حضرت امیر معاویہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ الْيَحْصَبِيِّ قَالَ سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ يُحَدِّثُ وَهُوَ يَقُولُ إِيَّاكُمْ وَأَحَادِيثَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا حَدِيثًا كَانَ عَلَى عَهْدِ عُمَرَ وَإِنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ كَانَ أَخَافَ النَّاسَ فِي اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ يُرِدْ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهُّ فِي الدِّينِ وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ إِنَّمَا أَنَا خَازِنٌ وَإِنَّمَا يُعْطِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَمَنْ أَعْطَيْتُهُ عَطَاءً عَنْ طِيبِ نَفْسٍ فَهُوَ أَنْ يُبَارَكَ لِأَحَدِكُمْ وَمَنْ أَعْطَيْتُهُ عَطَاءً عَنْ شَرَهٍ وَشَرَهِ مَسْأَلَةٍ فَهُوَ كَالْآكِلِ وَلَا يَشْبَعُ وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ لَا تَزَالُ أُمَّةٌ مِنْ أُمَّتِي ظَاهِرِينَ عَنْ الْحَقِّ لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَالَفَهُمْ حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ وَهُمْ ظَاهِرُونَ عَلَى النَّاسِ
حضرت معاویہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کے حوالے سے کثرت کے ساتھ احادیث بیان کرنے سے بچو سوائے ان احادیث کے جو حضرت عمر ؓ کے دور میں زبان زدعام تھیں، کیونکہ حضرت عمر ؓ لوگوں کو اللہ کے معاملات میں ڈراتے تھے، میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے ساتھ خیر کا ارادہ فرماتا ہے تو اسے دین کی سمجھ عطاء فرما دیتا ہے۔ اور میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میں تو صرف خزانچی ہوں، اصل دینے والا اللہ ہے اس لئے میں جس شخص کو دل کی خوشی کے ساتھ کوئی بخشش دوں تو اسے اس کے لئے مبارک کردیا جائے گا اور جسے اس کے شر سے بچنے کے لئے یا اس کے سوال میں اصرار کی وجہ سے کچھ دوں، وہ اس شخص کی طرح ہے جو کھاتا رہے اور سیراب نہ ہو۔ اور میں نے نبی ﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے میری امت میں ایک گروہ ہمیشہ حق پر رہے گا، وہ اپنی مخالفت کرنے والوں کی پرواہ نہیں کرے گا، یہاں تک کہ اللہ کا حکم آجائے۔
حضرت امیر معاویہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ عَطَاءِ بْنِ أَبِي الْخُوَارِ أَنَّ نَافِعَ بْنَ جُبَيْرٍ أَرْسَلَهُ إِلَى السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ابْنِ أُخْتِ نَمِرٍ يَسْأَلُهُ عَنْ شَيْءٍ رَآهُ مِنْهُ مُعَاوِيَةُ فِي الصَّلَاةِ قَالَ نَعَمْ صَلَّيْتُ مَعَهُ الْجُمُعَةَ فِي الْمَقْصُورَةِ فَلَمَّا سَلَّمَ قُمْتُ فِي مَقَامِي فَصَلَّيْتُ فَلَمَّا دَخَلَ أَرْسَلَ إِلَيَّ فَقَالَ لَا تَعُدْ لِمَا فَعَلْتَ إِذَا صَلَّيْتَ الْجُمُعَةَ فَلَا تَصِلْهَا بِصَلَاةٍ حَتَّى تَخْرُجَ أَوْ تَكَلَّمَ فَإِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِذَلِكَ أَنْ لَا تُوصَلَ صَلَاةٌ بِصَلَاةٍ حَتَّى تَخْرُجَ أَوْ تَكَلَّمَ
عمر بن عطاء کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مجھے نافع بن جبیر نے سائب بن یزید کے پاس یہ پوچھنے کے لئے بھیجا کہ انہوں نے حضرت معاویہ ؓ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے؟ انہوں نے جواب دیا جی ہاں! ایک مرتبہ میں نے ان کے ساتھ مقصورہ میں جمعہ پڑھا تھا، جب انہوں نے نماز کا سلام پھیرا تو میں اپنی جگہ پر ہی کھڑے ہو کر سنتیں پڑھنے لگا، حضرت معاویہ ؓ جب اندر چلے گئے تو مجھے بلا کر فرمایا آج کے بعد دوبارہ اس طرح نہ کرنا جیسے ابھی کیا ہے، جب تم جمعہ کی نماز پڑھو تو اس سے متصل ہی دوسری نماز نہ پڑھو جب تک کوئی بات نہ کرلو، یا وہاں سے ہٹ نہ جاؤ، کیونکہ نبی ﷺ نے یہ حکم دیا ہے کہ کسی نماز کے متصل بعد ہی دوسری نماز نہ پڑھی جائے جب تک کہ کوئی بات نہ کرلو یا وہاں سے ہٹ نہ جاؤ۔
