حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔

Musnad Imam Ahmad · Chapter 745 · 139 hadiths · Page 5 of 7

19563Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ أَخْبَرَنَا زِيَادٌ الْأَعْلَمُ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ أَنَّهُ دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاكِعٌ فَرَكَعَ قَبْلَ أَنْ يَصِلَ إِلَى الصَّفِّ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَادَكَ اللَّهُ حِرْصًا وَلَا تَعُدْ

حضرت ابوبکرہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ مسجد میں داخل ہوئے تو نبی ﷺ رکوع میں تھے کہ انہوں نے صف میں شامل ہونے سے پہلے ہی رکوع کرلیا تھا تو نبی ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تمہاری دینی حرص میں اضافہ کرے آئندہ ایسا نہ کرنا۔

19564Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا زِيَادٌ الْأَعْلَمُ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ فَأَوْمَأَ إِلَى أَصْحَابِهِ أَيْ مَكَانَكُمْ فَذَهَبَ وَجَاءَ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ فَصَلَّى بِالنَّاسِ

حضرت ابوبکرہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے نماز فجر کا آغاز کیا اور تکبیر کہی پھر صحابہ کو اشارہ سے فرمایا کہ اپنی جگہ رہو پھر گھر تشریف لے گئے جب باہر آئے تو سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے پھر نماز پڑھائی۔

19565Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنِي فُضَيْلُ بْنُ فَضَالَةَ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ رَأَى أَبُو بَكْرَةَ نَاسًا يُصَلُّونَ الضُّحَى فَقَالَ إِنَّهُمْ لَيُصَلُّونَ صَلَاةً مَا صَلَّاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا عَامَّةُ أَصْحَابِهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ

عبدالرحمن بن ابی بکرہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابوبکرہ ؓ نے کچھ لوگوں کو چاشت کی نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو فرمایا کہ یہ ایسی نماز پڑھ رہے ہیں جو نبی ﷺ نے پڑھی اور نہ ہی آپ کے اکثر صحابہ نے پڑھی۔

19566Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ يُونُسَ عَنِ الْحَسَنِ وَمُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ

حضرت ابوبکرہ سے مروی ہے کہ نبی نے فرمایا میرے بعد کافر نہ ہوجانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔

19567Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ وَيَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ قَالَا حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ مَدَحَ رَجُلٌ رَجُلًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيْلَكَ قَطَعْتَ عُنُقَ صَاحِبِكَ مِرَارًا إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ مَادِحًا صَاحِبَهُ لَا مَحَالَةَ فَلْيَقُلْ أَحْسَبُ فُلَانًا وَاللَّهُ حَسِيبُهُ وَلَا أُزَكِّي عَلَى اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَحَدًا إِنْ كَانَ يَعْلَمُ ذَاكَ أَحْسَبُهُ كَذَا وَكَذَا

حضرت ابوبکرہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ کی موجودگی ایک آدمی نے دوسرے کی تعریف کی نبی ﷺ نے فرمایا افسوس تم نے اپنے ساتھی کی گردن توڑ دی اور فرمایا اگر تم میں سے کسی نے اپنے بھائی کی تعریف ضرور ہی کرنا ہو تو اسے یوں کہنا چاہئے میں یہ سمجھتا ہوں کہ فلاں آدمی اس طرح دکھائی دیتا ہے اور میں اللہ کے سامنے کسی کی پاکی بیان نہیں کرتا اور اس کا حقیقی نگہبان اللہ ہے میں اسے اس طرح سمجھاتا ہوں۔

19568Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ أَنَّ أَبَا بَكْرَةَ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْخَذْفِ فَأَخَذَ ابْنُ عَمٍّ لَهُ فَقَالَ عَنْ هَذَا وَخَذَفَ فَقَالَ أَلَا أُرَانِي أُخْبِرُكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُ وَأَنْتَ تَخْذِفُ وَاللَّهِ لَا أُكَلِّمُكَ عَزْمَةً مَا عِشْتُ أَوْ مَا بَقِيتُ أَوْ نَحْوَ هَذَا

