حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) کی حدیثیں

Musnad Imam Ahmad · Chapter 560 · 101 hadiths · Page 2 of 6

17456Musnad Imam Ahmad

حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) کی حدیثیں

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ خَطَبْتُ امْرَأَةً فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَظَرْتَ إِلَيْهَا قُلْتُ لَا قَالَ فَانْظُرْ إِلَيْهَا فَإِنَّهُ أَحْرَى أَنْ يُؤْدَمَ بَيْنَكُمَا

حضرت مغیرہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے ایک عورت پاس پیغام نکاح بھیجا نبی کریم ﷺ نے مجھ سے فرمایا کیا تم نے اسے دیکھا ہے؟ میں نے کہا نہیں نبی کریم ﷺ نے فرمایا جاکر پہلے اسے دیکھو، کیونکہ اس سے تمہارے درمیان محبت بڑھے گی۔

17457Musnad Imam Ahmad

حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) کی حدیثیں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ إِسْمَاعِيلَ عَنْ قَيْسٍ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ مَا سَأَلَ أَحَدٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَ مِمَّا سَأَلْتُ أَنَا عَنْهُ فَقَالَ إِنَّهُ لَا يَضُرُّكَ قَالَ قُلْتُ إِنَّهُمْ يَقُولُونَ مَعَهُ نَهَرٌ وَكَذَا وَكَذَا قَالَ هُوَ أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ ذَاكَ

حضرت مغیرہ ؓ سے مروی ہے کہ دجال کے متعلق جتنی کثرت کے ساتھ میں نے نبی کریم ﷺ سے سوال پوچھے ہیں کسی نے نہیں پوچھے نبی کریم ﷺ نے ایک مرتبہ فرمایا کہ وہ تمہیں کچھ نقصان نہ پہنچاسکے گا میں نے عرض کیا کہ لوگ کہتے ہیں اس کے ساتھ ایک نہر بھی ہوگی اور فلاں فلاں چیز بھی ہوگی، نبی کریم ﷺ نے فرمایا وہ اللہ کے نزدیک اس سے بہت حقیر ہے۔

17458Musnad Imam Ahmad

حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) کی حدیثیں

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ قَالَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ عَلَى ظُهُورِ الْخُفَّيْنِ حَدَّثَنَاه سُرَيْجٌ والْهَاشِمِيُّ أَيْضًا

حضرت مغیرہ ؓ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو موزوں پر مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

17459Musnad Imam Ahmad

حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) کی حدیثیں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ سَمِعْتُ بَكْرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَنَّهُ قَالَ خَصْلَتَانِ لَا أَسْأَلُ عَنْهُمَا أَحَدًا مِنْ النَّاسِ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَهُمَا صَلَاةُ الْإِمَامِ خَلْفَ الرَّجُلِ مِنْ رَعِيَّتِهِ وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى خَلْفَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ رَكْعَةً مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ وَمَسْحُ الرَّجُلِ عَلَى خُفَّيْهِ وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ

حضرت مغیرہ ؓ سے مروی ہے کہ دو چیزوں کے متعلق تو میں کسی سے سوال نہیں کروں گا کیونکہ میں نے نبی کریم ﷺ کو وہ کام کرتے ہوئے دیکھا ہے ایک تو امام کا اپنی رعایا میں سے کسی کے پیچھے نماز پڑھنا میں نے نبی کریم ﷺ کو ایک مرتبہ فجر کی ایک رکعت میں حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ کے پیچھے پڑھتے ہوئے دیکھا ہے اور دوسرا موزوں پر مسح کرنا کیونکہ میں نے نبی کریم ﷺ کو موزوں پر مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔

17460Musnad Imam Ahmad

حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) کی حدیثیں

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ قَالَ أَنْبَأَنِي أَبُو سَعِيدٍ قَالَ أَنْبَأَنِي وَرَّادٌ كَاتِبُ الْمُغِيرَةِ قَالَ كَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَى الْمُغِيرَةِ اكْتُبْ إِلَيَّ بِشَيْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ كَانَ إِذَا صَلَّى فَفَرَغَ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ قَالَ وَأَظُنُّهُ قَالَ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ

حضرت امیر معاویہ ؓ نے ایک مرتبہ حضرت مغیرہ ؓ کو خط لکھا کہ مجھے کوئی ایسی چیز لکھ کر بھیجئے جو آپ نے نبی کریم ﷺ سے سنی ہو؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ جب نماز سے فارغ ہوتے تھے تو یوں کہتے تھے اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں حکومت اسی کی ہے اور تمام تعریفیں بھی اسی کی ہیں اے اللہ! جسے آپ دیں اس سے کوئی روک نہیں سکتا اور جس سے روک لیں اسے کوئی دے نہیں سکتا اور آپ کے سامنے کسی مرتبے والے کا مرتبہ کام نہیں آسکتا۔

17461Musnad Imam Ahmad

حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) کی حدیثیں

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي الضُّحَى عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَقَضَى حَاجَتَهُ ثُمَّ جِئْتُهُ بِإِدَاوَةٍ مِنْ مَاءٍ وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ شَامِيَّةٌ قَالَ فَلَمْ يَقْدِرْ أَنْ يُخْرِجَ يَدَيْهِ مِنْ كُمَّيْهَا فَأَخْرَجَ يَدَيْهِ مِنْ أَسْفَلِهَا ثُمَّ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ

حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم ﷺ کے ساتھ تھے نبی کریم ﷺ نے قضاء حاجت کی پھر میں پانی کا ایک برتن لے کر حاضر ہوا نبی کریم ﷺ اپنے بازؤوں سے آستینیں اوپر چڑھانے لگے لیکن نبی کریم ﷺ نے جو شامی جبہ زیب تن فرما رکھا تھا اس کی آستینیں تنگ تھیں اس لئے وہ اوپر نہ ہوسکیں چناچہ نبی کریم ﷺ نے دونوں ہاتھ نیچے سے نکال لئے وضو کرکے موزوں پر مسح کیا۔

17462Musnad Imam Ahmad

حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) کی حدیثیں

قَالَ قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَبَّادِ بْنِ زِيَادٍ عَنْ وَلَدِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ عَنْ أَبِيهِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَهَبَ لِحَاجَتِهِ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ قَالَ الْمُغِيرَةُ فَذَهَبْتُ مَعَهُ بِمَاءٍ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَكَبْتُ عَلَيْهِ مَاءً فَغَسَلَ وَجْهَهُ ثُمَّ ذَهَبَ يُخْرِجُ يَدَيْهِ مِنْ كُمِّ جُبَّتِهِ فَلَمْ يَسْتَطِعْ مِنْ ضِيقِ كُمِّ الْجُبَّةِ فَأَخْرَجَهَا مِنْ تَحْتِ جُبَّتِهِ فَغَسَلَ يَدَيْهِ وَمَسَحَ رَأْسَهُ وَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ يَؤُمُّهُمْ وَقَدْ صَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُمْ الرَّكْعَةَ الَّتِي بَقِيَتْ عَلَيْهِمْ فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَحْسَنْتُمْ حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَبَّادِ بْنِ زِيَادٍ مِنْ وَلَدِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ فَذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ قَالَ مُصْعَبٌ وَأَخْطَأَ فِيهِ مَالِكٌ خَطَأً قَبِيحًا

حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ سے مروی ہے کہ غزوہ تبوک کے موقع پر نبی کریم ﷺ قضاء حاجت کے لئے تشریف لے گئے میں بھی پانی لے کر ساتھ چلا گیا نبی کریم ﷺ واپس آئے تو میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں پانی لے کر حاضر ہوا اور پانی ڈالتا رہا نبی کریم ﷺ نے چہرہ دھویا۔ اس کے بعد نبی کریم ﷺ اپنے بازؤوں سے آستینیں اوپر چڑھانے لگے لیکن نبی کریم ﷺ نے جو شامی جبہ زیب تن فرما رکھا تھا اس کی آستینیں تنگ تھیں اس لئے وہ اوپر نہ ہوسکیں چناچہ نبی کریم ﷺ نے دونوں ہاتھ نیچے سے نکال لئے اور چہرہ اور ہاتھ دھوئے پیشانی کی مقدار سر پر مسح کیا اپنے عمامے پر مسح کیا اور موزوں پر مسح کیا اور واپسی کے لئے سوار ہوگئے جب ہم لوگوں کے پاس پہنچے تو نماز کھڑی ہوچکی تھی اور حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ آگے بڑھ کر ایک رکعت پڑھا چکے تھے اور دوسری رکعت میں تھے میں انہیں بتانے کے لئے جانے لگا تو نبی کریم ﷺ نے مجھے روک دیا اور ہم نے جو رکعت پائی وہ تو پڑھ لی اور جو رہ گئی تھی اسے (سلام پھرنے کے بعد ادا کیا۔ اور نماز سے فارغ ہو کر نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم نے اچھا کیا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

