حضرت حذیفہ بن یمان (رض) کی مرویات

Musnad Imam Ahmad · Chapter 911 · 212 hadiths · Page 4 of 11

22220Musnad Imam Ahmad

حضرت حذیفہ بن یمان (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ أَبُو سَعِيدٍ الْأَحْوَلُ عَنِ الْأَعْمَشِ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ مُنْذُ نَحْوِ سِتِّينَ سَنَةٍ عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ مَرَّ رَجُلٌ عَلَى حُذَيْفَةَ فَقِيلَ إِنَّ هَذَا يَرْفَعُ الْحَدِيثَ إِلَى الْأُمَرَاءِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَوْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَتَّاتٌ

حضرت حذیفہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا چغل خور جنت میں داخل نہ ہوگا۔

22221Musnad Imam Ahmad

حضرت حذیفہ بن یمان (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يَذْكُرُ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ السَّاعَةِ فَقَالَ عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّي لَا يُجَلِّيهَا لِوَقْتِهَا إِلَّا هُوَ وَلَكِنْ أُخْبِرُكُمْ بِمَشَارِيطِهَا وَمَا يَكُونُ بَيْنَ يَدَيْهَا إِنَّ بَيْنَ يَدَيْهَا فِتْنَةً وَهَرْجًا قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ الْفِتْنَةُ قَدْ عَرَفْنَاهَا فَالْهَرْجُ مَا هُوَ قَالَ بِلِسَانِ الْحَبَشَةِ الْقَتْلُ وَيُلْقَى بَيْنَ النَّاسِ التَّنَاكُرُ فَلَا يَكَادُ أَحَدٌ أَنْ يَعْرِفَ أَحَدًا

حضرت حذیفہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ سے قیامت کے متعلق پوچھا گیا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا اس کا علم تو میرے رب کے پاس ہے وہی اسے اس کے وقت پر ظاہر کرے گا البتہ میں تمہیں اس کی کچھ علامات بتائے دیتا ہوں اور یہ کہ اس سے پہلے کیا ہوگا؟ قیامت سے پہلے فتنے ہوں گے اور " ہرج " ہوگا لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! فتنہ کا معنی تو ہم سمجھ گئے ہرج سے کیا مراد ہے؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اہل حبش کی زبان میں اس کا معنی قتل ہوتا ہے اور لوگوں میں اجنبیت پیدا ہوجائے گی اور کوئی کسی کو نہیں پہچانے گا۔

22222Musnad Imam Ahmad

حضرت حذیفہ بن یمان (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ رِبْعِيٍّ قَالَ سَمِعْتُ رَجُلًا فِي جِنَازَةِ حُذَيْفَةَ يَقُولُ سَمِعْتُ صَاحِبَ هَذَا السَّرِيرِ يَقُولُ مَا بِي بَأْسٌ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَئِنْ اقْتَتَلْتُمْ لَأَدْخُلَنَّ بَيْتِيَ فَلَئِنْ دُخِلَ عَلَيَّ لَأَقُولَنَّ هَا بُؤْ بِإِثْمِي وَإِثْمِكَ

ربعی (رح) کہتے ہیں کہ میں نے حضرت حذیفہ ؓ کے جنازے میں ایک آدمی کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے چارپائی پر لیٹے ہوئے اس شخص سے سنا ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے یہ حدیث سنی ہے مجھے اس میں کوئی حرج محسوس نہیں ہوتا کہ اگر تم لوگ لڑنے لگو گے تو میں اپنے گھر میں داخل ہوجاؤں گا اگر کوئی میرے گھر میں بھی آگیا تو میں اسے کہہ دوں گا کہ آؤ اور میرا اور اپنا گناہ لے کر لوٹ جاؤ۔

22223Musnad Imam Ahmad

حضرت حذیفہ بن یمان (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ أَتَيْنَا حُذَيْفَةَ فَقُلْنَا دُلَّنَا عَلَى أَقْرَبِ النَّاسِ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَدْيًا وَسَمْتًا وَوَلَاءً نَأْخُذْ عَنْهُ وَنَسْمَعْ مِنْهُ فَقَالَ كَانَ أَقْرَبَ النَّاسِ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَدْيًا وَسَمْتًا وَدَلًّا ابْنُ أُمِّ عَبْدٍ حَتَّى يَتَوَارَى عَنِّي فِي بَيْتِهِ وَلَقَدْ عَلِمَ الْمَحْفُوظُونَ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ أَنَّ ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ مِنْ أَقْرَبِهِمْ إِلَى اللَّهِ زُلْفَةً

