حضرت عبادہ بن صامت (رض) کی مرویات

Musnad Imam Ahmad · Chapter 892 · 116 hadiths · Page 6 of 6

21719Musnad Imam Ahmad

حضرت عبادہ بن صامت (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ قَالَ قَالَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ نَزَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاللَّاتِي يَأْتِينَ الْفَاحِشَةَ إِلَى آخِرِ الْآيَةِ قَالَ فَفَعَلَ ذَلِكَ بِهِنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ وَنَحْنُ حَوْلَهُ وَكَانَ إِذَا نَزَلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ أَعْرَضَ عَنَّا وَأَعْرَضْنَا عَنْهُ وَتَرَبَّدَ وَجْهُهُ وَكَرَبَ لِذَلِكَ فَلَمَّا رُفِعَ عَنْهُ الْوَحْيُ قَالَ خُذُوا عَنِّي قُلْنَا نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لَهُنَّ سَبِيلًا الْبِكْرُ بِالْبِكْرِ جَلْدُ مِائَةٍ وَنَفْيُ سَنَةٍ وَالثَّيِّبُ بِالثَّيِّبِ جَلْدُ مِائَةٍ ثُمَّ الرَّجْمُ قَالَ الْحَسَنُ فَلَا أَدْرِي أَمِنَ الْحَدِيثِ هُوَ أَمْ لَا قَالَ فَإِنْ شَهِدُوا أَنَّهُمَا وُجِدَا فِي لِحَافٍ لَا يَشْهَدُونَ عَلَى جِمَاعٍ خَالَطَهَا بِهِ جَلْدُ مِائَةٍ وَجُزَّتْ رُءُوسُهُمَا

حضرت عبادہ بن صامت ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ پر یہ آیت نازل ہوئی وہ عورتیں جو بےحیائی کا کام کریں۔۔۔۔۔۔۔ تو نبی کریم ﷺ نے ایسی عورتوں کے ساتھ یہی سلوک کیا ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ تشریف فرما تھے ہم بھی ان کے گرد بیٹھے ہوئے تھے ( کہ نبی کریم ﷺ پر وحی نازل ہونے لگی) اور نبی کریم ﷺ پر جب بھی وحی نازل ہوتی تو نبی کریم ﷺ کی توجہ ہماری طرف سے ہٹ جاتی اور ہم بھی ہٹ جاتے تھے نبی کریم ﷺ کے رخ انور کا رنگ بدل جاتا اور سخت تکلیف ہوتی تھی، بہر حال! جب وحی کی کیفیت ختم ہوئی تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا مجھ سے یہ بات حاصل کرلو مجھ سے یہ بات حاصل کرلو اللہ تعالیٰ نے عورتوں کے لئے یہ راستہ متعین کردیا ہے کہ اگر کوئی کنوارہ لڑکا کنواری لڑکی کے ساتھ بدکاری کرے تو اسے سو کوڑے مارے جائیں اور ایک سال کے لئے جلا وطن کیا جائے اور اگر شادی شدہ مرد شادی شدہ عورت کے ساتھ بدکاری کرے تو اسے سو کوڑے مارے جائیں اور رجم بھی کیا جائے۔

21720Musnad Imam Ahmad

حضرت عبادہ بن صامت (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ شُعَيْبٍ الْبَزَّارُ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَضْرَمِيُّ أَخْبَرَنِي أَبُو عَوَانَةَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ عَنْ عِيسَى قَالَ وَكَانَ أَمِيرًا عَلَى الرَّقَّةِ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ أَمِيرِ عَشَرَةٍ إِلَّا جِيءَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَغْلُولَةٌ يَدُهُ إِلَى عُنُقِهِ حَتَّى يُطْلِقَهُ الْحَقُّ أَوْ يُوبِقَهُ وَمَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ ثُمَّ نَسِيَهُ لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ أَجْذَمُ

حضرت سعد بن عبادہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص بھی دس آدمیوں کا امیر رہا وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کے ہاتھ بندھے ہوں گے جنہیں اس کے عدل کے علاوہ کوئی چیز نہیں کھول سکے گی اور جس شخص نے قرآن کریم سیکھا پھر اسے بھول گیا تو وہ اللہ سے کوڑھی بن کر ملے گا۔

