حضرت ابوایوب انصاری (رض) کی مرویات

Musnad Imam Ahmad · Chapter 921 · 90 hadiths · Page 4 of 5

22464Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوایوب انصاری (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْخَطْمِيِّ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ صَلَاةَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ الْآخِرَةِ بِالْمُزْدَلِفَةِ

حضرت ابوایوب انصاری ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے میدان مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نماز اکٹھی ادا فرمائی۔

22465Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوایوب انصاری (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا حَنَشُ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ لَقِيطٍ النَّخَعِيُّ الْأَشْجَعِيُّ عَنْ رِيَاحِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ جَاءَ رَهْطٌ إِلَى عَلِيٍّ بالرَّحْبَةِ فَقَالُوا السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا مَوْلَانَا قَالَ كَيْفَ أَكُونُ مَوْلَاكُمْ وَأَنْتُمْ قَوْمٌ عَرَبٌ قَالُوا سَمِعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ يَقُولُ مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَإِنَّ هَذَا مَوْلَاهُ قَالَ رِيَاحٌ فَلَمَّا مَضَوْا تَبِعْتُهُمْ فَسَأَلْتُ مَنْ هَؤُلَاءِ قَالُوا نَفَرٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فِيهِمْ أَبُو أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا حَنَشٌ عَنْ رِيَاحِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ رَأَيْتُ قَوْمًا مِنْ الْأَنْصَارِ قَدِمُوا عَلَى عَلِيٍّ فِي الرَّحْبَةِ فَقَالَ مَنْ الْقَوْمُ قَالُوا مَوَالِيكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ

ریاح بن حارث کہتے ہیں کہ ایک گروہ " رحبہ " میں حضرت علی ؓ کے پاس آیا اور کہنے لگا " السلام علیک یا مولانا " حضرت علی ؓ نے فرمایا کہ میں تمہارا آقا کیسے ہوسکتا ہوں جبکہ تم عرب قوم ہو؟ انہوں نے کہا کہ ہم نے نبی کریم ﷺ کو غدیر خم کے مقام پر یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ میں جس کا مولیٰ ہوں علی بھی اس کے مولیٰ ہیں جب وہ لوگ چلے گئے تو میں بھی ان کے پیچھے چل پڑا اور میں نے پوچھا کہ یہ لوگ کون ہیں؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ کچھ انصاری لوگ ہیں جن میں حضرت ابوایوب انصاری ؓ بھی شامل ہیں۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

22466Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوایوب انصاری (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ رَجُلٍ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي قَبْلَ الظُّهْرِ أَرْبَعًا فَقِيلَ لَهُ إِنَّكَ تُصَلِّي صَلَاةً تُدِيمُهَا فَقَالَ إِنَّ أَبْوَابَ السَّمَاءِ تُفْتَحُ إِذَا زَالَتْ الشَّمْسُ فَلَا تُرْتَجُ حَتَّى يُصَلَّى الظُّهْرُ فَأُحِبُّ أَنْ يَصْعَدَ لِي إِلَى السَّمَاءِ خَيْرٌ

حضرت ابوایوب انصاری ؓ سے مروی ہے کہ زوال کے وقت نبی کریم ﷺ ہمیشہ چار رکعتیں پڑھتے تھے ایک دن میں نے پوچھ لیا کہ یا رسول اللہ! ﷺ یہ کیسی نماز ہے جس پر میں آپ کو مداومت کرتے ہوئے دیکھتا ہوں؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا زوال کے وقت آسمان کے دروازے کھولے جاتے ہیں اور اس وقت تک بند نہیں کئے جاتے جب تک ظہر کی نماز نہ ادا کرلی جائے اس لئے میں چاہتا ہوں کہ اس وقت میرا کوئی نیک عمل آسمان پر چڑھے۔

22467Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوایوب انصاری (رض) کی مرویات

قَالَ قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْخَطْمِيِّ أَنَّ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ جَمِيعًا بِالْمُزْدَلِفَةِ

حضرت ابوایوب انصاری ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے حجۃ الوداع کے موقع پر نبی کریم ﷺ کے ساتھ میدان مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نماز اکٹھی ادا فرمائی۔

