شام کےمسنون اَذکار

38 adhkar

  1. 1

    بیش بہا اجر و ثواب

    اللهُ أَكْبَرُ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ سُبْحَانَ اللهِ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ

    اللہ سب سے بڑا ہے سب تعریف اللہ ہی کے لئے ہے۔ اللہ پاک ہے۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔

    Virtue

    حضرت ابو امامہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا میرے نزدیک طلوع آفتاب کے وقت اللہ کا ذکر کرنا اللہ اکبر الحمد لللہ لا الہ الا اللہ اور سبحان اللہ کہنا اولاد اسماعیل (علیہ السلام) میں سے چار غلام آزاد کرنے سے زیادہ بہتر ہے اسی طرح نماز عصر سے غروب آفتاب تک اللہ کا ذکر کرنا میرے نزدیک اولاد اسماعیل (علیہ السلام) میں سے اتنے اتنے غلام آزاد کرنے سے زیادہ بہتر ہے۔ (مسند احمد 22194)

  2. 2

    پورا دن شیاطین سے حفاظت

    اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ اَلْحَیُّ الْقَیُّوْمُ١ۚ۬ لَا تَاْخُذُهٗ سِنَةٌ وَّ لَا نَوْمٌ١ؕ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ مَنْ ذَا الَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا بِاِذْنِهٖ١ؕ یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ١ۚ وَ لَا یُحِیْطُوْنَ بِشَیْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖۤ اِلَّا بِمَا شَآءَ١ۚ وَسِعَ كُرْسِیُّهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ١ۚ وَ لَا یَئُوْدُهٗ حِفْظُهُمَا١ۚ وَ هُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ

    ترجمہ: اللہ وہ ذات ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ،ہمیشہ زندہ رہنے والا ہے ، تمام مخلوق کا سنبھالنے والا ہے، نہ اس کو اونگھ دبا سکتی ہے اور نہ نیند(دبا سکتی ہے) اسی کے مملوک ہیں سب جو کچھ بھی آسمانوں میں (موجودات) ہیں اور جو کچھ زمین میں ہیں، ایسا کون شخص ہے جو اس کے پاس (کسی کی) سفارش کر سکے بدون اس کی اجازت کے، وہ جانتا ہے ان (موجودات) کے تمام حاضر اور غائب حالات کو اور وہ موجودات اس کے معلومات سے کسی چیز کو اپنے علم کے احاطہ میں نہیں لا سکتے، مگر جس قدر (علم دینا) وہی چاہے، اس کی کرسی (اتنی بڑی ہےکہ اس ) نے سب آسمان اور زمین کو اپنے اندر لے رکھا ہے اور اللہ تعالىٰ کو ان دونوں (آسمان اور زمین) کی حفاظت کچھ مشکل نہیں گزرتی، اور وہ ہی عالیشان اور عظیم الشان ہے۔ (بیان القرآن)

    Virtue

    جو کوئی اسے رات کو پڑھے وہ صبح تک جنات اور شیاطین سے پناہ میں رہے گا اور جو صبح کو پڑھے وہ رات تک جنات اور شیاطین سے پناہ میں رہے گا۔ (المعجم الکبیر للطبرانی 542)

  3. 3

    ہر چیز سے کفایت

    (تین مرتبہ)

    بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚ ۞ اَللّٰهُ الصَّمَدُۚ ۞ لَمْ یَلِدْ١ۙ۬ وَ لَمْ یُوْلَدْۙ ۞ وَ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ كُفُوًا اَحَدٌ۠ ۞ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِۙ ۞ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَۙ ۞ وَ مِنْ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَۙ ۞ وَ مِنْ شَرِّ النَّفّٰثٰتِ فِی الْعُقَدِۙ ۞ وَ مِنْ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ۠ ۞ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِۙ ۞ مَلِكِ النَّاسِۙ ۞ اِلٰهِ النَّاسِۙ ۞ مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ١ۙ۬ الْخَنَّاسِ۪ۙ ۞ الَّذِیْ یُوَسْوِسُ فِیْ صُدُوْرِ النَّاسِۙ ۞ مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ۠ ۞

    قرآن کریم کی آخری تین سورتیں جن کو معَوِّذات بھی کہا جاتا ہےیعنی ”سورۃ الاِخلاص ،سورۃ الفلق اور سورۃ النّاس“ فائدہ:مذکورہ تینوں سورتوں کی فضیلت حدیث میں یہ ذکر کی گئی ہے: ”تَكْفِيْكَ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ“ یعنی تمہارے لئے ہر قسم کی چیزوں سے کفایت ہوجائے گی۔(ابوداؤد:5082)

  4. 4

    میزان میں بھاری کلمات

    (تین مرتبہ)

    سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ، عَدَدَ خَلْقِهِ وَرِضَا نَفْسِهِ وَزِنَةَ عَرْشِهِ وَمِدَادَ كَلِمَاتِهِ

    ترجمہ:پاک ہے اللہ کی ذات اور اُسی کیلئے ساری تعریف ہے،اُس کی مخلوق کی تعداد کے برابر،اُس کی ذات کی خوشنودی کے برابر،اُس کے عرش کے وزن کے برابر،اور اُس کےکلمات ( صفات) کی سیاہی کے برابر۔

    Virtue

    فائدہ:اُمّ المؤمنین حضرت جُویریہ (رض) فرماتی ہیں کہ ایک دفعہ نبی کریم ﷺ اُن کے پاس سے صبح سویرے نماز کیلئے تشریف لے گئے اور وہ مُصلّے پر بیٹھی ہوئی تھیں ،پھر سورج کے نکلنے اور روشن ہوجانے کے بعد تشریف لائے تو دیکھا کہ میں ابھی تک مُصلّےپر بیٹھی ہوئی ہوں،آپ ﷺ نے فرمایا تم ابھی تک اُسی طرح بیٹھی ہوئی ہو؟ میں نے کہا : جی ہاں!آپ ﷺ نے اِرشاد فرمایا:میں نے تمہارے پاس سے جانے کے بعد (مذکورہ بالا)چار کلمات تین مرتبہ کہے ہیں اگر اُن کو تمہارے آج کے تمام اَذکار کے مقابلے میں وزن کیا جائے تو وہ کلمات بھاری ہوجائیں گے۔(مسلم:2726)

  5. 5

    ناگہانی آفات اور نقصان سے بچاؤ

    (تین مرتبہ)

    بِسْمِ اللهِ الَّذِيْ لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ فِي الأَرْضِ وَ لَا فِي السَّمَاءِ ، وَهُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ

    ترجمہ: اللہ کے نام سے ابتداء کرتا ہوں جس کے نام کے ساتھ کوئی چیز زمین و آسمان میں نقصان نہیں پہنچاسکتی ، اور وہ سننے والا اور جاننے والا ہے۔

    Virtue

    فائدہ:اِن کلمات کے پڑھنے والے کے بارے میں حدیث میں یہ فضیلت بیا ن کی گئی ہےکہ ”لَمْ يَضُرَّهُ شَيْءٌ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ أَوْ فِي تِلْكَ اللَّيْلَةِ“ اُسے اُس دن یا اُس رات کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔(مسند احمد:474) ایک روایت میں ہے”لَمْ تُصِبْهُ فَجْأَةُ بَلَاءٍ حَتَّى يُصْبِحَ“ صبح ہونے تک اُسے کوئی ناگہانی آفت کا سامنا نہیں ہوگا۔(ابوداؤد:5088)

  6. 6

    اللہ تعالیٰ کی معیت

    اَللّٰهُمَّ بِكَ أَمْسَيْنَا وَبِكَ أَصْبَحْنَا وَبِكَ نَحْيَا وَبِكَ نَمُوتُ وَإِلَيْكَ النُّشُوْرُ

    ترجمہ:اے اللہ ! تیرے نام ہی سے ہم نے شام کی اور تیرے ہی نام سے ہم نے صبح کی ، تیرے ہی نام سے ہم جیتے ہیں اور تیرے ہی نام سے ہم مرتے ہیں اور تیری ہی جانب ہمیں لوٹ کر آنا ہے۔