21721Musnad Imam Ahmad

حضرت عبادہ بن صامت (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ مَخْلَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي زُمَيْلٍ إِمْلَاءً مِنْ كِتَابِهِ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْفَزَارِيُّ وَيُكْنَى أَبَا عَبْدِ اللَّهِ وَلَقَبُهُ أَبُو الْمَلِيحِ يَعْنِي الرَّقِّيَّ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي مَرْزُوقٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ قَالَ دَخَلْتُ مَسْجِدَ حِمْصَ فَإِذَا فِيهِ حَلْقَةٌ فِيهَا اثْنَانِ وَثَلَاثُونَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَفِيهِمْ شَابٌّ أَكْحَلُ بَرَّاقُ الثَّنَايَا مُحْتَبٍ فَإِذَا اخْتَلَفُوا فِي شَيْءٍ سَأَلُوهُ فَأَخْبَرَهُمْ فَانْتَهَوْا إِلَى خَبَرِهِ قَالَ قُلْتُ مَنْ هَذَا قَالُوا هَذَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ قَالَ فَقُمْتُ إِلَى الصَّلَاةِ قَالَ فَأَرَدْتُ أَنْ أَلْقَى بَعْضَهُمْ فَلَمْ أَقْدِرْ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ انْصَرَفُوا فَلَمَّا كَانَ الْغَدُ دَخَلْتُ فَإِذَا مُعَاذٌ يُصَلِّي إِلَى سَارِيَةٍ قَالَ فَصَلَّيْتُ عِنْدَهُ فَلَمَّا انْصَرَفَ جَلَسْتُ بَيْنِي وَبَيْنَهُ السَّارِيَةُ ثُمَّ احْتَبَيْتُ فَلَبِثْتُ سَاعَةً لَا أُكَلِّمُهُ وَلَا يُكَلِّمُنِي قَالَ ثُمَّ قُلْتُ وَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّكَ لِغَيْرِ دُنْيَا أَرْجُوهَا أُصِيبُهَا مِنْكَ وَلَا قَرَابَةَ بَيْنِي وَبَيْنَكَ قَالَ فَلِأَيِّ شَيْءٍ قَالَ قُلْتُ لِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَالَ فَنَثَرَ حِبْوَتِي ثُمَّ قَالَ فَأَبْشِرْ إِنْ كُنْتَ صَادِقًا فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الْمُتَحَابُّونَ فِي اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فِي ظِلِّ الْعَرْشِ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ يَغْبِطُهُمْ بِمَكَانِهِمْ النَّبِيُّونَ وَالشُّهَدَاءُ قَالَ ثُمَّ خَرَجْتُ فَأَلْقَى عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ قَالَ فَحَدَّثْتُهُ بِالَّذِي حَدَّثَنِي مُعَاذٌ فَقَالَ عُبَادَةُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْوِي عَنْ رَبِّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَنَّهُ قَالَ حَقَّتْ مَحَبَّتِي عَلَى الْمُتَزَاوِرِينَ فِيَّ وَحَقَّتْ مَحَبَّتِي عَلَى الْمُتَبَاذِلِينَ فِيَّ عَلَى مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ يَغْبِطُهُمْ بِمَكَانِهِمْ النَّبِيُّونَ وَالصِّدِّيقُونَ

ابو مسلم کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں ایک مجلس میں شریک ہوا جس میں نبی کریم ﷺ کے ٢ صحابہ کرام ؓ تشریف فرما تھے ان میں ایک نوجوان اور کم عمر صحابی بھی تھے ان کا رنگ کھلتا ہوا، بڑی اور سیاہ آنکھیں اور چمکدار دانت تھے، جب لوگوں میں کوئی اختلاف ہوتا اور وہ کوئی بات کہہ دیتے تو لوگ ان کی بات کو حرف آخر سمجھتے تھے، بعد میں معلوم ہوا کہ وہ حضرت معاذ بن جبل ؓ ہیں۔ اگلے دن میں دوبارہ حاضر ہوا تو وہ ایک ستون کی آڑ میں نماز پڑھ رہے تھے انہوں نے نماز کو مختصر کیا اور گوٹ مار کر خاموشی سے بیٹھ گئے میں نے آگے بڑھ کر عرض کیا بخدا! میں اللہ کے جلال کی وجہ سے آپ سے محبت کرتا ہوں انہوں نے قسم دے کر پوچھا واقعی؟ میں نے بھی قسم کھا کر جواب دیا انہوں نے غالباً یہ فرمایا کہ اللہ کی خاطر ایک دوسرے سے محبت کرنے والے اس دن عرش الہٰی کے سائے میں ہوں گے جس دن اس کے علاوہ کہیں سایہ نہ ہوگا، (اس کے بعد بقیہ حدیث میں کوئی شک نہیں) ان کے لئے نور کی کرسیاں رکھی جائیں گی اور ان کی نشست گاہ پروردگار عالم کے قریب ہونے کی وجہ سے انبیاء کرام (علیہم السلام) اور صدیقین وشہداء بھی ان پر رشک کریں گے۔ بعد میں وہاں سے نکل کر یہ حدیث میں نے حضرت عبادہ بن صامت ؓ کو سنائی۔

