حضرت سمرہ بن جندب (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سَعْدٍ أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ عَبَّادٍ عَنْ سَمُرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ حِينَ انْكَسَفَتْ الشَّمْسُ فَقَالَ أَمَّا بَعْدُ
حضرت سمرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے سورج گرہن کے موقع پر خطبہ دیتے ہوئے " امابعد " کہا۔
حضرت سمرہ بن جندب (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تُوشِكُونَ أَنْ يَمْلَأَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَيْدِيَكُمْ مِنْ الْعُجْمِ وَقَالَ عَفَّانُ مَرَّةً مِنْ الْأَعَاجِمِ ثُمَّ يَكُونُوا أُسْدًا لَا يَفِرُّونَ يَقْتُلُونَ مُقَاتِلَتَكُمْ وَيَأْكُلُونَ فَيْئَكُمْ
حضرت سمرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا عنقریب اللہ تمہارے ہاتھوں کو عجم سے بھردے گا پھر وہ ایسے شیر بن جائینگے جو میدان سے نہیں بھاگیں گے وہ تمہارے جنگجوؤں کو قتل کردیں گے اور تمہارا مال غنیمت کھا جائیں گے۔
حضرت سمرہ بن جندب (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ هِشَامٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا
حضرت سمرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا ہے بائع (بچنے والا) اور مشتری (خریدنے والا اور بیچنے والا) کو اس وقت تک (بیع فسخ کرنے کا) اختیار رہتا ہے جب تک وہ ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوجاتے۔
حضرت سمرہ بن جندب (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْجَارُ أَحَقُّ بِالْجِوَارِ أَوْ بِالدَّارِ
حضرت سمرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا گھر کا پڑوسی دوسرے کی نسبت اس گھر کا زیادہ حقدار ہوتا ہے۔
حضرت سمرہ بن جندب (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ ثَعْلَبَةَ عَنْ مَكْحُولٍ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَتَّخِذَ الْمَسَاجِدَ فِي دِيَارِنَا وَأَمَرَنَا أَنْ نُنَظِّفَهَا
حضرت سمرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ اپنے علاقوں میں مسجدیں بنائیں اور انہیں صاف ستھرا رکھیں۔
حضرت سمرہ بن جندب (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ عَنِ الْحَكَمِ وَحَبِيبٍ عَنْ مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَسُوا الثِّيَابَ الْبَيَاضَ فَإِنَّهَا أَطْهَرُ وَأَطْيَبُ وَكَفِّنُوا فِيهَا مَوْتَاكُمْ
حضرت سمرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے سفید کپڑے پہنا کرو کیونکہ وہ عمدہ اور پاکیزہ ہوتے ہیں اور اپنے مردوں کو ان ہی میں دفن کیا کرو۔
حضرت سمرہ بن جندب (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ يَحْيَى مِنْ أَهْلِ مَرْوٍ وَعَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ وِقَاءَ بْنِ إِيَاسٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ سَمُرَةَ قَالَ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَطَبَ فَنَهَى عَنْ الدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَمِيلٍ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ مِثْلَهُ حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ وَعَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ ثَعْلَبَةَ عَنْ سَمُرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
حضرت سمرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ایک مرتبہ کھڑے ہو کر خطبہ دیا اور اس میں دباء اور مزفت سے منع فرمایا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ ہمارے نسخے میں یہاں صرف لفظ حدثنا لکھا ہوا ہے۔
حضرت سمرہ بن جندب (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبَانُ الْعَطَّارُ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ كُلُّ غُلَامٍ مُرْتَهَنٌ بِعَقِيقَتِهِ تُذْبَحُ عَنْهُ يَوْمَ سَابِعِهِ وَيُمَاطُ عَنْهُ الْأَذَى وَيُسَمَّى
حضرت سمرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ ہر لڑکا اپنے عقیقے کے عوض گروی لکھا ہوا ہے لہذا اس کی طرف سے ساتویں دن قربانی کیا کرو اسی دن اس کا نام رکھاجائے اور سر کے بال مونڈے جائیں۔
