حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات

Musnad Imam Ahmad · Chapter 712 · 261 hadiths · Page 9 of 14

18830Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَن أَبِي إِسْحَاقَ عَن أَبِي بُرْدَةَ عَن أَبِيهِ رَفَعَهُ قَالَ تُسْتَأْمَرُ الْيَتِيمَةُ فِي نَفْسِهَا فَإِنْ سَكَتَتْ فَقَدْ أَذِنَتْ وَإِنْ أَبَتْ فَلَا تُزَوَّجْ

حضرت ابوموسیٰ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا بالغ لڑکی سے اس کے نکاح کی اجازت لی جائے گی، اگر وہ خاموش رہے تو گویا اس نے اجازت دے دی اور اگر وہ انکار کردے تو اسے اس رشتے پر مجبور نہ کیا جائے۔

18831Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ حَدَّثَنَا رَبِيعٌ يَعْنِي أَبَا سَعِيدٍ النَّصْرِيَّ عَن مُعَاوِيَةَ بْنِ إِسْحَاقَ عَن أَبِي بُرْدَةَ قَالَ أَبُو بُرْدَةَ حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ هَذِهِ الْأُمَّةَ مَرْحُومَةٌ جَعَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَذَابَهَا بَيْنَهَا فَإِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ دُفِعَ إِلَى كُلِّ امْرِئٍ مِنْهُمْ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْأَدْيَانِ فَقَالَ هَذَا يَكُونُ فِدَاءَكَ مِنْ النَّارِ

حضرت ابوموسیٰ ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ یہ امت، امت مرحومہ ہے اللہ نے اس کا عذاب ان کے درمیان ہی رکھ دیا ہے، جب قیامت کا دن آئے گا تو ان میں سے ہر ایک کو دوسرے ادیان و مذاہب کا ایک ایک آدمی دے کر کہا جائے گا کہ یہ شخص جہنم سے بچاؤ کا تمہارے لئے فدیہ ہے

18832Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَوْدِيُّ عَن حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيِّ أَنَّ رَجُلًا يُقَالُ لَهُ حَمَمَةُ كَانَ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى أَصْبَهَانَ غَازِيًا فِي خِلَافَةِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ فَقَالَ اللَّهُمَّ إِنَّ حَمَمَةَ يَزْعُمُ أَنَّهُ يُحِبُّ لِقَاءَكَ فَإِنْ كَانَ حَمَمَةُ صَادِقًا فَاعْزِمْ لَهُ صِدْقَهُ وَإِنْ كَانَ كَاذِبًا فَاعْزِمْ عَلَيْهِ وَإِنْ كَرِهَ اللَّهُمَّ لَا تَرُدَّ حَمَمَةَ مِنْ سَفَرِهِ هَذَا قَالَ فَأَخَذَهُ الْمَوْتُ وَقَالَ عَفَّانُ مَرَّةً الْبَطْنُ فَمَاتَ بأَصْبَهَانَ قَالَ فَقَامَ أَبُو مُوسَى فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا وَاللَّهِ مَا سَمِعْنَا فِيمَا سَمِعْنَا مِنْ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا بَلَغَ عِلْمَنَا إِلَّا أَنَّ حَمَمَةَ شَهِيدٌ

حمید بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ ایک آدمی تھا جس کا نام " حممہ " تھا وہ نبی کریم ﷺ کے صحابہ ؓ میں سے تھا وہ حضرت عمر فاروق ؓ کے دور خلافت میں جہاد کے لئے اصفہان کی طرف روانہ ہوا اور یہ دعاء کی کہ اے اللہ! حممہ کا یہ خیال ہے کہ وہ تجھ سے ملنے کو پسند کرتا ہے اگر حممہ سچا ہے تو اس کی سچائی اور عزم کو پورا فرما اور اگر وہ جھوٹا ہے تو اسے اس کا عزم عطاء فرما اگرچہ اسے ناپسند ہی ہو اے اللہ! حممہ کو اس سفر سے واپس نہ لوٹا، چناچہ اسے موت نے آلیا اور وہ اصفہان میں ہی فوت ہوگیا حضرت ابوموسیٰ ؓ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے لوگو! ہم نے تمہارے نبی کریم ﷺ سے جو کچھ سنا اور جہاں تک ہمارا علم پہنچتا ہے وہ یہی ہے کہ حممہ شہید ہوا ہے۔