    Virtue

    فائدہ:نبی کریم ﷺ شام کو یہ دعاء پڑھا کرتے تھے۔(ترمذی:3391)

  7. 7

    اخلاص اور دینِ فطرت پر استقامت

    أَمْسَيْنَا عَلىٰ فِطْرَةِ الْإِسْلَامِ وَكَلِمَةِ الْإِخْلَاصِ، وَعَلىٰ دِيْنِ نَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَلىٰ مِلَّةِ أَبِيْنَا إِبْرَاهِيْمَ حَنِيْفًا مُّسْلِمًا، وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ

    ترجمہ: ہم نے شام کی اِسلام کی فطرت اور اِخلاص کے کلمہ پر اور اپنے نبی حضرت محمّد ﷺ کے دین پر اور اپنے والد حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ملّت پر جو سیدھے سادے مسلمان تھے اور وہ کبھی شرک کرنے والوں میں نہ تھے۔

    Virtue

    فائدہ:نبی کریم ﷺ شام کو یہ دُعاء پڑھا کرتے تھے۔(سنن کبریٰ نسائی:9745)

  8. 8

    نفس اور شیطان کے شر سے پناہ

    اَللّٰهُمَّ فَاطِرَ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، رَبَّ كُلِّ شَيْءٍ وَّمَلِيْكَهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ، أَعُوْذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِي، وَشَرِّ الشَّيْطَانِ وَشِرْكِهِ

    ترجمہ:اے اللہ!اے آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والے،غیب و حاضر کی تمام باتوں کو جاننے والے،ہر چیز کےپروردگار اور مالک! میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں ،میں تیری پناہ میں آتا ہوں اپنے نفس کے شر سے اور شیطان کے شر اور اُس کے شرک(میں مبتلاء کرنے)سے۔

    Virtue

    فائدہ:یہ وہ مبارک دعاء کے کلمات ہیں جونبی کریم ﷺ نےصبح ، شام اور بستر پر جاتے ہوئے پڑھنے کی تلقین کی ہے۔(ابوداؤد:5067)

  9. 9

    پوری رات کی خیر و بھلائی کی دعا

    أَمْسَيْنَا وَأَمْسَى الْمُلْكُ لِلّٰهِ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ وَلَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيْكَ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ أَسْأَلُكَ خَيْرَ مَا فِي هٰذِهِ اللَّيْلَةِ وَخَيْرَ مَا بَعْدَهَا، وَأَعُوْذُ بِكَ مِنْ شَرِّ هٰذِهِ اللَّيْلَةِ وَشَرِّ مَا بَعْدَهَا وَ أَعُوْذُ بِكَ مِنَ الكَسَلِ وَ سُوْءِ الْكِبَرِ وَ أَعُوْذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ النَّارِ وَعَذَابِ القَبْرِ

    ترجمہ:ہم نے اور ساری سلطنت نے اللہ کیلئے شام کی اور اللہ کیلئے ساری تعریفیں ہیں اور اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ،وہ اکیلا ہے ،اُس کا کوئی شریک نہیں ، اُسی کیلئے بادشاہت ہے اور اُسی کیلئے ساری تعریف ہے،اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے ،اے اللہ ! میں تجھ سے اِس رات کی اور اِس کے بعد کی خیر و بھلائی کا سوال کرتا ہوں اور میں اِس دن اور اس کے بعد کے شر سےتیری پناہ چاہتا ہوں، اور میں سستی ،بُرے بڑھاپے سےتیری پناہ چاہتاہوں اور میں جہنم کے اور قبر کے عذاب سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔

    Virtue

    فائدہ:نبی کریم ﷺ شام کو یہ دُعاء پڑھا کرتے تھے۔(ترمذی:3390) اِسی سے ملتی جلتی ایک اور بھی دُعاء حدیث میں نقل کی گئی ہے : ” أَمْسَيْنَا وَأَمْسَى الْمُلْكُ لِلّٰهِ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ ، كُلُّهُ لِلّٰهِ ، أَعُوذُ بِاللهِ الَّذِيْ يُمْسِكُ السَّمَاءَ أَنْ تَقَعَ عَلَى الْأَرْضِ إِلَّا بِإِذْنِهِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ وَ ذَرَأَ، وَمِنْ شَرِّ الشَّيْطَانِ وَشِرْكِهِ“ ترجمہ:ہم نے اور ساری سلطنت نے اللہ کیلئے شام کی اور اللہ کیلئے ساری تعریفیں ہیں،ساری کی ساری تعریفیں صرف اللہ ہی کیلئے ہیں، میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں جس نے آسمان کو زمین پر اپنے حکم کے بغیرگرنے سے روک رکھا ہے،اُن تمام چیزوں کے شر سے جس کو اللہ نے پیدا کیا اور پھیلایا، اور شیطان کے شر سے اور اُس کے شرک(میں مبتلاء کرنے)سے۔ فائدہ:جس نے مذکورہ کلمات شام کو تین مرتبہ کہے وہ صبح تک ہر طرح کے شیطان،کاہن اور ساحر سے محفوظ رہے گا۔(عمل الیوم و اللیلۃ لابن السنی:67)

  10. 10

    اللہ کی رضا اور جنت کا پروانہ

    (تین مرتبہ)

    رَضِيْتُ بِاللهِ رَبًّا وَّ بِالْإِسْلَامِ دِيْنًا وَّ بِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيًّا

    ترجمہ: میں اللہ کے پروردگار ہونے پر ،اِسلام کے دین ہونے پر اور حضرت محمد ﷺ کے نبی ہونے پر راضی ہوں۔

    Virtue

    فائدہ:”كَانَ حَقًّا عَلَى اللهِ أَنْ يُرْضِيَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ“ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے ذمّہ لے لیا ہے کہ قیامت کے دن اُسے راضی کردیں گے۔(مسند احمد:18967) ایک روایت میں ہے”مَنْ قَالَهُنَّ دَخَلَ الْجَنَّةَ“ جس نے یہ تین کلمات کہے وہ جنّت میں داخل ہوگا۔(مسند احمد:11102) ایک اور روایت میں اِس کلمہ کو پڑھنے والے کے بارے میں فرمایا: ”ذَاقَ طَعْمَ الْإِيْمَانِ“ یعنی اُسے ایمان کا ذائقہ نصیب ہوگا۔(مسلم:34)

  11. 11

    بدنی عافیت کی دعا اور کفروفقر سے حفاظت

    (تین مرتبہ)

    اَللّٰهُمَّ عَافِنِيْ فِي بَدَنِيْ، اَللّٰهُمَّ عَافِنِيْ فِي سَمْعِيْ، اَللّٰهُمَّ عَافِنِيْ فِي بَصَرِيْ، لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوْذُ بِكَ مِنَ الْكُفْرِ وَالْفَقْرِ، اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوْذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ

    ترجمہ:اے اللہ !میرے جسم میں عافیت نصیب فرما۔اے اللہ !میرےکانوں میں عافیت نصیب فرما۔اے اللہ !میری آنکھ میں عافیت نصیب فرما۔تیرے سوا کوئی معبود نہیں ۔اے اللہ! کفر میں مبتلاء ہونے اور فقر کا شکار ہونے سےمیں تیری پناہ چاہتا ہوں، اے اللہ! میں قبر کے عذاب سے تیری پناہ چاہتا ہوں،تیرےسوا کوئی معبود نہیں۔

    Virtue

    فائدہ:نبی کریم ﷺ صبح شام اِس دُعاء کو پڑھا کرتے تھے۔(ابوداؤد:5090)

  12. 12

    تمام احوال کی اصلاح

    يَا حَيُّ يَا قَيُّوْمُ بِرَحْمَتِكَ أَسْتَغِيْثُ ، أَصْلِحْ لِيْ شَأْنِي كُلَّهُ ، وَلَا تَكِلْنِيْ إِلىٰ نَفْسِيْ طَرَفَةَ عَيْنٍ

