نیت کر کے مدینہ سے نکلے، جب ذی الحلیفہ کی اپنی مسجد میں آپ نے اپنی دو رکعتیں ادا کیں تو اسی مجلس میں آپ ﷺ نے احرام باندھا اور دو رکعتوں سے فارغ ہونے کے بعد حج کا تلبیہ پڑھا، لوگوں نے اس کو سنا اور میں نے اس کو یاد رکھا، پھر آپ ﷺ سوار ہوئے جب آپ کی اونٹنی آپ کو لے کر سیدھی کھڑی ہوگئی تو آپ نے تلبیہ پڑھا، بعض لوگوں نے اس وقت آپ ﷺ کو تلبیہ پڑھتے ہوئے پایا، اور یہ اس وجہ سے کہ لوگ الگ الگ ٹکڑیوں میں آپ کے پاس آتے تھے، تو جب آپ ﷺ کی اونٹنی آپ کو لے کر اٹھی تو انہوں نے آپ کو تلبیہ پکارتے ہوئے سنا تو کہا: آپ نے تلبیہ اس وقت کہا ہے جب آپ کی اونٹنی آپ کو لے کر کھڑی ہوئی پھر رسول اللہ ﷺ چلے، جب مقام بیداء کی اونچائی پر چڑھے تو تلبیہ کہا تو بعض لوگوں نے اس وقت اسے سنا تو انہوں نے کہا کہ آپ ﷺ نے اسی وقت تلبیہ کہا ہے جب آپ بیداء کی اونچائی پر چڑھے حالانکہ اللہ کی قسم آپ نے وہیں تلبیہ کہا تھا جہاں آپ نے نماز پڑھی تھی، پھر آپ ﷺ نے اس وقت تلبیہ کہا جب اونٹنی آپ کو لے کر سیدھی ہوئی اور پھر آپ نے بیداء کی اونچائی چڑھتے وقت تلبیہ کہا۔ سعید کہتے ہیں: جس نے ابن عباس ؓ کی بات کو لیا تو اس نے اس جگہ پر جہاں اس نے نماز پڑھی اپنی دونوں رکعتوں سے فارغ ہونے کے بعد تلبیہ کہا۔

Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : Saeed ibn Jubayr said: I said to Abdullah ibn Abbas (RA) : AbulAbbas, I am surprised to see the difference of opinion amongst the companions of the Messenger ﷺ about the wearing of ihram by the Messenger of Allah ﷺ when he made it obligatory. He replied: I am aware of it more than the people. The Messenger of Allah ﷺ performed only one hajj. Hence the people differed among themselves. The Messenger of Allah ﷺ came out (from Madina) with the intention of performing hajj. When he offered two rakahs of prayer in the mosque at Dhul-Hulayfah, he made it obligatory by wearing it. At the same meeting, he raised his voice in the talbiyah for hajj, when he finished his two rakahs. Some people heard it and I retained it from him. He then rode (on the she-camel), and when it (the she-camel) stood up, with him on its back, he raised his voice in the talbiyah and some people heard it at that moment. This is because the people were coming in groups, so they heard him raising his voice calling the talbiyah when his she-camel stood up with him on its back, and they thought that the Messenger of Allah ﷺ had raised his voice in the talbiyah when his she-camel stood up with him on its back. The Messenger of Allah ﷺ proceeded further; when he ascended the height of al-Bayda he raised his voice in the talbiyah. Some people heard it at that moment. They thought that he had raised his voice in the talbiyah when he ascended the height of al-Bayda. I swear by Allah, he raised his voice in the talbiyah at the place where he prayed, and he raised his voice in the talbiyah when his she-camel stood up with him on its back, and he raised his voice in the talbiyah when he ascended the height of al-Bayda. Saeed (ibn Jubayr) said; He who follows the view of Ibn Abbas raises his voice in talbiyah (and ihram) at the place of is prayer after he finishes two rakahs of his prayer.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ٥٥٠٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٦٠) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی خصیف کا حافظہ کمزور تھا، مگر حدیث میں مذکور تفصیل صحیح ہے )
1771Sunan Abu Dawood

احرام باندھنے کا وقت

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: بَيْدَاؤُكُمْ هَذِهِ الَّتِي تَكْذِبُونَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا مَا أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مِنْ عِنْدِ الْمَسْجِدِ، يَعْنِي مَسْجِدَ ذِي الْحُلَيْفَةِ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ یہی وہ بیداء کا مقام ہے جس کے بارے میں تم لوگ رسول اللہ ﷺ سے غلط بیان کرتے ہو کہ آپ نے تو مسجد یعنی ذی الحلیفہ کی مسجد کے پاس ہی سے تلبیہ کہا تھا۔

Ibn Umar said this is your al-Baida’ about which you ascribe falsehood to the Messenger of Allah ﷺ . He did not raise his voice in talbiyah but from the masjid, i. e. the mosque of Dhu al-Hulaifah.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ٢ (١٥١٥)، ٢٠ (١٥٤١)، والجھاد ٥٣ (٢٨٦٥)، صحیح مسلم/الحج ٣، ٤ (١١٨٦)، سنن الترمذی/الحج ٨ (٨١٨)، سنن النسائی/الحج ٥٦ (٢٧٥٨)، وانظر أیضا ما بعدہ، ( تحفة الأشراف: ٧٠٢٠)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/المناسک ١٤ (٢٩١٦)، موطا امام مالک/الحج ٩ (٣٠)، مسند احمد (٢/١٠، ١٧، ١٨، ٢٩، ٣٦، ٣٧، ٦٦، ١٥٤)، سنن الدارمی/المناسک ٨٢ (١٩٧٠) (صحیح )
1772Sunan Abu Dawood