22468Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوایوب انصاری (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَتَّابُ بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ أَنَّ أَسْلَمَ أَبَا عِمْرَانَ التُّجِيبِيَّ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ يَقُولُ صَفَفْنَا يَوْمَ بَدْرٍ فَنَدَرَتْ مِنَّا نَادِرَةٌ أَمَامَ الصَّفِّ فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِمْ فَقَالَ مَعِي مَعِي وَكَذَا قَالَ أَبِي قَالَ مَعْمَرٌ فَبَدَرَتْ مِنَّا بَادِرَةٌ وَقَالَ صَفَفْنَا يَوْمَ بَدْرٍ

حضرت ابوایوب انصاری ؓ سے مروی ہے کہ ہم لوگوں نے جنگ بدر کے دن صف بندی کی تو ہم میں سے ایک آدمی صف سے آگے نکل گیا نبی کریم ﷺ نے اسے دیکھ کر فرمایا میرے ساتھ رہو میرے ساتھ رہو۔

22469Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوایوب انصاری (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَمْرٍو عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ عَنْ أَبِي رُهْمٍ السَّمَعِيِّ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ قَالَ حِينَ يُصْبِحُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ يُحْيِي وَيُمِيتُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ عَشْرَ مَرَّاتٍ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِكُلِّ وَاحِدَةٍ قَالَهَا عَشْرَ حَسَنَاتٍ وَحَطَّ اللَّهُ عَنْهُ بِهَا عَشْرَ سَيِّئَاتٍ وَرَفَعَهُ اللَّهُ بِهَا عَشْرَ دَرَجَاتٍ وَكُنَّ لَهُ كَعَشْرِ رِقَابٍ وَكُنَّ لَهُ مَسْلَحَةً مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ إِلَى آخِرِهِ وَلَمْ يَعْمَلْ يَوْمَئِذٍ عَمَلًا يَقْهَرُهُنَّ فَإِنْ قَالَ حِينَ يُمْسِي فَمِثْلُ ذَلِكَ

حضرت ابوایوب انصاری ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص دس مرتبہ یہ کلمات کہہ لے " لا الہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ لہ الملک ولہ الحمد یحییٰ ویمیت وہو علی کل شی قدیر " تو اللہ تعالیٰ ہر مرتبہ کے عوض اس کے لئے دس نیکیاں لکھ دے گا دس گناہ معاف فرما دے گا دس درجات بلند کر دے گا اور یہ دس غلاموں کو آزاد کرنے کی طرح ہوگا اور وہ دن کے آغاز سے اختتام تک اس کا ہتھیار ہوجائیں گے اور اس دن کوئی شخص ایسا عمل نہیں کرسکے جو اس پر غالب آجائے اور اگر شام کے وقت کہہ لے تب بھی اسی طرح ہوگا۔

22470Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوایوب انصاری (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ أَنَّ أَسْلَمَ أَبَا عِمْرَانَ حَدَّثَهُمْ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا أَيُّوبَ يَقُولُ صَفَفْنَا يَوْمَ بَدْرٍ فَبَدَرَتْ مِنَّا بَادِرَةٌ أَمَامَ الصَّفِّ فَنَظَرَ إِلَيْهِمْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَعِي مَعِي

حضرت ابو ایوب انصاری ؓ سے مروی ہے کہ ہم لوگوں نے جنگ بدر کے دن صف بندی کی تو ہم میں سے ایک آدمی صف سے آگے نکل گیا نبی کریم ﷺ نے اسے دیکھ کر فرمایا میرے ساتھ رہو میرے ساتھ رہو۔

