حضرت جابر بن سمرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنِ الْمُهَاجِرِ بْنِ مِسْمَارٍ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ عَنْ حَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَزَالُ الدِّينُ قَائِمًا حَتَّى يَكُونَ اثْنَا عَشَرَ خَلِيفَةً مِنْ قُرَيْشٍ ثُمَّ يَخْرُجُ كَذَّابُونَ بَيْنَ يَدَيْ السَّاعَةِ ثُمَّ يَخْرُجُ عِصَابَةٌ مِنْ الْمُسْلِمِينَ يَسْتَخْرِجُونَ كَنْزَ الْأَبْيَضِ كِسْرَى وَآلِ كِسْرَى وَإِذَا أَعْطَى اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَحَدَكُمْ خَيْرًا فَلْيَبْدَأْ بِنَفْسِهِ وَأَهْلِهِ وَأَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ
عامر بن سعد کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر ؓ سے نبی ﷺ کی کوئی حدیث پوچھی تو انہوں نے فرمایا کہ دین اس وقت تک قائم رہے گا جب تک قریش کے بارہ خلیفہ نہ ہوجائیں۔ پھر قیامت سے پہلے کچھ کذاب آکر رہیں گے۔ پھر مسلمانوں کی ایک جماعت نکلے گی اور وہ کسری اور آل کسری کا سفید خزانہ نکال لیں گے۔ ور جب اللہ تعالیٰ تم میں سے کسی کو کوئی خیر عطا فرمادیں تو اسے چاہیے کہ اپنی ذات اور اپنے اہل خانہ سے اس کا آغاز کرے۔ اور میں حوض کوثر پر تمہارا منتظر ہوں گا۔
حضرت جابر بن سمرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا مِسْعَرٌ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ابْنِ الْقِبْطِيَّةِ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا وَرَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْنَا السَّلَامُ عَلَيْكُمْ بِأَيْدِينَا يَمِينًا وَشِمَالًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَرْمُونَ بِأَيْدِيهِمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ الْخَيْلِ الشُّمْسِ لَا يَسْكُنُ أَحَدُهُمْ وَيُشِيرُ بِيَدِهِ عَلَى فَخِذِهِ ثُمَّ يُسَلِّمُ عَلَى صَاحِبِهِ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ جب ہم لوگ نبی ﷺ کے پیچھے نماز پڑھتے تھے تو ہم دائیں بائیں جانب سلام پھیرتے ہوئے ہاتھ سے اشارہ کرتے تھے نبی ﷺ نے فرمایا کہ لوگوں کا کیا مسئلہ ہے وہ اپنے ہاتھوں سے اس طرح اشارہ کرتے ہیں جیسے دشوار خو گھوڑوں کی دم ہو کیا تم سکون سے نہیں رہ سکتے کہ ران پر ہاتھ رکھے ہوئے ہی اشارہ کرلو اور دائیں بائیں جانب اپنے ساتھی کو سلام کردو۔
حضرت جابر بن سمرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سِمَاكٍ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ وَسُئِلَ عَنْ شَيْبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَانَ فِي رَأْسِهِ شَعَرَاتٌ إِذَا دَهَنَ رَأْسَهُ لَمْ تَتَبَيَّنْ وَإِذَا لَمْ يَدْهُنْهُ تَبَيَّنُ
حضرت جابر ؓ سے کسی نے نبی ﷺ کے سفید بالوں کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی ﷺ کے سر میں چند بال سفید تھے جب آپ سر پر تیل لگاتے تو بالوں کی سفیدی واضح نہیں ہوتی تھی اور جب تیل نہ لگاتے تو ان کی سفیدی واضح ہوجاتی۔
حضرت جابر بن سمرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سِمَاكٍ سَمِعَ جَابِرًا يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ بِسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَنَحْوَهَا وَفِي الصُّبْحِ بِأَطْوَلَ مِنْ ذَلِكَ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نماز ظہر میں سورت اعلی جیسی سورتیں پڑھتے تھے اور نماز فجر میں اس سے لمبی سورتیں پڑھتے تھے۔