احرام باندھنے کا وقت

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ جُرَيْجٍ، أَنَّهُ قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، رَأَيْتُكَ تَصْنَعُ أَرْبَعًا لَمْ أَرَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِكَ يَصْنَعُهَا، قَالَ: مَا هُنَّ يَا ابْنَ جُرَيْجٍ ؟ قَالَ: رَأَيْتُكَ لَا تَمَسُّ مِنَ الْأَرْكَانِ إِلَّا الْيَمَانِيَّيْنِ، وَرَأَيْتُكَ تَلْبَسُ النِّعَالَ السِّبْتِيَّةَ، وَرَأَيْتُكَ تَصْبُغُ بِالصُّفْرَةِ، وَرَأَيْتُكَ إِذَا كُنْتَ بِمَكَّةَ أَهَلَّ النَّاسُ إِذَا رَأَوْا الْهِلَالَ، وَلَمْ تُهِلَّ أَنْتَ حَتَّى كَانَ يَوْمَ التَّرْوِيَةِ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ: أَمَّا الْأَرْكَانُ، فَإِنِّي لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمَسُّ إِلَّا الْيَمَانِيَّيْنِ، وَأَمَّا النِّعَالُ السِّبْتِيَّةُ، فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْبَسُ النِّعَالَ الَّتِي لَيْسَ فِيهَا شَعْرٌ وَيَتَوَضَّأُ فِيهَا، فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَلْبَسَهَا، وَأَمَّا الصُّفْرَةُ فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْبُغُ بِهَا، فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَصْبُغَ بِهَا، وَأَمَّا الْإِهْلَالُ، فَإِنِّي لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُهِلُّ حَتَّى تَنْبَعِثَ بِهِ رَاحِلَتُهُ.

عبید بن جریج سے روایت ہے کہ انہوں نے عبداللہ بن عمر ؓ سے کہا: ابوعبدالرحمٰن! میں نے آپ کو چار کام ایسے کرتے دیکھا ہے جنہیں میں نے آپ کے اصحاب میں سے کسی کو کرتے نہیں دیکھا ہے؟ انہوں نے پوچھا: وہ کیا ہیں ابن جریج؟ وہ بولے: میں نے دیکھا کہ آپ صرف رکن یمانی اور حجر اسود کو چھوتے ہیں، اور دیکھا کہ آپ ایسی جوتیاں پہنتے ہیں جن کے چمڑے میں بال نہیں ہوتے، اور دیکھا آپ زرد خضاب لگاتے ہیں، اور دیکھا کہ جب آپ مکہ میں تھے تو لوگوں نے چاند دیکھتے ہی احرام باندھ لیا لیکن آپ نے یوم الترویہ (آٹھویں ذی الحجہ) کے آنے تک احرام نہیں باندھا، تو عبداللہ بن عمر ؓ نے کہا: رہی رکن یمانی اور حجر اسود کی بات تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو صرف انہیں دو کو چھوتے دیکھا ہے، اور رہی بغیر بال کی جوتیوں کی بات تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایسی جوتیاں پہنتے دیکھی ہیں جن میں بال نہیں تھے اور آپ ان میں وضو کرتے تھے، لہٰذا میں بھی انہی کو پہننا پسند کرتا ہوں، اور رہی زرد خضاب کی بات تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو زرد رنگ کا خضاب لگاتے دیکھا ہے، لہٰذا میں بھی اسی کو پسند کرتا ہوں، اور احرام کے بارے میں یہ ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس وقت تک لبیک پکارتے نہیں دیکھا جب تک کہ آپ کی سواری آپ کو لے کر چلنے کے لیے کھڑی نہ ہوجاتی۔

Ubayd ibn Jurayj said to Abdullah ibn Umar (RA) : Abu Abdur Rahman, I saw you doing things which I did not see being done by your companions. He asked: What are they, Ibn Jurayj? He replied: I saw you touching only the two Yamani corners; and I saw you wearing shoes having no hair; I saw you dyeing in yellow colour; and I saw you wearing ihram on the eighth of Dhul-Hijjah, whereas the people had worn ihram when they sighted the moon. Abdullah ibn Umar replied: As regards the corners, I have not seen the Messenger of Allah ﷺ touching anything (in the Kabah) but the two Yamani corners. As for the tanned leather shoes, I have seen the Messenger of Allah ﷺ wearing tanned leather shoes, and he would wear them after ablution. Therefore I like to wear them. As regards wearing yellow, I have seen the Messenger of Allah ﷺ wearing yellow, so I like to wear with it. As regards shouting the talbiyah, I have seen the Messenger of Allah ﷺ raising his voice in talbiyah when his she-camel stood up with him on its back.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوضوء ٣٠ (١٦٦)، والحج ٢٨ (١٥٥٢) (مختصرا) ٥٩ (١٦٠٩) (مختصرا)، واللباس ٣٧ (٥٨٥١)، صحیح مسلم/الحج ٥ (١١٨٧)، سنن الترمذی/الشمائل ١٠ (٧٤)، سنن النسائی/الطھارة ٩٥ (١١٧)، سنن ابن ماجہ/اللباس ٣٤ (٣٦٢٦)، ( تحفة الأشراف: ٧٣١٦)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحج ٩(٣١)، مسند احمد (٢/١٧، ٢٦، ١١٠) (صحیح )
1773Sunan Abu Dawood

احرام باندھنے کا وقت

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعًا وَصَلَّى الْعَصْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ بَاتَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ حَتَّى أَصْبَحَ فَلَمَّا رَكِبَ رَاحِلَتَهُ وَاسْتَوَتْ بِهِ أَهَلَّ.

انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مدینہ میں ظہر چار رکعت اور ذی الحلیفہ میں عصر دو رکعت ادا کی، پھر ذی الحلیفہ میں رات گزاری یہاں تک کہ صبح ہوگئی، جب آپ ﷺ اپنی سواری پر بیٹھے اور وہ آپ کو لے کر سیدھی ہوگئی تو آپ نے تلبیہ پڑھا۔

Anas said: Messenger of Allah ﷺ prayed four rak’ahs at Madinah and prayed two rak’ahs of afternoon prayer at Dhu-al Hulaifah. He then passed the night at Dhu-al Hulaifah till the morning came. When he rode on his mount and it stood up on its back, he raised his voice in talbiyah.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ٢٤ (١٥٤٦)، صحیح مسلم/المسافرین ١ (٦٩٠)، سنن النسائی/الصلاة ١١ (٣٧٨، ٤٧٠)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٧٤ (٥٤٦)، ( تحفة الأشراف: ١٥٧٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٢٣٧، ٣٧٨) (صحیح )
1774Sunan Abu Dawood

احرام باندھنے کا وقت

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، حَدَّثَنَا أَشْعَثُ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَصَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ رَكِبَ رَاحِلَتَهُ، فَلَمَّا عَلَا عَلَى جَبَلِ الْبَيْدَاءِ أَهَلَّ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ظہر پڑھی، پھر اپنی سواری پر بیٹھے جب بیداء کے پہاڑ پر چڑھے تو تلبیہ پڑھا۔

Narrated Anas ibn Malik: The Prophet ﷺ offered the noon prayer, and then rode on his mount. When he came to the hill of al-Bayda, he raised his voice in talbiyah.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الحج ٢٥ (٢٦٦٣)، ٥٦ (٢٧٥٦)، ١٤٣ (٢٩٣٤)، ( تحفة الأشراف: ٥٢٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٢٠٧)، سنن الدارمی/الحج ١٢ (١٨٤٨) (صحیح لغیرہ) ( اس حدیث کے روای حسن بصری ہیں جو مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے ہے، اس کی اصل سابقہ حدیث نمبر: (١٧٧٣) ہے، اس سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے )
1775Sunan Abu Dawood

احرام باندھنے کا وقت

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا وَهْبٌ يَعْنِي ابْنَ جَرِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ يُحَدِّثُ، عَنْأَبِي الزِّنَادِ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، قَالَتْ: قَالَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ: كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَخَذَ طَرِيقَ الْفُرْعِ أَهَلَّ إِذَا اسْتَقَلَّتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ، وَإِذَا أَخَذَ طَرِيقَ أُحُدٍ أَهَلَّ إِذَا أَشْرَفَ عَلَى جَبَلِ الْبَيْدَاءِ.

عائشہ بنت سعد بن ابی وقاص کہتی ہیں کہ سعد بن ابی وقاص ؓ کا کہنا ہے کہ اللہ کے نبی اکرم ﷺ جب فرع کا راستہ (جو مکہ کو جاتا ہے) اختیار کرتے تو جب آپ ﷺ کی سواری آپ کو لے کر سیدھی ہوجاتی تو آپ تلبیہ پڑھتے اور جب آپ احد کا راستہ اختیار کرتے تو بیداء کی پہاڑی پر چڑھتے وقت تلبیہ پڑھتے۔

Narrated Saad ibn Abi Waqqas (RA) : When the Prophet of Allah (peace be upon him0 undertook his journey by the way of al-Far, he shouted talbiyah when his mount stood up with him on its back. But when he travelled by the way of Uhud, he raised his voice in Talbiyah when he ascended the hill of al-Bayda.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ٣٩٥٦) (ضعیف) (اس کے راوی ابن اسحاق مدلس ہیں اور عنعنہ سے روایت کئے ہوئے ہیں )
1776Sunan Abu Dawood

حج میں شرط لگانے کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، عَنْ هِلَالِ بْنِ خَبَّابٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ ضُبَاعَةَ بِنْتَ الزُّبَيْرِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أُرِيدُ الْحَجَّ أَأَشْتَرِطُ ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَتْ: فَكَيْفَ أَقُولُ ؟ قَالَ: قُولِي: لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، وَمَحِلِّي مِنَ الْأَرْضِ حَيْثُ حَبَسْتَنِي.

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ضباعہ بنت زبیر بن عبدالمطلب رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں اور کہنے لگیں: اللہ کے رسول! میں حج میں شرط لگانا چاہتی ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں، (لگا سکتی ہو) ، انہوں نے کہا: تو میں کیسے کہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: کہو! لبيك اللهم لبيك، ومحلي من الأرض حيث حبستني حاضر ہوں اے اللہ حاضر ہوں، اور میرے احرام کھولنے کی جگہ وہی ہے جہاں تو مجھے روک دے ۔

Ibn Abbas said: Duba`ah, daughter of al-Zubair bin Abd al-Muttalib, came to the Messenger of Allah ﷺ and said Messenger of Allah ﷺ I want to perform Hajj; may I make a provision? He said Yes. She asked how should I say? He replied: Say “ Labbaik Allahumma Labbaik (I am at Thy service, Oh Allah, I am at Thy service). The place where I took off Ihram will be where Thou restrainest me. ”

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الحج ١٧ (٩٤١)، سنن النسائی/الحج ٦٠ (٢٧٦٧)، ( تحفة الأشراف: ٥٧٥٤، ٦٢١٤، ٦٢٣٢)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحج ١٥ (١٢٠٨)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٢٤ (٢٩٣٦)، مسند احمد (١/٣٣٧، ٣٥٢)، سنن الدارمی/المناسک ١٥ (١٨٥٢) (حسن صحیح )
1777Sunan Abu Dawood

حج مفرد کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَأَفْرَدَ الْحَجَّ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حج افراد کیا ١ ؎۔

Aishah said: The Messenger of Allah ﷺ performed Hajj exclusively (without performing Umrah in the beginning).