    ترجمہ: اے وہ ذات جو سدا زندہ ہے اور ساری کائنات سنبھالے ہوئے ہے!میں تیری رحمت ہی سے فریاد طلب کرتا ہوں ،میرے تمام اَحوال کی اِصلاح فرما اور ایک پلک جھپکنے کے برابر بھی مجھے میرےنفس کے حوالہ نہ فرما۔

    Virtue

    فائدہ: نبی کریم ﷺ نے اپنی بیٹی حضرت فاطمہ (رض) کویہ کلمات سکھائے تھے اور اُنہیں اِن کلمات کو صبح شام پڑھنے کی وصیت کی تھی۔(مستدرکِ حاکم:2000) حضرت انس﷜فرماتے ہیں کہ ہم (فجر کی نماز کے بعد)نبی کریم ﷺ کے ساتھ مسجد میں تھے یہاں تک کہ سورج طلوع ہوگیا ، ہم آپ ﷺ کے ساتھ نکلے،آپ ﷺ نے حضرت فاطمہ (رض) کے پاس تشریف لے گئے تو دیکھا وہ سورہی ہیں ،آپ ﷺ نے اِرشاد فرمایا:”مَا يُنِيْمُكِ فِيْ هٰذِهِ السَّاعَةِ؟“ اِس وقت کیوں سورہی ہو؟ اُنہوں نے فرمایا: یا رسول اللہ! مجھے کل رات سے بخار ہے،آپ ﷺ نےارشاد فرمایا: وہ دُعا ء کیوں نہیں پڑھی جو میں نے سکھائی تھی ؟حضرت فاطمہ (رض) نے فرمایا : میں بھول گئی ہوں، آپ ﷺ نے اُنہیں اِن کلمات کی تلقین فرمائی ۔(طبرانی اوسط:3565) ایک روایت میں ہے کہ نبی کریم ﷺ کو جب کوئی تکلیف پیش آتی تو آپ یہ کلمہ پڑھا کرتے تھے:”يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ بِرَحْمَتِكَ أَسْتَغِيثُ“ اے وہ ذات جو سدا زندہ ہے اور ساری کائنات سنبھالے ہوئے ہے!تیری رحمت ہی سے فریاد طلب کرتا ہوں ۔(ترمذی:3524)

  13. 13

    جنت اور شہادت کا پروانہ

    اَللّٰهُمَّ أَنْتَ رَبِّي لاَ إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ، خَلَقْتَنِيْ وَأَنَا عَبْدُكَ ، وَأَنَا عَلٰى عَهْدِكَ وَ وَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ ، أَبُوْءُ لَكَ بِنِعْمَتِكَ عَلَيَّ ، وَ أَبُوْءُ لَكَ بِذَنْبِيْ فَاغْفِرْ لِيْ ، فَإِنَّهُ لاَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ

    ترجمہ: اے اللہ ! آپ ہی میرے پالنہار ہیں ، آپ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے۔ آپ ہی نے مجھے پیدا کیا اور میں آپ کا حقیقی غلام ہوں ، اور جہاں تک میرے بس میں ہے مَیں آپ سے کئے ہوئے عہد اور وعدے پر قائم ہوں ، آپ کی پناہ چاہتا ہوں ان تمام بُرے کاموں کے وبال سے جو مَیں نے کئے ہیں، میں آپ کے سامنے آپ کی ان نعمتوں کا اقرار کرتا ہوں جو مجھ پر ہیں ، اور مجھے اعتراف ہے اپنے گناہ کا، اس لئے میرے گناہوں کو معاف کر دیجئے، کیونکہ آپ کے سوا کوئی گناہوں کو نہیں بخشتا۔

    Virtue

    فائدہ: یہ سیّد الاِستغفار کے کلمات ہیں، جسےحدیث کے اندر صبح شام پڑھنے کی تلقین کی گئی ہے اور اِس کی فضیلت حدیث میں یہ ذکر کی گئی ہے: فائدہ: ”مَنْ قَالَهَا مِنَ اللَّيْلِ وَهُوَ مُوقِنٌ بِهَا، فَمَاتَ قَبْلَ أَنْ يُصْبِحَ، فَهُوَ مِنْ أَهْلِ الجَنَّةِ“ جس نے پورے یقین کے ساتھ رات کو پڑھا اورصبح ہونے سے پہلے اُس کی موت آگئی وہ اہلِ جنّت میں سے ہے۔(بخاری:6306) ایک روایت میں ہے :”إِنْ مَاتَ مِنْ لَيْلَتِهِ مَاتَ شَهِيدًا“ اِن کلمات کو کہنے والا اُس رات کو مرگیا تو شہادت کی موت مرے گا۔(عمل الیوم و اللیلۃ:43)

  14. 14

    ہر طرح کی عافیت کی دعا

    اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، اَللّٰهُمَّ أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي دِيْنِيْ وَ دُنْيَايَ وَأَهْلِي وَمَالِيْ، اَللّٰهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِي، وَآمِنْ رَوْعَاتِي، وَاحْفَظْنِيْ مِنْم بَيْنِ يَدَيَّ، وَمِنْ خَلْفِي، وَعَنْ يَمِيْنِيْ، وَعَنْ شِمَالِيْ، وَمِنْ فَوْقِيْ، وَ أَعُوذُ بِعَظَمَتِكَ أَنْ أُغْتَالَ مِنْ تَحْتِي

    ترجمہ:اے اللہ! میں تجھ سے دنیا و آخرت میں عفو و درگزر اور عافیت کا سوال کرتا ہوں،اے اللہ! میں تجھ سے اپنے دین ، دنیا ،اہل اور مال میں عفو و درگزر اور عافیت کا سوال کرتاہوں۔اے اللہ! میرے عیوب کی پردہ پوشی فرما،میرے خوف کو اَمن میں تبدیل فرما اور حفاظت فرمامیرے سامنےسے،میرے پیچھے سے،میرے دائیں جانب سے اور میری بائیں جانب سے اور میرے اوپر سے ، اور میں تیری عظمت کی پناہ چاہتا ہوں اِس بات سے کہ میں اپنے نیچے کی جانب سے ہلاک کیا جاؤں۔

    Virtue

    فائدہ:اِن مذکورہ کلمات کا صبح و شام اہتمام کرنا چاہیئے،حدیث میں آتا ہے:نبی کریم ﷺ صبح شام اِن کلمات کو کبھی ترک نہیں فرمایا کرتے تھے۔(ابن ماجہ:3871)

  15. 15

    ہر قسم کے نقصان سے حفاظت

    أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ

    ترجمہ:میں اللہ تعالیٰ کے تمام کلمات (یعنی اَسماء و صفات) کی پناہ میں آتا ہوں اُس کی پیدا کردہ تمام چیزوں کے شر سے۔

    Virtue

    فائدہ:اِن کلمات کے پڑھنے والے کوکوئی مُوذی چیز نہیں کاٹے گی۔(ترمذی:3604) نبی کریم ﷺکے پاس ایک شخص کو لایا گیا گیا جسے بچھو نے کاٹ لیا تھا ،آپ ﷺنے فرمایا اگر یہ مذکورہ کلمات پڑھ لیتا تو اِسے بچھو نقصان نہیں پہنچاتا ۔(ابوداؤد:3899) حدیث کے راوی حضرت سہیل بن صالح (رض) فرماتے ہیں : ہمارے گھر والوں نے یہ کلمات سیکھ لیے تھے اور روزانہ پڑھتے تھے،ایک دفعہ گھر میں کسی باندی کو بچھو نے ڈس لیا تو اِن کلمات کے پڑھنے کی برکت سے اُسے کوئی درد اور تکلیف تک نہیں ہوئی ۔(ترمذی:3604) اگر کسی جگہ اتر کر مذکورہ کلمات پڑھ لیے جائیں تو وہاں سے کُوچ کرنے تک کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔(الدعوات الکبیر:470)

  16. 16

    سات عظیم فضیلتیں

    (دس مرتبہ)

    لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ، وَحْدَهُ لَا شَرِيْكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، يُحْيِيْ وَيُمِيْتُ، بِيَدِهِ الْخَيْرُ، وَهُوَ عَلىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ

    ترجمہ:اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ،وہ اکیلا ہے ،اُس کا کوئی شریک نہیں ،اُسی کیلئے بادشاہت ہےاور اُسی کیلئے تعریف ہے، ،وہی زندہ کرتا اور وہی موت دیتا ہے، اُسی کے ہاتھ میں ساری بھلائی ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

    Virtue

    فائدہ:جو شخص مغرب اور فجر کی نماز بعد رخ پھیرنے اور پاؤں موڑنے سے پہلے دس مرتبہ یہ کلمات پڑھ لےاُس کیلئے ہر کلمہ کے بدلہ میں دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں ، دس گناہ مٹادیے جاتے ہیں اور دس درجے بلند کیے جاتے ہیں اور یہ کلمات اُس کیلئےہر ناپسندیدہ چیز اور شیطانِ مردود سے بچاؤ کا ذریعہ بن جاتے ہیں اور شرک کے علاوہ کسی گناہ کی مجال نہیں ہوتی کہ اُس کو ہلاک کرڈالے ، اور وہ (کلمات پڑھنے والا )لوگوں میں عمل کے اعتبار سے سب سے افضل ہوتاہے، سوائے اُس شخص کے جو اُس سے آگے بڑھ جائے یعنی اُس سے زیادہ یہ کلمات کہے۔(مسند احمد :17990) خلاصہ یہ ہے کہ اِس کلمے کو دس مرتبہ پڑھنے سے سات عظیم فضیلتیں حاصل ہوتی ہیں : (1) سو نیکیاں ۔ (2) سو گناہ معاف ۔(3) سودرجات بلند۔ (4) ہر قسم کی آفات سے حفاظت۔ (5) شیطان مردود سے حفاظت۔ (6) سوائے شرک کے کوئی گناہ اُس کو ہلاک نہ کر سکے گا ۔(7) وہ اُس دن سب سے افضل عمل کرنے والا ہوگا ۔ سوائے اُس شخص کے جو اُس سے بھی زیادہ پڑھے۔

  17. 17

    جہنم سے آزادی کا پروانہ

    (سات مرتبہ)

    اَللّٰهُمَّ أَجِرْنِيْ مِنَ النَّارِ

    ترجمہ:اے اللہ مجھے آگ (جہنم )سے پناہ عطاء فرما۔

    Virtue

    فائدہ: فجر اور مغرب کی نماز کے بعد سات مرتبہ اِن کلمات کا کہنے والا اُس دن اگر مرجائے تو جہنم سے بری ہوجائےگا ۔(ابواداؤد:5079)

  18. 18

    اللہ کی نعمتوں کا شکر

    اَللّٰهُمَّ مَا أَمْسٰى بِيْ مِنْ نِّعْمَةٍ أَوْ بِأَحَدٍ مِّنْ خَلْقِكَ فَمِنْكَ وَحْدَكَ ، لَا شَرِيْكَ لَكَ ، فَلَكَ الْحَمْدُ وَلَكَ الشُّكْرُ

    ترجمہ: اے اللہ! جو بھی نعمت میرے پاس یا تیری مخلوق میں سے کسی کے پاس بھی شام کے وقت موجود ہے تو وہ صرف تنہا تیری ہی جانب سے ہے،(اُن میں)، تیرا کوئی شریک نہیں،پس تیرے لئے ہی ساری تعریف اور شکر ہے۔

    Virtue

    فائدہ:جس نے مذکورہ کلمات صبح اور شام پڑھ لیے تو اُس کی جانب سے اُس دن اوراُس رات کا شکر اداء ہوجائے گا۔(شعب الایمان:4059)(ابوداؤد:5073)

  19. 19

    گناہوں کی معافی کا پروانہ

    اَللّٰهُمَّ إِنِّيْ أَمْسَيْتُ أُشْهِدُكَ وَأُشْهِدُ حَمَلَةَ عَرْشِكَ وَ مَلَآئِكَتَكَ وَجَمِيْعَ خَلْقِكَ ، أَنَّكَ أَنْتَ اللهُ لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ وَحْدَكَ لَا شَرِيْكَ لَكَ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ

    ترجمہ: اے اللہ میں نے شام کی ،میں تجھے ،تیرے عرش کو اُٹھانے والے فرشتوں اور تمام فرشتوں کو اور تیری تمام مخلوقات کو اِس بات پر گواہ بناتا ہوں کہ بیشک تو ہی اللہ ہے ،تیرے سوا کوئی معبود نہیں ،تو اکیلا ہے،تیرا کوئی شریک نہیں ، اور (اِس بات پر گواہ بناتا ہوں کہ )حضرت محمّد ﷺ تیرے بندے اور تیرے رسُول ہیں ۔

    Virtue

    فائدہ: ”غُفِرَ لَهُ مَا أَصَابَ تِلْكَ اللَّيْلَةَ“ اِن کلمات کے پڑھنے والے کےاُس رات کے گناہ معاف ہوجائیں گے۔(ابواداؤد:5078) ”أَعْتَقَ اللهُ رُبُعَهُ مِنَ النَّارِ“ایک دفعہ کہنے پر چوتھائی جسم جہنم سے آزاد ہوجائے گا، اور چار مرتبہ کہنے سے مکمل جسم آزاد ہوجائے گا ۔(ابواداؤد:5069)

  20. 20

    سب سے افضل عمل

    (سو مرتبہ)

    سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ

    اللہ پاک ہے اور اسی کی تعریف ہے۔

    Virtue

    محمد بن عبدالملک اموی عبدالعزیز بن مختار سہیل بن سمی ابوصالح حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو آدمی صبح و شام سو مرتبہ (یہ دعا) پڑھتا ہے قیامت کے دن کوئی اس سے زیادہ افضل عمل نہیں لاسکتا سوائے اس کے جس نے اس کے برابر یا اس سے زیادہ پڑھا ہو۔ (صحیح مسلم 6843)

  21. 21

    اللہ کی نعمتوں کی تکمیل

    (تین مرتبہ)

    اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَمْسَيْتُ مِنْكَ فِي نِعْمَةٍ وَّعَافِيَةٍ وَّسِتْرٍ، فَأَتِمَّ عَلَيَّ نِعْمَتَكَ وَ عَافِيَتَكَ وَ سِتْرَكَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ

    ترجمہ: اے اللہ ! میں نے تیری جانب سے نعمت،عافیت اورپردہ پوشی کی حالت میں شام کی ، پس تو مجھ پر اپنی نعمت،عافیت اور پردہ پوشی کو دنیا و آخرت میں مکمل فرما۔

    Virtue

    فائدہ:شام کو تین مرتبہ پڑھنے والے کے بارے میں آپ ﷺ نے اِرشاد فرمایا: ”كَانَ حَقًّا عَلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُتِمَّ عَلَيْهِ نِعْمَتَهُ“ اللہ نے اپنے ذمّہ لازم کیا ہے کہ اُس کے اوپر اپنی نعمتیں مکمل فرمادیں گے۔(ابن سنی:55)

  22. 22

    بہترین رزق کی دعا

    مَا شَاءَ اللهُ ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ ، أَشْهَدُ أَنَّ اللهَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ

    ترجمہ: اللہ جو چاہے،گناہوں سے بچنے کی طاقت اور نیک کام کرنے کی قوّت صرف اللہ تعالیٰ ہی کی جانب سے ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔

    Virtue

    فائدہ: شام کے وقت مذکورہ کلمات پڑھنے والے کے بارے میں آپ ﷺ نے اِرشاد فرمایا:”رُزِقَ خَيْرَ تِلْكَ اللَّيْلَةِ وَصُرِفَ عَنْهُ شَرُّهَا“ یعنی اُسے اُس رات کا بہترین رزق عطاء کیا جائے گا اور اُس رات کے شرکو اُس سے دور کردیا جائےگا ۔(عمل الیوم و اللیلۃ لابن السنی:53)

  23. 23

    مغفرت کا پروانہ

    اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّيْ لَا أُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، وَأَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ

    ترجمہ:تمام تعریفیں اللہ ہی کیلئے ہیں جو میرا پروردگار ہے،میں اُس کے ساتھ کسی بھی چیز کو شریک نہیں ٹہراتا، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔

    Virtue

    فائدہ: مذکورہ کلمات شام کے وقت میں پڑھنے والے کے بارے میں آپ ﷺ نے اِرشاد فرمایا: ”بَاتَ يُغْفَرُ لَهُ ذُنُوبُهُ حَتَّى يُصْبِحَ“ یعنی وہ صبح ہونے تک رات بھر اِس حالت میں گزارتا ہے کہ اُس کی مغفرت کردی جاتی ہے۔(طبرانی کبیر:635)

  24. 24

    نظرِ بد سے حفاظت

    أَعُوْذُ بِكَلِمَاتِ اللهِ التَّامَّةِ مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَّهَامَّةٍ، وَّمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لَّامَّةٍ

    ترجمہ:میں اللہ تعالیٰ کے تمام کلمات (یعنی اَسماء و صفات) کی پناہ میں آتا ہوں ہر شیطان اور ڈسنے والے جانور سے اور ہر ملامت کرنے والی آنکھ سے۔

    Virtue

    فائدہ:مذکورہ کلمات نظرِ بد سے حفاظت کیلئے بہترین کلمات ہیں ،نبی کریم ﷺ حضرت حسن و حُسین (رض) کو مذکورہ کلمات کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی پناہ میں دیتے تھے، اور فرماتے تھے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی اپنے بیٹوں حضرت اسحاق اور حضرت اِسماعیل علیہ السلام کو اِنہی کلمات کے ذریعہ اللہ کی پناہ میں دیتے تھے۔(بخاری:3371)

  25. 25

    خوف و گھبراہٹ سے حفاظت

    أَعُوْذُ بِكَلِمَاتِ اللهِ التَّامَّاتِ مِنْ غَضَبِهِ وَعِقَابِهِ وَشَرِّ عِبَادِهِ ، وَمِنْ هَمَزَاتِ الشَّيَاطِيْنِ وَ أَنْ يَّحْضُرُونِ

    ترجمہ: میں اللہ تعالیٰ کے تمام کلمات (یعنی اَسماء و صفات) کی پناہ میں آتا ہوں اُس کے غضب وغصہ سےاوراس کے عذاب سے اور اس کےبندوں کے شرسے اورشیاطین کے وسوسوں سےاور اے میرے پروردگار میں تیری پناہ چاہتا ہوں اس سےکہ وہ (شیطان) میرےپاس بھی آئیں۔

    Virtue

    فائدہ : مذکورہ کلمات خوف و گھبراہٹ سے حفاظت اور اُس کیفیت کو دور کرنے کیلئے بڑے مفید اور بہترین ہیں ،نبی کریم ﷺ خوف و گھبراہٹ کی حالت میں اور بالخصوص نیند میں ڈرجانے اور خوف و گھبراہٹ کا شکار ہوجانے کی صورت میں اِن کلمات کو پڑھنے کی تلقین فرمایا کرتے تھے۔(ابوداؤد: 3893)(ترمذی:3528) حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص (رض) کے بارے میں آتا ہے کہ وہ اپنی بالغ اولاد کو اِن کلمات کے پڑھنے کی تلقین فرمایا کرتے تھے اور نابالغ کم سِن اولاد کے گلے میں یہ کلمات لکھ کر ڈال دیا کرتے تھے۔(ترمذی:3528)

  26. 26

    شیاطین و جنات سے حفاظت

    أَعُوْذُ بِكَلِمَاتِ اللهِ التَّامَّاتِ الَّتِي لَا يُجَاوِزُهُنَّ بَرٌّ وَّ لَا فَاجِرٌ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ، وَ ذَرَأَ وَ بَرَأَ، وَمِنْ شَرِّ مَا يَنْزِلُ مِنَ السَّمَاءِ ، وَمِنْ شَرِّ مَا يَعْرُجُ فِيهَا، وَمِنْ شَرِّ مَا ذَرَأَ فِي الْأَرْضِ، وَمِنْ شَرِّ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا، وَمِنْ شَرِّ فِتَنِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ، وَمِنْ شَرِّ كُلِّ طَارِقٍ إِلَّا طَارِقًا يَّطْرُقُ بِخَيْرٍ، يَّا رَحْمٰنُ

    ترجمہ: میں اللہ تعالیٰ کے تمام کلمات (یعنی اَسماء و صفات) کی پناہ میں آتا ہوں جن سے نہ کوئی نیک آگے بڑھ سکتا ہے نہ گناہ گار، ہراُس چیزکےشرسےجس کو اللہ نے پیدا کیا ، پھیلایا اور وجود دیا،اور ہر اُس چیز کے شر سے جوآسمان سے اترتی ہےاورجوآسمان پرچڑھتی ہےاورہر اس چیزکےشرسےجوزمین کےاندرپیداہوتی ہےاورجوزمین سے (پھوٹ کر) نکلتی ہےاوررات دن کےفتنوں کےشر سے اور رات دن کے (ناگہانی) واقعات اورحادثوں کےشرسے،بجز اس اچھے واقعہ کےجوخیر کولائے (کہ وہ تو سراسر رحمت ہے) اے بہت رحم کرنے والے۔

    Virtue

    فائدہ:حضرت جبریل علیہ السلام نےشیاطین و جنّات کے نقصان سے بچنے کیلئے مذکورہ کلمات نبی کریم ﷺ کو سکھائے تھے۔(مسند احمد:15461)

  27. 27

    جادو اور سحر سے حفاظت

    أَعُوذُ بِوَجْهِ اللهِ الْعَظِيْمِ الَّذِيْ لَيْسَ شَيْءٌ أَعْظَمَ مِنْهُ ، وَ بِكَلِمَاتِ اللهِ التَّامَّاتِ الَّتِيْ لاَ يُجَاوِزُهُنَّ بَرٌّ وَّ لاَ فَاجِرٌ، وَ بِأَسْمَاءِ اللهِ الْحُسْنٰى كُلِّهَا مَا عَلِمْتُ مِنْهَا وَمَا لَمْ أَعْلَمْ، مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ وَ ذَرَأَ وَ بَرَأَ

    ترجمہ:میں اللہ عظیم کی پناہ میں آتا ہوں جس سے کوئی چیز بڑی نہیں ، اور اُس کےتمام کلمات(یعنی اَسماء و صفات) کی پناہ میں آتا ہوں جن سے نہ کوئی نیک بچ سکتا ہے نہ بد، اور اللہ تعالیٰ کےتمام بہترین ناموں کی(پناہ میں آتا ہوں) جن کو میں جانتا ہوں اور جن کو میں نہیں جانتا، ہراُس چیزکےشرسےجس کو اللہ نے پیدا کیا ،پھیلایا اور وجود دیا۔

    Virtue

    فائدہ: مذکورہ کلمات جادو اور سحر کے اَثرات سے بچنے کیلئے بہت ہی مفید اور بہترین کلمات ہیں۔ حضرت کعب اَحبار (رض) اِن کلمات کو پڑھتے اور فرماتے تھے: ”لَوْلاَ كَلِمَاتٌ أَقُولُهُنَّ لَجَعَلَتْنِي يَهُودُ حِمَارًا“ اگر میں اِن مذکورہ کلمات کو نہ پڑھتا تو یہود(جادو کے ذریعہ) مجھے گدھا بنادیتے۔(مؤطا مالک:2002)

  28. 28

    شرک سے حفاظت

    (تین مرتبہ)

    اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوْذُ بِكَ أَنْ أُشْرِكَ بِكَ وَأَنَا أَعْلَمُ وَأَسْتَغْفِرُكَ لِمَا لَا أَعْلَمُ

    ترجمہ: اے اللہ میں تیری پناہ میں آتا ہوں اِس سے کہ میں جانتے بوجھتے ہوئے تیرے ساتھ کسی کو شریک ٹہراؤں اور میں تجھ سے مغفرت چاہتاہوں اُس (شرک) سے جس کو میں نہیں جانتا۔

