حضرت زید بن ثابت (رض) کی مرویات

Musnad Imam Ahmad · Chapter 828 · 90 hadiths · Page 3 of 5

20638Musnad Imam Ahmad

حضرت زید بن ثابت (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الدَّسْتَوَائِيُّ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ تَسَحَّرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجْنَا إِلَى الْمَسْجِدِ فَأُقِيمَتْ الصَّلَاةُ قُلْتُ كَمْ كَانَ بَيْنَهُمَا قَالَ قَدْرُ مَا يَقْرَأُ الرَّجُلُ خَمْسِينَ آيَةً

حضرت زید بن ثابت ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم نے نبی کریم ﷺ کے ہمراہ سحری کھائی، پھر ہم مسجد کی طرف نکلے تو نماز کھڑی ہوگئی، راوی نے پوچھا کہ ان دونوں کے درمیان کتنا وقفہ تھا؟ انہوں نے بتایا کہ جتنی دیر میں آدمی پچاس آیتیں پڑھ لیتا ہے۔

20639Musnad Imam Ahmad

حضرت زید بن ثابت (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ الْقِرَاءَةِ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ فَقَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُطِيلُ الْقِيَامَ وَيُحَرِّكُ شَفَتَيْهِ

حضرت زید بن ثابت ؓ سے کسی نے ظہر اور عصر کی نماز میں قرأت کے متعلق سوال پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ ان میں قیام لمبا فرماتے تھے اور اپنے ہونٹوں کو حرکت دیتے تھے۔

20640Musnad Imam Ahmad

حضرت زید بن ثابت (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ وَيَزِيدُ قَالَا أَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ قَرَأْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّجْمِ فَلَمْ يَسْجُدْ فِيهَا قَالَ يَزِيدُ قَرَأْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت زید بن ثابت ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کے سامنے سورت نجم کی تلاوت کی لیکن نبی کریم ﷺ نے سجدہ نہیں کیا۔

20641Musnad Imam Ahmad

حضرت زید بن ثابت (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْضَلُ صَلَاةِ الْمَرْءِ فِي بَيْتِهِ إِلَّا الْمَكْتُوبَةَ

حضرت زید بن ثابت ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا فرض نمازوں کو چھوڑ کر دوسری نمازیں گھر میں پڑھنا انسان کے لئے سب سے افضل ہے۔

20642Musnad Imam Ahmad

حضرت زید بن ثابت (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ وَعُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ أَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ وَقَالَ عُثْمَانُ لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ

حضرت زید بن ثابت ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا یہودیوں پر اللہ کی لعنت ہو کہ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنالیا۔

20643Musnad Imam Ahmad

حضرت زید بن ثابت (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ أَمْلَاهُ عَلَيْنَا عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ رَجُلٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَعَلَ الرُّقْبَى لِلْوَارِثِ

حضرت زید بن ثابت ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے " عمری " (وہ مکان جسے عمر بھر کے لئے کسی کے حوالے کردیا جائے) وارث کا حق قرار دیا ہے۔

20644Musnad Imam Ahmad

حضرت زید بن ثابت (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ لِصَاحِبِ الْعَرِيَّةِ أَنْ يَبِيعَهَا بِخَرْصِهَا

حضرت زید بن ثابت ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے " بیع عرایا " میں اس بات کی اجازت دی ہے کہ اسے اندازے سے ناپ کر بیچ دیا جائے۔ فائدہ۔ بیع عرایا کی وضاحت کے لئے حدیث نمبر (٤٤٩٠) ملاحظہ کیجئے۔

20645Musnad Imam Ahmad

حضرت زید بن ثابت (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارٍ عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي الْوَلِيدِ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ قَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ يَغْفِرُ اللَّهُ لِرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ أَنَا وَاللَّهِ أَعْلَمُ بِالْحَدِيثِ مِنْهُ إِنَّمَا أَتَى رَجُلَانِ قَدْ اقْتَتَلَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ كَانَ هَذَا شَأْنَكُمْ فَلَا تُكْرُوا الْمَزَارِعَ قَالَ فَسَمِعَ رَافِعٌ قَوْلَهُ لَا تُكْرُوا الْمَزَارِعَ

