ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میری اس مسجد کی ایک نماز دوسری مساجد کی ہزار نمازوں سے زیادہ بہتر ہے، سوائے مسجد الحرام کے ۔
Sayyidina Abu Hurayrah reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “A salah in this, my mosque is better than a thousand in any other except the Masjid Haram.”
صحيح، ابن ماجة (1404 )صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 325
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- کئی سندوں سے مروی ہے، ٣- اس باب میں علی، میمونہ، ابوسعید، جبیر بن مطعم، ابن عمر، عبداللہ بن زبیر اور ابوذر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تین مساجد کے سوا کسی اور جگہ کے لیے سفر نہ کیا جائے، ١- مسجد الحرام کے لیے، ٢- میری اس مسجد (مسجد نبوی) کے لیے، ٣- مسجد الاقصیٰ کے لیے ١ ؎۔
Sayyidina Abu Sa’eed Khudri (RA) narrated that Allah’s Messenger ﷺ said, “Journeys may not be made (for visit) to any mosque but three: Masjid Haram (Bayt Allah), my mosque (Masjid Nabawi) and Masjid Aqsa.
صحيح، ابن ماجة (1409)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 326
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ثواب کی نیت سے سفر نہ کیا جائے، مگر صرف انہی تین مساجد کی طرف، اس سے کوئی بھی چوتھی مسجد اور تمام مساجد و مقابر خارج ہوگئے، حتیٰ کہ قبر نبوی کی زیارت کی نیت سے بھی سفر جائز نہیں، ہاں مسجد نبوی کی نیت سے مدینہ جانے پر قبر نبوی کی مشروع زیارت جائز ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة في مسجد مکة والمدینة ١ (١١٨٨)، و ٦ (١١٩٧)، وجزاء الصید ٢٦ (١٨٦٤)، والصوم ٨٧ (١٩٩٥)، صحیح مسلم/المناسک ٧٤ (٤١٥/٨٢٧)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٩٦ (١٤١٠)، ( تحفة الأشراف: ٤٢٧٩) (صحیح)
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب نماز کی تکبیر (اقامت) کہہ دی جائے تو (نماز میں سے) اس کی طرف دوڑ کر مت آؤ، بلکہ چلتے ہوئے اس حال میں آؤ کہ تم پر سکینت طاری ہو، تو جو پاؤ اسے پڑھو اور جو چھوٹ جائے، اسے پوری کرو ۔
Sayyidina Abu Hurayrah(RA) reported Allah’s Messenger ﷺ as saying, “When a prayer has begun (in the mosque), do not come running to it. But, come peacefully. Pray what you get (with the congregation) and what you have missed, complete it.”
صحيح، ابن ماجة (775)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 327
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- اس باب میں ابوقتادہ، ابی بن کعب، ابوسعید، زید بن ثابت، جابر اور انس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٢- اہل علم کا مسجد کی طرف چل کر جانے میں اختلاف ہے: ان میں سے بعض کی رائے ہے کہ جب تکبیر تحریمہ کے فوت ہونے کا ڈر ہو، وہ دوڑے یہاں تک کہ بعض لوگوں کے بارے میں مذکور ہے کہ وہ نماز کے لیے قدرے دوڑ کر جاتے تھے اور بعض لوگوں نے دوڑ کر جانے کو مکروہ قرار دیا ہے اور آہستگی و وقار سے جانے کو پسند کیا ہے۔ یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں، ان دونوں کا کہنا ہے کہ عمل ابوہریرہ ؓ کی حدیث پر ہے۔ اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ اگر تکبیر تحریمہ کے چھوٹ جانے کا ڈر ہو تو دوڑ کر جانے میں کوئی مضائقہ نہیں۔
اس سند سے بھی ابوہریرہ کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے اسی مفہوم کے ساتھ مروی ہے جیسے ابوسلمہ کی حدیث ہے جسے انہوں نے ابوہریرہ سے روایت کی ہے۔ اسی طرح کہا ہے عبدالرزاق نے وہ روایت کرتے ہیں کہ سعید بن المسیب سے اور سعید بن مسیب نے بواسطہ ابوہریرہ سے اور ابوہریرہ نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے اور یہ یزید بن زریع کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے ١ ؎۔
A hadith of same meaning is reported by Hasan ibn Ali Khilal from Abdur Razzaq from Mu’mar from Zuhri from Sa’eed ibn Musayyab from Sayyidina Abu Hurayrah (RA) who reported from the Prophet ﷺ It is the hadith of Abu Salamah.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی عبدالرزاق کا اپنی روایت میں «عن سعید بن المسیب عن ابی ہریرہ» کہنا یزید بن زریع کی روایت میں «عن ابی سلمہ عن ابی ہریرہ» کہنے سے زیادہ صحیح ہے کیونکہ سفیان نے عبدالرزاق کی متابعت کی ہے، ان کی روایت میں بھی «عن سعید بن المسیب عن ابی ہریرہ» ہی ہے، جیسا کہ اگلی روایت میں ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ ( تحفة الأشراف: ١٣٣٠٥)، وأخرجہ: مسند احمد (٢/٢٧٠) (صحیح)
