حضرت عقبہ بن عامر جہنی (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا حَسَنٌ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا كَعْبُ بْنُ عَلْقَمَةَ عَنْ كَثِيرٍ مَوْلَى عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ سَتَرَ مُؤْمِنًا كَانَ كَمَنْ أَحْيَا مَوْءُودَةً مِنْ قَبْرِهَا
حضرت عقبہ بن عامر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرے، وہ ایسے ہے جیسے اس نے کسی زندہ درگور کی ہوئی بچی کو نئی زندگی عطا کردی ہو۔
حضرت عقبہ بن عامر جہنی (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى وَمُوسَى بْنُ دَاوُدَ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا كَعْبُ بْنُ عَلْقَمَةَ عَنْ مَوْلًى لِعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ يُقَالُ لَهُ كَثِيرٌ قَالَ لَقِيتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ فَأَخْبَرْتُهُ أَنَّ لَنَا جِيرَانًا يَشْرَبُونَ الْخَمْرَ قَالَ دَعْهُمْ ثُمَّ جَاءَهُ فَقَالَ أَلَا أَدْعُو عَلَيْهِمْ الشُّرَطُ فَقَالَ عُقْبَةُ وَيْحَكَ دَعْهُمْ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مِنْ رَأَى عَوْرَةً فَسَتَرَهَا كَانَ كَمَنْ أَحْيَا مَوْءُودَةً مِنْ قَبْرِهَا
حضرت عقبہ کے آزاد کردہ غلام ابو کثیر کا کہنا ہے کہ ایک مرتبہ میں حضرت عقبہ بن عامر ؓ کے پاس آیا اور ان سے کہا کہ ہمارے کچھ پڑوسی شراب پیتے ہیں، انہوں نے فرمایا کہ انہیں ان کے حال پر چھوڑ دو، کچھ عرصے بعد وہ دوبارہ آیا اور کہنے لگا کہ میں ان کے لئے پولیس کو نہ بلوا لوں، حضرت عقبہ ؓ نے فرمایا ارے بھئی! انہیں ان کے حال پر چھوڑ دو، کیونکہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرے، وہ ایسے ہے جیسے اس نے کسی زندہ درگور کی ہوئی بچی کو نئی زندگی عطاء کردی ہو۔
حضرت عقبہ بن عامر جہنی (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُبَارَكٍ أَخْبَرَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ عِمْرَانَ أَنَّهُ سَمِعَ يَزِيدَ بْنَ أَبِي حَبِيبٍ يُحَدِّثُ أَنَّ أَبَا الْخَيْرِ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ كُلُّ امْرِئٍ فِي ظِلِّ صَدَقَتِهِ حَتَّى يُفْصَلَ بَيْنَ النَّاسِ أَوْ قَالَ يُحْكَمَ بَيْنَ النَّاسِ قَالَ يَزِيدُ وَكَانَ أَبُو الْخَيْرِ لَا يُخْطِئُهُ يَوْمٌ إِلَّا تَصَدَّقَ فِيهِ بِشَيْءٍ وَلَوْ كَعْكَةً أَوْ بَصَلَةً أَوْ كَذَا
حضرت عقبہ بن عامر ؓ سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت کے دن ہر شخص اپنے صدقے کے سائے میں ہوگا، یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان حساب کتاب اور فیصلہ شروع ہوجائے، راوی ابو الخیر کے متعلق کہتے ہیں کہ وہ کوئی دن ایسا نہیں جانے دیتے تھے جس میں کوئی چیز خواہ میٹھی روٹی یا پیاز ہی ہو، صدقہ نہ کرتے ہوں۔
حضرت عقبہ بن عامر جہنی (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا مُعَانُ بْنُ رِفَاعَةَ حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ عَنْ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ لَقِيتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَابْتَدَأْتُهُ فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ قَالَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا نَجَاةُ هَذَا الْأَمْرِ قَالَ يَا عُقْبَةُ احْرُسْ لِسَانَكَ وَلْيَسَعْكَ بَيْتُكَ وَابْكِ عَلَى خَطِيئَتِكَ قَالَ ثُمَّ لَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَابْتَدَأَنِي فَأَخَذَ بِيَدِي فَقَالَ يَا عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ أَلَا أُعَلِّمُكَ خَيْرَ ثَلَاثِ سُوَرٍ أُنْزِلَتْ فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالزَّبُورِ وَالْفُرْقَانِ الْعَظِيمِ قَالَ قُلْتُ بَلَى جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاكَ قَالَ فَأَقْرَأَنِي قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ وَقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ وَقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ ثُمَّ قَالَ يَا عُقْبَةُ لَا تَنْسَاهُنَّ وَلَا تَبِيتَ لَيْلَةً حَتَّى تَقْرَأَهُنَّ قَالَ فَمَا نَسِيتُهُنَّ مِنْ مُنْذُ قَالَ لَا تَنْسَاهُنَّ وَمَا بِتُّ لَيْلَةً قَطُّ حَتَّى أَقْرَأَهُنَّ قَالَ عُقْبَةُ ثُمَّ لَقِيتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَابْتَدَأْتُهُ فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنِي بِفَوَاضِلِ الْأَعْمَالِ فَقَالَ يَا عُقْبَةُ صِلْ مَنْ قَطَعَكَ وَأَعْطِ مَنْ حَرَمَكَ وَأَعْرِضْ عَمَّنْ ظَلَمَكَ
حضرت عقبہ بن عامر ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میری ملاقات نبی ﷺ سے ہوئی تو میں نے آگے بڑھ کر نبی ﷺ کا دست مبارک تھام لیا اور عرض کیا یا رسول اللہ! ﷺ مومن کی نجات کس طرح ہوگی؟ نبی ﷺ نے فرمایا اے عقبہ! اپنی زبان کی حفاظت کرو اپنے گھر کو اپنے لئے کافی سمجھو اور اپنے گناہوں پر آہ وبکاء کرو۔ کچھ عرصہ بعد دوبارہ ملاقات ہوئی، اس مرتبہ نبی ﷺ نے آگے بڑھ کر میرا ہاتھ پکڑ لیا اور فرمایا اے عقبہ بن عامر! کیا میں تمہیں تورات، زبور، انجیل اور قرآن کی تین سب سے بہتر سورتیں نہ بتاؤں؟ میں نے عرض کیا کہ اللہ مجھے آپ پر نثار کرے، کیوں نہیں! چناچہ نبی ﷺ نے مجھے سورت اخلاص، سورت فلق اور سورت ناس پڑھائیں اور فرمایا عقبہ! انہیں مت بھلانا اور کوئی رات ایسی نہ گذارنا جس میں یہ سورتیں نہ پڑھو، چناچہ میں اس وقت سے انہیں کبھی بھولنے نہیں دیا اور کوئی رات انہیں پڑھے بغیر نہیں گذاری۔ کچھ عرصے بعد پھر ملاقات ہوئی تو میں نے آگے بڑھ کر نبی ﷺ کا دست مبارک تھام لیا اور عرض کیا یا رسول اللہ! ﷺ مجھے سب سے افضل اعمال کے بارے میں بتائیے؟ نبی ﷺ نے فرمایا عقبہ! رشتہ توڑنے والے سے رشتہ جوڑو، محروم رکھنے والے کو عطاء کرو اور ظالم سے درگذر اور اعراض کرو۔
حضرت عقبہ بن عامر جہنی (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ عَنْ أَبِي سَلَّامٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ زَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ كُنْتُ مَعَ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ وَكَانَ رَجُلًا يُحِبُّ الرَّمْيَ إِذَا خَرَجَ خَرَجَ بِي مَعَهُ فَدَعَانِي يَوْمًا فَأَبْطَأْتُ عَلَيْهِ فَقَالَ تَعَالَ أَقُولُ لَكَ مَا قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا حَدَّثَنِي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُدْخِلُ بِالسَّهْمِ الْوَاحِدِ ثَلَاثَةَ نَفَرٍ الْجَنَّةَ صَانِعَهُ الْمُحْتَسِبَ فِي صَنَعْتِهِ الْخَيْرَ وَالرَّامِيَ بِهِ وَمُنْبِلَهُ وَقَالَ ارْمُوا وَارْكَبُوا وَلَأَنْ تَرْمُوا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ تَرْكَبُوا وَلَيْسَ مِنْ اللَّهْوِ إِلَّا ثَلَاثٌ تَأْدِيبُ الرَّجُلِ فَرَسَهُ وَمُلَاعَبَتُهُ امْرَأَتَهُ وَرَمْيُهُ بِقَوْسِهِ وَمَنْ تَرَكَ الرَّمْيَ بَعْدَمَا عُلِّمَهُ رَغْبَةً عَنْهُ فَإِنَّهَا نِعْمَةٌ تَرَكَهَا
