حضرت عمران بن حصین (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ قَالَ سَمِعْتُ رَجُلًا مِنْ بَنِي لَيْثٍ قَالَ أَشْهَدُ عَلَى عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ شُعْبَةُ أَوْ قَالَ عِمْرَانُ أَشْهَدُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى عَنْ الْحَنَاتِمِ أَوْ قَالَ الْحَنْتَمِ وَخَاتَمِ الذَّهَبِ وَالْحَرِيرِ
حضرت عمران بن حصین ؓ سے مروی ہے کہ میں شہادت دیتا ہوں کہ نبی ﷺ نے حنتم، سونے کی انگوٹھی اور ریشم سے منع فرمایا ہے۔
حضرت عمران بن حصین (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ ابْنِ أَخِي مُطَرِّفِ بْنِ الشِّخِّيرِ قَالَ سَمِعْتُ مُطَرِّفًا يُحَدِّثُ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ هَلْ صُمْتَ مِنْ سُرَرِ هَذَا الشَّهْرِ شَيْئًا يَعْنِي شَعْبَانَ فَقَالَ لَا قَالَ فَقَالَ لَهُ إِذَا أَفْطَرْتَ رَمَضَانَ فَصُمْ يَوْمًا أَوْ يَوْمَيْنِ شَكَّ الَّذِي شَكَّ فِيهِ قَالَ وَأَظُنُّهُ قَالَ يَوْمَيْنِ
حضرت عمران بن حصین ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے کسی سے پوچھا کیا تم نے شعبان کے اس مہینے کے آخر میں کوئی روزہ رکھا ہے؟ اس نے کہا نہیں، نبی ﷺ نے فرمایا جب رمضان کے روزے ختم ہوجائیں تو ایک دو دن کے روزے رکھ لینا۔
حضرت عمران بن حصین (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ وَعَبْدُ الْوَهَّابِ عَنِ صَاحِبٍ لَهُ عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ الشِّخِّيرِ أَنَّهُ قَالَ كُنْتُ مَعَ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ بِالْكُوفَةِ فَصَلَّى بِنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَجَعَلَ يُكَبِّرُ كُلَّمَا سَجَدَ وَكُلَّمَا رَفَعَ رَأْسَهُ فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ عِمْرَانُ صَلَّى بِنَا هَذَا مِثْلَ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
مطرف بن شخیر کہتے ہیں کہ میں کوفہ میں حضرت عمران بن حصین ؓ کے ساتھ تھا، تو حضرت علی ؓ نے ہمیں نماز پڑھائی، وہ سجدے میں جاتے اور سر اٹھاتے وقت ہر مرتبہ اللہ اکبر کہتے رہے، جب نماز سے فراغت ہوئی تو حضرت عمران ؓ نے فرمایا انہوں نے ہمیں نبی ﷺ جیسی نماز پڑھائی ہے۔
حضرت عمران بن حصین (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ بَعَثَ إِلَيَّ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ فِي مَرَضِهِ فَأَتَيْتُهُ فَقَالَ لِي إِنِّي كُنْتُ أُحَدِّثُكَ بِأَحَادِيثَ لَعَلَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَنْفَعُكَ بِهَا بَعْدِي وَاعْلَمْ أَنَّهُ كَانَ يُسَلِّمُ عَلَيَّ فَإِنْ عِشْتُ فَاكْتُمْ عَلَيَّ وَإِنْ مِتُّ فَحَدِّثْ إِنْ شِئْتَ وَاعْلَمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ جَمَعَ بَيْنَ حَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ ثُمَّ لَمْ يَنْزِلْ فِيهَا كِتَابٌ وَلَمْ يَنْهَ عَنْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَجُلٌ فِيهَا بِرَأْيِهِ مَا شَاءَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ مُطَرِّفٍ قَالَ قَالَ لِي عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ فَذَكَرَ مِثْلَهُ وَقَالَ لَا تُحَدِّثْ بِهِمَا حَتَّى أَمُوتَ
