حضرت اسامہ بن زید (رض) کی مرویات

Musnad Imam Ahmad · Chapter 831 · 86 hadiths · Page 4 of 5

20811Musnad Imam Ahmad

حضرت اسامہ بن زید (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ قَالَ أَبِي وَعَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَرِثُ الْمُسْلِمُ الْكَافِرَ وَلَا يَرِثُ الْكَافِرُ الْمُسْلِمَ

حضرت اسامہ بن زید ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کوئی مسلمان کسی کافر کا اور کوئی کافر کسی مسلمان کا وارث نہیں ہوسکتا۔

20812Musnad Imam Ahmad

حضرت اسامہ بن زید (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ وَرَوْحٌ قَالَا ثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ قُلْتُ لِعَطَاءٍ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ إِنَّمَا أُمِرْتُمْ بِالطَّوَافِ وَلَمْ تُؤْمَرُوا بِالدُّخُولِ قَالَ لَمْ يَكُنْ يَنْهَى عَنْ دُخُولِهِ وَلَكِنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا دَخَلَ الْبَيْتَ دَعَا فِي نَوَاحِيهِ كُلِّهَا وَلَمْ يُصَلِّ فِيهِ حَتَّى خَرَجَ فَلَمَّا خَرَجَ رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ فِي قِبَلِ الْكَعْبَةِ قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَقَالَ هَذِهِ الْقِبْلَةُ

ابن جریج کہتے ہیں کہ میں عطاء سے پوچھا کیا آپ نے حضرت ابن عباس ؓ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تمہیں طواف کا حکم دیا گیا ہے بیت اللہ میں داخل ہونے کا نہیں؟ انہوں نے کہا کہ وہ اس میں داخل ہونے سے نہیں روکتے تھے البتہ میں نے انہیں یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ مجھے حضرت اسامہ بن زید ؓ نے بتایا ہے کہ نبی کریم ﷺ جب بیت اللہ شریف میں داخل ہوئے تو اس کے سارے کونوں میں دعاء فرمائی لیکن وہاں نماز نہیں پڑھی بلکہ باہر آکر خانہ کعبہ کی جانب رخ کر کے دو رکعتیں پڑھیں اور فرمایا یہ ہے قبلہ۔

20813Musnad Imam Ahmad

حضرت اسامہ بن زید (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ أُسَامَةَ قَالَ أَشْرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أُطُمٍ مِنْ آطَامِ الْمَدِينَةِ فَقَالَ هَلْ تَرَوْنَ مَا أَرَى قَالُوا لَا قَالَ إِنِّي لَأَرَى الْفِتَنَ تَقَعُ خِلَالَ الْمَدِينَةِ كَوَقْعِ الْمَطَرِ

حضرت اسامہ بن زید ؓ مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ مدینہ منورہ کے کسی ٹیلے پر چڑھے تو فرمایا کہ جو میں دیکھ رہا ہوں کیا تم بھی وہ دیکھ رہے ہو؟ لوگوں نے کہا نہیں نبی کریم ﷺ نے فرمایا میں دیکھ رہا ہوں کہ تمہارے گھروں میں فتنے اس طرح رونما ہو رہے ہیں جیسے بارش کے قطرے برستے ہیں۔

20814Musnad Imam Ahmad

حضرت اسامہ بن زید (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو وَيَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَمِعْتُمْ بِالطَّاعُونِ بِأَرْضٍ فَلَا تَدْخُلُوا عَلَيْهِ وَإِذَا وَقَعَ وَأَنْتُمْ بِأَرْضٍ فَلَا تَخْرُجُوا فِرَارًا مِنْهُ

عامربن سعد (رح) کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت سعد ؓ کے پاس طاعون کے حوالے سے سوال پوچھنے کے لئے آیا تو حضرت اسامہ ؓ نے فرمایا اس کے متعلق میں تمہیں بتاتا ہوں، میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ طاعون ایک عذاب ہے جو اللہ تعالیٰ نے تم سے پہلے لوگوں (بنی اسرائیل) پر مسلط کیا تھا، کبھی یہ آجاتا ہے اور کبھی چلا جاتا ہے لہٰذا جس علاقے میں یہ وباء پھیلی ہوئی ہو تو تم اس علاقے میں مت جاؤ اور جب کسی علاقے میں یہ وباء پھیلے اور تم پہلے سے وہاں موجود ہو تو اس سے بھاگ کر وہاں سے نکلو مت۔