خالد بن زید کہتے ہیں کہ حضرت عقبہ بن عامر ؓ میرے یہاں تشریف لاتے تھے اور فرماتے تھے کہ ہمارے ساتھ چلو، تیر اندازی کی مشق کرتے ہیں ایک دن میری طبیعت بوجھل تھی تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک تیر کی وجہ سے تین آدمیوں کو جنت میں داخل فرمائے گا، ایک تو اسے بنانے والا جس نے اچھی نیت سے اسے بنایا ہو، دوسرا اس کا معاون اور تیسرا اسے چلانے والا، لہذا تیر اندازی بھی کیا کرو اور گھڑ سواری بھی اور میرے نزدیک گھڑ سواری سے زیادہ تیر اندازی پسندیدہ ہے اور ہر وہ چیز جو انسان کو غفلت میں ڈال دے، وہ باطل ہے سوائے انسان کے تیر کمان کے، گھوڑے کی دیکھ بھال میں اور اپنی بیوی کے ساتھ دل لگی میں مصروف ہونے کے، کہ یہ چیزیں برحق ہیں اور جو شخص تیر اندازی کا فن سیکھنے کے بعد اسے بھلا دے تو اس نے اپنے سکھانے والے کی ناشکری کی۔
حضرت عقبہ بن عامر جہنی (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ قَالَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ ابْنِ جَابِرٍ عَنْ أَبِي سَلَّامٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ عُلِّمَ الرَّمْيَ ثُمَّ تَرَكَهُ بَعْدَمَا عُلِّمَهُ فَهِيَ نِعْمَةٌ كَفَرَهَا
حضرت عقبہ بن عامر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص تیر اندازی کا فن سیکھنے کے بعد اسے بھلا دے تو اس نے اس نعمت کے سکھانے والے کی ناشکری کی۔
حضرت عقبہ بن عامر جہنی (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ الْأَزْرَقِ قَالَ كَانَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ الْجُهَنِيُّ يَخْرُجُ فَيَرْمِي كُلَّ يَوْمٍ وَكَانَ يَسْتَتْبِعُهُ فَكَأَنَّهُ كَادَ أَنْ يَمَلَّ فَقَالَ أَلَا أُخْبِرُكَ بِمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَلَى قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُدْخِلُ بِالسَّهْمِ الْوَاحِدِ ثَلَاثَةَ نَفَرٍ الْجَنَّةَ صَاحِبَهُ الَّذِي يَحْتَسِبُ فِي صَنْعَتِهِ الْخَيْرَ وَالَّذِي يُجَهِّزُ بِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالَّذِي يَرْمِي بِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَقَالَ ارْمُوا وَارْكَبُوا وَإِنْ تَرْمُوا خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَرْكَبُوا وَقَالَ كُلُّ شَيْءٍ يَلْهُو بِهِ ابْنُ آدَمَ فَهُوَ بَاطِلٌ إِلَّا ثَلَاثًا رَمْيَهُ عَنْ قَوْسِهِ وَتَأْدِيبَهُ فَرَسَهُ وَمُلَاعَبَتَهُ أَهْلَهُ فَإِنَّهُنَّ مِنْ الْحَقِّ قَالَ فَتُوُفِّيَ عُقْبَةُ وَلَهُ بِضْعٌ وَسِتُّونَ أَوْ بِضْعٌ وَسَبْعُونَ قَوْسًا مَعَ كُلِّ قَوْسٍ قَرْنٌ وَنَبْلٌ وَأَوْصَى بِهِنَّ فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ يَحْيَى عَنْ أَبِي سَلَّامٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَزْرَقِ أَنَّ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُدْخِلُ بِالسَّهْمِ الْوَاحِدِ ثَلَاثَةً الْجَنَّةَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