21722Musnad Imam Ahmad

حضرت عبادہ بن صامت (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا هِقْلٌ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ حَدَّثَنِي رَجُلٌ فِي مَجْلِسِ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ قَالَ دَخَلْتُ مَسْجِدَ حِمْصَ فَجَلَسْتُ إِلَى حَلْقَةٍ فِيهَا اثْنَانِ وَثَلَاثُونَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَقُولُ الرَّجُلُ مِنْهُمْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيُحَدِّثُ ثُمَّ يَقُولُ الْآخَرُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيُحَدِّثُ قَالَ وَفِيهِمْ رَجُلٌ أَدْعَجُ بَرَّاقُ الثَّنَايَا فَإِذَا شَكُّوا فِي شَيْءٍ رَدُّوهُ إِلَيْهِ وَرَضُوا بِمَا يَقُولُ فِيهِ قَالَ فَلَمْ أَجْلِسْ قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ مَجْلِسًا مِثْلَهُ فَتَفَرَّقَ الْقَوْمُ وَمَا أَعْرِفُ اسْمَ رَجُلٍ مِنْهُمْ وَلَا مَنْزِلَهُ قَالَ فَبِتُّ بِلَيْلَةٍ مَا بِتُّ بِمِثْلِهَا قَالَ وَقُلْتُ أَنَا رَجُلٌ أَطْلُبُ الْعِلْمَ وَجَلَسْتُ إِلَى أَصْحَابِ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ أَعْرِفْ اسْمَ رَجُلٍ مِنْهُمْ وَلَا مَنْزِلَهُ فَلَمَّا أَصْبَحْتُ غَدَوْتُ إِلَى الْمَسْجِدِ فَإِذَا أَنَا بِالرَّجُلِ الَّذِي كَانُوا إِذَا شَكُّوا فِي شَيْءٍ رَدُّوهُ إِلَيْهِ يَرْكَعُ إِلَى بَعْضِ أُسْطُوَانَاتِ الْمَسْجِدِ فَجَلَسْتُ إِلَى جَانِبِهِ فَلَمَّا انْصَرَفَ قُلْتُ يَا عَبْدَ اللَّهِ وَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّكَ لِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَأَخَذَ بِحُبْوَتِي حَتَّى أَدْنَانِي مِنْهُ ثُمَّ قَالَ إِنَّكَ لَتُحِبُّنِي لِلَّهِ قَالَ قُلْتُ إِي وَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّكَ لِلَّهِ قَالَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ الْمُتَحَابِّينَ بِجَلَالِ اللَّهِ فِي ظِلِّ اللَّهِ وَظِلِّ عَرْشِهِ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ قَالَ فَقُمْتُ مِنْ عِنْدِهِ فَإِذَا أَنَا بِرَجُلٍ مِنْ الْقَوْمِ الَّذِينَ كَانُوا مَعَهُ قَالَ قُلْتُ حَدِيثًا حَدَّثَنِيهِ الرَّجُلُ قَالَ أَمَا إِنَّهُ لَا يَقُولُ لَكَ إِلَّا حَقًّا قَالَ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ قَدْ سَمِعْتُ ذَلِكَ وَأَفْضَلَ مِنْهُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَأْثِرُ عَنْ رَبِّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى حَقَّتْ مَحَبَّتِي لِلَّذِينَ يَتَحَابُّونَ فِيَّ وَحَقَّتْ مَحَبَّتِي لِلَّذِينَ يَتَبَاذَلُونَ فِيَّ وَحَقَّتْ مَحَبَّتِي لِلَّذِينَ يَتَزَاوَرُونَ فِيَّ قَالَ قُلْتُ مَنْ أَنْتَ يَرْحَمُكَ اللَّهُ قَالَ أَنَا عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ قَالَ قُلْتُ مَنْ الرَّجُلُ قَالَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ

حضرت عبادہ ؓ نے فرمایا میں بھی تم سے صرف وہی حدیث بیان کروں گا جو میں نے خود لسان نبوت سے سنی ہے اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے " میری محبت ان لوگوں کے لئے طے شدہ ہے جو میری وجہ سے ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں، میری محبت ان لوگوں کے لئے طے شدہ ہے جو میری وجہ سے ایک دوسرے سے ملاقات کرتے ہیں میری محبت ان لوگوں کے لئے طے شدہ ہے جو میری وجہ سے ایک دوسرے پر خرچ کرتے ہیں وہ نور کے منبروں پر رونق افروز ہوں گے اور ان کی نشستوں پر انبیاء و صدیقین بھی رشک کریں گے۔

21723Musnad Imam Ahmad

حضرت عبادہ بن صامت (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا أَبُو بَحْرٍ عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَبِي سِنَانٍ عَنْ يَعْلَى بْنِ شَدَّادٍ قَالَ سَمِعْتُ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ يَقُولُ عَادَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ فَقَالَ هَلْ تَدْرُونَ مَنْ الشُّهَدَاءُ مِنْ أُمَّتِي مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا فَسَكَتُوا فَقَالَ عُبَادَةُ أَخْبِرْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ الْقَتِيلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ شَهِيدٌ وَالْمَبْطُونُ شَهِيدٌ وَالْمَطْعُونُ شَهِيدٌ وَالنُّفَسَاءُ شَهِيدٌ يَجُرُّهَا وَلَدُهَا بِسُرَرِهِ إِلَى الْجَنَّةِ

حضرت عبادہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں بیمار تھا نبی کریم ﷺ کچھ انصاری لوگوں کے ساتھ میری عیادت کے لئے تشریف لائے وہاں موجود لوگوں سے پوچھا کیا تم جانتے ہو کہ شہید کون ہوتا ہے؟ لوگ خاموش رہے نبی کریم ﷺ نے دوبارہ سوال کیا لوگ پھر خاموش رہے نبی کریم ﷺ نے تیسری مرتبہ یہی سوال کیا تو میں نے اپنی بیوی سے کہا کہ مجھے سہارا دے کر بٹھا دو اس نے ایسا ہی کیا اور میں نے عرض کیا جو شخص اسلام لائے ہجرت کرے پھر اللہ کے راستہ میں شہید ہوجائے تو وہ شہید ہوتا ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا اس طرح تو میری امت کے شہداء بہت تھوڑے رہ جائیں گے اللہ کے راستے میں مارا جانا بھی شہادت ہے پیٹ کی بیماری میں مرنا بھی شہادت ہے غرق ہو کر مرجانا بھی شہادت ہے اور نفاس کی حالت میں عورت کا مرجانا بھی شہادت ہے۔

21724Musnad Imam Ahmad

حضرت عبادہ بن صامت (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ الْكَوْسَجُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا ابْنُ ثَوْبَانَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ مَكْحُولٍ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ أَنَّ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ حَدَّثَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ مِنْ رَجُلٍ مُسْلِمٍ يَدْعُو اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ بِدَعْوَةٍ إِلَّا آتَاهُ اللَّهُ إِيَّاهَا أَوْ كَفَّ عَنْهُ مِنْ السُّوءِ مِثْلَهَا مَا لَمْ يَدْعُ بِإِثْمٍ أَوْ قَطِيعَةِ رَحِمٍ

حضرت عبادہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا روئے زمین پر جو مسلمان آدمی بھی اللہ سے کوئی دعاء مانگتا ہے تو اللہ اسے وہی چیز عطاء فرما دیتا ہے یا اتنی پریشانی اور تکلیف کو دور کردیتا ہے تا وقتیکہ کسی گناہ میں یا قطع رحمی کی دعاء نہ کریں۔