22471Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوایوب انصاری (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ يَزِيدَ عَنْ أَبِي الْخَيْرِ عَنْ أَبِي رُهْمٍ السَّمَعِيِّ أَنَّ أَبَا أَيُّوبَ حَدَّثَهُ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ فِي بَيْتِنَا الْأَسْفَلِ وَكُنْتُ فِي الْغُرْفَةِ فَأُهْرِيقَ مَاءٌ فِي الْغُرْفَةِ فَقُمْتُ أَنَا وَأُمُّ أَيُّوبَ بِقَطِيفَةٍ لَنَا نَتْبَعُ الْمَاءَ شَفَقَةَ يَخْلُصُ الْمَاءُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَزَلْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مُشْفِقٌ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ لَيْسَ يَنْبَغِي أَنْ نَكُونَ فَوْقَكَ انْتَقِلْ إِلَى الْغُرْفَةِ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَتَاعِهِ فَنُقِلَ وَمَتَاعُهُ قَلِيلٌ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كُنْتَ تُرْسِلُ إِلَيَّ بِالطَّعَامِ فَأَنْظُرُ فَإِذَا رَأَيْتُ أَثَرَ أَصَابِعِكَ وَضَعْتُ يَدِي فِيهِ حَتَّى إِذَا كَانَ هَذَا الطَّعَامُ الَّذِي أَرْسَلْتَ بِهِ إِلَيَّ فَنَظَرْتُ فِيهِ فَلَمْ أَرَ فِيهِ أَثَرَ أَصَابِعِكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجَلْ إِنَّ فِيهِ بَصَلًا فَكَرِهْتُ أَنْ آكُلَهُ مِنْ أَجْلِ الْمَلَكِ الَّذِي يَأْتِينِي وَأَمَّا أَنْتُمْ فَكُلُوهُ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ قُلْتُ لِأَبِي إِنَّ رَجُلًا قَالَ مَنْ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ فِي الْمَسْجِدِ لَمْ يُجْزِهِ إِلَّا أَنْ يُصَلِّيَهَا فِي بَيْتِهِ لِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ هَذِهِ مِنْ صَلَوَاتِ الْبُيُوتِ قَالَ مَنْ قَالَ هَذَا قُلْتُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ مَا أَحْسَنَ مَا قَالَ أَوْ قَالَ مَا أَحْسَنَ مَا نَقَلَ

حضرت ابوایوب انصاری ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ ہمارے گھر کی نچلی منزل میں فروکش ہوئے اور میں بالا خانے میں رہتا تھا ایک دن میرے کمرے میں پانی گرگیا، تو میں اور ام ایوب ایک چادر لے کر پانی خشک کرنے لگے تاکہ وہ چھت سے ٹپک کر نبی کریم ﷺ پر نہ گرنے لگے پھر میں ڈرتا ڈرتا نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ! ﷺ یہ بات مناسب نہیں ہے کہ ہم آپ کے اوپر رہیں آپ اوپر منتقل ہوجائیے چناچہ نبی کریم ﷺ کے حکم پر آپ کا سامان " جو یوں بھی بہت تھوڑا تھا " اوپر منتقل کردیا گیا۔ پھر میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! ﷺ آپ مجھے پہلے جو کھانا بھجواتے تھے میں اسے دیکھتا تھا اور جہاں آپ کی انگلیوں کے نشانات محسوس ہوتے میں اپنا ہاتھ وہیں رکھتا تھا لیکن آج جو کھانا آپ نے مجھے بھجوایا ہے اس میں دیکھنے کے بعد بھی مجھے آپ کی انگلیوں کے نشانات نظر نہیں آئے نبی کریم ﷺ نے فرمایا یہ بات صحیح ہے دراصل اس میں پیاز تھا جسے کھانا مجھے پسند نہیں ہے جس کی وجہ وہ فرشتہ ہے جو میرے پاس آتا ہے البتہ تم اسے کھاسکتے ہو۔

22472Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوایوب انصاری (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي يَحْيَى عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَمَسَّ مِنْ طِيبٍ إِنْ كَانَ عِنْدَهُ وَلَبِسَ مِنْ أَحْسَنِ ثِيَابِهِ ثُمَّ خَرَجَ حَتَّى يَأْتِيَ الْمَسْجِدَ فَيَرْكَعَ إِنْ بَدَا لَهُ وَلَمْ يُؤْذِ أَحَدًا ثُمَّ أَنْصَتَ إِذَا خَرَجَ إِمَامُهُ حَتَّى يُصَلِّيَ كَانَتْ كَفَّارَةً لِمَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ الْأُخْرَى و قَالَ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ السُّلَمِيَّ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا أَيُّوبَ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَزَادَ فِيهِ ثُمَّ خَرَجَ وَعَلَيْهِ السَّكِينَةُ حَتَّى يَأْتِيَ الْمَسْجِدَ