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: آدمی برابر نماز ہی میں رہتا ہے جب تک وہ اس کا انتظار کرتا ہے اور فرشتے اس کے لیے برابر دعا کرتے رہتے ہیں جب تک وہ مسجد میں رہتا ہے، کہتے ہیں «اللهم اغفر له» اللہ! اسے بخش دے «اللهم ارحمه» اے اللہ! اس پر رحم فرما جب تک وہ «حدث» نہیں کرتا ، تو حضر موت کے ایک شخص نے پوچھا: «حدث» کیا ہے ابوہریرہ؟ تو ابوہریرہ ؓ نے کہا: آہستہ سے یا زور سے ہوا خارج کرنا ١ ؎۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported Allah’s Messenger ﷺ as saying, “None of you ceases to be in prayer as long he waits for it. And the angels cease not to pray for him as long as he is in the mosque (O Allah, forgive him, O Allah, have mercy on him), and this till he has hadath and breaks his ablution).” Then a man of Hadramawt asked, “O Abu Hurayrah, what is hadath?” He said, “It is to break wind whether there is an accompanying sound or not.”
صحيح، ابن ماجة (799)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 330
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابوہریرہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں علی، ابوسعید، انس، عبداللہ بن مسعود اور سہل بن سعد ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے مسجد میں بیٹھ کر نماز کے انتظار کرنے کی فضیلت ظاہر ہوتی ہے، نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مسجد میں «حدث» کرنا فرشتوں کے استغفار سے محرومی کا باعث ہے۔
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ «خمرہ» چھوٹی چٹائی پر نماز پڑھتے تھے۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that Allah’s Messenger used to offer salah on a mat.
حسن صحيح، ابن ماجةصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 331
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابن عباس ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ام حبیبہ، ابن عمر، ام سلیم، عائشہ، میمونہ، ام کلثوم بنت ابی سلمہ بن عبدالاسد (ام کلثوم بنت ابی سلمہ نے نبی اکرم ﷺ سے نہیں سنا ہے) اور ام سلمہ ؓ سے احادیث آئی ہیں، ٣- بعض اہل علم کا یہی خیال ہے، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ سے «خمرہ» پر نماز ثابت ہے، ٤- «خمرہ» چھوٹی چٹائی کو کہتے ہیں۔
ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے چٹائی پر نماز پڑھی ١ ؎۔
Sayyidina Abu Sa’eed (RA) narrated that the Prophet ﷺ prayed on a hasir (a big mat).
صحيح، ابن ماجة (1029)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 332
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابو سعید خدری ؓ کی حدیث حسن ہے، ٢- اس باب میں انس اور مغیرہ بن شعبہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اکثر اہل علم کا عمل اسی پر ہے، البتہ اہل علم کی ایک جماعت نے زمین پر نماز پڑھنے کو استحباباً پسند کیا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث میں «حصیر» اور اوپر والی میں « خمرہ» کا لفظ آیا ہے، فرق یہ ہے کہ «خمرہ» چھوٹی ہوتی ہے اس پر ایک آدمی ہی نماز پڑھ سکتا ہے اور حصیر بڑی اور لمبی ہوتی ہے جس پر ایک سے زیادہ آدمی نماز پڑھ سکتے ہیں، دونوں ہی کھجور کے پتوں سے بنی جاتی تھیں، اور اس زمانہ میں ٹاٹ، پلاسٹک، اون اور کاٹن سے مختلف سائز کے مصلے تیار ہوتے ہیں، عمدہ اور نفیس قالین بھی بنائے جاتے ہیں، جو مساجد اور گھروں میں استعمال ہوتے ہیں۔ مذکور بالا حدیث میں ان کے جواز کی دلیل پائی جاتی ہے۔
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہم سے گھل مل جایا کرتے تھے۔ یہاں تک کہ آپ میرے چھوٹے بھائی سے کہتے: ابوعمیر! «ما فعل النغير» بلبل کا کیا ہوا؟ ہماری چٹائی ١ ؎ پر چھڑکاؤ کیا گیا پھر آپ نے اس پر نماز پڑھی۔
Sayyidina Anas ibn Malik narrated that Allah’s Messenger ﷺ used to appease them in so far as he used to tease his younger brother (Umayr). “O Abu Umayr, what did nughayrO do? He said further, ‘Our bedding was washed and he prayed thereon.”