عبدالرحمن بن یزید کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت حذیفہ ؓ کے پاس گئے اور ان سے کہا کہ ہمیں کسی ایسے آدمی کا پتہ بتائیے جو طور طریقوں اور سیرت میں نبی کریم ﷺ کے سب سے زیادہ قریب ہوتا کہ ہم ان سے یہ طریقے اخذ کرسکیں اور ان کی باتیں سن سکیں انہوں نے فرمایا کہ طور طریقوں اور سیرت میں نبی کریم ﷺ کے سب سے زیادہ قریب حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ تھے یہاں تک کہ وہ مجھ سے چھپ کر اپنے گھر میں بیٹھ گئے حالانکہ نبی کریم ﷺ کے محفوظ صحابہ جانتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ ان سب سے زیادہ نبی کریم ﷺ کے قریب تھے۔

22224Musnad Imam Ahmad

حضرت حذیفہ بن یمان (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقَامًا مَا تَرَكَ فِيهِ شَيْئًا يَكُونُ قَبْلَ السَّاعَةِ إِلَّا قَدْ ذَكَرَهُ حَفِظَهُ مَنْ حَفِظَهُ وَنَسِيَهُ مَنْ نَسِيَهُ إِنِّي لَأَرَى الشَّيْءَ فَأَذْكُرُهُ كَمَا يَعْرِفُ الرَّجُلُ وَجْهَ الرَّجُلِ غَابَ عَنْهُ ثُمَّ رَآهُ فَعَرَفَهُ

حضرت حذیفہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور قیامت تک پیش آنے والا کوئی واقعہ ایسا نہ چھوڑا جو اسی جگہ کھڑے کھڑے بیان نہ کردیا ہو جس نے اسے یاد رکھا سو یاد رکھا اور جو بھول گیا سو بھول گیا اور میں بہت سی ایسی چیزیں دیکھتا ہوں جو میں بھول چکا ہوتا ہوں لیکن پھر انہیں دیکھ کر پہچان لیتا ہوں جیسے کوئی آدمی غائب ہو اور دوسرا آدمی اسے دیکھ کر اسے اس کے چہرے سے ہی پہچان لیتا ہے۔

22225Musnad Imam Ahmad

حضرت حذیفہ بن یمان (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ هَمَّامٍ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ كَانَ رَجُلٌ يَرْفَعُ إِلَى عُثْمَانَ الْأَحَادِيثَ مِنْ حُذَيْفَةَ قَالَ حُذَيْفَةُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَتَّاتٌ يَعْنِي نَمَّامًا

حضرت حذیفہ بن یمان ؓ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ چغل خور جنت میں داخل نہ ہوگا۔

22226Musnad Imam Ahmad

حضرت حذیفہ بن یمان (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُبَيْدَةَ عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ عَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا مَرَّ بِآيَةِ خَوْفٍ تَعَوَّذَ وَإِذَا مَرَّ بِآيَةِ رَحْمَةٍ سَأَلَ قَالَ وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَكَعَ قَالَ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ وَإِذَا سَجَدَ قَالَ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى

حضرت حذیفہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی نبی کریم اپنے رکوع میں " سبحان ربی العظیم اور سجدہ میں " سبحان ربی الاعلیٰ کہتے رہے اور رحمت کی جس آیت پر گذرتے وہاں رک کر دعا مانگتے اور عذاب کی جس آیت پر گذرتے تو وہاں رک کر اس سے پناہ مانگتے تھے۔

