حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) کی حدیثیں

Musnad Imam Ahmad · Chapter 560 · 101 hadiths · Page 5 of 6

17516Musnad Imam Ahmad

حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) کی حدیثیں

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ جَابِرٍ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شِبْلٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ أَمَّنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الظُّهْرِ أَوْ الْعَصْرِ فَقَامَ فَقُلْنَا سُبْحَانَ اللَّهِ فَقَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ وَأَشَارَ بِيَدِهِ يَعْنِي قُومُوا فَقُمْنَا فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ قَالَ إِذَا ذَكَرَ أَحَدُكُمْ قَبْلَ أَنْ يَسْتَتِمَّ قَائِمًا فَلْيَجْلِسْ وَإِذَا اسْتَتَمَّ قَائِمًا فَلَا يَجْلِسْ

حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے ہمیں ظہریا عصر کی نماز پڑھائی دو رکعتیں پڑھانے کے بعد وہ بیٹھے نہیں بلکہ کھڑے ہوگئے مقتدیوں نے سبحان اللہ کہا لیکن نبی کریم ﷺ کھڑے ہوگئے اور ہاتھ کے اشارے سے ہمیں بھی کھڑے ہونے کے لئے فرمایا اور جب نماز سے فارغ ہوئے تو انہوں نے سلام پھیر کر سہو کے دو سجدے کئے اور فرمایا اگر تمہیں مکمل کھڑا ہونے سے پہلے یاد آجائے تو بیٹھ جایا کرو اور اگر مکمل کھڑے ہوجاؤ تو پھر نہ بیٹھا کرو۔

17517Musnad Imam Ahmad

حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) کی حدیثیں

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ سَمِعْتُ سُفْيَانَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شِبْلٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ فَلَمْ يَسْتَتِمَّ قَائِمًا فَلْيَجْلِسْ وَإِذَا اسْتَتَمَّ قَائِمًا فَلَا يَجْلِسْ وَيَسْجُدُ سَجْدَتَيْ السَّهْوِ

حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص دو رکعتوں پر بیٹھنے کی بجائے کھڑا ہوجائے تو اگر وہ سیدھا کھڑا نہیں ہوا تو بیٹھ جائے اور اگر مکمل کھڑا ہوچکا ہو تو پھر نہ بیٹھے اور بعد میں سجدہ سہو کرلے۔

17518Musnad Imam Ahmad

حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) کی حدیثیں

حَدَّثَنَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا هَاشِمٌ يَعْنِي ابْنَ هَاشِمٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَنَّهُ قَالَ قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقَامًا فَأَخْبَرَنَا بِمَا يَكُونُ فِي أُمَّتِهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَعَاهُ مَنْ وَعَاهُ وَنَسِيَهُ مَنْ نَسِيَهُ

حضرت مغیرہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور اپنی امت میں قیامت تک پیش آنے والے واقعات کی خبردے دی جس نے اس خطبے کو یاد رکھا سو یاد رکھا اور جس نے بھلادیا سو بھلا دیا۔

17519Musnad Imam Ahmad

حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) کی حدیثیں

حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا مُعَانُ بْنُ رِفَاعَةَ حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ عَنِ الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ دَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَاءٍ فَأَتَيْتُ خِبَاءً فَإِذَا فِيهِ امْرَأَةٌ أَعْرَابِيَّةٌ قَالَ فَقُلْتُ إِنَّ هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُرِيدُ مَاءً يَتَوَضَّأُ فَهَلْ عِنْدَكِ مِنْ مَاءٍ قَالَتْ بِأَبِي وَأُمِّي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَاللَّهِ مَا تُظِلُّ السَّمَاءُ وَلَا تُقِلُّ الْأَرْضُ رُوحًا أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ رُوحِهِ وَلَا أَعَزَّ وَلَكِنَّ هَذِهِ الْقِرْبَةَ مَسْكُ مَيْتَةٍ وَلَا أُحِبُّ أُنَجِّسُ بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَجَعْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ ارْجِعْ إِلَيْهَا فَإِنْ كَانَتْ دَبَغَتْهُ فَهِيَ طَهُورُهَا قَالَ فَرَجَعْتُ إِلَيْهَا فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهَا فَقَالَتْ أَيْ وَاللَّهِ لَقَدْ دَبَغْتُهَا فَأَتَيْتُهُ بِمَاءٍ مِنْهَا وَعَلَيْهِ يَوْمَئِذٍ جُبَّةٌ شَامِيَّةٌ وَعَلَيْهِ خُفَّانِ وَخِمَارٌ قَالَ فَأَدْخَلَ يَدَيْهِ مِنْ تَحْتِ الْجُبَّةِ قَالَ مِنْ ضِيقِ كُمَّيْهَا قَالَ فَتَوَضَّأَ فَمَسَحَ عَلَى الْخِمَارِ وَالْخُفَّيْنِ

