حضرت براء بن عازب (رض) کی مرویات

Musnad Imam Ahmad · Chapter 586 · 226 hadiths · Page 2 of 12

17762Musnad Imam Ahmad

حضرت براء بن عازب (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ أَخْبَرَنَا أَبُو جَنَابٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْبَرَاءِ عَنْ أَبِيهِ خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ فَقَالَ إِنَّ أَوَّلَ نُسُكِكُمْ هَذِهِ الصَّلَاةُ فَقَامَ إِلَيْهِ أَبُو بُرْدَةَ بْنُ نِيَارٍ خَالِي قَالَ سُهَيْلٌ وَكَانَ بَدْرِيًّا فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَانَ يَوْمًا نَشْتَهِي فِيهِ اللَّحْمَ ثُمَّ إِنَّا عَجَّلْنَا فَذَبَحْنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَبْدِلْهَا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ عِنْدَنَا مَاعِزًا جَذَعًا قَالَ فَهِيَ لَكَ وَلَيْسَ لِأَحَدٍ بَعْدَكَ

حضرت براء ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ (بقرعید کے دن) نبی کریم ﷺ نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ آج کے دن کا آغاز ہم نماز پڑھ کر کریں گے پھر واپس گھر پہنچ کر قربانی کریں گے جو شخص اسی طرح کرے تو وہ ہمارے طریقے تک پہنچ گیا اور جو نماز عید سے پہلے قربانی کرے تو وہ محض گوشت ہے جو اس نے اپنے اہل خانہ کو پہلے دے دیا، اس کا قربانی سے کوئی تعلق نہیں میرے ماموں حضرت ابوبردہ بن نیار ؓ نے نماز عید سے پہلے ہی اپنا جانور ذبح کرلیا تھا وہ کہنے لگے یا رسول اللہ ﷺ! میں نے تو اپنا جانور پہلے ہی ذبح کرلیا البتہ اب میرے پاس چھ ماہ کا ایک بچہ ہے جو سال بھرکے جانور سے بھی بہتر ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا اسی کو اس کی جگہ ذبح کرلو لیکن تمہارے علاوہ کسی کو اس کی اجازت نہیں۔

17763Musnad Imam Ahmad

حضرت براء بن عازب (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا زَائِدَةُ حَدَّثَنَا أَبُو جَنَابٍ الْكَلْبِيُّ حَدَّثَنِي يَزيدُ بْنُ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ كُنَّا جُلُوسًا فِي الْمُصَلَّى يَوْمَ أَضْحَى فَأَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمَ عَلَى النَّاسِ ثُمَّ قَالَ إِنَّ أَوَّلَ نُسُكِ يَوْمِكُمْ هَذَا الصَّلَاةُ قَالَ فَتَقَدَّمَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ اسْتَقْبَلَ النَّاسَ بِوَجْهِهِ وَأُعْطِيَ قَوْسًا أَوْ عَصًا فَاتَّكَأَ عَلَيْهِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَأَمَرَهُمْ وَنَهَاهُمْ وَقَالَ مَنْ كَانَ مِنْكُمْ عَجَّلَ ذَبْحًا فَإِنَّمَا هِيَ جَزْرَةٌ أَطْعَمَهُ أَهْلَهُ إِنَّمَا الذَّبْحُ بَعْدَ الصَّلَاةِ فَقَامَ إِلَيْهِ خَالِي أَبُو بُرْدَةَ بْنُ نِيَارٍ فَقَالَ أَنَا عَجَّلْتُ ذَبْحَ شَاتِي يَا رَسُولَ اللَّهِ لِيُصْنَعَ لَنَا طَعَامٌ نَجْتَمِعُ عَلَيْهِ إِذَا رَجَعْنَا وَعِنْدِي جَذَعَةٌ مِنْ مَعْزٍ هِيَ أَوْفَى مِنْ الَّذِي ذَبَحْتُ أَفَتُغْنِي عَنِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ نَعَمْ وَلَنْ تُغْنِيَ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ قَالَ ثُمَّ قَالَ يَا بِلَالُ قَالَ فَمَشَى وَاتَّبَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَتَى النِّسَاءَ فَقَالَ يَا مَعْشَرَ النِّسْوَانِ تَصَدَّقْنَ الصَّدَقَةُ خَيْرٌ لَكُنَّ قَالَ فَمَا رَأَيْتُ يَوْمًا قَطُّ أَكْثَرَ خَدَمَةً مَقْطُوعَةً وَقِلَادَةً وَقُرْطًا مِنْ ذَلِكَ الْيَوْمِ

