حضرت جریربن عبداللہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عِلَاقَةَ قَالَ سَمِعْتُ جَرِيرًا يَقُولُ بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى النُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ قَالَ مِسْعَرٌ عَنْ زِيَادٍ فَإِنِّي لَكُمْ لَنَاصِحٌ
حضرت جریر ؓ سے مروی ہے کہ میں نے ہر مسلمان کی خیرخواہی کرنے کی شرط پر نبی کریم ﷺ سے بیعت کی ہے۔
حضرت جریربن عبداللہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَاصِمِ ابْنِ أَبِي النَّجُودِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ جَرِيرٍ أَنَّ قَوْمًا أَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْأَعْرَابِ مُجْتَابِي النِّمَارِ فَحَثَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ عَلَى الصَّدَقَةِ فَأَبْطَئُوا حَتَّى رُئِيَ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ بِقِطْعَةِ تِبْرٍ فَطَرَحَهَا فَتَتَابَعَ النَّاسُ حَتَّى عُرِفَ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ فَقَالَ مَنْ سَنَّ سُنَّةً حَسَنَةً فَعُمِلَ بِهَا مِنْ بَعْدِهِ كَانَ لَهُ أَجْرُهَا وَمِثْلُ أَجْرِ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ غَيْرِ أَنْ يُنْتَقَصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْءٌ وَمَنْ سَنَّ سُنَّةً سَيِّئَةً عُمِلَ بِهَا مِنْ بَعْدِهِ كَانَ عَلَيْهِ وِزْرُهَا وَوِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا وَلَا يُنْقِصُ ذَلِكَ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْئًا
حضرت جریر ؓ سے مروی ہے کہ کچھ لوگ آئے جو برہنہ پا، برہنہ جسم، چیتے کی کھالیں لپیٹے ہوئے اور تلواریں لٹکائے ہوئے تھے نبی کریم ﷺ نے لوگوں کو صدقہ کی ترغیب دی لوگوں نے اس میں تاخیر کی جس پر نبی کریم ﷺ کے روئے انور کا رنگ اڑگیا، پھر ایک انصاری آدمی چاندی کا ایک ٹکڑا لے کر آیا اور ڈال دیا اس کے بعد لوگ مسلسل آنے لگے نبی کریم ﷺ کا چہرہ چمکنے لگا اور یوں محسوس ہوا جیسے وہ سونے کا ہو اور فرمایا جو شخص اسلام میں کوئی عمدہ طریقہ رائج کرتا ہے اسے اس کا اجر بھی ملتا ہے اور بعد میں اس پر عمل کرنے والوں کا بھی اور ان کے اجر میں کوئی کمی نہیں کی جاتی اور جو شخص اسلام میں کوئی براطریقہ رائج کرتا ہے اس میں اس کا بھی گناہ ملتا ہے اور اس پر عمل کرنے والوں کا بھی اور ان کے گناہ میں کوئی کمی نہیں کی جاتی۔
حضرت جریربن عبداللہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ هَمَّامٍ قَالَ رَأَيْتُ جَرِيرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَتَوَضَّأُ مِنْ مِطْهَرَةٍ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ فَقَالُوا أَتَمْسَحُ عَلَى خُفَّيْكَ فَقَالَ إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ مَرَّةً يَمْسَحُ عَلَى خُفَّيْهِ فَكَانَ هَذَا الْحَدِيثُ يُعْجِبُ أَصْحَابَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُونَ إِنَّمَا كَانَ إِسْلَامُهُ بَعْدَ نُزُولِ الْمَائِدَةِ
ہمام کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت جریر ؓ نے پیشاب کرکے وضو کیا اور اپنے موزوں پر مسح کیا کسی نے ان سے کہا کہ آپ موزوں پر مسح کیسے کررہے ہیں جبکہ ابھی تو آپ نے پیشاب کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا ہاں! میں نے نبی کریم ﷺ کو بھی دیکھا ہے کہ انہوں نے پیشاب کرکے وضو کیا اور اپنے موزوں پر مسح فرمایا۔ ابراہیم کہتے ہیں کہ محدثیین اس حدیث کو بہت اہمیت دیتے کیونکہ حضرت جریر ؓ نے سورت امائدہ (میں آیت وضو) کے نزول کے بعد اسلام قبول کیا تھا۔