17463Musnad Imam Ahmad

حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) کی حدیثیں

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ الْحَدَّادُ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيُّ عَنْ زِيَادِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّاكِبُ خَلْفَ الْجِنَازَةِ وَالْمَاشِي حَيْثُ شَاءَ مِنْهَا وَالطِّفْلُ يُصَلَّى عَلَيْهِ

حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا سوار آدمی جنازے کے پیچھے چلے پیدل چلنے والے کی مرضی ہے (آگے چلے یا پیچھے دائیں جانب چلے یا بائیں جانب) اور نابالغ بچے کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی۔

17464Musnad Imam Ahmad

حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) کی حدیثیں

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ قَالَ صَلَّى بِنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ فَلَمَّا صَلَّى رَكْعَتَيْنِ قَامَ وَلَمْ يَجْلِسْ فَسَبَّحَ بِهِ مَنْ خَلْفَهُ فَأَشَارَ إِلَيْهِمْ أَنْ قُومُوا فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ سَلَّمَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ قَالَ هَكَذَا صَنَعَ بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

زیاد بن علاقہ (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ نے ہمیں نماز پڑھائی دو رکعتیں پڑھانے کے بعد وہ بیٹھے نہیں بلکہ کھڑے ہوگئے مقتدیوں نے سبحان اللہ کہا لیکن انہوں نے اشارہ سے کہا کہ کھڑے ہوجاؤ جب نماز سے فارغ ہوئے تو انہوں نے سلام پھیر کر سہو کے دو سجدے کئے اور فرمایا کہ نبی کریم ﷺ بھی ہمارے ساتھ اسی طرح کرتے تھے۔

17465Musnad Imam Ahmad

حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) کی حدیثیں

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ مُحَمَّدٍ قَالَ دَخَلْتُ مَسْجِدَ الْجَامِعِ فَإِذَا عَمْرُو بْنُ وَهْبٍ الثَّقَفِيُّ قَدْ دَخَلَ مِنْ النَّاحِيَةِ الْأُخْرَى فَالْتَقَيْنَا قَرِيبًا مِنْ وَسَطِ الْمَسْجِدِ فَابْتَدَأَنِي بِالْحَدِيثِ وَكَانَ يُحِبُّ مَا سَاقَ إِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَابْتَدَأَنِي بِالْحَدِيثِ فَقَالَ كُنَّا عِنْدَ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ فَزَادَهُ فِي نَفْسِي تَصْدِيقًا الَّذِي قَرَّبَ بِهِ الْحَدِيثَ قَالَ قُلْنَا هَلْ أَمَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ غَيْرَ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ قَالَ نَعَمْ كُنَّا فِي سَفَرِ كَذَا وَكَذَا فَلَمَّا كَانَ فِي السَّحَرِ ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُنُقَ رَاحِلَتِهِ وَانْطَلَقَ فَتَبِعْتُهُ فَتَغَيَّبَ عَنِّي سَاعَةً ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ حَاجَتَكَ فَقُلْتُ لَيْسَتْ لِي حَاجَةٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ هَلْ مِنْ مَاءٍ قُلْتُ نَعَمْ فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ فَغَسَلَ يَدَيْهِ ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثُمَّ ذَهَبَ يَحْسِرُ عَنْ ذِرَاعَيْهِ وَكَانَتْ عَلَيْهِ جُبَّةٌ لَهُ شَامِيَّةٌ فَضَاقَتْ فَأَدْخَلَ يَدَيْهِ فَأَخْرَجَهُمَا مِنْ تَحْتِ الْجُبَّةِ فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ وَمَسَحَ بِنَاصِيَتِهِ وَمَسَحَ عَلَى الْعِمَامَةِ وَعَلَى الْخُفَّيْنِ ثُمَّ لَحِقْنَا النَّاسَ وَقَدْ أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ يَؤُمُّهُمْ وَقَدْ صَلَّى رَكْعَةً فَذَهَبْتُ لِأُوذِنَهُ فَنَهَانِي فَصَلَّيْنَا الَّتِي أَدْرَكْنَا وَقَضَيْنَا الَّتِي سُبِقْنَا بِهَا حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ حَدَّثَنِي رَجُلٌ عَنْ عَمْرِو بْنِ وَهْبٍ يَعْنِي فَذَكَرَ نَحْوَهُ