حضرت مغیرہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے مجھ سے پانی منگوایا میں ایک خیمے میں پہنچا وہاں ایک دیہاتی عورت تھی میں نے اس سے کہا کہ یہ نبی کریم ﷺ آئے ہیں اور وضو کے لئے پانی منگوا رہے ہیں تو کیا تمہارے پاس پانی ہے؟ وہ کہنے لگی میرے ماں باپ نبی کریم ﷺ پر قربان ہوں، واللہ آسمان کے سائے تلے اور روئے زمین پر میرے نزدیک نبی کریم ﷺ سے زیادہ محبوب اور معزز کوئی شخص نہیں یہ مشکیزہ مردار کی کھال کا ہے میں نہیں چاہتی کہ اس سے نبی کریم ﷺ کو ناپاک کروں۔ میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں واپس آیا اور یہ ساری بات بتادی نبی کریم ﷺ نے فرمایا واپس جاؤ اگر اس نے کھال کو دباغت دے دی تھی تودباغت ہی اس کی پاکیزگی ہے چناچہ میں اس عورت کے پاس دوبارہ گیا اور اس یہ مسئلہ ذکر کردیا۔ اس نے کہا بخدا! میں اسے دباغت تو دی تھی چناچہ میں اس میں سے پانی لے کر نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اس دن نبی کریم ﷺ نے ایک شامی جبہ زیب تن فرما رکھا تھا موزے اور عمامہ بھی پہن رکھا تھے نبی کریم ﷺ نے جبے کے نیچے سے ہاتھ نکالے کیونکہ اس کی آستینیں تنگ تھیں پھر وضو کیا اور عمامے اور موزوں پر مسح فرمایا۔

17520Musnad Imam Ahmad

حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) کی حدیثیں

حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي سَلَمَةَ حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ عَنْ أَبِيهِ الْمُغِيرَةِ قَالَ ذَهَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبَعْضِ حَاجَتِهِ ثُمَّ جَاءَ فَسَكَبْتُ عَلَيْهِ الْمَاءَ فَغَسَلَ وَجْهَهُ ثُمَّ ذَهَبَ يَغْسِلُ ذِرَاعَيْهِ فَضَاقَ عَنْهُمَا كُمُّ الْجُبَّةِ فَأَخْرَجَهُمَا مِنْ تَحْتِ الْجُبَّةِ فَغَسَلَهُمَا ثُمَّ مَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ

حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ قضاء حاجت کے لئے چلے گئے تھوڑی دیر گذرنے کے بعد نبی کریم ﷺ واپس آئے اور میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں پانی لے کر حاضر ہوا اور پانی ڈالتا رہا نبی کریم ﷺ نے پہلے دونوں ہاتھ خوب اچھی طرح دھوئے پھر چہرہ دھویا۔ اس کے بعد نبی کریم ﷺ اپنے بازؤوں سے آستینیں اوپر چڑھانے لگے لیکن نبی کریم ﷺ نے جو شامی جبہ زیب تن فرما رکھا تھا اس کی آستینیں تنگ تھیں اس لئے وہ اوپر نہ ہوسکیں چناچہ نبی کریم ﷺ نے دونوں ہاتھ نیچے سے نکال لئے اور انہیں دھو کر موزوں پر مسح کیا۔