حضرت جریربن عبداللہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ مُسْلِمٍ يَعْنِي ابْنَ صُبَيْحٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هِلَالٍ الْعَبْسِيِّ عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَثَّنَا عَلَى الصَّدَقَةِ فَأَبْطَأَ النَّاسُ حَتَّى رُئِيَ فِي وَجْهِهِ الْغَضَبُ وَقَالَ مَرَّةً حَتَّى بَانَ ثُمَّ إِنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ جَاءَ بِصُرَّةٍ فَأَعْطَاهَا إِيَّاهُ ثُمَّ تَتَابَعَ النَّاسُ فَأَعْطَوْا حَتَّى رُئِيَ فِي وَجْهِهِ السُّرُورُ فَقَالَ مَنْ سَنَّ سُنَّةً حَسَنَةً كَانَ لَهُ أَجْرُهَا وَمِثْلُ أَجْرِ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ غَيْرِ أَنْ يُنْتَقَصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْءٌ وَمَنْ سَنَّ سُنَّةً سَيِّئَةً كَانَ عَلَيْهِ وِزْرُهَا وَمِثْلُ وِزْرِ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ غَيْرِ أَنْ يُنْتَقَصَ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْءٌ قَالَ مَرَّةً يَعْنِي أَبَا مُعَاوِيَةَ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ
حضرت جریر ؓ سے مروی ہے کہ کچھ لوگ آئے جو برہنہ پا، برہنہ جسم، چیتے کی کھالیں لپیٹے ہوئے اور تلواریں لٹکائے ہوئے تھے نبی کریم ﷺ نے لوگوں کو صدقہ کی ترغیب دی لوگوں نے اس میں تاخیر کی جس پر نبی کریم ﷺ کے روئے انور کا رنگ اڑگیا، پھر ایک انصاری آدمی چاندی کا ایک ٹکڑالے کر آیا اور ڈال دیا اس کے بعد لوگ مسلسل آنے لگے نبی کریم ﷺ کا چہرہ چمکنے لگا اور یوں محسوس ہوا جیسے وہ سونے کا ہو اور فرمایا جو شخص اسلام میں کوئی عمدہ طریقہ رائج کرتا ہے اسے اس کا اجر بھی ملتا ہے اور بعد میں اس پر عمل کرنے والوں کا بھی اور ان کے اجر میں کوئی کمی نہیں کی جاتی اور جو شخص اسلام میں کوئی براطریقہ رائج کرتا ہے اس میں اس کا بھی گناہ ملتا ہے اور اس پر عمل کرنے والوں کا بھی اور ان کے گناہ میں کوئی کمی نہیں کی جاتی۔
حضرت جریربن عبداللہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ وَهُوَ الضَّرِيرُ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَا يَرْحَمْ النَّاسَ لَا يَرْحَمْهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ
حضرت جریر ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص لوگوں پر رحم نہیں کرتا اللہ تعالیٰ اس پر بھی رحم نہیں کرتا۔
حضرت جریربن عبداللہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ إِسْمَاعِيلَ قَالَ حَدَّثَنِي قَيْسٌ قَالَ قَالَ لِي جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا تُرِيحُنِي مِنْ ذِي الْخَلَصَةِ وَكَانَ بَيْتًا فِي خَثْعَمَ يُسَمَّى كَعْبَةَ الْيَمَانِيَةِ قَالَ فَانْطَلَقْتُ فِي خَمْسِينَ وَمِائَةِ فَارِسٍ مِنْ أَحْمَسَ وَكَانُوا أَصْحَابَ خَيْلٍ فَأَخْبَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي لَا أَثْبُتُ عَلَى الْخَيْلِ فَضَرَبَ فِي صَدْرِي حَتَّى رَأَيْتُ أَثَرَ أَصَابِعِهِ فِي صَدْرِي وَقَالَ اللَّهُمَّ ثَبِّتْهُ وَاجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا فَانْطَلَقَ إِلَيْهَا فَكَسَّرَهَا وَحَرَّقَهَا فَأَرْسَلَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَشِّرُهُ فَقَالَ رَسُولُ جَرِيرٍ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا جِئْتُكَ حَتَّى تَرَكْتُهَا كَأَنَّهَا جَمَلٌ أَجْرَبُ فَبَارَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى خَيْلِ أَحْمَسَ وَرِجَالِهَا خَمْسَ مَرَّاتٍ
حضرت جریر ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے مجھ سے فرمایا تم مجھے ذی الخلصہ سے راحت کیوں نہیں دلادیتے؟ یہ قبیلہ خثعم میں ایک گرجا تھا جسے کعبہ یمانیہ کہا جاتا تھا چناچہ میں اپنے ساتھ ایک سو پچاس آدمی احمس کے لے کر روانہ ہوا وہ سب شہسوار تھے میں نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا کہ میں گھوڑے کی پشت پر جم کر نہیں بیٹھ سکتا تو نبی کریم ﷺ نے میرے سینے پر اپنا دست مبارک مارا یہاں تک کہ میں نے ان کی انگلیوں کے نشان اپنے سینے پر دیکھے اور دعاء کی کہ اے اللہ! اسے مضبوطی اور جماؤعطاء فرما اور اسے ہدایت کرنے والا اور ہدایت یافتہ بنا پھر میں روانہ ہو اور وہاں پہنچ کر اسے آگ لگادی پھر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں ایک آدمی کو یہ خوشخبری سنانے کے لئے بھیج دیا اور اس نے کہ اس نے کہا کہ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں آپ کے پاس اسے اس حال میں چھوڑ کر آیاہوں جیسے ایک خارشی اونٹ ہوتا ہے، اس پر نبی کریم ﷺ نے احمس اور اس کے شہسواروں کے لئے پانچ مرتبہ برکت کی دعاء فرمائی۔