Notes · وضاحت
١ ؎: حج کے مہینے میں میقات سے صرف حج کی نیت سے احرام باندھنے کو افراد کہتے ہیں، نبی کریم ﷺ کے بارے میں صحیح یہ ہے کہ آپ نے حج قران کیا تھا، اس لئے کہ آپ ﷺ کے ساتھ ہدی کے جانور تھے، ورنہ صحابہ کرام ؓ کو حکم دیا تھا کہ جن کے ساتھ ہدی کا جانور نہ ہو وہ عمرہ پورا کر کے احرام کھول دیں، یعنی حج قران کو حج تمتع میں بدل دیں، دیکھئے حدیث نمبر: (٧٩٥)۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ١٧ (١٢١١)، سنن الترمذی/الحج ١٠ (٨٢٠)، سنن النسائی/الحج ٤٨ (٢٧١٦)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٣٧ (٢٩٦٤)، ( تحفة الأشراف: ١٧٥١٧)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحج ١١(٣٧)، مسند احمد (٦/٢٤٣)، سنن الدارمی/المناسک ١٦ (١٨٥٣) (صحیح الإسناد )
1778Sunan Abu Dawood

حج مفرد کا بیان

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ. ح وحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ. ح وحَدَّثَنَا مُوسَى،حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُوَافِينَ هِلَالَ ذِي الْحِجَّةِ، فَلَمَّا كَانَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ، قَالَ: مَنْ شَاءَ أَنْ يُهِلَّ بِحَجٍّ فَلْيُهِلَّ، وَمَنْ شَاءَ أَنْ يُهِلَّ بِعُمْرَةٍ فَلْيُهِلَّ بِعُمْرَةٍ، قَالَ مُوسَى فِي حَدِيثِ وُهَيْبٍ: فَإِنِّي لَوْلَا أَنِّي أَهْدَيْتُ لَأَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ، وَقَالَ فِي حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ: وَأَمَّا أَنَا فَأُهِلُّ بِالْحَجِّ فَإِنَّ مَعِي الْهَدْيَ، ثُمَّ اتَّفَقُوا، فَكُنْتُ فِيمَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ، فَلَمَّا كَانَ فِي بَعْضِ الطَّرِيقِ حِضْتُ، فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي، فَقَالَ: مَا يُبْكِيكِ ؟ قُلْتُ: وَدِدْتُ أَنِّي لَمْ أَكُنْ خَرَجْتُ الْعَامَ، قَالَ: ارْفِضِي عُمْرَتَكِ وَانْقُضِي رَأْسَكِ وَامْتَشِطِي، قَالَ مُوسَى: وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ، وَقَالَ سُلَيْمَانُ: وَاصْنَعِي مَا يَصْنَعُ الْمُسْلِمُونَ فِي حَجِّهِمْ، فَلَمَّا كَانَ لَيْلَةُ الصَّدَرِ أَمَرَ، يَعْنِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَبْدَ الرَّحْمَنِ فَذَهَبَ بِهَا إِلَى التَّنْعِيمِ، زَادَ مُوسَى: فَأَهَلَّتْ بِعُمْرَةٍ مَكَانَ عُمْرَتِهَا وَطَافَتْ بِالْبَيْتِ فَقَضَى اللَّهُ عُمْرَتَهَا وَحَجَّهَا. قَالَ هِشَامٌ: وَلَمْ يَكُنْ فِي شَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ هَدْيٌ. قَالَ أَبُو دَاوُد: زَادَ مُوسَى فِي حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ: فَلَمَّا كَانَتْ لَيْلَةُ الْبَطْحَاءِ طَهُرَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ جب ذی الحجہ کا چاند نکلنے کو ہوا تو ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے، جب آپ ذی الحلیفہ پہنچے تو آپ ﷺ نے فرمایا: جو حج کا احرام باندھنا چاہے وہ حج کا احرام باندھے، اور جو عمرہ کا احرام باندھنا چاہے وہ عمرہ کا باندھے ۔ موسیٰ نے وہیب والی روایت میں کہا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: اگر میں ہدی نہ لے چلتا تو میں بھی عمرہ کا احرام باندھتا ۔ اور حماد بن سلمہ کی حدیث میں ہے : رہا میں تو میں حج کا احرام باندھتا ہوں کیونکہ میرے ساتھ ہدی ہے ۔ آگے دونوں راوی متفق ہیں (ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں) میں عمرے کا احرام باندھنے والوں میں تھی، آپ ابھی راستہ ہی میں تھے کہ مجھے حیض آگیا، آپ ﷺ میرے پاس تشریف لائے، میں رو رہی تھی، آپ ﷺ نے پوچھا: کیوں رو رہی ہو؟ ، میں نے عرض کیا: میری خواہش یہ ہو رہی ہے کہ میں اس سال نہ نکلتی (تو بہتر ہوتا) ، آپ ﷺ نے فرمایا: اپنا عمرہ چھوڑ دو، سر کھول لو اور کنگھی کرلو ۔ موسیٰ کی روایت میں ہے : اور حج کا احرام باندھ لو ، اور سلیمان کی روایت میں ہے: اور وہ تمام کام کرو جو مسلمان اپنے حج میں کرتے ہیں ۔ تو جب طواف زیارت کی رات ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے عبدالرحمٰن کو حکم دیا چناچہ وہ انہیں مقام تنعیم لے کر گئے۔ موسیٰ نے یہ اضافہ کیا ہے کہ انہوں نے اپنے اس عمرے کے عوض (جو ان سے چھوٹ گیا تھا) دوسرے عمرے کا احرام باندھا اور بیت اللہ کا طواف کیا، اس طرح اللہ نے ان کے عمرے اور حج دونوں کو پورا کردیا۔ ہشام کہتے ہیں: اور اس میں ان پر اس سے کوئی ہدی لازم نہیں ہوئی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: موسیٰ نے حماد بن سلمہ کی حدیث میں یہ اضافہ کیا ہے کہ جب بطحاء ١ ؎ کی رات آئی تو عائشہ ؓ حیض سے پاک ہوگئیں۔

