Topic 273 of 300

وقوف عرفات کا مسنون طریقہ

زوال آفتاب کے بعد سے غروب آفتاب تک پورے میدان عرفات میں جہاں چاہے وقوف کر سکتا ہے مگر افضل یہ ہے کہ جبلِ رحمت جو عرفات کا مشہور پہاڑ ہے اس کے قریب جس جگہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا موقف ہے اس جگہ وقوف کر ے ، بالکل اس جگہ نہ ہو تو جس قدر اس کے قریب ہو بہتر ہٍے ، لیکن اگر جبل رحمت کے پاس جانے میں دشواری ہو یا واپسی کے وقت اپنا خیمہ تلاش کرنا مشکل ہو جیساکہ آجکل عموما پیش آتا ہے، تو اپنے خیمے میں ہی وقوف کرے ، خود کو تکلیف میں نہ ڈالے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ پورے عرفات میں کہیں بھی وقوف کیا جاسکتا ہے ۔ افضل اور اعلی تو یہ ہے کہ قبلہ رخ کھڑا ہو کر مغرب تک وقوف کرے اور ہاتھ اٹھا کر دعائیں کرتا رہے ، اگر پورے وقت کھڑا نہ ہو سکے تو جس قدر کھڑا ہو سکتا ہو کھڑا رہے پھر بیٹھ جائے پھر جب قوت ہو کھڑا ہو جائے ، اور پورے وقت میں خشوع و خضوع اورگریہ و زاری کے ساتھ ذکر اللہ ، تلاوت اور درود شریف و استغفار میں مشغول رہے اور تھوڑی تھوڑی دیر میں تلبیہ پڑھتا رہے اور دینی اور دنیوی مقاصد کے لئے اپنے واسطے اور اپنے متعلقین و احباب کے واسطے خاص کر ان لوگوں کیلئے جنہوں نے دعاؤں کی درخواست کی ہو اور تمام مسلمانوں کے واسطے دعائیں مانگتا رہے ، یہ وقت مقبولیت دعاء کا خاص وقت ہے اس دن بلاضرورت آپس کی جائز گفتگو سے بھی پرہیز کرے ، پورے وقت کو دعا ؤں اور ذکر اللہ میں صرف کرے ۔