مطرف بن عبداللہ کہتے ہیں کہ حضرت عمران بن حصین ؓ نے اپنے مرض الوفات میں مجھے بلا بھیجا، میں حاضر ہوا تو فرمایا میں تم سے بہت سی احادیث بیان کرتا رہا ہوں جن سے ہوسکتا ہے کہ میرے بعد اللہ تمہیں فائدہ پہنچائے اور یہ بات بھی اپنی معلومات میں شامل کرلو کہ نبی ﷺ مجھے سلام کرتے تھے، جب تک میں زندہ رہوں، اسے مخفی رکھنا اور جب مرجاؤں تو اگر تمہارا دل چاہے تو بیان کردینا۔
حضرت عمران بن حصین (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَابْنُ نُمَيْرٍ قَالَا ثَنَا سَعِيدٌ وَيَزِيدُ أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّ رَجُلًا عَضَّ رَجُلًا عَلَى ذِرَاعِهِ قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ فَنَزَعَ يَدَهُ مِنْهُ فَسَقَطَتْ ثَنِيَّتَاهُ فَجَذَبَهَا فَانْتَزَعَتْ ثَنِيَّتَهُ فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَبْطَلَهَا وَقَالَ أَرَدْتَ أَنْ تَقْضَمَ لَحْمَ أَخِيكَ كَمَا يَقْضَمُ الْفَحْلُ
اور یاد رکھو! نبی ﷺ نے حج اور عمرے کو ایک سفر میں جمع کیا تھا، پھر وصال تک اس سے منع نہیں فرمایا: اور نہ ہی اس حوالے سے اس کی حرمت کا قرآن میں کوئی حکم نازل ہوا، اب جو آدمی اس کے متعلق کچھ کہتا ہے وہ اپنی رائے سے کہتا ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حضرت عمران بن حصین (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ أَنَّ هَيَّاجَ بْنَ عِمْرَانَ أَتَى عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ فَقَالَ إِنَّ أَبِي قَدْ نَذَرَ لَئِنْ قَدَرَ عَلَى غُلَامِهِ لَيَقْطَعَنَّ مِنْهُ طَابِقًا أَوْ لَيَقْطَعَنَّ يَدَهُ فَقَالَ قُلْ لِأَبِيكَ يُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ وَلَا يَقْطَعْ مِنْهُ طَابِقًا فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَحُثُّ فِي خُطْبَتِهِ عَلَى الصَّدَقَةِ وَيَنْهَى عَنْ الْمُثْلَةِ ثُمَّ أَتَى سَمُرَةَ بْنَ جُنْدُبٍ فَقَالَ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ
حضرت عمران بن حصین ؓ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے دوسرے کا ہاتھ کاٹ لیا، اس نے اپنا ہاتھ جو کھینچا تو کاٹنے والے کے اگلے دانت ٹوٹ کر گرپڑے، وہ دونوں یہ جھگڑا لے کر نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو نبی ﷺ نے اسے باطل قرار دے کر فرمایا تم میں سے ایک آدمی اپنے بھائی کو اس طرح کاٹتا ہے جیسے سانڈ۔ ہیاج بن عمران ایک مرتبہ عمران ؓ کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ میرے والد نے یہ منت مانی ہے کہ اگر میرا غلام میرے قابو میں آگیا تو میں اس کے جسم کا کوئی عضو کاٹ کر رہوں گا، انہوں نے فرمایا اپنے والد سے جا کر کہو کہ وہ اپنی قسم کا کفارہ دے دے اور اس کے جسم کا کوئی عضو نہ کاٹے کیونکہ نبی ﷺ اپنے خطاب میں صدقہ کی ترغیب دیتے اور مثلہ کرنے سے منع فرماتے تھے، پھر وہ سمرہ بن جندب ؓ کے پاس گئے تو انہوں نے بھی یہی فرمایا۔
حضرت عمران بن حصین (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ أَعْتَقَ رُءُوسًا سِتَّةً عِنْدَ مَوْتِهِ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُمْ فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَغْلَظَ لَهُ فَدَعَا بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَقْرَعَ بَيْنَهُمْ فَأَعْتَقَ اثْنَيْنِ وَرَدَّ أَرْبَعَةً فِي الرِّقِّ