20815Musnad Imam Ahmad

حضرت اسامہ بن زید (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْدَفَهُ مِنْ عَرَفَةَ قَالَ فَقَالَ النَّاسُ سَيُخْبِرُنَا صَاحِبُنَا مَا صَنَعَ قَالَ قَالَ أُسَامَةُ لَمَّا دَفَعَ مِنْ عَرَفَةَ فَوَقَعَ كَفَّ رَأْسَ رَاحِلَتِهِ حَتَّى أَصَابَ رَأْسُهَا وَاسِطَةَ الرَّحْلِ أَوْ كَادَ يُصِيبُهُ يُشِيرُ إِلَى النَّاسِ بِيَدِهِ السَّكِينَةَ السَّكِينَةَ السَّكِينَةَ حَتَّى أَتَى جَمْعًا ثُمَّ أَرْدَفَ الْفَضْلَ بْنَ عَبَّاسٍ قَالَ فَقَالَ النَّاسُ يُخْبِرُنَا صَاحِبُنَا بِمَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ الْفَضْلُ لَمْ يَزَلْ يَسِيرُ سَيْرًا لَيِّنًا كَسَيْرِهِ بِالْأَمْسِ حَتَّى أَتَى عَلَى وَادِي مُحَسِّرٍ فَدَفَعَ فِيهِ حَتَّى اسْتَوَتْ بِهِ الْأَرْضُ

حضرت اسامہ ؓ سے مروی ہے کہ عرفہ سے نبی کریم ﷺ نے اپنی سواری پر پیچھے بٹھالیا لوگ کہنے لگے کہ ہمارا یہ ساتھی ہمیں بتادے گا کہ نبی کریم ﷺ نے کیا کیا؟ حضرت اسامہ ؓ نے بتایا کہ جب نبی کریم ﷺ وقوف عرفات کے بعد روانہ ہوئے تو اپنی سواری کا سر اتنا کھینچا کہ وہ کجاوے کے درمیانے حصے سے لگ گیا یا لگنے کے قریب ہوگیا اور نبی کریم ﷺ اشارے سے لوگوں کو پرسکون رہنے کی تلقین کرنے لگے، یہاں تک کہ مزدلفہ آپہنچے اور حضرت فضل بن عباس ؓ کو اپنا ردیف بنا لیا لوگ کہنے لگے کہ ہمارا یہ ساتھی ہمیں بتادے گا کہ نبی کریم ﷺ نے کیا کیا؟ چناچہ انہوں نے بتایا کہ نبی کریم ﷺ کل گذشتہ کی طرح آہستہ آہستہ چلتے رہے البتہ جب وادی محسر پر پہنچے تو رفتار تیز کردی یہاں تک کہ وہاں سے گذر گئے۔

20816Musnad Imam Ahmad

حضرت اسامہ بن زید (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ عُثْمَانَ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَرِثُ الْمُسْلِمُ الْكَافِرَ

حضرت اسامہ بن زید ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کوئی مسلمان کسی کافر کا اور کوئی کافر کسی مسلمان کا وارث نہیں ہوسکتا۔

20817Musnad Imam Ahmad

حضرت اسامہ بن زید (رض) کی مرویات

قَالَ قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ح وَحَدَّثَنَا رَوْحٌ عَنْ مَالِكٍ عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ دَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَةَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِالشِّعْبِ نَزَلَ فَبَالَ ثُمَّ تَوَضَّأَ وَلَمْ يُسْبِغْ الْوُضُوءَ فَقُلْتُ لَهُ الصَّلَاةَ فَقَالَ الصَّلَاةُ أَمَامَكَ فَرَكِبَ فَلَمَّا جَاءَ الْمُزْدَلِفَةَ نَزَلَ فَتَوَضَّأَ فَأَسْبَغَ الْوُضُوءَ ثُمَّ أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ ثُمَّ أَنَاخَ كُلُّ إِنْسَانٍ بَعِيرَهُ فِي مَنْزِلِهِ ثُمَّ أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ فَصَلَّاهَا وَلَمْ يُصَلِّ بَيْنَهُمَا شَيْئًا