17521Musnad Imam Ahmad

حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) کی حدیثیں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ الْحَارِثِ الطَّائِفِيُّ عَنْ أَبِي عَوْنٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي أَوْ يَسْتَحِبُّ أَنْ يُصَلِّيَ عَلَى فَرْوَةٍ مَدْبُوغَةٍ

حضرت مغیرہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ دباغت دی ہوئی پوستین پر نماز پڑھ لیا کرتے تھے۔

17522Musnad Imam Ahmad

حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) کی حدیثیں

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ عُرْوَةَ قَالَ قَالَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ عَلَى ظُهُورِ الْخُفَّيْنِ حَدَّثَنَاه سُرَيْجٌ والْهَاشِمِيُّ أَيْضًا

حضرت مغیرہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو موزوں پر مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

17523Musnad Imam Ahmad

حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) کی حدیثیں

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنِي شَرِيكٌ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا السَّائِبِ مَوْلَى هِشَامِ بْنِ زُهْرَةَ يَقُولُ سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ يَقُولُ خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَنَزَلَ مَنْزِلًا فَتَبَرَّزَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَبِعْتُهُ بِإِدَاوَةٍ فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ فَتَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ

حضرت مغیرہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک وہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ کسی سفر میں تھے نبی کریم ﷺ ایک وادی میں قضاء حاجت کے لئے چلے گئے میں بھی ایک برتن میں پانی لے کر پیچھے چلا گیا اور پانی ڈالتا رہا جس سے نبی کریم ﷺ نے وضو کیا اور موزوں پر ہی مسح کرلیا۔

17524Musnad Imam Ahmad

حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) کی حدیثیں

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ عَنْ وَرَّادٍ مَوْلَى الْمُغِيرَةِ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِيَّاكُمْ وَقِيلَ وَقَالَ وَمَنْعَ وَهَاتِ وَوَأْدَ الْبَنَاتِ وَعُقُوقَ الْأُمَّهَاتِ وَإِضَاعَةَ الْمَالِ

حضرت مغیرہ ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ تین چیزوں کو تمہارے حق میں ناپسند کرتا ہے قیل وقال، کثرت سوال اور مال کو ضائع کرنا اور نبی کریم ﷺ نے تم پر بچیوں کو زندہ درگور کرنا ماؤں کی نافرمانی کرنا اور مال کو روک کر رکھنا اور دست سوال کرنا حرام قرار دیا ہے۔

17525Musnad Imam Ahmad

حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) کی حدیثیں

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ عَنْ جَابِرٍ الْجُعْفِيِّ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شِبْلٍ قَالَ سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَنَّهُ قَامَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ فَسَبَّحَ الْقَوْمُ قَالَ فَأُرَاهُ فَسَبَّحَ وَمَضَى ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ بَعْدَمَا سَلَّمَ فَقَالَ هَكَذَا فَعَلْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا شَكَّ فِي سَبَّحَ

قیس بن ابی حازم (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ نے ہمیں نماز پڑھائی دو رکعتیں پڑھانے کے بعد وہ بیٹھے نہیں بلکہ کھڑے ہوگئے مقتدیوں نے سبحان اللہ کہا لیکن انہوں نے اشارہ سے کہا کہ کھڑے ہوجاؤ جب نماز سے فارغ ہوئے تو انہوں نے سلام پھیر کر سہو کے دو سجدے کئے اور فرمایا کہ نبی کریم ﷺ بھی ہمارے ساتھ اسی طرح کرتے تھے۔

17526Musnad Imam Ahmad

حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) کی حدیثیں

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ شِبْلٍ عَنْ عَامِرٍ عَنْ وَرَّادٍ كَاتِبِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ كَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ اكْتُبْ إِلَيَّ بِمَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَانِي الْمُغِيرَةُ قَالَ فَكَتَبَ إِلَيْهِ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا انْصَرَفَ مِنْ الصَّلَاةِ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ

حضرت امیر معاویہ ؓ نے ایک مرتبہ حضرت مغیرہ ؓ کو خط لکھا کہ مجھے کوئی ایسی چیز لکھ کر بھیجئے جو آپ نے نبی کریم ﷺ سے سنی ہو؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ جب نماز سے فارغ ہوتے تھے تو یوں کہتے تھے اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں حکومت اسی کی ہے اور تمام تعریفیں بھی اسی کی ہیں اے اللہ! جسے آپ دیں اس سے کوئی روک نہیں سکتا اور جس سے روک لیں اسے کوئی دے نہیں سکتا اور آپ کے سامنے کسی مرتبے والے کا مرتبہ کام نہیں آسکتا۔ اور جناب رسول اللہ ﷺ نے کثرت سوال اور مال کو ضائع کرنا، بچیوں کو زندہ درگور کرنا ماؤں کی نافرمانی کرنا اور مال کو روک کر رکھنا ممنوع قرار دیا ہے۔

17527Musnad Imam Ahmad

حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) کی حدیثیں

وَسَمِعْتُهُ يَنْهَى عَنْ قِيلَ وَقَالَ وَعَنْ كَثْرَةِ السُّؤَالِ وَإِضَاعَةِ الْمَالِ وَعَنْ وَأْدِ الْبَنَاتِ وَعُقُوقِ الْأُمَّهَاتِ وَمَنْعٍ وَهَاتِ حَدَّثَنَا عَلِيٌّ أَنْبَأَنَا الْجُرَيْرِيُّ عَنْ عَبْدَةَ عَنْ وَرَّادٍ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا سَلَّمَ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ مِثْلَ حَدِيثِ الْمُغِيرَةِ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ وَأْدَ الْبَنَاتِ

حضرت مغیرہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو سلام پھیرتے وقت یہ کلمات کہتے ہوئے سنا ہے اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، حکومت اسی کی ہے اور تمام تعریفیں بھی اسی کی ہیں اے اللہ! جسے آپ دیں اس سے کوئی روک نہیں سکتا اور جس سے روک لیں اسے کوئی دے نہیں سکتا۔

17528Musnad Imam Ahmad

حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) کی حدیثیں

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا التَّيْمِيُّ عَنْ بَكْرٍ عَنِ الْحَسَنِ عَنِ ابْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ فَمَسَحَ بِنَاصِيَتِهِ وَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَالْعِمَامَةِ قَالَ بَكْرٌ وَقَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ ابْنِ الْمُغِيرَةِ

حضرت مغیرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے وضو کیا تو پیشانی کی مقدار سر پر مسح کیا اور موزوں پر مسح کیا اور اپنے عمامے پر مسح کیا۔

17529Musnad Imam Ahmad

حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) کی حدیثیں

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ زَكَرِيَّا عَنْ عَامِرٍ قَالَ حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فِي مَسِيرٍ فَقَالَ لِي مَعَكَ مَاءٌ قُلْتُ نَعَمْ فَنَزَلَ عَنْ رَاحِلَتِهِ ثُمَّ ذَهَبَ عَنِّي حَتَّى تَوَارَى عَنِّي فِي سَوَادِ اللَّيْلِ قَالَ وَكَانَتْ عَلَيْهِ جُبَّةٌ فَذَهَبَ يُخْرِجُ يَدَيْهِ فَلَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يُخْرِجَ يَدَيْهِ مِنْهَا فَأَخْرَجَ يَدَيْهِ مِنْ أَسْفَلِ الْجُبَّةِ فَغَسَلَ يَدَيْهِ وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ ثُمَّ ذَهَبْتُ أَنْزِعُ خُفَّيْهِ قَالَ دَعْهُمَا فَإِنِّي أَدْخَلْتُهُمَا وَهُمَا طَاهِرَتَانِ فَمَسَحَ عَلَيْهِمَا

حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ کسی سفر میں تھا نبی کریم ﷺ نے مجھ سے پوچھا کہ کیا تمہارے پاس پانی ہے؟ میں نے عرض کیا جی ہاں! پھر نبی کریم ﷺ اپنی سواری سے اترے اور قضاء حاجت کے لئے چلے گئے اور میرے نظروں سے غائب ہوگئے اب میں نبی کریم ﷺ کو نہیں دیکھ سکتا تھا تھوڑی دیر گذرنے کے بعد نبی کریم ﷺ واپس آئے اور میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں پانی لے کر حاضر ہوا اور پانی ڈالتا رہا نبی کریم ﷺ نے پہلے دونوں ہاتھ خوب اچھی طرح دھوئے پھر چہرہ دھویا۔ اس کے بعد نبی کریم ﷺ اپنے بازؤوں سے آستینیں اوپر چڑھانے لگے لیکن نبی کریم ﷺ نے جو شامی جبہ زیب تن فرما رکھا تھا اس کی آستینیں تنگ تھیں اس لئے وہ اوپر نہ ہوسکیں چناچہ نبی کریم ﷺ نے دونوں ہاتھ نیچے سے نکال لئے اور چہرہ اور ہاتھ دھوئے پیشانی کی مقدار سر پر مسح کیا اپنے عمامے پر مسح کیا اور اپنے عمامے پر مسح کیا پھر میں نے ان کے موزے اتارنے کے لئے ہاتھ بڑھائے تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا انہیں رہنے دو میں نے وضو کی حالت میں انہیں پہنا تھا چناچہ نبی کریم ﷺ نے ان پر مسح کرلیا۔

17530Musnad Imam Ahmad

حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) کی حدیثیں

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ عَنْ أَبِي صَخْرَةَ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ بِتُّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَأَمَرَ بِجَنْبٍ فَشُوِيَ ثُمَّ أَخَذَ الشَّفْرَةَ فَجَعَلَ يَحُزُّ لِي بِهَا مِنْهُ فَجَاءَ بِلَالٌ يُؤْذِنُهُ بِالصَّلَاةِ فَأَلْقَى الشَّفْرَةَ وَقَالَ مَا لَهُ تَرِبَتْ يَدَاهُ قَالَ وَكَانَ شَارِبِي وَفَى فَقَصَّهُ لِي عَلَى سِوَاكٍ أَوْ قَالَ أَقُصُّهُ لَكَ عَلَى سِوَاكٍ

حضرت مغیرہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رات کے وقت میں نبی کریم ﷺ کے یہاں مہمان تھا نبی کریم ﷺ نے حکم دیا تو اس ران بھونی گئی نبی کریم ﷺ چھری پکڑ کر مجھے اس میں سے کاٹ کاٹ کردینے لگے اس دوران حضرت بلال ؓ نماز کی اطلاع دینے کے لئے آگئے نبی کریم ﷺ نے چھری ہاتھ سے رکھ دی اور فرمایا اس کے ہاتھ خاک آلود ہوں اسے کیا ہوا؟ حضرت مغیرہ ؓ کہتے ہیں کہ میری مونچھیں بڑھی ہوئی تھیں نبی کریم ﷺ نے ایک مسواک نیچے رکھ کر انہیں کتر دیا۔

17531Musnad Imam Ahmad

حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) کی حدیثیں

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّائِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ قَيْسٍ الْأَسَدِيُّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ الْوَالِبِيِّ قَالَ إِنَّ أَوَّلَ مِنْ نِيحَ عَلَيْهِ بِالْكُوفَةِ قَرَظَةُ بْنُ كَعْبٍ الْأَنْصَارِيُّ فَقَالَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ نِيحَ عَلَيْهِ فَإِنَّهُ يُعَذَّبُ بِمَا نِيحَ عَلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ

حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے جس شخص پر نوحہ کیا جاتا ہے اسے اس نوحے کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے۔

17532Musnad Imam Ahmad

حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) کی حدیثیں

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ مِسْعَرٍ وَسُفْيَانُ عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي حَتَّى تَرِمَ قَدَمَاهُ فَقِيلَ لَهُ فَقَالَ أَوَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا

حضرت مغیرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ اتنی دیر قیام فرماتے کہ آپ کے مبارک قدم سوج جاتے لوگ کہتے یا رسول اللہ ﷺ! اللہ تعالیٰ نے تو آپ کے اگلے پچھلے سارے گناہ معاف فرمادئیے ہیں پھر اتنی محنت؟ نبی کریم ﷺ فرماتے کیا میں شکرگذار بندہ نہ بنوں؟