حضرت عمران بن حصین ؓ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے مرتے وقت اپنے چھ غلام آزاد کر دئیے، جن کے علاوہ اس کے پاس کوئی مال بھی نہ تھا، نبی ﷺ نے ان غلاموں کو بلایا اور انہیں تین حصوں میں تقسیم کرکے ان کے درمیان قرعہ اندازی کی، پھر جن دو کا نام نکل آیا انہیں آزاد کردیا اور باقی چار کو غلام ہی رہنے دیا اور مرنے والے کے متعلق سخت الفاظ استعمال کئے۔
حضرت عمران بن حصین (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا بَهْزٌ وَعَفَّانُ الْمَعْنَى قَالَا ثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ قَالَ عَفَّانُ إِنَّ الْحَسَنَ حَدَّثَهُمْ عَنْ هَيَّاجِ بْنِ عِمْرَانَ الْبُرْجُمِيِّ أَنَّ غُلَامًا لِأَبِيهِ أَبَقَ فَجَعَلَ لِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَلَيْهِ إِنْ قَدَرَ عَلَيْهِ أَنْ يَقْطَعَ يَدَهُ قَالَ فَقَدَرَ عَلَيْهِ قَالَ فَبَعَثَنِي إِلَى عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ فَقَالَ أَقْرِئْ أَبَاكَ السَّلَامَ وَأَخْبِرْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَحُثُّ فِي خُطْبَتِهِ عَلَى الصَّدَقَةِ وَيَنْهَى عَنْ الْمُثْلَةِ فَلْيُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ وَيَتَجَاوَزْ عَنْ غُلَامِهِ قَالَ وَبَعَثَنِي إِلَى سَمُرَةَ فَقَالَ أَقْرِئْ أَبَاكَ السَّلَامَ وَأَخْبِرْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَحُثُّ فِي خُطْبَتِهِ عَلَى الصَّدَقَةِ وَيَنْهَى عَنْ الْمُثْلَةِ فَلْيُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ وَيَتَجَاوَزْ عَنْ غُلَامِهِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ هَيَّاجٍ ذَكَرَ مَعْنَاهُ
ہیاج بن عمران کہتے ہیں کہ ان کے والد کا غلام فرار ہوگیا، انہوں نے اللہ کے نام پر یہ منت مان لی کہ اگر انہیں اس پر قدرت مل گئی تو وہ اس کا ہاتھ کاٹ دیں گے، بعد میں وہ غلام ان کے قابو میں آگیا چناچہ انہوں نے مجھے حضرت عمران بن حصین ؓ کے پاس یہ مسئلہ پوچھنے کے لئے بھیج دیا، انہوں نے فرمایا اپنے والد سے جا کر میرا سلام اور یوں کہو کہ وہ اپنی قسم کا کفارہ دے دے اور اس کے جسم کا کوئی عضو نہ کاٹے کیونکہ نبی ﷺ اپنے خطاب میں صدقہ کی ترغیب دیتے اور مثلہ کرنے سے منع فرماتے تھے، پھر انہوں نے مجھے حضرت سمرہ بن جندب ؓ کے پاس بھیجا تو انہوں نے بھی یہی فرمایا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حضرت عمران بن حصین (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّ رَجُلًا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ ابْنِي مَاتَ فَمَا لِي مِنْ مِيرَاثِهِ قَالَ لَكَ السُّدُسُ قَالَ فَلَمَّا أَدْبَرَ دَعَاهُ قَالَ لَكَ آخَرُ فَلَمَّا أَدْبَرَ دَعَاهُ قَالَ إِنَّ السُّدُسَ الْآخَرَ طُعْمَةٌ
حضرت عمران بن حصین ؓ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ میرا پوتا فوت ہوگیا ہے، اس کی وراثت میں سے مجھے کیا ملے گا؟ نبی ﷺ نے فرمایا تمہیں چھٹا حصہ ملے گا، جب وہ واپس جانے لگا تو نبی ﷺ نے اسے بلا کر فرمایا تمہیں ایک چھٹا حصہ اور بھی ملے گا، جب وہ دوبارہ واپس جانے لگا تو نبی ﷺ نے اسے بلا کر فرمایا یہ دوسرا چھٹا حصہ تمہارے لئے ایک زائد لقمہ ہے۔