صحيح، ابن ماجة (3720 - 3740)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 333
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- انس کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابن عباس ؓ سے بھی روایت ہے، ٣- صحابہ کرام اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اکثر اہل علم کا عمل اسی پر ہے۔ وہ چادر اور قالین پر نماز پڑھنے میں کوئی قباحت نہیں سمجھتے یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: «بساط» یعنی بچھاون سے مراد چٹائی ہے کیونکہ یہ زمین پر بچھائی جاتی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأدب ٨١ (٦١٢٩)، و ١١٢ (٦٢٠٣)، صحیح مسلم/المساجد ٤٨ (٦٥٩)، سنن ابن ماجہ/الأدب ٢٤ (٣٧٢٠)، ( تحفة الأشراف: ١٦٩٢)، مسند احمد (٣/٢١٢)، ویأتي عند المؤلف في البر والصلة برقم: (١٩٨٩) (صحیح)
معاذ بن جبل ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ باغات میں نماز پڑھنا پسند فرماتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حیطان سے مراد «بساتین» باغات ہیں۔
Sayyidina Mu’adh ibn Jabal (RA) said that the Prophet ﷺ liked to observe salah in gardens. Abu Dawood said that “hitan” means ‘gardens’. (It is the word in the Arabic text.)
ضعيف، الضعيفة (4270) // ضعيف الجامع الصغير (4554) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 334
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
معاذ کی حدیث غریب ہے،
اسے ہم حسن بن ابی جعفر ہی کی روایت سے جانتے ہیں، اور حسن بن ابی جعفر کو یحییٰ بن سعید وغیرہ نے ضعیف قرار دیا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١١٣٢٣) (ضعیف) (سند میں حسن بن ابی جعفر ضعیف ہیں)
طلحہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم سے کوئی اپنے آگے کجاوے کی پچھلی لکڑی کی مانند کوئی چیز رکھ لے تو نماز پڑھے اور اس کی پرواہ نہ کرے کہ اس کے آگے سے کون گزرا ہے ۔
Musa ibn Talhah reported from his father that Allah’s Messenger ﷺ said, “When one of you places in front of him something like the back of a saddle he may offer salah and may not care who passes behind it.”
حسن صحيح، ابن ماجة (940)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 335
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- طلحہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابوہریرہ، سہل بن ابی حثمہ، ابن عمر، سبرہ بن معبد جہنی، ابوجحیفہ اور عائشہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: سترہ ایسی چیز ہے جسے نمازی اپنے آگے نصب کرے یا کھڑا کرے، خواہ وہ دیوار ہو یاس تون، نیزہ ہو یا لکڑی وغیرہ تاکہ یہ گزرنے والے اور نمازی کے درمیان آڑ رہے، اس کی سخت تاکید ہے، نیز میدان یا مسجد میں اس سلسلے میں کوئی فرق نہیں ہے، اور خانہ کعبہ میں سترہ کے آگے سے گزرنے والی حدیثیں ضعیف ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٤٧ (٤٩٩)، سنن ابی داود/ الصلاة ١٠٢ (٦٨٥)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٣٦ (٩٤٠)، ( تحفة الأشراف: ٥٠١١)، مسند احمد (١/١٦١، ١٦٢) (حسن صحیح)
بسر بن سعید سے روایت ہے کہ زید بن خالد جہنی نے انہیں ابوجہیم ؓ کے پاس بھیجا تاکہ وہ ان سے یہ پوچھیں کہ انہوں نے مصلی کے آگے سے گزرنے والے کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے کیا سنا ہے؟ تو ابوجہیم ؓ نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: اگر مصلی کے آگے سے گزرنے والا جان لے کہ اس پر کیا (گناہ) ہے تو اس کے لیے مصلی کے آگے سے گزرنے سے چالیس … تک کھڑا رہنا بہتر ہوگا۔ ابونضر سالم کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم کہ انہوں نے چالیس دن کہا، یا چالیس مہینے کہا یا چالیس سال۔
Busr ibn Sa’eed said that Zayd ibn Khalid Juhanni sent someone to Abu Juhaym to learn of the rules applying to one who walks ahead of those who are engaged in salah. Abu Juhaym said that Allah’s Messenger ﷺ said, “If one who passes in front of another who is praying knew the punishment against what he does then he would prefer to stand still for forty years rather than pass in front of him. Abu an-Nadr, a narrator said, “I do not know if he said forty days or months or years.’