18833Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ عَن أَبِي كَبْشَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا مُوسَى يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثَلُ الْجَلِيسِ الصَّالِحِ كَمَثَلِ الْعَطَّارِ إِنْ لَا يُحْذِيكَ يَعْبَقُ بِكَ مِنْ رِيحِهِ وَمَثَلُ الْجَلِيسِ السَّوْءِ كَمَثَلِ صَاحِبِ الْكِيرِ

حضرت ابوموسیٰ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اچھے ہم نشین کی مثال عطار کی سی ہے کہ اگر وہ اپنے عطر کی شیشی تمہارے قریب بھی نہ لائے تو اس کی مہک تم تک پہنچے گی اور برے ہم نشین کی مثال بھٹی کی سی ہے کہ اگر وہ تمہیں نہ بھی جلائے تب بھی اس کی گرمی اور شعلے تو تم تک پہنچیں گے۔

18834Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات

قَالَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا سُمِّيَ الْقَلْبُ مِنْ تَقَلُّبِهِ إِنَّمَا مَثَلُ الْقَلْبِ كَمَثَلِ رِيشَةٍ مُعَلَّقَةٍ فِي أَصْلِ شَجَرَةٍ يُقَلِّبُهَا الرِّيحُ ظَهْرًا لِبَطْنٍ

اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا قلب کو قلب اس لئے کہتے ہیں کہ وہ پلٹتا رہتا ہے اور دل کی مثال تو اس پر کی سی ہے جو کسی درخت کی جڑ میں پڑا ہو اور ہوا اسے الٹ پلٹ کرتی رہتی ہو۔

18835Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات

قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ بَيْنَ أَيْدِيكُمْ فِتَنًا كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ يُصْبِحُ الرَّجُلُ فِيهَا مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا وَيُمْسِي مُؤْمِنًا وَيُصْبِحُ كَافِرًا الْقَاعِدُ فِيهَا خَيْرٌ مِنْ الْقَائِمِ وَالْقَائِمُ فِيهَا خَيْرٌ مِنْ الْمَاشِي وَالْمَاشِي فِيهَا خَيْرٌ مِنْ السَّاعِي قَالُوا فَمَا تَأْمُرُنَا قَالَ كُونُوا أَحْلَاسَ بُيُوتِكُمْ

اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا تمہارے آگے تاریک رات کے حصوں کی طرح فتنے آرہے ہیں اس زمانے میں ایک آدمی صبح کو مسلمان اور شام کو کافر ہوگا یا شام کو مسلمان اور صبح کو کافر ہوگا، اس زمانے میں بیٹھا ہوا شخص کھڑے ہوئے سے، کھڑا ہوا چلنے والے سے اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہوگا صحابہ کرام ؓ نے پوچھا پھر آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اپنے گھر کا ٹاٹ بن جانا۔

18836Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ عَن عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَرْوَانَ عَن الْهُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ عَن أَبِي مُوسَى عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَسِّرُوا قِسِيَّكُمْ وَقَطِّعُوا أَوْتَارَكُمْ يَعْنِي فِي الْفِتْنَةِ وَالْزَمُوا أَجْوَافَ الْبُيُوتِ وَكُونُوا فِيهَا كَالْخَيِّرِ مِنْ بَنِي آدَمَ

حضرت ابوموسیٰ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا فتنوں کے زمانے میں اپنی کمانیں توڑ دینا تانتیں کاٹ دینا اپنے گھروں کے ساتھ چمٹ جانا اور حضرت آدم کے بہترین بیٹے (ہابیل) کی طرح ہوجانا۔