عمرو بن وہب (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ کے ساتھ تھے کہ کسی شخص نے ان سے پوچھا حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے علاوہ اس امت میں کوئی اور بھی ایسا شخص ہوا ہے جس کی امامت میں نبی کریم ﷺ نے نماز پڑھی ہو؟ انہوں نے جواب دیا ہاں! ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم ﷺ کے ساتھ کسی سفر میں تھے صبح کے وقت نبی کریم ﷺ نے میرے خیمے کا دروازہ بجایا میں سمجھ گیا کہ نبی کریم ﷺ قضاء حاجت کے لئے جانا چاہتے ہیں چناچہ میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ نکل پڑا یہاں تک کہ ہم لوگ چلتے چلتے لوگوں سے دور چلے گئے۔ پھر نبی کریم ﷺ اپنی سواری سے اترے اور قضاء حاجت کے لئے چلے گئے اور میری نظروں سے غائب ہوگئے اب میں نبی کریم ﷺ کو نہیں دیکھ سکتا تھا تھوڑی دیر گذرنے کے بعد نبی کریم ﷺ واپس آئے اور فرمایا مغیرہ! تم بھی اپنی ضرورت پوری کرلو میں نے عرض کیا کہ مجھے اس وقت حاجت نہیں ہے نبی کریم ﷺ نے پوچھا کیا تمہارے پاس پانی ہے؟ میں نے عرض کیا جی ہاں! اور یہ کہہ کر میں وہ مشکیزہ لانے چلا گیا جو کجاوے کے پچھلے حصے میں لٹکا ہوا تھا میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں پانی لے حاضر ہوا اور پانی ڈالتا رہا نبی کریم ﷺ نے پہلے دونوں ہاتھ خوب اچھی طرح دھوئے پھر چہرہ دھویا۔ اس کے بعد نبی کریم ﷺ اپنے بازؤوں سے آستینیں اوپر چڑھانے لگے لیکن نبی کریم ﷺ نے جو شامی جبہ زیب تن فرما رکھا تھا اس کی آستینیں تنگ تھیں اس لئے وہ اوپر نہ ہوسکیں چناچہ نبی کریم ﷺ نے دونوں ہاتھ نیچے سے نکال لئے اور چہرہ اور ہاتھ دھوئے پیشانی کی مقدار سر پر مسح کیا اپنے عمامے پر مسح کیا اور موزوں پر مسح کیا اور واپسی کے لئے سوار ہوگئے جب ہم لوگوں کے پاس پہنچے تو نماز کھڑی ہوچکی تھی اور حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ آگے بڑھ کر ایک رکعت پڑھا چکے تھے اور دوسری رکعت میں تھے میں انہیں بتانے کے لئے جانے لگا تو نبی کریم ﷺ نے مجھے روک دیا اور ہم نے جو رکعت پائی وہ تو پڑھ لی اور جو رہ گئی تھی اسے (سلام پھرنے کے بعد) ادا کیا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے

17466Musnad Imam Ahmad

حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) کی حدیثیں

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي خَالِدٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَزَالُ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي يُقَاتِلُونَ عَلَى الْحَقِّ ظَاهِرِينَ حَتَّى يَأْتِيَهُمْ أَمْرُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ

حضرت مغیرہ ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا میری امت میں ایک جماعت ہمیشہ قتال کرتی اور لوگوں پر غالب رہے گی یہاں تک کہ جب ان کے پاس اللہ کا حکم آئے گا تب بھی وہ غالب ہی ہوں گے۔

