حضرت براء بن عازب (رض) کی مرویات

Musnad Imam Ahmad · Chapter 586 · 226 hadiths · Page 5 of 12

17822Musnad Imam Ahmad

حضرت براء بن عازب (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْبَرَاءِ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَامَ وَضَعَ يَدَهُ عَلَى خَدِّهِ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَكَ

حضرت براء ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ جب سونے کا ارادہ فرماتے تو دائیں ہاتھ کا تکیہ بناتے اور یہ دعاء پڑھتے اے اللہ! جس دن تو اپنے بندوں کو جمع فرمائے گا مجھے اپنے عذاب سے محفوظ رکھنا۔

17823Musnad Imam Ahmad

حضرت براء بن عازب (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّا أَحَبَّ أَوْ مِمَّا يُحِبُّ أَنْ يَقُومَ عَنْ يَمِينِهِ قَالَ وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ رَبِّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَكَ أَوْ تَجْمَعُ عِبَادَكَ حَدَّثَنَاه أَبُو نُعَيْمٍ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ ثَابِتٌ عَنِ ابْنِ الْبَرَاءِ عَنِ الْبَرَاءِ

حضرت براء ؓ سے مروی ہے کہ ہم لوگ جب نبی کریم ﷺ کے پیچھے پڑھتے تو اس بات کو اچھا سمجھتے تھے کہ نبی کریم ﷺ کی دائیں جانب کھڑے ہوں اور میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ پروردگار! جس دن تو اپنے بندوں کو جمع فرمائے گا مجھے اپنے عذاب سے محفوظ رکھنا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

17824Musnad Imam Ahmad

حضرت براء بن عازب (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا أَبِي وَسُفْيَانُ وَإِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ كُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّ عِدَّةَ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانُوا يَوْمَ بَدْرٍ عَلَى عِدَّةِ أَصْحَابِ طَالُوتَ يَوْمَ جَالُوتَ ثَلَاثَ مِائَةٍ وَبِضْعَةَ عَشَرَ الَّذِينَ جَازُوا مَعَهُ النَّهْرَ قَالَ وَلَمْ يُجَاوِزْ مَعَهُ النَّهْرَ إِلَّا مُؤْمِنٌ

حضرت براء ؓ کہتے ہیں کہ ہم لوگ آپس میں یہ گفتگو کرتے تھے کہ غزوہ بدر کے موقع پر صحابہ کرام ؓ کی تعداد حضرت طالوت کے ساتھیوں کی تعداد کے برابر " جو جالوت سے جنگ کے موقع پر تھی " تین سو تیرہ تھی حضرت طالوت کے یہ وہی ساتھی تھے جنہوں نے ان کے ساتھ نہر کو عبور کیا تھا اور نہر وہی شخص عبور کرسکا تھا جو مؤمن تھا۔

17825Musnad Imam Ahmad

حضرت براء بن عازب (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنْ الْمُؤْمِنِينَ غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ جَاءَ عَمْرُو بْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ ضَرِيرَ الْبَصَرِ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا تَأْمُرُنِي إِنِّي ضَرِيرُ الْبَصَرِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ائْتُونِي بِالْكَتِفِ وَالدَّوَاةِ أَوْ اللَّوْحِ وَالدَّوَاةِ

حضرت براء ؓ سے مروی ہے کہ ابتداء قرآن کریم کی یہ آیت ہوئی کہ " مسلمانوں میں سے جو لوگ جہاد کے انتظار میں بیٹھے ہیں وہ اور اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والے بھی برابر نہیں ہوسکتے " نبی کریم ﷺ نے حضرت زید ؓ کو بلا کر حکم دیا " وہ شانے کی ایک ہڈی لے آئے اور اس پر یہ آیت لکھ دی، اس پر حضرت ابن ام مکتوم ؓ نے اپنے نابینا ہونے کی شکایت کی تو اس آیت میں " غیراولی الضرر " کا لفظ مزید نازل ہوا اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا میرے پاس شانے کی ہڈی یا تختی اور دوات لے کر آؤ۔