Aishah said: We went out along with The Messenger of Allah ﷺ when the moon of the month of Dhu al-Hijja was going to appear shortly. When he reached Dhu al-Hulaifah he said: Anyone who wants to perform Hajj should raise his voice in Talbiyah for Hajj (after wearing Ihram); and he who wants to perform Umrah should raise his voice in talbiyah for an Umrah. The narrator Musa in the version of Wuhaib reported him (the Prophet) as saying if there were no sacrificial animals with me, I would raise my voice in talbiyah for an Umrah. But according to the version of Hammad bin Salamah, he said as for myself, I shall raise my voice in talbiyah for Hajj because I have sacrificial animal with me. The agreed version goes I (Aishah) was one of those persons who wore Ihram for an ‘Umrah. But on my way (to Makkah) I menstruated. The Messenger of Allah ﷺ entered upon me while I was weeping. He asked why are you weeping? I wished I would not come out (for Hajj) this year. He said give up your Umrah; untie your hair and comb. The version of Musa said and raise your voice in talbiyah for Hajj (after wearing Ihram). Sulaiman’s version goes and do as all the Muslims do during their Hajj. When the night for performing the obligatory circumambulation (tawaf al-Ziyarah) came, the Messenger of Allah ﷺ commanded Abdur-Rahman. He took her to al-Tan’im (instead of the words “her ‘Umrah”). She went round the Kaabah. Allah thus completed both her ‘Umrah and Hajj. Hisham said: No sacrificial animal was offered during all this time. In the version of Hammad bin Salamah, the narrator Musa added when the night of al-Batha came Ai’ shah was purified.

Notes · وضاحت
١ ؎: بطحاء سے مراد منیٰ ہے، یعنی قیام منیٰ کے ایام کی کسی رات میں وہ پاک ہوگئیں، علامہ عینی کہتے ہیں کہ عائشہ ؓ حیض تین ذی الحجہ بروز سنیچر مقام سرف میں شروع ہوا تھا، اور دسویں ذی الحجہ کو سنیچر کے روز پاک ہوئیں۔
Takhrij · تخریج
حدیث سلیمان بن حرب عن حماد بن زید قد أخرجہ: سنن النسائی/الحج ١٨٥ (٢٩٩٣)، ١٨٦ (٢٩٩٤)، ( تحفة الأشراف: ١٦٨٦٣، ١٦٨٨٢)، وحدیث موسیٰ بن اسماعیل عن حماد بن سلمة وموسی بن اسماعیل عن وہیب، قد تفرد بہما أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٧٢٩٥)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحیض ١ (٢٩٤)، ٧ (٣٠٥)، ١٥(٣١٦)، ١٦ (٣١٧)، ١٨ (٣١٩)، الحج/٣١ (١٥٥٦)، ٣٣ (١٥٦٠)، ٣٤ (١٥٦٢)، ٧٧ (١٦٣٨)، ١١٥ (١٧٠٩)، ١٢٤ (١٧٢٠)، ١٤٥ (١٧٥٧)، العمرة ٧ (١٧٨٦)، ٩ (١٧٨٨)، الجھاد ١٠٥ (٢٩٥٢)، المغازي ٧٧ (٤٣٩٥)، صحیح مسلم/الحج ١٧ (١٢١١)، سنن النسائی/الطھارة ١٨٣ (٢٩١) سنن ابن ماجہ/الحج ٣٦ (٢٩٦٣) (صحیح )
1779Sunan Abu Dawood

حج مفرد کا بیان

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ وَعُمْرَةٍ وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِالْحَجِّ، وَ أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ، فَأَمَّا مَنْ أَهَلَّ بِالْحَجِّ أَوْ جَمَعَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ فَلَمْ يُحِلُّوا حَتَّى كَانَ يَوْمَ النَّحْرِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ ہم لوگ حجۃ الوداع کے سال رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے ہم میں کچھ ایسے لوگ تھے جنہوں نے عمرے کا احرام باندھا، اور کچھ ایسے تھے جنہوں نے حج و عمرہ دونوں کا احرام باندھا، اور کچھ ایسے تھے جنہوں نے صرف حج کا احرام باندھا، رسول اللہ ﷺ نے حج کا احرام باندھا، چناچہ جن لوگوں نے حج کا یا حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھا تھا انہوں نے یوم النحر (یعنی دسویں ذی الحجہ) تک احرام نہیں کھولا۔

Aishah wife the Prophet ﷺ narrated we went out with the Messenger of Allah ﷺ at the farewell pilgrimage. Some of us had put on Ihram for Umrah and some both for Hajj and Umrah, when the Messenger of Allah ﷺ had put on Ihram for Hajj only. He who had put on Ihram for Umrah, put off Ihram after performing Umrah and he who had worn Ihram both for Hajj and Umrah or only for Hajj did not take it off till the tenth (of the month).