17467Musnad Imam Ahmad

حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) کی حدیثیں

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ مَا سَأَلَ أَحَدٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الدَّجَّالِ أَكْثَرَ مِمَّا سَأَلْتُهُ عَنْهُ فَقَالَ لِي أَيْ بُنَيَّ وَمَا يُنْصِبُكَ مِنْهُ إِنَّهُ لَنْ يَضُرَّكَ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُمْ يَزْعُمُونَ أَنَّ مَعَهُ جِبَالَ الْخُبْزِ وَأَنْهَارَ الْمَاءِ فَقَالَ هُوَ أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ ذَاكَ

حضرت مغیرہ ؓ سے مروی ہے کہ دجال کے متعلق جتنی کثرت کے ساتھ میں نے نبی کریم ﷺ سے سوال پوچھے ہیں کسی نے نہیں پوچھے نبی کریم ﷺ نے ایک مرتبہ فرمایا کہ وہ تمہیں کچھ نقصان نہ پہنچاسکے گا میں نے عرض کیا کہ لوگ کہتے ہیں اس کے سا تھا ایک نہر بھی ہوگی اور فلاں فلاں چیز بھی ہوگی، نبی کریم ﷺ نے فرمایا وہ اللہ کے نزدیک اس سے بہت حقیر ہے۔

17468Musnad Imam Ahmad

حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) کی حدیثیں

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ عَنْ وَرَّادٍ كَاتِبِ الْمُغِيرَةِ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ لَوْ رَأَيْتُ رَجُلًا مَعَ امْرَأَتِي لَضَرَبْتُهُ بِالسَّيْفِ غَيْرَ مُصْفَحٍ فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَتَعْجَبُونَ مِنْ غَيْرَةِ سَعْدٍ وَاللَّهِ لَأَنَا أَغْيَرُ مِنْهُ وَاللَّهُ أَغْيَرُ مِنِّي وَمِنْ أَجْلِ غَيْرَةِ اللَّهِ حَرَّمَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَلَا شَخْصَ أَغْيَرُ مِنْ اللَّهِ وَلَا شَخْصَ أَحَبُّ إِلَيْهِ الْعُذْرُ مِنْ اللَّهِ مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ بَعَثَ اللَّهُ الْمُرْسَلِينَ مُبَشِّرِينَ وَمُنْذِرِينَ وَلَا شَخْصَ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِدْحَةٌ مِنْ اللَّهِ مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ وَعَدَ اللَّهُ الْجَنَّةَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ الْقَوَارِيرِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ سَوَاءً قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ الْقَوَارِيرِيُّ لَيْسَ حَدِيثٌ أَشَدَّ عَلَى الْجَهْمِيَّةِ مِنْ هَذَا الْحَدِيثِ قَوْلِهِ لَا شَخْصَ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِدْحَةٌ مِنْ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ

حضرت مغیرہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت سعد بن عبادہ ؓ نے کہا کہ اگر میں اپنی بیوی کے ساتھ کسی اجنبی مرد کو دیکھ لو تو تلوار سے اس کی گردن اڑادوں نبی کریم ﷺ تک یہ بات پہنچی تو فرمایا کہ تم سعد کی غیرت سے تعجب کرتے ہو؟ بخدا! میں ان سب سے زیادہ غیور ہوں اور اللہ مجھ سے زیادہ غیور ہے اسی بناء پر اس نے ظاہری اور باطنی فواحش کو حرام قرار دیا اور اللہ سے زیادہ غیرت مند کوئی شخص نہیں ہوسکتا اللہ سے زیادہ عذر کو پسند کرنے والا کوئی شخص نہیں ہوسکتا، اسی وجہ سے اللہ نے جنت کا وعدہ فرمایا ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ عبیداللہ قواریری (رح) کہتے ہیں کہ اس حدیث سے زیادہ سخت حدیث فرقہ جہمیہ کے نزدیک کوئی نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کوئی شخص ایسا نہیں ہے جسے اللہ سے زیادہ تعریف پسند ہو۔

