حضرت ابوامامہ صدی بن عجلان ابن عمروبن وہب باہلی (رض) کی مرویات

Musnad Imam Ahmad · Chapter 852 · 168 hadiths · Page 5 of 9

21204Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوامامہ صدی بن عجلان ابن عمروبن وہب باہلی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ عَنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَحَبَّ عَبْدٌ عَبْدًا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ إِلَّا أَكْرَمَ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ

حضرت ابو امامہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جو بندہ اللہ کی رضاء کے لئے کسی شخص سے محبت کرتا ہے تو در حقیقت وہ اللہ تعالیٰ کی عزت کرتا ہے۔

21205Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوامامہ صدی بن عجلان ابن عمروبن وہب باہلی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَبِي غَالِبٍ قَالَ سَأَلْتُ أَبَا أُمَامَةَ عَنْ النَّافِلَةِ فَقَالَ كَانَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَافِلَةً وَلَكُمْ فَضِيلَةً

ابو غالب سے مروی ہے کہ میں نے حضرت ابو امامہ ؓ سے " نافلہ " کا مطلب پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ وہ تو نبی کریم ﷺ کے لئے نافلہ ہے جبکہ تمہارے لئے باعث اجروثواب ہے۔

21206Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوامامہ صدی بن عجلان ابن عمروبن وہب باہلی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا سَيَّارُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ قَالَ أَتَيْتُ فَرْقَدًا يَوْمًا فَوَجَدْتُهُ خَالِيًا فَقُلْتُ يَا ابْنَ أُمِّ فَرْقَدٍ لَأَسْأَلَنَّكَ الْيَوْمَ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَقُلْتُ أَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِكَ فِي الْخَسْفِ وَالْقَذْفِ أَشَيْءٌ تَقُولُهُ أَنْتَ أَوْ تَأْثُرُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا بَلْ آثُرُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ وَمَنْ حَدَّثَكَ قَالَ حَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَدَّثَنِي قَتَادَةُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ وَحَدَّثَنِي بِهِ إِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَبِيتُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي عَلَى أَكْلٍ وَشُرْبٍ وَلَهْوٍ وَلَعِبٍ ثُمَّ يُصْبِحُونَ قِرَدَةً وَخَنَازِيرَ فَيُبْعَثُ عَلَى أَحْيَاءٍ مِنْ أَحْيَائِهِمْ رِيحٌ فَتَنْسِفُهُمْ كَمَا نَسَفَتْ مَنْ كَانَ قَبْلَهُمْ بِاسْتِحْلَالِهِمْ الْخُمُورَ وَضَرْبِهِمْ بِالدُّفُوفِ وَاتِّخَاذِهِمْ الْقَيْنَاتِ

جعفر کہتے ہیں کہ ایک دن میں " فرقد " کے پاس آیا تو انہیں تنہا پایا، میں نے ان سے کہا اے ابن ام فرقد! آج میں آپ سے اس حدیث کے متعلق ضرور پوچھ کر رہوں گا یہ بتائیے کہ خسف اور قذف سے متعلق بات آپ اپنی رائے کہتے ہیں یا نبی کریم ﷺ کے حوالے سے نقل کرتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ میں تو اسے نبی کریم ﷺ کے حوالے سے نقل کرتا ہوں میں نے ان سے پوچھا کہ پھر یہ حدیث آپ سے کس نے بیان کی ہے؟ انہوں نے کہا عاصم بن عمرو بجلی نے حضرت ابو امامہ ؓ سے اور انہوں نے نبی کریم ﷺ سے نقل کی ہے۔ ابراہیم نخعی (رح) سے مرسلاً مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا میری امت کا ایک گروہ رات بھر کھانے پینے اور لہو ولعب میں مصروف رہے گا جب صبح ہوگی تو ان کی شکلیں بندروں اور خنزیروں کی شکل میں بدل چکی ہوں گی، پھر ان کے محلوں پر ایک ہوا بھیجی جائے گی جو انہیں اس طرح بکھیر کر رکھ دے گی جیسے پہلے لوگوں کو بکھیر کر رکھ دیا تھا کیونکہ وہ شراب کو حلال سمجھتے ہوں گے، دف (آلات موسیقی) بجاتے ہوں گے اور گانے والی عورتیں (گلو کارائیں) بنا رکھی ہوں گی۔