    Virtue

    فائدہ: اِس اُمّت کے اندر چیونٹی کی آہٹ سے بھی زیادہ مخفی اور پوشیدہ شرک رکھا گیا ہے، اور اُس چھوٹے بڑے تمام طرح کے شرک سے بچنے کیلئے نبی کریم ﷺ نے مذکورہ کلمات تین مرتبہ روزانہ پڑھنے کی تلقین فرمائی ہے۔(مسند ابویعلیٰ موصلی:58)

  29. 29

    شیطان سے حفاظت

    (تین مرتبہ)

    أَعُوْذُ بِاللهِ السَّمِيْعِ العَلِيْمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ

    ترجمہ: میں شیطان مَردود سےاللہ تعالیٰ کی پناہ میں آتا ہوں جو سننے اور جاننے والا ہے ۔

    Virtue

    فائدہ:حدیث کے مطابق مذکورہ تعوّذ صبح کو پڑھنے والا شام تک شیطان سے محفوظ ہوجاتا ہے۔(عمل الیوم و اللیلۃ لابن السنی:49) اور اگر تعوّذ کے اِنہی کلمات کو تین مرتبہ پڑھنے کےبعد سورۃ الحشر کی آخری تین آیات یعنی ”هُوَ اللهُ الَّذِيْ لَا إِلٰهَ إِلَّا هُوَ عَالِمُ الْغَيْبِ“ سے سورت کے آخر تک پڑھ لی جائیں تو حدیث کے مطابق اگر صبح کے وقت پڑھا تو شام تک ستر ہزار فرشتے اُس کیلئے رحمت کی دُعاء کرتے رہتے ہیں اور اگر وہ اُس دن مرجائے تو شہادت کی موت مرتا ہے۔(ترمذی:2922)

  30. 30

    مصائب و حوادث سے حفاظت

    اَللّٰهُمَّ أَنْتَ رَبِّي، لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ، عَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ ، وَأَنْتَ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ، مَا شَاءَ اللهُ كَانَ، وَمَا لَمْ يَشَأْ لَمْ يَكُنْ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ، أَعْلَمُ أَنَّ اللهَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ، وَأَنَّ اللهَ قَدْ أَحَاطَ بِكُلِّ شَيْءٍ عِلْمًا ، اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوْذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِي، وَمِنْ شَرِّ كُلِّ دَابَّةٍ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا إِنَّ رَبِّي عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ

    ترجمہ:اے اللہ!تو میرا پروردگارہے،تیرے سوا کوئی معبود نہیں ،میں نے تجھ ہی پر بھروسہ کیا اور تو بزرگی والے عرش کا ربّ ہے،جو اللہ نے چاہا وہ ہوگیا اور جو نہیں چاہا نہیں ہوا،گناہوں سے بچنے کی طاقت اور نیک کام کرنے کی قوّت صرف اللہ ہی کی جانب سے ہے جو عظمت والا بلند و برتر ہے۔میں جانتا ہوں کہ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہےاور بیشک اللہ تعالیٰ نے علم کے اعتبار سے ہر چیز کا اِحاطہ کررکھا ہے۔اے اللہ میں آپ کی پناہ چاہتا ہوں اپنے نفس کے شر سے اور ہر اُس زمین پر چلنے والے جاندار کے شرّ سے جس کی پیشانی آپ کے قبضہ میں ہے، بیشک میرا ربّ سیدھی راہ پر ہے۔

    Virtue

    فائدہ: یہ دُعاءِ ابی درداء کے کلمات ہیں، جو مصائب و حوادث سے حفاظت کیلئے ایک بہترین دُعاء ہے ،صبح شام اِس کے پڑھنے کا اہتمام کرنا چاہیئے ،حدیث کے مطابق یہ کلمات اگر کوئی شام کے وقت پڑھ لے تو ”لَمْ تُصِبْهُ مُصِيْبَةٌ حَتَّى يُصْبِحَ“ یعنی صبح ہونے تک اُسے کوئی مصیبت نہ پہنچی گی۔(الدعاء للطبرانی:343) (ابن السنی:57)

  31. 31

    غم اور فکر سے حفاظت

    اَللّٰهُمَّ رَبَّ السَّمٰوَاتِ السَّبْعِ وَ رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، اِكْفِنِيْ كُلَّ مُهِمٍّ مِّنْ حَيْثُ شِئْتَ ، وَ كَيْفَ شِئْتَ، وَ مِنْ أَيْنَ شِئْتَ. حَسْبِيَ اللهُ لِدِيْنِيْ، حَسْبِيَ اللهُ لِدُنْيَايَ حَسْبِيَ اللهُ لِمَا أَهَمَّنِيْ، حَسْبِيَ اللهُ لِمَنْ بَغٰى عَلَيَّ، حَسْبِيَ اللهُ لِمَنْ حَسَدَنِيْ حَسْبِيَ اللهُ لِمَنْ كَادَنِيْ بِسُوْءٍ، حَسْبِيَ اللهُ عِنْدَ الْمَوْتِ، حَسْبِيَ اللهُ عِنْدَ الْمَسْأَلَةِ فِي الْقَبْرِ، حَسْبِيَ اللهُ عِنْدَ الْمِيْزَانِ، حَسْبِيَ اللهُ عِنْدَ الصِّرَاطِ، حَسْبِيَ اللهُ لَا إِلٰهَ إِلَّا هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ

    ترجمہ:اے اللہ !اے ساتوں آسمانوں اور عظیم عرش کے پروردگار!میرے ہر اہم کام کیلئے کافی ہوجاجس طرح تو چاہے،جس جگہ سے تو چاہے اورجہاں کہیں تو چاہے۔ اللہ میرے دین کیلئے کافی ہے، اللہ میری دنیاکیلئے کافی ہے،اللہ میری فکروں کیلئے کافی ہے،اللہ میری جانب سے اُس شخص کیلئے کافی ہے جو مجھ پر زیادتی کرے،اللہ میری جانب سے اُس شخص کیلئے کافی ہے جو مجھ سے حسد کرے،اللہ میری جانب سے اُس شخص کیلئے کافی ہے جو میرے خلاف بُری چال چلے،اللہ میرے لئے کافی ہے موت کے وقت،اللہ میرے لئے کافی ہےقبر میں(مُنکَر نکیر کے) سوال کے وقت،اللہ میرے لئے کافی ہےنامہ عمل تُلنے کے وقت،اللہ میرے لئے کافی ہےپُل صِراط(پر سے گزرنے)کے وقت، اللہ میرے لئے کافی ہے،اُس کے سوا کوئی معبود نہیں ،اُسی پر میں نے بھروسہ کیا اور وہ عرشِ عظیم کا مالک ہے۔

    Virtue

    فائدہ:اِس دُعاء کےابتدائی کلمات یعنی ”وَ مِنْ أَيْنَ شِئْتَ“ تک کے الفاظ کے بارے میں حدیث میں یہ فضیلت ذکر کی گئی ہے کہ جو یہ کلمات پڑھ لے اللہ تبارک و تعالیٰ اُس کے غم اور فکر کو دور کردیتے ہیں۔(مکارم الاخلاق للخرائطی:1037) اور”حَسْبِيَ اللهُ“سے آگے کےکلمات کی فضیلت حدیث میں یہ ذکر کی گئی ہےکہ: جو شخص نمازوں کے بالخصوص فجر کی نماز کے بعد مذکورہ کلمات پڑھ لے تو اللہ تبارک و تعالیٰ اُس کیلئے دنیا و آخرت کے وہ تمام مراحل جو اِس دُعاء میں ذکر کیے گئے ہیں اُن میں کافی ہوجاتے ہیں۔(نوادرالأصول ،حکیم ترمذی:2/274) (الدر المنثور:2/390)

  32. 32

    ہر کام میں کفایت

    (سات مرتبہ)

    حَسْبِيَ اللّٰهُ لَا إِلٰهَ إِلَّا هُوَ، عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيْمِ

    Virtue

    فائدہ:مذکورہ کلمات صبح شام پڑھنے والے کے بارے میں منقول ہے:”كَفَاهُ اللَّهُ مَا أَهَمَّهُ“ یعنی اُس کے ہر اہم کام کیلئے کفایت ہوجائے گی۔(ابوداؤد:5081)