خالد بن زید کہتے ہیں کہ حضرت عقبہ بن عامر ؓ میرے یہاں تشریف لاتے تھے اور فرماتے تھے کہ ہمارے ساتھ چلو، تیر اندازی کی مشق کرتے ہیں ایک دن میری طبیعت بوجھل تھی تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک تیر کی وجہ سے تین آدمیوں کو جنت میں داخل فرمائے گا، ایک تو اسے بنانے والا جس نے اچھی نیت سے اسے بنایا ہو، دوسرا اس کا معاون اور تیسرا اسے چلانے والا، لہذا تیر اندازی بھی کیا کرو اور گھڑ سواری بھی اور میرے نزدیک گھڑ سواری سے زیادہ تیر اندازی پسندیدہ ہے اور ہر وہ چیز جو انسان کو غفلت میں ڈال دے، وہ باطل ہے سوائے انسان کے تیر کمان کے، گھوڑے کی دیکھ بھال میں اور اپنی بیوی کے ساتھ دل لگی میں مصروف ہونے کے، کہ یہ چیزیں برحق ہیں اور جو شخص تیر اندازی کا فن سیکھنے کے بعد اسے بھلا دے تو اس نے اپنے سکھانے والے کی ناشکری کی۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حضرت عقبہ بن عامر جہنی (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي خَالِدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِذٍ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ قَالَ انْطَلَقَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ الْجُهَنِيُّ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى لِيُصَلِّيَ فِيهِ فَاتَّبَعَهُ نَاسٌ فَقَالَ مَا جَاءَ بِكُمْ قَالُوا صُحْبَتُكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْبَبْنَا أَنْ نَسِيرَ مَعَكَ وَنُسَلِّمَ عَلَيْكَ قَالَ انْزِلُوا فَصَلُّوا فَنَزَلُوا فَصَلَّى وَصَلَّوْا مَعَهُ فَقَالَ حِينَ سَلَّمَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَيْسَ مِنْ عَبْدٍ يَلْقَى اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا لَمْ يَتَنَدَّ بِدَمٍ حَرَامٍ إِلَّا دَخَلَ مِنْ أَيِّ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ شَاءَ
عبدالرحمن بن عائذ (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عقبہ بن عامر ؓ مسجد اقصی میں نماز پڑھنے کے لئے روانہ ہوئے تو کچھ لوگ ان کے پیچھے ہو لئے، حضرت عقبہ ؓ نے ان سے ساتھ چلنے کی وجہ پوچھی تو انہوں نے بتایا کہ آپ نے چونکہ نبی ﷺ کی ہمنشینی کا شرف پایا ہے، اس لئے ہم آپ کے ساتھ چلنا چاہتے ہیں اور آپ کو سلام کرنے کے لئے آئے ہیں حضرت عقبہ ؓ نے فرمایا کہ یہیں پر اترو اور نماز پڑھو، چناچہ سب نے اتر کر نماز پڑھی، سلام پھیرنے کے بعد انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو بندہ بھی اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملاقات کرے کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو اور اپنے ہاتھوں کو کسی کے خون سے رنگین کئے ہوئے نہ ہو، اسے اجازت ہوگی کہ جنت کے جس دروازے سے چاہے، اس میں داخل ہوجائے۔
حضرت عقبہ بن عامر جہنی (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ قَالَ حَدَّثَنَا كَعْبُ بْنُ عَلْقَمَةَ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ شِمَاسَةَ يَقُولُ أَتَيْنَا أَبَا الْخَيْرِ فَقَالَ سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّمَا النَّذْرُ يَمِينٌ كَفَّارَتُهَا كَفَّارَةُ الْيَمِينِ
حضرت عقبہ بن عامر ؓ سے مروی ہے کہ میں نے جناب رسول اللہ ﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ نذر کا کفارہ بھی وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے۔
حضرت عقبہ بن عامر جہنی (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا هَاشْمٌ حَدَّثَنَا لَيْثٌ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ أَسْلَمَ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ أَنَّهُ قَالَ اتَّبَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ رَاكِبٌ فَوَضَعْتُ يَدَيَّ عَلَى قَدَمَيْهِ فَقُلْتُ أَقْرِئْنِي مِنْ سُورَةِ يُوسُفَ فَقَالَ لَنْ تَقْرَأَ شَيْئًا أَبْلَغَ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ
حضرت عقبہ بن عامر ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی ﷺ کے پیچھے چلا، نبی ﷺ سوار تھے، میں نے آپ ﷺ کے مبارک قدموں پر ہاتھ رکھ کر عرض کیا کہ مجھے سورت یوسف پڑھا دیجئے، نبی ﷺ نے فرمایا اللہ کے نزدیک تم سورت فلق سے زیادہ بلیغ کوئی سورت نہ پڑھو گے۔
حضرت عقبہ بن عامر جہنی (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ قَالَ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ حَدَّثَنَا بَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُهْدِيَتْ لَهُ بَغْلَةٌ شَهْبَاءُ فَرَكِبَهَا فَأَخَذَ عُقْبَةُ يَقُودُهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعُقْبَةَ اقْرَأْ فَقَالَ وَمَا أَقْرَأُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اقْرَأْ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ فَأَعَادَهَا عَلَيْهِ حَتَّى قَرَأَهَا فَعَرَفَ أَنِّي لَمْ أَفْرَحْ بِهَا جِدًّا فَقَالَ لَعَلَّكَ تَهَاوَنْتَ بِهَا فَمَا قُمْتَ تُصَلِّي بِشَيْءٍ مِثْلِهَا
حضرت عقبہ بن عامر ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ کی خدمت میں کہیں سے سفید رنگ کا ایک خچر ہدیہ میں آیا، نبی ﷺ اس پر سوار ہوئے اور حضرت عقبہ بن عامر ؓ اسے ہانکنے لگے، نبی ﷺ نے ان سے فرمایا پڑھو، انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! ﷺ کیا پڑھوں؟ نبی ﷺ نے فرمایا سورت علق پڑھو، چناچہ انہوں نے نبی ﷺ کے سامنے اسے پڑھ دیا، تاہم نبی ﷺ سمجھ گئے کہ میں اس سے بہت زیادہ خوش نہیں ہوا، چناچہ فرمایا شاید یہ تمہیں کم معلوم ہو رہی ہو؟ تم سورت فلق سے زیادہ بلیغ کوئی سورت نماز میں نہ پڑھو گے۔
حضرت عقبہ بن عامر جہنی (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ وهَاشِمٌ قَالَا حَدَّثَنَا لَيْثٌ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ أَبِي الْخَيْرِ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ أَنَّهُ قَالَ أُهْدِيَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُّوجُ حَرِيرٍ فَلَبِسَهُ ثُمَّ صَلَّى فِيهِ ثُمَّ انْصَرَفَ فَنَزَعَهُ نَزْعًا عَنِيفًا شَدِيدًا كَالْكَارِهِ لَهُ ثُمَّ قَالَ لَا يَنْبَغِي هَذَا لِلْمُتَّقِينَ
حضرت عقبہ بن عامر ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ کی خدمت میں کہیں سے ایک ریشمی جوڑا ہدیہ میں آیا، نبی ﷺ نے اس کو پہن کر ہمیں مغرب کی نماز پڑھائی، نماز سے فارغ ہو کر نبی ﷺ نے اسے بےچینی سے اتارا اور فرمایا متقیوں کے لئے یہ لباس شایان شان نہیں ہے۔
حضرت عقبہ بن عامر جہنی (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ أَبِي الْخَيْرِ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَوْمًا فَصَلَّى عَلَى أَهْلِ أُحُدٍ صَلَاتَهُ عَلَى الْمَيِّتِ ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ إِنِّي فَرَطٌ لَكُمْ وَإِنِّي شَهِيدٌ عَلَيْكُمْ وَإِنِّي وَاللَّهِ لَأَنْظُرُ إِلَى الْحَوْضِ أَلَا وَإِنِّي قَدْ أُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ خَزَائِنِ الْأَرْضِ أَوْ مَفَاتِيحَ الْأَرْضِ إِنِّي وَاللَّهِ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تُشْرِكُوا بَعْدِي وَلَكِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تَنَافَسُوا فِيهَا