حضرت زید بن ثابت ؓ فرماتے ہیں کہ رافع بن خدیج ؓ کی اللہ تعالیٰ مغفرت فرمائے، بخدا! ان سے زیادہ اس حدیث کو میں جانتا ہوں دراصل ایک مرتبہ دو آدمی لڑتے ہوئے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا اگر تمہاری حالت یہی ہونی ہے تو تم زمین کو کرائے پر نہ دیا کرو جس میں سے رافع ؓ نے صرف اتنی بات سن لی کہ زمین کو کرائے پر مت دیا کرو۔

20646Musnad Imam Ahmad

حضرت زید بن ثابت (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ الطَّائِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ قَالَ قَرَأَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى خَتَمَهَا وَقَالَ النَّاسُ حَيِّزٌ وَأَنَا وَأَصْحَابِي حَيِّزٌ وَقَالَ لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ فَقَالَ لَهُ مَرْوَانُ كَذَبْتَ وَعِنْدَهُ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَهُمَا قَاعِدَانِ مَعَهُ عَلَى السَّرِيرِ فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ لَوْ شَاءَ هَذَانِ لَحَدَّثَاكَ فَرَفَعَ عَلَيْهِ مَرْوَانُ الدِّرَّةَ لِيَضْرِبَهُ فَلَمَّا رَأَيَا ذَلِكَ قَالَا صَدَقَ

حضرت ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ جب نبی کریم ﷺ پر سورت نصر نازل ہوئی نبی کریم ﷺ نے وہ صحابہ کرام ؓ کو مکمل سنائی اور فرمایا تمام لوگ ایک طرف ہیں اور میں اور میرے صحابہ ؓ ایک پلڑے میں ہیں اور فرمایا کہ فتح مکہ کے بعد ہجرت فرض نہیں رہی البتہ جہاد اور نیت کا ثواب باقی ہے یہ حدیث سن کر مروان نے ان کی تکذیب کی اس وقت وہاں حضرت رافع بن خدیج ؓ اور حضرت زید بن ثابت ؓ بھی موجود تھے جو مروان کے ساتھ اس کے تخت پر بیٹھے ہوئے تھے، حضرت ابوسعید ؓ کہنے لگے کہ اگر یہ دونوں چاہیں تو تم سے یہ حدیث بیان کرسکتے ہیں لیکن ان میں سے ایک کو اس بات کا اندیشہ ہے کہ تم ان سے ان کی قوم کی چوہدارہٹ چھین لو گے اور دوسرے کو اس بات کا اندیشہ ہے کہ تم ان سے صدقات روک لو گے اس پر وہ دونوں حضرات خاموش رہے اور مروان نے حضرت ابوسعید ؓ کو مارنے کے لئے کوڑا اٹھا لیا یہ دیکھ کر ان دونوں حضرات نے فرمایا یہ سچ کہہ رہے ہیں۔ فائدہ۔ اس روایت کی صحت پر راقم الحروف کو شرح صدر نہیں ہو پارہا۔

20647Musnad Imam Ahmad

حضرت زید بن ثابت (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ أَخْبَرَنِي عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى أُحُدٍ فَرَجَعَ أُنَاسٌ خَرَجُوا مَعَهُ فَكَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِمْ فِرْقَتَيْنِ فِرْقَةٌ تَقُولُ بِقَتْلِهِمْ وَفِرْقَةٌ تَقُولُ لَا وَقَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ فَكَانَ النَّاسُ فِيهِمْ فِرْقَتَيْنِ فَرِيقًا يَقُولُونَ بِقَتْلِهِمْ وَفَرِيقًا يَقُولُونَ لَا قَالَ بَهْزٌ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَمَا لَكُمْ فِي الْمُنَافِقِينَ فِئَتَيْنِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهَا طَيْبَةُ وَإِنَّهَا تَنْفِي الْخَبَثَ كَمَا تَنْفِي النَّارُ خَبَثَ الْفِضَّةِ حَدَّثَنَاه عَفَّانُ وَقَالَ فِيهِ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ بَهْزٍ

