حضرت ثوبان (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ حَدَّثَنَا مَيْمُونٌ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ عَنْ ثَوْبَانَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تُؤْذُوا عِبَادَ اللَّهِ وَلَا تُعَيِّرُوهُمْ وَلَا تَطْلُبُوا عَوْرَاتِهِمْ فَإِنَّهُ مَنْ طَلَبَ عَوْرَةَ أَخِيهِ الْمُسْلِمِ طَلَبَ اللَّهُ عَوْرَتَهُ حَتَّى يَفْضَحَهُ فِي بَيْتِهِ
حضرت ثوبان ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللہ کے بندوں کو مت ستایا کرو، انہیں عار مت دلایا کرو اور ان کے عیوب تلاش نہ کیا کرو کیونکہ جو شخص اپنے مسلمان بھائی کے عیوب تلاش کرتا ہے اللہ اس کے عیوب کو تلاش کرنے لگتا ہے حتیٰ کہ اسے اس کے گھر کے اندر ہی رسوا کردیتا ہے۔
حضرت ثوبان (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي عَلَى الْحَقِّ ظَاهِرِينَ لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَذَلَهُمْ حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
حضرت ثوبان ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر جہاد کرتا رہے گا جو ہمیشہ غالب رہے گا اور ان کی مخالفت کرنے والا کوئی شخص انہیں نقصان نہیں پہنچا سکے گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا حکم آجائے گا۔
حضرت ثوبان (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يُونُسُ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ عَنْ ثَوْبَانَ لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَدْ رَفَعَهُ قَالَ عَفَّانُ عَنْ ثَوْبَانَ رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَائِدُ الْمَرِيضِ فِي مَخْرَفَةِ الْجَنَّةِ وَلَمْ يَشُكَّ فِيهِ ابْنُ مَهْدِيٍّ
حضرت ثوبان ؓ سے مرفوعاً مروی ہے کہ جب کوئی مسلمان آدمی اپنے مسلمان بھائی کی عیادت کرتا ہے تو وہ جنت کے باغات کی سیر کرتا ہے۔
حضرت ثوبان (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ حَدَّثَنِي ثَوْبَانُ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ يَضْمَنُ لِي وَاحِدَةً وَأَضْمَنُ لَهُ الْجَنَّةَ قَالَ قُلْتُ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ لَا تَسْأَلْ النَّاسَ شَيْئًا قَالَ فَكَانَ سَوْطُ ثَوْبَانَ سَقَطَ وَهُوَ عَلَى بَعِيرِهِ فَيُنِيخُ حَتَّى يَأْخُذَهُ وَمَا يَقُولُ لِأَحَدٍ نَاوِلْنِيهِ
حضرت ثوبان ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص مجھے ایک چیز کی ضمانت دے دے میں اسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں؟ حضرت ثوبان ؓ نے اپنے آپ کو پیش کردیا نبی کریم ﷺ نے فرمایا لوگوں سے کسی چیز کا سوال مت کرنا انہوں نے عرض کیا ٹھیک ہے چناچہ انہوں نے اس کے بعد کبھی کسی سے کچھ نہیں مانگا حتیٰ کہ اگر وہ سوار ہوتے اور ان کا کوڑا گرپڑتا تو وہ بھی کسی سے اٹھانے کے لئے نہ کہتے خود اتر کر اسے اٹھاتے۔
حضرت ثوبان (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْضَلُ دِينَارٍ يُنْفِقُهُ الرَّجُلُ عَلَى عِيَالِهِ ثُمَّ عَلَى نَفْسِهِ ثُمَّ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ عَلَى أَصْحَابِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ أَبُو قِلَابَةَ فَيَبْدَأُ بِالْعِيَالِ و قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ وَلَمْ يَرْفَعْهُ دِينَارٌ أَنْفَقَهُ رَجُلٌ عَلَى دَابَّتِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ
حضرت ثوبان ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا سب سے افضل دینار وہ ہے جو آدمی اپنے اہل و عیال پر خرچ کرے یا اللہ کے راستہ میں اپنی سواری پر خرچ کرے یا اللہ کے راستہ میں اپنے ساتھیوں پر خرچ کرے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حضرت ثوبان (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ عَنْ خَالِدٍ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْمُسْلِمَ إِذَا عَادَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ لَمْ يَزَلْ فِي مَخْرَفَةِ الْجَنَّةِ حَتَّى يَرْجِعَق
حضرت ثوبان ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جب کوئی مسلمان آدمی اپنے مسلمان بھائی کی عیادت کرتا ہے تو وہ جنت کے باغات کی سیر کرتا ہے۔