حضرت جریربن عبداللہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا قَيْسٌ قَالَ قَالَ لِي جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ نَظَرَ إِلَى الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ فَقَالَ أَمَا إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ رَبَّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ كَمَا تَرَوْنَ هَذَا لَا تُضَامُونَ أَوْ لَا تُضَارُّونَ شَكَّ إِسْمَاعِيلُ فِي رُؤْيَتِهِ فَإِنْ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ لَا تُغْلَبُوا عَلَى صَلَاةٍ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا فَافْعَلُوا ثُمَّ قَالَ فَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا
حضرت جریر ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ چاند کی چود ہویں رات کو ہم لوگ نبی کریم ﷺ کے پاس تھے نبی کریم ﷺ فرمانے لگے عنقریب تم اپنے رب کو اس طرح دیکھوگے جیسے چاند کو دیکھتے ہو تمہیں اپنے رب کو دیکھنے میں کوئی مشقت نہیں ہوگی اس لئے اگر تم طلوع آفتاب سے پہلے اور غروب آفتاب سے پہلے والی نمازوں سے مغلوب نہ ہونے کی طاقت رکھتے ہو تو ایساہی کرو (ان نمازوں کا خوب اہتمام کرو) پھر نبی کریم ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی کہ " اپنے رب کی تعریف کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کیجئے سورج طلوع ہونے سے پہلے اور سورج غروب ہونے کے بعد۔ "
حضرت جریربن عبداللہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ هِلَالٍ الْعَبْسِيُّ قَالَ قَالَ جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَسُنُّ عَبْدٌ سُنَّةً صَالِحَةً يَعْمَلُ بِهَا مَنْ بَعْدَهُ إِلَّا كَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِ مَنْ عَمِلَ بِهَا لَا يُنْقَصُ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْءٌ وَلَا يَسُنُّ عَبْدٌ سُنَّةَ سُوءٍ يَعْمَلُ بِهَا مَنْ بَعْدَهُ إِلَّا كَانَ عَلَيْهِ وِزْرُهَا وَوِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا لَا يُنْقَصُ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْءٌ قَالَ وَأَتَاهُ نَاسٌ مِنْ الْأَعْرَابِ فَقَالُوا يَا نَبِيَّ اللَّهِ يَأْتِينَا نَاسٌ مِنْ مُصَدِّقِيكَ يَظْلِمُونَا قَالَ أَرْضُوا مُصَدِّقَكُمْ وَإِنْ ظَلَمَ قَالَ أَرْضُوا مُصَدِّقَكُمْ قَالَ جَرِيرٌ فَمَا صَدَرَ عَنِّي مُصَدِّقٌ مُنْذُ سَمِعْتُهَا مِنْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا وَهُوَ عَنِّي رَاضٍ
حضرت جریر ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص اسلام میں کوئی اچھاطریقہ رائج کرے تو اسے اس عمل کا اور اس پر بعد میں عمل کرنے والوں کا ثواب بھی ملے گا اور ان کے اجروثواب میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی اور جو شخص اسلام میں کوئی براطریقہ رائج کرے، اسے اس کا گناہ بھی ہوگا اور اس پر عمل کرنے والوں کا گناہ بھی ہوگا اور ان گناہ میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی، راوی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ کے پاس کچھ دیہاتی لوگ آئے اور کہنے لگے اے اللہ کے نبی! ہمارے پاس آپ کی طرف سے جو لوگ زکوٰۃ وصول کرنے کے لئے آتے ہیں وہ ہم پر ظلم کرتے ہیں؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اسے خوش کرکے بھیجا کرو، انہوں نے عرض کیا اگرچہ وہ ہم پر ظلم ہی کرے نبی کریم ﷺ نے پھر فرمایا کہ اسے خوش کرکے بھیجا کرو جب سے میں نے یہ حدیث سنی ہے میں نے اپنے پاس زکوٰۃ وصول کرنے کے لئے آنے والے کو خوش کرکے ہی بھیجا ہے