صحيح، ابن ماجة (945)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 336
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابوجہیم ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابو سعید خدری، ابوہریرہ، ابن عمر اور عبداللہ بن عمرو ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- نبی اکرم ﷺ سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے فرمایا : تم میں سے کسی کا سو سال کھڑے رہنا اس بات سے بہتر ہے کہ وہ اپنے بھائی کے سامنے سے گزرے اور وہ نماز پڑھ رہا ہو ، ٤- اہل علم کے نزدیک عمل اسی پر ہے، ان لوگوں نے نمازی کے آگے سے گزرنے کو مکروہ جانا ہے، لیکن ان کی یہ رائے نہیں کہ آدمی کی نماز کو باطل کر دے گا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ١٠١ (٥١٠)، صحیح مسلم/الصلاة ٤٨ (٥٠٧)، سنن ابی داود/ الصلاة ١٠٩ (٧٠١)، سنن النسائی/القبلة ٨ (٧٥٧)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٣٧ (٩٤٥)، ( تحفة الأشراف: ١١٨٨٤)، موطا امام مالک/قصرالصلاة ١٠ (٣٤)، مسند احمد (٤/١٦٩)، سنن الدارمی/الصلاة ١٣٠ (١٤٥٦) (صحیح)
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ میں ایک گدھی پر (اپنے بھائی) فضل ؓ کے پیچھے سوار تھا، ہم آئے اور نبی اکرم ﷺ منیٰ میں صحابہ کو نماز پڑھا رہے تھے، ہم گدھی سے اترے اور صف میں مل گئے۔ اور وہ (گدھی) ان لوگوں کے سامنے پھرنے لگی، تو اس نے ان کی نماز باطل نہیں کی۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) narrated that he was riding a she-ass and Fadl (RA) was his co-rider When they were at Mina, the Prophet ﷺ was offering salah with his sahabah They alighted (from the ass) and joined the congregation. The she-ass moved in front of them (the worshippers) but their salah was not invalidated.
صحيح، ابن ماجة (947)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 337
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابن عباس کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں عائشہ، فضل بن عباس اور ابن عمر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- صحابہ اور ان کے بعد تابعین میں سے اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ کہتے ہیں کہ نماز کو کوئی چیز باطل نہیں کرتی، سفیان ثوری اور شافعی بھی یہی کہتے ہیں ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث میں ہے کہ کوئی بھی چیز نماز کو باطل نہیں کرتی، جبکہ اگلی حدیث میں ہے کہ کتا، گدھا اور عورت کے مصلی کے آگے سے گزرنے سے نماز باطل ہوجاتی ہے، ان دونوں حدیثوں میں اس طرح جمع کیا گیا ہے، ١- صحیح بخاری میں وہ گدھی ان لوگوں کے سامنے سے گزری تو اس سے ان کی نماز باطل نہیں ہوئی کا جملہ نہیں ہے اصل واقعہ صرف یہ ہے کہ گدھی یا وہ دونوں صرف صف کے بعض حصوں سے گزرے تھے جبکہ امام ( آپ ﷺ ) کا سترہ صف کے ان حصوں کا سترہ بھی ہوگیا تھا ( آپ خصوصا میدان میں بغیر سترہ کے نماز پڑھتے ہی نہیں تھے ) ٢- پہلی حدیث یا اس معنی کی دوسری حدیثوں سے اس بات پر استدلال کسی طرح واضح نہیں ہے، ٣- جبکہ اگلی حدیث قولی میں امت کے لیے خاص حکم ہے، اور زیادہ صحیح حدیث ہے، اس لیے مذکورہ تینوں چیزوں کے نمازی کے آگے سے گزرنے سے نماز باطل ہوجاتی ہے ( باطل کا معنی اگلی حدیث کے حاشیہ میں ملاحظہ کریں )۔
ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب آدمی نماز پڑھے اور اس کے سامنے کجاوے کی آخری (لکڑی یا کہا: کجاوے کی بیچ کی لکڑی کی طرح) کوئی چیز نہ ہو تو: کالے کتے، عورت اور گدھے کے گزرنے سے اس کی نماز باطل ہوجائے گی ١ ؎ میں نے ابوذر سے کہا: لال، اور سفید کے مقابلے میں کالے کی کیا خصوصیت ہے؟ انہوں نے کہا: میرے بھتیجے! تم نے مجھ سے ایسے ہی پوچھا ہے جیسے میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا تھا تو آپ نے فرمایا: کالا کتا شیطان ہے ۔
Abdullah ibn Samit (RA) reported having heard from Sayyidina Abu Dharr (RA) that Allah’s Messenger ﷺ said, “If anyone prays and there is nothing is nothing in front of him like the hack, or like the middle of a saddle then his salah is cut off by the passing ahead of a black dog, a donkey or a woman.” Abdullah asked Abu Dharr. “What is the difference between black and white or red?” He said, “Brother, you put the same question to me as I had put to Allah’s Messenger He had said that the black dog is a devil.”
صحيح، ابن ماجة (952)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 338
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابوذر ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابو سعید خدری، حکم بن عمرو بن غفاری، ابوہریرہ اور انس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- بعض اہل علم اسی طرف گئے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ گدھا، عورت اور کالا کتا نماز کو باطل کردیتا ہے۔ احمد بن حنبل کہتے ہیں: مجھے اس میں کوئی شک نہیں کہ کالا کتا نماز باطل کردیتا ہے لیکن گدھے اور عورت کے سلسلے میں مجھے کچھ تذبذب ہے، اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں: کالے کتے کے سوا کوئی اور چیز نماز باطل نہیں کرتی۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہاں باطل ہونے سے مراد نماز کے ثواب اور اس کی برکت میں کمی واقع ہونا ہے، سرے سے نماز کا باطل ہونا مراد نہیں، بعض علماء بالکل باطل ہوجانے کے بھی قائل ہیں کیونکہ ظاہری الفاظ سے یہی ثابت ہوتا ہے، اس لیے مصلے کو سترہ کی طرف نماز پڑھنے کی از حد خیال کرنا چاہیئے۔
عمر بن ابی سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کے گھر میں اس حال میں نماز پڑھتے دیکھا، کہ آپ ایک کپڑے میں لپٹے ہوئے تھے ١ ؎۔
Sayyidna Umar ibn Abu Salamah said that he observed Allah’s Messenger ﷺ pray at Sayyidah Umm Salamah’s (RA) home in a single garment.