18837Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَن قَتَادَةَ عَن أَنَسٍ عَن أَبِي مُوسَى عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ مَثَلُ الْأُتْرُجَّةِ طَعْمُهَا طَيِّبٌ وَرِيحُهَا طَيِّبٌ وَمَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ مَثَلُ التَّمْرَةِ طَعْمُهَا طَيِّبٌ وَلَا رِيحَ لَهَا وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الرَّيْحَانَةِ طَيِّبٌ رِيحُهَا وَلَا طَعْمَ لَهَا وَقَالَ يَحْيَى مَرَّةً طَعْمُهَا مُرٌّ وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ مَثَلُ الْحَنْظَلَةِ لَا رِيحَ لَهَا وَطَعْمُهَا خَبِيثٌ

حضرت ابوموسیٰ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اس مسلمان کی مثال جو قرآن کریم پڑھتا ہے اترج کی سی ہے جس کا ذائقہ بھی عمدہ ہوتا ہے اور اس کی مہک بھی عمدہ ہوتی ہے، اس مسلمان کی مثال جو قرآن نہیں پڑھتا کھجور کی سی ہے جس کا ذائقہ تو عمدہ ہوتا ہے لیکن اس کی مہک نہیں ہوتی، اس گنہگار کی مثال جو قرآن پڑھتا ہے ریحان کی سی ہے جس کا ذائقہ تو کڑوا ہوتا ہے لیکن مہک عمدہ ہوتی ہے۔ اور اس فاجر کی مثال جو قرآن نہیں پڑھتا اندرائن کی سی ہے جس کا ذائقہ بھی کڑوا ہوتا ہے اور اس کی مہک بھی نہیں ہوتی۔

18838Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ قَالَ ثَنَا قَتَادَةُ عَن يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ عَن حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيِّ أَنَّ الْأَشْعَرِيَّ صَلَّى بِأَصْحَابِهِ صَلَاةً فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ حِينَ جَلَسَ فِي صَلَاتِهِ أَقَرَّتْ الصَّلَاةُ بِالْبِرِّ وَالزَّكَاةِ فَلَمَّا قَضَى الْأَشْعَرِيُّ صَلَاتَهُ أَقْبَلَ عَلَى الْقَوْمِ فَقَالَ أَيُّكُمْ الْقَائِلُ كَلِمَةَ كَذَا وَكَذَا فَأَرَمَّ الْقَوْمُ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ قَالَ أَبِي أَرَمَّ السُّكُوتُ قَالَ لَعَلَّكَ يَا حِطَّانُ قُلْتَهَا لِحِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ وَاللَّهِ إِنْ قُلْتُهَا وَلَقَدْ رَهِبْتُ أَنْ تَبْعَكَنِي بِهَا قَالَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ أَنَا قُلْتُهَا وَمَا أَرَدْتُ بِهَا إِلَّا الْخَيْرَ فَقَالَ الْأَشْعَرِيُّ أَلَا تَعْلَمُونَ مَا تَقُولُونَ فِي صَلَاتِكُمْ فَإِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَنَا فَعَلَّمَنَا سُنَّتَنَا وَبَيَّنَ لَنَا صَلَاتَنَا فَقَالَ أَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ ثُمَّ لِيَؤُمَّكُمْ أَقْرَؤُكُمْ فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا وَإِذَا قَالَ وَلَا الضَّالِّينَ فَقُولُوا آمِينَ يُجِبْكُمْ اللَّهُ ثُمَّ إِذَا كَبَّرَ الْإِمَامُ وَرَكَعَ فَكَبِّرُوا وَارْكَعُوا فَإِنَّ الْإِمَامَ يَرْكَعُ قَبْلَكُمْ وَيَرْفَعُ قَبْلَكُمْ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتِلْكَ بِتِلْكَ فَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ يَسْمَعْ اللَّهُ لَكُمْ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ وَإِذَا كَبَّرَ الْإِمَامُ وَسَجَدَ فَكَبِّرُوا وَاسْجُدُوا فَإِنَّ الْإِمَامَ يَسْجُدُ قَبْلَكُمْ وَيَرْفَعُ قَبْلَكُمْ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتِلْكَ بِتِلْكَ فَإِذَا كَانَ عِنْدَ الْقَعْدَةِ فَلْيَكُنْ مِنْ أَوَّلِ قَوْلِ أَحَدِكُمْ أَنْ يَقُولَ التَّحِيَّاتُ الطَّيِّبَاتُ الصَّلَوَاتُ لِلَّهِ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ

حطان بن عبداللہ کہتے کہ ایک مرتبہ حضرت ابوموسیٰ ؓ نے اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھائی، دوران نماز جب " جلسے " میں بیٹھے تو ایک کہنے لگا کہ نماز کو نیکی اور زکوٰۃ سے قرار دیا گیا ہے نماز سے فارغ ہو کر حضرت ابوموسیٰ ؓ نے لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر پوچھا کہ تم میں سے کس نے یہ کلمہ کہا ہے؟ لوگ خاموش رہے انہوں نے حطان سے کہا کہ حطان! شاید تم نے یہ جملہ کہا ہے؟ حطان نے کہا کہ اللہ کی قسم! میں نے یہ جملہ نہیں کہا اور میں اسی سے ڈررہا تھا کہ کہیں آپ مجھے بیوقوف نہ قرار دے دیں، پھر ایک آدمی بولا کہ میں نے ہی جملہ کہا ہے اور صرف خیرہی کی نیت سے کہا ہے۔ حضرت ابوموسیٰ ؓ نے فرمایا کیا تم نہیں جانتے کہ نماز میں کیا پڑھنا چاہئے؟ نبی کریم ﷺ نے تو ہمیں ایک مرتبہ خطبہ دیا تھا اور اس میں ہمارے سامنے سنتیں اور نماز کا طریقہ واضح کردیا تھا اور فرمایا تھا صفیں سیدھی رکھا کرو پھر جو زیادہ قرآن پڑھا ہوا ہو وہ امام کرائے جب وہ تکبیر کہیں تو تم بھی تکبیر کہو، جب وہ ولا الضالین کہے تو تم آمین کہو، اللہ تمہاری پکار کو قبول کرے گا جب وہ تکبیر کہہ کر رکوع میں جائے تو تم بھی تکبیر کہہ کر رکوع کرو کیونکہ امام تم سے پہلے رکوع کرے گا اور تم سے پہلے سر اٹھائے گا یہ تو برابر برابر ہوگیا۔ جب وہ سمع اللہ لمن حمدہ کہے تو تم ربنالک الحمد کہو اللہ تمہاری پکار کیونکہ اللہ نے اپنے نبی ﷺ کی زبانی یہ فرمایا ہے کہ جو اللہ کی تعریف کرتا ہے اللہ اس کی سن لیتا ہے جب وہ تکبیر کہہ کر سجدے میں جائے تو تم بھی تکبیر کہہ کر سجدہ کرو کیونکہ امام تم سے پہلے سجدہ کرے گا اور سر اٹھائے گا اور یہ بھی برابر برابر ہوگیا۔ جب وہ قعدے میں بیٹھے تو سب سے پہلے تمہیں یوں کہنا چاہئے التحیات الطیبات الصلوات للہ السلام علیک ایہا النبی ورحمتہ اللہ وبرکاتہ السلام علینا وعلی عباد اللہ الصالحین اشہدان لا الہ الا اللہ واشہدان محمدا عبدہ ورسولہ۔

