متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات

Musnad Imam Ahmad · Chapter 899 · 130 hadiths · Page 6 of 7

22089Musnad Imam Ahmad

متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ أَنَّ عَمْرَو بْنَ أَوْسٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَجُلًا مِنْ ثَقِيفٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ مُؤَذِّنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمٍ مَطِيرٍ يَقُولُ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ

ایک شخص کو نبی کریم ﷺ کے مؤذن نے بتایا کہ ایک دن بارش ہو رہی تھی، نبی کریم ﷺ کے منادی نے نداء لگائی کہ لوگو! اپنے خیموں میں ہی نماز پڑھ لو۔

22090Musnad Imam Ahmad

متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا لَيْثٌ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ أَبِي الْخَيْرِ أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ حَدَّثَهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ أَضْجَعَ أُضْحِيَّتَهُ لِيَذْبَحَهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرَجُلٍ أَعِنِّي عَلَى ضَحِيَّتِي فَأَعَانَهُ

ایک انصاری صحابی ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے قربانی کا جانور ذبح کرنے کے لئے پہلو کے بل لٹایا تو ایک آدمی سے فرمایا کہ قربانی میں میرا ہاتھ بٹاؤ، چناچہ اس نے نبی کریم ﷺ کا ہاتھ بٹایا۔

22091Musnad Imam Ahmad

متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي يُوسُفُ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ أَنَّ حَفْصَ بْنَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَعَمْرَو بْنَ حَنَّةَ أَخْبَرَاهُ عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَعَنْ رِجَالٍ مِنْ الْأَنْصَارِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ وَالنَّبِيُّ فِي مَجْلِسٍ قَرِيبٍ مِنْ الْمَقَامِ فَسَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنِّي نَذَرْتُ لَئِنْ فَتَحَ اللَّهُ لِلنَّبِيِّ وَالْمُؤْمِنِينَ مَكَّةَ لَأُصَلِّيَنَّ فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ وَإِنِّي وَجَدْتُ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الشَّامِ هَاهُنَا فِي قُرَيْشٍ مُقْبِلًا مَعِي وَمُدْبِرًا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَاهُنَا فَصَلِّ فَقَالَ الرَّجُلُ قَوْلَهُ هَذَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ كُلُّ ذَلِكَ يَقُولُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَاهُنَا فَصَلِّ ثُمَّ قَالَ الرَّابِعَةَ مَقَالَتَهُ هَذِهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اذْهَبْ فَصَلِّ فِيهِ فَوَالَّذِي بَعَثَ مُحَمَّدًا بِالْحَقِّ لَوْ صَلَّيْتَ هَاهُنَا لَقَضَى عَنْكَ ذَلِكَ كُلَّ صَلَاةٍ فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي يُوسُفُ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ أَنَّ حَفْصَ بْنَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَعَمْرَو بْنَ حَنَّةَ أَخْبَرَاهُ عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَهُ وَقَالَ هَاهُنَا فِي قُرَيْشٍ خَفِيرٌ لِي مُقْبِلًا وَمُدْبِرًا فَقَالَ هَاهُنَا فَصَلِّ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ

ایک صحابی ؓ سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے دن ایک آدمی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اس وقت نبی کریم ﷺ مقام ابراہیم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اس نے نبی کریم ﷺ کو سلام کیا اور کہنے لگا کہ اے اللہ کے نبی ﷺ میں نے یہ منت مانی تھی کہ اگر اللہ نے آپ کو اور مسلمانوں کو مکہ مکرمہ پر فتح عطاء فرما دی تو میں بیت المقدس جا کر نماز پڑھوں گا مجھے شام کا ایک آدمی بھی مل گیا ہے جو یہاں قریش میں ہے وہ میرے ساتھ وہاں جائے گا اور واپس آئے گا، نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم وہ نماز یہیں پڑھ لو اس نے تین مرتبہ اپنی بات دہرائی ہر مرتبہ نبی کریم ﷺ نے یہی فرمایا کہ تم وہ نماز یہیں پڑھ لو، جب چوتھی مرتبہ ہوا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جاؤ اور وہاں جا کر نماز پڑھ آؤ اس ذات کی قسم جس نے محمد ﷺ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے اگر تم یہیں نماز پڑھ لیتے تو بیت المقدس کی تمام نمازیں یہاں ادا ہوجاتیں۔ ایک صحابی ؓ سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے دن ایک آدمی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔۔۔۔۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی اور کہا کہ تم وہ نماز یہیں پڑھ لو۔