حضرت براء ؓ سے مروی کہ عیدالاضحی کے موقع پر ہم لوگ عیدگاہ میں بیٹھے ہوئے تھے کہ نبی کریم ﷺ تشریف لائے آپ ﷺ نے لوگوں کو سلام کیا اور فرمایا کہ آج کی سب سے پہلی عبادت نماز ہے پھر آپ ﷺ نے آگے بڑھ کردو رکعتیں پڑھادیں اور سلام پھیر کر اپنارخ انور لوگوں کی طرف کرلیا نبی کریم ﷺ کو ایک کمان یا لاٹھی پیش کی گئی جس سے آپ ﷺ نے ٹیک لگائی اللہ کی حمد وثناء بیان کی اور کچھ اوامرو نواہی بیان کئے اور فرمایا تم میں سے جس شخص نے نماز سے پہلے جانور ذبح کرلیا ہو تو وہ صرف ایک جانور ہے جو اس نے اپنے اہل خانہ کو کھلا دیا قربانی تو نماز کے بعد ہوتی ہے۔ یہ سن کر میرے ماموں حضرت ابوبردہ بن نیار ؓ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ ﷺ! میں نے اپنی بکری نماز سے پہلے ذبح کرلی تھی تاکہ جب ہم واپس جائیں تو کھانا تیار ہو اور ہم اکٹھے بیٹھ کر کھالیں البتہ میرے پاس بکری کا ایک چھ ماہ کا بچہ ہے جو اس بکری سے زیادہ صحت مند ہے جسے میں ذبح کرچکا ہوں کیا وہ میری طرف سے کافی ہوجائے گا؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہاں! لیکن تمہارے علاوہ کسی کی طرف سے کافی نہیں ہوگا پھر نبی کریم ﷺ نے حضرت بلال ؓ کو آواز دی اور وہ چل پڑے، نبی کریم ﷺ بھی ان کے پیچھے چل پڑے یہاں تک کہ عورتوں کے پاس پہنچ کر نبی کریم ﷺ نے فرمایا اے گروہ نسواں! صدقہ کیا کرو کہ تمہارے حق میں صدقہ کرنا ہی سب سے بہتر ہے حضرت براء ؓ کہتے ہیں کہ میں نے اس دن سے زیادہ پازیبیں، ہار اور بالیاں کبھی نہیں دیکھیں۔

17764Musnad Imam Ahmad

حضرت براء بن عازب (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ إِيَادٍ قَالَ حَدَّثَنَا إِيَادُ بْنُ لَقِيطٍ عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَجَدْتَ فَضَعْ كَفَّيْكَ وَارْفَعْ مِرْفَقَيْكَ

حضرت براء ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تم سجدہ کیا کرو تو اپنی ہتھیلیوں کو زمین پر رکھ لیا کرو اور اپنے بازواوپر اٹھا کر رکھا کرو۔

