Sunan Abu Dawood 3575

فیصلوں کا بیان

3575Sunan Abu Dawood

قاضی اگر فیصلہ میں غلطی کردے تو اس کا بیان

حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا مُلَازِمُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ نَجْدَةَ، عَنْ جَدِّهِ يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَهُوَ أَبُو كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ طَلَبَ قَضَاءَ الْمُسْلِمِينَ حَتَّى يَنَالَهُ، ثُمَّ غَلَبَ عَدْلُهُ جَوْرَهُ فَلَهُ الْجَنَّةُ، وَمَنْ غَلَبَ جَوْرُهُ عَدْلَهُ فَلَهُ النَّارُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو شخص مسلمانوں کے منصب قضاء کی درخواست کرے یہاں تک کہ وہ اسے پالے پھر اس کے ظلم پر اس کا عدل غالب آجائے تو اس کے لیے جنت ہے، اور جس کا ظلم اس کے عدل پر غالب آجائے تو اس کے لیے جہنم ہے ۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: If anyone seeks the office of judge among Muslims till he gets it and his justice prevails over his tyranny, he will go to Paradise; but the man whose tyranny prevails over his justice will go to Hell.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٤٨٤٥) (ضعیف) ( اس کے راوی موسیٰ بن نجدہ مجہول ہیں )