حضرت ابوبکرہ ؓ نے ایک مرتبہ فرمایا کہ نبی ﷺ نے کسی کو کنکریاں مارنے سے منع فرمایا ہے ان کے ایک چچازاد بھائی نے کہا کہ اس سے منع کیا ہے اور کنکری کسی کو دے ماری انہوں نے فرمایا میں تم سے نبی ﷺ کی حدیث بیان کررہاہوں کہ انہوں نے اس سے منع فرمایا ہے لیکن تم پھر بھی وہی کررہے ہو بخدا جب تک میری زندگی ہے میں تم سے کبھی بات نہیں کروں گا۔

19569Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا لَيْثٌ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ أَنَّ عِيَاضَ بْنَ مُسَافِعٍ أَخْبَرَهُ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ أَخِي زِيَادٍ لِأُمِّهِ قَالَ أَبُو بَكْرَةَ أَكْثَرَ النَّاسُ فِي شَأْنِ مُسَيْلِمَةَ الْكَذَّابِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّاسِ فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ شَأْنَ هَذَا الرَّجُلِ الَّذِي قَدْ أَكْثَرْتُمْ فِي شَأْنِهِ فَإِنَّهُ كَذَّابٌ مِنْ ثَلَاثِينَ كَذَّابًا يَخْرُجُونَ قَبْلَ الدَّجَّالِ وَإِنَّهُ لَيْسَ بَلَدٌ إِلَّا يَدْخُلُهُ رُعْبُ الْمَسِيحِ إِلَّا الْمَدِينَةَ عَلَى كُلِّ نَقْبٍ مِنْ نِقَابِهَا يَوْمَئِذٍ مَلَكَانِ يَذُبَّانِ عَنْهَا رُعْبَ الْمَسِيحِ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَمِّهِ أَخْبَرَنِي طَلْحَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ أَنَّ عِيَاضَ بْنَ مُسَافِعٍ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا بَكْرَةَ أَخَا زِيَادٍ لِأُمِّهِ قَالَ قَالَ أَبُو بَكْرَةَ أَكْثَرَ النَّاسُ فِي شَأْنِ مُسَيْلِمَةَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ

حضرت ابوبکرہ ؓ سے مروی ہے کہ مسیلمہ کذاب کے متعلق قبل اس کے نبی ﷺ کچھ فرمائیں لوگ بکثرت باتیں کیا کرتے تھے ایک دن نبی ﷺ خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے اور امابعد کہہ کر فرمایا اس شخص کے متعلق تم بکثرت باتیں کررہے تھے یہ ان تیس کذابوں میں سے ایک ہے جو قیامت سے پہلے خروج کریں گے اور کوئی شہر ایسا نہیں ہوگا جہاں دجال کا رعب نہ پہنچے سوائے مدینہ کے کہ اس کے دو سوراخ پر دو فرشتے مقرر ہونگے جو مدینہ منورہ سے دجال کے رعب کو دور کرتے ہوں گے۔

19570Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ قَالَ لَمَّا ادَّعَى زِيَادٌ لَقِيتُ أَبَا بَكْرَةَ فَقُلْتُ مَا هَذَا الَّذِي صَنَعْتُمْ إِنِّي سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ يَقُولُ سَمِعَتْ أُذُنَايَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ مَنْ ادَّعَى أَبًا فِي الْإِسْلَامِ غَيْرَ أَبِيهِ فَالْجَنَّةُ عَلَيْهِ حَرَامٌ فَقَالَ أَبُو بَكْرَةَ وَأَنَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

ابوعثمان کہتے ہیں کہ جب زیاد کی نسبت کا مسئلہ بہت بڑھا تو ایک دن میری ملاقات ابوبکرہ ؓ سے ہوئی میں نے ان لوگوں سے پوچھا کہ یہ آپ لوگوں نے کیا کیا؟ میں نے حضرت سعد کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ نبی ﷺ سے یہ بات میرے ان کانوں نے سنی ہے کہ جو شخص حالت اسلام میں اپنے باپ کے علاوہ کسی اور شخص کو اپنا باپ قرار دیتا ہے حالانکہ وہ جانتا ہے کہ وہ شخص اس کا باپ نہیں ہے تو اس پر جنت حرام ہے حضرت ابوبکرہ ؓ نے فرمایا کہ میں نے بھی کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے۔