حضرت زید بن ثابت ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ غزوہ احد کے لئے روانہ ہوئے تو لشکر کے کچھ لوگ راستے ہی سے واپس آگئے صحابہ کرام ؓ ان کے بارے میں دو گروہ ہوگئے، ایک گروہ کی رائے یہ تھی کہ انہیں قتل کردیا جائے اور گروہ ثانی کہتا تھا نہیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ " تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم منافقین کے بارے میں دو گروہ ہوگئے اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا مدینہ طیبہ ہے یہ گندگی کو اسی طرح دور کردیتا ہے جیسے آگ چاندی کے میل کچیل کو دور کردیتی ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

20648Musnad Imam Ahmad

حضرت زید بن ثابت (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا كَثِيرٌ عَنْ جَعْفَرٍ عَنْ ثَابِتِ بْنِ الْحَجَّاجِ قَالَ قَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمُخَابَرَةِ قُلْتُ وَمَا الْمُخَابَرَةُ قَالَ يَأْجُرُ الْأَرْضَ بِنِصْفٍ أَوْ بِثُلُثٍ أَوْ بِرُبُعٍ

حضرت زید بن ثابت ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ہمیں " مخابرہ " سے منع فرمایا ہے، میں نے " مخابرہ " کا معنی پوچھا تو فرمایا زمین کو نصف، تہائی یا چوتھائی پیداوار کے عوض بٹائی پر لینا۔

20649Musnad Imam Ahmad

حضرت زید بن ثابت (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مَكِّيٌّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ عَنْ أَبِي النَّضْرِ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ احْتَجَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ حُجْرَةً وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ مِنْ اللَّيْلِ فَيُصَلِّي فِيهَا فَصَلَّوْا مَعَهُ بِصَلَاتِهِ يَعْنِي رِجَالًا وَكَانُوا يَأْتُونَهُ كُلَّ لَيْلَةٍ حَتَّى إِذَا كَانَ لَيْلَةٌ مِنْ اللَّيَالِي لَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَنَحْنَحُوا وَرَفَعُوا أَصْوَاتَهُمْ قَالَ فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُغْضَبًا قَالَ فَقَالَ لَهُمْ أَيُّهَا النَّاسُ مَا زَالَ بِكُمْ صَنِيعُكُمْ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنْ سَيُكْتَبُ عَلَيْكُمْ فَعَلَيْكُمْ بِالصَّلَاةِ فِي بُيُوتِكُمْ فَإِنَّ خَيْرَ صَلَاةِ الْمَرْءِ فِي بَيْتِهِ إِلَّا الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ

حضرت زید بن ثابت ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے مسجد میں چٹائی سے ایک خیمہ بنایا اور اس میں کئی راتیں نماز پڑھتے رہے حتٰی کہ لوگ بھی جمع ہونے لگے کچھ دنوں کے بعد نبی کریم ﷺ کی آواز نہیں آئی تو لوگوں کا خیال ہوا کہ شاید نبی کریم ﷺ سوگئے اس لئے کچھ لوگ اس کے قریب جا کر کھانسنے لگے تاکہ نبی کریم ﷺ باہر آجائیں، نبی کریم ﷺ نے فرمایا میں مسلسل تمہارا یہ عمل دیکھ رہا تھا حتٰی کہ مجھے اندیشہ ہونے لگا کہ کہیں تم پر یہ نماز (تہجد) فرض نہ ہوجائے، کیونکہ اگر یہ نماز تم پر فرض ہوگئی تو تم اس کی پابندی نہ کرسکو گے اس لئے لوگو! اپنے اپنے گھروں میں نماز پڑھا کرو کیونکہ فرض نمازوں کو چھوڑ کر دوسری نمازیں گھر میں پڑھنا انسان کے لئے سب سے افضل ہے۔

20650Musnad Imam Ahmad

حضرت زید بن ثابت (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ أَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ قَالَ قَالَ لِي زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ أَلَمْ أَرَكَ اللَّيْلَةَ خَفَّفْتَ الْقِرَاءَةَ فِي سَجْدَتَيْ الْمَغْرِبِ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَقْرَأُ فِيهِمَا بِطُولَى الطُّولَيَيْنِ