21207Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوامامہ صدی بن عجلان ابن عمروبن وہب باہلی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا الْهُذَيْلُ بْنُ مَيْمُونٍ الْكُوفِيُّ الْجُعْفِيُّ كَانَ يَجْلِسُ فِي مَسْجِدِ الْمَدِينَةِ يَعْنِي مَدِينَةَ أَبِي جَعْفَرٍ قَالَ عَبْد اللَّهِ هَذَا شَيْخٌ قَدِيمٌ كُوفِيٌّ عَنْ مُطَّرِحِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ عَنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَسَمِعْتُ فِيهَا خَشْفَةً بَيْنَ يَدَيَّ فَقُلْتُ مَا هَذَا قَالَ بِلَالٌ قَالَ فَمَضَيْتُ فَإِذَا أَكْثَرُ أَهْلِ الْجَنَّةِ فُقَرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ وَذَرَارِيُّ الْمُسْلِمِينَ وَلَمْ أَرَ أَحَدًا أَقَلَّ مِنْ الْأَغْنِيَاءِ وَالنِّسَاءِ قِيلَ لِي أَمَّا الْأَغْنِيَاءُ فَهُمْ هَاهُنَا بِالْبَابِ يُحَاسَبُونَ وَيُمَحَّصُونَ وَأَمَّا النِّسَاءُ فَأَلْهَاهُنَّ الْأَحْمَرَانِ الذَّهَبُ وَالْحَرِيرُ قَالَ ثُمَّ خَرَجْنَا مِنْ أَحَدِ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ الثَّمَانِيَةِ فَلَمَّا كُنْتُ عِنْدَ الْبَابِ أُتِيتُ بِكِفَّةٍ فَوُضِعْتُ فِيهَا وَوُضِعَتْ أُمَّتِي فِي كِفَّةٍ فَرَجَحْتُ بِهَا ثُمَّ أُتِيَ بِأَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَوُضِعَ فِي كِفَّةٍ وَجِيءَ بِجَمِيعِ أُمَّتِي فِي كِفَّةٍ فَوُضِعُوا فَرَجَحَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَجِيءَ بِعُمَرَ فَوُضِعَ فِي كِفَّةٍ وَجِيءَ بِجَمِيعِ أُمَّتِي فَوُضِعُوا فَرَجَحَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَعُرِضَتْ أُمَّتِي رَجُلًا رَجُلًا فَجَعَلُوا يَمُرُّونَ فَاسْتَبْطَأْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ ثُمَّ جَاءَ بَعْدَ الْإِيَاسِ فَقُلْتُ عَبْدُ الرُّحْمَنِ فَقَالَ بِأَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا خَلَصْتُ إِلَيْكَ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنِّي لَا أَنْظُرُ إِلَيْكَ أَبَدًا إِلَّا بَعْدَ الْمُشِيبَاتِ قَالَ وَمَا ذَاكَ قَالَ مِنْ كَثْرَةِ مَالِي أُحَاسَبُ وَأُمَحَّصُ