21725Musnad Imam Ahmad

حضرت عبادہ بن صامت (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَرَوِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ عَنْ ابْنِ خُثَيْمٍ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ عَنْ أَبِيهِ عُبَيْدٍ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ سَيَلِي أُمُورَكُمْ مِنْ بَعْدِي رِجَالٌ يُعَرِّفُونَكُمْ مَا تُنْكِرُونَ وَيُنَكِّرُونَكُمْ مَا تَعْرِفُونَ فَلَا طَاعَةَ لِمَنْ عَصَى اللَّهَ تَعَالَى فَلَا تَعْتَلُّوا بِرَبِّكُمْ

حضرت عبادہ ؓ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میرے بعد ایسے لوگ تمہارے حکمران ہوں گے جو تمہیں ایسے کاموں کی پہچان کرائیں گے جنہیں تم ناپسند سمجھتے ہو گے اور ایسے کاموں کو ناپسند کریں گے جنہیں تم اچھا سمجھتے ہوگے سو جو شخص اللہ کی نافرمانی کرے اس کی اطاعت ضروری نہیں اور تم اپنے رب سے نہ ہٹنا۔

21726Musnad Imam Ahmad

حضرت عبادہ بن صامت (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ عَنْ أَبِي الْمُثَنَّى عَنِ ابْنِ أُخْتِ عُبَادَةَ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهَا سَتَكُونُ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ تَشْغَلُهُمْ أَشْيَاءُ عَنْ الصَّلَاةِ حَتَّى يُؤَخِّرُوهَا عَنْ وَقْتِهَا فَصَلُّوهَا لِوَقْتِهَا فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَإِنْ أَدْرَكْتُ مَعَهُمْ أُصَلِّي قَالَ إِنْ شِئْتَ

حضرت عبادہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا عنقریب ایسے امراء آئیں گے جنہیں بہت سی چیزیں غفلت میں مبتلا کردیں گی اور وہ نماز کو اس کے وقت مقررہ سے مؤخر کردیا کریں گے اس موقع پر تم لوگ وقت مقررہ پر نماز پڑھ لیا کرنا اور ان کے ساتھ نفل کی نیت سے شریک ہوجانا۔

21727Musnad Imam Ahmad

حضرت عبادہ بن صامت (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ النَّاجِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ جَبَلَةَ بْنِ عَطِيَّةَ عَنْ يَحْيَى بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ غَزَا قَالَ إِبْرَاهِيمُ فِي حَدِيثِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَلَا يَنْوِي فِي غَزَاتِهِ إِلَّا عِقَالًا فَلَهُ مَا نَوَى

حضرت عبادہ بن صامت ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص اللہ کے راستہ میں جہاد کرے لیکن اس کی نیت اس جہاد سے ایک رسی حاصل کرنا ہو تو اسے وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی ہوگی۔

21728Musnad Imam Ahmad

حضرت عبادہ بن صامت (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ مَكِّيٌّ وَأَبُو مَرْوَانَ الْعُثْمَانِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خَالِدٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو ضَمْرَةَ عَنْ ابْنِ حَرْمَلَةَ عَنْ يَعْلَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّادٍ الزُّرَقِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ كَانَ يَصِيدُ الْعَصَافِيرَ فِي بِئْرِ أَبِي إِهَابٍ وَكَانَتْ لَهُمْ فَرَآنِي عُبَادَةُ وَقَدْ أَخَذْتُ الْعُصْفُورَ فَانْتَزَعَهُ مِنِّي وَأَرْسَلَهُ وَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرَّمَ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا كَمَا حَرَّمَ إِبْرَاهِيمُ مَكَّةَ وَكَانَ عُبَادَةُ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

عبداللہ بن عباد زرقی (رح) کہتے ہیں کہ وہ ایک مرتبہ بئر اہاب نامی اپنے کنویں پر چڑیوں کا شکار کر رہے تھے حضرت عبادہ بن صامت ؓ نے مجھے دیکھ کرلیا، اس وقت میں نے کچھ چڑیاں پکڑ رکھی تھیں انہوں نے وہ میرے ہاتھ سے چھین کر چھوڑ دیں اور فرمایا بیٹا! نبی کریم ﷺ نے مدینہ کے دونوں کناروں کی درمیانی جگہ کو اسی طرح حرم قرار دیا ہے جیسے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے مکہ مکرمہ کو قرار دیا تھا۔