حضرت امیر معاویہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ قَالَ سَمِعْتُ حُمْرَانَ بْنَ أَبَانَ يُحَدِّثُ عَنْ مُعَاوِيَةَ أَنَّهُ رَأَى أُنَاسًا يُصَلُّونَ بَعْدَ الْعَصْرِ فَقَالَ إِنَّكُمْ لَتُصَلُّونَ صَلَاةً قَدْ صَحِبْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا رَأَيْنَاهُ يُصَلِّيهَا وَلَقَدْ نَهَى عَنْهَا يَعْنِي الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ
حضرت معاویہ ؓ سے مروی ہے کہ تم لوگ ایک ایسی نماز پڑھتے ہو کہ نبی ﷺ کی رفاقت کے باوجود ہم نے انہیں یہ نماز پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا بلکہ وہ اس سے منع فرماتے تھے، مراد عصر کے بعد کی دو سنتیں (نفل) ہیں (جو انہوں نے کچھ لوگوں کو پڑھتے ہوئے دیکھا تھا)۔
حضرت امیر معاویہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ نَسِيَ شَيْئًا مِنْ صَلَاتِهِ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ
حضرت معاویہ ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص نماز میں کچھ بھول جائے تو اسے چاہئے کہ بیٹھ کردو سجدے کرلے۔
حضرت امیر معاویہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي الْفَيْضِ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ
حضرت معاویہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کسی جھوٹی بات کی نسبت کرے، اسے چاہئے کہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔
حضرت امیر معاویہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا لَيْثٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ عَجْلَانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ مَوْلَى عُثْمَانَ عَنْ أَبِيهِ يُوسُفَ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ أَنَّهُ صَلَّى أَمَامَهُمْ فَقَامَ فِي الصَّلَاةِ وَعَلَيْهِ جُلُوسٌ فَسَبَّحَ النَّاسُ فَتَمَّ عَلَى قِيَامِهِ ثُمَّ سَجَدْنَا سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ بَعْدَ أَنْ أَتَمَّ الصَّلَاةَ ثُمَّ قَعَدَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ نَسِيَ مِنْ صَلَاتِهِ شَيْئًا فَلْيَسْجُدْ مِثْلَ هَاتَيْنِ السَّجْدَتَيْنِ
حضرت معاویہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے امام بن کر نماز پڑھائی اور بیٹھنے کی بجائے کھڑے ہوگئے، لوگوں نے سبحان اللہ بھی کہا کہ لیکن انہوں نے اپنا قیام مکمل کیا، پھر نماز مکمل ہونے کے بعد بیٹھے بیٹھے سہو کے دو سجدے کر لئے اور منبر پر رونق افروز ہو کر فرمایا کہ میں نے نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص نماز میں کچھ بھول جائے تو اسے چاہئے کہ بیٹھ کر اس طرح دو سجدے کرلے۔
حضرت امیر معاویہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ الشَّهِيدِ عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ قَالَ خَرَجَ مُعَاوِيَةُ فَقَامُوا لَهُ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَمْثُلَ لَهُ الرِّجَالُ قِيَامًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ
ایک مرتبہ حضرت امیر معاویہ ؓ کہیں تشریف لے گئے، لوگ ان کے احترام میں کھڑے ہوگئے لیکن حضرت معاویہ ؓ نے فرمایا کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس شخص کو یہ بات پسند ہو کہ اللہ کے بندے اس کے سامنے کھڑے رہیں، اسے جہنم میں اپنا ٹھکانہ بنالینا چاہئے۔