18839Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ حَدَّثَنَا أَبُو بُرْدَةَ قَالَ قَالَ أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ أَقْبَلْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعِي رَجُلَانِ مِنْ الْأَشْعَرِيِّينَ أَحَدُهُمَا عَنْ يَمِينِي وَالْآخَرُ عَنْ يَسَارِي فَكِلَاهُمَا سَأَلَ الْعَمَلَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَاكُ قَالَ مَا تَقُولُ يَا أَبَا مُوسَى أَوْ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ قَالَ قُلْتُ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أَطْلَعَانِي عَلَى مَا فِي أَنْفُسِهِمَا وَمَا شَعُرْتُ أَنَّهُمَا يَطْلُبَانِ الْعَمَلَ قَالَ فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى سِوَاكِهِ تَحْتَ شَفَتِهِ قَلَصَتْ قَالَ إِنِّي أَوْ لَا نَسْتَعْمِلُ عَلَى عَمَلِنَا مَنْ أَرَادَهُ وَلَكِنْ اذْهَبْ أَنْتَ يَا أَبَا مُوسَى أَوْ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ فَبَعَثَهُ عَلَى الْيَمَنِ ثُمَّ أَتْبَعَهُ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ فَلَمَّا قَدِمَ عَلَيْهِ قَالَ انْزِلْ وَأَلْقَى لَهُ وِسَادَةً فَإِذَا رَجُلٌ عِنْدَهُ مُوثَقٌ فَقَالَ مَا هَذَا قَالَ كَانَ يَهُودِيًّا فَأَسْلَمَ ثُمَّ رَاجَعَ دِينَهُ دِينَ السَّوْءِ فَتَهَوَّدَ فَقَالَ لَا أَجْلِسُ حَتَّى يُقْتَلَ قَضَاءُ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ثَلَاثَ مِرَارٍ فَأَمَرَ بِهِ فَقُتِلَ ثُمَّ تَذَاكَرْنَا قِيَامَ اللَّيْلِ فَقَالَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ أَمَّا أَنَا فَأَنَامُ وَأَقُومُ أَوْ أَقُومُ وَأَنَامُ وَأَرْجُو فِي نَوْمَتِي مَا أَرْجُو فِي قَوْمَتِي

حضرت ابوموسیٰ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں اشعریین کے آدمی بھی تھے جن میں سے ایک میری دائیں جانب اور دوسرا بائیں جانب تھا اس قوت نبی کریم ﷺ مسواک فرما رہے تھے ان دونوں نے نبی کریم ﷺ سے کوئی عہدہ مانگا نبی کریم ﷺ نے مجھ سے فرمایا ابوموسیٰ! تم کیا کہتے ہو؟ میں نے عرض کیا کہ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے ان دونوں نے مجھے اپنے اس خیال سے آگاہ نہیں کیا تھا اور نہ میں ہی سمجھتا تھا کہ یہ لوگ کسی عہدے کی درخواست کرنے والے ہیں وہ منظر اس وقت بھی میری نگاہوں کے سامنے ہے کہ نبی کریم ﷺ کی مسواک ہونٹ کے نیچے آگئی ہے۔ پھر نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہم کسی ایسے شخص کو کوئی عہدہ نہیں دیتے جو ہم سے اس کا مطالبہ کرتا ہے البتہ اے ابوموسیٰ! تم جاؤ اور نبی کریم ﷺ نے انہیں یمن بھیج دیا پھر ان کے پیچھے معاذ بن جبل ؓ کو روانہ کردیا حضرت معاذ ؓ جب وہاں پہنچے تو حضرت ابوموسیٰ ؓ نے کہا تشریف لائیے اور ان کے لئے تکیہ رکھا وہاں! ایک آدمی رسیوں سے بندھا ہوا نظر آیا تو حضرت معاذ ؓ نے پوچھا کہ اس کا کیا ماجرا ہے؟ انہوں نے بتایا کہ یہ ایک یہودی تھا اس نے اسلام قبول کرلیا بعد میں اپنے ناپسندیدہ دین کی طرف لوٹ گیا اور دوبارہ یہودی ہوگیا، حضرت معاذ ؓ نے فرمایا میں تو اس وقت نہیں بیٹھوں گا جب تک اسے قتل نہیں کردیا جاتا، یہ اللہ اور اس کے رسول کا فیصلہ ہے (یہ بات تین مرتبہ کہی) چناچہ حضرت ابوموسیٰ ؓ نے حکم دیا اور اسے قتل کردیا گیا، پھر ہم قیام اللیل کی باتیں کرنے لگے تو حضرت معاذ ؓ نے فرمایا میں تو سوتا بھی ہوں اور قیام بھی کرتا ہوں، قیام بھی کرتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور اپنی نیند میں بھی اتنے ہی ثواب کی امید رکھتا ہوں جتنے ثواب کی امید قیام پر رکھتا ہوں۔

