حضرت سمرہ بن جندب (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَن الْحَسَنِ عَن سَمُرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْعُمْرَى جَائِزَةٌ
حضرت سمرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ " عمری " اس شخص کے حق میں جائز ہوتا ہے جس کے لئے وہ کیا گیا ہو۔
حضرت سمرہ بن جندب (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَن قَتَادَةَ عَن الْحَسَنِ عَن سَمُرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ صَلَاةُ الْوُسْطَى صَلَاةُ الْعَصْرِ
حضرت سمرہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے فرمایا " صلوۃ الوسطی " سے مراد نماز عصر ہے۔
حضرت سمرہ بن جندب (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَن الْحَسَنِ عَن سَمُرَةَ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ كُلُّ غُلَامٍ رَهِينَةٌ لِعَقِيقَتِهِ تُذْبَحُ يَوْمَ سَابِعِهِ وَيُحْلَقُ وَيُدَمَّى
حضرت سمرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا ہر لڑکا اپنے عقیقے کے عوض گروی رکھا ہوا ہے لہذا اس کی طرف سے ساتویں دن قربانی کیا کرو اسی دن اس کا نام رکھا جائے اور سر کے بال مونڈے جائیں۔
حضرت سمرہ بن جندب (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ حَرْبٍ عَن سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ أَحْسَبُهُ مَرْفُوعًا مَنْ نَسِيَ صَلَاةً فَلْيُصَلِّهَا حِينَ يَذْكُرُهَا وَمِنْ الْغَدِ لِلْوَقْتِ حَدَّثَنَا يُونُسُ وَسُرَيْجٌ قَالَا ثَنَا حَمَّادٌ عَن بِشْرٍ قَالَ سَمِعْتُ سَمُرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
حضرت سمرہ ؓ سے مرفوعاً مروی ہے کہ جو شخص اپنے وقت پر نماز پڑھنا بھول جائے تو جب یاد آجائے اسی وقت پڑھ لے اور اگلے دن وقت مقررہ پر ادا کرے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حضرت سمرہ بن جندب (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَن الْحَسَنِ عَن سَمُرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ تَوَضَّأَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَبِهَا وَنِعْمَتْ وَمَنْ اغْتَسَلَ فَذَلِك أَفْضَلُ
حضرت سمرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جو شخص جمعہ کے دن وضو کرلے تو وہ بھی صحیح ہے اور جو شخص غسل کرلے تو یہ زیادہ افضل ہے۔
حضرت سمرہ بن جندب (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَن قَتَادَةَ عَن الْحَسَنِ عَن سَمُرَةَ أَنَّ يَوْمَ حُنَيْنٍ كَانَ يَوْمًا مَطِيرًا فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنَادِيَهُ أَنَّ الصَّلَاةَ فِي الرِّحَالِ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبَانُ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَن الْحَسَنِ عَن سَمُرَةَ مِثْلَهُ سَوَاءً
حضرت سمرہ ؓ مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے غزوہ حنین کے موقع پر بارش کے دن لوگوں سے فرمادیا کہ اپنے اپنے خیموں میں نماز پڑھ لو۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حضرت سمرہ بن جندب (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ عَن الْحَسَنِ عَن سَمُرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَزَلَ الْقُرْآنُ عَلَى ثَلَاثَةِ أَحْرُفٍ قَالَ عَفَّانُ مَرَّةً أُنْزِلَ الْقُرْآنُ
حضرت سمرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے قرآن پاک تین حروف پر نازل ہوا ہے۔
حضرت سمرہ بن جندب (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ عَن الْحَسَنِ عَن سَمُرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا تَزَوَّجَ الرَّجُلَانِ الْمَرْأَةَ فَالْأَوَّلُ أَحَقُّ وَإِذَا اشْتَرَى الرَّجُلَانِ الْبَيْعَ فَالْأَوَّلُ أَحَقُّ
حضرت سمرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے جس ایک عورت کا نکاح اس کے دو ولی مختلف جگہوں پر کردیں تو وہ ان میں سے پہلے کی ہوگی اور جس نے دو مختلف آدمیوں سے ایک ہی چیز خریدی تو وہ ان میں سے پہلے کی ہوگی۔
حضرت سمرہ بن جندب (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ عَن الْحَسَنِ عَن سَمُرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الْحَيَوَانِ بِالْحَيَوَانِ نَسِيئَةً
حضرت سمرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے جانور کے بدلے میں جانور کی ادھار خریدوفروخت سے منع کیا ہے۔
حضرت سمرہ بن جندب (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَفَّانُ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ قَالَ سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ عُقْبَةَ قَالَ سَمِعْتُ سَمُرَةَ بْنَ جُنْدُبٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمَسَائِلُ كُدُوحٌ يَكْدَحُ بِهَا الرَّجُلُ وَجْهَهُ فَمَنْ شَاءَ أَبْقَى عَلَى وَجْهِهِ وَمَنْ شَاءَ تَرَكَ إِلَّا أَنْ يَسْأَلَ الرَّجُلُ ذَا سُلْطَانٍ أَوْ يَسْأَلَ فِي الْأَمْرِ لَا يَجِدُ مِنْهُ بُدًّا قَالَ فَحَدَّثْتُ بِهِ الْحَجَّاجَ فَقَالَ سَلْنِي فَإِنِّي ذُو سُلْطَانٍ
حضرت سمرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا کسی کے آگے دست سوال دراز کرنا ایک زخم اور داغ ہے جس سے انسان اپنے چہرے کو داغ دار کرلیتا ہے اور اب جو چاہے اسے اپنے چہرے پر رہنے دے اور جو چاہے اسے چھوڑ دے الاّ یہ کہ انسان کسی ایسے شخص سے سوال کرے جو بااختیار ہو یا کسی ایسے معاملے میں سوال کرے جس کے بغیر کوئی چارہ کار نہ ہو۔