حضرت امیر معاویہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ أَنَّ سَعْدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَهُ عَنِ الْحَكَمِ بْنِ مِينَاءَ أَنَّ يَزِيدَ بْنَ جَارِيَةَ أخْبَرَهُ أَنَّهُ كَانَ جَالِسًا فِي نَفَرٍ مِنْ الْأَنْصَارِ فَخَرَجَ عَلَيْهِمْ مُعَاوِيَةُ فَسَأَلَهُمْ عَنْ حَدِيثِهِمْ فَقَالُوا كُنَّا فِي حَدِيثٍ مِنْ حَدِيثِ الْأَنْصَارِ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ أَلَا أَزِيدُكُمْ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا بَلَى يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ أَحَبَّ الْأَنْصَارَ أَحَبَّهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَمَنْ أَبْغَضَ الْأَنْصَارَ أَبْغَضَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ أَبِيهِ قَالَ أَخْبَرَنِي الْحَكَمُ بْنُ مِينَاءَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ جَارِيَةَ قَالَ إِنِّي لَفِي مَجْلِسِ مُعَاوِيَةَ فِي نَفَرٍ مِنْ الْأَنْصَارِ وَنَحْنُ نَتَحَدَّثُ إِذْ خَرَجَ عَلَيْنَا مُعَاوِيَةُ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ
یزید بن جاریہ (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ وہ کچھ انصاری لوگوں کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، کہ حضرت معاویہ ؓ تشریف لے آئے اور موضوع بحث پوچھنے لگے، لوگوں نے بتایا کہ ہم انصار کے حوالے سے گفتگو کر رہے ہیں، حضرت معاویہ ؓ نے فرمایا کیا میں بھی تمہاری معلومات میں اضافے کے لئے ایک حدیث نہ سناؤں جو میں نے نبی ﷺ سے سنی ہے؟ لوگوں نے کہا کیوں نہیں امیر المومنین! انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو انصار سے محبت کرتا ہے اللہ اس سے محبت کرتا ہے اور جو انصار سے بغض رکھتا ہے، اللہ اس سے بغض رکھتا ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حضرت امیر معاویہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ الْيَحْصَبِيِّ قَالَ سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّمَا أَنَا خَازِنٌ وَإِنَّمَا يُعْطِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَمَنْ أَعْطَيْتُهُ عَطَاءً بِطِيبِ نَفْسٍ فَإِنَّهُ يُبَارَكُ لَهُ فِيهِ وَمَنْ أَعْطَيْتُهُ عَطَاءً بِشَرَهِ نَفْسٍ وَشَرَهِ مَسْأَلَةٍ فَهُوَ كَالَّذِي يَأْكُلُ فَلَا يَشْبَعُ
حضرت معاویہ ؓ سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میں تو صرف خزانچی ہوں، اصل دینے والا اللہ ہے اس لئے میں جس شخص کو دل کی خوشی کے ساتھ کوئی بخشش دوں تو اسے اس کے لئے مبارک کردیا جائے گا اور جسے اس کے شر سے بچنے کے لئے یا اس کے سوال میں اصرار کی وجہ سے کچھ دوں، وہ اس شخص کی طرح ہے جو کھاتا رہے اور سیراب نہ ہو۔
حضرت امیر معاویہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ قَالَ مِثْلَ مَا يَقُولُ
حضرت معاویہ ؓ سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو سنا ہے کہ آپ ﷺ مؤذن کی اذان جب سنتے تو وہی جملے دہراتے جو وہ کہہ رہا ہوتا تھا۔
حضرت امیر معاویہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِيٍّ أَخْبَرَنِي أَبِي أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ يَخْطُبُ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ وَهُوَ يَقُولُ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ حُلِيِّ الذَّهَبِ وَلُبْسِ الْحَرِيرِ
عبداللہ بن علی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے مکہ مکرمہ میں حضرت معاویہ ؓ کو خانہ کعبہ کے سائے میں برسر منبر یہ کہتے ہوئے سنا کہ نبی ﷺ نے مردوں کو سونا اور ریشم پہننے سے منع فرمایا ہے۔
حضرت امیر معاویہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا سَمِعَ الْمُؤَذِّنَ يَقُولُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ قَالَ مِثْلَ قَوْلِهِ وَإِذَا قَالَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ قَالَ مِثْلَ قَوْلِهِ وَإِذَا قَالَ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ قَالَ مِثْلَ قَوْلِهِ