18840Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَن سُفْيَانَ حَدَّثَنِي أَبُو بُرْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ عَن جَدِّهِ عَن أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَاءَهُ السَّائِلُ أَوْ ذُو الْحَاجَةِ قَالَ اشْفَعُوا تُؤْجَرُوا وَلْيَقْضِ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى لِسَانِ رَسُولِهِ مَا شَاءَ وَقَالَ الْمُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِ كَالْبُنْيَانِ يَشُدُّ بَعْضُهُ بَعْضًا وَقَالَ الْخَازِنُ الْأَمِينُ الَّذِي يُؤَدِّي مَا أُمِرَ بِهِ طَيِّبَةً بِهِ نَفْسُهُ أَحَدُ الْمُتَصَدِّقِينَ

حضرت ابوموسیٰ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کے پاس جب کوئی سائل آتا تو نبی کریم ﷺ لوگوں فرماتے تم اس کی سفارش کرو تمہیں اجر ملے گا اور اللہ اپنے نبی کریم ﷺ کی زبان پر وہی فیصلہ جاری فرمائے گا جو اسے محبوب ہوگا۔ اور فرمایا ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے لئے عمارت کی طرح ہوتا ہے جس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو مضبوط کرتا ہے۔ اور امانت دارخزانچی وہ ہوتا ہے کہ اسے جس چیز کا حکم دیا جائے وہ اسے مکمل، پورا اور دل کی خوشی کے ساتھ ادا کردے تاکہ صدقہ کرنے والوں نے جسے دینے کا حکم دیا ہے اس تک وہ چیز پہنچ جائے۔

18841Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَا ثَنَا شُعْبَةُ قَالَ يَحْيَى فِي حَدِيثِهِ قَالَ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ عَن مُرَّةَ الْهَمْدَانِيِّ عَن أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَمُلَ مِنْ الرِّجَالِ كَثِيرٌ وَلَمْ يَكْمُلْ مِنْ النِّسَاءِ غَيْرُ مَرْيَمَ بِنْتِ عِمْرَانَ وَآسِيَةَ امْرَأَةِ فِرْعَوْنَ وَإِنَّ فَضْلَ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ

حضرت ابوموسیٰ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا مردوں میں سے کامل افراد تو بہت گذرے ہیں لیکن عورتوں میں کامل عورتیں صرف حضرت آسیہ ؓ " جو فرعون کی بیوی تھیں " اور حضرت مریم (علیہا السلام) گذری ہیں اور تمام عورتوں پر عائشہ ؓ کی فضیلت ایسی ہے جیسے تمام کھانوں پر ثرید کو فضیلت حاصل ہے۔

18842Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنِي أَبُو الْعُمَيْسِ عَن قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ عَن طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ عَن أَبِي مُوسَى قَالَ كَانَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ يَوْمًا تَصُومُهُ الْيَهُودُ تَتَّخِذُهُ عِيدًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صُومُوهُ أَنْتُمْ

حضرت ابوموسیٰ ؓ سے مروی ہے کہ یہودی لوگ یوم عاشورہ کا روزہ رکھتے تھے اور اسے عید کے طور پر مناتے تھے، نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم اس دن کا روزہ رکھا کرو۔

18843Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَن طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى عَن أَبِي بُرْدَةَ عَن أَبِي مُوسَى قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ دُفِعَ إِلَى كُلِّ مُؤْمِنٍ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْمِلَلِ فَقَالَ لَهُ هَذَا فِدَاؤُكَ مِنْ النَّارِ

حضرت ابوموسیٰ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جب قیامت کا دن آئے گا تو ہر ایک مسلمان کو دوسرے ادیان و مذاہب کا ایک ایک آدمی دے کر کہا جائے گا کہ یہ شخص جہنم سے بچاؤ کا تمہارے لئے فدیہ ہے۔

