حضرت بریدہ اسلمی (رض) کی مرویات

Musnad Imam Ahmad · Chapter 898 · 126 hadiths · Page 2 of 7

21882Musnad Imam Ahmad

حضرت بریدہ اسلمی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَطَاءٍ الْمَكِّيِّ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي تَصَدَّقْتُ عَلَى أُمِّي بِجَارِيَةٍ فَمَاتَتْ وَإِنَّهَا رَجَعَتْ إِلَيَّ فِي الْمِيرَاثِ قَالَ آجَرَكِ اللَّهُ وَرَدَّ عَلَيْكِ فِي الْمِيرَاثِ قَالَتْ فَإِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَلَمْ تَحُجَّ فَيُجْزِئُهَا أَنْ أَحُجَّ عَنْهَا قَالَ نَعَمْ قَالَتْ فَإِنَّ أُمِّي كَانَ عَلَيْهَا صَوْمُ شَهْرٍ فَيُجْزِئُهَا أَنْ أَصُومَ عَنْهَا قَالَ نَعَمْ

حضرت بریدہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک عورت نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہنے لگی یا رسول اللہ! ﷺ میں نے اپنی والدہ کو ایک باندی صدقہ میں دی تھی والدہ کا انتقال ہوگیا اس لئے وراثت میں وہ باندی دوبارہ میرے پاس آگئی ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس کا ثواب دے گا اور باندی بھی تمہیں وراثت میں مل گئی اس نے کہا کہ میری والدہ حج کئے بغیر ہی فوت ہوگئی ہیں کیا میرا ان کی طرف سے حج کرنا ان کی لئے کفایت کرسکتا ہے؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہاں! اس نے کہا کہ میری والدہ کے ذمے ایک ماہ کے روزے بھی فرض تھے کیا میرا ان کی طرف سے سے روزے رکھنا ان کے لئے کفایت کرسکتا ہے؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہاں!

21883Musnad Imam Ahmad

حضرت بریدہ اسلمی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي مَلِيحٍ قَالَ كُنَّا مَعَ بُرَيْدَةَ فِي غَزَاةٍ فِي يَوْمٍ ذِي غَيْمٍ فَقَالَ بَكِّرُوا بِالصَّلَاةِ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ تَرَكَ صَلَاةَ الْعَصْرِ حَبِطَ عَمَلُهُ

ابو ملیح کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم حضرت بریدہ ؓ کے ساتھ کسی غزوہ میں شریک تھے اس دن ابر چھایا ہوا تھا انہوں نے فرمایا جلدی نماز پڑھ لو کیونکہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ جو شخص عصر کی نماز چھوڑ دے اس کے سارے اعمال ضائع ہوجاتے ہیں۔

21884Musnad Imam Ahmad

حضرت بریدہ اسلمی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ حَدَّثَنَا ضِرَارٌ يَعْنِي ابْنَ مُرَّةَ أَبُو سِنَانٍ عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ أَنْ تُمْسِكُوهَا فَوْقَ ثَلَاثٍ فَأَمْسِكُوهَا مَا بَدَا لَكُمْ وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ النَّبِيذِ إِلَّا فِي سِقَاءٍ فَاشْرَبُوا فِي الْأَسْقِيَةِ كُلِّهَا وَلَا تَشْرَبُوا مُسْكِرًا

حضرت بریدہ اسلمی ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا میں نے تمہیں قبرستان جانے سے منع کیا تھا اب چلے جایا کرو نیز میں نے تمہیں تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت رکھنے کی ممانعت کی تھی اب جب تک چاہو رکھو نیز میں نے تمہیں مشکیزے کے علاوہ دوسرے برتنوں میں نبیذ پینے سے منع کیا تھا اب جس برتن میں چاہو پی سکتے ہو البتہ نشہ آور چیز مت پینا۔

21885Musnad Imam Ahmad

حضرت بریدہ اسلمی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ يَحْيَى عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي مَلِيحٍ عَنْ بُرَيْدَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ تَرَكَ صَلَاةَ الْعَصْرِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهُ

حضرت بریدہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ جو شخص عصر کی نماز چھوڑ دے اس کے سارے اعمال ضائع ہوجاتے ہیں۔