17469Musnad Imam Ahmad

حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) کی حدیثیں

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ إِيَادٍ قَالَ سَمِعْتُ إيَادًا يُحَدِّثُ عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ بُرْمَةَ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ مَا كَانَ يُسَافِرُ فَسِرْنَا حَتَّى إِذَا كُنَّا فِي وَجْهِ السَّحَرِ انْطَلَقَ حَتَّى تَوَارَى عَنِّي فَضَرَبَ الْخَلَاءَ ثُمَّ جَاءَ فَدَعَا بِطَهُورٍ وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ شَامِيَّةٌ ضَيِّقَةُ الْكُمَّيْنِ فَأَدْخَلَ يَدَهُ مِنْ أَسْفَلِ الْجُبَّةِ ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَيْدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنِ أَبِي سَلَمَةَ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ وَكَانَ إِذَا ذَهَبَ أَبْعَدَ فِي الْمَذْهَبِ فَذَهَبَ لِحَاجَتِهِ وَقَالَ يَا مُغِيرَةُ اتْبَعْنِي بِمَاءٍ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ

حضرت مغیرہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم ﷺ کے ہمراہ کسی سفر پر نکلا صبح کے وقت نبی کریم ﷺ قضاء حاجت کے لئے چلے گئے اور میری نظروں سے غائب ہوگئے اب میں نبی کریم ﷺ کو نہیں دیکھ سکتا تھوڑی دیر گذرنے کے بعد نبی کریم ﷺ واپس آئے پانی منگوایا اور اپنے بازؤوں سے آستینیں اوپر چڑھانے لگے لیکن نبی کریم ﷺ نے جو شامی جبہ زیب تن فرما رکھا تھا اس کی آستینیں تنگ تھیں اس لئے وہ اوپر نہ ہوسکیں چناچہ نبی کریم ﷺ نے دونوں ہاتھ نیچے سے نکال لئے اور چہرہ اور ہاتھ دھوئے سر پر مسح کیا اور موزوں پر مسح کیا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے

17470Musnad Imam Ahmad

حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) کی حدیثیں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ بَكْرٍ عَنْ حَمْزَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ تَخَلَّفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَضَى حَاجَتَهُ فَقَالَ هَلْ مَعَكَ طَهُورٌ قَالَ فَاتَّبَعْتُهُ بِمِيضَأَةٍ فِيهَا مَاءٌ فَغَسَلَ كَفَّيْهِ وَوَجْهَهُ ثُمَّ ذَهَبَ يَحْسِرُ عَنْ ذِرَاعَيْهِ وَكَانَ فِي يَدَيْ الْجُبَّةِ ضِيقٌ فَأَخْرَجَ يَدَيْهِ مِنْ تَحْتِ الْجُبَّةِ فَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ ثُمَّ مَسَحَ عَلَى عِمَامَتِهِ وَخُفَّيْهِ وَرَكِبَ وَرَكِبْتُ رَاحِلَتِي فَانْتَهَيْنَا إِلَى الْقَوْمِ وَقَدْ صَلَّى بِهِمْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَكْعَةً فَلَمَّا أَحَسَّ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَهَبَ يَتَأَخَّرُ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ أَنْ يُتِمَّ الصَّلَاةَ وَقَالَ قَدْ أَحْسَنْتَ كَذَلِكَ فَافْعَلْ

حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ اپنی سواری سے اترے اور قضاء حاجت کے لئے چلے گئے تھوڑی دیر گذرنے کے بعد نبی کریم ﷺ واپس آئے نبی کریم ﷺ نے پوچھا کیا تمہارے پاس پانی ہے؟ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں پانی لے حاضر ہوا اور پانی ڈالتا رہا نبی کریم ﷺ نے پہلے دونوں ہاتھ خوب اچھی طرح دھوئے پھر چہرہ دھویا۔ اس کے بعد نبی کریم ﷺ اپنے بازؤوں سے آستینیں اوپر چڑھانے لگے لیکن نبی کریم ﷺ نے جو شامی جبہ زیب تن فرما رکھا تھا اس کی آستینیں تنگ تھیں اس لئے وہ اوپر نہ ہوسکیں چناچہ نبی کریم ﷺ نے دونوں ہاتھ نیچے سے نکال لئے اور چہرہ اور ہاتھ دھوئے پیشانی کی مقدار سر پر مسح کیا اپنے عمامے پر مسح کیا اور موزوں پر مسح کیا اور واپسی کے لئے سوار ہوگئے جب ہم لوگوں کے پاس پہنچے تو نماز کھڑی ہوچکی تھی اور حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ آگے بڑھ کر ایک رکعت پڑھاچکے تھے اور دوسری رکعت میں تھے میں انہیں بتانے کے لئے جانے لگا تو نبی کریم ﷺ نے مجھے روک دیا اور ہم نے جو رکعت پائی وہ تو پڑھ لی اور جو رہ گئی تھی اسے (سلام پھرنے کے بعد) ادا کیا۔