17765Musnad Imam Ahmad

حضرت براء بن عازب (رض) کی مرویات

قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَاه جَعْفَرُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ إِيَادٍ قَالَ حَدَّثَنَا إِيَادٌ عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ تَقُولُونَ بِفَرَحِ رَجُلٍ انْفَلَتَتْ مِنْهُ رَاحِلَتُهُ تَجُرُّ زِمَامَهَا بِأَرْضٍ قَفْرٍ لَيْسَ فِيهَا طَعَامٌ وَلَا شَرَابٌ وَعَلَيْهَا طَعَامٌ قَالَ عَفَّانُ وَشَرَابٌ فَطَلَبَهَا حَتَّى شَقَّ عَلَيْهِ ثُمَّ مَرَّتْ بِجِذْلِ شَجَرَةٍ قَالَ عَفَّانُ بِجِذْلٍ فَتَعَلَّقَ زِمَامُهَا فَوَجَدَهَا مُعَلَّقَةً بِهِ قَالَ عَفَّانُ مُتَعَلِّقَةً بِهِ قَالَ قُلْنَا شَدِيدٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَا وَاللَّهِ لَلَّهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ مِنْ الرَّجُلِ بِرَاحِلَتِهِ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ و حَدَّثَنَاه جَعْفَرُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ إِيَادٍ مِثْلَهُ

حضرت براء بن عازب ؓ سے غالباً مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا یہ بتاؤ کہ اگر ایک آدمی کسی جنگل کے راستے سفر پر روانہ ہوا راستے میں وہ ایک درخت کے نیچے قیلولہ کرے اس کے ساتھ اس کی سواری بھی ہو جس پر کھانے پینے کا سامان رکھا ہوا ہو وہ آدمی جب سو کر اٹھے تو اسے اپنی سواری نظر نہ آئے وہ ایک بلند ٹیلے پر چڑھ کر دیکھے لیکن سواری نظر نہ آئے پھر دوسرے ٹیلے پر چڑھے لیکن سواری نظر نہ آئے پھر پیچھے مڑ کر دیکھے تو اچانک اسے اپنی سواری نظر آجائے جو اپنی لگام گھسیٹتی چلی جارہی ہو تو وہ کتنا خوش ہوگا لیکن اس کی یہ خوشی اللہ کی اس خوشی سے زیادہ نہیں ہوتی جب بندہ اللہ کے سامنے توبہ کرتا ہے اور اللہ خوش ہوتا ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

17766Musnad Imam Ahmad

حضرت براء بن عازب (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْبَرَاءِ قَالَ مَا كُلُّ الْحَدِيثِ سَمِعْنَاهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُحَدِّثُنَا أَصْحَابُنَا عَنْهُ كَانَتْ تَشْغَلُنَا عَنْهُ رَعِيَّةُ الْإِبِلِ

حضرت براء ؓ فرماتے ہیں کہ ساری حدیثیں ہم نے نبی کریم ﷺ ہی سے نہیں سنیں ہمارے ساتھی بھی ہم سے احادیث بیان کرتے تھے اونٹوں کو چرانے کی وجہ سے ہم نبی کریم ﷺ کی خدمت میں بہت زیادہ حاضر نہیں ہوپاتے تھے۔

17767Musnad Imam Ahmad

حضرت براء بن عازب (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ طَلْحَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْسَجَةَ عَنِ الْبَرَاءِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيِّنُوا الْقُرْآنَ بِأَصْوَاتِكُمْ

حضرت براء ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا قرآن کریم کو اپنی آواز سے مزین کیا کرو۔

17768Musnad Imam Ahmad

حضرت براء بن عازب (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مِنْ الْحَقِّ عَلَى الْمُسْلِمِينَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ أَنْ يَغْتَسِلَ وَيَمَسَّ طِيبًا إِنْ وَجَدَ فَإِنْ لَمْ يَجِدْ طِيبًا فَالْمَاءُ طِيبٌ

حضرت براء ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا مسلمانوں پر یہ حق ہے کہ ان میں سے ہر ایک جمعہ کے دن غسل کرے خوشبو لگائے بشرطیکہ موجود بھی ہو اگر خوشبو نہ ہو تو پانی ہی بہت پاک کرنے والا ہے۔