21886Musnad Imam Ahmad

حضرت بریدہ اسلمی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنِ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوَلَةَ قَالَ بَيْنَمَا أَنَا أَسِيرُ بِالْأَهْوَازِ إِذَا أَنَا بِرَجُلٍ يَسِيرُ بَيْنَ يَدَيَّ عَلَى بَغْلٍ أَوْ بَغْلَةٍ فَإِذَا هُوَ يَقُولُ اللَّهُمَّ ذَهَبَ قَرْنِي مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ فَأَلْحِقْنِي بِهِمْ فَقُلْتُ وَأَنَا فَأَدْخِلْ فِي دَعْوَتِكَ قَالَ وَصَاحِبِي هَذَا إِنْ أَرَادَ ذَلِكَ ثُمَّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرُ أُمَّتِي قَرْنِي مِنْهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ قَالَ وَلَا أَدْرِي أَذَكَرَ الثَّالِثَ أَمْ لَا ثُمَّ تَخْلُفُ أَقْوَامٌ يَظْهَرُ فِيهِمْ السِّمَنُ يُهْرِيقُونَ الشَّهَادَةَ وَلَا يَسْأَلُونَهَا قَالَ وَإِذَا هُوَ بُرَيْدَةُ الْأَسْلَمِيُّ

عبداللہ بن مولہ کہتے کہ ایک دن میں " اہواز " میں چل رہا تھا کہ ایک آدمی پر نظر پڑی جو مجھ سے آگے ایک خچر پر سوار چلا جا رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ اے اللہ! اس امت میں سے میرا دور گذر گیا ہے تو مجھے ان ہی میں شامل فرما میں نے کہا کہ مجھے بھی اپنی دعاء میں شامل کرلیجئے انہوں نے کہا کہ میرے ساتھی کو بھی اگر یہ چاہتا ہے پھر کہا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے میرے سب سے بہترین امتی میرے دور کے ہیں پھر ان کے بعد والے ہوں گے (تیسری مرتبہ کا ذکر کیا یا نہیں مجھے یاد نہیں) ان کے بعد ایسے لوگ آئیں گے جن میں موٹاپا غالب آجائے گا وہ مطالبہ کے بغیر گواہی دینے کے لئے تیار ہوں گے وہ صحابی حضرت بریدہ اسلمی ؓ تھے۔

21887Musnad Imam Ahmad

حضرت بریدہ اسلمی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُبَيْدَةَ عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ قَالَ لَمَّا قَدِمْنَا قَالَ كَيْفَ رَأَيْتُمْ صَحَابَةَ صَاحِبِكُمْ قَالَ فَإِمَّا شَكَوْتُهُ أَوْ شَكَاهُ غَيْرِي قَالَ فَرَفَعْتُ رَأْسِي وَكُنْتُ رَجُلًا مِكْبَابًا قَالَ فَإِذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ احْمَرَّ وَجْهُهُ قَالَ وَهُوَ يَقُولُ مَنْ كُنْتُ وَلِيَّهُ فَعَلِيٌّ وَلِيُّهُ

حضرت بریدہ ؓ سے مروی ہے کہ میں یمن میں جہاد کے موقع پر حضرت علی ؓ کے ساتھ شریک تھا مجھے ان کی طرف سے سختی کا سامنا ہوا جب میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو حضرت علی ؓ کا ذکر کرتے ہوئے ان کی شان میں کوتاہی کی میں نے دیکھا کہ نبی کریم ﷺ کے چہرہ انور کا رنگ تبدیل ہو رہا ہے پھر نبی کریم ﷺ نے فرمایا اے بریدہ! کیا مجھے مسلمانوں پر ان کی اپنی جانوں سے زیادہ حق نہیں ہے؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں یا رسول اللہ! ﷺ نبی کریم ﷺ نے فرمایا میں جس کا محبوب ہوں، تو علی بھی اس کے محبوب ہونے چاہئیں۔

21888Musnad Imam Ahmad

حضرت بریدہ اسلمی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ وَلَا أُرَاهُ سَمِعَهُ مِنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يُخْرِجُ رَجُلٌ شَيْئًا مِنْ الصَّدَقَةِ حَتَّى يَفُكَّ عَنْهَا لَحْيَيْ سَبْعِينَ شَيْطَانًا

حضرت بریدہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا انسان جو بھی صدقہ نکالتا ہے وہ اسے ستر شیطانوں کے جبڑوں سے چھڑا دیتا ہے۔

