حضرت جبیر بن مطعم (رض) کی مرویات
قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كُلُّ عَرَفَاتٍ مَوْقِفٌ وَارْفَعُوا عَنْ بَطْنِ عُرَنَةَ وَكُلُّ مُزْدَلِفَةَ مَوْقِفٌ وَارْفَعُوا عَنْ مُحَسِّرٍ وَكُلُّ فِجَاجِ مِنًى مَنْحَرٌ وَكُلُّ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ ذَبْحٌ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ وَقَالَ كُلُّ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ ذَبْحٌ
حضرت جبیر بن مطعم ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا عرفات کا سارا میدان وقوف کی جگہ ہے، البتہ بطن عرنہ سے ہٹ کر وقوف کرو، اسی طرح پورا مزدلفہ وقوف کی جگہ ہے البتہ وادی محسر سے ہٹ کر وقوف کرو اور منیٰ کا ہر سوراخ قربان گاہ ہے اور تمام ایام تشریق ایام ذبح ہیں گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حضرت جبیر بن مطعم (رض) کی مرویات
قَالَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَاهُ مَوْلَى آلِ حُجَيْرِ بْنِ أَبِي إِهَابٍ قَالَ سَمِعْتُ جُبَيْرَ بْنَ مُطْعِمٍ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ لَأَعْرِفَنَّ مَا مَنَعْتُمْ طَائِفًا يَطُوفُ بِهَذَا الْبَيْتِ سَاعَةً مِنْ لَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ
حضرت جبیر بن مطعم ؓ سے مروی ہے کہ اے بنی عبدمناف! اور اے بنوعبدالمطلب! جو شخص بیت اللہ کا طواف کرے یا نماز پڑھے، اسے کسی صورت منع نہ کرو خواہ دن یا رات کے کسی بھی حصے میں ہو۔
حضرت جبیر بن مطعم (رض) کی مرویات
قَالَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ فَذَكَرَ مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ شِهَابٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِيهِ جُبَيْرٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ النَّاسَ بِالْخَيْفِ نَضَّرَ اللَّهُ عَبْدًا سَمِعَ مَقَالَتِي فَوَعَاهَا ثُمَّ أَدَّاهَا لِمَنْ لَمْ يَسْمَعْهَا فَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ لَا فِقْهَ لَهُ وَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ إِلَى مَنْ هُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ ثَلَاثٌ لَا يَغِلُّ عَلَيْهِنَّ قَلْبُ الْمُؤْمِنِ إِخْلَاصُ الْعَمَلِ وَطَاعَةُ ذَوِي الْأَمْرِ وَلُزُومُ الْجَمَاعَةِ فَإِنَّ دَعْوَتَهُمْ تَكُونُ مِنْ وَرَائِهِ و عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ أَبِي عَمْرٍو مَوْلَى الْمُطَّلِبِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِيهِ مِثْلَ حَدِيثِ ابْنِ شِهَابٍ لَمْ يَزِدْ وَلَمْ يَنْقُصْ
حضرت جبیر بن مطعم ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ میدان منیٰ میں مسجد خیف میں کھڑے ہوئے اور فرمایا اللہ تعالیٰ اس شخص کو تروتازہ رکھے جو میری بات سنے، اسے اچھی طرح محفوظ کرے، پھر ان لوگوں تک پہنچادے جو اسے براہ راست نہیں سن سکے، کیونکہ بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں جو فقہ اٹھائے ہوئے ہوتے ہیں لیکن فقیہ نہیں ہوتے اور بہت سے حاملین فقیہ اس شخص تک بات پہنچا دیتے ہیں جو ان سے زیادہ سمجھدار ہوتا ہے۔ تین چیزیں ایسی ہیں جن میں مسلمان کا دل خیانت نہیں کرسکتا۔ (١) عمل میں اخلاص، (٢) حکمرانوں کے لئے خیر خواہی (٣) جماعت کے ساتھ چمٹے رہنا کیونکہ جماعت کی دعا اسے پیچھے سے گھیر لیتی ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حضرت جبیر بن مطعم (رض) کی مرویات
قَالَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ أَبِيهِ قَالَ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جُبَيْرٍ أَنَّ أَبَاهُ جُبَيْرَ بْنَ مُطْعِمٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَلَّمَتْهُ فِي شَيْءٍ فَأَمَرَهَا بِأَمْرٍ فَقَالَتْ أَرَأَيْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ لَمْ أَجِدْكَ قَالَ إِنْ لَمْ تَجِدِينِي فَأْتِي أَبَا بَكْرٍ
حضرت جبیر بن مطعم ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک خاتون نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کسی معاملے میں کوئی بات کی، نبی ﷺ نے اسے جواب دے دیا، وہ کہنے لگی یا رسول اللہ! یہ بتایئے کہ اگر آپ نہ ملیں تو؟ نبی ﷺ نے فرمایا اگر تم مجھے نہ پاؤ تو ابوبکر کے پاس چلی جانا۔
حضرت جبیر بن مطعم (رض) کی مرویات
قَالَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ أَخْبَرَنِي جُبَيْرُ بْنُ مُطْعِمٍ أَنَّهُ بَيْنَا هُوَ يَسِيرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ النَّاسُ مُقْبِلًا مِنْ حُنَيْنٍ عَلِقَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَعْرَابُ يَسْأَلُونَهُ حَتَّى اضْطَرُّوهُ إِلَى سَمُرَةٍ فَخَطِفَتْ رِدَاءَهُ فَوَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ أَعْطُونِي رِدَائِي فَلَوْ كَانَ عَدَدُ هَذِهِ الْعِضَاهِ نَعَمًا لَقَسَمْتُهُ ثُمَّ لَا تَجِدُونِي بَخِيلًا وَلَا كَذَّابًا وَلَا جَبَانًا
حضرت جبیر بن مطعم ؓ سے مروی ہے کہ غزوہ حنین سے واپسی پر وہ نبی ﷺ کے ساتھ چل رہے تھے، دوسرے لوگ بھی ہمراہ تھے کہ کچھ دیہاتیوں نے نبی ﷺ کو راستے میں روک کر مال غنیمت مانگنا شروع کردیا، حتی کہ انہوں نے نبی ﷺ کو ببول کے ایک درخت کے نیچے پناہ لینے پر مجبور کردیا، اسی دوران نبی ﷺ کی چادر بھی کسی نے کھینچ لی، اس پر نبی ﷺ رک گئے اور فرمایا کہ مجھے میری چادر واپس دے دو، اگر ان کانٹوں کی تعداد کے برابر بھی میرے پاس نعمتیں ہوں تو میں تمہارے درمیان ہی انہیں تقسیم کردوں اور تم مجھے پھر بھی بخیل، جھوٹا یا بزدل نہ پاؤں گے۔
حضرت جبیر بن مطعم (رض) کی مرویات
قَالَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ الْأَنْصَارِيُّ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ عَمِّهِ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِيهِ جُبَيْرٍ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ يُنَزَّلَ عَلَيْهِ وَإِنَّهُ لَوَاقِفٌ عَلَى بَعِيرٍ لَهُ بِعَرَفَاتٍ مَعَ النَّاسِ حَتَّى يَدْفَعَ مَعَهُمْ مِنْهَا تَوْفِيقًا مِنْ اللَّهِ لَهُ
حضرت جبیر بن مطعم ؓ سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو نزول وحی کے زمانے سے پہلے دیکھا ہے، آپ عرفات میں اپنے اونٹ پر لوگوں کے ساتھ وقوف کئے ہوئے تھے اور انہی کے ساتھ واپس جارہے تھے، یہ بھی اللہ کی توفیق سے تھا۔
حضرت جبیر بن مطعم (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ أَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ إِنْ شَاءَ اللَّهُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ فَقَالَ أَتَاكُمْ أَهْلُ الْيَمَنِ كَقِطَعِ السَّحَابِ خَيْرُ أَهْلِ الْأَرْضِ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِمَّنْ كَانَ عِنْدَهُ وَمِنَّا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ كَلِمَةً خَفِيَّةً إِلَّا أَنْتُمْ
