حضرت نعمان بن بشیر (رض) کی مرویات

Musnad Imam Ahmad · Chapter 580 · 101 hadiths · Page 5 of 6

17708Musnad Imam Ahmad

حضرت نعمان بن بشیر (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مِسْعَرٍ قَالَ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ فِي الْعِيدَيْنِ وَالْجُمُعَةِ بِسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَهَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ

حضرت نعمان ؓ سے مروی ہے ہے کہ نبی کریم ﷺ عیدین میں اور جمعہ میں سورت اعلیٰ اور سورت غاشیہ کی تلاوت فرماتے تھے۔

17709Musnad Imam Ahmad

حضرت نعمان بن بشیر (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ ذَرٍّ الْهَمْدَانِيِّ عَنْ يُسَيْعٍ عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الدُّعَاءَ هُوَ الْعِبَادَةُ ثُمَّ قَرَأَ وَقَالَ رَبُّكُمْ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ

حضرت نعمان ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا دعاء ہی اصل عبادت ہے پھر نبی کریم ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی " مجھ سے دعاء مانگو، میں تمہاری دعاء قبول کروں گا "

17710Musnad Imam Ahmad

حضرت نعمان بن بشیر (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُؤْمِنُونَ كَرَجُلٍ وَاحِدٍ إِذَا اشْتَكَى رَأْسُهُ تَدَاعَى لَهُ سَائِرُ الْجَسَدِ بِالْحُمَّى وَالسَّهَرِ

حضرت نعمان ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا مؤمن کی مثال باہمی محبت، ہمدردی اور شفقت میں جسم کی سی ہے کہ اگر انسان کے ایک عضو کو تکلیف ہوتی ہے تو سارے جسم کو شب بیداری اور بخار کا احساس ہوتا ہے۔

17711Musnad Imam Ahmad

حضرت نعمان بن بشیر (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ قَالَ خَيْثَمَةُ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُؤْمِنُونَ كَرَجُلٍ وَاحِدٍ إِذَا اشْتَكَى رَأْسُهُ اشْتَكَى كُلُّهُ وَإِنْ اشْتَكَى عَيْنُهُ اشْتَكَى كُلُّهُ

حضرت نعمان ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا مؤمن کی مثال جسم کی سی ہے کہ اگر انسان کے سر کو تکلیف ہوتی ہے تو سارے جسم کو تکلیف کا احساس ہوتا ہے اور اگر آنکھ میں تکلیف ہو تب بھی سارے جسم کو تکلیف ہوتی ہے،۔

17712Musnad Imam Ahmad

حضرت نعمان بن بشیر (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ سِمَاكٍ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَى رَجُلًا خَارِجًا صَدْرُهُ مِنْ الصَّفِّ فَقَالَ اسْتَوُوا وَلَا تَخْتَلِفُوا فَتَخْتَلِفَ قُلُوبُكُمْ

حضرت نعمان ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہمیں نماز پڑھانے کے لئے آئے تو ایک آدمی کو دیکھا کہ اس کا سینہ صف سے باہر نکلا ہوا ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا برابر ہوجاؤ، آگے پیچھے مت ہوا کرو ورنہ تمہارے دلوں میں بھی اختلاف پیدا ہوجائے گا۔

17713Musnad Imam Ahmad

حضرت نعمان بن بشیر (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مَنْصُورٍ وَالْأَعْمَشِ عَنْ ذَرٍّ عَنْ يُسَيْعٍ الْحَضْرَمِيِّ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ وَيَقُولُ إِنَّ الدُّعَاءَ هُوَ الْعِبَادَةُ ثُمَّ قَرَأَ وَقَالَ رَبُّكُمْ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ ذَرٍّ عَنْ يُسَيْعٍ الْحَضْرَمِيِّ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ نَحْوَهُ كَذَا قَالَ شُعْبَةُ مِثْلَهُ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ أُخْبِرْتُ أَنَّ أُسَيْعًا هُوَ يُسَيْعُ بْنُ مَعْدَانَ الْحَضْرَمِيُّ

حضرت نعمان ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا دعاء ہی اصل عبادت ہے پھر نبی کریم ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی " مجھ سے دعاء مانگو، میں تمہاری دعاء قبول کروں گا " گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

17714Musnad Imam Ahmad

حضرت نعمان بن بشیر (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ الضَّحَّاكَ بْنَ قَيْسٍ سَأَلَ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ بِمَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْجُمُعَةِ مَعَ سُورَةِ الْجُمُعَةِ قَالَ هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ

ضحاک بن قیس (رح) کہتے ہیں کہ انہوں نے حضرت نعمان بن بشیر ؓ سے پوچھا کہ نبی کریم ﷺ نماز جمعہ میں سورت جمعہ کے علاوہ اور کون سی سورت پڑھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا سورت غاشیہ۔