21889Musnad Imam Ahmad

حضرت بریدہ اسلمی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا عُيَيْنَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ قَالَ خَرَجْتُ ذَاتَ يَوْمٍ لِحَاجَةٍ فَإِذَا أَنَا بِالنَّبِيِّ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ يَمْشِي بَيْنَ يَدَيَّ فَأَخَذَ بِيَدِي فَانْطَلَقْنَا نَمْشِي جَمِيعًا فَإِذَا نَحْنُ بَيْنَ أَيْدِينَا بِرَجُلٍ يُصَلِّي يُكْثِرُ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتُرَاهُ يُرَائِي فَقُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ فَتَرَكَ يَدِي مِنْ يَدِهِ ثُمَّ جَمَعَ بَيْنَ يَدَيْهِ فَجَعَلَ يُصَوِّبُهُمَا وَيَرْفَعُهُمَا وَيَقُولُ عَلَيْكُمْ هَدْيًا قَاصِدًا عَلَيْكُمْ هَدْيًا قَاصِدًا عَلَيْكُمْ هَدْيًا قَاصِدًا فَإِنَّهُ مَنْ يُشَادَّ هَذَا الدِّينَ يَغْلِبْهُ

حضرت ابوبریدہ اسلمی ؓ سے مروی ہے کہ کہ ایک دن میں ٹہلتا ہوا نکلا تو دیکھا کہ نبی کریم ﷺ نے ایک جانب چہرے کا رخ کیا ہوا ہے میں سمجھا کہ شاید قضاء حاجت کے لئے جا رہے ہیں اس لئے میں ایک طرف کو ہو کر نکلنے لگا نبی کریم ﷺ نے مجھے دیکھ لیا اور میری طرف اشارہ کیا میں نبی کریم ﷺ کے پاس پہنچا تو انہوں نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور ہم دونوں ایک طرف چلنے لگے اچانک ہم ایک آدمی کے قریب پہنچے جو نماز پڑھ رہا تھا اور کثرت سے رکوع و سجود کر رہا تھا نبی کریم ﷺ نے فرمایا کیا تم اسے ریاکار سمجھتے ہو؟ میں نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں نبی کریم ﷺ نے میرا ہاتھ چھوڑ کر دونوں ہتھیلیوں کو اکٹھا کیا اور کندھوں کے برابر اٹھانے اور نیچے کرنے لگے اور تین مرتبہ فرمایا اپنے اوپر درمیانہ راستہ لازم کرلو کیونکہ جو شخص دین کے معاملہ میں سختی کرتا ہے وہ مغلوب ہوجاتا ہے۔

21890Musnad Imam Ahmad

حضرت بریدہ اسلمی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنِ الْمُثَنَّى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْمُؤْمِنَ يَمُوتُ بِعَرَقِ الْجَبِينِ

حضرت بریدہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا مسلمان آدمی کی موت پیشانی کے پسینے کی طرح (بڑی آسانی سے) واقع ہوجاتی ہے۔

21891Musnad Imam Ahmad

حضرت بریدہ اسلمی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنِّي أَشْهَدُ أَنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ الْأَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ فَقَالَ قَدْ سَأَلَ اللَّهَ بِاسْمِ اللَّهِ الْأَعْظَمِ الَّذِي إِذَا سُئِلَ بِهِ أَعْطَى وَإِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ

حضرت بریدہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ رات کو نکلے تو نبی کریم ﷺ سے ملاقات ہوگئی نبی کریم ﷺ نے ان کا ہاتھ پکڑا اور مسجد میں داخل ہوگئے اچانک اس آدمی کی تلاوت قرآن کی آواز آئی نبی کریم ﷺ نے فرمایا کیا تم اسے ریاکار سمجھتے ہو؟ بریدہ ؓ خاموش رہے وہ آدمی یہ دعاء کر رہا تھا کہ اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کیونکہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ تو وہی اللہ ہے جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں اکیلا ہے بےنیاز ہے اس کی کوئی اولاد ہے نہ وہ کسی کی اولاد ہے اور اس کا کوئی ہمسر نہیں ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اس نے اللہ کے اس اسم اعظم کا واسطہ دے کر سوال کیا ہے کہ جب اس کے ذریعے سوال کیا جائے تو اللہ تعالیٰ ضرور عطا فرماتا ہے اور جب دعا کی جائے تو ضرور قبول فرماتا ہے۔