حضرت عمران بن حصین (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَوْ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّهُ قَالَ أَشْهَدُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَانَا عَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ وَعَنْ الشُّرْبِ فِي الْحَنَاتِمِ
حضرت عمران بن حصین ؓ سے مروی ہے کہ میں شہادت دیتا ہوں کہ نبی ﷺ نے حنتم میں پینے اور ریشم پہننے سے منع فرمایا ہے۔
حضرت عمران بن حصین (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا بَهْزٌ وَحَدَّثَنَا عَفَّانُ الْمَعْنَى قَالَا ثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ مُطَرِّفٍ قَالَ قَالَ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ تَمَتَّعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُنْزِلَ فِيهَا الْقُرْآنُ قَالَ عَفَّانُ وَنَزَلَ فِيهِ الْقُرْآنُ فَمَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَنْهَ عَنْهَا وَلَمْ يَنْسَخْهَا شَيْءٌ قَالَ رَجُلٌ بِرَأْيِهِ مَا شَاءَ
اور یاد رکھو! نبی ﷺ نے حج اور عمرے کو ایک سفر میں جمع کیا تھا، پھر وصال تک اس سے منع نہیں فرمایا: اور نہ ہی اس حوالے سے اس کی حرمت کا قرآن میں کوئی حکم نازل ہوا، اب جو آدمی اس کے متعلق کچھ کہتا ہے وہ اپنی رائے سے کہتا ہے۔
حضرت عمران بن حصین (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي عَلَى الْحَقِّ ظَاهِرِينَ عَلَى مَنْ نَاوَأَهُمْ حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَيَنْزِلَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَام
حضرت عمران بن حصین ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا مری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر قائم رہے گا اور اپنے مخالفین پر غالب رہے گا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا حکم آجائے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نازل ہوجائیں۔
حضرت عمران بن حصین (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا عَوْفٌ عَنْ أَبِي رَجَاءٍ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اطَّلَعْتُ فِي النَّارِ فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَاءَ وَاطَّلَعْتُ فِي الْجَنَّةِ فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا الْفُقَرَاءَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ زَرِيرٍ حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اطَّلَعْتُ فَذَكَرَ مِثْلَهُ حَدَّثَنَا الْخَفَّافُ أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ عَنْ أَبِي رَجَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ
حضرت عمران بن حصین ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا میں نے جہنم میں جھانک کر دیکھا تو وہاں اکثریت خواتین کی نظر آئی اور جنت میں جھانک کر دیکھا تو اکثریت فقراء کی نظر آئی۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حضرت عمران بن حصین (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي قَزَعَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا جَلَبَ وَلَا جَنَبَ وَلَا شِغَارَ
حضرت عمران بن حصین ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا زکوٰۃ میں اچھے جانور وصول کرنا، یا زکوٰۃ کی ادائیگی سے (حیلے بہانوں سے) بچنا اور جانوروں کو نیزوں سے زخمی کرنے کی کوئی اصلیت نہیں ہے۔
