مسنگ
حضرت عمیر ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مجھے میرے آقا نے گوشت کے ٹکڑے بنانے کا حکم دیا اسی دوران ایک مسکین آیا تو میں نے اس میں سے کچھ کھانے کو اسے بھی دے دیا آقا کو معلوم ہوا تو اس نے مجھے مارا میں نے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کہ یہ بات بتائی، نبی کریم ﷺ نے اس سے پوچھا کہ تم نے اسے کیوں مارا؟ اس نے کہا کہ اس نے میری اجازت کے بغیر میرا کھانے کسی کو اٹھا کر دے دیا تھا نبی کریم ﷺ نے فرمایا اس کا اجر تم دونوں کے درمیان تقسیم ہوگا۔
مسنگ
حضرت فروہ بن مسیک ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں بارگاہ نبوت میں حاضر ہوا تو ایک آدمی کو یہ سوال کرتے ہوئے سنا کہ یا رسول اللہ! سبا کسی علاقے کا نام تھا یا کسی عورت کا؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا نہ وہ کسی علاقے کا نام ہے اور نہ کسی عورت کا، بلکہ یہ ایک آدمی کا نام ہے جس کا تعلق عرب سے تھا اور اس کے دس بیٹے تھے جن میں سے چار بائیں جانب چلے گئے اور چھ دائیں جانب بائیں جانب جانے والے عک، لخم عسان اور عاملہ تھے اور دائیں جانب والے ازد کندہ مذحج حمیر اشعریین اور انمار ہیں سائل نے پوچھا یا رسول اللہ! ﷺ انمار سے کیا مراد ہے؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا وہ لوگ کہ خشم اور بجیلہ ان میں سے ہیں۔
مسنگ
حضرت فروہ بن مسیک ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں بارگاہ نبوت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ! ﷺ کیا میں اپنی قوم کے پیچھے رہ جانے والوں سے قتال نہ کروں ان لوگوں کے ساتھ جو آگے بڑھ گئے ہیں؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کیوں نہیں! جب میں پیٹھ پھیر کر جانے لگا تو نبی کریم ﷺ نے مجھے بلا کر فرمایا قتال کی بجائے ان لوگوں کو پہلے دعوت دینا جو اس پر لبیک کہے اسے قبول کرلینا اور جو لبیک نہ کہے اس کے متعلق جلد بازی نہ کرنا جب تک کہ مجھے بتا نہ دینا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! ﷺ سبا کسی علاقے کا نام تھا یا کسی عورت کا؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا نہ وہ کسی علاقے کا نام ہے اور نہ کسی عورت کا، بلکہ یہ ایک آدمی کا نام ہے جس کا تعلق عرب سے تھا اور اس کے دس بیٹے تھے جن میں سے چار بائیں جانب چلے گئے اور چھ دائیں جانب بائیں جانب جانے والے عک، لخم، عسان اور عاملہ تھے اور دائیں جانب والے ازد، کندہ، مذحج، حمیر، اشعریین اور انمار ہیں سائل نے پوچھا یا رسول اللہ! ﷺ انمار سے کیا مراد ہے؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا وہ لوگ کہ خشم اور بجیلہ ان میں سے ہیں۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ وَهْبٍ مَوْلَى أَبِي أَحْمَدَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا وَهِيَ تَخْتَمِرُ فَقَالَ لَيَّةً لَا لَيَّتَيْنِ
حضرت ام سلمہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ ان کے پاس تشریف لائے تو وہ دوپٹہ اوڑھ رہی تھیں نبی ﷺ نے فرمایا کہ اسے ایک ہی مرتبہ لپیٹنا دو مرتبہ نہیں ( تاکہ مردوں کے عمامے کے ساتھ مشابہت نہ ہوجائے)