حضرت جریربن عبداللہ (رض) کی مرویات
قَالَ وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ يُحْرَمْ الرِّفْقَ يُحْرَمْ الْخَيْرَ
اور نبی کریم ﷺ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ جو شخص نرمی سے محروم رہاوہ ساری بھلائی سے محروم رہا۔
حضرت جریربن عبداللہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي حَيَّانَ قَالَ حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ خَالُ الْمُنْذِرِ بْنُ جَرِيرٍ عَنْ مُنْذِرِ بْنِ جَرِيرٍ عَنْ جَرِيرٍ قَالَ كُنْتُ مَعَ أَبِي جَرِيرٍ بِالْبَوَارِيجِ فِي السَّوَادِ فَرَاجَعْتُ الْبَقَرَ فَرَأَى بَقَرَةً أَنْكَرَهَا فَقَالَ مَا هَذِهِ الْبَقَرَةُ قَالَ بَقَرَةٌ لَحِقَتْ بِالْبَقَرِ فَأَمَرَ بِهَا فَطُرِدَتْ حَتَّى تَوَارَتْ ثُمَّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يُؤْوِي الضَّالَّةَ إِلَّا ضَالٌّ
منذربن جریررحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنے والد حضرت جریر ؓ کے ساتھ بوازیج " نامی جگہ میں ایک ریوڑ میں تھا وہاں آگے پیچھے گائیں آجارہی تھیں انہوں نے ایک گائے دیکھی تو وہ انہیں نامانوس معلوم ہوئی انہوں نے پوچھا یہ گائے کیسی ہے؟ چرواہے نے بتایا کہ یہ کسی کی ہے جو ہمارے جانوروں میں آکر مل گئی ہے ان کے حکم پر اسے وہاں سے نکال دیا گیا یہاں تک کہ وہ نظروں سے اوجھل ہوگئی پھر فرمایا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ گمشدہ چیز کو وہی آدمی ٹھکانہ دیتا ہے جو خود گمراہ ہوتا ہے۔
حضرت جریربن عبداللہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ إِسْمَاعِيلَ عَنْ قَيْسٍ عَنْ جَرِيرٍ قَالَ مَا حَجَبَنِي عَنْهُ مُنْذُ أَسْلَمْتُ وَلَا رَآنِي إِلَّا تَبَسَّمَ فِي وَجْهِي
حضرت جریر ؓ سے مروی ہے کہ میں نے جب سے اسلام قبول کیا نبی کریم ﷺ نے کبھی مجھ سے حجاب نہیں فرمایا اور جب بھی مجھے دیکھا تو مسکراکرہی دیکھا۔
حضرت جریربن عبداللہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شِبْلٍ عَنْ جَرِيرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَبَقَ الْعَبْدُ بَرِئَتْ مِنْهُ الذِّمَّةُ
حضرت جریر ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جو غلام بھی اپنے آقا کے پاس سے بھاگ جائے کسی پر اس کی ذمہ داری باقی نہیں رہتی ختم ہوجاتی ہے۔
حضرت جریربن عبداللہ (رض) کی مرویات
قَالَ عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُخَرِّمِيُّ حَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ مَسْعُودٍ الْجَحْدَرِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنِي ابْنٌ لِجَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كَانَتْ نَعْلُ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ طُولُهَا ذِرَاعٌ
حضرت جریر ؓ کے ایک بیٹے سے منقول ہے کہ حضرت جریر ؓ کی جوتی ایک ہاتھ کے برابر تھی۔
حضرت جریربن عبداللہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الْيَقْظَانِ عُثْمَانَ بْنِ عُمَيْرٍ الْبَجَلِيِّ عَنْ زَاذَانَ عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّحْدُ لَنَا وَالشَّقُّ لِأَهْلِ الْكِتَابِ
حضرت جریر ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا لحد ہمارے لئے ہیں اور صندوقی قبراہل کتاب کے لئے ہے۔
حضرت جریربن عبداللہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ شُعْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ ثَنَا شُعْبَةُ عَنْ جَابِرٍ عَنْ طَارِقٍ التَّمِيمِيِّ عَنْ جَرِيرٍ قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنِي رَجُلٌ عَنْ طَارِقٍ التَّمِيمِيِّ عَنْ جَرِيرٍ قَالَ مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى نِسْوَةٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِنَّ
حضرت جریر ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ خواتین کے پاس سے گذرے تو انہیں سلام کیا۔
حضرت جریربن عبداللہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ شَرِيكٍ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ جَرِيرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُهَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ أَوْلِيَاءُ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ وَالطُّلَقَاءُ مِنْ قُرَيْشٍ وَالْعُتَقَاءُ مِنْ ثَقِيفٍ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ قَالَ شَرِيكٌ فَحَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هِلَالٍ عَنْ جَرِيرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
حضرت جریر ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا مہاجرین اور انصار ایک دوسرے کے ولی ہیں طلقاء قریش میں سے ہیں عتقاء ثقیف میں سے ہیں اور سب قیامت تک ایک دوسرے کے ولی ہیں۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حضرت جریربن عبداللہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْمُنْذِرِ بْنِ جَرِيرٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ قَوْمٍ يَكُونُ بَيْنَ أَظْهُرِهِمْ مَنْ يَعْمَلُ بِالْمَعَاصِي هُمْ أَعَزُّ مِنْهُ وَأَمْنَعُ لَمْ يُغَيِّرُوا عَلَيْهِ إِلَّا أَصَابَهُمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْهُ بِعِقَابٍ
حضرت جریر ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جو قوم بھی گناہ کرتی ہے اور ان میں کوئی باعزت اور باوجاہت آدمی ہوتا ہے اگر وہ انہیں روکتا نہیں ہے تو اللہ کا عذاب ان سب پر آجاتا ہے۔
حضرت جریربن عبداللہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا زُرْعَةَ بْنَ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ يُحَدِّثُ عَنْ جَرِيرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ لِجَرِيرٍ اسْتَنْصِتْ النَّاسَ وَقَالَ قَالَ لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ
حضرت جریر ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے حجۃ الوداع میں ان سے فرمایا اے جریر! لوگوں کو خاموش کراؤ پھر اپنے خطبے کے دوران فرمایا میرے پیچھے کافر نہ ہوجانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔
حضرت جریربن عبداللہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ مُوسَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هِلَالٍ الْعَبْسِيِّ عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الطُّلَقَاءُ مِنْ قُرَيْشٍ وَالْعُتَقَاءُ مِنْ ثَقِيفٍ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَالْمُهَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ
حضرت جریر ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا مہاجرین اور انصار ایک دوسرے کے ولی ہیں طلقاء قریش میں سے ہیں عتقاء ثقیف میں سے ہیں اور سب قیامت تک ایک دوسرے کے ولی ہیں
حضرت جریربن عبداللہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ جَرِيرٍ قَالَ قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اشْتَرِطْ عَلَيَّ قَالَ تَعْبُدُ اللَّهَ لَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا وَتُصَلِّي الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ وَتُؤَدِّي الزَّكَاةَ الْمَفْرُوضَةَ وَتَنْصَحُ لِلْمُسْلِمِ وَتَبْرَأُ مِنْ الْكَافِرِ
حضرت جریر ؓ سے مروی ہے کہ قبول اسلام کے وقت میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! کوئی شرط ہو تو وہ مجھے بتادیجئے نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ فرض نماز پڑھو، فرض زکوٰۃ ادا کرو ہر مسلمان کی خیرخواہی کرو اور کافر سے بیزاری ظاہر کرو۔