حضرت جبیر بن مطعم ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے آسمان کی طرف سر اٹھا کر دیکھا اور فرمایا تمہارے پاس بادلوں کے ٹکڑوں کی طرح اہل زمین میں سب سے بہتر لوگ یعنی اہل یمن آرہے ہیں، نبی ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے ایک آدمی نے پوچھا یا رسول اللہ! کیا وہ ہم سے بھی بہتر ہیں؟ نبی ﷺ نے اس کے جواب میں آہستہ سے فرمایا سوائے تمہارے۔
حضرت جبیر بن مطعم (رض) کی مرویات
قَالَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ النُّعْمَانُ بْنُ سَالِمٍ أَخْبَرَنِي عَنْ رَجُلٍ سَمَّاهُ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ أُرَاهُ قَدْ سَمِعَهُ مِنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ النَّاسَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُ لَيْسَ لَنَا أُجُورٌ بِمَكَّةَ قَالَ فَأَحْسَبُهُ قَالَ كَذَبُوا لَتَأْتِيَنَّكُمْ أُجُورُكُمْ وَلَوْ كُنْتُمْ فِي جُحْرِ ثَعْلَبٍ
حضرت جبیر بن مطعم ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ مکہ مکرمہ میں ہمیں کوئی اجر نہیں ملا؟ نبی ﷺ نے فرمایا وہ غلط کہتے ہیں، تمہیں تمہارا اجر وثواب ضرور ملے گا خواہ تم لومڑی کے بل میں ہو۔
حضرت جبیر بن مطعم (رض) کی مرویات
قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِدْرِيسَ عَنْ حُصَيْنٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَاصِمٍ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ افْتَتَحَ الصَّلَاةَ قَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا ثَلَاثًا الْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا ثَلَاثًا سُبْحَانَ اللَّهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا ثَلَاثًا اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ الشَّيْطَانِ مِنْ هَمْزِهِ وَنَفْثِهِ وَنَفْخِهِ قَالَ حُصَيْنٌ هَمْزُهُ الْمُوتَةُ الَّتِي تَأْخُذُ صَاحِبَ الْمَسِّ وَنَفْثُهُ الشِّعْرُ وَنَفْخُهُ الْكِبْرُ
حضرت جبیر بن مطعم سے مروی ہے کہ میں نے نوافل میں نبی ﷺ کو تین مرتبہ اللہ اکبر کبیرا، تین مرتبہ والحمدللہ کثیرا اور تین مرتبہ سبحان اللہ بکرۃ واصیلا اور یہ دعاء پڑھتے ہوئے سنا ہے کہ اے اللہ! میں شیطان مردوں کے ہمز، نفث اور نفخ سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں، میں نے پوچھا یا رسول اللہ! ہمز، نفث اور نفخ سے کیا مراد ہے؟ نبی ﷺ نے فرمایا کہ ہمز سے مراد وہ موت ہے جو ابن آدم کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے، نفخ سے مراد تکبر ہے اور نفث سے مراد شعر ہے۔
حضرت جبیر بن مطعم (رض) کی مرویات
قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ وَأَبُو أُسَامَةَ عَنْ زَكَرِيَّا عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا حِلْفَ فِي الْإِسْلَامِ وَأَيُّمَا حِلْفٍ كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ لَمْ يَزِدْهُ الْإِسْلَامُ إِلَّا شِدَّةً
حضرت جبیر بن مطعم ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا فتنہ انگیزی کے کسی معاہدے کی اسلام میں کوئی حیثیت نہیں، البتہ نیکی کے کاموں کے لئے معاہدے کی تو اسلام نے زیادہ ہی تاکید کی ہے۔
حضرت جبیر بن مطعم (رض) کی مرویات
قَالَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ قَالَ سَمِعْتُ بَعْضَ إِخْوَتِي عَنْ أَبِي عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي فِدَاءِ بَدْرٍ قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ فِي فِدَاءِ الْمُشْرِكِينَ وَمَا أَسْلَمَ يَوْمَئِذٍ فَدَخَلْتُ الْمَسْجِدَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْمَغْرِبَ فَقَرَأَ بِالطُّورِ فَكَأَنَّمَا صُدِعَ عَنْ قَلْبِي حِينَ سَمِعْتُ الْقُرْآنَ قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ فَكَأَنَّمَا صُدِعَ قَلْبِي حَيْثُ سَمِعْتُ الْقُرْآنَ