22227Musnad Imam Ahmad

حضرت حذیفہ بن یمان (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا رَزِينٌ الْجُهَنِيُّ حَدَّثَنِي أَبُو الرُّقَادِ قَالَ خَرَجْتُ مَعَ مَوْلَايَ وَأَنَا غُلَامٌ فَدُفِعْتُ إِلَى حُذَيْفَةَ وَهُوَ يَقُولُ إِنْ كَانَ الرَّجُلُ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَصِيرُ مُنَافِقًا وَإِنِّي لَأَسْمَعُهَا مِنْ أَحَدِكُمْ فِي الْمَقْعَدِ الْوَاحِدِ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ لَتَأْمُرُنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَلَتَنْهَوُنَّ عَنْ الْمُنْكَرِ وَلَتَحَاضُّنَّ عَلَى الْخَيْرِ أَوْ لَيُسْحِتَنَّكُمْ اللَّهُ جَمِيعًا بِعَذَابٍ أَوْ لَيُؤَمِّرَنَّ عَلَيْكُمْ شِرَارَكُمْ ثُمَّ يَدْعُو خِيَارُكُمْ فَلَا يُسْتَجَابُ لَكُمْ

حضرت حذیفہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کے دور باسعادت میں بعض اوقات انسان کوئی جملہ بولتا تھا اور اس کی وجہ سے منافق ہوجاتا تھا اور اب ایک ایک مجلس میں اس طرح کے دسیوں کلمات میں روزانہ سنتا ہوں۔ تم لوگ امر بالمعروف کرتے رہو اور نہی عن المنکر کرتے رہو ورنہ اللہ تم پر ایسا عذاب مسلط کر دے گا کہ تم اللہ سے دعائیں کرو گے لیکن تمہاری دعائیں قبول نہ ہوں گی۔

22228Musnad Imam Ahmad

حضرت حذیفہ بن یمان (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا زَائِدَةُ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ شَقِيقٍ قَالَ سَمِعْتُ حُذَيْفَةَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ لِلتَّهَجُّدِ يَشُوصُ فَاهُ بِالسِّوَاكِ

حضرت حذیفہ بن یمان ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ رات کو جب بیدار ہوتے تو سب سے پہلے مسواک فرماتے تھے۔

22229Musnad Imam Ahmad

حضرت حذیفہ بن یمان (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي غَنِيَّةَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ الْحَكَمِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا تَشْرَبُوا فِي الذَّهَبِ وَلَا فِي الْفِضَّةِ وَلَا تَلْبَسُوا الْحَرِيرَ وَالدِّيبَاجَ فَإِنَّهَا لَهُمْ فِي الدُّنْيَا وَهِيَ لَكُمْ فِي الْآخِرَةِ

حضرت حذیفہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ریشم و دیبا پہننے سے اور سونے چاندی کے برتن استعمال کرنے سے منع کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ یہ چیزیں دنیا میں کافروں کے لئے ہیں اور آخرت میں ہمارے لئے ہیں۔

22230Musnad Imam Ahmad

حضرت حذیفہ بن یمان (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ عَنْ ثَابِتِ ابْنِ وَدِيعَةَ أَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي فَزَارَةَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِضِبَابٍ قَدْ احْتَرَشَهَا قَالَ فَجَعَلَ يُقَلِّبُ ضَبًّا مِنْهَا بَيْنَ يَدَيْهِ فَقَالَ أُمَّةٌ مُسِخَتْ قَالَ وَأَكْبَرُ عِلْمِي أَنَّهُ قَالَ مَا أَدْرِي مَا فَعَلَتْ قَالَ وَمَا أَدْرِي لَعَلَّ هَذَا مِنْهَا و قَالَ شُعْبَةُ سَمِعْتُهُ و قَالَ حُصَيْنٌ عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ وَذَكَرَ شَيْئًا نَحْوًا مِنْ هَذَا قَالَ فَلَمْ يَأْمُرْ بِهِ وَلَمْ يَنْهَ أَحَدًا

حضرت ثابت ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں ایک آدمی چند عدد گوہ شکار کر کے لایا نبی کریم ﷺ نے ان میں سے ایک گوہ کو الٹ پلٹ کر دیکھا اور فرمایا کہ ایک امت کی شکلیں مسخ کردی تھیں مجھے معلوم نہیں کہ شاید یہ وہی ہو۔