18844Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَن قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ عَن طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ قَالَ قَالَ أَبُو مُوسَى قَدِمْتُ مِنْ الْيَمَنِ قَالَ فَقَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَ أَهْلَلْتَ قَالَ قُلْتُ بِإِهْلَالٍ كَإِهْلَالِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَقَالَ هَلْ مَعَكَ مِنْ هَدْيٍ قَالَ قُلْتُ يَعْنِي لَا قَالَ فَأَمَرَنِي فَطُفْتُ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ أَتَيْتُ امْرَأَةً مِنْ قَوْمِي فَمَشَطَتْ رَأْسِي وَغَسَلَتْهُ ثُمَّ أَحْلَلْتُ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ أَهْلَلْتُ بِالْحَجِّ قَالَ فَكُنْتُ أُفْتِي النَّاسَ بِذَلِكَ إِمَارَةَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا فَبَيْنَا أَنَا وَاقِفٌ فِي سُوقِ الْمَوْسِمِ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ فَسَارَّنِي فَقَالَ إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ فِي شَأْنِ النُّسُكِ قَالَ قُلْتُ أَيُّهَا النَّاسُ مَنْ كُنَّا أَفْتَيْنَاهُ فِي شَيْءٍ فَلْيَتَّئِدْ فَهَذَا أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ قَادِمٌ عَلَيْكُمْ فَبِهِ فَأْتَمُّوا قَالَ فَقَالَ لِي إِنْ نَأْخُذْ بِكِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى فَإِنَّهُ يَأْمُرُ بِالتَّمَامِ وَإِنْ نَأْخُذْ بِسُنَّةِ نَبِيِّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّهُ لَمْ يَحِلَّ حَتَّى نَحَرَ الْهَدْيَ

حضرت ابوموسیٰ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے مجھے اپنی قوم کے علاقے میں بھیج دیا، جب حج کاموسم قریب آیا تو نبی کریم ﷺ حج کے لئے تشریف لے گئے میں نے بھی حج کی سعادت حاصل کی، میں جب حاضرخدمت میں ہوا تو نبی کریم ﷺ ابطح میں پڑاؤ کئے ہوئے تھے مجھ سے پوچھا کہ اے عبداللہ بن قیس! تم نے کس نیت سے احرام باندھا؟ میں نے عرض کیا " لبیک بحج کحج رسول اللہ ﷺ کہہ کر، نبی کریم ﷺ نے فرمایا بہت اچھایہ بتاؤ کہ کیا اپنے ساتھ ہدی کا جانور لائے ہو؟ میں نے کہا نہیں، نبی کریم ﷺ نے فرمایا جا کر بیت اللہ کا طواف کرو، صفا مروہ کے درمیان سعی کرو اور حلال ہوجاؤ۔ چناچہ میں چلا گیا اور نبی کریم ﷺ کے حکم کے مطابق کرلیا پھر اپنی قوم کی ایک عورت کے پاس آیا، اس نے " خطمی " سے میرا سر دھویا اور میرے سر کی جوئیں دیکھیں، پھر میں نے آٹھ دی الحج کو حج کا احرام باندھ لیا میں نبی کریم ﷺ کے وصال تک لوگوں کو یہی فتویٰ دیتا رہا جس کا نبی کریم ﷺ نے مجھے حکم دیا تھا، حضرت صدیق اکبر ؓ کے زمانے میں بھی یہی صورت حال رہی جب حضرت عمر ؓ کا زمانہ آیا تو ایک دن میں حجر اسود کے قریب کھڑا ہوا تھا اور لوگوں کو یہی مسئلہ بتارہا تھا جس کا نبی کریم ﷺ نے مجھے حکم دیا تھا کہ اچانک ایک آدمی آیا اور سرگوشی میں مجھ سے کہنے لگا کہ یہ فتویٰ دینے میں جلدی سے کام مت لیجئے کیونکہ امیرالمومنین نے مناسک حج کے حوالے سے کچھ نئے احکام جاری کئے ہیں۔ میں نے لوگوں سے کہا کہ اے لوگو! جسے ہم نے مناسک حج کے حوالے سے کوئی فتویٰ دیا ہو وہ انتظار کرے کیونکہ امیرالمؤمنین آنے والے ہیں آپ ان ہی کی اقتداء کریں، پھر جب حضرت عمر ؓ آئے تو میں نے ان سے پوچھا اے امیرالمؤمنین! کیا مناسک حج کے حوالے سے آپ نے کچھ نئے احکام جاری کئے ہیں؟ انہوں نے فرمایا ہاں! اگر ہم کتاب اللہ کو لیتے ہیں تو وہ ہمیں اتمام کا حکم دیتی ہے اور اگر نبی کریم ﷺ کی سنت کو لیتے ہیں تو انہوں نے قربانی کرنے تک احرام نہیں کھولا تھا۔