حضرت ثوبان (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الطَّالَقَانِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ حَدَّثَنِي أَبُو عَمَّارٍ حَدَّثَنِي أَبُو أَسْمَاءَ الرَّحَبِيُّ حَدَّثَنِي ثَوْبَانُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنْصَرِفَ مِنْ صَلَاتِهِ قَالَ أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ ثَلَاثًا ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ تَبَارَكْتَ ذَا الْجِلَالِ وَالْإِكْرَامِ
حضرت ثوبان ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ جب نماز سے فارغ ہوتے تو تین مرتبہ استغفار کرتے اور پھر یہ دعاء کرتے کہ اے اللہ! تو ہی حقیقی سلامتی والا ہے اور تیری ہی طرف سے سلامتی مل سکتی ہے اے بزرگی اور عزت والے! تیری ذات بڑی بابرکت ہے۔
حضرت ثوبان (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ سَالِمٍ عَنْ مَعْدَانَ عَنْ ثَوْبَانَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَنَا بِعُقْرِ حَوْضِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَذُودُ عَنْهُ النَّاسَ لِأَهْلِ الْيَمَنِ وَأَضْرِبُهُمْ بِعَصَايَ حَتَّى يَرْفَضَّ عَنْهُمْ قَالَ قِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا سَعَتُهُ قَالَ مِنْ مَقَامِي إِلَى عُمَانَ يَغُتُّ فِيهِ مِيزَابَانِ يَمُدَّانِهِ
حضرت ثوبان ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن میں اپنے حوض کے پچھلے حصے میں ہوں گا اور اہل یمن کے لئے لوگوں کو ہٹا رہا ہوں گا اور انہیں اپنی لاٹھی سے ہٹاؤں گا یہاں تک کہ وہ چھٹ جائیں گے کسی شخص نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا کہ اس کی وسعت کتنی ہوگی؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اس جگہ سے عمان تک فاصلے کے برابر جس میں دو پرنالے گرتے ہوں گے اور اس کے پانی میں اضافہ کرتے ہوں گے۔
حضرت ثوبان (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَقِيعِ فِي ثَمَانِ عَشْرَةَ لَيْلَةً خَلَتْ مِنْ رَمَضَانَ بِرَجُلٍ يَحْتَجِمُ فَقَالَ أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ
حضرت ثوبان ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ ایک مرتبہ ماہ رمضان کی اٹھارہ تاریخ کو جنت البقیع میں سینگی لگواتے ہوئے ایک آدمی کے پاس سے گذرے تو آپ ﷺ نے فرمایا سینگی لگانے والے اور لگوانے والے کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔
حضرت ثوبان (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِي مَعْدَانُ قَالَ قُلْتُ لِثَوْبَانَ مَوْلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِّثْنَا حَدِيثًا يَنْفَعُنَا اللَّهُ بِهِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ عَبْدٍ يَسْجُدُ لِلَّهِ سَجْدَةً إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ بِهَا دَرَجَةً وَحَطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً
معدان (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ثوبان ؓ سے میں نے عرض کیا کہ مجھے کوئی ایسی حدیث سنا دیجئے جس کی برکت سے اللہ مجھے نفع عطاء فرما دے، انہوں نے فرمایا میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو بندہ اللہ کی رضا کے لئے ایک سجدہ کرے گا تو اس کی برکت سے اس کا ایک درجہ بلند کر دے گا اور ایک گناہ معاف فرما دے گا۔
حضرت ثوبان (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ حَدَّثَنَا ابْنُ عَيَّاشٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ الذِّمَارِيِّ عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ عَنْ ثَوْبَانَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ صَامَ رَمَضَانَ فَشَهْرٌ بِعَشَرَةِ أَشْهُرٍ وَصِيَامُ سِتَّةِ أَيَّامٍ بَعْدَ الْفِطْرِ فَذَلِكَ تَمَامُ صِيَامِ السَّنَةِ
حضرت ثوبان ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص ماہ رمضان کے روزے رکھ لے تو وہ ایک مہینہ دس مہنیوں کے برابر ہوگا اور عیدالفطر کے بعد چھ دن کے روزے رکھ لینے سے پورے سال کے روزوں کا ثواب ہوگا۔