22092Musnad Imam Ahmad

متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوْصِنِي قَالَ لَا تَغْضَبْ قَالَ قَالَ الرَّجُلُ فَفَكَّرْتُ حِينَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قَالَ فَإِذَا الْغَضَبُ يَجْمَعُ الشَّرَّ كُلَّهُ

ایک صحابی ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! ﷺ مجھے کوئی مختصر نصیحت فرمائیے شاید میری عقل میں آجائے نبی کریم ﷺ نے فرمایا غصہ نہ کیا کرو، اس نے کئی مرتبہ اپنی درخواست دہرائی اور نبی کریم ﷺ نے ہر مرتبہ یہی جواب دیا کہ غصہ نہ کیا کرو۔

22093Musnad Imam Ahmad

متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُ النَّاسَ يُعْرَضُونَ عَلَيَّ وَعَلَيْهِمْ قُمُصٌ مِنْهَا مَا يَبْلُغُ الثَّدْيَ وَفِيهَا مَا يَبْلُغُ أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ فَعُرِضَ عَلَيَّ عُمَرُ وَعَلَيْهِ قَمِيصٌ يَجُرُّهُ قَالُوا فَمَا أَوَّلْتَ ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ الدِّينُ

ایک صحابی ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ایک مرتبہ میں سو رہا تھا تو میں نے خواب میں دیکھا کہ لوگ میرے سامنے پیش کئے جا رہے ہیں اور انہیں نے قمیضیں پہن رکھی ہیں لیکن کسی کی قمیض چھاتی تک اور کسی کی اس سے نیچے تک ہے جب حضرت عمر بن خطاب ؓ میرے پاس سے گذرے تو انہوں نے جو قمیض پہن رکھی تھی وہ زمین پر گھس رہی تھی، نبی کریم ﷺ سے صحابہ کرام ؓ نے پوچھا کہ یا رسول اللہ! ﷺ پھر آپ نے اس کی کیا تعبیر لی؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا دین۔

22094Musnad Imam Ahmad

متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى أَهْلِ بَيْتِهِ وَعَلَى أَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى أَهْلِ بَيْتِهِ وَعَلَى أَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ قَالَ ابْنُ طَاوُسٍ وَكَانَ أَبِي يَقُولُ مِثْلَ ذَلِكَ

ایک صحابی ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ فرمایا کرتے تھے اے اللہ! محمد ﷺ ان کے اہل بیت یعنی ازواج مطہرات اور اولاد پر اپنی رحمتیں اسی طرح نازل فرما جیسے آل ابراہیم پر نازل فرمائیں بیشک تو قابل تعریف بزرگی والا ہے اور محمد ﷺ ان کے اہل بیت یعنی ازواج مطہرات اور اولاد پر اپنی برکتیں اسی طرح نازل فرما جیسے آل ابراہیم پر نازل فرمائیں بیشک تو قابل تعریف و بزرگی والا ہے۔

22095Musnad Imam Ahmad

متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو الْقُرَشِيِّ حَدَّثَنِي مَنْ شَهِدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَرَ بِرَجْمِ رَجُلٍ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ فَلَمَّا أَصَابَتْهُ الْحِجَارَةُ فَرَّ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ فَهَلَّا تَرَكْتُمُوهُ