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/البخاری ٣٤ (١٥٦٢)، المغازی ٧٨ (٤٤٠٨)، صحیح مسلم/الحج ١٧ (١٢١١)، سنن النسائی/الحج ٤٨ (٢٧١٧)، سنن ابن ماجہ/ الحج ٣٧ (٢٩٦٥)، ( تحفة الأشراف: ١٦٣٨٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٣٦، ١٠٤، ١٠٧، ٢٤٣) (صحیح )
1780Sunan Abu Dawood

حج مفرد کا بیان

حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ. زَادَ: فَأَمَّا مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ فَأَحَلَّ.

اس سند سے بھی ابوالاسود سے اسی طریق سے اسی کے مثل مروی ہے البتہ اس میں اتنا اضافہ ہے: رہے وہ لوگ جنہوں نے صرف عمرے کا احرام باندھا تھا تو ان لوگوں نے (عمرہ کر کے) احرام کھول دیا ۔

The aforesaid tradition has also been narrated by Abu al-Aswad through a different chain of narrators. This version adds he who raises his voice in talbiyah for Umrah (and wearing Ihram for it) should put off Ihram after performing Umrah.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، ( تحفة الأشراف: ١٦٣٨٩) (صحیح )
1781Sunan Abu Dawood

حج مفرد کا بیان

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَأَهْلَلْنَا بِعُمْرَةٍ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيُهِلَّ بِالْحَجِّ مَعَ الْعُمْرَةِ، ثُمَّ لَا يَحِلُّ حَتَّى يَحِلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا، فَقَدِمْتُ مَكَّةَ وَأَنَا حَائِضٌ وَلَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ وَلَا بَيْنَ الصَّفَا وَ الْمَرْوَةِ، فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: انْقُضِي رَأْسَكِ وَامْتَشِطِي وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ وَدَعِي الْعُمْرَةَ، قَالَتْ: فَفَعَلْتُ، فَلَمَّا قَضَيْنَا الْحَجَّ، أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ إِلَى التَّنْعِيمِ، فَاعْتَمَرْتُ، فَقَالَ: هَذِهِ مَكَانُ عُمْرَتِكِ، قَالَتْ: فَطَافَ الَّذِينَ أَهَلُّوا بِالْعُمْرَةِ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَ الْمَرْوَةِ ثُمَّ حَلُّوا ثُمَّ طَافُوا طَوَافًا آخَرَ بَعْدَ أَنْ رَجَعُوا مِنْ مِنًى لِحَجِّهِمْ، وَأَمَّا الَّذِينَ كَانُوا جَمَعُوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ فَإِنَّمَا طَافُوا طَوَافًا وَاحِدًا. قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، وَ مَعْمَرٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ نَحْوَهُ، لَمْ يَذْكُرُوا: طَوَافَ الَّذِينَ أَهَلُّوا بِعُمْرَةٍ وَطَوَافَ الَّذِينَ جَمَعُوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ حجۃ الوداع میں ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے تو ہم نے عمرے کا احرام باندھا پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس کے ساتھ ہدی ہو تو وہ عمرے کے ساتھ حج کا احرام باندھ لے پھر وہ حلال نہیں ہوگا جب تک کہ ان دونوں سے ایک ساتھ حلال نہ ہوجائے ، چناچہ میں مکہ آئی، میں حائضہ تھی، میں نے بیت اللہ کا طواف نہیں کیا اور نہ صفا ومروہ کے درمیان سعی کی، لہٰذا میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس کی شکایت کی تو آپ نے فرمایا: اپنا سر کھول لو، کنگھی کرلو، حج کا احرام باندھ لو، اور عمرے کو ترک کر دو ، میں نے ایسا ہی کیا، جب میں نے حج ادا کرلیا تو مجھے رسول اللہ ﷺ نے (میرے بھائی) عبدالرحمٰن بن ابی بکر کے ساتھ مقام تنعیم بھیجا (تو میں وہاں سے احرام باندھ کر آئی اور) میں نے عمرہ ادا کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: یہ تمہارے عمرے کی جگہ پر ہے ، ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں: چناچہ جنہوں نے عمرے کا احرام باندھ رکھا تھا انہوں نے بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا ومروہ کے درمیان سعی کی، پھر ان لوگوں نے احرام کھول دیا، پھر جب منیٰ سے لوٹ کر آئے تو حج کا ایک اور طواف کیا، اور رہے وہ لوگ جنہوں نے حج و عمرہ دونوں کو جمع کیا تھا تو انہوں نے ایک ہی طواف کیا ١ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابراہیم بن سعد اور معمر نے ابن شہاب سے اسی طرح روایت کیا ہے انہوں نے ان لوگوں کے طواف کا جنہوں نے عمرہ کے طواف کا احرام باندھا، اور ان لوگوں کے طواف کا جنہوں نے حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھا ذکر نہیں کیا۔