22231Musnad Imam Ahmad

حضرت حذیفہ بن یمان (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ انْطَلَقْتُ أَنَا وَعَمْرُو بْنُ صُلَيْعٍ حَتَّى أَتَيْنَا حُذَيْفَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ هَذَا الْحَيَّ مِنْ مُضَرَ لَا تَدَعُ لِلَّهِ فِي الْأَرْضِ عَبْدًا صَالِحًا إِلَّا فَتَنَتْهُ وَأَهْلَكَتْهُ حَتَّى يُدْرِكَهَا اللَّهُ بِجُنُودٍ مِنْ عِبَادِهِ فَيُذِلَّهَا حَتَّى لَا تَمْنَعَ ذَنَبَ تَلْعَةٍ

حضرت حذیفہ ؓ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے قبیلہ مضر زمین پر اللہ کا کوئی نیک بندہ ایسا نہیں چھوڑے گا جسے وہ فتنے میں نہ ڈال دے اور اسے ہلاک نہ کر دے حتی کہ اللہ اس پر اپنا ایک لشکر مسلط کر دے گا جو اسے ذلیل کر دے گا اور اسے کسی ٹیلے کا دامن بھی نہ بچاسکے گا۔

22232Musnad Imam Ahmad

حضرت حذیفہ بن یمان (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ زِرٍّ عَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَيْنَ حَوْضِي كَمَا بَيْنَ أَيْلَةَ وَمُضَرَ آنِيَتُهُ أَكْثَرُ أَوْ قَالَ مِثْلُ عَدَدِ نُجُومِ السَّمَاءِ مَاؤُهُ أَحْلَى مِنْ الْعَسَلِ وَأَشَدُّ بَيَاضًا مِنْ اللَّبَنِ وَأَبْرَدُ مِنْ الثَّلْجِ وَأَطْيَبُ مِنْ الْمِسْكِ مَنْ شَرِبَ مِنْهُ لَمْ يَظْمَأْ بَعْدَهُ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ زِرٍّ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ مَا بَيْنَ طَرَفَيْ حَوْضِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كأَيْلَةَ وَمُضَرَ فَذَكَرَهُ وَكَذَا قَالَ يُونُسُ كَمَا قَالَ عَفَّانُ

حضرت حذیفہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا میرے حوض کی مسافت اتنی ہے جتنی ایلہ اور مضر کے درمیان ہے اس کے برتن آسمانوں کے ستاروں سے بھی زیادہ ہوں گے اس کا پانی شہد سے زیادہ شیریں دودھ سے زیادہ سفید برف سے زیادہ ٹھنڈا اور مشک سے زیادہ مہک والا ہوگا جو شخص ایک مرتبہ اس کا پانی پی لے گا وہ اس کے بعد کبھی پیاسا نہ ہوگا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

22233Musnad Imam Ahmad

حضرت حذیفہ بن یمان (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ قَيْسٍ قَالَ قُلْتُ لِعَمَّارٍ أَرَأَيْتُمْ صَنِيعَكُمْ هَذَا الَّذِي صَنَعْتُمْ فِيمَا كَانَ مِنْ أَمْرِ عَلِيٍّ رَأْيًا رَأَيْتُمُوهُ أَمْ شَيْئًا عَهِدَ إِلَيْكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَمْ يَعْهَدْ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا لَمْ يَعْهَدْهُ إِلَى النَّاسِ كَافَّةً وَلَكِنَّ حُذَيْفَةَ أَخْبَرَنِي عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي أَصْحَابِي اثْنَا عَشَرَ مُنَافِقًا مِنْهُمْ ثَمَانِيَةٌ لَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّى يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِيَاطِ

قیس بن عبادہ (رح) کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمار بن یاسر ؓ سے پوچھا اے ابوالیقظان! یہ بتائیے کہ جس مسئلے میں آپ لوگ پڑچکے ہیں وہ آپ کی اپنی رائے ہے یا نبی کریم ﷺ کی کوئی وصیت ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ نے ہمیں خصوصیت کے ساتھ ایسی کوئی وصیت نہیں فرمائی جو عام لوگوں کو نہ کی ہو نبی کریم ﷺ نے فرمایا تھا میری امت میں بارہ منافق ہوں گے ان میں سے آٹھ لوگ وہ ہوں گے جو جنت میں داخل ہوں گے اور نہ اس کی مہک پائیں گے یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں داخل ہوجائے۔