حضرت اسامہ بن زید ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ عرفات سے روانہ ہوئے اور اس گھاٹی میں پہنچے جہاں لوگ اپنی سواریوں کو بٹھایا کرتے تھے، نبی کریم نے بھی وہاں اپنی اونٹنی کو بٹھایا پھر پیشاب کیا اور پانی سے استنجاء کیا پھر وضو کا پانی منگوا کر وضو کیا جو بہت زیادہ مبالغہ آمیز نہ تھا، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! ﷺ نماز کا وقت ہوگیا ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا نماز تمہارے آگے ہے۔ پھر آپ ﷺ اپنی سواری پر سوار ہو کر مزدلفہ پہنچے وہاں مغرب کی نماز پڑھی پھر لوگوں نے اپنے اپنے مقام پر سواریوں کو بٹھایا اور ابھی سامان کھولنے نہیں پائے تھے کہ نماز عشاء کھڑی ہوگئی، نماز پڑھی اور ان دونوں کے درمیان کوئی نماز نہیں پڑھی۔

20818Musnad Imam Ahmad

حضرت اسامہ بن زید (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا الرِّبَا فِي النَّسَاءِ

حضرت اسامہ بن زید ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا سود کا تعلق ادھار سے ہوتا ہے۔

20819Musnad Imam Ahmad

حضرت اسامہ بن زید (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ بْنِ ثَوْبَانَ أَنَّ مَوْلَى قُدَامَةَ حَدَّثَهُ أَنَّ مَوْلًى لِأُسَامَةَ حَدَّثَهُ أَنَّ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ كَانَ يَخْرُجُ إِلَى مَالِهِ بِوَادِي الْقُرَى فَيَصُومُ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسَ فَقُلْتُ لَهُ لِمَ تَصُومُ فِي السَّفَرِ وَقَدْ كَبِرْتَ وَرَقَقْتَ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَصُومُ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ تَصُومُ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسَ فَقَالَ إِنَّ الْأَعْمَالَ تُعْرَضُ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ

حضرت اسامہ بن زید ؓ کے ایک آزاد کردہ غلام سے مروی ہے کہ ایک دن وہ حضرت اسامہ ؓ کے ساتھ اپنے مال کی تلاش میں وادی قری گیا ہوا تھا حضرت اسامہ ؓ کا معمول تھا کہ وہ پیر اور جمعرات کے دن روزہ رکھا کرتے تھے ان کے غلام نے ان سے پوچھا کہ آپ اس قدر بوڑھے اور کمزور ہونے کے باوجود بھی پیر اور جمعرات کا روزہ اتنی پابندی سے کیوں رکھتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ بھی پیر اور جمعرات کا روزہ رکھا کرتے تھے کسی نے ان سے اس کی وجہ پوچھی تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ پیر اور جمعرات کے دن لوگوں کے اعمال پیش کئے جاتے ہیں۔

20820Musnad Imam Ahmad

حضرت اسامہ بن زید (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ ذَكْوَانَ قَالَ أَرْسَلَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قُلْ لَهُ فِي الصَّرْفِ أَسَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَمْ نَسْمَعْ أَوْ قَرَأْتَ فِي كِتَابِ اللَّهِ مَا لَمْ نَقْرَأْ قَالَ بِكُلٍّ لَا أَقُولُ وَلَكِنِّي سَمِعْتُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا رِبًا إِلَّا فِي الدَّيْنِ أَوْ قَالَ فِي النَّسِيئَةِ

ذکوان کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابوسعید خدری ؓ نے مجھے حضرت ابن عباس ؓ کے پاس یہ پوچھنے کے لئے بھیجا کہ بیع صرف کے متعلق آپ جو بات کہتے ہیں، یہ بتائیے کہ اس کا ثبوت آپ کو قرآن میں ملتا ہے یا آپ نے نبی کریم ﷺ سے اس کے متعلق کچھ سنا ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ یہ چیز نہ تو مجھے کتاب اللہ میں ملی ہے اور نہ ہی میں نے براہ راست نبی کریم ﷺ سے سنی ہے البتہ حضرت اسامہ بن زید ؓ نے مجھے بتایا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا سود کا تعلق ادھار سے ہوتا ہے۔