18845Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا مُغِيرَةُ الْكِنْدِيُّ عَن سَعِيدٍ عَن أَبِي بُرْدَةَ عَن أَبِيهِ عَن جَدِّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي لَأَتُوبُ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي كُلِّ يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ قَالَ عَبْد اللَّهِ يَعْنِي مُغِيرَةَ بْنَ أَبِي الْحُرِّ

حضرت ابوموسیٰ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں روزانہ سو مرتبہ توبہ کرتا ہوں۔

18846Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَن سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ عَن أَبِيهِ عَن أَبِي مُوسَى قَالَ بَعَثَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ إِلَى الْيَمَنِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ شَرَابًا يُصْنَعُ بِأَرْضِنَا يُقَالُ لَهُ الْمِزْرُ مِنْ الشَّعِيرِ وَشَرَابٌ يُقَالُ لَهُ الْبِتْعُ مِنْ الْعَسَلِ فَقَالَ كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ

حضرت ابوموسیٰ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے (مجھے یمن کی طرف بھیجا) میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! وہاں کچھ مشروبات رائج ہیں، مثلاً جو کی نبیذ ہے جسے مزر کہا جاتا ہے اور شہد کی نبیذ ہے جسے " تبع " کہا جاتا ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔

18847Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنِي بُرَيْدُ بْنُ أَبِي بُرْدَةَ عَن أَبِيهِ عَن جَدِّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا مَرَّ أَحَدُكُمْ بِالنَّبْلِ فِي الْمَسْجِدِ فَلْيُمْسِكْ بِنُصُولِهَا

حضرت عبداللہ بن قیس سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جب تم مسلمانوں کی مسجدوں اور بازاروں میں جایا کرو اور تمہارے پاس تیر ہوں تو ان کا پھل قابو میں رکھا کرو۔

18848Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَن طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى عَن أَبِي بُرْدَةَ عَن أَبِي مُوسَى قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ دُفِعَ إِلَى كُلِّ مُؤْمِنٍ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْمِلَلِ فَيُقَالُ لَهُ هَذَا فِدَاؤُكَ مِنْ النَّارِ

حضرت ابوموسیٰ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جب قیامت کا دن آئے گا تو ہر ایک مسلمان کو دوسرے ادیان و مذاہب کا ایک ایک آدمی دے کر کہا جائے گا کہ یہ شخص جہنم سے بچاؤ کا تمہارے لئے فدیہ ہے۔

18849Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونٍَ أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ عَن الْحَسَنِ عَن أَبِي مُوسَى عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا تَوَاجَهَ الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا فَقَتَلَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ فَهُمَا فِي النَّارِ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا الْقَاتِلُ فَمَا بَالُ الْمَقْتُولِ قَالَ إِنَّهُ أَرَادَ قَتْلَ صَاحِبِهِ

حضرت ابوموسیٰ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جب دو مسلمان تلواریں لے کر ایک دوسرے کے سامنے آجائیں اور ان میں سے ایک دوسرے کو قتل کردے تو قاتل اور مقتول دونوں جہنم میں جائیں گے کسی نے عرض کیا یا رسول اللہ! یہ قاتل کی بات تو سمجھ میں آجاتی ہے مقتول کا کیا معاملہ ہے؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا وہ بھی اپنے ساتھی کو قتل کرنا چاہتا تھا۔