حضرت ابو عبدالرحمن کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد امام احمد (رح) سے عرض کیا کہ ایک کہتا ہے جو شخص مغرب کے بعد مسجد ہی میں دو رکعتیں پڑھتا ہے تو یہ جائز نہیں ہے الاّ یہ کہ وہ گھر میں پڑھے کیونکہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے یہ گھر کی نمازوں میں سے ہے انہوں نے پوچھا کہ یہ کون کہتا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ محمد بن عبدالرحمن انہوں نے فرمایا خوب کہا۔

22473Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوایوب انصاری (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِجَمْعٍ

حضرت ابوایوب ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص جمعہ کے دن غسل کرے یا طہارت حاصل کرے اور خوب اچھی طرح کرے عمدہ کپڑے پہنے خوشبو یا تیل لگائے پھر جمعہ کے لئے آئے مسجد پہنچ کر وقت ہو تو نماز پڑھے کوئی لغو حرکت نہ کرے کسی کو تکلیف نہ دے جب امام نکل آئے تو خاموش رہے اس کے اگلے جمعہ تک سارے گناہوں کا کفارہ ہوجائے گا۔

22474Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوایوب انصاری (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَجَّاجِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُبَارَكٍ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ جَابِرٍ عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْخَطْمِيِّ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِإِقَامَةٍ

حضرت ابوایوب انصاری ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے میدان مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نماز اکٹھی ادا فرمائی۔

22475Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوایوب انصاری (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ قَالَ رَأَيْتُ أَبَا أَيُّوبَ فَنَزَعَ خُفَّيْهِ فَنَظَرُوا إِلَيْهِ فَقَالَ أَمَا إِنِّي قَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ عَلَيْهِمَا وَلَكِنْ حُبِّبَ إِلَيَّ الْوُضُوءُ

علی بن مدرک کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت ابو ایوب ؓ کو وضو کے دوران موزے اتارتے ہوئے دیکھا لوگ بھی انہیں تعجب سے دیکھنے لگے تو انہوں نے فرمایا کہ یہ بات تو یقینی ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو موزوں پر مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے البتہ مجھے پاؤں دھونا زیادہ اچھا لگتا ہے۔

22476Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوایوب انصاری (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ السَّائِبَةِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سُعَادَ وَكَانَ مَرْضِيًّا مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمَاءُ مِنْ الْمَاءِ

حضرت ابوایوب انصاری ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا وجوب غسل خروج منیٰ پر ہوتا ہے۔

22477Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوایوب انصاری (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ يَرْوِيهِ قَالَ لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ يَلْتَقِيَانِ فَيَصُدُّ هَذَا وَيَصُدُّ هَذَا وَخَيْرُهُمَا الَّذِي يَبْدَأُ بِالسَّلَامِ

حضرت ابوایوب انصاری ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کسی مسلمان کے لئے حلال نہیں ہے کہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ قطع کلامی رکھے کہ ایک دوسرے سے ملیں تو وہ ادھر منہ کرلے اور وہ ادھر اور ان دونوں میں سے بہترین وہ ہوگا جو سلام میں پہل کرے۔

22478Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوایوب انصاری (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ الْغَائِطَ فَلَا يَسْتَقْبِلْ الْقِبْلَةَ وَلَا يَسْتَدْبِرْهَا وَلَكِنْ لِيُشَرِّقْ أَوْ لِيُغَرِّبْ قَالَ أَبُو أَيُّوبَ فَلَمَّا قَدِمْنَا الشَّامَ وَجَدْنَا مَرَاحِيضَ جُعِلَتْ نَحْوَ الْقِبْلَةِ فَنَنْحَرِفُ وَنَسْتَغْفِرُ اللَّهَ