20821Musnad Imam Ahmad

حضرت اسامہ بن زید (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ قَالَ كُنْتُ بِالْمَدِينَةِ فَبَلَغَنِي أَنَّ الطَّاعُونَ بِالْكُوفَةِ قَالَ فَذَكَرَ لِي عَطَاءُ بْنُ يَسَارٍ وَغَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ هَذَا الْحَدِيثَ قَالَ فَقُلْتُ مَنْ يُحَدِّثُهُ قَالَ فَقَالُوا عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ وَكَانَ غَائِبًا قَالَ فَلَقِيتُ إِبْرَاهِيمَ بْنَ سَعْدٍ قَالَ فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ سَمِعْتُ أُسَامَةَ يُحَدِّثُ سَعْدًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ هَذَا الْوَجَعَ رِجْسٌ وَعَذَابٌ أَوْ بَقِيَّةُ عَذَابٍ حَبِيبٌ شَكَّ فِيهِ عُذِّبَ بِهِ نَاسٌ قَبْلَكُمْ فَإِذَا كَانَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلَا تَخْرُجُوا مِنْهَا وَإِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ فِي أَرْضٍ فَلَا تَدْخُلُوهَا قَالَ فَقُلْتُ لَهُ آنْتَ سَمِعْتَ أُسَامَةَ يُحَدِّثُ سَعْدًا فَلَمْ يُنْكِرْ قَالَ نَعَمْ

عامربن سعد (رح) کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت سعد ؓ کے پاس طاعون کے حوالے سے سوال پوچھنے کے لئے آیا تو حضرت اسامہ ؓ نے فرمایا اس کے متعلق میں تمہیں بتاتا ہوں، میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ طاعون ایک عذاب ہے جو اللہ تعالیٰ نے تم سے پہلے لوگوں (بنی اسرائیل) پر مسلط کیا تھا، کبھی یہ آجاتا ہے اور کبھی چلا جاتا ہے لہٰذا جس علاقے میں یہ وباء پھیلی ہوئی ہو تو تم اس علاقے میں مت جاؤ اور جب کسی علاقے میں یہ وباء پھیلے اور تم پہلے سے وہاں موجود ہو تو اس سے بھاگ کر وہاں سے نکلو مت۔

20822Musnad Imam Ahmad

حضرت اسامہ بن زید (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ قَالَ قِيلَ لِأُسَامَةَ أَلَا تُكَلِّمُ هَذَا قَالَ قَدْ كَلَّمْتُهُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يُجَاءُ بِرَجُلٍ فَيُطْرَحُ فِي النَّارِ فَيَطْحَنُ فِيهَا كَطَحْنِ الْحِمَارِ بِرَحَاهُ فَيُطِيفُ بِهِ أَهْلُ النَّارِ فَيَقُولُونَ يَا فُلَانُ أَلَسْتَ كُنْتَ تَأْمُرُ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَى عَنْ الْمُنْكَرِ فَيَقُولُ إِنِّي كُنْتُ آمُرُ بِالْمَعْرُوفِ وَلَا أَفْعَلُهُ وَأَنْهَى عَنْ الْمُنْكَرِ وَأَفْعَلُهُ قَالَ شُعْبَةُ وَحَدَّثَنِي مَنْصُورٌ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ أُسَامَةَ بِنَحْوٍ مِنْهُ إِلَّا أَنَّهُ زَادَ فِيهِ فَتَنْدَلِقُ أَقْتَابُ بَطْنِهِ