حضرت ثوبان (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ الْأَشْجَعِيِّ عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَرُدُّ الْقَدَرَ إِلَّا الدُّعَاءُ وَلَا يَزِيدُ فِي الْعُمُرِ إِلَّا الْبِرُّ وَإِنَّ الْعَبْدَ لَيُحْرَمُ الرِّزْقَ بِالذَّنْبِ يُصِيبُهُ
حضرت ثوبان ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا تقدیر کو دعاء کے علاوہ کوئی چیز نہیں ٹال سکتی اور عمر میں نیکی کے علاوہ کوئی چیز اضافہ نہیں کرسکتی اور انسان بعض اوقات اس گناہ کی وجہ سے بھی رزق سے محروم ہوجاتا ہے جو اس سے صادرہوتا ہے۔
حضرت ثوبان (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ وَعِصَامُ بْنُ خَالِدٍ قَالَا حَدَّثَنَا حَرِيزُ بْنُ عُثْمَانَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَيْسَرَةَ عَنْ ثَوْبَانَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اسْتَقِيمُوا تُفْلِحُوا وَخَيْرُ أَعْمَالِكُمْ الصَّلَاةُ وَلَنْ يُحَافِظَ عَلَى الْوُضُوءِ إِلَّا مُؤْمِنٌ وَقَالَ عِصَامٌ وَلَا يُحَافِظُ
حضرت ثوبان ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ثابت قدم رہو کامیاب ہوجاؤ گے تمہارا سب سے بہترین عمل نماز ہے اور وضو کی پابندی وہی کرتا ہے جو مؤمن ہو۔
حضرت ثوبان (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ حَبِيبِ بْنِ صَالِحٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ شُرَيْحٍ الْحَضْرَمِيِّ عَنْ أَبِي حَيٍّ الْمُؤَذِّنِ عَنْ ثَوْبَانَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَا يَحِلُّ لَامْرِئٍ مِنْ الْمُسْلِمِينَ أَنْ يَنْظُرَ فِي جَوْفِ بَيْتِ امْرِئٍ حَتَّى يَسْتَأْذِنَ فَإِنْ نَظَرَ فَقَدْ دَخَلَ وَلَا يَؤُمَّ قَوْمًا فَيَخْتَصَّ نَفْسَهُ بِدُعَاءٍ دُونَهُمْ فَإِنْ فَعَلَ فَقَدْ خَانَهُمْ وَلَا يُصَلِّ وَهُوَ حَقِنٌ حَتَّى يَتَخَفَّفَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ مُحَمَّدٍ يَعْنِي الْخَطَّابِيَّ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ عَنْ حَبِيبِ بْنِ صَالِحٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ شُرَيْحٍ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ بِإِسْنَادِهِ
حضرت ثوبان ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کسی مسلمان آدمی کے لئے حلال نہیں ہے کہ اجازت لئے بغیر کسی شخص کے گھر میں نظر بھی ڈالے اگر اس نے دیکھ لیا تو گویا داخل ہوگیا اور کوئی ایسا شخص جو کچھ لوگوں کی امامت کرتا ہو مقتدیوں کو چھوڑ کر صرف اپنے لئے دعاء نہ کیا کرے کیونکہ اگر وہ ایسا کرتا ہے تو ان کے ساتھ خیانت کرتا ہے اور کوئی آدمی پیشاب وغیرہ کا تقاضا دبا کر نماز نہ پڑھے بلکہ پہلے ہلکا پھلکا ہوجائے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حضرت ثوبان (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدٍ الْكَلَاعِيِّ عَنْ زُهَيْرٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ ثَوْبَانَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لِكُلِّ سَهْوٍ سَجْدَتَانِ بَعْدَ مَا يُسَلِّمُ
حضرت ثوبان ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہر سہو کے لئے سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے ہیں۔
حضرت ثوبان (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ ضَمْضَمِ بْنِ زُرْعَةَ قَالَ شُرَيْحُ بْنُ عُبَيْدٍ مَرِضَ ثَوْبَانُ بِحِمْصَ وَعَلَيْهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قُرْطٍ الْأَزْدِيُّ فَلَمْ يَعُدْهُ فَدَخَلَ عَلَى ثَوْبَانَ رَجُلٌ مِنْ الْكَلَاعِيِّينَ عَائِدًا فَقَالَ لَهُ ثَوْبَانُ أَتَكْتُبُ فَقَالَ نَعَمْ فَقَالَ اكْتُبْ فَكَتَبَ لِلْأَمِينِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُرْطٍ مِنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّهُ لَوْ كَانَ لِمُوسَى وَعِيسَى مَوْلًى بِحَضْرَتِكَ لَعُدْتَهُ ثُمَّ طَوَى الْكِتَابَ وَقَالَ لَهُ أَتُبَلِّغُهُ إِيَّاهُ فَقَالَ نَعَمْ فَانْطَلَقَ الرَّجُلُ بِكِتَابِهِ فَدَفَعَهُ إِلَى ابْنِ قُرْطٍ فَلَمَّا قَرَأَهُ قَامَ فَزِعًا فَقَالَ النَّاسُ مَا شَأْنُهُ أَحَدَثَ أَمْرٌ فَأَتَى ثَوْبَانَ حَتَّى دَخَلَ عَلَيْهِ فَعَادَهُ وَجَلَسَ عِنْدَهُ سَاعَةً ثُمَّ قَامَ فَأَخَذَ ثَوْبَانُ بِرِدَائِهِ وَقَالَ اجْلِسْ حَتَّى أُحَدِّثَكَ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعُونَ أَلْفًا لَا حِسَابَ عَلَيْهِمْ وَلَا عَذَابَ مَعَ كُلِّ أَلْفٍ سَبْعُونَ أَلْفًا