حضرت زید بن ثابت ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک مرتبہ مروان سے فرمایا میں دیکھ رہاہوں کہ تم نے مغرب کی نماز بہت ہی مختصر پڑھائی ہے، اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے میں نے نبی کریم ﷺ کو نماز مغرب میں سورت اعراف کی تلاوت کرتے ہوئے سنا ہے۔

20651Musnad Imam Ahmad

حضرت زید بن ثابت (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ أَخْبَرَنِي قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ لَمَّا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أُحُدٍ رَجَعَ أُنَاسٌ خَرَجُوا مَعَهُ فَكَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِرْقَتَيْنِ فِرْقَةٌ تَقُولُ نَقْتُلُهُمْ وَفِرْقَةٌ تَقُولُ لَا قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ فَكَانَ فَرِيقٌ يَقُولُونَ قَتْلَهُمْ وَفَرِيقٌ يَقُولُونَ لَا قَالَ بَهْزٌ فَأَنْزَلَ اللَّهُ فَمَا لَكُمْ فِي الْمُنَافِقِينَ فِئَتَيْنِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهَا طَيْبَةُ وَإِنَّهَا تَنْفِي الْخَبَثَ كَمَا تَنْفِي النَّارُ خَبَثَ الْفِضَّةِ

حضرت زید بن ثابت ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ غزوہ احد کے لئے روانہ ہوئے تو لشکر کے کچھ لوگ راستے ہی سے واپس آگئے صحابہ کرام ؓ ان کے بارے میں دو گروہ ہوگئے، ایک گروہ کی رائے یہ تھی کہ انہیں قتل کردیا جائے اور گروہ ثانی کہتا تھا نہیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ " تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم منافقین کے بارے میں دو گروہ ہوگئے اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا مدینہ طیبہ ہے یہ گندگی کو اسی طرح دور کردیتا ہے جیسے آگ چاندی کے میل کچیل کو دور کردیتی ہے۔

20652Musnad Imam Ahmad

حضرت زید بن ثابت (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا فَيَّاضُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَبُو مُحَمَّدٍ الرَّقِّيُّ عَنْ جَعْفَرٍ يَعْنِي ابْنَ بُرْقَانَ عَنْ ثَابِتِ بْنِ الْحَجَّاجِ قَالَ قَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمُخَابَرَةِ قَالَ وَقِيلَ لَهُ مَا الْمُخَابَرَةُ قَالَ أَنْ تَأْخُذَ الْأَرْضَ بِنِصْفٍ أَوْ بِثُلُثٍ أَوْ بِرُبُعٍ أَوْ بِأَشْبَاهِ هَذَا

حضرت زید بن ثابت ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ہمیں " مخابرہ " سے منع فرمایا ہے، میں نے " مخابرہ " کا معنی پوچھا تو فرمایا زمین کو نصف، تہائی یا چوتھائی پیداوار کے عوض بٹائی پر لینا۔

20653Musnad Imam Ahmad

حضرت زید بن ثابت (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ يُحَدِّثُ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّهُ قَالَ فِي هَذِهِ الْآيَةِ فَمَا لَكُمْ فِي الْمُنَافِقِينَ فِئَتَيْنِ وَاللَّهُ أَرْكَسَهُمْ بِمَا كَسَبُوا قَالَ رَجَعَ أُنَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ النَّاسُ فِيهِمْ فِرْقَتَيْنِ فَرِيقٌ يَقُولُونَ قَتْلَهُمْ وَفَرِيقٌ يَقُولُونَ لَا فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فَمَا لَكُمْ فِي الْمُنَافِقِينَ فِئَتَيْنِ وَقَالَ إِنَّهَا طَيْبَةُ وَإِنَّهَا تَنْفِي الْخَبَثَ كَمَا تَنْفِي النَّارُ خَبَثَ الْفِضَّةِ

حضرت زید بن ثابت ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ غزوہ احد کے لئے روانہ ہوئے تو لشکر کے کچھ لوگ راستے ہی سے واپس آگئے صحابہ کرام ؓ ان کے بارے میں دو گروہ ہوگئے، ایک گروہ کی رائے یہ تھی کہ انہیں قتل کردیا جائے اور گروہ ثانی کہتا تھا نہیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ " تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم منافقین کے بارے میں دو گروہ ہوگئے اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا مدینہ طیبہ ہے یہ گندگی کو اسی طرح دور کردیتا ہے جیسے آگ چاندی کے میل کچیل کو دور کردیتی ہے۔