حضرت جبیر بن مطعم ؓ سے مروی ہے کہ وہ غزوہ بدر کے قیدیوں کے فدیہ کے سلسلہ میں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اس وقت تک انہوں نے اسلام قبول نہیں کیا تھا، وہ کہتے ہیں کہ میں مسجد نبوی میں داخل ہوا تو نبی ﷺ مغرب کی نماز پڑھا رہے تھے، نبی ﷺ نے سورت طور کی تلاوت شروع فرما دی، جب قرآن کی آواز میرے کانوں تک پہنچی تو میرا دل لرزنے لگا۔
حضرت جبیر بن مطعم (رض) کی مرویات
قَالَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ أَنَا سُفْيَانُ يَعْنِي ابْنَ حُسَيْنٍ قَالَ سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ حَدَّثَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَاطِعٌ
حضرت جبیر بن مطعم ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قطع تعلقی کرنے والا کوئی شخص جنت میں نہ جائے گا۔
حضرت جبیر بن مطعم (رض) کی مرویات
قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ عَنْ رَجُلٍ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُمْ يَزْعُمُونَ أَنَّهُ لَيْسَ لَنَا أَجْرٌ بِمَكَّةَ قَالَ لَتَأْتِيَنَّكُمْ أُجُورُكُمْ وَلَوْ كُنْتُمْ فِي جُحْرِ ثَعْلَبٍ قَالَ فَأَصْغَى إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَأْسِهِ فَقَالَ إِنَّ فِي أَصْحَابِي مُنَافِقِينَ
حضرت جبیر بن مطعم ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ مکہ مکرمہ میں ہمیں کوئی اجر نہیں ملا؟ نبی ﷺ نے فرمایا وہ غلط کہتے ہیں، تمہیں تمہارا اجروثواب ضرور ملے گا خواہ تم لومڑی کے بل میں ہو پھر نبی ﷺ نے میری طرف سر جھکا کر فرمایا کہ میرے ساتھیوں میں کچھ منافقین بھی شامل ہیں۔
حضرت جبیر بن مطعم (رض) کی مرویات
قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي فِدَاءِ أَهْلِ بَدْرٍ فَقَامَ فَصَلَّى بِالنَّاسِ صَلَاةَ الْمَغْرِبِ فَقَرَأَ بِالطُّورِ
حضرت جبیر بن مطعم ؓ سے مروی ہے کہ وہ غزوہ بدر کے قیدیوں کے فدیہ کے سلسلہ میں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، اس وقت نبی ﷺ مغرب کی نماز پڑھا رہے تھے، نبی ﷺ نے سورت طور کی تلاوت شروع فرما دی۔
حضرت جبیر بن مطعم (رض) کی مرویات
قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ أَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَزْهَرِ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ لِلْقُرَشِيِّ مِثْلَيْ قُوَّةِ الرَّجُلِ مِنْ غَيْرِ قُرَيْشٍ فَقِيلَ لِلزُّهْرِيِّ مَا يَعْنِي بِذَلِكَ قَالَ نُبْلَ الرَّأْيِ
حضرت جبیر بن مطعم ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا ایک قریشی کو غیر قریشی کے مقابلے میں دو آدمیوں کے برابر طاقت حاصل ہے۔
حضرت جبیر بن مطعم (رض) کی مرویات
قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ أَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْأَلُهُ شَيْئًا فَقَالَ لَهَا ارْجِعِي إِلَيَّ فَقَالَتْ فَإِنْ رَجَعْتُ فَلَمْ أَجِدْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ تُعَرِّضُ بِالْمَوْتِ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنْ رَجَعْتِ فَلَمْ تَجِدِينِي فَالْقَيْ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