حضرت ابو امامہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا میں جنت میں داخل ہوا تو اپنے سے آگے کسی کے جوتوں کی آہٹ سنائی دی، میں نے پوچھا یہ کون ہے؟ تو حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے بتایا کہ یہ بلال ہیں، میں آگے چل پڑا تو دیکھا کہ جنت میں اکثریت مہاجر فقراء اور مسلمانوں کے بچوں کی ہے اور میں نے وہاں مالداروں اور عورتوں سے زیادہ کم تعداد کسی طبقے کی نہیں دیکھی اور بتایا گیا کہ مالدار تو یہاں جنت کے دروازے پر کھڑے ہیں جہاں ان سے حساب کتاب اور جانچ پڑتال کی جا رہی ہے اور خواتین کو سونے اور ریشم نے ہی غفلت میں ڈالے رکھا۔ پھر ہم جنت کے آٹھ میں سے کسی دروازے سے نکل کر باہر آگئے ابھی میں دروازے پر ہی تھا کہ ایک ترازو لایا گیا جس کے ایک پلڑے میں مجھے رکھا گیا اور دوسرے میں میری ساری امت کو تو میرا پلڑا جھک گیا پھر ابوبکر کو لا کر ایک پلڑے میں رکھا گیا اور ساری امت کو دوسرے پلڑے میں ابوبکر کا پلڑا جھک گیا پھر عمر کو لا کر ایک پلڑے میں رکھا گیا اور ساری امت کو دوسرے پلڑے میں تو عمر کا پلڑا جھک گیا پھر میری امت کے ایک ایک آدمی کو میرے سامنے پیش کیا گیا اور وہ میرے آگے سے گذرتے رہے لیکن میں نے دیکھا کہ عبدالرحمن بن عوف نے آنے میں بہت تاخیر کردی ہے کافی دیر بعد جب امید ٹوٹنے لگی تو وہ آئے میں نے ان سے پوچھا عبدالرحمن! کیا بات ہے؟ انہوں نے کہا یا رسول اللہ! ﷺ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا میری تو جان خلاصی اس وقت ہوئی ہے جب کہ میں یہ سمجھ بیٹھا تھا کہ اب کبھی آپ کی زیارت نہیں کرسکوں گا، الاّ یہ کہ ٹھنڈے دن آجائیں، نبی کریم ﷺ نے فرمایا یہ کس وجہ سے؟ عرض کیا مال و دولت کی کثرت کی وجہ سے میرا حساب کتاب اور جانچ پڑتال کی جا رہی تھی۔

21208Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوامامہ صدی بن عجلان ابن عمروبن وہب باہلی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ السِّيلَحِينِيُّ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ أَبِي ظَبْيَةَ الشَّامِيِّ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمِقَةُ فِي السَّمَاءِ فَإِذَا أَحَبَّ اللَّهُ عَبْدًا قَالَ إِنِّي أَحْبَبْتُ فُلَانًا فَأَحِبُّوهُ قَالَ فَتَنْزِلُ لَهُ الْمِقَةُ فِي أَهْلِ الْأَرْضِ

حضرت ابو امامہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا محبت (اللہ کی طرف سے اور ناموری) آسمان سے آتی ہے چناچہ اللہ تعالیٰ جب کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو (حضرت جبرائیل (علیہ السلام) سے) فرماتا ہے کہ میں فلاں شخص سے محبت کرتا ہوں لہٰذا تم بھی اس سے محبت کرو، پھر یہ محبت زمین والوں کے دل میں ڈال دی جاتی ہے۔

21209Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوامامہ صدی بن عجلان ابن عمروبن وہب باہلی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ السِّيلَحِينِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ إِنِّي لَتَحْتَ رَاحِلَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ فَقَالَ قَوْلًا حَسَنًا جَمِيلًا وَكَانَ فِيمَا قَالَ مَنْ أَسْلَمَ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابَيْنِ فَلَهُ أَجْرُهُ مَرَّتَيْنِ وَلَهُ مَا لَنَا وَعَلَيْهِ مَا عَلَيْنَا وَمَنْ أَسْلَمَ مِنْ الْمُشْرِكِينَ فَلَهُ أَجْرُهُ وَلَهُ مَا لَنَا وَعَلَيْهِ مَا عَلَيْنَا

حضرت ابو امامہ ؓ سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے موقع پر میں نبی کریم ﷺ کی سواری کے نیچے تھا، نبی کریم ﷺ نے اس موقع پر بڑی عمدہ باتیں فرمائیں، انہی میں سے ایک بات یہ بھی تھی کہ اہل کتاب کا جو آدمی مسلمان ہوجائے گا اسے دوگنا اجر ملے گا اور حقوق و فرائض میں وہ ہماری طرح ہوجائے گا اور مشرکین میں سے جو آدمی مسلمان ہوجائے گا، اسے اس کا اجر ملے گا اور وہ بھی حقوق و فرائض میں ہماری طرح ہوجائے گا۔