17715Musnad Imam Ahmad

حضرت نعمان بن بشیر (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ يُونُسَ عَنِ الْحَسَنِ أَنَّ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ كَتَبَ إِلَى قَيْسِ بْنِ الْهَيْثَمِ إِنَّكُمْ إِخْوَانُنَا وَأَشِقَّاؤُنَا وَإِنَّا شَهِدْنَا وَلَمْ تَشْهَدُوا وَسَمِعْنَا وَلَمْ تَسْمَعُوا وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ إِنَّ بَيْنَ يَدَيْ السَّاعَةِ فِتَنًا كَأَنَّهَا قِطَعُ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ يُصْبِحُ الرَّجُلُ فِيهَا مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا وَيَبِيعُ فِيهَا أَقْوَامٌ خَلَاقَهُمْ بِعَرَضٍ مِنْ الدُّنْيَا

حضرت نعمان ؓ نے قیس بن ہیثم کو خط میں لکھا کہ تم لوگ ہمارے بھائی ہو لیکن ہم ایسے مواقع پر موجود رہے ہیں جہاں تم نہیں رہے اور ہم نے وہ باتیں سنی ہیں جو تم نے نہیں سنیں نبی کریم ﷺ فرماتے تھے کہ قیامت سے پہلے فتنے اس طرح رونما ہوں گے جیسے تاریک رات کے حصے ہوتے ہیں اس زمانے میں ایک آدمی صبح کو مسلمان اور شام کو کافر ہوگا یا شام کو مسلمان اور صبح کو کافر ہوگا اور لوگ اپنے دین و اخلاق کو دنیا کے ذرا سے مال و متاع کے عوض بیچ دیں گے۔

17716Musnad Imam Ahmad

حضرت نعمان بن بشیر (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ أَبِي الْجَعْدِ قَالَ سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَتُسَوُّنَّ صُفُوفَكُمْ فِي صَلَاتِكُمْ أَوْ لَيُخَالِفَنَّ اللَّهُ بَيْنَ وُجُوهِكُمْ

حضرت نعمان بن بشیر ؓ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اپنی صفوں کو درست (سیدھا) رکھا کرو ورنہ اللہ تمہارے درمیان اختلاف ڈال دے گا۔

17717Musnad Imam Ahmad

حضرت نعمان بن بشیر (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَحَجَّاجٌ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ قَالَ سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَوِّي الصَّفَّ حَتَّى يَجْعَلَهُ مِثْلَ الرُّمْحِ أَوْ الْقَدَحِ قَالَ فَرَأَى صَدْرَ رَجُلٍ نَاتِئًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عِبَادَ اللَّهِ لَتُسَوُّنَّ صُفُوفَكُمْ أَوْ لَيُخَالِفَنَّ اللَّهُ بَيْنَ وُجُوهِكُمْ

حضرت نعمان ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ صفوں کو اس طرح درست کرواتے تھے جیسے ہماری صفوں سے تیروں کو سیدھا کررہے ہوں ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے جب تکبیر کہنے کا ارادہ کیا تو دیکھا کہ ایک آدمی کا سینہ باہر نکلا ہوا تھا نبی کریم ﷺ نے فرمایا اپنی صفوں کو درست (سیدھا) رکھا کرو ورنہ اللہ تمہارے درمیان اختلاف ڈال دے گا۔

17718Musnad Imam Ahmad

حضرت نعمان بن بشیر (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَهَاشِمٌ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ هَاشِمٌ قَالَ يَعْنِي فِي حَدِيثِهِ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْجُمُعَةِ قَالَ هَاشِمٌ فِي صَلَاةِ الْجُمُعَةِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ بِسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَهَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ وَرُبَّمَا اجْتَمَعَ عِيدَانِ فَقَرَأَ بِهِمَا

حضرت نعمان ؓ سے مروی ہے ہے کہ نبی کریم ﷺ عیدین میں سورت اعلیٰ اور سورت غاشیہ کی تلاوت فرماتے تھے اور اگر عید جمعہ کے دن جاتی تو دونوں نمازوں (عید اور جمعہ) میں یہی دونوں سورتیں پڑھتے تھے۔

17719Musnad Imam Ahmad

حضرت نعمان بن بشیر (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَحَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ عَنْ أَبِي قِلَابَةِ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ انْكَسَفَتْ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْكَعُ وَيَسْجُدُ قَالَ حَجَّاجٌ مِثْلَ صَلَاتِنَا

حضرت نعمان ؓ سے مروی ہے کہ سورج گرہن کے موقع پر اسی طرح نماز پڑھائی تھی جیسے تم عام طور پر پڑھتے ہو اور اسی طرح رکوع سجدہ کیا تھا۔