19571Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي بَكْرَةَ أَنَّ أَبَاهُ أَمَرَهُ أَنْ يَكْتُبَ إِلَى ابْنٍ لَهُ وَكَانَ قَاضِيًا بِسِجِسْتَانَ أَمَّا بَعْدُ فَلَا تَحْكُمَنَّ بَيْنَ اثْنَيْنِ وَأَنْتَ غَضْبَانُ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَحْكُمْ أَحَدٌ بَيْنَ اثْنَيْنِ وَهُوَ غَضْبَانُ

حضرت ابوبکرہ ؓ سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ کوئی حاکم دو آدمیوں کے درمیان میں غصے کی حالت میں فیصلہ نہ کرے۔

19572Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي بَكْرَةَ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَدَحَ رَجُلٌ رَجُلًا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطَعْتَ ظَهْرَهُ إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ مَادِحًا صَاحِبَهُ لَا مَحَالَةَ فَلْيَقُلْ أَحْسَبُهُ وَاللَّهُ حَسِيبُهُ وَلَا أَعْذِرُ عَلَى اللَّهِ أَحَدًا أَحْسَبُهُ كَذَا وَكَذَا إِنْ كَانَ يَعْلَمُ ذَلِكَ مِنْهُ

حضرت ابوبکرہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ کی موجودگی میں ایک آدمی نے دوسرے کی تعریف کی تو نبی ﷺ نے فرمایا افسوس تم نے اپنے ساتھی کی گردن توڑ دی اور فرمایا کہ اگر تم نے اپنے بھائی کی تعریف ضرور ہی کرنا ہے تو اسے یوں کہنا چاہئے کہ فلاں آدمی اس طرح دکھائی دیتا ہے اور میں اللہ کے سامنے کسی کی پاکی بیان نہیں کرتا اور اس کا حقیقی نگہبان اللہ ہے میں اسے اس طرح سمجھتا ہوں۔

19573Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ قَتَادَةَ وَغَيْرِ وَاحِدٍ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ رِيحَ الْجَنَّةِ يُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ مِائَةِ عَامٍ وَمَا مِنْ عَبْدٍ يَقْتُلُ نَفْسًا مُعَاهَدَةً إِلَّا حَرَّمَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَرَائِحَتَهَا أَنْ يَجِدَهَا قَالَ أَبُو بَكْرَةَ أَصَمَّ اللَّهُ أُذُنِي إِنْ لَمْ أَكُنْ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُهَا

حضرت ابوبکرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جنت کی مہک سو سال کی مسافت سے محسوس ہوتی ہے جو شخص کسی معاہد کو قتل کردے اللہ اس پر جنت کی اس مہک کو حرام قرار دے دیتا ہے اگر میں نے یہ بات نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے نہ سنا ہو تو میرے دونوں کان بہرے ہوجائیں۔

19574Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ أَنَّ أَبَا بَكْرَةَ دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَالْإِمَامُ رَاكِعٌ فَرَكَعَ قَبْلَ أَنْ يَصِلَ إِلَى الصَّفِّ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَادَكَ اللَّهُ حِرْصًا وَلَا تَعُدْ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ قَالَ سَمِعْتُ هِشَامًا يُحَدِّثُ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ مِثْلَهُ

حضرت ابوبکرہ ؓ کے حوالے سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ مسجد میں داخل ہوئے تو نبی ﷺ رکوع میں تھے انہوں نے صف میں شامل ہونے سے پہلے ہی رکوع کرلیا تھا تو نبی ﷺ نے ان سے فرمایا اللہ تمہاری دینی حرص میں اضافہ کرے آئندہ ایسا نہ کرنا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے مروی ہے۔

19575Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَوَاجَهَ الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا فَقَتَلَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ فَالْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا الْقَاتِلُ فَمَا بَالُ الْمَقْتُولِ قَالَ إِنَّهُ كَانَ يُرِيدُ قَتْلَ صَاحِبِهِ

حضرت ابوموسی سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ جب دو مسلمان تلواریں لے کر ایک دوسرے کے سامنے آجائیں اور ان میں سے ایک دوسرے کو قتل کردیں تو قاتل اور مقتول دونوں جہنم میں جائیں گے کسی نے عرض کیا یا رسول اللہ یہ قاتل کی بات تو سمجھ میں آتی ہے مقتول کا کیا معاملہ ہے نبی ﷺ نے فرمایا وہ بھی اپنے ساتھی کو قتل کرنا چاہتا تھا۔