حضرت معاویہ ؓ سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو سنا ہے کہ آپ ﷺ مؤذن کی اذان جب سنتے تو وہی جملے دہراتے جو وہ کہہ رہا ہوتا تھا۔
حضرت امیر معاویہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ يُحَدِّثُ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ الْبَجَلِيِّ عَنْ جَرِيرٍ أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ يَخْطُبُ يَقُولُ مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ وَأَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ وَعُمَرُ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ وَأَنَا ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ
جریر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت معاویہ ؓ کو دوران خطبہ یہ کہتے ہوئے سنا کہ نبی ﷺ کا وصال ہوا تو آپ ﷺ کی عمر تریسٹھ سال تھی، حضرت صدیق اکبر ؓ کا انتقال ہوا تو ان کی عمر بھی تریسٹھ سال تھی، حضرت عمر ؓ کا انتقال ہوا تو ان کی عمر بھی تریسٹھ سال تھی اور میں بھی اب تریسٹھ سال کا ہوگیا ہوں۔
حضرت امیر معاویہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ قَالَ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا شَرِبَ الْخَمْرَ فَاجْلِدُوهُ فَإِنْ عَادَ فَاجْلِدُوهُ فَإِنْ عَادَ فَاجْلِدُوهُ فَإِنْ عَادَ فَاقْتُلُوهُ
حضرت معاویہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جو شخص شراب پیے تو اسے کوڑے مارے جائیں، اگر دوبارہ پیے تو دوبارہ کوڑے مارو، حتی کہ اگر چوتھی مرتبہ پیے تو اسے قتل کردو۔
حضرت امیر معاویہ (رض) کی مرویات
قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُبَشِّرٍ مَوْلَى أُمِّ حَبِيبَةَ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي عَتَّابٍ عَنْ مُعَاوِيَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَيُّمَا امْرَأَةٍ أَدْخَلَتْ فِي شَعَرِهَا مِنْ شَعَرِ غَيْرِهَا فَإِنَّمَا تُدْخِلُهُ زُورًا
حضرت معاویہ ؓ سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو عورت اپنے بالوں میں کسی غیر کے بال داخل کرتی ہے (تاکہ انہیں لمبا ظاہر کرسکے) وہ اسے غلط طور پر داخل کرتی ہے۔
حضرت امیر معاویہ (رض) کی مرویات
قَالَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَيْشٍ فِي هَذَا الْأَمْرِ خِيَارُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُهُمْ فِي الْإِسْلَامِ إِذَا فَقِهُوا وَاللَّهِ لَوْلَا أَنْ تَبْطَرَ قُرَيْشٌ لَأَخْبَرْتُهَا مَا لِخِيَارِهَا عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
اور نبی ﷺ نے فرمایا اس معاملے (حکومت) میں لوگ قریش کے تابع ہیں، زمانہ جاہلیت میں ان میں سے جو بہترین لوگ تھے وہ زمانہ اسلام میں بھی بہترین ہیں جبکہ وہ فقاہت حاصل کرلیں، بخدا! اگر قریش فخر میں مبتلا نہ ہوجاتے تو میں انہیں بتادیتا کہ ان کے بہترین لوگوں کا اللہ کے یہاں کیا مقام ہے۔
حضرت امیر معاویہ (رض) کی مرویات
قَالَ وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ مَنْ يُرِدْ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهُّ فِي الدِّينِ وَخَيْرُ نِسْوَةٍ رَكِبْنَ الْإِبِلَ صَالِحُ نِسَاءِ قُرَيْشٍ أَرْعَاهُ عَلَى زَوْجٍ فِي ذَاتِ يَدِهِ وَأَحْنَاهُ عَلَى وَلَدٍ فِي صِغَرِهِ
اور میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اے اللہ! جسے آپ دیں، اس سے کوئی روک نہیں سکتا اور جس سے آپ روک لیں، اسے کوئی دے نہیں سکتا اور ذی عزت کو آپ کے سامنے اس کی عزت نفع نہیں پہنچا سکتی، اللہ جس کے ساتھ خیر کا ارادہ فرما لیتا ہے، اسے دین کی سمجھ عطاء فرما دیتا ہے اور اونٹ پر سواری کرنے والی بہترین عورتیں قریش کی نیک عورتیں ہیں جو اپنی ذات میں شوہر کی سب سے زیادہ محافظ ہوتی ہیں اور بچپن میں اپنے بچے پر انتہائی مہربان۔