21892Musnad Imam Ahmad

حضرت بریدہ اسلمی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ سُفْيَانَ حَدَّثَنِي عَلْقَمَةُ بْنُ مَرْثَدٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الصَّلَوَاتِ بِوُضُوءٍ وَاحِدٍ يَوْمَ الْفَتْحِ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ إِنَّكَ صَنَعْتَ شَيْئًا لَمْ تَكُنْ تَصْنَعُهُ قَالَ عَمْدًا صَنَعْتُهُ

حضرت بریدہ ؓ سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے دن نبی کریم ﷺ نے ایک ہی وضو سے کئی نمازیں پڑھیں تو حضرت عمر ؓ نے عرض کیا کہ آج تو آپ نے وہ کام کیا ہے جو پہلے کبھی نہیں کیا؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا میں نے جان بوجھ کر ایسا کیا ہے۔

21893Musnad Imam Ahmad

حضرت بریدہ اسلمی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَلِيلِ قَالَ انْتَهَيْتُ إِلَى حَلْقَةٍ فِيهَا أَبُو مِجْلَزٍ وَابْنُ بُرَيْدَةَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ حَدَّثَنِي أَبِي بُرَيْدَةُ قَالَ أَبْغَضْتُ عَلِيًّا بُغْضًا لَمْ يُبْغَضْهُ أَحَدٌ قَطُّ قَالَ وَأَحْبَبْتُ رَجُلًا مِنْ قُرَيْشٍ لَمْ أُحِبَّهُ إِلَّا عَلَى بُغْضِهِ عَلِيًّا قَالَ فَبُعِثَ ذَلِكَ الرَّجُلُ عَلَى خَيْلٍ فَصَحِبْتُهُ مَا أَصْحَبُهُ إِلَّا عَلَى بُغْضِهِ عَلِيًّا قَالَ فَأَصَبْنَا سَبْيًا قَالَ فَكَتَبَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْعَثْ إِلَيْنَا مَنْ يُخَمِّسُهُ قَالَ فَبَعَثَ إِلَيْنَا عَلِيًّا وَفِي السَّبْيِ وَصِيفَةٌ هِيَ أَفْضَلُ مِنْ السَّبْيِ فَخَمَّسَ وَقَسَمَ فَخَرَجَ رَأْسُهُ مُغَطًّى فَقُلْنَا يَا أَبَا الْحَسَنِ مَا هَذَا قَالَ أَلَمْ تَرَوْا إِلَى الْوَصِيفَةِ الَّتِي كَانَتْ فِي السَّبْيِ فَإِنِّي قَسَمْتُ وَخَمَّسْتُ فَصَارَتْ فِي الْخُمُسِ ثُمَّ صَارَتْ فِي أَهْلِ بَيْتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ صَارَتْ فِي آلِ عَلِيٍّ وَوَقَعْتُ بِهَا قَالَ فَكَتَبَ الرَّجُلُ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ ابْعَثْنِي فَبَعَثَنِي مُصَدِّقًا قَالَ فَجَعَلْتُ أَقْرَأُ الْكِتَابَ وَأَقُولُ صَدَقَ قَالَ فَأَمْسَكَ يَدِي وَالْكِتَابَ وَقَالَ أَتُبْغِضُ عَلِيًّا قَالَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَلَا تَبْغَضْهُ وَإِنْ كُنْتَ تُحِبُّهُ فَازْدَدْ لَهُ حُبًّا فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَنَصِيبُ آلِ عَلِيٍّ فِي الْخُمُسِ أَفْضَلُ مِنْ وَصِيفَةٍ قَالَ فَمَا كَانَ مِنْ النَّاسِ أَحَدٌ بَعْدَ قَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ عَلِيٍّ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَوَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ مَا بَيْنِي وَبَيْنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ غَيْرُ أَبِي بُرَيْدَةَ