صحيح، ابن ماجة (1049)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 339
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- عمر بن ابی سلمہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابوہریرہ، جابر، سلمہ بن الاکوع، انس، عمرو بن ابی اسید، عبادہ بن صامت، ابو سعید خدری، کیسان، ابن عباس، عائشہ، ام ہانی، عمار بن یاسر، طلق بن علی، اور عبادہ بن صامت انصاری ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔ صحابہ کرام اور ان کے بعد تابعین وغیرہم سے اکثر اہل علم کا عمل اسی پر ہے، وہ کہتے ہیں کہ ایک کپڑے میں نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں اور بعض اہل علم نے کہا ہے کہ آدمی دو کپڑوں میں نماز پڑھے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: شیخین کی روایت میں «واضعاً طرفيه علی عاتقيه» کا اضافہ ہے یعنی آپ اس کے دونوں کنارے اپنے دونوں کندھوں پر ڈالے ہوئے تھے، اس سے ثابت ہوا کہ اگر ایک کپڑے میں بھی نماز پڑھے تو دونوں کندھوں کو ضرور ڈھانکے رہے، ورنہ نماز نہیں ہوگی، اس بابت بعض واضح روایات مروی ہیں، نیز اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ آپ نے اس وقت سر کو نہیں ڈھانکا تھا، ایک کپڑے میں سر کو ڈھانکا ہی نہیں جاسکتا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ٤ (٣٥٦)، صحیح مسلم/الصلاة ٥٢ (٥١٧)، سنن ابی داود/ الصلاة ٧٨ (٦٢٨)، سنن النسائی/القبلة ١٤ (٧٦٥)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٦٩ (١٠٤٩)، ( تحفة الأشراف: ١٠٦٨٤)، وکذا (١٠٦٨٢)، موطا امام مالک/الجماعة ٩ (٢٩)، مسند احمد (٤/٢٦، ٢٧) (صحیح)
براء بن عازب ؓ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ مدینے آئے تو سولہ یا سترہ ماہ تک آپ نے بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھی اور رسول اللہ ﷺ کعبہ کی طرف رخ کرنا پسند فرماتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے «قد نری تقلب وجهك في السماء فلنولينک قبلة ترضاها فول وجهك شطر المسجد الحرام» ہم آپ کے چہرے کو باربار آسمان کی طرف اٹھتے ہوئے دیکھ رہے ہیں، اب ہم آپ کو اس قبلہ کی جانب متوجہ کریں گے جس سے آپ خوش ہوجائیں، اب آپ اپنا رخ مسجد الحرام کی طرف پھیر لیجئے نازل فرمائی، تو آپ نے اپنا چہرہ کعبہ کی طرف پھیرلیا اور آپ یہی چاہتے بھی تھے، ایک شخص نے آپ کے ساتھ عصر پڑھی، پھر وہ انصار کے کچھ لوگوں کے پاس سے گزرا اور وہ لوگ عصر میں بیت المقدس کی طرف چہرہ کئے رکوع کی حالت میں تھے، اس نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اس حال میں نماز پڑھی ہے کہ آپ اپنا رخ کعبہ کی طرف کئے ہوئے تھے، تو وہ لوگ بھی رکوع کی حالت ہی میں (خانہ کعبہ کی طرف) پھرگئے۔