19576Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ أَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ الْحَسَنَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُنَا يَوْمًا وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ فِي حِجْرِهِ فَيُقْبِلُ عَلَى أَصْحَابِهِ فَيُحَدِّثُهُمْ ثُمَّ يُقْبِلُ عَلَى الْحَسَنِ فَيُقَبِّلُهُ ثُمَّ قَالَ إِنَّ ابْنِي هَذَا لَسَيِّدٌ إِنْ يَعِشْ يُصْلِحْ بَيْنَ طَائِفَتَيْنِ مِنْ الْمُسْلِمِينَ

حضرت ابوبکرہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی ﷺ کو منبر پر دیکھا حضرت امام حسن بھی ان کے ہمراہ تھے کبھی لوگوں کی طرف متوجہ ہوتے اور کبھی امام حسن کی طرف دیکھتے اور فرماتے میرا یہ بیٹا سردار ہے اور اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے مسلمانوں کے دو گروہوں کے درمیان صلح کروائے گا۔

19577Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ حَدَّثَنَا عُيَيْنَةُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَنْ يُفْلِحَ قَوْمٌ أَسْنَدُوا أَمْرَهُمْ إِلَى امْرَأَةٍ

حضرت ابوبکرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا وہ قوم کبھی کامیاب نہیں ہوسکتی جو اپنے معاملات ایک عورت کے حوالے کردے۔

19578Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَدْخُلُ الْمَدِينَةَ رُعْبُ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ لَهَا يَوْمَئِذٍ سَبْعَةُ أَبْوَابٍ لِكُلِّ بَابٍ مَلَكَانِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ أَكْثَرَ النَّاسُ فِي شَأْنِ مُسَيْلِمَةَ فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ عُقَيْلٍ

حضرت ابوبکرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا مدینہ منورہ میں دجال کا رعب داخل نہ ہوسکے گا اس وقت مدینہ منورہ کے سات دروازے ہونگے اور ہر دروازے پر دو فرشتے مقرر ہوں گے۔

19579Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا عُيَيْنَةُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يُفْلِحُ قَوْمٌ أَسْنَدُوا أَمْرَهُمْ إِلَى امْرَأَةٍ

حضرت ابوبکرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ وہ قوم کبھی کامیاب نہیں ہوسکتی جو اپنے معاملات ایک عورت کے حوالے کردے۔

19580Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُفْلِحُ قَوْمٌ تَمْلِكُهُمْ امْرَأَةٌ

حضرت ابوبکرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا وہ قوم کبھی کامیاب نہیں ہوسکتی جو اپنے معاملات ایک عورت کے حوالے کردے۔

19581Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ وَرَوْحٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ سَالِمٍ أَبِي حَاتِمٍ وَقَالَ رَوْحٌ عَنْ سَالِمٍ أَبِي عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ سَالِمٍ قَالَ أَبِي و حَدَّثَنَا عَفَّانُ فِي حَدِيثٍ ذَكَرَهُ عَنْ حَمَّادٍ عَنْ سَالِمٍ أَبِي عُبَيْدِ اللَّهِ وَهُوَ أَيْضَا يُكَنَّى أَبَا حَاتِمٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ شَهْرَا عِيدٍ لَا يَنْقُصَانِ رَمَضَانُ وَذُو الْحِجَّةِ

حضرت ابوبکرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا عید کے دو مہینے یعنی رمضان اور ذی الحجہ (ثواب کے اعتبار سے) کم نہیں ہوتے۔

19582Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔

حَدَّثَنَا يَزِيدُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ النَّاسِ أَفْضَلُ أَوْ قَالَ خَيْرٌ شَكَّ يَزِيدُ قَالَ مَنْ طَالَ عُمْرُهُ وَحَسُنَ عَمَلُهُ قِيلَ فَأَيُّ النَّاسِ شَرٌّ قَالَ مَنْ طَالَ عُمْرُهُ وَسَاءَ عَمَلُهُ

حضرت ابوبکرہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ کون سا انسان سب سے بہتر ہے نبی ﷺ نے فرمایا جس کی عمر لمبی ہو اور عمل سب سے اچھا ہو سائل نے پوچھا کہ سب سے بد ترین انسان کون ہے نبی ﷺ نے فرمایا جس کی عمر لمبی ہو اور اس کا عمل سب سے برا ہو۔