Aishah the wife of the Prophet ﷺ said: We went out with the Messenger of Allah ﷺ at the farewell pilgrimage and raised the voice in talbiyah for an ‘Umrah. The Apostel of Allah ﷺ said those who have brought the sacrificial animals with them should raise their voices in talbiyah for Hajj along with an ‘Umrah and they should not put off their Ihram till they do so after performing them both. I came to Makkah while I was menstruating and I did not go round the House (the Kaabah) or run between al-Safa and al-Marwah. I complained about this to the Messenger of Allah ﷺ he said: Undo your hair, comb it and raise your voice in talbiyah for Hajj and let Umrah go. She said I did so. When we performed Hajj, the Messenger of Allah ﷺ sent me along with Abdur-Rahman bin Abu Bakr to al-Ta’nim and I performed Umrah. He said, this is Umrah in place of the one you had missed. She said those who had raised their voices in talbiyah for Umrah put off Ihram after circumambulating the House (the Kaabah) and after running between al-Safa and al-Marwa. Then they performed another circumambulation for their Hajj after they returned from Mina but those who combined Hajj and Umrah performed only one circumambulation.

Notes · وضاحت
١ ؎: اسی طرح حج افراد کا احرام باندھنے والوں نے بھی ایک ہی طواف کیا، واضح رہے کہ مفرد ہو یا متمتع یا قارن سب کے لئے طوافِ زیارت فرض ہے، اور متمتع پر صفا ومروہ کی دو سعی واجب ہے، جب کہ قارن کے لئے صرف ایک سعی کافی ہے، خواہ طواف قدوم (یا عمرہ) کے وقت کرلے یا طواف زیارت کے بعد، یہی مسئلہ مفرد حاجی کے لئے بھی ہے، واضح رہے کہ بعض حدیثوں میں ” سعی “ کے لئے بھی ” طواف “ کا لفظ وارد ہوا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/ الحج ٣١ (١٥٥٦)، ٧٧ (١٦٣٨)، صحیح مسلم/الحج ١٧ (١٢١١)، سنن النسائی/ الحج ٥٨ (٢٧٦٥)، ( تحفة الأشراف: ١٦٥٩١)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحج ٧٤ (٢٢٣)، مسند احمد (٦/٣٥، ١٧٧) (صحیح )
1782Sunan Abu Dawood

حج مفرد کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: لَبَّيْنَا بِالْحَجِّ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِسَرِفَ حِضْتُ، فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي، فَقَالَ: مَا يُبْكِيكِ يَا عَائِشَةُ ؟فَقُلْتُ: حِضْتُ، لَيْتَنِي لَمْ أَكُنْ حَجَجْتُ، فَقَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ ! إِنَّمَا ذَلِكَ شَيْءٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ، فَقَالَ: انْسُكِي الْمَنَاسِكَ كُلَّهَا غَيْرَ أَنْ لَا تَطُوفِي بِالْبَيْتِ، فَلَمَّا دَخَلْنَا مَكَّةَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ شَاءَ أَنْ يَجْعَلَهَا عُمْرَةً فَلْيَجْعَلْهَا عُمْرَةً إِلَّا مَنْ كَانَ مَعَهُ الْهَدْيُ، قَالَتْ: وَذَبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نِسَائِهِ الْبَقَرَ يَوْمَ النَّحْرِ، فَلَمَّا كَانَتْ لَيْلَةُ الْبَطْحَاءِ وَطَهُرَتْ عَائِشَةُ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتَرْجِعُ صَوَاحِبِي بِحَجٍّ وَعُمْرَةٍ وَأَرْجِعُ أَنَا بِالْحَجِّ ؟ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ فَذَهَبَ بِهَا إِلَى التَّنْعِيمِ فَلَبَّتْ بِالْعُمْرَةِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ ہم نے حج کا تلبیہ پڑھا یہاں تک کہ جب ہم مقام سرف میں پہنچے تو مجھے حیض آگیا، رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے اور میں رو رہی تھی، آپ نے پوچھا: عائشہ! تم کیوں رو رہی ہو؟ ، میں نے کہا: مجھے حیض آگیا کاش میں نے (امسال) حج کا ارادہ نہ کیا ہوتا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ کی ذات پاک ہے، یہ تو بس ایسی چیز ہے جو اللہ نے آدم کی بیٹیوں کے واسطے لکھ دی ہے ، پھر فرمایا: تم حج کے تمام مناسک ادا کرو البتہ تم بیت اللہ کا طواف نہ کرو ١ ؎ پھر جب ہم مکہ میں داخل ہوئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو اسے عمرہ بنانا چاہے تو وہ اسے عمرہ بنا لے ٢ ؎ سوائے اس شخص کے جس کے ساتھ ہدی ہو ، ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں: اور رسول اللہ ﷺ نے یوم النحر (دسویں ذی الحجہ) کو اپنی ازواج مطہرات کی جانب سے گائے ذبح کی۔ جب بطحاء کی رات ہوئی اور عائشہ ؓ حیض سے پاک ہوگئیں تو انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! کیا میرے ساتھ والیاں حج و عمرہ دونوں کر کے لوٹیں گی اور میں صرف حج کر کے لوٹوں گی؟ تو رسول اللہ ﷺ نے عبدالرحمٰن بن ابوبکر ؓ کو حکم دیا وہ انہیں لے کر مقام تنعیم گئے پھر ام المؤمنین عائشہ ؓ نے وہاں سے عمرہ کا تلبیہ پڑھا۔