Sayyidna Bara ibn Aazib (RA) said that when the Prophet ﷺ came to Madinah, he continued to face the direction of Bayt al Maqdis in prayer for sixteen or seventeen months. He longed to turn to the ka’bah. So, Allah, the Exalted, revealed (the verse): So, he turned his face towards the Ka’bah, and he loved that. A man prayed with him the asr prayer and then passed by a section of the Ansar people while they were in ruku of the salah of asr facing Bayt al-Maqdis. So, he said, “He bears testimony that he prayed with Allah’s Messenger ﷺ and indeed he had faced the Kabah,” The narrator said, “They turned their direction while still in ruku. Hamad reported from Waki, from Sufyan, from Abdullah ibn Dinar that Sayyidina Ibn Umar (RA) said, ‘They were in ruku of the salah of fajr.’
صحيح، صفة الصلاة (56)، الإرواء (290)
صحيح، صفة الصلاة // 57 //، الإرواء (290)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 340
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں وہ لوگ نماز فجر میں رکوع میں تھے ١ ؎۔
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 341
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- براء کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابن عمر، ابن عباس، عمارہ بن اوس، عمرو بن عوف مزنی اور انس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
ابن عمر کی حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ قباء کا واقعہ ہے اس میں اور اس سے پہلے والی روایت میں کوئی تعارض نہیں ہے، کیونکہ جو لوگ مدینہ میں تھے انہیں یہ خبر عصر کے وقت ہی پہنچ گئی تھی ( جیسے بنو حارثہ کے لوگ ) اور قباء کے لوگوں کو یہ خبر دیر سے دوسرے دن نماز فجر میں پہنچی۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الإیمان ٣٠ (٤٠)، والصلاة ٣١ (٣٩٩)، وتفسیر البقرة ١٢ (٤٤٨٦)، و ١٨ (٤٤٩٢)، وأخبار الآحاد ١ (٧٢٥٢)، صحیح مسلم/المساجد ٢ (٥٢٥)، سنن النسائی/الصلاة ٢٢ (٤٨٩، ٤٩٠)، والقبلة ١ (٧٤٣)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٥٦ (١٠١٠)، ( تحفة الأشراف: ١٨٠٤)، وکذا (١٨٤٩)، مسند احمد (٤/٢٨٣، ٣٠٤)، ویأتي عند المؤلف في تفسیر البقرة (٢٩٦٢) (صحیح)
صحیح البخاری/الصلاة ٣٢ (٤٠٣)، وتفسیر البقرة ١٤ (٤٤٨٨)، و ١٦ (٤٤٩٠)، و ١٧ (٤٤٩١)، و ٨ (٤٤٩٢)، و ١٩ (٤٤٩٣)، و ٢٠ (٤٤٩٤)، صحیح مسلم/المساجد ٢ (٥٢٦)، سنن النسائی/الصلاة ٢٤ (٤٩٤)، والقبلة ٣ (٧٤٦)، ( تحفة الأشراف: ٧١٥٤)، وکذا (٧٢٢٨)، موطا امام مالک/القبلة ٤ (٦)، مسند احمد (٢/١١٣) (صحیح)
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مشرق (پورب) اور مغرب (پچھم) کے درمیان جو ہے سب قبلہ ہے ١ ؎۔
Sayyidna Abu Hurayrah reported that Allah’s Messenger (RA) said, ‘The entire area between the east and the west is qiblah.”