حضرت بریدہ ؓ سے مروی ہے کہ ابتداء مجھے حضرت علی ؓ سے اتنی نفرت تھی کہ کسی سے اتنی نفرت کبھی نہیں رہی تھی اور صرف حضرت علی ؓ سے نفرت کی وجہ سے میں قریش کے ایک آدمی سے محبت رکھتا تھا ایک مرتبہ اس شخص کو چند شہسواروں کا سردار بنا کر بھیجا گیا تو میں بھی اس کے ساتھ چلا گیا اور صرف اس بنیاد پر کہ وہ حضرت علی ؓ سے نفرت کرتا تھا ہم لوگوں نے کچھ قیدی پکڑے اور نبی کریم ﷺ کے پاس یہ خط لکھا کہ ہمارے پاس کسی آدمی کو بھیج دیں جو مال غنیمت کا خمس وصول کرلے چناچہ نبی کریم ﷺ نے حضرت علی ؓ کو ہمارے پاس بھیج دیا۔ ان قیدیوں میں " وصیفہ " بھی تھی جو قیدیوں میں سب سے عمدہ خاتون تھی حضرت علی ؓ نے خمس وصول کیا اور اسے تقسیم کردیا پھر وہ باہر آئے تو ان کا سر ڈھکا ہوا تھا ہم نے ان سے پوچھا اے ابوالحسن! یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا تم نے وہ " وصیفہ " دیکھی تھی جو قیدیوں میں شامل تھی میں نے خمس وصول کیا تو وہ خمس میں شامل تھی پھر وہ اہل بیت نبوت میں آگئی اور وہاں سے آل علی میں آگئی اور میں نے اس سے مجامعت کی ہے اس شخص نے نبی کریم ﷺ کو خط لکھ کر اس صورت حال سے آگاہ کیا میں نے اس سے کہا یہ خط میرے ہاتھ بھیجو چناچہ اس نے مجھے اپنی تصدیق کرنے کے لئے بھیج دیا میں بارگاہ نبوت میں حاضر ہو کر خط پڑھنے لگا اور کہنے لگا کہ انہوں نے سچ کہا نبی کریم ﷺ نے اس خط پر سے میرے ہاتھ کو اٹھا کر فرمایا کیا تم علی سے نفرت کرتے ہو؟ میں نے عرض کیا جی ہاں! نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم اس سے نفرت نہ کرو بلکہ اگر محبت کرتے ہو تو اس میں مزید اضافہ کردو کیونکہ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد ﷺ کی جان ہے خمس میں آل علی کا حصہ " وصیفہ " سے بھی افضل ہے چناچہ اس فرمان کے بعد میری نظروں میں حضرت علی ؓ سے زیادہ کوئی شخص محبوب نہ رہا۔

21894Musnad Imam Ahmad

حضرت بریدہ اسلمی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ عَنْ شَرِيكٍ حَدَّثَنَا أَبُو رَبِيعَةَ عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحِبُّ مِنْ أَصْحَابِي أَرْبَعَةً أَخْبَرَنِي أَنَّهُ يُحِبُّهُمْ وَأَمَرَنِي أَنْ أُحِبَّهُمْ قَالُوا مَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ إِنَّ عَلِيًّا مِنْهُمْ وَأَبُو ذَرٍّ الْغِفَارِيُّ وَسَلْمَانُ الْفَارِسِيُّ وَالْمِقْدَادُ بْنُ الْأَسْوَدِ الْكِنْدِيُّ

حضرت بریدہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ میرے صحابہ کرام ؓ میں سے چار لوگوں سے محبت کرتا ہے اور اس نے مجھے بتایا ہے کہ وہ ان سے محبت کرتا ہے اور مجھے بھی ان سے محبت کرنے کا حکم دیا ہے لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ! ﷺ وہ کون ہیں؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ان میں سے سے ایک تو علی ہیں دوسرے ابوذر غفاری تیسرے سلمان فارسی اور چوتھے مقداد بن اسود کندی ہیں۔ ؓ۔

21895Musnad Imam Ahmad

حضرت بریدہ اسلمی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ الْأَشْعَرِيَّ أُعْطِيَ مِزْمَارًا مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ

حضرت بریدہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم، ﷺ نے فرمایا عبداللہ بن قیس اشعری کو آل داؤد کے لہجوں میں سے ایک لہجہ دیا گیا ہے۔

21896Musnad Imam Ahmad

حضرت بریدہ اسلمی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ أَخْبَرَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي دَاوُدَ عَنْ بُرَيْدَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا كَانَ لَهُ كُلَّ يَوْمٍ صَدَقَةٌ وَمَنْ أَنْظَرَهُ بَعْدَ حِلِّهِ كَانَ لَهُ مِثْلُهُ فِي كُلِّ يَوْمٍ صَدَقَةٌ