17826Musnad Imam Ahmad

حضرت براء بن عازب (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ صَالِحٍ عَنِ السُّدِّيِّ عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ عَنِ الْبَرَاءِ قَالَ لَقِيتُ خَالِي وَمَعَهُ الرَّايَةُ فَقُلْتُ أَيْنَ تُرِيدُ قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةَ أَبِيهِ مِنْ بَعْدِهِ أَنْ أَضْرِبَ عُنُقَهُ أَوْ أَقْتُلَهُ وَآخُذَ مَالَهُ

حضرت براء ؓ سے مروی ہے کہ ایک دن اپنے ماموں سے میری ملاقات ہوئی ان کے پاس ایک جھنڈا تھا میں نے ان سے پوچھا کہاں کا ارادہ ہے؟ انہوں نے بتایا کہ مجھے نبی کریم ﷺ نے ایک آدمی کی طرف بھیجا ہے جس نے اپنے باپ کے مرنے کے بعد اپنے باپ کی بیوی (سوتیلی ماں) سے شادی کرلی ہے اور مجھے حکم دیا ہے کہ اس کی گردن اڑادوں اور اس کا مال چھین لوں۔

17827Musnad Imam Ahmad

حضرت براء بن عازب (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ مَا رَأَيْتُ مِنْ ذِي لِمَّةٍ أَحْسَنَ فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُ شَعَرٌ يَضْرِبُ مَنْكِبَيْهِ بَعِيدُ مَا بَيْنَ الْمَنْكِبَيْنِ لَيْسَ بِالْقَصِيرِ وَلَا بِالطَّوِيلِ

حضرت براء ؓ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے سرخ جوڑا زیب تن فرما رکھا تھا میں نے ان سے زیادہ حسین کوئی نہیں دیکھا ﷺ نبی کریم ﷺ کے بال ہلکے گھنگھریالے قد درمیانہ دونوں کندھوں کے درمیان تھوڑا سا فاصلہ اور کانوں کی لوتک لمبے بال تھے

17828Musnad Imam Ahmad

حضرت براء بن عازب (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ غَزَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمْسَ عَشْرَةَ غَزْوَةً

حضرت براء ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے پندرہ غزوات میں شرکت فرمائی ہے۔

17829Musnad Imam Ahmad

حضرت براء بن عازب (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا فِطْرٌ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ غَزَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمْسَ عَشْرَةَ غَزْوَةً

ہمارے نسخے میں یہاں صرف لفظ " حدثنا " لکھا ہوا ہے۔

17830Musnad Imam Ahmad

حضرت براء بن عازب (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا فِطْرٌ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ إِذَا أَوَيْتَ إِلَى فِرَاشِكَ طَاهِرًا فَقُلْ اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ رَغْبَةً وَرَهْبَةً إِلَيْكَ وَلَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَا مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ وَنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ فَإِنْ مُتَّ مِنْ لَيْلَتِكَ مُتَّ عَلَى الْفِطْرَةِ وَإِنْ أَصْبَحْتَ أَصْبَحْتَ وَقَدْ أَصَبْتَ خَيْرًا كَثِيرًا سَمِعَهُ فِطْرٌ مِنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ

حضرت براء ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک انصاری کو حکم دیا کہ جب وہ اپنے بستر پر آیا کرے تو یوں کہہ لیا کرے اے اللہ میں نے اپنے آپ کو تیرے حوالے کردیا اپنے چہرے کو تیری طرف متوجہ کرلیا اپنے معاملات کو تیرے سپرد کردیا اور اپنی پشت کا تجھ ہی کو سہارا بنا لیا تیری ہی رغبت ہے تجھ ہی سے ڈر ہے تیرے علاوہ کوئی ٹھکانہ اور پناہ گاہ نہیں میں تیری اس کتاب پر ایمان لے آیا جو تو نے نازل کی اور اس نبی پر جسے تو نے بھیج دیا اگر یہ کلمات کہنے والا اسی رات میں مرجائے تو وہ فطرت پر مرے گا۔ اگر صبح پالی تو خیر کثیر کے ساتھ صبح کروگے۔

17831Musnad Imam Ahmad

حضرت براء بن عازب (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجَمَ

حضرت براء بن عازب ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے رجم کی سزاجاری فرمائی ہے۔