17769Musnad Imam Ahmad

حضرت براء بن عازب (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ أَوَّلَ مَا قَدِمَ الْمَدِينَةَ نَزَلَ عَلَى أَجْدَادِهِ وَأَخْوَالِهِ مِنْ الْأَنْصَارِ وَأَنَّهُ صَلَّى قِبَلَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ سِتَّةَ عَشَرَ أَوْ سَبْعَةَ عَشَرَ شَهْرًا وَكَانَ يُعْجِبُهُ أَنْ تَكُونَ قِبْلَتُهُ قِبَلَ الْبَيْتِ وَأَنَّهُ صَلَّى أَوَّلَ صَلَاةٍ صَلَّاهَا صَلَاةَ الْعَصْرِ وَصَلَّى مَعَهُ قَوْمٌ فَخَرَجَ رَجُلٌ مِمَّنْ صَلَّى مَعَهُ فَمَرَّ عَلَى أَهْلِ مَسْجِدٍ وَهُمْ رَاكِعُونَ فَقَالَ أَشْهَدُ بِاللَّهِ لَقَدْ صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِبَلَ مَكَّةَ قَالَ فَدَارُوا كَمَا هُمْ قِبَلَ الْبَيْتِ وَكَانَ يُعْجِبُهُ أَنْ يُحَوَّلَ قِبَلَ الْبَيْتِ وَكَانَ الْيَهُودُ قَدْ أَعْجَبَهُمْ إِذْ كَانَ يُصَلِّي قِبَلَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ وَأَهْلُ الْكِتَابِ فَلَمَّا وَلَّى وَجْهَهُ قِبَلَ الْبَيْتِ أَنْكَرُوا ذَلِكَ

حضرت براء ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو سب سے پہلے اپنے ننہیال میں قیام فرمایا: آپ ﷺ نے سولہ (یاسترہ) مہینے بیت المقدس کی طرف رخ کرکے نماز پڑھی جبکہ آپ کی خواہش یہ تھی کہ قبلہ بیت اللہ کی جانب ہو اور آپ ﷺ نے بیت اللہ کی طرف رخ کرکے سب سے پہلی جو نماز پڑھی وہ نماز عصر تھی جس میں کچھ لوگ نبی کریم ﷺ کے ساتھ شریک تھے ان ہی میں سے ایک آدمی باہر نکلا تو کسی مسجد کے قریب سے گذرا جہاں نمازی بیت المقدس کی طرف رخ کرکے رکوع کی حالت میں تھے اس نے کہا کہ میں اللہ کے نام پر گواہی دیتا ہوں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ بیت اللہ کی جانب رخ کرکے نماز پڑھی ہے چناچہ وہ لوگ اسی حال میں بیت اللہ کی جانب گھوم گئے الغرض! نبی کریم ﷺ کی خواہش یہ تھی کہ آپ کا رخ بیت اللہ کی طرف دیا جائے کیونکہ جب نبی کریم ﷺ بیت المقدس کی طرف رخ کرکے نماز پڑھتے تھے تو یہودی اور تمام اہل کتاب اس سے بہت خوش ہوتے تھے اور جب نبی کریم ﷺ نے بیت اللہ کی طرف اپنا رخ پھیرلیا تو وہ انہیں ناگوار گذرا۔

17770Musnad Imam Ahmad

حضرت براء بن عازب (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ جَابِرٍ عَنْ عَامِرٍ عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ابْنِهِ إِبْرَاهِيمَ وَمَاتَ وَهُوَ ابْنُ سِتَّةَ عَشَرَ شَهْرًا وَقَالَ إِنَّ لَهُ فِي الْجَنَّةِ مَنْ يُتِمُّ رَضَاعَهُ وَهُوَ صِدِّيقٌ

حضرت براء ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اپنے صاحبزادے حضرت ابراہیم ؓ کی نماز جنازہ پڑھائی جن کا انتقال صرف سولہ مہینے کی عمر میں ہوگیا تھا اور فرمایا جنت میں ان کے لئے دائی کا مقرر کی گئی ہے جوان کی مدت رضاعت کی تکمیل کرے گی اور وہ صدیق ہیں۔