22234Musnad Imam Ahmad

حضرت حذیفہ بن یمان (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ زِرٍّ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ لَمْ يُصَلِّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ وَلَوْ صَلَّى فِيهِ لَكُتِبَ عَلَيْكُمْ صَلَاةُ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت حذیفہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے بیت المقدس میں نماز نہیں پڑھی تھی اگر نبی کریم ﷺ وہاں نماز پڑھ لیتے تو تم پر بھی وہ نماز فرض ہوجاتی۔

22235Musnad Imam Ahmad

حضرت حذیفہ بن یمان (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ وَأَبُو نُعَيْمٍ قَالَا حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ يَعْنِي ابْنَ جُمَيْعٍ قَالَ أَبُو نُعَيْمٍ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ مِثْلَ جُمَيْعٍ حَدَّثَنَا أَبُو الطُّفَيْلِ قَالَ كَانَ بَيْنَ حُذَيْفَةَ وَبَيْنَ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْعَقَبَةِ مَا يَكُونُ بَيْنَ النَّاسِ فَقَالَ أَنْشُدُكَ اللَّهَ كَمْ كَانَ أَصْحَابُ الْعَقَبَةِ فَقَالَ لَهُ الْقَوْمُ أَخْبِرْهُ إِذْ سَأَلَكَ قَالَ إِنْ كُنَّا نُخْبَرُ أَنَّهُمْ أَرْبَعَةَ عَشَرَ وَقَالَ أَبُو نُعَيْمٍ فَقَالَ الرَّجُلُ كُنَّا نُخْبَرُ أَنَّهُمْ أَرْبَعَةَ عَشَرَ قَالَ فَإِنْ كُنْتَ مِنْهُمْ وَقَالَ أَبُو نُعَيْمٍ فِيهِمْ فَقَدْ كَانَ الْقَوْمُ خَمْسَةَ عَشَرَ وَأَشْهَدُ بِاللَّهِ أَنَّ اثْنَيْ عَشَرَ مِنْهُمْ حَرْبٌ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الْأَشْهَادُ قَالَ أَبُو أَحْمَدَ الْأَشْهَادُ وَعَدَّنَا ثَلَاثَةً قَالُوا مَا سَمِعْنَا مُنَادِيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا عَلِمْنَا مَا أَرَادَ الْقَوْمُ قَالَ أَبُو أَحْمَدَ فِي حَدِيثِهِ وَقَدْ كَانَ فِي حَرَّةٍ فَمَشَى فَقَالَ لِلنَّاسِ إِنَّ الْمَاءَ قَلِيلٌ فَلَا يَسْبِقْنِي إِلَيْهِ أَحَدٌ فَوَجَدَ قَوْمًا قَدْ سَبَقُوهُ فَلَعَنَهُمْ يَوْمَئِذٍ

ابوالطفیل کہتے ہیں کہ حضرت حذیفہ ؓ اور بیعت عقبہ میں شریک ہونے والے ایک صحابی ؓ کے درمیان کچھ معمولی سی تکرار ہوگئی تھی جیسا کہ لوگوں میں ہوجاتی ہے انہوں نے پوچھا کہ میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ بیعت عقبہ میں شریک ہونے والے لوگ کتنے تھے؟ لوگوں نے حضرت حذیفہ ؓ سے کہا کہ جب یہ آپ سے پوچھ رہے ہیں تو آپ انہیں بتا دیجئے انہوں نے فرمایا کہ ہمیں تو یہی بتایا گیا ہے کہ وہ چودہ آدمی تھے اگر آپ بھی ان میں شامل ہوں تو ان کی تعداد پندرہ ہوجاتی ہے اور میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ ان میں بارہ آدمی دنیا کی زندگی اور گواہوں کے اٹھنے کے دن اللہ اور اس کے رسول کے لئے جنگ ہیں۔ اور تین لوگوں کی طرف سے عذر بیان کیا جنہوں نے یہ کہا تھا کہ ہم نے نبی کریم ﷺ کے منادی کا اعلان نہیں سنا تھا اور ہمیں معلوم نہ تھا کہ لوگ کیا چاہتے ہیں اس کی وضاحت ابو احمد کی حدیث میں ہے کہ ایک مرتبہ سخت گرمی کے موسم میں نبی کریم ﷺ روانہ ہوئے اور لوگوں سے فرما دیا کہ پانی بہت تھوڑا ہے لہٰذا اس مقام پر مجھ سے پہلے کوئی نہ پہنچے لیکن جب نبی کریم ﷺ وہاں پہنچے تو دیکھا کہ کچھ لوگ ان سے پہلے وہاں پہنچ چکے ہیں نبی کریم ﷺ نے انہیں لعنت ملامت کی۔