17832Musnad Imam Ahmad

حضرت براء بن عازب (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْبَرَاءِ قَالَ انْتَهَيْنَا إِلَى الْحُدَيْبِيَةِ وَهِيَ بِئْرٌ قَدْ نُزِحَتْ وَنَحْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ مِائَةً قَالَ فَنُزِعَ مِنْهَا دَلْوٌ فَتَمَضْمَضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُ ثُمَّ مَجَّهُ فِيهِ وَدَعَا قَالَ فَرُوِينَا وَأَرْوَيْنَا وَقَالَ وَكِيعٌ أَرْبَعَةَ عَشْرَ مِائَةً

حضرت براء بن عازب ؓ سے مروی ہے کہ ہم لوگ حدیبیہ پہنچے جو ایک کنواں تھا اور اس کا پانی بہت کم ہوچکا تھا، ہم چودہ سو افراد تھے اس میں سے ایک ڈول نکالا گیا نبی کریم ﷺ نے اپنے دست مبارک سے پانی لے کر کلی کی اور کلی کا پانی کنوئیں میں ہی ڈال دیا اور دعاء فرمادی اور ہم اس پانی سے خوب سیراب ہوگئے۔

17833Musnad Imam Ahmad

حضرت براء بن عازب (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْبَرَاءِ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ عَشْرَةَ مِائَةً بِالْحُدَيْبِيَةِ وَالْحُدَيْبِيَةُ بِئْرٌ فَنَزَحْنَاهَا فَلَمْ نَتْرُكْ فِيهَا شَيْئًا فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ فَجَلَسَ عَلَى شَفِيرِهَا فَدَعَا بِإِنَاءٍ فَمَضْمَضَ ثُمَّ مَجَّهُ فِيهِ ثُمَّ تَرَكْنَاهَا غَيْرَ بَعِيدٍ فَأَصْدَرَتْنَا نَحْنُ وَرِكَابُنَا نَشْرَبُ مِنْهَا مَا شِئْنَا

حضرت براء بن عازب ؓ سے مروی ہے کہ ہم لوگ حدیبیہ پہنچے جو ایک کنواں تھا اور اس کا پانی بہت کم ہوچکا تھا، ہم چودہ سو افراد تھے اس میں سے ایک ڈول نکالا گیا نبی کریم ﷺ نے اپنے دست مبارک سے پانی لے کر کلی کی اور کلی کا پانی کنوئیں میں ہی ڈال دیا اور دعاء فرمادی اور ہم اس پانی سے خوب سیراب ہوگئے۔

17834Musnad Imam Ahmad

حضرت براء بن عازب (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ يَقُولُ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْأَنْصَارِ مُقَنَّعٌ فِي الْحَدِيدِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أُسْلِمُ أَوْ أُقَاتِلُ قَالَ لَا بَلْ أَسْلِمْ ثُمَّ قَاتِلْ فَأَسْلَمَ ثُمَّ قَاتَلَ فَقُتِلَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا عَمِلَ قَلِيلًا وَأُجِرَ كَثِيرًا

حضرت براء بن عازب ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں ایک انصاری آیا جو لوہے میں غرق تھا اور کہنے لگا یا رسول اللہ! میں پہلے اسلام قبول کروں یا پہلے جہاد میں شریک ہوجاؤں؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا پہلے اسلام قبول کرلو پھر جہاد میں شریک ہوجاؤ چناچہ اس نے ایسا ہی کیا اور اس جہاد میں شہید ہوگیا نبی کریم ﷺ نے فرمایا اس نے عمل تو تھوڑا کیا لیکن اجربہت لے گیا۔

17835Musnad Imam Ahmad

حضرت براء بن عازب (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا مِسْعَرٌ عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْعِشَاءِ بِالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ قَالَ وَمَا سَمِعْتُ إِنْسَانًا أَحْسَنَ قِرَاءَةً مِنْهُ

حضرت براء بن عازب ؓ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو نماز عشاء کی ایک رکعت میں سورت والتین کی تلاوت فرماتے ہوئے سنا میں نے ان سے اچھی قرأت کسی کی نہیں سنی۔