حضرت جابر بن سمرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ عَنْ شَرِيكٍ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْتَمِسُوا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ شب قدر کو عشرہ اخیر میں تلاش کیا کرو۔
حضرت جابر بن سمرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ عَنْ سِمَاكٍ قَالَ قُلْتُ لِجَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ أَكُنْتَ تُجَالِسُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ طَوِيلَ الصَّمْتِ قَلِيلَ الضَّحِكِ وَكَانَ أَصْحَابُهُ يَذْكُرُونَ عِنْدَهُ الشِّعْرَ وَأَشْيَاءَ مِنْ أُمُورِهِمْ فَيَضْحَكُونَ وَرُبَّمَا تَبَسَّمَ
سماک کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر بن سمرہ ؓ سے پوچھا کیا آپ نبی ﷺ کی مجلسوں میں شریک ہوتے تھے انہوں نے فرمایا ہاں۔ نبی ﷺ زیادہ وقت خاموش رہتے اور کم ہنستے تھے۔ البتہ نبی ﷺ کی موجودگی میں صحابہ اشعار بھی کہہ دیا کرتے تھے اور اپنے معاملات ذکر کرکے ہنستے بھی تھے اور نبی ﷺ تبسم بھی فرماتے تھے۔
حضرت جابر بن سمرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ وَمُؤَمَّلٌ الْمَعْنَى وَهَذَا لَفْظُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَن جَعْفَرِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ عَن جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُومِ الْغَنَمِ قَالَ لَا قَالَ فَأُصَلِّي فِي مُرَاحِ الْغَنَمِ قَالَ نَعَمْ قَالَ أَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُومِ الْإِبِلِ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَأُصَلِّي فِي أَعْطَانِهَا قَالَ لَا
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی ﷺ سے پوچھا کہ کیا میں بکری کا گوشت کھانے کے بعد نیا وضو کیا کروں نبی ﷺ نے فرمایا کہ نہیں اس نے پوچھا کہ بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھ سکتا ہوں نبی ﷺ نے فرمایا ہاں سائل نے پوچھا کہ اونٹ کا گوشت کھانے کے بعد نیا وضو کروں؟ نبی ﷺ نے فرمایا ہاں۔ اس نے پوچھا کہ اونٹوں کے باڑے میں نماز پڑھ سکتا ہوں نبی ﷺ نے فرمایا کہ نہیں۔
حضرت جابر بن سمرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَن سِمَاكٍ عَن جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشْكَلَ الْعَيْنِ مَنْهُوسَ الْعَقِبِ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کی آنکھوں کی سفیدی میں سرخ ڈورے تھے اور مبارک پنڈلیوں پر گوشت کم تھا۔
حضرت جابر بن سمرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سَعْدٍ أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ عَن سُفْيَانَ عَن سِمَاكٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ قَائِمًا وَيَجْلِسُ بَيْنَ الْخُطْبَتَيْنِ وَيَقْرَأُ بِآيَاتٍ وَيُذَكِّرُ النَّاسَ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کھڑے ہو کر خطبہ دیتے تھے دو خطبوں کے درمیان بیٹھتے تھے اور ان خطبوں میں قرآن کریم کی آیات تلاوت فرماتے اور لوگوں کو نصیحت فرماتے تھے۔
حضرت جابر بن سمرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ حَدَّثَنَا مُجَالِدٌ عَن عَامِرٍ عَن جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ السُّوَائِيِّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ إِنَّ هَذَا الدِّينَ لَنْ يَزَالَ ظَاهِرًا عَلَى مَنْ نَاوَأَهُ لَا يَضُرُّهُ مُخَالِفٌ وَلَا مُفَارِقٌ حَتَّى يَمْضِيَ مِنْ أُمَّتِي اثْنَا عَشَرَ خَلِيفَةً قَالَ ثُمَّ تَكَلَّمَ بِشَيْءٍ لَمْ أَفْهَمْهُ فَقُلْتُ لِأَبِي مَا قَالَ قَالَ كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ
حضرت جابر بن سمرہ ؓ سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو حجۃ الوداع کے موقع پر یہ فرماتے ہوئے سنا کہ یہ دین ہمیشہ غالب رہے گا اسے کوئی مخالفت کرنے والا یا کوئی مفارقت کرنے والا نقصان نہ پہنچا سکے گا۔ یہاں تک کہ میری امت میں بارہ خلیفہ گزر جائیں پھر نبی ﷺ نے کچھ کہا جو میں سمجھ نہیں سکا میں نے اپنے والد سے پوچھا کہ نبی ﷺ نے کیا فرمایا انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ نے فرمایا ہے کہ وہ سب کے سب قریش سے ہوں گے۔
حضرت جابر بن سمرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَن سِمَاكٍ عَن جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ أَنَّ أَهْلَ بَيْتٍ كَانُوا بِالْحَرَّةِ مُحْتَاجِينَ فَمَاتَتْ عِنْدَهُمْ نَاقَةٌ لَهُمْ أَوْ بَعِيرٌ لَهُمْ فَرَخَّصَ لَهُمْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَكْلِهَا قَالَ فَعَصَمَتْهُمْ بَقِيَّةَ شِتَائِهِمْ أَوْ سَنَتِهِمْ
حضرت جابر بن سمرہ ؓ سے مروی ہے کہ حرہ میں ایک خاندان آباد تھا جس کے افراد غریب تھے محتاج تھے ان کے قریب ان کی یا کسی اور کی اونٹنی مرگئی تو نبی ﷺ نے ان کو کھانے کی رخصت دیدی۔ (اضطراری کی حالت کی وجہ سے اور اس اونٹنی نے انہیں ایک سال تک بچائے رکھا۔
حضرت جابر بن سمرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَن سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ بَيْنَ يَدَيْ السَّاعَةِ كَذَّابِينَ قَالَ سِمَاكٌ سَمِعْتُ أَخِي يَقُولُ قَالَ جَابِرٌ فَاحْذَرُوهُمْ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ قیامت سے پہلے کچھ کذاب آکر رہیں گے تم ان سے بچنا۔
حضرت جابر بن سمرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَن سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ أَنَّهُ سَأَلَ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ كَيْفَ كَانَ يَصْنَعُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى الصُّبْحَ قَالَ كَانَ يَقْعُدُ فِي مَقْعَدِهِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ
سماک نے حضرت جابر ؓ سے پوچھا کہ نماز فجر پڑھنے کے بعد نبی ﷺ کا کیا معمول مبارک تھا انہوں نے فرمایا طلوع آفتاب تک اپنی جگہ پر ہی بیٹھے رہتے تھے۔
حضرت جابر بن سمرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَن سِمَاكٍ عَن جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَتَفْتَحَنَّ عِصَابَةٌ مِنْ الْمُسْلِمِينَ أَوْ مِنْ الْمُؤْمِنِينَ كَنْزَ آلِ كِسْرَى الَّذِي فِي الْأَبْيَضِ
حضرت جابربن سمرہ ؓ سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مسلمانوں کی ایک جماعت نکلے گی اور وہ کسری اور آل کسری کا سفید خزانہ نکال لیں گے۔
حضرت جابر بن سمرہ (رض) کی مرویات
قَالَ وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى سَمَّى الْمَدِينَةَ طَيْبَةَ
میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مدینہ منورہ کا نام اللہ نے طیبہ رکھا ہے۔
حضرت جابر بن سمرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَن سِمَاكٍ عَن جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بَيْنَ يَدَيْ السَّاعَةِ كَذَّابُونَ