21210Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوامامہ صدی بن عجلان ابن عمروبن وہب باہلی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ عَنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ قَالَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا النَّجَاةُ قَالَ أَمْلِكْ عَلَيْكَ لِسَانَكَ وَلْيَسَعْكَ بَيْتُكَ وَابْكِ عَلَى خَطِيئَتِكَ

حضرت ابو امامہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! ﷺ مؤمن کی نجات کس طرح ہوگی؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اے عقبہ! اپنی زبان کی حفاظت کرو اپنے گھر کو اپنے لئے کافی سمجھو اور اپنے گناہوں پر آہ بکاء کرو۔

21211Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوامامہ صدی بن عجلان ابن عمروبن وہب باہلی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ وَعَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ عَنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مِنْ تَمَامِ عِيَادَةِ الْمَرِيضِ أَنْ يَضَعَ أَحَدُكُمْ يَدَهُ عَلَى جَبْهَتِهِ أَوْ يَدِهِ فَيَسْأَلُهُ كَيْفَ هُوَ وَتَمَامُ تَحِيَّاتِكُمْ بَيْنَكُمْ الْمُصَافَحَةُ

حضرت ابو امامہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا مریض کی مکمل بیمار پرسی یہ ہے کہ تم اس کی پیشانی یا ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر پوچھو کہ وہ کیسا ہے؟ اور تمہاری باہمی ملاقات کے آداب کا مکمل ہونا " مصافحہ " سے ہوتا ہے۔

21212Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوامامہ صدی بن عجلان ابن عمروبن وہب باہلی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ حَدَّثَنَا أَبُو الرَّصَافَةِ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ مِنْ بَاهِلَةَ أَعْرَابِيٌّ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ امْرِئٍ مُسْلِمٍ تَحْضُرُهُ صَلَاةٌ مَكْتُوبَةٌ فَيَقُومُ فَيَتَوَضَّأُ فَيُحْسِنُ الْوُضُوءَ وَيُصَلِّي فَيُحْسِنُ الصَّلَاةَ إِلَّا غَفَرَ اللَّهُ لَهُ بِهَا مَا كَانَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ الصَّلَاةِ الَّتِي كَانَتْ قَبْلَهَا مِنْ ذُنُوبِهِ ثُمَّ يَحْضُرُ صَلَاةً مَكْتُوبَةً فَيُصَلِّي فَيُحْسِنُ الصَّلَاةَ إِلَّا غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ الصَّلَاةِ الَّتِي كَانَتْ قَبْلَهَا مِنْ ذُنُوبِهِ ثُمَّ يَحْضُرُ صَلَاةً مَكْتُوبَةً فَيُصَلِّي فَيُحْسِنُ الصَّلَاةَ إِلَّا غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ الصَّلَاةِ الَّتِي كَانَتْ قَبْلَهَا مِنْ ذُنُوبِهِ

حضرت ابو امامہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جس مسلمان آدمی پر فرض نماز کا وقت آئے اور وہ کھڑا ہو کر خوب اچھی طرح وضو کرے، پھر خوب اچھی طرح نماز پڑھے تو اس نماز اور گذشتہ نماز کے درمیان ہونے والے اس کے سارے گناہ معاف ہوجاتے ہیں پھر دوسری فرض نماز کا وقت آئے اور وہ کھڑا ہو کر خوب اچھی طرح نماز پڑھے تو اس نماز اور گذشتہ نماز کے درمیان ہونے والے اس کے سارے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔

21213Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوامامہ صدی بن عجلان ابن عمروبن وہب باہلی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ أَخْبَرَنِي حُسَيْنٌ يَعْنِي ابْنَ وَاقِدٍ حَدَّثَنِي أَبُو غَالِبٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا أُمَامَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْإِمَامُ ضَامِنٌ وَالْمُؤَذِّنُ مُؤْتَمَنٌ

حضرت ابو امامہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا امام ضامن ہوتا ہے اور مؤذن امانت دار۔