حضرت عقبہ بن عامر ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نکلے اور اہل احد کی قبروں پر پہنچ کر نماز جنازہ پڑھی، پھر واپس آکر منبر پر رونق افروز ہوئے اور فرمایا میں تمہارا انتظار کروں گا اور میں تمہارے لئے گواہی دوں گا، واللہ میں اس وقت بھی اپنے حوض کو دیکھ رہا ہوں، یاد رکھو! مجھے زمین کے خزانوں کی چابیاں دی گئی ہیں، بخدا! مجھے تمہارے متعلق یہ اندیشہ نہیں ہے کہ میرے پیچھے تم شرک کرنے لگو گے، بلکہ مجھے یہ اندیشہ ہے کہ تم دنیا میں منہمک ہو کر ایک دوسرے سے مسابقت کرنے لگو گے۔
حضرت عقبہ بن عامر جہنی (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ أَخْبَرَنَا لَيْثٌ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ أَبِي الْخَيْرِ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ أَنَّهُ قَالَ قُلْنَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّكَ تَبْعَثُنَا فَنَنْزِلُ بِقَوْمٍ لَا يَقْرُونَا فَمَا تَرَى فِي ذَلِكَ فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَزَلْتُمْ بِقَوْمٍ فَأَمَرُوا لَكُمْ بِمَا يَنْبَغِي لِلضَّيْفِ فَاقْبَلُوا وَإِنْ لَمْ يَفْعَلُوا فَخُذُوا مِنْهُمْ حَقَّ الضَّيْفِ الَّذِي يَنْبَغِي لَهُمْ
حضرت عقبہ بن عامر ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا کہ بعض اوقات آپ ہمیں کہیں بھیجتے ہیں، ہم ایسی قوم کے پاس پہنچتے ہیں جو ہماری مہمان نوازی نہیں کرتی تو اس سلسلے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ نبی ﷺ نے فرمایا اگر تم کسی قوم میں مہمان بن کر جاؤ اور وہ لوگ اس چیز کا حکم دے دیں جو ایک مہمان کے لئے مناسب حال ہوتی ہے تو اسے قبول کرلو اور اگر وہ ایسا نہ کریں تو تم خود ان سے مہمان کا مناسب حق وصول کرسکتے ہو۔
حضرت عقبہ بن عامر جہنی (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ أَبِي الْخَيْرِ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَاهُ غَنَمًا فَقَسَمَهَا عَلَى أَصْحَابِهِ ضَحَايَا فَبَقِيَ عَتُودٌ مِنْهَا فَذَكَرَهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ضَحِّ بِهِ
حضرت عقبہ بن عامر ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے اپنے ساتھیوں کے درمیان قربانی کے جانور تقسیم کئے تو میرے حصے میں چھ ماہ کا ایک بچہ آیا، میں نے نبی ﷺ سے اس کے متعلق قربانی کا حکم پوچھا تو نبی ﷺ نے فرمایا تم اسی کی قربانی کرلو۔
حضرت عقبہ بن عامر جہنی (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ أَخْبَرَنَا لَيْثٌ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ أَبِي الْخَيْرِ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِيَّاكُمْ وَالدُّخُولَ عَلَى النِّسَاءِ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَرَأَيْتَ الْحَمْوَ قَالَ الْحَمْوُ الْمَوْتُ
حضرت عقبہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا عورتوں کے پاس جانے سے اپنے آپ کو بچاؤ ایک انصاری نے پوچھا یا رسول اللہ! ﷺ دیور کا کیا حکم ہے؟ فرمایا دیور تو موت ہے۔