حضرت جابر بن سمرہ ؓ سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے قیامت سے پہلے کچھ کذاب آکر رہیں گے۔
حضرت جابر بن سمرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَن سِمَاكٍ عَن جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ مَاتَ بَغْلٌ وَقَالَ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ نَاقَةٌ عِنْدَ رَجُلٍ فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَفْتِيهِ فَزَعَمَ جَابِرُ بْنُ سَمُرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِصَاحِبِهَا أَمَا لَكَ مَا يُغْنِيكَ عَنْهَا قَالَ لَا قَالَ اذْهَبْ فَكُلْهَا قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ الصَّوَابُ نَاقَةٌ
حضرت جابر بن سمرہ ؓ سے مروی ہے کہ حرہ میں ایک خاندان آباد تھا جس کے افراد غریب تھے محتاج تھے ان کے قریب ان کی یا کسی اور کی اونٹنی مرگئی ایک آدمی ان کے پاس اس کا حکم پوچھنے کے لئے آیا نبی ﷺ نے اس سے پوچھا کہ کیا تمہارے پاس کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو تمہیں اس سے بےنیاز کردے اس نے کہا نہیں نبی ﷺ نے انہیں وہ کھانے کی رخصت دیدی۔ (اضطراری حالت کی وجہ سے)۔
حضرت جابر بن سمرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَيْمُونٍ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَعْنِي الرَّقِّيَّ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ عَن جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُصَلِّي فِي ثَوْبِي الَّذِي آتِي فِيهِ أَهْلِي قَالَ نَعَمْ إِلَّا أَنْ تَرَى فِيهِ شَيْئًا تَغْسِلُهُ هَذَا الْحَدِيثُ لَا يُرْفَعُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ
حضرت جابر بن سمرہ ؓ سے مروی ہے کہ میں نے ایک آدمی کو نبی ﷺ سے یہ سوال پوچھتے ہوئے سنا ہے کہ کیا میں ان کپڑوں میں نماز پڑھ سکتا ہوں جن میں اپنی بیوی کے پاس جاتاہوں نبی ﷺ نے فرمایا کہ ہاں الاّ یہ کہ تمہیں کوئی اس پر دھبہ نظر آئے تو اسے دھو لو۔
حضرت جابر بن سمرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ يَعْنِي ابْنَ جَابِرٍ عَن سِمَاكٍ عَن جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِنَا الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ وَلَا يُطِيلُ فِيهَا وَلَا يُخِفُّ وَسَطًا مِنْ ذَلِكَ وَكَانَ يُؤَخِّرُ الْعَتَمَةَ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ ہمیں جب فرض نماز پڑھاتے تھے تو نہ بہت زیادہ لمبی اور نہ بہت زیادہ مختصر بلکہ درمیانی نماز پڑھاتے تھے اور نماز عشاء کو ذرا موخر کردیتے تھے۔
حضرت جابر بن سمرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ قَرْمٍ عَن سِمَاكٍ عَن جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ قَائِمًا فَمَنْ حَدَّثَكَ أَنَّهُ رَآهُ يَخْطُبُ إِلَّا قَائِمًا فَقَدْ كَذَبَ وَلَكِنَّهُ رُبَّمَا خَرَجَ وَرَأَى النَّاسَ فِي قِلَّةٍ فَجَلَسَ ثُمَّ يَثُوبُونَ ثُمَّ يَقُومُ فَيَخْطُبُ قَائِمًا
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو کھڑے ہو کر خطبہ دیتے ہوئے دیکھا ہے اس لئے اگر تم سے کوئی شخص یہ بیان کرتا ہے کہ اس نے نبی ﷺ کو کھڑے ہونے کے علاوہ کوئی اور صورت میں دیکھا ہے تو وہ غلط بیان کرتا ہے۔ البتہ کبھی کبھار یہ ہوتا ہے کہ نبی ﷺ وہاں تشریف لے آتے اور لوگوں کی تعداد کم نظر آتی تو بیٹھ جاتے جب لوگ آجاتے تو نبی ﷺ کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرماتے۔