حضرت بریدہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم، ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی تنگدست (مقروض) کو مہلت دیدے تو اسے روزانہ صدقہ کرنے کا ثواب ملتا ہے اور جو شخص وقت مقررہ گذرنے کے بعد اسے مہلت دے دے تو اسے روزانہ اتنی ہی مقدار (جو اس نے قرض میں دے رکھی ہے) صدقہ کرنے کا ثواب ملتا ہے۔

21897Musnad Imam Ahmad

حضرت بریدہ اسلمی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَطَاءٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ جَاءَتْ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ إِنِّي تَصَدَّقْتُ عَلَى أُمِّي بِجَارِيَةٍ وَإِنَّهَا مَاتَتْ قَالَ آجَرَكِ اللَّهُ وَرَدَّ عَلَيْكِ الْمِيرَاثَ

حضرت بریدہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک عورت نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہنے لگی یا رسول اللہ! ﷺ میں نے اپنی والدہ کو ایک باندی صدقہ میں دی تھی والدہ کا انتقال ہوگیا اس لئے وراثت میں وہ باندی دوبارہ میرے پاس آگئی ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس کا ثواب دے گا اور باندی بھی تمہیں وراثت میں مل گئی۔

21898Musnad Imam Ahmad

حضرت بریدہ اسلمی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا صَالِحٌ يَعْنِي ابْنَ حَيَّانَ عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي اثْنَيْنِ وَأَرْبَعِينَ مِنْ أَصْحَابِهِ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي الْمَقَامِ وَهُمْ خَلْفَهُ جُلُوسٌ يَنْتَظِرُونَهُ فَلَمَّا صَلَّى أَهْوَى فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْكَعْبَةِ كَأَنَّهُ يُرِيدُ أَنْ يَأْخُذَ شَيْئًا ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى أَصْحَابِهِ فَثَارُوا وَأَشَارَ إِلَيْهِمْ بِيَدِهِ أَنْ اجْلِسُوا فَجَلَسُوا فَقَالَ رَأَيْتُمُونِي حِينَ فَرَغْتُ مِنْ صَلَاتِي أَهْوَيْتُ فِيمَا بَيْنِي وَبَيْنَ الْكَعْبَةِ كَأَنِّي أُرِيدُ أَنْ آخُذَ شَيْئًا قَالُوا نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ إِنَّ الْجَنَّةَ عُرِضَتْ عَلَيَّ فَلَمْ أَرَ مِثْلَ مَا فِيهَا وَإِنَّهَا مَرَّتْ بِي خَصْلَةٌ مِنْ عِنَبٍ فَأَعْجَبَتْنِي فَأَهْوَيْتُ إِلَيْهَا لِآخُذَهَا فَسَبَقَتْنِي وَلَوْ أَخَذْتُهَا لَغَرَسْتُهَا بَيْنَ ظَهْرَانِيكُمْ حَتَّى تَأْكُلُوا مِنْ فَاكِهَةِ الْجَنَّةِ وَاعْلَمُوا أَنَّ الْكَمْأَةَ دَوَاءُ الْعَيْنِ وَأَنَّ الْعَجْوَةَ مِنْ فَاكِهَةِ الْجَنَّةِ وَأَنَّ هَذِهِ الْحَبَّةَ السَّوْدَاءَ الَّتِي تَكُونُ فِي الْمِلْحِ اعْلَمُوا أَنَّهَا دَوَاءٌ مِنْ كُلِّ دَاءٍ إِلَّا الْمَوْتَ