صحيح، ابن ماجة (1011)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 342
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ ان ملکوں کے لیے ہے جو قبلے کے شمال ( اُتر ) یا جنوب ( دکھن ) میں واقع ہیں، جیسے مدینہ ( شمال میں ) اور یمن ( جنوب میں ) اور بر صغیر ہندو پاک یا مصر وغیرہ کے لوگوں کے لیے اسی کو یوں کہا جائیگا شمال اور جنوب کے درمیان جو فضا کا حصہ ہے وہ سب قبلہ ہے یعنی اپنے ملک کے قبلے کی سمت میں ذرا سا ٹیڑھا کھڑا ہونے میں ( جو جان بوجھ کر نہ ہو ) کوئی حرج نہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الإقامة ٥٦ (١٠١١)، ( تحفة الأشراف: ١٥١٢٤) (صحیح)
یحییٰ بن موسیٰ کا بیان ہے کہ ہم سے محمد بن ابی معشر نے بھی اسی کے مثل بیان کیا ہے۔
Yahya ibn Musa reported the like of it from Muhammad ibn Abu Ma’shar. Imam Tirmizi said: The Hadith of Abu Hurayrah (RA) is transmitted from himself through many lines of narrators. Some scholars question the memory of Abu Ma’shar. His name was Najih, freedman of Banu Hashim. Imam Bukhari does not report from him though some do. According to Bukhari, the Hadith of Abdullah ibn Ja’far Makhrami reported from Uthman ibn Muhammad Akhnasi is (more) pious and sahih than that of Abu Ma’shar. Uthman reported from Sa’eed Maqburi who from Abu Hurayrah .
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابوہریرہ کی حدیث ان سے اور بھی کئی سندوں سے مروی ہے، ٢- بعض اہل علم نے ابومعشر کے حفظ کے تعلق سے کلام کیا ہے۔ ان کا نام نجیح ہے، وہ بنی ہاشم کے مولیٰ ہیں، ٣- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: میں ان سے کوئی روایت نہیں کرتا حالانکہ لوگوں نے ان سے روایت کی ہے نیز بخاری کہتے ہیں کہ عبداللہ بن جعفر مخرمی کی حدیث جسے انہوں نے بسند «عثمان بن محمد اخنسی عن سعید المقبری عن أبی ہریرہ» روایت کی ہے، ابومعشر کی حدیث سے زیادہ قوی اور زیادہ صحیح ہے (یہ حدیث آگے آرہی ہے جو اسی معنی کی ہے) ۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: مشرق (پورب) اور مغرب (پچھم) کے درمیان جو ہے وہ سب قبلہ ہے ۔
Hasan ibn Bakr Marwazi reported from Mu’la ibn Mansur from Abdullah ibn Jafar Makhram iwho from Uthman ibn Muhammad Akhnasi who from Sa’eed Maqburi who from Abu Hurayrah (RA) that the Prophet ﷺ said, “The qiblah is between the east and the west.” --------------------------------------------------------------------------------