ابو وائل کہتے ہیں کہ کسی نے حضرت اسامہ ؓ سے کہا کہ آپ حضرت عثمان ؓ سے بات کیوں نہیں کرتے؟ انہوں نے فرمایا تم سمجھتے ہو کہ میں ان سے جو بھی بات کروں گا وہ تمہیں بھی بتاؤں گا میں ان سے جو بات بھی کرتا ہوں وہ میرے اور ان کے درمیان ہوتی ہے میں اس بات کو کھولنے میں خود پہل کرنے کو پسند نہیں کرتا اور بخدا! کسی آدمی کے متعلق میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ تم سب سے بہترین آدمی ہو خواہ وہ مجھ پر حکمران ہی ہو، جبکہ میں نے اس حوالے سے نبی کریم ﷺ کو فرماتے ہوئے بھی سنا ہے کہ قیامت کے دن ایک آدمی کو لایا جائے گا اور جہنم میں پھینک دیا جائے گا جس سے اس کی انتڑیاں باہر نکل آئیں گی اور وہ انہیں لے کر اس طرح گھومے گا جیسے گدھا چکی کے گرد گھومتا ہے یہ دیکھ کر تمام جہنمی اس کے پاس جمع ہوں گے اور اس سے کہیں گے کہ اے فلاں! تجھ پر کیا مصیبت آئی؟ کیا تو ہمیں نیکی کا حکم اور برائی سے رکنے کی تلقین نہیں کرتا تھا؟ وہ جواب دے گا کہ میں تمہیں تو نیکی کرنے کا حکم دیتا تھا لیکن خود نہیں کرتا تھا اور تمہیں گناہوں سے روکتا تھا اور خود کرتا تھا۔

20823Musnad Imam Ahmad

حضرت اسامہ بن زید (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ أَنَا ابْنُ شِهَابٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَرِثُ الْكَافِرُ الْمُسْلِمَ وَلَا يَرِثُ الْمُسْلِمُ الْكَافِرَ

حضرت اسامہ بن زید ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کوئی مسلمان کسی کافر کا اور کوئی کافر کسی مسلمان کا وارث نہیں ہوسکتا۔

20824Musnad Imam Ahmad

حضرت اسامہ بن زید (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ حَدَّثَنَا عَطَاءٌ قَالَ قَالَ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ كُنْتُ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَاتٍ فَرَفَعَ يَدَيْهِ يَدْعُو فَمَالَتْ بِهِ نَاقَتُهُ فَسَقَطَ خِطَامُهَا قَالَ فَتَنَاوَلَ الْخِطَامَ بِإِحْدَى يَدَيْهِ وَهُوَ رَافِعٌ يَدَهُ الْأُخْرَى

حضرت اسامہ ؓ سے مروی ہے کہ میدان عرفات میں نبی کریم ﷺ کا ردیف میں تھا نبی کریم ﷺ نے دعاء کے لئے ہاتھ اٹھائے تو اونٹنی ایک طرف کو جھکنے لگی اور اس کی لگام گرگئی، چناچہ نبی کریم ﷺ نے ایک ہاتھ سے رسی کو پکڑ لیا اور دوسرے ہاتھ کو اٹھائے رکھا۔

20825Musnad Imam Ahmad

حضرت اسامہ بن زید (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ عَنْ عَطَاءٍ قَالَ قَالَ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ خَرَجَ مِنْ الْبَيْتِ أَقْبَلَ بِوَجْهِهِ نَحْوَ الْبَابِ فَقَالَ هَذِهِ الْقِبْلَةُ هَذِهِ الْقِبْلَةُ

حضرت اسامہ ؓ سے مروی ہے کہ میں نے دیکھا کہ نبی کریم ﷺ جب بیت اللہ شریف سے باہر آئے تو دروازے کی طرف رخ کر کے دو مرتبہ فرمایا یہ ہے قبلہ۔

20826Musnad Imam Ahmad

حضرت اسامہ بن زید (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ عَنْ عَطَاءٍ قَالَ قَالَ أُسَامَةُ دَخَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ فَجَلَسَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَكَبَّرَ وَهَلَّلَ ثُمَّ قَامَ إِلَى مَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنْ الْبَيْتِ فَوَضَعَ صَدْرَهُ عَلَيْهِ وَخَدَّهُ وَيَدَيْهِ قَالَ ثُمَّ كَبَّرَ وَهَلَّلَ وَدَعَا ثُمَّ فَعَلَ ذَلِكَ بِالْأَرْكَانِ كُلِّهَا ثُمَّ خَرَجَ فَأَقْبَلَ عَلَى الْقِبْلَةِ وَهُوَ عَلَى الْبَابِ فَقَالَ هَذِهِ الْقِبْلَةُ هَذِهِ الْقِبْلَةُ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا

حضرت اسامہ ؓ سے مروی ہے کہ میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ بیت اللہ میں داخل ہوا (نبی کریم ﷺ نے حضرت بلال ؓ کو حکم دیا اور انہوں نے دروازہ بند کرلیا، اس وقت بیت اللہ چھ ستونوں پر مشتمل تھا نبی کریم ﷺ چلتے ہوئے ان دو ستونوں کے قریب پہنچے جو باب کعبہ کے قریب تھے) اور بیٹھ کر اللہ کی حمدوثناء کی، تکبیروتہلیل کہی (دعاء و استغفار کیا) پھر کھڑے ہو کر بیت اللہ کے سامنے والے حصے کے پاس گئے اور اس پر اپنا سینہ مبارک، رخسار اور مبارک ہاتھ رکھ دیئے، پھر تکبیروتہلیل اور دعاء کرتے رہے پھر ہر کونے پر اسی طرح کیا اور باہر نکل کر باب کعبہ پر پہنچ کر قبلہ کی طرف رخ کر کے دو تین مرتبہ فرمایا یہ ہے قبلہ۔

20827Musnad Imam Ahmad

حضرت اسامہ بن زید (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُثَنَّى حَدَّثَنِي صَالِحُ بْنُ الْأَخْضَرِ حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ أُسَامَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ وَجَّهَهُ وِجْهَةً فَقُبِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَا الَّذِي عَهِدَ إِلَيْكَ قَالَ عَهِدَ إِلَيَّ أَنْ أُغِيرَ عَلَى أُبْنَى صَبَاحًا ثُمَّ أُحَرِّقَ

حضرت اسامہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے انہیں کسی جانب لشکر دے کر روانہ فرمایا تھا لیکن اسی دوران نبی کریم ﷺ کا وصال ہوگیا حضرت صدیق اکبر ؓ نے ان سے پوچھا کہ نبی کریم ﷺ نے تمہیں کیا حکم دیا تھا؟ انہوں نے عرض کیا کہ نبی کریم ﷺ نے مجھے حکم دیا تھا کہ میں صبح کے وقت " ابنی " پر حملہ کروں اور اسے آگ لگا دوں۔

20828Musnad Imam Ahmad

حضرت اسامہ بن زید (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا التَّيْمِيُّ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قُمْتُ عَلَى بَابِ الْجَنَّةِ فَإِذَا عَامَّةُ مَنْ يَدْخُلُهَا الْفُقَرَاءُ إِلَّا أَنَّ أَصْحَابَ الْجَدِّ مَحْبُوسُونَ إِلَّا أَهْلَ النَّارِ فَقَدْ أُمِرَ بِهِمْ إِلَى النَّارِ وَوَقَفْتُ عَلَى بَابِ النَّارِ فَإِذَا عَامَّةُ مَنْ دَخَلَهَا النِّسَاءُ

حضرت اسامہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا میں جنت کے دروازے پر کھڑا ہوا تو دیکھا کہ اس میں داخل ہونے والوں کی اکثریت مساکین کی ہے جبکہ مالداروں کو (حساب کتاب کے لئے فرشتوں نے) روکا ہوا ہے البتہ جو جہنمی ہیں انہیں جہنم میں داخل کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور جہنم کے دروازے پر کھڑا ہوا تو دیکھا کہ اس میں داخل ہونے والوں کی اکثریت عورتوں کی ہے۔

20829Musnad Imam Ahmad

حضرت اسامہ بن زید (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ أَشْعَثَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ

حضرت اسامہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا سینگی لگانے والے اور لگوانے والے دونوں کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔

20830Musnad Imam Ahmad

حضرت اسامہ بن زید (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ حَدَّثَنِي حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ قَالَ سَمِعْتُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ يُحَدِّثُ سَعْدًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ الطَّاعُونُ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ لَيْسَ بِهَا فَلَا تَدْخُلُوهَا وَإِذَا كَانَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلَا تَخْرُجُوا مِنْهَا

حضرت اسامہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جس علاقے میں طاعون کی وباء پھیلی ہوئی ہو تو تم اس علاقے میں مت جاؤ اور جب کسی علاقے میں یہ وباء پھیلے اور تم پہلے سے وہاں موجود ہو تو اس سے بھاگ کر وہاں سے نکلو مت۔