  33. 33

    آفات سے حفاظت

    بِسْمِ اللهِ عَلٰى نَفْسِيْ وَدِيْنْي بِسْمِ اللهِ عَلٰى اَهْلِيْ وَ مَالِيْ وَ وَلَدِيْ بِسْمِ اللهِ عَلٰى مَا اَعطَانِيْ، اَللهُ اَللهُ رَبِّيْ لَا اُشْرِكُ بِهِ شَيْئاً اَللهُ أَكْبَرُ اَللهُ أَكْبَرُ اَللهُ أَكْبَرُ وَ أَعَزُّ وَ أَجَلُّ مِمَّا أَخَافُ وَ أَحْذَرُ عَزَّ جَارُكَ وَ جَلَّ ثَنَاؤُكَ وَ لَا اِلٰهَ غَيْرُكَ اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوْذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِيْ وَ مِنْ شَرِّ كُلِّ شَيْطَانٍ مَّرِيْدٍ وَ مِنْ شَرِّ كُلِّ جَبّارٍ عَنِيْدٍ ، فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبِيَ اللهُ لَا إِلٰهَ إِلَّا هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ إِنَّ وَلِيِّيَ اللهُ الَّذِيْ نَزَّلَ الْكِتَابَ وَهُوَ يَتَوَلَّى الصَّالِحِيْنَ

    ترجمہ:اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ میری جان اور دین کی حفاظت ہے،اللہ تعالیٰ ہی کے نام سے میرے اہل و مال اور اولاد کی حفاظت ہے،اللہ تعالیٰ ہی کے نام اُن سب نعمتوں کی حفاظت ہےجو میرے پروردگار نے مجھے عطاء فرمائی ہوئی ہیں ،اللہ تعالیٰ ہی میرا پروردگار ہے،میں اُس کے ساتھ کسی بھی چیز کو شریک نہیں کرتا ۔اللہ تعالیٰ سب سے بڑا ہے،اللہ تعالیٰ سب سے بڑا ہے،اللہ تعالیٰ سب سے بڑا ہے،اللہ تعالیٰ ہر اُس چیز پر غالب اور بلند مرتبہ ہےجس سے میں خوف کھاتا اور ڈرتا ہوں۔آپ کا پناہ دیا ہو امعزّز ہے اور آپ کی تعریف بلند ہے،آپ کے سوا کوئی معبود نہیں ۔ اے اللہ! میں آپ کی پناہ لیتا ہوں اپنے نفس کے شر سے ،اور سرکش شیطان کے شر سے اور ہر ظالم ،ضدی کے شر سے ۔پھر بھی اگر یہ لوگ منہ موڑیں تو (اے رسول!ان سے )کہہ دو کہ میرے لیے اللہ ہی کافی ہے،اس کے سوا کوئی معبود نہیں ،اُسی پر میں نے بھروسہ کیا ہے اور وہی عرشِ عظیم کا مالک ہے۔بےشک میرا پروردگار اللہ تعالیٰ ہےجس نے کتاب کو اُتارا اور وہی نیک لوگوں کا مددگار ہے۔

    Virtue

    فائدہ:یہ حفاظت کی ایک بہترین دُعاء ہےجس میں بہت ہی جامع اور خوبصورت انداز میں حفاظت کی دعائیں جمع کی گئی ہیں ، اور اس کا کچھ حصہ روایات میں بھی ہے ، مثلاً حدیث میں ہے :کسی شخص نےآپ ﷺ سے اپنے اوپر پیش آنے والی آفات کا تذکرہ کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ صبح کے وقت میں یہ کلمات:”بِسْمِ اللهِ عَلٰى نَفْسِي وَأَهْلِي وَمَالِي“پڑھ لیا کرو،اُس شخص نے اِن کلمات کا اہتمام کیا تو اُس کی آفات دور ہوگئیں۔(ابن سنی:51) اوریہی وہ کلمات ہیں جو نبی کریم ﷺ نےمعیشت کے تنگ ہونے پر گھر سے نکلتے ہوئے پڑھنے کی تعلیم دی ہے۔(ابن سنی:350) اس کے علاوہ دُعاء میں مذکورہ کلمات”اَللهُ اللهُ رَبِّيْ لَا اُشْرِكُ بِهِ شَيْئاً“ وہ مبارک کلمات ہیں جن کو نبی کریم ﷺ نےحضرت اَسماء بنت عُمیس (رض) کو مصیبت و پریشانی کے موقع پر پڑھنے کی تلقین فرمائی تھی۔(ابوداؤد:1525)

  34. 34

    صبح تک مامون و محفوظ

    رَبِّيَ اللهُ الَّذِيْ لَا إِلٰهَ إِلَّا هُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ، تَوَكَّلْتُ عَلَى اللهِ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيْمِ، مَا شَاءَ اللهُ كَانَ ، وَمَا لَمْ يَشَأْ لَمْ يَكُنْ، أَعْلَمُ أَنَّ اللهَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ وَّ أَنَّ اللهَ قَدْ أَحَاطَ بِكُلِّ شَيْءٍ عِلْمًا

    ترجمہ:میرا پروردگار اللہ ہے،جس کے سوا کوئی معبود نہیں ،وہ بلند و برتر اور عظمت والا ہے،اللہ پر ہی میں نے بھروسہ کیا اور وہ عرشِ عظیم کا مالک ہے،جو اللہ نے چاہا وہ ہوا اور جو اُس نے نہیں چاہا وہ نہیں ہوا،میں جانتا ہوں کہ اللہ ہرچیز پر قادر ہے،اور یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کا علم کے اعتبار سے اِحاطہ کررکھا ہے۔

    Virtue

    فائدہ:اِن کلمات کی فضیلت یہ ذکر کی گئی ہے کہ اِن کو صبح شام کہنے والا اُس دن مرجائے تو جنّت میں داخل ہوگا۔(عمل الیوم و اللیلۃ لابن السنی:42) اِسی سے ملتے جلتے الفاظ پر مشتمل ایک اور بھی دُعاء حدیث میں ذکر کی گئی ہے ،اُسے بھی پڑھ لینا چاہیئے: ”سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ، وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ ، مَا شَاءَ اللهُ كَانَ، وَمَا لَمْ يَشَأْ لَمْ يَكُنْ، أَعْلَمُ أَنَّ اللهَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، وَّ أَنَّ اللهَ قَدْ أَحَاطَ بِكُلِّ شَيْءٍ عِلْمًا“ ترجمہ:اللہ کی ذات پاک ہےاور تمام تعریفیں اُسی کیلئے ہے،اور قوّت صرف اللہ ہی کی جانب سے ہے،جو اللہ نے چاہا وہ ہوگیا اور جو اُس نے نہیں چاہا وہ نہیں ہوا،میں جانتا ہوں کہ اللہ ہرچیز پر قادر ہے،اور یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کا علم کے اعتبار سے اِحاطہ کررکھا ہے۔ فائدہ:”مَنْ قَالَهُنَّ حِينَ يُمْسِيَ،حُفِظَ حَتَّى يُصْبِحَ“ اِن کلمات کوشام کو کہنے والا صبح تک محفوظ و مأمون رہتا ہے۔(سنن کبریٰ نسائی:9756)

  35. 35

    جنت کا پروانہ

    (تین مرتبہ)

    اَللّٰهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ ، أَنْتَ رَبِّي ، وَ أَنَا عَبْدُكَ ، آمَنْتُ بِكَ مُخْلِصًا لَّكَ دِيْنِيْ ، أَمْسَيْتُ عَلٰى عَهْدِكَ وَ وَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ ، أَتُوبُ إِلَيْكَ مِنْ شَرِّ عَمَلِي، وَأَسْتَغْفِرُكَ لِذُنُوبِيْ الَّتِي لَا يَغْفِرُهَا إِلَّا أَنْتَ