17836Musnad Imam Ahmad

حضرت براء بن عازب (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ يَقُولُ لَمَّا صَالَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْلَ الْحُدَيْبِيَةِ كَتَبَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كِتَابًا بَيْنَهُمْ وَقَالَ فَكَتَبَ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ لَا تَكْتُبْ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ وَلَوْ كُنْتَ رَسُولَ اللَّهِ لَمْ نُقَاتِلْكَ قَالَ فَقَالَ لِعَلِيٍّ امْحُهُ قَالَ فَقَالَ مَا أَنَا بِالَّذِي أَمْحَاهُ فَمَحَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ قَالَ وَصَالَحَهُمْ عَلَى أَنْ يَدْخُلَ هُوَ وَأَصْحَابُهُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَا يَدْخُلُوهَا إِلَّا بِجُلُبَّانِ السِّلَاحِ فَسَأَلْتُ مَا جُلُبَّانُ السِّلَاحِ قَالَ الْقِرَابُ بِمَا فِيهِ

حضرت براء بن عازب ؓ سے مروی ہے کہ جب نبی کریم ﷺ نے اہل حدیبیہ سے صلح کرلی تو حضرت علی ؓ اس مضمون کی دستاویز لکھنے کے لئے بیٹھے انہوں نے اس میں " محمد رسول اللہ " ﷺ کا لفظ لکھا لیکن مشرکین کہنے لگے کہ آپ یہ لفظ مت لکھیں اس لئے کہ اگر آپ اللہ کے پیغمبر ہوتے تو ہم آپ سے کبھی جنگ نہ کرتے نبی کریم ﷺ نے حضرت علی ؓ سے فرمایا اس لفظ کو مٹادو حضرت علی ؓ کہنے لگے کہ میں تو اسے نہیں مٹاسکتا، چناچہ نبی کریم ﷺ نے خود اپنے دست مبارک سے اسے مٹادیا نبی کریم ﷺ نے ان سے اس شرط پر مصالحت کی تھی کہ وہ اور ان کے صحابہ ؓ صرف تین دن مکہ مکرمہ میں قیام کرسکیں گے اور اپنے ساتھ صرف " جلبان سلاح " لاسکیں گے راوی نے " جلبان سلاح " کا مطلب پوچھا تو فرمایا میان اور اس کی تلوار۔

17837Musnad Imam Ahmad

حضرت براء بن عازب (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ قَالَ كَانَ أَوَّلَ مَنْ قَدِمَ الْمَدِينَةَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ وَابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ فَكَانُوا يُقْرِئُونَ النَّاسَ قَالَ ثُمَّ قَدِمَ بِلَالٌ وَسَعْدٌ وَعَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ ثُمَّ قَدِمَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ فِي عِشْرِينَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا رَأَيْتُ أَهْلَ الْمَدِينَةِ فَرِحُوا بِشَيْءٍ فَرَحَهُمْ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ حَتَّى جَعَلَ الْإِمَاءُ يَقُلْنَ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَمَا قَدِمَ حَتَّى قَرَأْتُ سَبِّحْ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى فِي سُوَرٍ مِنْ الْمُفَصَّلِ

حضرت براء ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کے صحابہ کرام ؓ میں ہمارے یہاں سب سے پہلے مصعب بن عمیر ؓ اور ابن ام مکتوم ؓ آئے تھے وہ لوگوں کو قرآن کریم پڑھاتے تھے پھر حضرت عمار ؓ بلال ؓ اور سعد ؓ آئے پھر حضرت عمر فاروق ؓ بیس آدمیوں کے ساتھ آئے پھر نبی کریم ﷺ بھی تشریف لے آئے اس وقت اہل مدینہ جتنے خوش تھے میں نے انہوں اس سے زیادہ خوش کبھی نہیں دیکھا حتیٰ کہ باندیاں بھی کہنے لگیں کہ یہ نبی کریم ﷺ تشریف لے آئے ہیں نبی کریم ﷺ جب تشریف لائے تو میں سورت اعلیٰ وغیرہ مفصلات کی کچھ سورتیں پڑھ چکا تھا۔