17720Musnad Imam Ahmad

حضرت نعمان بن بشیر (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ عُرْفُطَةَ عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ فِي الرَّجُلِ يَأْتِي جَارِيَةَ امْرَأَتِهِ قَالَ إِنْ كَانَتْ أَحَلَّتْهَا لَهُ جَلَدْتُهُ مِائَةً وَإِنْ لَمْ تَكُنْ أَحَلَّتْهَا لَهُ رَجَمْتُهُ

حضرت نعمان ؓ سے مروی ہے کہ وہ آدمی جو اپنی بیوی کی باندی سے مباشرت کرے نبی کریم ﷺ نے اس کے متعلق فرمایا ہے کہ اگر اس کی بیوی نے اسے اپنی باندی سے فائدہ اٹھانے کی اجازت دی ہوگی تو میں اسے سو کوڑے لگاؤں گا اور اگر اجازت نہ دی تو میں اسے رجم کردوں گا۔

17721Musnad Imam Ahmad

حضرت نعمان بن بشیر (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ قَالَ ابْنُ بَكْرٍ مَوْلَى النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ أَنَّهُ رُفِعَ إِلَيْهِ رَجُلٌ غَشِيَ جَارِيَةَ امْرَأَتِهِ فَقَالَ لَأَقْضِيَنَّ فِيهَا بِقَضِيَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ كَانَتْ أَحَلَّتْهَا لَكَ جَلَدْتُكَ مِائَةَ جَلْدَةٍ وَإِنْ كَانَتْ لَمْ تُحِلَّهَا لَكَ رَجَمْتُكَ قَالَ فَوَجَدَهَا قَدْ كَانَتْ أَحَلَّتْهَا لَهُ فَجَلَدَهُ مِائَةً

حبیب بن سالم (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت نعمان ؓ کے پاس ایک آدمی کو لایا گیا جس کی بیوی نے اپنی باندی سے فائدہ اٹھانا اپنے شوہر کے لئے حلال کردیا تھا، انہوں نے فرمایا کہ میں اس کے متعلق نبی کریم ﷺ والا فیصلہ ہی کروں گا، اگر اس کی بیوی نے اسے اپنی باندی سے فائدہ اٹھانے کی اجازت دی ہوگی تو میں اسے سو کوڑے لگاؤں گا اور اگر اجازت نہ دی ہو تو میں اسے رجم کر دوں گا معلوم ہوا کہ اس کی بیوی نے اجازت دے رکھی تھی اس لئے انہوں نے اسے سو کوڑے لگائے۔

17722Musnad Imam Ahmad

حضرت نعمان بن بشیر (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ أَتَتْهُ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ إِنَّ زَوْجَهَا وَقَعَ عَلَى جَارِيَتِهَا قَالَ أَمَا إِنَّ عِنْدِي فِي ذَلِكَ خَبَرًا شَافِيًا أَخَذْتُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ كُنْتِ أَذِنْتِ لَهُ ضَرَبْتُهُ مِائَةً وَإِنْ كُنْتِ لَمْ تَأْذَنِي لَهُ رَجَمْتُهُ قَالَ فَأَقْبَلَ النَّاسُ عَلَيْهَا فَقَالُوا زَوْجُكِ يُرْجَمُ قُولِي إِنَّكِ قَدْ كُنْتِ أَذِنْتِ لَهُ فَقَالَتْ قَدْ كُنْتُ أَذِنْتُ لَهُ فَقَدَّمَهُ فَضَرَبَهُ مِائَةً

حبیب بن سالم (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت نعمان ؓ کے پاس ایک آدمی کو لایا گیا جس کی بیوی نے اپنی باندی سے فائدہ اٹھانا اپنے شوہر کے لئے حلال کردیا تھا، انہوں نے فرمایا کہ میں اس کے متعلق نبی کریم ﷺ والا فیصلہ ہی کروں گا، اگر اس کی بیوی نے اسے اپنی باندی سے فائدہ اٹھانے کی اجازت دی ہوگی تو میں اسے سو کوڑے لگاؤں گا اور اگر اجازت نہ دی ہو تو میں اسے رجم کردوں گا معلوم ہوا کہ اس کی بیوی نے اجازت دے رکھی تھی اس لئے انہوں نے اسے سو کوڑے لگائے۔

17723Musnad Imam Ahmad

حضرت نعمان بن بشیر (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ أَنْبَأَنَا أَبُو بَكْرٍ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ خَيْثَمَةَ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ قَوْمٌ تَسْبِقُ شَهَادَتُهُمْ أَيْمَانَهُمْ وَتَسْبِقُ أَيْمَانُهُمْ شَهَادَتَهُمْ