17771Musnad Imam Ahmad

حضرت براء بن عازب (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْبَرَاءِ قَالَ مَا كُلُّ مَا نُحَدِّثُكُمُوهُ سَمِعْنَاهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَكِنْ حَدَّثَنَا أَصْحَابُنَا وَكَانَتْ تَشْغَلُنَا رَعِيَّةُ الْإِبِلِ

حضرت براء ؓ فرماتے ہیں کہ ساری حدیثیں ہم نے نبی کریم ﷺ ہی سے نہیں سنیں ہمارے ساتھی بھی ہم سے احادیث بیان کرتے تھے اونٹوں کو چرانے کی وجہ سے ہم نبی کریم ﷺ کی خدمت میں بہت زیادہ حاضر نہیں ہوپاتے تھے۔

17772Musnad Imam Ahmad

حضرت براء بن عازب (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْبَرَاءِ أَوْ غَيْرِهِ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ بِالْعَبَّاسِ قَدْ أَسَرَهُ فَقَالَ الْعَبَّاسُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَيْسَ هَذَا أَسَرَنِي أَسَرَنِي رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ أَنْزِعُ مِنْ هَيْئَتِهِ كَذَا وَكَذَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلرَّجُلِ لَقَدْ آزَرَكَ اللَّهُ بِمَلَكٍ كَرِيمٍ

حضرت براء ؓ سے مروی ہے کہ ایک انصاری آدمی حضرت عباس ؓ کو (غزوہ بدر کے موقع پر ) قیدی بنا کر لایا حضرت عباس ؓ کہنے لگے یاسول اللہ ﷺ! مجھے اس شخص نے قید نہیں کیا مجھے تو ایک دوسرے آدمی نے قید کیا ہے جس کی ہیئت میں سے فلاں فلاں چیزیاد ہے نبی کریم ﷺ نے اس شخص سے فرمایا اللہ نے ایک معزز فرشتے کے ذریعے تمہاری مدد فرمائی۔

17773Musnad Imam Ahmad

حضرت براء بن عازب (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ أَخْبَرَنِي عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُحِبُّ الْأَنْصَارَ إِلَّا مُؤْمِنٌ وَلَا يُبْغِضُهُمْ إِلَّا مُنَافِقٌ مَنْ أَحَبَّهُمْ أَحَبَّهُ اللَّهُ وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ أَبْغَضَهُ اللَّهُ قَالَ شُعْبَةُ قُلْتُ لِعَدِيٍّ أَنْتَ سَمِعْتَ مِنْ الْبَرَاءِ قَالَ إِيَّايَ يُحَدِّثُ

حضرت براء ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا انصار سے وہی محبت کرے گا جو مؤمن ہو اور ان سے وہی بغض رکھے گا جو منافق ہو جو ان سے محبت کرے اللہ اس سے محبت کرے اور جوان سے نفرت کرے اللہ اس سے نفرت کرے۔

17774Musnad Imam Ahmad

حضرت براء بن عازب (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ حَامِلًا الْحَسَنَ فَقَالَ إِنِّي أُحِبُّهُ فَأَحِبَّهُ

حضرت براء ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک مرتبہ حضرت امام حسن ؓ کو اٹھا کر رکھا تھا اور فرما رہے تھے میں اس سے محبت کرتا ہوں تم بھی اس سے محبت کرو۔

17775Musnad Imam Ahmad

حضرت براء بن عازب (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ عَنِ الْبَرَاءِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِإِبْرَاهِيمَ مُرْضِعٌ فِي الْجَنَّةِ

حضرت براء ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ابراہیم ؓ کے لئے جنت میں دودھ پلانے والی عورت کو انتظام کیا گیا ہے۔

17776Musnad Imam Ahmad

حضرت براء بن عازب (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ عَنِ الْبَرَاءِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي سَفَرٍ فَقَرَأَ فِي الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ فِي إِحْدَى الرَّكْعَتَيْنِ بِالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ

حضرت براء ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ ایک سفر میں تھے آپ ﷺ نے نماز عشاء کی ایک رکعت میں سورت والتین کی تلاوت فرمائی

17777Musnad Imam Ahmad

حضرت براء بن عازب (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا الْأَشْعَثُ بْنُ سُلَيْمٍ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعٍ وَنَهَانَا عَنْ سَبْعٍ قَالَ فَذَكَرَ مَا أَمَرَهُمْ مِنْ عِيَادَةِ الْمَرِيضِ وَاتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ وَتَشْمِيتِ الْعَاطِسِ وَرَدِّ السَّلَامِ وَإِبْرَارِ الْمُقْسِمِ وَإِجَابَةِ الدَّاعِي وَنَصْرِ الْمَظْلُومِ وَنَهَانَا عَنْ آنِيَةِ الْفِضَّةِ وَعَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ أَوْ قَالَ حَلْقَةِ الذَّهَبِ وَالْإِسْتَبْرَقِ وَالْحَرِيرِ وَالدِّيبَاجِ وَالْمِيثَرَةِ وَالْقَسِّيِّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ سُلَيْمٍ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ تَشْمِيتِ الْعَاطِسِ

حضرت براء ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ہمیں سات چیزوں کا حکم دیا ہے اور سات چیزوں سے منع کیا ہے پھر انہوں نے حکم والی چیزوں کا ذکر کرتے ہوئے مریض کی بیمار پرسی کا تذکرہ کیا نیز یہ کہ جنازے کے ساتھ جاناچھینکنے والے کو جواب دینا سلام کا جواب دینا قسم کھانے والے کو سچا کرنا، دعوت کو قبول کرنا مظلوم کی مدد کرنا اور نبی کریم ﷺ نے ہمیں چاندی کے برتن سونے کی انگوٹھی، استبرق، حریر، دیباج (تینوں ریشم کے نام ہیں) سرخ خوان پوش سے اور ریشمی کتان سے منع فرمایا ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

17778Musnad Imam Ahmad

حضرت براء بن عازب (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا مُعَاذٌ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الْكُوفِيِّ عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الصَّفِّ الْمُقَدَّمِ وَالْمُؤَذِّنُ يُغْفَرُ لَهُ مَدَّ صَوْتِهِ وَيُصَدِّقُهُ مَنْ سَمِعَهُ مِنْ رَطْبٍ وَيَابِسٍ وَلَهُ مِثْلُ أَجْرِ مَنْ صَلَّى مَعَهُ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ و حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ الْقَوَارِيرِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ فَذَكَرَ مِثْلَهُ بِإِسْنَادِهِ

حضرت براء ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا صف اول کے لوگوں پر اللہ تعالیٰ نزول رحمت اور فرشتے دعاء رحمت کرتے رہتے ہیں اور مؤذن کی آواز جہاں تک جاتی ہے اور جو بھی خشک یا تر چیز اسے سنتی ہے تو اس کی تصدیق کرتی ہے اور اس کی برکت سے مؤذن کی مغفرت کردی جاتی ہے اور اسے ان لوگوں کا اجر بھی ملتا ہے جو اس کے ساتھ نماز پڑھتے ہیں۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

17779Musnad Imam Ahmad

حضرت براء بن عازب (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْبَرَاءِ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنْ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْدًا فَجَاءَ بِكَتِفٍ فَكَتَبَهَا قَالَ فَجَاءَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ فَشَكَا ضَرَارَتَهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَزَلَتْ غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ

حضرت براء ؓ سے مروی ہے کہ ابتداء قرآن کریم کی یہ آیت نازل ہوئی کہ " مسلمانوں میں سے جو لوگ جہاد کے انتظار میں بیٹھے ہوئے ہیں وہ اور اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والے بھی برابر نہیں ہوسکتے " نبی کریم ﷺ نے حضرت زید ؓ کو بلا کر حکم دیا وہ شانے کی ایک ہڈی لے آئے اور اس پر یہ آیت لکھ دی، اس پر حضرت ابن ام مکتوم ؓ نے اپنے نابینا ہونے کی شکایت کی تو اس آیت میں " غیراولیٰ الضرر " کا لفظ مزید نازل ہوا۔