حضرت عقبہ بن عامر جہنی (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ الضَّمْرِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الرُّعَيْنِيَّ يُحَدِّثُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَالِكٍ أَخْبَرَهُ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ أَخْبَرَهُ أَنَّ أُخْتَهُ نَذَرَتْ أَنْ تَمْشِيَ حَافِيَةً غَيْرَ مُخْتَمِرَةٍ فَذَكَرَ ذَلِكَ عُقْبَةُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مُرْ أُخْتَكَ فَلْتَرْكَبْ وَلْتَخْتَمِرْ وَلْتَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ
عبداللہ بن مالک (رح) سے مروی ہے کہ حضرت عقبہ بن عامر ؓ کی ہمشیرہ نے پیدا چل کر دوپٹہ اوڑھے بغیر حج کرنے کی منت مانی تھی، حضرت عقبہ ؓ نے نبی ﷺ سے اس کے متعلق پوچھا تو نبی ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ تمہاری بہن کی سختی کا کیا کرے گا؟ اسے حکم دو کہ وہ دوپٹہ اوڑھ کر سوار ہو کر جائے اور تین روزے رکھ لے۔
حضرت عقبہ بن عامر جہنی (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ عَمْرٍو الْكَلْبِيُّ وَيُونُسُ قَالَا حَدَّثَنَا أَبَانُ قَالَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا أَنْكَحَ الْوَلِيَّانِ فَهُوَ لِلْأَوَّلِ مِنْهُمَا وَإِذَا بَاعَ مِنْ رَجُلَيْنِ فَهُوَ لِلْأَوَّلِ مِنْهُمَا قَالَ أَبِي وَقَالَ يُونُسُ وَإِذَا بَاعَ الرَّجُلُ بَيْعًا مِنْ رَجُلَيْنِ
حضرت عقبہ بن عامر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا اگر کسی لڑکی کے دو ولی ہوں اور دونوں مختلف جگہوں پر اس کا نکاح کردیں، تو ان میں سے جس نے پہلے نکاح کیا ہوگا، وہ صحیح ہوگا اور جب کوئی شخص دو آدمیوں سے چیز خریدے تو ان میں سے پہلے بیچنے والے کی وہ چیز ملکیت تصور ہوگی۔
حضرت عقبہ بن عامر جہنی (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ الْحَارِثِ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ كُنْتُ أَقُودُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاقَتَهُ قَالَ فَقَالَ لِي أَلَا أُعَلِّمُكَ سُورَتَيْنِ لَمْ يُقْرَأْ بِمِثْلِهِمَا قُلْتُ بَلَى فَعَلَّمَنِي قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ وَقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ فَلَمْ يَرَنِي أُعْجِبْتُ بِهِمَا فَلَمَّا نَزَلَ الصُّبْحَ فَقَرَأَ بِهِمَا ثُمَّ قَالَ لِي كَيْفَ رَأَيْتَ يَا عُقْبَةُ
حضرت عقبہ بن عامر ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں کسی راستے میں نبی ﷺ کی سواری کے آگے آگے چل رہا تھا، اچانک نبی ﷺ نے مجھ سے فرمایا کیا م ہیں تمہیں ایسی دو سورتیں نہ سکھا دوں، جن کی مثل نہ ہو؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں یا رسول اللہ! ﷺ چناچہ نبی ﷺ نے مجھے سورت فلق اور سورت ناس پڑھائیں، پھر نماز کھڑی ہوئی، نبی ﷺ آگے بڑھ گئے اور نماز فجر میں یہی دونوں سورتیں پڑھیں، پھر میرے پاس سے گذرتے ہوئے فرمایا اے عقبہ! تم کیا سمجھے؟ (یہ دونوں سورتیں سوتے وقت بھی پڑھا کرو اور بیدار ہو کر بھی پڑھا کرو)۔
حضرت عقبہ بن عامر جہنی (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا هَارُونُ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ صَلُّوا فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ وَلَا تُصَلُّوا فِي أَعْطَانِ الْإِبِلِ أَوْ مَبَارِكِ الْإِبِلِ و قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ حَكِيمٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھ لیا کرو، لیکن اونٹوں کے باڑے میں نماز نہ پڑھا کرو۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے حضرت عقبہ ؓ سے بھی مروی ہے۔