    ترجمہ:اے اللہ! تیرے لئے ہی ساری تعریفیں ہیں ،تیرے سوا کوئی معبود نہیں ،تو میرا ربّ اور میں تیرا بندہ ہوں،میں تجھ پر اپنے دین کو خالص کرتے ہوئے ایمان لایا ،میں نے اپنی اِستطاعت کے مطابق تیرے عہد اور وعدہ کے(پورا کرنے کے) ساتھ شام کی ، میں تیری جانب رجوع کرتا ہوں اپنے عمل کے شر سے اور تجھ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگتا ہوں، وہ تمام گناہ جو تیرے سوا کوئی معاف نہیں کرسکتا ۔

    Virtue

    فائدہ: حضرت ابوامامہ (رض) فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کایہ اِرشاد نقل فرماتے ہیں:جس نے یہ مذکورہ بالا کلمات شام کے وقت تین مرتبہ پڑھے ،پھر اُس رات میں انتقال کرجائے تو وہ ضرور جنّت میں داخل ہوگا۔راوی کہتے ہیں کہ آپ ﷺ جتنا اِس پر قسم کھاتے تھے اِتنا کسی اور چیز پر قسم نہ کھاتے ، اور آپ ﷺ قسم کھاکر یہ فرماتے تھے :”وَإِنْ قَالَهَا حِينَ يُمْسِي فَتُوُفِّيَ فِي تِلْكَ اللَّيْلَةِ دَخَلَ الْجَنَّةَ“ اللہ کی قسم! اگر کوئی بندہ شام کے وقت یہ کلمات پڑھے اور پھر اُسی رات انتقال کرجائے تو وہ جنّت میں داخل ہوگا۔(طبرانی اوسط:3096)

  36. 36

    ساری مخلوقات کے شر سے حفاظت

    اَللّٰهُمَّ رَبَّ السَّمٰوَاتِ السَّبْعِ وَمَا أَظَلَّتْ ، وَرَبَّ الْأَرْضِيْنَ وَمَا أَقَلَّتْ ، وَرَبَّ الشَّيَاطِيْنِ وَمَا أَضَلَّتْ ، كُنْ لِّي جَارًا مِّنْ شَرِّ خَلْقِكَ كُلِّهِمْ جَمِيْعًا أَنْ يَّفْرُطَ عَلَيَّ أَحَدٌ مِّنْهُمْ أَوْ أَنْ يَّبْغِيَ ، عَزَّ جَارُكَ ، وَ جَلَّ ثَنَاؤُكَ ، وَ لَا إِلٰهَ غَيْرُكَ ، وَ لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ

    ترجمہ:اے اللہ! اے ساتوں آسمانوں اُن تمام چیزوں کے پروردگار جن پر وہ آسمان سایہ فگن ہیں ،اور اے زمینوں اور اُن تمام چیزوں کے پروردگار جنہیں اُن زمینوں نے اُٹھایا ہوا ہے، اور اے شیطانوں اور اُن تمام چیزوں کے پروردگار جنہیں اُن شیاطین نے گمراہ کیا ہے،تو مجھے اپنی ساری کی ساری مخلوقات کے شر سے پناہ دیدے اِس بات سے کہ اُن میں سے کوئی مجھ زیادتی یا ظلم کرے ،تیری پناہ غالب ہے،تیری تعریف بہت بڑی ہے اور تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں اور معبود صرف توہی ہے ۔

    Virtue

    فائدہ:یہ دُعاء نبی کریم ﷺ نے بستر پر جاتے ہوئے سونے سے پہلے پڑھنے کی تعلیم دی ہے۔ (ترمذی:3523)اور حفاظت کےاعتبار سے اِس کا معنی اتنا خوبصورت اور بہترین ہےکہ اگر صبح اور شام بھی یہ دُعاء پڑھ لی جائے تو بہت ہی خوب ہے۔

  37. 37

    تمام معمولات کی تلافی

    فَسُبْحَانَ اللهِ حِيْنَ تُمْسُوْنَ وَ حِيْنَ تُصْبِحُوْنَ وَ لَهُ الْحَمْدُ فِي السَّمٰوَاتِ وَ الْأَرْضِ وَ عَشِيًّا وَّ حِيْنَ تُظْهِرُوْنَ يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَ يُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ وَ يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَكَذٰلِكَ تُخْرَجُونَ“۔(سورۃ الرّوم:17 ،18 ،19)

    ترجمہ:لہٰذا اللہ کی تسبیح بیان کرواُس وقت بھی جب تمہارے پاس شام آتی ہے اور اُس وقت بھی جب پر صبح طلوع ہوتی ہے اور اُسی کی حمد ہوتی ہے آسمانوں میں بھی اور زمین میں بھی اور سورج ڈھلنے کے وقت بھی(اُس کی تسبیح کرو) اور اُس وقت بھیجب تم ظہر کا وقت آتا ہے۔وہ جاندار کو بے جان سے نکال لاتا ہےاور بے جان کو جاندار سے نکال لاتا ہے اوہ وہ زمین کو اُس کے مردہ ہوجانےکے بعد زندگی بخشتا ہے اور اِسی تم کو (قبروں سے)نکال لیا جائےگا۔

    Virtue

    فائدہ:مذکورہ تینوں آیات کے پڑھنے کی حدیث میں یہ فضیلت یہ ذکر کی گئی ہےکہ ”أَدْرَكَ مَا فَاتَهُ فِي يَوْمِهِ ذَلِكَ “یعنی اُس دن کے چھوٹے ہوئے تمام معمولات کی تلافی ہوجائے گی۔(ابوداؤد:5076)

  38. 38

    کم وقت میں زیادہ اجر

    سُبْحَانَ اللهِ عَدَدَ مَا خَلَقَ فِي السَّمَاءِ، وَ سُبْحَانَ اللهِ عَدَدَ مَا خَلَقَ فِي الأَرْضِ، وَ سُبْحَانَ اللهِ عَدَدَ مَا بَيْنَ ذٰلِكَ، وَ سُبْحَانَ اللهِ عَدَدَ مَا هُوَ خَالِقٌ، وَاللهُ أَكْبَرُ مِثْلَ ذٰلِكَ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ مِثْلَ ذٰلِكَ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ مِثْلَ ذٰلِكَ

    ترجمہ:اللہ کیلئے تسبیح ہےاُن تمام مخلوقات کی تعداد کے برابرجو اُس نے آسمان میں پیدا کی ،اللہ کیلئے تسبیح ہےاُن تمام مخلوقات کی تعداد کے برابرجو اُس نے زمین میں پیدا کی ،اللہ کیلئے تسبیح ہےاُن تمام مخلوقات کی تعداد کے برابر جو آسمان و زمین کے درمیان پیدا کی ،اللہ کیلئے تسبیح ہےاُن تمام مخلوقات کی تعداد کے برابر جو وہ( اَزل سے اَبد تک)پیدا کرنے والا ہے، اور ”اَللهُ أَكْبَر“بھی اِسی طرح ہے،”اَلْحَمْدُ لِلَّهِ“ بھی اِسی طرح ہے اور ”لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ“بھی اِسی طرح ہے۔

    Virtue

    فائدہ: مذکورہ بالا کلمات مختصر لیکن بہت ہی جامع کلمات ہیں ،اِن کلمات میں اللہ تبارک و تعالیٰ کی بہت ہی خوبصورت اَنداز میں تسبیح و تقدیس کی گئی ہے ،حدیث میں ہے ،نبی کریم ﷺ ایک دفعہ کسی خاتون کے پاس سے گزرے جن کے سامنے گٹھلیاں یا کنکر پڑے ہوئے تھے جن پر وہ تسبیح پڑھ رہی تھیں،آپ ﷺ نے اِرشاد فرمایا کہ کیا میں تمہیں اِس سے زیادہ آسان اور افضل عمل نہ بتاؤں؟ پھر آپ ﷺ نے اِنہی مذکورہ کلمات کی تلقین فرمائی۔(ترمذی:3568)لہٰذا بہتر ہے کہ صبح شام اِن مبارک کلمات کو بھی پڑھ لیا جائے تاکہ کم وقت میں زیادہ اجرو ثواب کو جمع کیا جاسکے۔