20654Musnad Imam Ahmad

حضرت زید بن ثابت (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ أَبُو الْأَسْوَدِ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّهُ تَسَحَّرَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ثُمَّ خَرَجْنَا حَتَّى أَتَيْنَا الصَّلَاةَ قَالَ أَنَسٌ فَقُلْتُ لِزَيْدٍ كَمْ كَانَ بَيْنَ ذَلِكَ قَالَ قَدْرُ قِرَاءَةِ خَمْسِينَ آيَةً أَوْ سِتِّينَ آيَةً

حضرت زید بن ثابت ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم نے نبی کریم ﷺ کے ہمراہ سحری کھائی، پھر ہم مسجد کی طرف نکلے تو نماز کھڑی ہوگئی، راوی نے پوچھا کہ ان دونوں کے درمیان کتنا وقفہ تھا؟ انہوں نے بتایا کہ جتنی دیر میں آدمی پچاس آیتیں پڑھ لیتا ہے۔

20655Musnad Imam Ahmad

حضرت زید بن ثابت (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ فِي بَيْعِ الْعَرَايَا بِخَرْصِهَا كَيْلًا

حضرت زید بن ثابت ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت زید بن ثابت ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے " بیع عرایا " میں اس بات کی اجازت دی ہے کہ اسے اندازے سے ناپ کر بیچ دیا جائے۔ فائدہ۔ بیع عرایا کی وضاحت کے لئے حدیث نمبر (٤٤٩٠) ملاحظہ کیجئے۔

20656Musnad Imam Ahmad

حضرت زید بن ثابت (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ مَكْحُولٍ وَعَطِيَّةَ وَضَمْرَةَ وَرَاشِدٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ زَوْجٍ وَأُخْتٍ لِأُمٍّ وَأَبٍ فَأَعْطَى الزَّوْجَ النِّصْفَ وَالْأُخْتَ النِّصْفَ فَكُلِّمَ فِي ذَلِكَ فَقَالَ حَضَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِذَلِكَ

حضرت زید بن ثابت ؓ سے وراثت کا مسئلہ پوچھا گیا کہ ایک عورت فوت ہوئی جس کے ورثاء میں ایک شوہر اور ایک حقیقی بہن ہے تو انہوں نے نصف مال شوہر کو دے دیا اور دوسرا نصف بہن کو، کسی نے ان سے اس کے متعلق بات کی تو انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر تھا، انہوں نے بھی یہی فیصلہ فرمایا تھا۔

20657Musnad Imam Ahmad

حضرت زید بن ثابت (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ قَالَ وَجَدْتُ هَذَا الْحَدِيثَ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ أَنَا شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي خَارِجَةُ بْنُ زَيْدٍ أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ قَالَ لَمَّا نَسَخْنَا الْمَصَاحِفَ فُقِدَتْ آيَةٌ مِنْ سُورَةِ الْأَحْزَابِ قَدْ كُنْتُ أَسْمَعُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ بِهَا فَالْتَمَسْتُهَا فَلَمْ أَجِدْهَا مَعَ أَحَدٍ إِلَّا مَعَ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ الَّذِي جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهَادَتَهُ شَهَادَةَ رَجُلَيْنِ قَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ

حضرت زید بن ثابت ؓ سے مروی ہے کہ جب ہم لوگ مصاحف کے نسخے تیار کر رہے تھے تو مجھے ان میں سورت احزاب کی ایک آیت نظر نہ آئی جو میں نبی کریم ﷺ کو پڑھتے ہوئے سنتا تھا میں نے اسے تلاش کیا تو وہ مجھے صرف حضرت خزیمہ بن ثابت انصاری ؓ کے پاس ملی جن کی شہادت کو نبی کریم ﷺ نے دو آدمیوں کی شہادت کے برابر قرار دیا تھا اور وہ آیت یہ تھی من المؤمنین رجال صدقواماعاھدو اللہ علیہ۔