حضرت بریدہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ نبی کریم ﷺ کے ٢٤ صحابہ کرام ؓ میں شامل نبی کریم ﷺ کے ہمراہ تھے نبی کریم ﷺ مقام ابراہیم کے قریب نماز پڑھ رہے تھے صحابہ کرام ؓ پیچھے بیٹھے انتظار کر رہے تھے نماز سے فارغ ہو کر نبی کریم ﷺ خانہ کعبہ کی جانب اس طرح بڑھے جیسے کوئی چیز پکڑنے کی کوشش کر رہے ہیں پھر واپس آئے تو صحابہ کرام ؓ کھڑے ہوگئے نبی کریم ﷺ نے انہیں دست مبارک سے بیٹھنے کا اشارہ کیا وہ لوگ بیٹھ گئے اور نبی کریم ﷺ نے ان سے پوچھا کیا تم نے مجھے نماز سے فارغ ہو کر خانہ کعبہ کی طرف اس طرح بڑھتے ہوئے دیکھا تھا جیسے کوئی چیز پکڑنے کی کوشش کر رہا ہوں؟ انہوں نے عرض کیا جی یا رسول اللہ! ﷺ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ میرے سامنے جنت کو پیش کیا گیا جس کی نعمتوں جیسی کوئی چیز میں نے کبھی نہیں دیکھی میرے سامنے سے انگوروں کا ایک خوشہ گذرا جو مجھے اچھا لگا میں اسے پکڑنے کے لئے آگے بڑھا تو وہ مجھ سے آگے نکل گیا اگر میں اسے پکڑ لیتا تو اسے تمہارے سامنے گاڑ دیتا تاکہ تم جنت کے میوے کھاتے اور جان رکھو کہ کھنبی آنکھوں کا علاج ہے اور عجوہ جنت کا میوہ ہے اور یہ کلونجی جو نمک میں ہوتی ہے موت کے علاوہ ہر بیماری کا علاج ہے۔

21899Musnad Imam Ahmad

حضرت بریدہ اسلمی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْفَتْحِ فَتْحُ مَكَّةَ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ رَأَيْتُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ صَنَعْتَ الْيَوْمَ شَيْئًا لَمْ تَكُنْ تَصْنَعُهُ قَالَ عَمْدًا صَنَعْتُهُ يَا عُمَرُ

حضرت بریدہ ؓ سے مروی ہے کہ فتح کے دن نبی کریم ﷺ نے ایک ہی وضو سے کئی نمازیں پڑھیں تو حضرت عمر ؓ نے عرض کیا کہ آج تو آپ نے وہ کام کیا ہے جو پہلے کبھی نہیں کیا؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا میں نے جان بوجھ کر ایسا کیا ہے۔

21900Musnad Imam Ahmad

حضرت بریدہ اسلمی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ أَبِي رَبِيعَةَ عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُتْبِعْ النَّظْرَةَ النَّظْرَةَ فَإِنَّمَا لَكَ الْأُولَى وَلَيْسَتْ لَكَ الْآخِرَةُ

حضرت بریدہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا نامحرم عورت پر ایک مرتبہ نظر پڑجانے کے بعد دوبارہ نظر مت ڈالا کرو کیونکہ پہلی نظر تمہیں معاف ہے لیکن دوسری نظر معاف نہیں ہے۔

21901Musnad Imam Ahmad

حضرت بریدہ اسلمی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا بَشِيرُ بْنُ مُهَاجِرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَعَلَّمُوا الْبَقَرَةَ فَإِنَّ أَخْذَهَا بَرَكَةٌ وَتَرْكَهَا حَسْرَةٌ وَلَا يَسْتَطِيعُهَا الْبَطَلَةُ تَعَلَّمُوا الْبَقَرَةَ وَآلَ عِمْرَانَ فَإِنَّهُمَا هُمَا الزَّهْرَاوَانِ يَجِيئَانِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَنَّهُمَا غَمَامَتَانِ أَوْ غَيَايَتَانِ أَوْ كَأَنَّهُمَا فِرْقَانِ مِنْ طَيْرٍ صَوَافَّ تُجَادِلَانِ عَنْ صَاحِبِهِمَا

حضرت بریدہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم ﷺ کی مجلس میں شریک تھا میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ سورت بقرہ کو سیکھو کیونکہ اس کا حاصل کرنا برکت اور چھوڑنا حسرت ہے اور غلط کار لوگ اس کی طاقت نہیں رکھتے پھر تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد فرمایا سورت بقرہ اور آل عمران دونوں کو سیکھو کیونکہ یہ دونوں روشن سورتیں اپنے پڑھنے والوں پر قیامت کے دن بادلوں، سائبانوں یا پرندوں کی دو ٹولیوں کی صورت میں سایہ کریں گی اور اپنے پڑھنے والوں کی طرف سے جھگڑا کریں گے۔