22236Musnad Imam Ahmad

حضرت حذیفہ بن یمان (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ أَوْسٍ عَنْ بِلَالٍ الْعَبْسِيِّ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ مَا أَخْبِيَةٌ بَعْدَ أَخْبِيَةٍ كَانَتْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَ يُدْفَعُ عَنْهَا مِنْ الْمَكْرُوهِ أَكْثَرَ مِنْ أَخْبِيَةٍ وُضِعَتْ فِي هَذِهِ الْبُقْعَةِ

حضرت حذیفہ ؓ سے مروی ہے کہ ان خیموں کے بعد کوئی خیمے نہ رہے جو نبی کریم ﷺ کے ساتھ بدر میں تھے اور جس طرح ان کا دفاع ہوا کسی اور کا دفاع نہ ہوسکا اور جب بھی کوئی قوم ان کے ساتھ برا ارادہ کرتی تو کوئی نہ کوئی چیز انہیں اپنی طرف مشغول کرلیتی تھی۔

22237Musnad Imam Ahmad

حضرت حذیفہ بن یمان (رض) کی مرویات

وَقَالَ إِنَّكُمْ الْيَوْمَ مَعْشَرَ الْعَرَبِ لَتَأْتُونَ أُمُورًا إِنَّهَا لَفِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النِّفَاقُ عَلَى وَجْهِهِ

اور فرمایا اے گروہ عرب! آج کل لوگ ایسی باتیں کر رہے ہیں جنہیں ہم لوگ نبی کریم ﷺ کے زمانے میں " نفاق شمار کرتے تھے۔

22238Musnad Imam Ahmad

حضرت حذیفہ بن یمان (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا حَسَنٌ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ حَمَّادِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَخْرُجُ قَوْمٌ مِنْ النَّارِ بَعْدَ مَا مَحَشَتْهُمْ النَّارُ يُقَالُ لَهُمْ الْجَهَنَّمِيُّونَ

حضرت حذیفہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جہنم سے ایک قوم اس وقت نکلے گی جب آگ انہیں جھلسا چکی ہوگی انہیں " جہنمی " کہا جائے گا۔

22239Musnad Imam Ahmad

حضرت حذیفہ بن یمان (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا حَسَنٌ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عُثْمَانَ الْبَتِّيِّ عَنْ نُعَيْمٍ قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ ابْنِ أَبِي هِنْدٍ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ أَسْنَدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى صَدْرِي فَقَالَ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ قَالَ حَسَنٌ ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللَّهِ خُتِمَ لَهُ بِهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ وَمَنْ صَامَ يَوْمًا ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللَّهِ خُتِمَ لَهُ بِهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ وَمَنْ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللَّهِ خُتِمَ لَهُ بِهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ

حضرت حذیفہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے اپنا سینہ نبی کریم ﷺ کے لئے تکیہ بنا رکھا تھا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص (رضاء الہٰی کے لئے) لا الہ الا اللہ کا اقرار کرے اور اس کی زندگی اسی اقرار پر ختم ہو تو وہ جنت میں داخل ہوگا اور جو شخص رضاء الہٰی کے لئے ایک دن روزہ رکھے اور اسی پر اس کا اختتام ہو تو وہ بھی جنت میں داخل ہوگا اور جو شخص رضاء الہٰی کے لئے صدقہ کرے اور اسی پر اس کا اختتام ہو تو وہ بھی جنت میں داخل ہوگا۔