ایک صحابی ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک آدمی کے متعلق حکم دیا کہ اسے مکہ اور مدینہ کے درمیان رجم کردیا جائے جب اسے پتھر لگے تو وہ بھاگنے لگا نبی کریم ﷺ کو یہ بات معلوم ہوئی تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم نے اسے چھوڑ کیوں نہ دیا؟

22096Musnad Imam Ahmad

متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ الصَّنْعَانِيُّ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ عَنْ أَبِيهِ حَدَّثَنِي فَنَّجُ قَالَ كُنْتُ أَعْمَلُ فِي الدَّيْنَبَاذِ وَأُعَالِجُ فِيهِ فَقَدِمَ يَعْلَى بْنُ أُمَيَّةَ أَمِيرًا عَلَى الْيَمَنِ وَجَاءَ مَعَهُ رِجَالٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَنِي رَجُلٌ مِمَّنْ قَدِمَ مَعَهُ وَأَنَا فِي الزَّرْعِ أَصْرِفُ الْمَاءَ فِي الزَّرْعِ وَمَعَهُ فِي كُمِّهِ جَوْزٌ فَجَلَسَ عَلَى سَاقِيَةٍ مِنْ الْمَاءِ وَهُوَ يَكْسِرُ مِنْ ذَلِكَ الْجَوْزِ وَيَأْكُلُهُ ثُمَّ أَشَارَ إِلَى فَنَّجَ فَقَالَ يَا فَارِسِيُّ هَلُمَّ فَدَنَوْتُ مِنْهُ فَقَالَ الرَّجُلُ لِفَنَّجَ أَتَضْمَنُ لِي وَأَغْرِسُ مِنْ هَذَا الْجَوْزِ عَلَى هَذَا الْمَاءِ فَقَالَ لَهُ فَنَّجُ مَا يَنْفَعُنِي ذَلِكَ قَالَ فَقَالَ الرَّجُلُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بِأُذُنَيَّ هَاتَيْنِ مَنْ نَصَبَ شَجَرَةً فَصَبَرَ عَلَى حِفْظِهَا وَالْقِيَامِ عَلَيْهَا حَتَّى تُثْمِرَ كَانَ لَهُ فِي كُلِّ شَيْءٍ يُصَابُ مِنْ ثَمَرِهَا صَدَقَةٌ عِنْدَ اللَّهِ فَقَالَ لَهُ فَنَّجُ أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ نَعَمْ قَالَ نَعَمْ فَقَالَ فَنَّجُ فَأَنَا أَضْمَنُهَا فَمِنْهَا جَوْزُ الدَّيْنَبَاذِ

فنج کہتے ہیں کہ " دینباذ " (علاقے کا نام) میں کام کاج کرتا تھا، اس دوران یعلی بن امیہ یمن کے گورنر بن کر آگئے ان کے ساتھ کچھ صحابہ ؓ بھی آئے تھے ان میں سے ایک آدمی میرے پاس آیا میں اس وقت اپنے کھیت میں پانی لگا رہا تھا اس آدمی کی جیب میں اخروٹ تھے وہ پانی کی نالی پر بیٹھ گیا اور اخروٹ توڑ توڑ کر کھانے لگا پھر اس شخص نے اشارے سے مجھے اپنے پاس بلایا کہ اے فارسی! ادھر آؤ میں قریب چلا گیا تو وہ کہنے لگا کہ کیا تم مجھے اس بات کی ضمانت دے سکتے ہو کہ اس پانی کے قریب اخروٹ کے درخت لگائے جاسکتے ہیں؟ میں نے کہا کہ مجھے اس ضمانت سے کیا فائدہ ہوگا؟ اس شخص نے کہا کہ میں نے اپنے ان دونوں کانوں سے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص کوئی درخت لگائے اور اس کی نگہداشت اور ضرورت کا خیال رکھتا رہے تاآنکہ اس پر پھل آجائے تو جس چیز کو بھی اس کا پھل ملے گا وہ اللہ کے نزدیک اس کے لئے صدقہ بن جائے گا فنج نے پوچھا کہ کیا واقعی آپ نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے؟ اس شخص نے جواب دیا جی ہاں! اس پر فنج نے انہیں ضمانت دے دی اور اب تک وہاں کے آخروٹ مشہور ہیں۔