21729Musnad Imam Ahmad

حضرت عبادہ بن صامت (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ الْكَوْسَجُ أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ مُوسَى عَنْ فَرْقَدٍ السَّبَخِيِّ حَدَّثَنَا أَبُو مُنِيبٍ الشَّامِيُّ عَنْ أَبِي عَطَاءٍ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ و حَدَّثَنِي شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَحَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَحَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ أَوْ حُدِّثْتُ عَنْهُ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَيَبِيتَنَّ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عَلَى أَشَرٍ وَبَطَرٍ وَلَعِبٍ وَلَهْوٍ فَيُصْبِحُوا قِرَدَةً وَخَنَازِيرَ بِاسْتِحْلَالِهِمْ الْمَحَارِمَ وَالْقَيْنَاتِ وَشُرْبِهِمْ الْخَمْرَ وَأَكْلِهِمْ الرِّبَا وَلُبْسِهِمْ الْحَرِيرَ

مختلف صحابہ کرام ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قدرت میں محمد ﷺ کی جان ہے میری امت کا ایک گر وہ رات بھر کھانے پینے اور لہو ولعب میں مصروف رہے گا جب صبح ہوگی تو ان کی شکلیں بندروں اور خنزیروں کی شکل میں بدل چکی ہوں گی کیونکہ وہ شراب کو حلال سمجھتے ہوں گے دف (آلات موسیقی) بجاتے ہوں گے اور گانے والی عورتیں (گلوکارائیں) بنا رکھی ہوں گی۔

21730Musnad Imam Ahmad

حضرت عبادہ بن صامت (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنِي مَنْ لَا أَتَّهِمُ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَأَى الْهِلَالَ قَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ الْحَمْدُ لِلَّهِ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَ هَذَا الشَّهْرِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ الْقَدَرِ وَمِنْ سُوءِ الْحَشْرِ

حضرت عبادہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ جب پہلی کا چاند دیکھتے تھے تو اللہ اکبر الحمد للہ اور لاحول ولاقوۃ الا باللہ کہہ کر یہ دعاء فرماتے تھے، اے اللہ! میں تجھ سے اس مہینے کا خیر کا سوال کرتا ہوں اور تقدیر کے برے فیصلوں اور برے انجام سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔

21731Musnad Imam Ahmad

حضرت عبادہ بن صامت (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا شُجَاعُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ مُغِيرَةَ عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ قَالَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ جُرِحَ فِي جَسَدِهِ جِرَاحَةً فَتَصَدَّقَ بِهَا كَفَّرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَنْهُ بِمِثْلِ مَا تَصَدَّقَ بِهِ

حضرت عبادہ ؓ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جس شخص کے جسم پر کوئی زخم لگ جائے اور وہ صدقہ خیرات کر دے تو اس صدقے کی مناسبت سے اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کا کفارہ فرما دیتا ہے۔

21732Musnad Imam Ahmad

حضرت عبادہ بن صامت (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَعْمَرُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ أَخْبَرَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنِي أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلَانِيُّ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ الْجَنْبِيِّ أَنَّ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ وَعُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ حَدَّثَاهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ وَفَرَغَ اللَّهُ تَعَالَى مِنْ قَضَاءِ الْخَلْقِ فَيَبْقَى رَجُلَانِ فَيُؤْمَرُ بِهِمَا إِلَى النَّارِ فَيَلْتَفِتُ أَحَدُهُمَا فَيَقُولُ الْجَبَّارُ تَعَالَى رُدُّوهُ فَيَرُدُّوهُ قَالَ لَهُ لِمَ الْتَفَتَّ قَالَ إِنْ كُنْتُ أَرْجُو أَنْ تُدْخِلَنِي الْجَنَّةَ قَالَ فَيُؤْمَرُ بِهِ إِلَى الْجَنَّةِ فَيَقُولُ لَقَدْ أَعْطَانِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ حَتَّى لَوْ أَنِّي أَطْعَمْتُ أَهْلَ الْجَنَّةِ مَا نَقَصَ ذَلِكَ مَا عِنْدِي شَيْئًا قَالَ فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ذَكَرَهُ يُرَى السُّرُورُ فِي وَجْهِهِ