حضرت نعمان بن بشیر ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا بہترین لوگ میرے زمانے کے ہیں پھر ان کے بعد والے پھر ان کے بعد والے پھر ان کے بعد والے اس کے بعد ایک ایسی قوم آئے گی جن کی قسم گواہی پر اور گواہی قسم پر سبقت لے جائے گی۔

17724Musnad Imam Ahmad

حضرت نعمان بن بشیر (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُعَاوِيَةَ بْنِ عَاصِمِ بْنِ الْمُنْذِرِ بْنِ الزُّبَيْرِ حَدَّثَنَا سَلَّامٌ أَبُو الْمُنْذِرِ الْقَارِي حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ عَنِ الشَّعْبِيِّ أَوْ خَيْثَمَةَ عَنِ النُّعْمَانِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا مَثَلُ الْمُسْلِمِينَ كَالرَّجُلِ الْوَاحِدِ إِذَا وَجِعَ مِنْهُ شَيْءٌ تَدَاعَى لَهُ سَائِرُ جَسَدِهِ

حضرت نعمان ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا مؤمن کی مثال جسم کی سی ہے کہ اگر انسان کے سر کو تکلیف ہوتی ہے تو سارے جسم کو تکلیف کا احساس ہوتا ہے۔

17725Musnad Imam Ahmad

حضرت نعمان بن بشیر (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ حَدَّثَنَا أَبُو وَكِيعٍ الْجَرَّاحُ بْنُ مَلِيحٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ مَنْ لَمْ يَشْكُرْ الْقَلِيلَ لَمْ يَشْكُرْ الْكَثِيرَ وَمَنْ لَمْ يَشْكُرْ النَّاسَ لَمْ يَشْكُرْ اللَّهَ التَّحَدُّثُ بِنِعْمَةِ اللَّهِ شُكْرٌ وَتَرْكُهَا كُفْرٌ وَالْجَمَاعَةُ رَحْمَةٌ وَالْفُرْقَةُ عَذَابٌ

حضرت نعمان بن بشیر ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک مرتبہ منبر پر فرمایا جو شخص تھوڑے پر شکر نہیں کرتا وہ زیادہ پر بھی شکر نہیں کرتا جو شخص لوگوں کا شکریہ ادا نہیں کرتا وہ اللہ کا شکر بھی ادا نہیں کرتا اللہ کے انعامات و احسانات کو بیان کرنا شکر ہے چھوڑنا کفر ہے، اجتماعیت رحمت ہے اور افتراق عذاب ہے۔

17726Musnad Imam Ahmad

حضرت نعمان بن بشیر (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ حَدَّثَنَا أَبُو وَكِيعٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى هَذِهِ الْأَعْوَادِ أَوْ عَلَى هَذَا الْمِنْبَرِ مَنْ لَمْ يَشْكُرْ الْقَلِيلَ لَمْ يَشْكُرْ الْكَثِيرَ وَمَنْ لَمْ يَشْكُرْ النَّاسَ لَمْ يَشْكُرْ اللَّهَ وَالتَّحَدُّثُ بِنِعْمَةِ اللَّهِ شُكْرٌ وَتَرْكُهَا كُفْرٌ وَالْجَمَاعَةُ رَحْمَةٌ وَالْفُرْقَةُ عَذَابٌ قَالَ فَقَالَ أَبُو أُمَامَةَ الْبَاهِلِيُّ عَلَيْكُمْ بِالسَّوَادِ الْأَعْظَمِ قَالَ فَقَالَ رَجُلٌ مَا السَّوَادُ الْأَعْظَمُ فَقَالَ أَبُو أُمَامَةَ هَذِهِ الْآيَةُ فِي سُورَةِ النُّورِ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا عَلَيْهِ مَا حُمِّلَ وَعَلَيْكُمْ مَا حُمِّلْتُمْ

حضرت نعمان بن بشیر ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک مرتبہ منبر پر فرمایا جو شخص تھوڑے پر شکر نہیں کرتا وہ زیادہ پر بھی شکر نہیں کرتا جو شخص لوگوں کا شکریہ ادا نہیں کرتا وہ اللہ کا شکر بھی ادا نہیں کرتا اللہ کے انعامات و احسانات کو بیان کرنا شکر ہے چھوڑنا کفر ہے، اجتماعیت رحمت ہے اور افتراق عذاب ہے۔

17727Musnad Imam Ahmad

حضرت نعمان بن بشیر (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ حَدَّثَنَا حَاجِبُ بْنُ الْمُفَضَّلِ يَعْنِي ابْنَ الْمُهَلَّبِ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَارِبُوا بَيْنَ أَبْنَائِكُمْ يَعْنِي سَوُّوا بَيْنَهُمْ

حضرت نعمان بن بشیر ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اپنے بچوں کے درمیان عدل کیا کرو۔