22097Musnad Imam Ahmad

متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ طَارِقِ بْنِ عَلْقَمَةَ أَخْبَرَهُ عَنْ عَمِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا جَاءَ مَكَانًا مِنْ دَارِ يَعْلَى نَسِيَهُ عُبَيْدُ اللَّهِ اسْتَقْبَلَ الْبَيْتَ فَدَعَا قَالَ رَوْحٌ عَنْ أَبِيهِ وَقَالَ ابْنُ بَكْرٍ عَنْ أُمِّهِ

عبدالرحمن بن طارق (رح) اپنے چچا سے نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ جب بھی داریعلی سے کسی جگہ تشریف لے جاتے تو قبلہ رخ ہو کر دعا ضرور فرماتے۔

22098Musnad Imam Ahmad

متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُعَاذٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَطَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ بِمِنًى وَنَزَّلَهُمْ مَنَازِلَهُمْ وَقَالَ لِيَنْزِلْ الْمُهَاجِرُونَ هَاهُنَا وَأَشَارَ إِلَى مَيْمَنَةِ الْقِبْلَةِ وَالْأَنْصَارُ هَاهُنَا وَأَشَارَ إِلَى مَيْسَرَةِ الْقِبْلَةِ ثُمَّ لِيَنْزِلْ النَّاسُ حَوْلَهُمْ قَالَ وَعَلَّمَهُمْ مَنَاسِكَهُمْ فَفُتِحَتْ أَسْمَاعُ أَهْلِ مِنًى حَتَّى سَمِعُوهُ وَهُمْ فِي مَنَازِلِهِمْ قَالَ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ ارْمُوا الْجَمْرَةَ بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ قَيْسٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُعَاذٍ التَّيْمِيِّ قَالَ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ

ایک صحابی ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے میدان منٰی میں لوگوں کو ان کی جگہوں پر بٹھا کر خطبہ دیتے ہوئے فرمایا مہاجرین یہاں اتریں اور قبلہ کی دائیں جانب اشارہ فرمایا " اور انصار یہاں اتریں اور قبلہ کی بائیں جانب اشارہ فرمایا: پھر لوگ ان کے آس پاس اتریں پھر نبی کریم ﷺ نے انہیں مناسک حج کی تعلیم دی جس نے اہل منٰی کے کان کھول دیئے اور سب کو اپنے اپنے پڑاؤ پر نبی کریم ﷺ کی آواز سنائی دیتی رہے میں نے بھی نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ٹھکیری کی کنکری جیسی کنکریوں سے جمرات کی رمی کرو۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

22099Musnad Imam Ahmad

متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا الْأَشْجَعِيُّ عَنْ سُفْيَانَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ هِلَالِ بْنِ يِسَافٍ عَنْ رَجُلٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ سَيَكُونُ قَوْمٌ لَهُمْ عَهْدٌ فَمَنْ قَتَلَ رَجُلًا مِنْهُمْ لَمْ يَرَحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ وَإِنَّ رِيحَهَا لَيُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ سَبْعِينَ عَامًا

ایک صحابی ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا عنقریب ذمیوں کی ایک قوم ہوگی جو شخص ان میں سے کسی کو قتل کرے گا وہ جنت کی مہک بھی نہ سونگھ سکے گا حالانکہ جنت کی مہک تو ستر سال کی مسافت سے بھی محسوس کی جاسکتی ہے۔

22100Musnad Imam Ahmad

متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ صَيْفِيٍّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ إِنَّ صُهَيْبًا قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ يَدَيْهِ تَمْرٌ وَخُبْزٌ قَالَ ادْنُ فَكُلْ فَأَخَذَ يَأْكُلُ مِنْ التَّمْرِ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ بِعَيْنِكَ رَمَدًا فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا آكُلُ مِنْ النَّاحِيَةِ الْأُخْرَى قَالَ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