حضرت عمران بن حصین (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا مَنْصُورٌ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ الْمُسْلِمِينَ أَسَرَهَا الْعَدُوُّ وَقَدْ كَانُوا أَصَابُوا قَبْلَ ذَلِكَ نَاقَةً لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَرَأَتْ مِنْ الْقَوْمِ غَفْلَةً قَالَ فَرَكِبَتْ نَاقَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ جَعَلَتْ عَلَيْهَا أَنْ تَنْحَرَهَا قَالَ فَقَدِمَتْ الْمَدِينَةَ فَأَرَادَتْ أَنْ تَنْحَرَ نَاقَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمُنِعَتْ مِنْ ذَلِكَ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ بِئْسَمَا جَزَيْتِيهَا قَالَ ثُمَّ قَالَ لَا نَذْرَ لِابْنِ آدَمَ فِيمَا لَا يَمْلِكُ وَلَا فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى
حضرت عمران بن حصین ؓ سے مروی ہے کہ ایک مسلمان عورت کو دشمن نے قید کرلیا، قبل ازیں ان لوگوں نے نبی ﷺ کی اونٹنی بھی چرا لی تھی، ایک دن اس عورت نے لوگوں کو غافل دیکھا تو چپکے سے نبی ﷺ کی اونٹنی پر سوار ہوئی اور یہ منت مان لی کہ اگر صحیح سلامت مدینہ پہنچ گئی تو اسی اونٹنی کو ذبح کر دے گی، بہرحال! وہ مدینہ منورہ پہنچ گئی اور نبی ﷺ کی اونٹنی کو ذبح کرنا چاہا لیکن لوگوں نے اسے اس سے منع کیا اور نبی ﷺ سے اس کا تذکرہ کردیا، نبی ﷺ نے فرمایا تم نے اسے برا بدلہ دیا، پھر فرمایا ابن آدم جس چیز کا مالک نہ ہو، اس میں نذر نہیں ہوئی اور نہ ہی اللہ کی معصیت میں منت ہوتی ہے۔
حضرت عمران بن حصین (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُثَنَّي حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ رُسْتُمَ أَبُو عَامِرٍ الْخَزَّازُ حَدَّثَنِي كَثِيرُ بْنُ شِنْظِيرٍ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ مَا قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطِيبًا إِلَّا أَمَرَنَا بِالصَّدَقَةِ وَنَهَانَا عَنْ الْمُثْلَةِ قَالَ وَقَالَ أَلَا وَإِنَّ مِنْ الْمُثْلَةِ أَنْ يَنْذُرَ الرَّجُلُ أَنْ يَخْرِمَ أَنْفَهُ أَلَا وَإِنَّ مِنْ الْمُثْلَةِ أَنْ يَنْذُرَ الرَّجُلُ أَنْ يَحُجَّ مَاشِيًا فَلْيُهْدِ هَدْيًا وَلْيَرْكَبْ
حضرت عمران بن حصین ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ ہمیشہ اپنے خطاب میں صدقہ کی ترغیب دیتے اور مثلہ کرنے سے منع فرماتے تھے، یاد رکھو! مثلہ کرنے میں یہ چیز بھی شامل ہے کہ انسان کسی کی ناک کاٹنے کی منت مانے اور یہ بھی کہ انسان پیدل حج کرنے کی منت مانے، ایسے آدمی کو چاہیے کہ ہدی کا جانور ساتھ لے کر جائے اور اس پر سوار ہوجائے۔
حضرت عمران بن حصین (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ حُمَيْدٍ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ مَا خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُطْبَةً إِلَّا أَمَرَنَا بِالصَّدَقَةِ وَنَهَانَا عَنْ الْمُثْلَةِ
حضرت عمران بن حصین ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ ہمیشہ اپنے خطاب میں ہمیں صدقہ کی ترغیب دیتے اور مثلہ کرنے سے منع فرماتے تھے۔
حضرت عمران بن حصین (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ لَعَنَتِ امْرَأَةٌ نَاقَةً لَهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهَا مَلْعُونَةٌ فَخَلُّوا عَنْهَا قَالَ فَلَقَدْ رَأَيْتُهَا تَتْبَعُ الْمَنَازِلَ مَا يَعْرِضُ لَهَا أَحَدٌ نَاقَةٌ وَرْقَاءُ