حضرت فضالہ بن عبید ؓ اور عبادہ بن صامت ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ مخلوق کے حساب سے فارغ ہوجائے گا تو دو آدمی رہ جائیں گے ان کے متعلق حکم ہوگا کہ انہیں جہنم میں ڈال دیا جائے ان میں سے ایک جاتے ہوئے پیچھے مڑ کر دیکھے گا اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اسے واپس لے کر آؤ چناچہ فرشتے اسے واپس لائیں گے اللہ تعالیٰ پوچھے گا کہ تو نے پیچھے مڑ کر کیوں دیکھا؟ وہ جواب دے گا کہ مجھے امید تھی کہ آپ مجھے جنت میں داخل فرمائیں گے چناچہ اسے جنت میں لے جانے کا حکم دیا جائے گا اور وہ کہتا ہوں گا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اتنا دیا ہے کہ اگر میں تمام اہل جنت کو کھانے کی دعوت دوں تو میرے پاس سے کچھ بھی کم نہ ہوگا اور نبی کریم ﷺ جب بھی یہ بات ذکر فرماتے تھے تو چہرہ مبارک پر بشاشت کے اثرات دکھائی دیتے تھے۔

21733Musnad Imam Ahmad

حضرت عبادہ بن صامت (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَبُو مَعْمَرٍ الْهُذَلِيُّ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مُغِيرَةَ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنِ ابْنِ الصَّامِتِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ تَصَدَّقَ عَنْ جَسَدِهِ بِشَيْءٍ كَفَّرَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ بِقَدْرِ ذُنُوبِهِ

حضرت عبادہ ؓ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جس شخص کے جسم پر کوئی زخم لگ جائے اور وہ صدقہ خیرات کر دے تو اس صدقے کی مناسبت سے اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کا کفارہ فرما دیتا ہے۔

21734Musnad Imam Ahmad

حضرت عبادہ بن صامت (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَالِمٍ الْكُوفِيُّ الْمَفْلُوجُ وَكَانَ ثِقَةً حَدَّثَنَا عُبَيْدَةُ بْنُ الْأَسْوَدِ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ الْوَلِيدِ عَنْ أَبِي صَادِقٍ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ نَاجِدٍ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْخُذُ الْوَبَرَةَ مِنْ جَنْبِ الْبَعِيرِ مِنْ الْمَغْنَمِ فَيَقُولُ مَا لِي فِيهِ إِلَّا مِثْلُ مَا لِأَحَدِكُمْ مِنْهُ إِيَّاكُمْ وَالْغُلُولَ فَإِنَّ الْغُلُولَ خِزْيٌ عَلَى صَاحِبِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَدُّوا الْخَيْطَ وَالْمَخِيطَ وَمَا فَوْقَ ذَلِكَ وَجَاهِدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَعَالَى الْقَرِيبَ وَالْبَعِيدَ فِي الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ فَإِنَّ الْجِهَادَ بَابٌ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ إِنَّهُ لَيُنَجِّي اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى بِهِ مِنْ الْهَمِّ وَالْغَمِّ وَأَقِيمُوا حُدُودَ اللَّهِ فِي الْقَرِيبِ وَالْبَعِيدِ وَلَا يَأْخُذْكُمْ فِي اللَّهِ لَوْمَةُ لَائِمٍ

حضرت عبادہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے لوگوں کو ایک غزوے میں مال غنیمت کے ایک اونٹ کو بطور سترہ سامنے کھڑے کر کے نماز پڑھائی جب سلام پھیر کر فارغ ہوئے تو کھڑے ہو کر اس کی اون اپنی دو انگلیوں کے درمیان لے کر فرمایا یہ تمہارا مال غنیمت ہے اور خمس کے علاوہ اس میں میرا بھی اتنا ہی حصہ ہے جتنا تمہارا ہے اور خمس بھی تم ہی پر لوٹا دیا جاتا ہے لہٰذا اگر کسی کے پاس سوئی دھاگہ بھی ہو تو وہ لے آئے یا اس سے بڑی اور چھوٹی چیز ہو تو وہ بھی واپس کر دے اور مال غنیمت میں خیانت نہ کرو، کیونکہ خیانت دنیا و آخرت میں خائن کے لئے آگ اور شرمندگی کا سبب ہوگی اور لوگوں سے اللہ کے راستہ میں جہاد کیا کرو کہ خواہ وہ قریب ہوں یا دور اور اللہ کے حوالے سے کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہ کیا کرو اور سفر و حضر میں اللہ کی حدود قائم رکھا کرو اور اللہ کی راہ میں جہاد کرو کیونکہ اللہ کے راستہ میں جہاد کرنا جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ انسان کو غم اور پریشانی سے نجات عطا فرماتا ہے۔