21214Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوامامہ صدی بن عجلان ابن عمروبن وہب باہلی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ عَنْ مَعْبَدِ بْنِ كَعْبٍ السُّلَمِيِّ عَنْ أَخِيهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ اقْتَطَعَ حَقَّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ بِيَمِينِهِ فَقَدْ أَوْجَبَ اللَّهُ لَهُ بِهَا النَّارَ وَحَرَّمَ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ وَإِنْ كَانَ شَيْئًا يَسِيرًا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ وَإِنْ قَضِيبًا مِنْ أَرَاكٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ مَعْبَدِ بْنِ كَعْبٍ فَذَكَرَ مِثْلَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ أَحَدِ بَنِي حَارِثَةَ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ هَذَا أَبُو أُمَامَةَ الْحَارِثِيُّ وَلَيْسَ هُوَ أَبَا أُمَامَةَ الْبَاهِلِيَّ

حضرت ابو امامہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص اپنی قسم کے ذریعے کسی مسلمان کا حق مار لیتا ہے، اللہ اس کے لئے جہنم کو واجب کردیتا ہے اور جنت کو اس پر حرام قرار دے دیتا ہے کسی نے پوچھا یا رسول اللہ! ﷺ اگرچہ تھوڑی سی چیز ہو؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اگرچہ پیلو کے درخت کی ایک شاخ ہی ہو۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے البتہ یاد رہے کہ یہ حضرت ابو امامہ حارثی انصاری ؓ کی روایت ہے جو دوسرے صحابی ہیں۔

21215Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوامامہ صدی بن عجلان ابن عمروبن وہب باہلی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنِي السَّفْرُ بْنُ نُسَيْرٍ الْأَزْدِيُّ عَنْ يَزِيدَ بْنِ شُرَيْحٍ الْحَضْرَمِيِّ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَا يَأْتِي أَحَدُكُمْ الصَّلَاةَ وَهُوَ حَاقِنٌ وَلَا يَؤُمَّنَّ أَحَدُكُمْ فَيَخُصَّ نَفْسَهُ بِالدُّعَاءِ دُونَهُمْ فَمَنْ فَعَلَ فَقَدْ خَانَهُمْ

حضرت ابو امامہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا تم میں سے کوئی شخص پیشاب وغیرہ زبردستی روک کر نماز کے لئے مت آیا کرے اور جو شخص کو نماز پڑھائے وہ لوگوں کو چھوڑ کر صرف اپنے لئے دعاء نہ مانگے جو ایسا کرتا ہے وہ نمازیوں سے خیانت کرتا ہے۔

21216Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوامامہ صدی بن عجلان ابن عمروبن وہب باہلی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا زَيْدٌ حَدَّثَنِي حُسَيْنٌ حَدَّثَنِي أَبُو غَالِبٍ حَدَّثَنِي أَبُو أُمَامَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ تَقْعُدُ الْمَلَائِكَةُ عَلَى أَبْوَابِ الْمَسَاجِدِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَيَكْتُبُونَ الْأَوَّلَ وَالثَّانِيَ وَالثَّالِثَ حَتَّى إِذَا خَرَجَ الْإِمَامُ رُفِعَتْ الصُّحُفُ

حضرت ابو امامہ ؓ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جمعہ کے دن ملائکہ مسجدوں کے دروازوں پر آکربیٹھ جاتے ہیں اور پہلے دوسرے اور تیسرے نمبر پر آنے والوں کے نام لکھتے رہتے ہیں اور جب امام نکل آتا ہے تو وہ صحیفے اٹھالیے جاتے ہیں۔

21217Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوامامہ صدی بن عجلان ابن عمروبن وہب باہلی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ أَخْبَرَنَا حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ حَدَّثَنَا أَبُو غَالِبٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا أُمَامَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّفْلُ فِي الْمَسْجِدِ سَيِّئَةٌ وَدَفْنُهُ حَسَنَةٌ

حضرت ابو امامہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا مسجد میں تھوکنا گناہ ہے اور اسے مٹی میں ملا دینا نیکی ہے۔