عبدالحمید بن صفی (رح) کے دادا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حضرت صہیب رومی ؓ حاضر ہوئے اس وقت نبی کریم ﷺ کے سامنے کھجوریں اور روٹی رکھی ہوئی تھی، نبی کریم ﷺ نے صہیب سے فرمایا کہ قریب آجاؤ اور کھاؤ چناچہ وہ کھجوریں کھانے لگے نبی کریم ﷺ نے فرمایا تمہیں تو آشوب چشم ہے؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! ﷺ میں دوسری جانب سے کھا رہا ہوں اس پر نبی کریم ﷺ مسکرانے لگے۔

22101Musnad Imam Ahmad

متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ أَخْبَرَنِي سُفْيَانُ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْحَضْرَمِيِّ يَقُولُ أَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ مِنْ أُمَّتِي قَوْمًا يُعْطَوْنَ مِثْلَ أُجُورِ أَوَّلِهِمْ يُنْكِرُونَ الْمُنْكَرَ

ایک صحابی ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا اس امت (کے آخر) میں ایک قوم ایسی بھی آئے گی جنہیں پہلے لوگوں کی طرح اجر دیا جائے گا یہ وہ لوگ ہوں گے جو گناہ کی برائی کو بیان کریں گے۔

22102Musnad Imam Ahmad

متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَصْحَابِهِ إِنَّ مِنْكُمْ رِجَالًا لَا أُعْطِيهِمْ شَيْئًا أَكِلُهُمْ إِلَى إِيمَانِهِمْ مِنْهُمْ فُرَاتُ بْنُ حَيَّانَ قَالَ مِنْ بَنِي عِجْلٍ

ایک صحابی ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے اپنے صحابہ ؓ سے فرمایا کہ تم میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جنہیں میں کچھ بھی نہیں دیتا، بلکہ انہیں ان کے ایمان کے حوالے کردیتا ہوں انہی میں فرات بن حیان ہے، ان کا تعلق بنو عجل سے تھا۔

22103Musnad Imam Ahmad

متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ حَدَّثَنَا أَبُو زُمَيْلٍ سِمَاكٌ حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ بَنِي هِلَالٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ وَلَا لِذِي مِرَّةٍ سَوِيٍّ

بنو ہلال کے ایک صحابی ؓ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ کسی مالدار یا تندرست و توانا آدمی کے لئے زکوٰۃ کا مال حلال نہیں ہے۔

22104Musnad Imam Ahmad

متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي أَيُّوبَ حَدَّثَنِي بَكْرُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هُبَيْرَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ أَنَّهُ حَدَّثَهُ رَجُلٌ خَدَمَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَمَانِ سِنِينَ أَوْ تِسْعَ سِنِينَ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قُرِّبَ لَهُ طَعَامٌ يَقُولُ بِسْمِ اللَّهِ فَإِذَا فَرَغَ مِنْ طَعَامِهِ قَالَ أَطْعَمْتَ وَأَسْقَيْتَ وَأَغْنَيْتَ وَأَقْنَيْتَ وَهَدَيْتَ وَاجْتَبَيْتَ فَلَكَ الْحَمْدُ عَلَى مَا أَعْطَيْتَ

نبی کریم ﷺ کے ایک خادم " جنہوں نے آٹھ سال تک نبی کریم ﷺ کی خدمت کی " سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کے سامنے جب کھانے کو پیش کیا جاتا تو آپ ﷺ بسم اللہ کہہ کر شروع فرماتے تھے اور جب کھانے سے فارغ ہوتے تو یہ دعاء پڑھتے کہ اے اللہ! تو نے کھلایا پلایا، غناء اور روزی عطاء فرمائی تو نے ہدایت اور زندگانی عطاء فرمائی تیری بخششوں پر تیری تعریف ہے۔