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- کئی صحابہ سے مروی ہے کہ مشرق و مغرب کے درمیان جو ہے سب قبلہ ہے۔ ان میں عمر بن خطاب، علی بن ابی طالب، اور ابن عباس ؓ بھی شامل ہیں، ابن عمر ؓ کہتے ہیں: جب آپ مغرب کو دائیں طرف اور مشرق کو بائیں طرف رکھ کر قبلہ رخ کھڑے ہوں گے تو ان دونوں سمتوں کے درمیان جو ہوگا وہ قبلہ ہوگا، ابن مبارک کہتے ہیں: مشرق و مغرب کے درمیان جو ہے سب قبلہ ہے، یہ اہل مشرق ١ ؎ کے لیے ہے۔ اور عبداللہ بن مبارک نے اہل مرو ٢ ؎ کے لیے بائیں طرف جھکنے کو پسند کیا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہاں مشرق سے مراد وہ ممالک ہیں جن پر مشرق کا اطلاق ہوتا ہے جیسے عراق۔ ٢ ؎: قاموس میں ہے کہ مرو ایران کا ایک شہر ہے اور علامہ محمد طاہر مغنی میں کہتے ہیں کہ یہ خراسان کا ایک شہر ہے۔
عامر بن ربیعہ ؓ کہتے ہیں کہ ہم ایک تاریک رات میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سفر میں تھے۔ تو ہم نہیں جان سکے کہ قبلہ کس طرف ہے، ہم میں سے ہر شخص نے اسی طرف رخ کر کے نماز پڑھ لی جس طرف پہلے سے اس کا رخ تھا۔ جب ہم نے صبح کی اور نبی اکرم ﷺ سے اس کا ذکر کیا چناچہ اس وقت آیت کریمہ «فأينما تولوا فثم وجه الله» تم جس طرف رخ کرلو اللہ کا منہ اسی طرف ہے نازل ہوئی۔
Sayyidna Abdullah ibn Aamir ibn Rabi’ah reported from his father that hesaid, “We were travelling with the Prophet ﷺ -‘--i on a dark night and did not know the direction of the qiblah. So everyone prayed in the direction opposite him. In the morning, we mentioned that to the Prophet ﷺ and the verse was revealed 1)I .m, i L.- (so withersoever you turn, there is Allah’s countenance.
حسن، ابن ماجة (1020)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 345
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- اس حدیث کی سند کچھ زیادہ اچھی نہیں ہے۔ ہم اسے صرف اشعث بن سمان ہی کی روایت سے جانتے ہیں، اور اشعث بن سعید ابوالربیع سمان حدیث کے معاملے میں ضعیف گردانے جاتے ہیں، ٢- اکثر اہل علم اسی کی طرف گئے ہیں کہ جب کوئی بدلی میں غیر قبلہ کی طرف نماز پڑھ لے پھر نماز پڑھ لینے کے بعد پتہ چلے اس نے غیر قبلہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھی ہے تو اس کی نماز درست ہے۔ سفیان ثوری، ابن مبارک، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الإقامة ٦٠ (١٠٢٠)، ویأتي عند المؤلف في تفسیر البقرة (٢٩٥٧)، ( تحفة الأشراف: ٥٠٣٥) (حسن صحیح) (سند میں اشعث بن سعید السمان متکلم فیہ راوی ہیں، حتی کہ بعض علماء نے بڑی شدید جرح کی ہے، اور انہیں غیر ثقہ اور منکر الحدیث بلکہ متروک الحدیث قرار دیا ہے، لیکن امام بخاری کہتے ہیں کہ یہ نہ تو متروک ہے اور نہ محدثین کے یہاں حافظ حدیث ہے، ابو احمد الحاکم کہتے ہیں: ليس بالقوي عندهم یعنی محدثین کے یہاں اشعث زیادہ قوی راوی نہیں ہے، ابن عدی کہتے ہیں: اس کی احادیث میں سے بعض غیر محفوظ ہیں، اور ضعف کے باوجود ان کی حدیثیں لکھی جائیں گی (تہذیب الکمال ٥٢٣) خلاصہ یہ کہ ان کی احادیث کو شواہد ومتابعات کے باب میں جانچا اور پرکھا جائے گا اسی کو اعتبار کہتے ہیں، اور ترمذی نے سند پر کلام کر کے اشعث کے بارے لکھا ہے کہ حدیث میں ان کی تضعیف کی گئی ہے، اور اکثر علماء کا فتویٰ بھی اسی حدیث کے مطابق ہے، اس شواہد کی بنا پر یہ حدیث حسن ہے)۔