17838Musnad Imam Ahmad

حضرت براء بن عازب (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ عَفَّانُ قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنِ الْبَرَاءِ وَلَمْ يَسْمَعْهُ أَبُو إِسْحَاقَ مِنْ الْبَرَاءِ قَالَ مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَوْمٍ جُلُوسٍ فِي الطَّرِيقِ قَالَ إِنْ كُنْتُمْ لَا بُدَّ فَاعِلِينَ فَاهْدُوا السَّبِيلَ وَرُدُّوا السَّلَامَ وَأَغِيثُوا الْمَظْلُومَ قَالَ عَفَّانُ وَأَعِينُوا قَالَ أَبِي حَدَّثَنَاه أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ قَالَ أَعِينُوا الْمَظْلُومَ قَالَ أَبِي و حَدَّثَنَاه أَسْوَدُ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنِ الْبَرَاءِ وَقَالَ أَعِينُوا الْمَظْلُومَ وَكَذَا قَالَ حَسَنٌ أَعِينُوا وَعَنْ إِسْرَائِيلَ

حضرت براء بن عازب ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کچھ لوگوں کے پاس سے گذرے اور فرمایا کہ اگر تمہارا راستے میں بیٹھے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے تو سلام پھیلایا کرو مظلوم کی مدد کیا کرو اور راستہ بتایا کرو۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

17839Musnad Imam Ahmad

حضرت براء بن عازب (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ يَنْقُلُ مَعَنَا التُّرَابَ وَلَقَدْ وَارَى التُّرَابُ بَيَاضَ بَطْنِهِ وَهُوَ يَقُولُ اللَّهُمَّ لَوْلَا أَنْتَ مَا اهْتَدَيْنَا وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا فَأَنْزِلَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا إِنَّ الْأُلَى قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا وَرُبَّمَا قَالَ إِنَّ الْمَلَا قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا إِذَا أَرَادُوا فِتْنَةً أَبَيْنَا وَيَرْفَعُ بِهَا صَوْتَهُ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ وَعَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ وَهُوَ يَحْمِلُ التُّرَابَ فَذَكَرَ نَحْوَهُ حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنِ الْبَرَاءِ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ وَهُوَ يَحْمِلُ التُّرَابَ فَذَكَرَ نَحْوَهُ

حضرت براء ؓ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو خندق کی کھدائی کے موقع پر دیکھا کہ آپ ﷺ لوگوں کے ساتھ مٹی اٹھاتے جارہے ہیں اور ( عبداللہ بن رواحہ ؓ کے) یہ اشعار پڑھتے جارہے ہیں اے اللہ اگر تو نہ ہوتا تو ہم ہدایت پاسکتے صدقہ کرتے اور نہ ہی نماز پڑھ سکتے لہٰذا تو ہم پر سکینہ نازل فرما اور دشمن سے آمنا سامنا ہونے پر ہمیں ثابت قدمی عطا فرما ان لوگوں نے ہم پر سرکشی کی ہے اور وہ جب کسی فتنے کا ارادہ کرتے ہیں تو ہم انکار کردیتے ہیں اس آخری جملے پر نبی کریم ﷺ اپنی آواز بلند فرمالیتے ہیں۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

17840Musnad Imam Ahmad

حضرت براء بن عازب (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ وَهَاشِمٌ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ أَصَبْنَا يَوْمَ خَيْبَرَ حُمُرًا فَنَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَكْفِئُوا الْقُدُورَ حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ وَابْنُ جَعْفَرٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ وَابْنَ أَبِي أَوْفَى

حضرت براء بن عازب ؓ سے مروی ہے کہ غزوہ خیبر کے موقع پر کچھ گدھے ہمارے ہاتھ لگے تو نبی کریم ﷺ کے منادی نے اعلان کردیا کہ ہانڈیاں الٹادو۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

17841Musnad Imam Ahmad

حضرت براء بن عازب (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ذَكَرَ عَذَابَ الْقَبْرِ قَالَ يُقَالُ لَهُ مَنْ رَبُّكَ فَيَقُولُ اللَّهُ رَبِّي وَنَبِيِّي مُحَمَّدٌ فَذَلِكَ قَوْلُهُ يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا يَعْنِي بِذَلِكَ الْمُسْلِمَ

حضرت براء بن عازب ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے عذاب قبر کا تذکرہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا قبر میں جب انسان سے سوال ہو کہ تیرا رب کون ہے اور وہ جواب دے دے کہ میرا رب اللہ ہے اور میرے نبی محمد ﷺ ہیں تو یہی مطلب ہے اس آیت کا کہ اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اہل ایمان کو ثابت شدہ قول " پر ثابت رکھتا ہے۔