22105Musnad Imam Ahmad

متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ عَنْ مُنِيبٍ عَنْ عَمِّهِ قَالَ بَلَغَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ يُحَدِّثُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ سَتَرَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ فِي الدُّنْيَا سَتَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَرَحَلَ إِلَيْهِ وَهُوَ بِمِصْرَ فَسَأَلَهُ عَنْ الْحَدِيثِ قَالَ نَعَمْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ سَتَرَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ فِي الدُّنْيَا سَتَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ فَقَالَ وَأَنَا قَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

ایک صحابی ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص دنیا میں اپنے مسلمان بھائی کی پردہ پوشی کرے اللہ قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی فرمائے گا دوسرے صحابی ؓ کو یہ حدیث معلوم ہوئی تو انہوں نے پہلے صحابی ؓ کی طرف رخت سفر باندھا جو کہ مصر میں رہتے تھے وہاں پہنچ کر ان سے پوچھا کیا آپ نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے؟ انہوں نے اثبات میں جواب دیا تو سفر کرنے والے صحابی ؓ نے فرمایا کہ میں نے بھی نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے۔

22106Musnad Imam Ahmad

متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا لَيْثٌ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ أَبِي الْخَيْرِ أَنَّ جُنَادَةَ بْنَ أَبِي أُمَيَّةَ حَدَّثَهُ أَنَّ رِجَالًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَعْضُهُمْ إِنَّ الْهِجْرَةَ قَدْ انْقَطَعَتْ فَاخْتَلَفُوا فِي ذَلِكَ قَالَ فَانْطَلَقْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُنَاسًا يَقُولُونَ إِنَّ الْهِجْرَةَ قَدْ انْقَطَعَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْهِجْرَةَ لَا تَنْقَطِعُ مَا كَانَ الْجِهَادُ

حضرت جنادہ بن ابی امیہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کے کچھ صحابہ ؓ کی رائے یہ تھی کہ ہجرت کا حکم ختم ہوگیا ہے دوسرے حضرات کی رائے اس سے مختلف تھی چناچہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ! ﷺ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ہجرت ختم ہوگئی ہے؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جب تک جہاد باقی ہے ہجرت ختم نہیں ہوسکتی۔

22107Musnad Imam Ahmad

متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا لَيْثٌ حَدَّثَنَا عُقَيْلٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ إِنْسَانٍ مِنْ الْأَنْصَارِ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْقَسَامَةَ كَانَتْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ قَسَامَةُ الدَّمِ فَأَقَرَّهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَا كَانَتْ عَلَيْهِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَقَضَى بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أُنَاسٍ مِنْ الْأَنْصَارِ مِنْ بَنِي حَارِثَةَ فِي دَمٍ ادَّعَوْهُ عَلَى الْيَهُودِ

ایک انصاری صحابی ؓ سے مروی ہے کہ زمانہ جاہلیت میں قتل کے حوالے سے " قسامت " کا رواج تھا نبی کریم ﷺ نے اسے زمانہ جاہلیت کے طریقے پر ہی برقرار رکھا اور چند انصاری حضرات کے معاملے میں " جن کا تعلق بنوحارثہ سے تھا اور انہوں نے یہودیوں کے خلاف دعویٰ کیا تھا " نبی کریم ﷺ نے یہی فیصلہ فرمایا تھا۔

22108Musnad Imam Ahmad

متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ قَالَ سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ الْقَعْقَاعِ يُحَدِّثُ رَجُلًا مِنْ بَنِي حَنْظَلَةَ قَالَ رَمَقَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي فَجَعَلَ يَقُولُ فِي صَلَاتِهِ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي وَوَسِّعْ لِي ذَاتِي وَبَارِكْ لِي فِيمَا رَزَقْتَنِي

ایک صحابی ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا نبی کریم ﷺ یہ کہہ رہے تھے کہ اے اللہ میرے گناہ کو معاف فرما، مجھے ذاتی کشادگی عطاء فرما اور میرے رزق میں برکت عطا فرما۔