17780Musnad Imam Ahmad

حضرت براء بن عازب (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ قَالَ قَرَأَ رَجُلٌ سُورَةَ الْكَهْفِ وَلَهُ دَابَّةٌ مَرْبُوطَةٌ فَجَعَلَتْ الدَّابَّةُ تَنْفِرُ فَنَظَرَ الرَّجُلُ إِلَى سَحَابَةٍ قَدْ غَشِيَتْهُ أَوْ ضَبَابَةٍ فَفَزِعَ فَذَهَبَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ سَمَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاكَ الرَّجُلَ قَالَ نَعَمْ فَقَالَ اقْرَأْ فُلَانُ فَإِنَّ السَّكِينَةَ نَزَلَتْ لِلْقُرْآنِ أَوْ عِنْدَ الْقُرْآنِ

حضرت براء ؓ سے مروی ہے کہ ایک شخص سورت کہف پڑھ رہا تھا گھر میں کوئی جانور (گھوڑا) بھی بندھا ہوا تھا اچانک وہ بدکنے لگا اس شخص نے دیکھا تو ایک بادل یا سائبان تھا جس نے اسے ڈھانپ رکھا تھا اس نے نبی کریم ﷺ سے اس چیز کا تذکرہ کیا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا اے فلاں! پڑھتے رہا کرو کہ یہ سکینہ تھا جو قرآن کریم کی تلاوت کے وقت اترتا ہے۔

17781Musnad Imam Ahmad

حضرت براء بن عازب (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ فَيْرُوزَ مَوْلَى بَنِي شَيْبَانَ أَنَّهُ سَأَلَ الْبَرَاءَ عَنْ الْأَضَاحِيِّ مَا نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا كَرِهَ فَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَدِي أَقْصَرُ مِنْ يَدِهِ فَقَالَ أَرْبَعٌ لَا تُجْزِئُ الْعَوْرَاءُ الْبَيِّنُ عَوَرُهَا وَالْمَرِيضَةُ الْبَيِّنُ مَرَضُهَا وَالْعَرْجَاءُ الْبَيِّنُ ظَلْعُهَا وَالْكَسِيرُ الَّتِي لَا تُنْقِي قَالَ قُلْتُ فَإِنِّي أَكْرَهُ أَنْ يَكُونَ فِي الْقَرْنِ نَقْصٌ أَوْ قَالَ فِي الْأُذُنِ نَقْصٌ أَوْ فِي السِّنِّ نَقْصٌ قَالَ مَا كَرِهْتَ فَدَعْهُ وَلَا تُحَرِّمْهُ عَلَى أَحَدٍ

عبید بن فیروز (رح) نے حضرت براء ؓ سے پوچھا کہ نبی کریم ﷺ نے کس قسم کی جانور کی قربانی سے منع کیا ہے اور کسے مکروہ سمجھا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ جناب رسول ﷺ نے فرمایا چار جانور قربانی میں کافی نہیں ہوسکتے وہ کانا جانور جس کا کانا ہونا واضح ہو وہ بیمار جانور جس کی بیماری واضح ہو وہ لنگڑا جانور کی لنگراہٹ واضح ہو اور وہ جانور جس کی ہڈی ٹوٹ کر اس کا گودا نکل گیا ہو عبید نے کہا کہ میں اس جانور کو مکروہ سمجھتا ہوں جس کے سینگ کان یا دانت میں کوئی نقص ہو، انہوں نے فرمایا کہ تم جسے مکروہ سمجھتے ہو اسے چھوڑ دو لیکن کسی دوسرے پر اسے اسے حرام قرار نہ دو۔