حضرت امیر معاویہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ قَالَ حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِيٍّ الْعَدَوِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَاهُ أخْبَرَهُ قَالَ سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ عَلَى الْمِنْبَرِ بِمَكَّةَ يَقُولُ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لُبْسِ الذَّهَبِ وَالْحَرِيرِ
عبداللہ بن علی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے مکہ مکرمہ میں حضرت معاویہ ؓ کو برسر منبر یہ کہتے ہوئے سنا کہ نبی ﷺ نے مردوں کو سونا اور ریشم پہننے سے منع فرمایا ہے۔
حضرت امیر معاویہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ أَخْبَرَنَا لَيْثٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ يُرِدْ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهُّ فِي الدِّينِ وَلَنْ تَزَالَ هَذِهِ الْأُمَّةُ أُمَّةً قَائِمَةً عَلَى أَمْرِ اللَّهِ لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَالَفَهُمْ حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ وَهُمْ ظَاهِرُونَ عَلَى النَّاسِ
حضرت معاویہ ؓ سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے ساتھ خیر کا ارادہ فرماتا ہے تو اسے دین کی سمجھ عطاء فرما دیتا ہے اور میری امت میں ایک گروہ ہمیشہ حق پر رہے گا، وہ اپنی مخالفت کرنے والوں کی پرواہ نہیں کرے گا، یہاں تک کہ اللہ کا حکم آجائے اور وہ لوگوں پر غالب ہوگا، اس پر مالک بن یخامر سکسکی کھڑے ہوئے اور کہنے لگے اے امیر المومنین! میں نے حضرت معاذ بن جبل ؓ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اس سے مراد اہل شام ہیں، تو حضرت معاویہ ؓ نے اپنی آواز کو بلند کرتے ہوئے فرمایا مالک کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے حضرت معاذ ؓ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اس سے مراد اہل شام ہیں۔
حضرت امیر معاویہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ أَنَّ عُمَيْرَ بْنَ هَانِئٍ حَدَّثَهُ قَالَ سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ عَلَى هَذَا الْمِنْبَرِ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي قَائِمَةً بِأَمْرِ اللَّهِ لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَذَلَهُمْ أَوْ خَالَفَهُمْ حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَهُمْ ظَاهِرُونَ عَلَى النَّاسِ فَقَامَ مَالِكُ بْنُ يَخَامِرٍ السَّكْسَكِيُّ فَقَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ سَمِعْتُ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ يَقُولُ وَهُمْ أَهْلُ الشَّامِ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ وَرَفَعَ صَوْتَهُ هَذَا مَالِكٌ يَزْعُمُ أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاذًا يَقُولُ وَهُمْ أَهْلُ الشَّامِ
حضرت معاویہ ؓ سے مروی ہے کہ میری امت میں ایک گروہ ہمیشہ حق پر رہے گا، وہ اپنی مخالفت کرنے والوں یا بےیارومددگار چھوڑ دینے والوں کی پرواہ نہیں کرے گا، یہاں تک کہ اللہ کا حکم آجائے اور وہ لوگوں پر غالب ہوگا، اس پر مالک بن یخامر سکسکی کھڑے ہوئے اور کہنے لگے اے امیر المومنین! میں نے حضرت معاذ بن جبل ؓ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اس سے مراد اہل شام ہیں، تو حضرت معاویہ ؓ نے اپنی آواز کو بلند کرتے ہوئے فرمایا مالک کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے حضرت معاذ ؓ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اس سے مراد اہل شام ہیں۔