حضرت جبیر بن مطعم ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک خاتون نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کسی معاملے میں کوئی بات کی، نبی ﷺ نے اسے جواب دے دیا، وہ کہنے لگی یا رسول اللہ! یہ بتایئے کہ اگر آپ نہ ملیں تو؟ نبی ﷺ نے فرمایا اگر تم مجھے نہ پاؤ تو ابوبکر کے پاس چلی جانا۔
حضرت جبیر بن مطعم (رض) کی مرویات
قَالَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ قَالَ حَدَّثَنَا يُونُسُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ حَدَّثَنَا جُبَيْرُ بْنُ مُطْعِمٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَقْسِمْ لِعَبْدِ شَمْسٍ وَلَا لِبَنِي نَوْفَلٍ مِنْ الْخُمُسِ شَيْئًا كَمَا كَانَ يَقْسِمُ لِبَنِي هَاشِمٍ وَبَنِي الْمُطَّلِبِ وَأَنَّ أَبَا بَكْرٍ كَانَ يَقْسِمُ الْخُمُسَ نَحْوَ قَسْمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ يُعْطِي قُرْبَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِيهِمْ وَكَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُعْطِيهِمْ وَعُثْمَانُ مِنْ بَعْدِهِ مِنْهُ
حضرت جبیر بن مطعم ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جس طرح بنو ہاشم اور بنو مطلب کے لئے حصے تقسیم فرماتے تھے، بنو عبدشمس اور بنو نوفل کے لئے اس طرح خمس میں کوئی حصہ نہیں لگاتے تھے، حضرت صدیق اکبر بھی خمس کی تقسیم نبی ﷺ کے طریقہ کے مطابق کرتے تھے، البتہ وہ نبی ﷺ کی طرح ان کے قریبی رشتہ داروں کو نہیں دیتے تھے، پھر حضرت عمر اور حضرت عثمان ان کے بعد نبی ﷺ کے قریبی رشتہ داروں کو بھی دینے لگے۔
حضرت جبیر بن مطعم (رض) کی مرویات
قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَيْهِ قَالَ سَمِعْتُ جُبَيْرَ بْنَ مُطْعِمٍ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَأَعْرِفَنَّ يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ مَا مَنَعْتُمْ طَائِفًا يَطُوفُ بِهَذَا الْبَيْتِ سَاعَةً مِنْ لَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ
حضرت جبیر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا اے بنی عبدمناف! جو شخص بیت اللہ کا طواف کرے یا نماز پڑھے، اسے کسی صورت منع نہ کرو خواہ دن یا رات کے کسی بھی حصے میں ہو۔
حضرت جبیر بن مطعم (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي وَحْشِيَّةَ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَنَا مُحَمَّدٌ وَأَحْمَدُ وَالْحَاشِرُ وَالْمَاحِي وَالْخَاتِمُ وَالْعَاقِبُ
حضرت جبیر بن مطعم ؓ سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میرے کئی نام ہیں، میں محمد ہوں، میں احمد ہوں، میں حاشر ہوں، میں ماحی ہوں، میں خاتم ہوں اور میں عاقب ہوں۔
حضرت جبیر بن مطعم (رض) کی مرویات
قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ لِي أَسْمَاءً أَنَا أَحْمَدُ وَأَنَا مُحَمَّدٌ وَأَنَا الْمَاحِي الَّذِي يَمْحُو اللَّهُ بِي الْكُفْرَ وَأَنَا الْحَاشِرُ الَّذِي يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَى قَدَمِي وَأَنَا الْعَاقِبُ قَالَ مَعْمَرٌ قُلْتُ لِلزُّهْرِيِّ مَا الْعَاقِبُ قَالَ الَّذِي لَيْسَ بَعْدَهُ نَبِيٌّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت جبیر سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا میرے کئی نام ہیں، میں محمد ہوں، میں احمد ہوں، میں حاشر ہوں جس کے قدموں میں لوگوں کو جمع کیا جائے گا، میں ماحی ہوں جس کے ذریعے کفر کو مٹا دیا جائے گا اور میں عاقب ہوں میں نے امام زہری سے عاقب کا معنی پوچھا تو انہوں نے فرمایا جس کے بعد کوئی نبی ﷺ نہ ہوگا۔