حضرت ابو ایوب انصاری ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص بیت الخلاء جائے تو قبلہ کی جانب رخ نہ کرے بلکہ مشرق یا مغرب کی جانب ہوجائے لیکن جب ہم شام پہنچے تو وہاں کے بیت الخلاء سمت قبلہ میں بنے ہوئے پائے ہم ان میں رخ پھیر کر بیٹھتے تھے اور استغفار کرتے تھے۔

22479Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوایوب انصاری (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ وَثَنا حَجَّاجٌ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ وَرَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ مَوْلَى آلِ عَيَّاشٍ وَقَالَ رَوْحٌ مَوْلَى عَبَّاسٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ عَنْ أَبِيهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ قَالَ كُنْتُ مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ وَالْمِسْوَرِ بِالْأَبْوَاءِ فَتَحَدَّثْنَا حَتَّى ذَكَرْنَا غَسْلَ الْمُحْرِمِ رَأْسَهُ فَقَالَ الْمِسْوَرُ لَا وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ بَلَى فَأَرْسَلَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ إِلَى أَبِي أَيُّوبَ يَقْرَأُ عَلَيْكَ ابْنُ أَخِيكَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ السَّلَامَ وَيَسْأَلُكَ كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْسِلُ رَأْسَهُ مُحْرِمًا قَالَ فَوَجَدَهُ يَغْتَسِلُ بَيْنَ قَرْنَيْ بِئْرٍ قَدْ سُتِرَ عَلَيْهِ بِثَوْبٍ فَلَمَّا اسْتَبَنْتُ لَهُ ضَمَّ الثَّوْبَ إِلَى صَدْرِهِ حَتَّى بَدَا لِي وَجْهُهُ وَرَأَيْتُهُ وَإِنْسَانٌ قَائِمٌ يَصُبُّ عَلَى رَأْسِهِ الْمَاءَ قَالَ فَأَشَارَ أَبُو أَيُّوبَ بِيَدَيْهِ عَلَى رَأْسِهِ جَمِيعًا عَلَى جَمِيعِ رَأْسِهِ فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ فَقَالَ الْمِسْوَرُ لِابْنِ عَبَّاسٍ لَا أُمَارِيكَ أَبَدًا قَالَ الْحَجَّاجُ وَرَوْحٌ فَلَمَّا انْتَسَبْتُ لَهُ وَسَأَلْتُهُ ضَمَّ الثَّوْبَ إِلَى صَدْرِهِ حَتَّى بَدَا لِي رَأْسُهُ وَوَجْهُهُ وَإِنْسَانٌ قَائِمٌ

عبداللہ بن حنین کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں مقام ابواء میں حضرت ابن عباس اور مسور ؓ کے ساتھ تھا ہم لوگ باتیں کر رہے تھے کہ محرم کے سرد ھونے کا ذ کر آگیا حضرت مسور ؓ نے اس کی اجازت کی نفی کی اور حضرت ابن عباس ؓ نے اس کی اجازت دی پھر حضرت ابن عباس ؓ نے مجھے حضرت ابوایوب ؓ کے پاس یہ پیغام دے کر بھیجا کہ آپ کا بھتیجا عبداللہ بن عباس آپ کو سلام کہتا ہے اور آپ سے پوچھ رہا ہے کہ نبی کریم ﷺ حالت احرام میں اپنا سر کس طرح دھوتے تھے؟ عبداللہ بن حنین وہاں پہنچے تو حضرت ابوایوب ؓ کو ایک کنوئیں کے دو کناروں کے درمیان ایک کپڑے کا پردہ لٹکا کر غسل کرتے ہوئے پایا جب میں نے ان سے اس کی وضاحت پوچھی تو انہوں نے اپنے سینے پر کپڑا لپیٹا اور اپنا چہرہ باہر نکالا میں نے دیکھا کہ ایک آدمی ان کے سر پر پانی بہار ہا ہے حضرت ابوایوب ؓ نے اپنے ہاتھوں سے اپنے پورے سر کی طرف اشارہ کیا اور آگے پیچھے ہاتھوں کو پھیرا یہ معلوم ہونے پر حضرت مسور ؓ نے حضرت ابن عباس ؓ سے فرمایا کہ آئندہ میں کبھی آپ سے اختلاف نہیں کروں گا۔