17471Musnad Imam Ahmad

حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) کی حدیثیں

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَنَّهُ قَامَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ فَسَبَّحُوا بِهِ فَلَمْ يَجْلِسْ فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ بَعْدَ التَّسْلِيمِ ثُمَّ قَالَ هَكَذَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

شعبی (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ نے ہمیں نماز پڑھائی دو رکعتیں پڑھانے کے بعد وہ بیٹھے نہیں بلکہ کھڑے ہوگئے مقتدیوں نے سبحان اللہ کہا لیکن انہوں نے اشارہ سے کہا کہ کھڑے ہوجاؤ جب نماز سے فارغ ہوئے تو انہوں نے سلام پھیر کر سہو کے دو سجدے کئے اور فرمایا کہ نبی کریم ﷺ بھی ایسا ہی کرتے تھے۔

17472Musnad Imam Ahmad

حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) کی حدیثیں

حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ قَالَ أَخْبَرَنِي زِيَادُ بْنُ جُبَيْرٍ أَخْبَرَنِي أَبِي عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الرَّاكِبُ خَلْفَ الْجِنَازَةِ وَالْمَاشِي أَمَامَهَا قَرِيبًا عَنْ يَمِينِهَا أَوْ عَنْ يَسَارِهَا وَالسِّقْطُ يُصَلَّى عَلَيْهِ وَيُدْعَى لِوَالِدَيْهِ بِالْمَغْفِرَةِ وَالرَّحْمَةِ

حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا سوار آدمی جنازے کے پیچھے چلے پیدل چلنے والے کی مرضی ہے (آگے چلے یا پیچھے دائیں جانب چلے یا بائیں جانب) اور نابالغ بچے کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی، جس میں اس کے والدین کے لئے مغفرت اور رحمت کی دعاء کی جائے گی۔

17473Musnad Imam Ahmad

حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) کی حدیثیں

حَدَّثَنَا سَعْدٌ وَيَعْقُوبُ قَالَا حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ حَدَّثَنِي عَبَّادُ بْنُ زِيَادٍ قَالَ سَعْدُ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ عَنْ أَبِيهِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَنَّهُ قَالَ تَخَلَّفْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ فَتَبَرَّزَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ رَجَعَ إِلَيَّ وَمَعِي الْإِدَاوَةُ قَالَ فَصَبَبْتُ عَلَى يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ اسْتَنْثَرَ قَالَ يَعْقُوبُ ثُمَّ تَمَضْمَضَ ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يَغْسِلَ يَدَيْهِ قَبْلَ أَنْ يُخْرِجَهُمَا مِنْ كُمَّيْ جُبَّتِهِ فَضَاقَ عَنْهُ كُمَّاهَا فَأَخْرَجَ يَدَهُ مِنْ الْجُبَّةِ فَغَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَيَدَهُ الْيُسْرَى ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَمَسَحَ بِخُفَّيْهِ وَلَمْ يَنْزِعْهُمَا ثُمَّ عَمَدَ إِلَى النَّاسِ فَوَجَدَهُمْ قَدْ قَدَّمُوا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ يُصَلِّي بِهِمْ فَأَدْرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى الرَّكْعَتَيْنِ فَصَلَّى مَعَ النَّاسِ الرَّكْعَةَ الْآخِرَةَ بِصَلَاةِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَلَمَّا سَلَّمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُتِمُّ صَلَاتَهُ فَأَفْزَعَ الْمُسْلِمِينَ فَأَكْثَرُوا التَّسْبِيحَ فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبَلَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ قَدْ أَحْسَنْتُمْ وَأَصَبْتُمْ يَغْبِطُهُمْ أَنْ صَلَّوْا الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا

حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ اپنی سواری سے اترے اور قضاء حاجت کے لئے چلے گئے تھوڑی دیر گذرنے کے بعد نبی کریم ﷺ واپس آئے نبی کریم ﷺ نے پوچھا کیا تمہارے پاس پانی ہے؟ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں پانی لے حاضر ہوا اور پانی ڈالتا رہا نبی کریم ﷺ نے پہلے دونوں ہاتھ خوب اچھی طرح دھوئے پھر چہرہ دھویا۔ اس کے بعد نبی کریم ﷺ اپنے بازؤوں سے آستینیں اوپر چڑھانے لگے لیکن نبی کریم ﷺ نے جو شامی جبہ زیب تن فرما رکھا تھا اس کی آستینیں تنگ تھیں اس لئے وہ اوپر نہ ہوسکیں چناچہ نبی کریم ﷺ نے دونوں ہاتھ نیچے سے نکال لئے اور چہرہ اور ہاتھ دھوئے پیشانی کی مقدار سر پر مسح کیا اپنے عمامے پر مسح کیا اور موزوں پر مسح کیا اور واپسی کے لئے سوار ہوگئے جب ہم لوگوں کے پاس پہنچے تو نماز کھڑی ہوچکی تھی اور حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ آگے بڑھ کر ایک رکعت پڑھا چکے تھے اور دوسری رکعت میں تھے پیچھے ہٹنے لگے تو نبی کریم ﷺ نے انہیں اشارے سے نماز مکمل کرنے کے لئے فرمایا اور نماز سے فارغ ہو کر فرمایا تم نے اچھا کیا اسی طرح کیا کرو۔

17474Musnad Imam Ahmad

حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) کی حدیثیں

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا أَبُو هِلَالٍ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ انْتَهَيْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَوَجَدَ مِنِّي رِيحَ الثُّومِ فَقَالَ مَنْ أَكَلَ الثُّومَ قَالَ فَأَخَذْتُ يَدَهُ فَأَدْخَلْتُهَا فَوَجَدَ صَدْرِي مَعْصُوبًا قَالَ إِنَّ لَكَ عُذْرًا

حضرت مغیرہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا نبی کریم ﷺ کو میرے منہ سے لہسن کی بدبو محسوس ہوئی تو فرمایا لہسن کس نے کھایا ہے؟ میں نے نبی کریم ﷺ کا ہاتھ پکڑا اور اپنی قمیص میں داخل کیا تو نبی کریم ﷺ کو معلوم ہوا کہ میرے سینے پر پٹیاں بندھی ہوئی ہیں نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم معذور ہو۔

17475Musnad Imam Ahmad

حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) کی حدیثیں

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ الْمَعْنَى عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نُضَيْلَةَ قَالَ زَيْدٌ الْخُزَاعِيُّ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَنَّ ضُرَّتَيْنِ ضَرَبَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِعَمُودِ فُسْطَاطٍ فَقَتَلَتْهَا فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالدِّيَةِ عَلَى عَصَبَةِ الْقَاتِلَةِ وَفِيمَا فِي بَطْنِهَا غُرَّةٌ قَالَ الْأَعْرَابِيُّ أَتُغَرِّمُنِي مَنْ لَا أَكَلَ وَلَا شَرِبَ وَلَا صَاحَ فَاسْتَهَلَّ فَمِثْلُ ذَلِكَ يُطَلُّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَجْعٌ كَسَجْعِ الْأَعْرَابِ وَلِمَا فِي بَطْنِهَا غُرَّةٌ

حضرت مغیرہ ؓ سے مروی ہے کہ دو عورتوں کی لڑائی ہوئی، ان میں سے ایک نے دوسری کو اپنے خیمے کی چوب مار کر قتل کردیا نبی کریم ﷺ نے قاتلہ کے عصبات پر دیت کا فیصلہ فرمایا اور اس کے پیٹ میں موجود بچے کے ضائع ہونے پر ایک باندی یا غلام کا فیصلہ فرمایا ایک دیہاتی کہنے لگا کہ آپ مجھ پر اس جان کا تاوان عائد کرتے ہیں جس نے کھایا نہ پیا، چیخا اور نہ چلایا، ایسی جان کا معاملہ تو ٹال دیا جاتا ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا دیہاتیوں جیسی تک بندی ہے لیکن فیصلہ پھر بھی وہی ہے کہ اس بچے کے قصاص میں ایک غلام یا باندی ہے۔