إِذْ قَالَ يُوسُفُ لِأَبِيهِ يَا أَبَتِ إِنِّي رَأَيْتُ أَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ رَأَيْتُهُمْ لِي سَاجِدِينَ ﴿٤﴾ قَالَ يَا بُنَيَّ لَا تَقْصُصْ رُؤْيَاكَ عَلَىٰ إِخْوَتِكَ فَيَكِيدُوا لَكَ كَيْدًا ۖ إِنَّ الشَّيْطَانَ لِلْإِنسَانِ عَدُوٌّ مُّبِينٌ ﴿٥﴾ وَكَذَٰلِكَ يَجْتَبِيكَ رَبُّكَ وَيُعَلِّمُكَ مِن تَأْوِيلِ الْأَحَادِيثِ وَيُتِمُّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكَ وَعَلَىٰ آلِ يَعْقُوبَ كَمَا أَتَمَّهَا عَلَىٰ أَبَوَيْكَ مِن قَبْلُ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْحَاقَ ۚ إِنَّ رَبَّكَ عَلِيمٌ حَكِيمٌ ﴿٦﴾ لَّقَدْ كَانَ فِي يُوسُفَ وَإِخْوَتِهِ آيَاتٌ لِّلسَّائِلِينَ ﴿٧﴾ إِذْ قَالُوا لَيُوسُفُ وَأَخُوهُ أَحَبُّ إِلَىٰ أَبِينَا مِنَّا وَنَحْنُ عُصْبَةٌ إِنَّ أَبَانَا لَفِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ ﴿٨﴾ اقْتُلُوا يُوسُفَ أَوِ اطْرَحُوهُ أَرْضًا يَخْلُ لَكُمْ وَجْهُ أَبِيكُمْ وَتَكُونُوا مِن بَعْدِهِ قَوْمًا صَالِحِينَ ﴿٩﴾
When Joseph said to his father, "O my father, indeed I have seen [in a dream] eleven stars and the sun and the moon; I saw them prostrating to me." (12:4) He said, "O my son, do not relate your vision to your brothers or they will contrive against you a plan. Indeed Satan, to man, is a clear enemy." (12:5) And thus will your Lord choose you and teach you the interpretation of narratives and complete His favor upon you and upon the family of Jacob, as He completed it upon your fathers before, Abraham and Isaac. Indeed, your Lord is Knowing and Wise." (12:6) Certainly were there in Joseph and his brothers signs for those who ask, (12:7) When they said, "Joseph and his brother are more beloved to our father than we, while we are a clan. Indeed, our father is in clear error. (12:8) Kill Joseph or cast him out to [another] land; the countenance of your father will [then] be only for you, and you will be after that a righteous people." (12:9)
جب یوسف نے اپنے والد (یعقوب) سے کہا اباجان ! میں نے خواب میں دیکھا ہے گیارہ ستاروں اور سورج اور چاند کو میں نے ان کو دیکھا ہے کہ وہ مجھے سجدہ کر رہے ہیں(۴) یعقوب نے فرمایا : اے میرے پیارے بیٹے ! اپنا یہ خواب اپنے بھائیوں کے سامنے بیان نہ کرنا ورنہ وہ تمہارے خلاف کوئی سازش کریں گے یقیناً شیطان تو انسان کا کھلا دشمن ہے(۵)اور اسی طرح تمہارا رب تمہیں منتخب کرے گا اور تمہیں سکھائے گا تاویل الاحادیث میں سے (علم) اور اتمام فرمائے گا اپنی نعمت کا تجھ پر اور آل یعقوب پر جس طرح اس نے اس سے پہلے اپنی نعمت کا اتمام فرمایا تیرے آباء واجداد ابراہیم اور اسحاق ؑ پر یقیناً تیرا رب جاننے والا حکمت والا ہے(۶)یقیناً یوسف اور آپ ؑ کے بھائیوں (کے قصے) میں (بہت سی) نشانیاں ہیں پوچھنے والوں کے لیے(۷)جب انہوں نے کہا کہ یوسف اور اس کا بھائی ہمارے والد کو ہم سے زیادہ محبوب ہیں جبکہ ہم ایک طاقتور جماعت ہیں یقیناً ہمارے والد صریح غلطی پر ہیں(۸)(چنانچہ) قتل کر دو یوسف کو یا اسے پھینک آؤ (دور) کسی علاقے میں تاکہ تمہارے والد کی توجہ صرف تمہاری طرف ہوجائے اور پھر اس کے بعد نیک بن جانا(۹)
Surah Yusuf (12:4-9)