21218Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوامامہ صدی بن عجلان ابن عمروبن وہب باہلی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ وَأَبُو الْمُغِيرَةِ قَالَا حَدَّثَنَا حَرِيزٌ حَدَّثَنَا سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ الْخَبَائِرِيُّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ يَقُولُ مَا كَانَ يَفْضُلُ مِنْ أَهْلِ بَيْتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُبْزُ الشَّعِيرِ

حضرت ابو امامہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کے اہل بیت کے پاس جو کی روٹی بھی نہیں بچتی تھی۔

21219Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوامامہ صدی بن عجلان ابن عمروبن وہب باہلی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ عَيَّاشٍ عَنْ لَيْثٍ عَنِ ابْنِ سَابِطٍ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُصَلُّوا عِنْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ فَإِنَّهَا تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ وَيَسْجُدُ لَهَا كُلُّ كَافِرٍ وَلَا عِنْدَ غُرُوبِهَا فَإِنَّهَا تَغْرُبُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ وَيَسْجُدُ لَهَا كُلُّ كَافِرٍ وَلَا نِصْفَ النَّهَارِ فَإِنَّهُ عِنْدَ سَجْرِ جَهَنَّمَ

حضرت ابو امامہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا طلوع آفتاب کے وقت کوئی نماز نہ پڑھا کرو، کیونکہ سورج شیطان کے دوسینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے اور اس وقت ہر کافر اسے سجدہ کرتا ہے اسی طرح غروب آفتاب کے وقت کوئی نماز نہ پڑھا کرو، کیونکہ سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان غروب ہوتا ہے اور اس وقت ہر کافر اسے سجدہ کرتا ہے اسی طرح نصف النہار کے وقت کوئی نماز نہ پڑھا کرو، کیونکہ اس وقت جہنم کو بھڑکایا جاتا ہے۔

21220Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوامامہ صدی بن عجلان ابن عمروبن وہب باہلی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ صُهَيْبٍ عَنْ أَبِي غَالِبٍ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّيهِمَا بَعْدَ الْوِتْرِ وَهُوَ جَالِسٌ يَقْرَأُ فِيهِمَا إِذَا زُلْزِلَتْ الْأَرْضُ وَقُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ

حضرت ابو امامہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ وتر کے بعد بیٹھ کردو رکعتیں پڑھتے تھے اور ان میں سورت زلزال اور سورت کافرون کی تلاوت فرماتے تھے۔

21221Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوامامہ صدی بن عجلان ابن عمروبن وہب باہلی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ أَرْبَعَةٌ تَجْرِي عَلَيْهِمْ أُجُورُهُمْ بَعْدَ الْمَوْتِ مُرَابِطٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَمَنْ عَمِلَ عَمَلًا أُجْرِيَ لَهُ مِثْلُ مَا عَمِلَ وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ فَأَجْرُهَا لَهُ مَا جَرَتْ وَرَجُلٌ تَرَكَ وَلَدًا صَالِحًا فَهُوَ يَدْعُو لَهُ

حضرت ابو امامہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا چار قسم کے لوگوں کا اجروثواب ان کے مرنے کے بعد بھی انہیں ملتا رہتا ہے (١) اللہ کے راستہ میں اسلامی سرحدوں کی حفاظت کرنے والا (٢) ایسا نیک عمل کرنے والا جس کا عمل جاری ہوجائے (٣) صدقہ جاریہ کرنے والا آدمی (٤) وہ آدمی جو نیک اولاد چھوڑ جائے اور وہ اولاد اس کے لئے دعاء کرتی رہے۔

21222Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوامامہ صدی بن عجلان ابن عمروبن وہب باہلی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنِ الْقَاسِمِ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يَلْبَسْ حَرِيرًا وَلَا ذَهَبًا قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ هَارُونَ بْنِ مَعْرُوفٍ

حضرت ابو امامہ ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو وہ ریشم اور سونا نہ پہنے۔

21223Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوامامہ صدی بن عجلان ابن عمروبن وہب باہلی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يَلْبَسْ حَرِيرًا وَلَا ذَهَبًا

حضرت ابو امامہ ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو وہ ریشم اور سونا نہ پہنے۔