شریح بن عبید (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ شہر " حمص " میں حضرت ثوبان ؓ بیمار ہوگئے اس زمانے میں حمص کے گورنر حضرت عبداللہ بن قرط ازدی ؓ تھے وہ حضترت ثوبان ؓ کی عیادت کے لئے نہیں آئے اسی دوران کلاعیین کا ایک آدمی حضرت ثوبان ؓ کی عیادت کے لئے آیا تو انہوں نے اس سے پوچھا کیا تم لکھنا جانتے ہو؟ اس نے کہا جی ہاں! حضرت ثوبان ؓ نے فرمایا لکھو، چناچہ اس نے گورنر حمص حضرت عبداللہ بن قرط ازدی ؓ کے نام خط لکھا " نبی کریم ﷺ کے آزاد کردہ غلام ثوبان کی طرف سے اما بعد! اگر تمہارے علاقے میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) یا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا کوئی غلام ہوتا تو تم اس کی عیادت کو ضرور جاتے پھر خط لپیٹ کر فرمایا کیا تم یہ خط انہیں پہنچا دوگے؟ اس نے حامی بھرلی اور وہ خط لے جا کر حضرت عبداللہ بن قرط ؓ کی خدمت میں پیش کردیا۔ وہ خط پڑھتے ہی گھبرا کر اٹھ کھڑے ہوئے لوگ جسے دیکھ کر حیرانگی سے کہنے لگے کہ انہیں کیا ہوا؟ کوئی عجیب واقعہ پیش آیا ہے؟ وہ وہاں سے سیدھے حضرت ثوبان ؓ کے ہاں پہنچے گھر میں داخل ہوئے ان کی عیادت کی اور تھوڑی دیر بیٹھ کر اٹھ کھڑے ہوئے حضرت ثوبان ؓ نے ان کی چادر پکڑ کر فرمایا بیٹھ جائیے تاکہ میں آپ کو ایک حدیث سنا دوں جو میں نے نبی کریم ﷺ سے سنی ہے میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میری امت کے ستر ہزار ایسے آدمی جنت میں ضرور داخل ہوں گے جن کا کوئی حساب ہوگا اور نہ عذاب اور ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار افراد مزید ہوں گے۔
حضرت ثوبان (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سَوَّارٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ عَنْ مُعَاوِيَةَ عَنْ عُتْبَةَ أَبِي أُمَيَّةَ الدِّمَشْقِيِّ عَنْ أَبِي سَلَّامٍ الْأَسْوَدِ عَنْ ثَوْبَانَ أَنَّهُ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَعَلَى الْخِمَارِ ثُمَّ الْعِمَامَةِ
حضرت ثوبان ؓ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو وضو کے دوران موزوں پر، اوڑھنی پر اور عمامے پر مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
حضرت ثوبان (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ ثَوْبَانَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ سَأَلَ مَسْأَلَةً وَهُوَ عَنْهَا غَنِيٌّ كَانَتْ شَيْئًا فِي وَجْهِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
حضرت ثوبان ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی سے سوال کرتا ہو جبکہ وہ اس کا ضرورت مند نہ ہو تو یہ قیامت کے دن اس کے چہرے پر داغ ہوگا۔
حضرت ثوبان (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنِي أَبُو الزَّاهِرِيَّةِ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ذَبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُضْحِيَّةً لَهُ ثُمَّ قَالَ لِي يَا ثَوْبَانُ أَصْلِحْ لَحْمَ هَذِهِ الشَّاةِ قَالَ فَمَا زِلْتُ أُطْعِمُهُ مِنْهَا حَتَّى قَدِمَ الْمَدِينَةَ
حضرت ثوبان ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے قربانی کا جانور ذبح کیا اور فرمایا ثوبان! اس بکری کا گوشت خوب اچھی طرح سنبھال لو چناچہ میں نبی کریم ﷺ کو مدینہ منورہ تشریف آوری تک اس کا گوشت کھلاتا رہا۔
حضرت ثوبان (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا عَاصِمٌ يَعْنِي الْأَحْوَلَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ يَعْنِي أَبَا قِلَابَةَ عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ عَنْ ثَوْبَانَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ عَادَ مَرِيضًا لَمْ يَزَلْ فِي خُرْفَةِ الْجَنَّةِ فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا خُرْفَةُ الْجَنَّةِ قَالَ جَنَاهَا
حضرت ثوبان ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جب کوئی مسلمان آدمی اپنے مسلمان کی عیادت کرتا ہے تو وہ واپس آنے تک جنت کے باغات کی سیر کرتا ہے۔