حضرت عمران بن حصین ؓ سے مروی ہے کہ ایک عورت نے اپنی اونٹنی پر لعنت بھیجی، نبی ﷺ نے فرمایا یہ اونٹنی ملعون ہوگئی ہے اس لئے اسے چھوڑ دو، میں نے اس اونٹنی کو منزلیں طے کرتے ہوئے دیکھا لیکن اسے کوئی ہاتھ نہ لگاتا تھا۔
حضرت عمران بن حصین (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ قَتَادَةَ وَغَيْرِ وَاحِدٍ عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ قَالَ صَلَّيْتُ أَنَا وَعِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ بِالْكُوفَةِ خَلْفَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ فَكَبَّرَ بِنَا هَذَا التَّكْبِيرَ حِينَ يَرْكَعُ وَحِينَ يَسْجُدُ فَكَبَّرَهُ كُلَّهُ فَلَمَّا انْصَرَفْنَا قَالَ لِي عِمْرَانُ مَا صَلَّيْتُ مُنْذُ حِينٍ أَوْ قَالَ مُنْذُ كَذَا وَكَذَا أَشْبَهَ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ هَذِهِ الصَّلَاةِ يَعْنِي صَلَاةَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
مطرف بن شخیر کہتے ہیں کہ میں کوفہ میں حضرت عمران بن حصین ؓ کے ساتھ تھا، تو حضرت علی ؓ نے ہمیں نماز پڑھائی، وہ سجدے میں جاتے اور سر اٹھاتے وقت ہر مرتبہ اللہ اکبر کہتے رہے، جب نماز سے فراغت ہوئی تو حضرت عمران ؓ نے فرمایا میں نے کافی عرصے سے اس نماز سے زیادہ نبی ﷺ کی نماز سے مشابہہ کوئی نماز نہیں پڑھی۔
حضرت عمران بن حصین (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ جُهَيْنَةَ اعْتَرَفَتْ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِزِنًا وَقَالَتْ أَنَا حُبْلَى فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِيَّهَا فَقَالَ أَحْسِنْ إِلَيْهَا فَإِذَا وَضَعَتْ فَأَخْبِرْنِي فَفَعَلَ فَأَمَرَ بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشُكَّتْ عَلَيْهَا ثِيَابُهَا ثُمَّ أَمَرَ بِرَجْمِهَا فَرُجِمَتْ ثُمَّ صَلَّى عَلَيْهَا فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَا رَسُولَ اللَّهِ رَجَمْتَهَا ثُمَّ تُصَلِّي عَلَيْهَا فَقَالَ لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَةً لَوْ قُسِمَتْ بَيْنَ سَبْعِينَ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ لَوَسِعَتْهُمْ وَهَلْ وَجَدْتَ شَيْئًا أَفْضَلَ مِنْ أَنْ جَادَتْ بِنَفْسِهَا لِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى
حضرت عمران بن حصین ؓ سے مروی ہے کہ قبیلہ جہینہ کی ایک عورت نے نبی ﷺ کے سامنے بدکاری کا اعتراف کرلیا اور کہنے لگی کہ میں امید سے ہوں، نبی ﷺ نے اس کے سرپرست کو بلا کر اس سے فرمایا کہ اس کے ساتھ اچھا سلوک کرنا اور جب یہ بچے کو جنم دے چکے تو مجھے بتانا، اس نے ایسا ہی کیا، پھر نبی ﷺ کے حکم پر اس عورت کے جسم پر اچھی طرح کپڑے باندھ دیئے گئے اور نبی ﷺ کے حکم پر اسے رجم کردیا گیا، پھر نبی ﷺ نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی، یہ دیکھ کر حضرت عمر ؓ کہنے لگے یا رسول اللہ! آپ نے اسے رجم بھی کیا اور اس کی نماز جنازہ بھی پڑھا رہے ہیں؟ نبی ﷺ نے فرمایا اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر وہ ستر اہل مدینہ پر تقسیم کردی جائے تو ان کے لئے بھی کافی ہوجائے اور تم نے اس سے افضل بھی کوئی چیز دیکھی ہے کہ اس نے اپنی جان کو اللہ کے لئے قربان کردیا؟