22480Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوایوب انصاری (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ سَمِعْتُ أَبَا أَيُّوبَ يُخْبِرُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَسْتَقْبِلُوا الْقِبْلَةَ بِغَائِطٍ وَلَا بَوْلٍ وَلَكِنْ شَرِّقُوا أَوْ غَرِّبُوا قَالَ أَبُو أَيُّوبَ فَقَدِمْنَا الشَّامَ فَوَجَدْنَا مَرَاحِيضَ جُعِلَتْ نَحْوَ الْقِبْلَةِ فَنَنْحَرِفُ وَنَسْتَغْفِرُ اللَّهَ

حضرت ابوایوب انصاری ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص بیت الخلاء جائے تو قبلہ کی جانب رخ نہ کرے بلکہ مشرق یا مغرب کی جانب ہوجائے لیکن جب ہم شام پہنچے تو وہاں کے بیت الخلاء سمت قبلہ میں بنے ہوئے پائے ہم ان میں رخ پھیر کر بیٹھتے تھے اور استغفار کرتے تھے۔

22481Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوایوب انصاری (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ رَجُلٍ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلُّوا الْمَغْرِبَ لِفِطْرِ الصَّائِمِ وَبَادِرُوا طُلُوعَ النُّجُومِ

حضرت ابوایوب انصاری ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا نماز مغرب افطاری کے وقت اور ستارے نکلنے سے پہلے پڑھنے میں سبقت کیا کرو۔

22482Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوایوب انصاری (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ عَنْ مَكْحُولٍ وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ حَجَّاجٍ عَنْ مَكْحُولٍ قَالَ قَالَ أَبُو أَيُّوبَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعٌ مِنْ سُنَنِ الْمُرْسَلِينَ التَّعَطُّرُ وَالنِّكَاحُ وَالسِّوَاكُ وَالْحَيَاءُ

حضرت ابوایوب انصاری ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا چار چیزیں تمام پیغمبروں کی سنت ہیں خوشبو لگانا، نکاح کرنا، مسواک اور مہندی لگانا۔

22483Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوایوب انصاری (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَدِمَ عَلَيْنَا أَبُو أَيُّوبَ وَعُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ يَوْمَئِذٍ عَلَى مِصْرَ فَأَخَّرَ الْمَغْرِبَ فَقَامَ إِلَيْهِ أَبُو أَيُّوبَ فَقَالَ مَا هَذِهِ الصَّلَاةُ يَا عُقْبَةُ قَالَ شُغِلْنَا قَالَ أَمَا وَاللَّهِ مَا بِي إِلَّا أَنْ يَظُنَّ النَّاسُ أَنَّكَ رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ هَذَا أَمَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا تَزَالُ أُمَّتِي بِخَيْرٍ أَوْ عَلَى الْفِطْرَةِ مَا لَمْ يُؤَخِّرُوا الْمَغْرِبَ إِلَى أَنْ تَشْتَبِكَ النُّجُومُ

مرثد بن عبداللہ یزنی (رح) کہتے ہیں کہ ہمارے یہاں مصر میں نبی کریم ﷺ کے صحابی حضرت ابوایوب انصاری ؓ جہاد کے سلسلے میں تشریف لائے اس وقت حضرت امیر معاویہ ؓ نے ہمارا امیر حضرت عقبہ بن عامر جہنی ؓ کو مقرر کیا ہوا تھا، ایک دن حضرت عقبہ ؓ کو نماز مغرب میں تاخیر ہوگئی نماز سے فراغت کے بعد حضرت ابوایوب ؓ ان کے پاس گئے اور فرمایا اے عقبہ! کیا آپ نے نبی کریم ﷺ کو نماز مغرب اسی طرح پڑھتے ہوئے دیکھا ہے؟ کیا آپ نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا کہ میری امت اس وقت تک خیر پر رہے گی جب تک وہ نماز مغرب کو ستاروں کے نکلنے تک مؤخر نہیں کرے گی؟