17533Musnad Imam Ahmad

حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) کی حدیثیں

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَبِسَ جُبَّةً رُومِيَّةً ضَيِّقَةَ الْكُمَّيْنِ

حضرت مغیرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے رومی جبہ زیب تن فرمایا جس کی آستینیں تنگ تھیں۔

17534Musnad Imam Ahmad

حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) کی حدیثیں

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ حَبِيبٍ عَنْ مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ حَدَّثَ بِحَدِيثٍ وَهُوَ يَرَى أَنَّهُ كَذِبٌ فَهُوَ أَحَدُ الْكَاذِبِينَ وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَهُوَ أَحَدُ الْكَذَّابِينَ حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ فَذَكَرَ نَحْوَهُ قَالَ فَهُوَ أَحَدُ الْكَاذِبِينَ

حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص میرے حوالے سے کوئی حدیث نقل کرتا ہے وہ سمجھتا ہے کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے تو وہ دو میں سے ایک جھوٹا ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے مروی ہے۔

17535Musnad Imam Ahmad

حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) کی حدیثیں

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ سَمِعْتُهُ مِنَ الشَّعْبِيِّ قَالَ شَهِدَ لِي عُرْوَةُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَلَى أَبِيهِ أَنَّهُ شَهِدَ لَهُ أَبُوهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ فِي سَفَرٍ فَأَنَاخَ وَأَنَاخَ أَصْحَابُهُ قَالَ فَبَرَزَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَتِهِ ثُمَّ جَاءَ فَأَتَيْتُهُ بِإِدَاوَةٍ وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ لَهُ رُومِيَّةٌ ضَيِّقَةُ الْكُمَّيْنِ فَذَهَبَ يُخْرِجُ يَدَيْهِ فَضَاقَتَا فَأَخْرَجَهُمَا مِنْ تَحْتِ الْجُبَّةِ قَالَ ثُمَّ صَبَبْتُ عَلَيْهِ فَتَوَضَّأَ فَلَمَّا بَلَغَ الْخُفَّيْنِ أَهْوَيْتُ لِأَنْزِعَهُمَا فَقَالَ لَا إِنِّي أَدْخَلْتُهُمَا وَهُمَا طَاهِرَتَانِ قَالَ فَتَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَيْهِمَا قَالَ الشَّعْبِيُّ فَشَهِدَ لِي عُرْوَةُ عَلَى أَبِيهِ شَهِدَ لَهُ أَبُوهُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ کسی سفر میں تھا نبی کریم ﷺ نے مجھ سے پوچھا کہ کیا تمہارے پاس پانی ہے؟ میں نے عرض کیا جی ہاں! پھر نبی کریم ﷺ اپنی سواری سے اترے اور قضاء حاجت کے لئے چلے گئے اور میرے نظروں سے غائب ہوگئے اب میں نبی کریم ﷺ کو نہیں دیکھ سکتا تھا تھوڑی دیر گذرنے کے بعد نبی کریم ﷺ واپس آئے اور میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں پانی لے کر حاضر ہوا اور پانی ڈالتا رہا نبی کریم ﷺ نے پہلے دونوں ہاتھ خوب اچھی طرح دھوئے پھر چہرہ دھویا۔ اس کے بعد نبی کریم ﷺ اپنے بازؤوں سے آستینیں اوپر چڑھانے لگے لیکن نبی کریم ﷺ نے جو شامی جبہ زیب تن فرما رکھا تھا اس کی آستینیں تنگ تھیں اس لئے وہ اوپر نہ ہوسکیں چناچہ نبی کریم ﷺ نے دونوں ہاتھ نیچے سے نکال لئے اور چہرہ اور ہاتھ دھوئے پیشانی کی مقدار سر پر مسح کیا اپنے عمامے پر مسح کیا اور اپنے عمامے پر مسح کیا پھر میں نے ان کے موزے اتارنے کے لئے ہاتھ بڑھائے تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا انہیں رہنے دو میں نے وضو کی حالت میں انہیں پہنا تھا چناچہ نبی کریم ﷺ نے ان پر مسح کرلیا۔