حضرت سمرہ بن جندب (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا وَيَأْخُذْ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مَا رَضِيَ مِنْ الْبَيْعِ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ قَيْسٍ عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ عَبَّادٍ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ قَامَ يَوْمًا خَطِيبًا فَذَكَرَ فِي خُطْبَتِهِ حَدِيثًا قَالَ بَيْنَمَا أَنَا وَغُلَامٌ مِنْ الْأَنْصَارِ نَرْمِي فِي غَرَضَيْنِ لَنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ طَلَعَتْ الشَّمْسُ فَكَانَتْ فِي عَيْنِ النَّاظِرِ قَيْدَ رُمْحَيْنِ وَسَاقَ الْحَدِيثَ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ وَقَالَ ثُمَّ قَبَضَ أَطْرَافَ أَصَابِعِهِ ثُمَّ قَالَ أَوْ قَامَ أَنَا أَشُكُّ مَرَّةً أُخْرَى وَقَدْ حَفِظْتُ مَا قَالَ قَالَ فَمَا قَدَّمَ كَلِمَةً عَنْ مَنْزِلَتِهَا وَلَا أَخَّرَ شَيْئًا وَقَدْ قَالَ أَبُو عَوَانَةَ بَيْنَمَا أَنَا وَغُلَامٌ مِنْ الْأَنْصَارِ وَقَالَ أَيْضًا فَاسْوَدَّتْ حَتَّى آضَتْ وَقَدْ قَالَ أَبُو عَوَانَةَ زُوُولٌ وَلَكِنَّهَا زُوُولٌ أَصَوْبُ حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٌ وَعَبْدُ الْوَاحِدِ بْنِ غِيَاثٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ ثَعْلَبَةَ عَنْ سَمُرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
حضرت سمرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا ہے کہ بائع (بچنے والا) اور مشتری (خریدنے والا اور بیچنے والا) کو اس وقت تک (بیع فسخ کرنے کا) اختیار رہتا ہے جب تک وہ ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوجاتے اور ان میں سے ہر ایک وہ لے سکتا ہے جس پر وہ بیع میں راضی ہو۔ ثعلبہ بن عباد عبدی کہتے ہیں ایک دن میں حضرت سمرہ ؓ کے خطبے میں حاضر ہوا تو انہوں نے نبی ﷺ کے حوالے سے اپنے خطبے میں یہ حدیث ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ایک دن میں اور ایک انصاری لڑکا نبی ﷺ کے دور باسعادت میں نشانہ بازی کررہے تھے جب دیکھنے والوں کی نظر میں سورج دو یا تین نیزوں کے برابر بلند ہوگیا تو وہ اس طرح تاریک ہوگیا جیسے تنومہ گھاس سیاہ ہوتی ہے پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی
حضرت سمرہ بن جندب (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ حَدَّثَنَا مُعَاذٌ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ التَّبَتُّلِ
حضرت سمرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے گوشہ نشینی سے منع فرمایا ہے۔
حضرت سمرہ بن جندب (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كُلُّ غُلَامٍ مُرْتَهَنٌ بِعَقِيقَتِهِ تُذْبَحُ يَوْمَ سَابِعِهِ وَيُحْلَقُ رَأْسُهُ وَيُدَمَّى حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبَانُ الْعَطَّارُ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ وَيُسَمَّى قَالَ هَمَّامٌ فِي حَدِيثِهِ وَرَاجَعْنَاهُ وَيُدَمَّى قَالَ هَمَّامٌ فَكَانَ قَتَادَةُ يَصِفُ الدَّمَ فَيَقُولُ إِذَا ذَبَحَ الْعَقِيقَةَ تُؤْخَذُ صُوفَةٌ فَتُسْتَقْبَلُ أَوْدَاجُ الذَّبِيحَةِ ثُمَّ تُوضَعُ عَلَى يَافُوخِ الصَّبِيِّ حَتَّى إِذَا سَالَ غُسِلَ رَأْسُهُ ثُمَّ حُلِقَ بَعْدُ
حضرت سمرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا ہر لڑکا اپنے عقیقہ کے عوض گروی لکھا ہوا ہے لہذا اس کی طرف سے ساتویں دن قربانی کیا کرو اسی دن اس کا نام رکھا جائے اور سر کے بال مونڈے جائیں۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مراد ہے البتہ اس میں راوی حدیث قتادہ نے جانور ذبح کرنے کی تفصیل اس طرح بیان کی ہے کہ اون یا روئی کا ٹکڑا لے کر ذبح شدہ جانور کی رگوں کے سامنے کھڑا ہو پھر اس بچے کے سر پر رکھ دیا جائے جب وہ خون بہنے لگے تو اس کا سر دھو کر پھر اس کے بال مونڈ دیئے جائیں۔
حضرت سمرہ بن جندب (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ جَارُ الدَّارِ أَحَقُّ بِالدَّارِ مِنْ غَيْرِهِ
حضرت سمرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا گھر کا پڑوسی دوسرے کی نسبت اس گھر کا زیادہ حق دار ہوتا ہے۔