Aishah said: We raised our voices in talbiyah for Hajj. When we reached Sarif, I menstruated. The Messenger of Allah ﷺ came upon me while I was weeping. He asked, why are your weeping, Aisha (RA) ? I replied, I menstruated. Would that I had not come out for performing Hajj. He said: Glory be to Allah, this is a thing prescribed by Allah on the daughters of Adam. He said perform all the rites of Hajj but do not go round the House (the Kaabah). When we entered Makkah, the Messenger of Allah ﷺ said he who desires to make (his Hajj) an Umrah may do so, except those who have sacrificial animals with them. The Messenger of Allah ﷺ sacrificed a cow on behalf of his wives on the day of sacrifice. When the night of al-Batha came, and Aisha (RA) was purified she said to the Messenger of Allah ﷺ my fellow female pilgrims will return after performing Hajj and Umrah and I shall return after performing only Hajj? He therefore, ordered Abdur-Rahman bin Abu Bakr who took her to al-Ta’nim. She uttered there talbiyah for Umrah.

Notes · وضاحت
١ ؎: طواف ایک ایسی عبادت ہے جس میں طہارت شرط ہے اسی وجہ سے رسول اللہ ﷺ نے ام المؤمنین عائشہ ؓ کو طواف سے روک دیا، طواف کے علاوہ حائضہ حج کے تمام ارکان ادا کرے گی۔ ٢ ؎: جیسا کہ مذکور ہوا یہ جملہ جو اس روایت میں ہے صحیح نہیں ہے، صحیح جملہ یوں ہے: ” تم اپنے حج کو عمرہ بنا ڈالو سوائے اس شخص۔۔۔ الخ “
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ١٧ (١٢١١)، ( تحفة الأشراف: ١٧٤٧٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٢١٩) (صحیح) (لیکن یہ جملہ من شاء أن يجعلها ... الخ صحیح نہیں ہے جو اس روایت میں ہے، صحیح جملہ یوں ہے اجعلوها عمرة یعنی حکم دیا کہ عمرہ بنا ڈالو )
1783Sunan Abu Dawood

حج مفرد کا بیان

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا نَرَى إِلَّا أَنَّهُ الْحَجُّ، فَلَمَّا قَدِمْنَا تَطَوَّفْنَا بِالْبَيْتِ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَمْ يَكُنْ سَاقَ الْهَدْيَ أَنْ يُحِلَّ، فَأَحَلَّ مَنْ لَمْ يَكُنْ سَاقَ الْهَدْيَ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے، ہمارے پیش نظر صرف حج تھا، جب ہم (مکہ) آئے تو ہم نے بیت اللہ کا طواف کیا، اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ جو اپنے ساتھ ہدی نہ لایا ہو وہ حلال ہوجائے ١ ؎، چناچہ وہ تمام لوگ حلال ہوگئے جو ہدی لے کر نہیں آئے تھے۔

Aishah said “We went out with the Messenger of Allah ﷺ and we thought it nothing but a Hajj. When we came, we circumambulated the House (the Kaabah). The Messenger of Allah ﷺ then commanded those who did not bring the sacrificial animals with them to take off their ihram. Therefore those who did not bring the sacrificial animals with them took off their ihram.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اپنا احرام کھول دے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/ الحج ٣٤ (١٥٦١)، صحیح مسلم/ الحج ١٧ (١٢١١)، سنن النسائی/ الکبری، الحج (٣٧٨٥)، (تحفة الأشراف: ١٥٩٨٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١٨٩، ١٩١، ١٩٢، ٢١٠) (صحیح )
1784Sunan Abu Dawood

حج مفرد کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ الذُّهَلِيُّ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْعَائِشَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ لَمَّا سُقْتُ الْهَدْيَ، قَالَ مُحَمَّدٌ: أَحْسَبُهُ قَالَ: وَلَحَلَلْتُ مَعَ الَّذِينَ أَحَلُّوا مِنَ الْعُمْرَةِ، قَالَ: أَرَادَ أَنْ يَكُونَ أَمْرُ النَّاسِ وَاحِدًا.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر مجھے پہلے یہ بات معلوم ہوگئی ہوتی جواب معلوم ہوئی ہے تو میں ہدی نہ لاتا ، محمد بن یحییٰ ذہلی کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ آپ ﷺ نے کہا: اور میں ان لوگوں کے ساتھ حلال ہوجاتا جو عمرہ کے بعد حلال ہوگئے ، آپ ﷺ نے چاہا کہ سب لوگوں کا معاملہ یکساں ہو ١ ؎۔

Aishah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying “If I had known beforehand about my affair what I have come to know later, I would not have brought the sacrificial animals with me. The narrator Muhammad (bin Yahya) said “ I think he (’Uthman bin Umar) said and I would have taken off my ihram with those who have put their ihram after performing ‘Umrah. He said “By this he intended that all the people might have performed equal rites (of Hajj)

Notes · وضاحت
١ ؎: کہ جو حج کا احرام باندھ کر آئے اور ہدی ساتھ نہ لائے تو وہ طواف اور سعی کرکے احرام کھول دیں، نبی اکرم ﷺ نے حجۃ الوداع میں لوگوں کی آسانی کے لئے ایسا حکم فرمایا تاکہ اس سے مشرکین کی مخالفت ہو، بعض لوگوں کو اس میں تردد ہوا تو آپ ﷺ ان پر ناراض ہوئے، اس حدیث کی بنا پر بعض ائمہ کے یہاں حج تمتع ہی واجب اور افضل ہے، (ملاحظہ ہو: زاد المعاد)۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ١٦٧٤٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٢٤٧) (صحیح )