حضرت سمرہ بن جندب (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِقَصْعَةٍ فِيهَا ثَرِيدٌ فَتَعَاقَبُوهَا إِلَى الظُّهْرِ مِنْ غُدْوَةٍ يَقُومُ نَاسٌ وَيَقْعُدُ آخَرُونَ قَالَ لَهُ رَجُلٌ هَلْ كَانَتْ تُمَدُّ قَالَ فَمِنْ أَيِّ شَيْءٍ تَعْجَبُ مَا كَانَتْ تُمَدُّ إِلَّا مِنْ هَاهُنَا وَأَشَارَ إِلَى السَّمَاءِ
حضرت سمرہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر تھے کہ ایک ثرید کا ایک پیالہ لایا گیا نبی ﷺ نے اسے تناول فرمایا اور لوگوں نے بھی اسے کھایا ظہر کے قریب تک اسے لوگ کھاتے رہے کہ ایک قوم آ کر کھاتی وہ کھڑی ہوجاتی تو اس کے بعد دوسری قوم آجاتی اور یہ سلسلہ چلتا رہا کسی آدمی نے پوچھا کہ اس پیالے میں برابر کھانا ڈالا جارہا ہے نبی ﷺ نے فرمایا تمہیں تعجب کس بات پر ہورہا ہے آسمان سے اس میں برکت پیدا کردی گئی ہے۔
حضرت سمرہ بن جندب (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ قَتَلَ عَبْدَهُ قَتَلْنَاهُ وَمَنْ جَدَعَ عَبْدَهُ جَدَعْنَاهُ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ عَنْ أَبِي أُمَيَّةَ شَيْخٍ لَهُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ عَنْ سَمُرَةَ قَالَ وَمَنْ أَخْصَى عَبْدَهُ خَصَيْنَاهُ
حضرت سمرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص اپنے غلام کو قتل کرے گا ہم اسے قتل کریں گے اور جو اپنے غلام کی ناک کاٹے گا ہم اس کی ناک کاٹیں گے۔ حضرت سمرہ ؓ سے مروی ہے کہ جو اپنے غلام کو خصی کرے گا ہم اسے خصی کردیں گے۔
حضرت سمرہ بن جندب (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ وَأَبُو دَاوُدَ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ جَارُ الدَّارِ أَحَقُّ بِالدَّارِ
حضرت سمرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا گھر کا پڑوسی دوسرے کی نسبت اس گھر کا زیادہ حق دار ہوتا ہے۔
حضرت سمرہ بن جندب (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ وَالْحَكَمِ عَنْ مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَسُوا الثِّيَابَ الْبِيضَ فَإِنَّهَا أَطْيَبُ وَأَطْهَرُ وَكَفِّنُوا فِيهَا مَوْتَاكُمْ
حضرت سمرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا سفید کپڑے پہنا کرو کیونکہ عمدہ اور پاکیزہ ہوتے ہیں اور اپنے مردوں کو ان ہی میں دفن کیا کرو۔
حضرت سمرہ بن جندب (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ ثَعْلَبَةَ عَنْ مَكْحُولٍ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَتَعَاطَى أَحَدُكُمْ مِنْ أَسِيرِ أَخِيهِ فَيَقْتُلَهُ
حضرت سمرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کوئی آدمی اپنے بھائی کا قیدی نہ لے کر اس قتل کرے۔
حضرت سمرہ بن جندب (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَأَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عُقْبَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَصَابَ مَتَاعَهُ بِعَيْنِهِ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ وَيَتْبَعُ صَاحِبُهُ مَنْ اشْتَرَاهُ مِنْهُ وَقَالَ يَزِيدُ مَرَّةً مَنْ وَجَدَ مَتَاعَهُ
حضرت سمرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جو شخص بعینہ اپنا سامان کسی شخص کے پاس دیکھے وہ اس کا زیادہ حق دار ہے اور مشتری (خریدنے والا) بائع (بچنے والا) سے اپنی قیمت وصول کرلے گا۔
حضرت سمرہ بن جندب (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ سَوَادَةَ الْقُشَيْرِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَا يَغُرَّنَّكُمْ أَذَانُ بِلَالٍ وَلَا هَذَا الْفَجْرُ الْمُسْتَطِيلُ وَلَكِنْ الْفَجْرُ الْمُسْتَطِيرُ وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ هَكَذَا وَأَشَارَ يَزِيدُ بِيَدِهِ الْيُمْنَى
حضرت سمرہ بن جندب ؓ نے ایک مرتبہ دوران خطبہ فرمایا کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا تمہیں بلال کی اذان اور یہ سفیدی دھوکہ نہ دے یہاں تک کہ طلوع صبح صادق ہوجائے صبح صادق وہ روشنی ہوتی ہے جو افق میں چوڑائی کے اندر پھیلتی ہے۔
حضرت سمرہ بن جندب (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ مَلَكَ ذَا رَحِمٍ مَحْرَمٍ فَهُوَ عَتِيقٌ
حضرت سمرہ ؓ سے مرفوعاً مروی ہے کہ جو شخص اپنے کسی قریبی رشتے دار کا مالک بن جاتا ہے تو وہ رشتہ دار آزاد ہوجاتا ہے۔